Explained with ayahs 1–4
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہوچکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے ؟ اور مستحق ضلالت کون ہے ؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 5
اس کے چار مفہوم ہیں اور چاروں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں
ایک یہ کہ وہی تمہارا خالق ہے، پھر تم میں سے کوئی اس کے خالق ہونے کا انکار کرتا ہے اور کوئی اس حقیقت کو مانتا ہے۔ یہ مفہوم پہلے اور دوسرے فقرے کو ملا کر پڑھنے سے متبادر ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اسی نے تم کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ تم کفر اختیار کرنا چاہو تو کرسکتے ہو، اور ایمان لانا چاہو تو لا سکتے ہو۔ ایمان و کفر میں سے کسی کے اختیار کرنے پر بھی اس نے تمہیں مجبور نہیں کیا ہے۔ اس لیے اپنے ایمان و کفر، دونوں کے تم خود ذمہ دار ہو۔ اس مفہوم کی تائید بعد کا یہ فقرہ کرتا ہے کہ " اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو "۔ یعنی اس نے…
Read the full tafseer →معاوف و مسائل
(آیت) خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا پھر تم میں بعض کافر ہوگئے بعض مومن رہے، اس میں لفظ فمنکم کا حرف فا جو تعقیب (یعنی ایک چیز کا دوسرے کے بعد ہونے) پر دلالت کرتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اول تخلیق و آفرینش میں کوئی کافر نہیں تھا، یہ کافر مومن کی تقسیم بعد میں اس کسب و اختیار کے تابع ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بخشا ہے اور اسی کسب و اختیار کی وجہ سے اس پر گناہ وثواب عائد ہوتا ہے، ایک حدیث سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے (کل مولود یولد علی الفطرة فابو اہ یھودانہ وینصرانہ الحدیث) ”یعنی ہر…
Read the full tafseer →(ھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن واللہ بما تعملون بصیر) (2)۔
(ان کے لیے اپنے اختیار کے سوا استعمال کی سزا بھگتنا لازمی ہے)۔ یعنی اس خدا نے، جس کی تسبیح تمام کائنات کر رہی ہے، تم کو بھی پیدا کیا ہے اس وجہ سے حق تو یہ تھا کہ تم بھی اسی کی تسبیح کرتے جس کی تسبیح آسمان کے تمام ستارے، فضاء کے تمام پرندے اور زمین کے تمام شجر و حجر کر رہے ہیں لیکن تم کو خدا نے اختیار بخشا ہے اس وجہ سے تم میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی چناچہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور وہ ہر ایک کے ساتھ اس کے عمل کے مطابق ہی معاملہ کرے گا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی نگاہوں میں کفر اور ایمان…
Read the full tafseer →2۔ 1 یعنی انسان کے لیے خیروشر، نیکی اور بدی اور کفر و ایمان کے راستوں کی وضاحت کے بعد اللہ نے انسان کو ارادہ واختیار کی جو آزادی دی ہے اس کی رو سے کسی نے کفر کا اور کسی نے ایمان کا راستہ اپنایا ہے اس نے کسی پر جبر نہیں کیا ہے۔ اگر وہ جبر کرتا تو کوئی بھی شخص کفر کا راستہ اختیار کرنے پر قادر نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →ھوالذی .................... مومن (46 : 2) ” وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن “۔ یہ انسان اللہ کی قدرت اور اللہ کے ارادے سے وجود میں آیا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کے اندر کفر کے رجحان کے امکانیات اور ایمان کے رجحان کے امکانیات رکھے۔ اس حضرت انسان کے اندر مختلف الجہات استعدادیں بیک وقت ودیعت کردیں اور پھر اللہ نے اسے نیک وبد کی تمیز بھی عطا کی۔ اور اسی استعداد کے مطابق اس انسان کے اندر ایمان پیدا ہوا۔ ایمان اللہ کی طرف سے ایک بڑی امانت ہے اور اس کی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے اسے دین و شریعت بھی عطا کی جس کے مطابق وہ اپنے ایمان اور عمل کو…
