Explained with ayahs 1–4
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہوچکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے ؟ اور مستحق ضلالت کون ہے ؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی…
Read the full tafseer →سورة التَّغَابُن 1
(تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة الحدید،
حاشیہ 1۔) بعد کے مضمون پر غور کرنے سے یہ بات خود سمجھ میں آجاتی ہے کہ کلام کا آغاز اس فقرے سے کیوں کیا گیا ہے۔ آگے کائنات بےمقصد اور بےحکمت نہیں بنائی ہے۔ اور انسان یہاں غیر ذمہ دار بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے کہ جو کچھ چاہے کرتا پھرے، کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہ ہو۔ اور اس کائنات کا فرمانروا کوئی شہ بیخبر نہیں ہے کہ اس کی سلطنت میں جو کچھ ہو رہا ہو اس کا کوئی علم اسے نہ ہو۔ اس مضمون کی بہترین تمہید وہی ہو سکتی تھی جو اس مختصر سے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے۔ موقع و محل کے لحاظ سے اس تمہید کا مطلب یہ ہے کہ زمین سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
سب چیزیں جو کچھ کہ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ کہ زمین میں ہیں اللہ کی پاکی (قالاً یا حالاً) بیان کرتی ہیں اسی کی سلطنت ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے (یہ تمہید اگلے بیان کی ہے کہ وہ ایسے صفات کمال کے ساتھ متصف ہے تو اس کی اطاعت واجب اور معصیت قبیح ہے) وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا (جو مقتضی اس کا تھا کہ سب ایمان لاتے) سو (باوجود اس کے بھی) تم میں بعضے کافر ہیں اور بعضے مومن ہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال (ایمانیہ و کفریہ) کو دیکھ رہا ہے (بس ہر ایک کے مناسب جزا دے گا) اسی نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر (یعنی پر حکمت و پر منفعت) پیدا کیا اور تمہارا نقشہ بنایا…
Read the full tafseer →الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر (1)۔
(یہ پوری کائنات خدا ہی کی بندگی کی دعوت دے رہی ہے)۔ یہ آیت الفاظ کے معمولی ردو بدل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے اور اسکے مختلف پہلوئوں کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ یہاں یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی تسبیح کرتی اور اپنے عمل سے انسانوں کو یہ درس دے رہی ہے کہ اس کائنات کی بادشاہی تنہاء اللہ ہی کی ہے اور شکر کا سزا وار وہی ہے، نہ اس کی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ بندوں کے شکر کا اس کے سوا کوئی دوسرا حق دار ہے۔
(خدا کا…
Read the full tafseer →1۔ 1 یعنی آسمان و زمین کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہر نقص وعیب سے تنزیہ و تقدیس بیان کرتی ہے زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔
1۔ 2 یہ دونوں خوبیاں بھی اسی کے ساتھ خاص ہیں۔ اگر کسی کو کوئی اختیار حاصل ہے تو وہ اسی کا عطا کردہ ہے جو عارضی ہے، کسی کے پاس کچھ حسن و کمال ہے تو اسی مبدأ فیض کی کرم گستری کا نتیجہ ہے، اس لئے اصل تعریف کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔
Read the full tafseer →زمین اور آسمانوں میں ، جو مخلوق بھی ہے ، وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہے۔ اس کی تسبیح اور تعریف کررہی ہے۔ گویا اس پوری کائنات کی روح مومن ہے۔ اور اس پوری کائنات کا دل مومن ہے۔ اللہ اس پوری کائنات کا مالک ہے۔ اور اس کائنات کی ہر چیز میں اس کا شعور بھی ہے۔