Read the full tafseer →2 یعنی اسی نے سب آدمیوں کو بنایا۔ چاہیے تھا کہ سب اس پر ایمان لاتے اور اس منعم حقیقی کی اطاعت کرتے۔ مگر ہوا یہ کہ بعض منکر بن گئے اور بعض ایماندار۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے آدمی میں دونوں طرف جانے کی استعداد اور قوت رکھی تھی۔ مگر اولاً سب کو فطرت صحیحہ پر پیدا کیا تھا پھر کوئی اس فطرت پر قائم رہا اور کسی نے گردو پیش کے حالات سے متاثر ہو کر اس کے خلاف راہ اختیار کرلی اور ان دونوں کا علم اللہ کو ہمیشہ سے تھا کہ کون اپنے ارادہ اور اختیار سے کس طرف جائے گا۔ اور پھر اسی کے موافق سزا یا انعام و اکرام کا مستحق ہوگا۔ یہ ہی چیز اپنے علم کے موافق اس کی قسمت میں لکھ دی تھی کہ ایسا ہوگا۔ اللہ کا علم محیط اس…
Read the full tafseer →آیت 2 { ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ} ”وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے ‘ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن۔“
ظاہر ہے تمام انسانوں کا خالق اللہ ہے۔ اس لحاظ سے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق کا شکر گزار بن کر رہے ‘ اسی کو اپنا معبود جانے اور اسی کے آگے جھکے۔ لیکن بہت سے انسان اللہ تعالیٰ کے منکر اور نافرمان ہیں۔ بظاہر تو یہ بہت عجیب بات ہے کہ مخلوق کا کوئی فرد اپنے خالق کا منکر یا نافرمان ہو لیکن واقعہ بہرحال یہی ہے۔
{ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ } ”اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔“
آیت کے مضمون کے اعتبار سے اس جملے میں بہت…
Read the full tafseer →3 اس آیت کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پیدا تو تمہیں اللہ نے کیا ہے پھر کوئی تو یہ بات تسلیم کرلیتا ہے کہ واقعی ہمارا خالق اللہ ہے اور کوئی یہ بات بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ وہ سرے سے اللہ کی ہستی کا انکار کردیتا ہے کہ ہم تو زمانہ کی گردش کے تحت پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ نے انسان کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا تھا۔ کہ وہ بھی اللہ کی باقی تمام مخلوق کی طرح اس کا مطیع و منقاد بن کر رہے۔ لیکن کچھ لوگ تو اس فطرت سلیمہ پر قائم رہتے ہیں اور کچھ ماحول سے متاثر ہو کر کفر کی راہیں اختیار کرلیتے ہیں اور اس مطلب کی توثیق اس ارشاد نبوی سے ہوجاتی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ : (انسان کا)…
Read the full tafseer →2۔ اس لیے حشر وجزائے اعمال کے وقت سب یکساں ہوں گے۔ (آیت) ” خلقکم “۔ خطاب عام نوع بشری سے ہے۔ مرتبہ مخلوقیت میں سب یکساں ہیں۔ (آیت) ” ھو الذی خلقکم “۔ اور جب وہ سب کا خالق ہے تو اس کی خالقیت کا عین مقتضا یہ تھا کہ تم سب کے سب اس کے مطیع ہوتے۔ (آیت) ” فمنکم ..... مومن “۔ بشر کے درمیان حقیقی اور بنیادی تفریق صرف مومن و کافر کی ہے۔ ایک طرف چین کے مسلم، مصر کے مسلم، ہند کے مسلم، امریکہ کے مسلم، آسٹریلیا کے مسلم، رنگ کے، نسل کے، زبان کے، وطن کے اختلافات کے باوجود سب کے سب مسلم۔ اور دوسری صف میں ساری دنیا کے کافر۔ بس حقیقی قومیں کل یہی دو ہیں۔ مومن و کافر یا مطیع و سرکش یا مسلم ومنکر۔
Read the full tafseer →ھوالذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن انسان کے لئے خیر و شر، نیکی و بدی اور کفر و ایمان کے راستوں کی وضاحت کے بعد اللہ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی جو آزادی بخشی ہے اسی کی رو سے کسی نے کفر کا اور کسی نے ایمان کا راستہ اپنایا ہے اس نے کسی پر جبر نہیں کیا، اگر وہ جبر کرتا تو کوئی شخص بھی کفر و معصیت کا راستہ اختیار کرنے پر قادر نہ ہوتا، لیکن اس طرح انسان کی آزمائش ممکن نہیں تھی، جب کہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت انسان کو آزمانا تھا ” الذی خلق الموت و الحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً ! ؟ “ (سورۃ الملک) لہٰذا جس طرح کافر کا خالق اللہ ہے، کفر کا خالق بھی اللہ ہے لیکن یہ کفر اس کافر کا عمل و کسب ہے، جس نے…
Read the full tafseer →ھو الذیی خلقکم .... بصیر .
” وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے (اسکے باوجود) تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن اور اللہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ “
ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ.... یعنی اللہ نے تم کو پیدا کیا ‘ اس کے بعد تم میں سے کچھ لوگ کافر ہوگئے اور کچھ لوگ مؤمن۔
فَمِنْکُمْ : میں فَ تعقیب پر دلالت کر رہی ہے (یعنی پیدائش کے بعد کچھ لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کچھ ایماندار ہوئے) جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : وَ اللہ ُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍ فَمِنْھُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ وَ مِنْھُمْ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ.... (یعنی پیدا ہونے کے بعد کچھ جانور پیٹ کے بل چلتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) آسمانوں و زمین میں جتنی مخلوقات اور زندہ چیزیں ہیں سب اسی کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہیں اسی کی ہمیشہ کی سلطنت ہے اور آسمانوں اور زمین دونوں پر یا یہ کہ دنیا و آخرت والوں پر اسی کی حمد و ثنا واجب ہے۔
اور وہ امور دنیا و آخرت میں سے ہر ایک امر پر اور آسمان والوں اور زمین والوں کو آراستہ کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →1۔ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ: یعنی اتنی صفات کے مالک ہی نے تمہیں پیدا کیا اور دوسری مخلوقات کی طرح تمہیں بھی ہر بات میں اپنے تکوینی حکم کا پابند کردینے کے بجائے ایمان و فکر دونوں راستے واضح فرما کر تمہیں ان میں سے کسی ایک پر چلنے کا اختصار بخشا۔ اب حق تو یہ تھا کہ تم اپنے پیدا کرنے والے کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر ایمان لاتے ، مگر اس کے بجائے تم دو گروہوں میں بٹ گئے ، چناچہ تم میں سے کچھ کفر کرنے والے ہیں اور کچھ ایمان لانے والے۔ اب یہ خیال مت کرنا کہ تمہارے اس کفر پر تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی ، یا ایمان لانے پر کوئی جزا نہیں ملے گی ، بلکہ تم جو کچھ…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو مومن اور کافرپیدا کیا قیامت کے روز انہیں مومن، کافر کی حیثیت سے دوبارہ اٹھائے گا (4) حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی گئی ہے۔ کہا : نبی کریم ﷺ نے پچھلے پہر ایک دفعہ خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں آئندہ ہونے والے امور کے بارے میں ذکر کیا (5) ۔ فرمایا :” لوگ مختلف طبقات میں جنم لیتے ہیں ایک آدمی مومن کی حیثیت میں پیدا ہوتا ہے، مومن کی حیثیت میں زندہ رہتا ہے اور مومن کی حیثیت میں مر جاتا ہے۔ ایک آدمی کافر کی حیثیت میں جنم لیتا ہے، کافر کی حیثیت میں زندہ رہتا ہے اور اکفر کی حیثیت میں مر جاتا ہے۔ “ حضرت ابن مسعود نے کہا، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن حبان فی الضعفاء والطبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو ؓ عنما سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پید انہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے سر کے جال میں سورة تغابن کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوتی ہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب منی رحم میں چالیس راتیں ٹھہر جاتی ہے تو اس کے پاس نفوس کا فرشتہ آتا ہے اور اسے لے کر رب کریم کی طرف اوپر چڑھتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہو یا مونث ہو ؟ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں جو وہ فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ کہتا ہے بدبخت ہو یا نیک بخت…
Read the full tafseer →[هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ : وہ، وہ ہے جس نے پیدا کیا تم کو ] [فَمِنْكُمْ كَافِرٌ: تو تم میں سے کوئی انکار کرنے والا ہے ] [وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ: اور تمہیں سے کوئی ایمان لانے والا ہے ] [وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اور اللہ اس کو جو تم لوگ کرو گے ] [بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 2 ۔ میں فَمِنْکُمْ کا حرف فا تعقیب (یعنی ایک چیز کا دوسرے کے بعد ہونے) پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اول تخلیق و آفرینش میں کوئی کافر نہیں تھا۔ یہ کافرو مومن کی تقسیم بعد میں اس اختیار کے تحت ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بخشا ہے۔ اور اسی کسب و اختیار کی وجہ سے اس پر گناہ و ثواب عائد ہوتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آسمان و زمین کی کائنات اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول ہے، تم میں بعض کافر اور بعض مومن ہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے
یہاں سے سورة التغابن شروع ہو رہی ہے یہ لفظ ” غبن “ سے لیا گیا ہے۔ غبن نقصان کو کہتے ہیں آخرت میں جو نقصان ہوگا اس سورت کے پہلے رکوع کے ختم کے قریب اس کو تغابن اور یوم آخرت کو یوم التغابن سے تعبیر فرمایا ہے اس لئے یہ سورة ، سورة التغابن کے نام سے معروف ہے اوپر چند آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تنز یہہ بیان فرمائی ارشاد فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں زبان قال یا زبان حال سے سب تسبیح میں مشغول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقسیم اولاد آدم در قسم مومن و کافر و انکار وحدت قومیہ بلحاظ وطن :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض ..... الی ...... واللہ بما تعملون خبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورة منافقون میں منافقین کے احوال اور ان کی مذموم خصلتوں کا بیان تھا، اس کے ضمن میں ابن ابی منافق کی وہ بات بھی ذکر کردی گئی تھی کہ (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاول “۔ جس کے ذریعے اس منافق نے وطنی عصبیت کو ہوا دینی چاہی تھی اور ایمانی اخوت ووحدت جو انصار ومہاجرین میں قائم ہوچکی تھی، اس کو پارہ پارہ کرنا چاہا تھا تو اس سورت میں نہایت واضح طور سے یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اولاد آدم اور تمام انسانوں کو صرف…
Read the full tafseer →3:۔ ” ھو الذی خلقکم “ توحید پر عقلی دلیل ہے۔ پہلے بیان سے معلوم ہوگیا کہ ساری کائنات میں متصرف و کارساز اور قادر علی الاطلاق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہاں بیان وہ گا کہ ساری کائنات کا پیدا کرنے والا اور زمین و آسمان کی ہر ہر چیز کو جاننے والا بھی وہی ہے۔ اسی لیے وہی سب کا کارساز ہے۔ ” فمنکم کافر ومنکم مومن “ یہ درمیان میں ضمنًا شکوی ہے۔ تم سب کو اللہ نے پیدا فرمایا، اس لیے چاہئے تو یہ تھا کہ تم سب اس کے فرمانبردار اور شکرگذار بندے بن جاتے مگر تم میں سے کچھ لوگ کافر بھی نکلے کہ اللہ کی توحید اور اس کے رسولوں کا انکار کیا اور اس کے احکام سے بغاوت کی لیکن وہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے اس لیے تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سور ۃ التغابن ہے جو کہ اس کی آیت 9 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے ۔ تغابن غبن کے مادہ سے ہے ۔ جس میں نقصان کا معنی پایا جاتا ہے اور یوم التغابن قیامت کے دن کو کہا گیا ہے جس کا ذکر اس سورة میں آرہا ہے زیادہ تر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں سورة تحریم کے بعد نازل ہوئی ، تاہم بعض فرماتے ہیں کہ اس کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ہیں۔
اس سورة مبارکہ میں اٹھارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ اور یہ سورة 241 الفاظ اور 1070 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے اعتقادی منافقوں کی مذمت بیان فرمائی ، جو حضور ﷺ…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 2
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : وھو الجملۃ معطوفۃ علی ماقبلھا۔ ویمکن تکون حالامن الضمیر فی لہ فمنکم خبرمقدم کافر مبتداء اوالجملۃ تشریح و تفصیل للخلق ومنکم مومن الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ واللہ مبتداء بصیر خبرہ بماتعلمون متعلق بہ بالحق حال من فاعل خلق اے خلق متلبسًا بالحق بشر مبتداء یھدوننا خبرہ۔
تفسیر : یہ سورة بھی اکثر کے نزدیک مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ضحاک یہی کہتے ہیں۔ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں مگر کلبی کہتے ہیں کہ سورة کچھ مکہ میں کچھ مدینے میں نازل ہوئی یعنی اخیر کی چند آیات یا ایہا الذین آمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم مدینے میں نازل ہوئیں جبکہ عوف بن مالک اشجعی ؓ نے…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْ خَلَقَـکُمْ فَمِنْـکُمْ کَافِرٌوَّمِنْـکُمْ مُّؤْمِنٌ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (التغابن : 2)
(وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ )
ہر شخص اپنے اختیار کے غلط استعمال کرنے کی سزا پائے گا
یعنی جس پروردگار نے ساری کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اور اس کائنات کی ایک ایک چیز جس کی تسبیح کررہی ہے، اسی پروردگار نے تم کو بھی پیدا کیا ہے۔ حق تو یہ تھا کہ تم بھی اسی کی تسبیح کرتے رہتے، بلکہ تمہاری تسبیح باقی کائنات کی مخلوق کے مقابلے میں زیادہ جاندار، زیادہ وسیع اور زیادہ وقیع ہونی چاہیے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : مسبِّحات میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کررہی ہے۔ ہر کسی کی تسبیح میں یہ اقرار شامل ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی ” اللہ “ کے لیے ہے اور وہی ہر قسم کی تعریف کے لائق ہے، نہ صرف زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا بادشاہ ہے بلکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح اقتدار اور اختیار بھی رکھتا ہے۔
اس فرمان میں یہ بات بالکل واضح کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے پیدا فرما کر یونہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ ساری کائنات اور اس کا نظام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے جب چاہے اور جس طرح چاہے اپنا حکم نافذ…
Read the full tafseer →2 : ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّ مِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ (وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مؤمن) کافر ہیں یعنی کفرکا ارتکاب کرنے والے اور کفر کرنے والے ہیں۔ اور بعض ایمان لانے والے ہیں۔ ایمان کا فعل کرنے والے ہیں۔ اور اس معنی پر۔ واللّٰہ بما تعملون بصیر دلالت کر رہا ہے۔
اصل نعمتیں دینے والے اللہ ہیں :
وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (یعنی تمہارے کفر و ایمان کو جاننے والے اور دیکھنے والے ہیں) جو کہ دونوں تمہارے عمل ہیں۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے۔ جنہوں نے اصل نعمتیں اپنے فضل سے عنایت فرمائیں ہیں۔ اور اسی کو عدم سے خلق وایجاد کہا جاتا…
Read the full tafseer →تقدیر مخلوق کے متعلق تفسیر
1 ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو مومن اور کافر پیدا کیا۔ پھر ان کو قیامت کے دن لوٹائے گا مومن اور کافر جیسا کہ ان کو پیدا کیا تھا اور ہمیں ابن عباس ؓ سے ابی کعب ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک وہ غلام جس کو خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا اس پر کافر ہونے کی مہر لگائی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ولا یلدوا الافاجرا کفارا “ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا الہل تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کررکھا ہے۔ پس وہ کہتا ہے اے میرے رب ! نطفہ ہے۔ اے میرے رب ! جما ہوا خون ہے۔ اے میرے رب ! گوشت کا لوتھڑا ہے۔ پھر جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گزر چکا ہے لہ الملک ولہ الحمد کا یہ مطلب ہے کہ زمین و آسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اس لئے ہر ایک چیز زمین و آسمان کی اپنے اپنے حال کے موافق اسی کی حمد و ثنا میں لگی ہوئی ہے وھو علی کل شی قدیر کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے کہ بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے۔ چناچہ اس کی تفصیل سورة تبارک الذی میں آئے گی۔ وھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل اولہیت بےپیاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد وثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے اقتدار تمام تر اللہ کا ہے اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں، حمدوثنا کا صرف وہی مالک ہے اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیا کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احخام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں، اس کی قدرت سب کو شامل ہے موجودات میں…
Read the full tafseer →2 ۔ بندوں کی تقسیم دو گروہوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے پیدا فرمایا تم سب کو پھر تم سے کچھ کافر ہیں، اور کچھ مومن اور وہ پوری طرح دیکھتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو، سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں جماعتیں اصل میں دو اور صرف دو ہی ہیں، ایک ایمان والوں کی، خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں، اور دوسری کفر والوں کی کہ کفر خواہ کسی بھی شکل کا ہو وہ بہرحال کفر ہی ہے، اور اہل کفر خواہ وہ کسی بھی قوم قبیلے اور رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں، وہ سب بہرحال کفار اور ایک ہی گروہ اور جماعت ہیں، بہرکیف آسمان و زمین کی تو ہر چیز اس کی تسبیح میں مصروف ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی تخیلقات
تشریح : یہ تمام آیات اللہ وحد لا شریک کی لاجواب تخلیقات اور بےحساب حکمتوں کا اظہار کر رہی ہیں ہم خود اور ہمارے گرد پھیلی ہوئی تمام بہترین تخلیقات ہمارے دل و دماغ میں اس خالق کے وجود کا یقین پکا کردیتی ہیں جو کسی کا محتاج نہیں بالکل واحد ہے ہم سب اس کے محتاج ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس خالق ومالک کی تعریف نہ کریں اور اسی سے اپنی مرادیں نہ مانگیں۔ اللہ صرف ایک ہے مگر اس کی بنائی ہوئی ہر چیز جوڑوں میں ہے یا دو سے زیادہ میں ہے یہی فرق ہے مخلوق اور خالق میں۔ کیسی کیسی چیزیں اللہ نے بنا دی ہیں جن کو جاننا اور سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہاں انسان کو اس نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔
ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔
قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →ف 7 اللہ تعالیٰکا علم اور چیز اور ہے اور اس کی مرضی اور چیز کسی شخص کے متعلق اگر اس نے تقدیر میں یہ لکھا کہ وہ کافر ہوگا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی مرضی بھی یہ تھی کہ وہ کافر ہو۔ مرضی تو اس کی یہ تھی کہ تمام لوگ ایمان کا راستہ اتخیار کریں اور اسی لئے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں لیکن اس کے ساتھ وہ چونکہ جبر کرنا نہیں چاہتا تھا اس لئے اس نے لوگوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی کہ چاہے ایمان کا راستہ اختیار کریں اور چاہے کفر کا۔ اس آزادی سے غلط فائدہ اٹھا کر بعض لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ وہ اپنی مخلوق کے حال و مستقبل سے پوری طرح باخبر ہے۔
Read the full tafseer →(64:2) ھوالذی خلقکم : جملہ مستانفہ ہے۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔
فمنکم کافر :تعقیب کا ہے۔ یعنی پیدائش کے بعد کچھ لوگوں نے کفر اختیار کیا۔ ومنکم مؤمن : خلق کی تشریح اور تفصیل ہے۔ کافر مبتداء منکم من تبعیضیہ ہے کم ضمیر ضمر مذکر حاضر۔ خبر۔ اسی طرح ومنکم مومن اس جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ مومن مبتداء منکم خبر۔
خدا نے تم کو سب صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا پھر ان صلاحیتوں کو غلط یا صحیح انداز سے استعمال کرکے تم میں سے کئی کافر ہوگئے اور کئی مومن بن گئے۔
واللہ بما تعملون بصیر : اللہ مبتداء بصیر خبر، بما تعلمون متعلق خبر، اور اللہ تعالیٰ (خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
صفات باری تعالی۔
(ف 1) بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گذرچکا ہے ، لہ الملک ولہ الحمد۔ کا یہ مطلب ہے کہ زمین وآسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اسی لیے ہر ایک چیز اپنے حال کے موافق اسی کی حمد وثنا لگی ہوئی ہے ، وھو علی کل شئی قدیر۔ کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة الملک میں آئے گی ھوالذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن۔ کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ نے اپنے علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
[1] بشر کے درمیان حقیقی اور بنیادی فرق صرف مومن و کافر کا ہے۔ رنگ، نسل، زبان اور وطن کے اختلاف کے باوجود حقیقی قومیں کل یہی دو ہیں۔ مومن و کافر یا مطیع و سرکش۔ یہی بات نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمائی ہے : '' اے لوگو، تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک نیک اور پرہیزگار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے اور دوسرا فاجر اور شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے، ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ ''
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة التغابن
تسبیح سے اس کا آغاز فرمایا ہے ۔ اور بتایا ہے ۔ کہ دراصل بادشاہی اور اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انسان تو محض اس کے امین ہیں ۔ پھر ان اختیارات کو اس نے جس طرح استعمال فرمایا ہے ۔ اس کے لئے وہ سزاوار حمدوستائش ہے ۔ کوئی چیز اور کوئی شیء اس کے قبضہ اقتدار سے باہر نہیں پھر اس کے سعد اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے کہ سب انسانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے ۔ کیا کافر اور کیا مومن اور وہ ان سب کے اعمال سے آگاہ ہے ۔ آسمانوں کو بھی اسی نے بلندی بخشی ہے اور زمین کو بھی اسی کے دست قدرت نے ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ اور وہ چھپی ڈھکی اور علانیہ بات سے آگاہ ہے ۔
معیار نبوت کی بلندی اور معیار الوہیت…
Read the full tafseer →(2) وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور بعض تم میں سے مومن ہیں اور جو کچھ تم کررہے ہو وہ سب اللہ تعالیٰ کے پیش نظر ہے۔ یعنی اسی نے تم سب کو پیدا کیا ہے۔ اس احسان کا تقاضا یہ تھا کہ تم سب اہل ایمان اور مومن ہوتے لیکن ہوا یہ کہ تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن ہیں یعنی اس نے تو سب کو صحیح فطرت پر پیدا کیا تھا لکین کوئی اس فطرت صحیحہ پر قائم رہا اور بعض نے دوسری راہ اختیار کرلی بہرحال اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو دیککھ رہا ہے جو ایمان کے ساتھ اعمال پر قائم رہے گا اس کو اس کا صلہ عطا فرمائے گا اور جو کفر کی راہ پر چلے گا ان کو ان کے اعمال کی سزادے گا۔
Read the full tafseer →پیدا کرنے والا سب کا اللہ ہے خواہ کوئی کافر ہے یا مسلمان
2 ؎ انسان کیا ہے ؟ وہ اپنی تخلیق پر غور کرے اور دیکھے کہ وہ کیا ہے ؟ مومن کے پاس کیا زیادہ ہے اور کافر کے ساتھ کیا کم ؟ لاریب جتنی کوشش بیک وہ کرے گا اس بات کا فیصلہ وہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان دونوں میں کوئی کمی بیشی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ہی جے سک انسان بنایا ہے اور ایک ہی طرح سے ان کی تخلیق کی ہے اور کوئی بھی ان میں سے نہ تو مختار کل ہے اور نہ ہی مجبور محض ۔ ہاں ! دونوں کی صلاحیتوں کا خالق بھی وہی اللہ تعالیٰ ہے۔ انسان کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان میں سے جن صلاحیتوں کو چاہے بروئے کار لائے اور جس طرح چاہے ان کا…
Read the full tafseer →Commentary
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ (He is the One who created you, then some of you are disbelievers, and some of you are believers…64:2). In the phrase fa-minkum, the particle ‘fa’ [ translated here as ‘then’] denotes ‘one thing happening after another’. In this instance, the phrase ‘khalaqakum’ [ created you ] indicates that at the inception of creation there were no unbelievers [ kafis ]. Human beings were, subsequently, divided into believers and non-believers by their own free will and choice with which Allah has invested them. They are rewarded or…
Read the full tafseer →5 It has four meanings and aII arc correct in their respective places:
First, that "He alone is your Creator, yet some of you deny His being the Creator and others acknowledge this tnrth. " This meaning becomes obvious when the first and the second sentences arc read together.
Second. that "He Himself has created you with the nature that if you choose to adopt unbelief, you may do so, and if you choose to affirm belief, you may do so. He has not compelled you to either accept or reject the Faith therefore, you yourselves arc responsible for your adopting belief or unbelief." This meaning is…
Read the full tafseer →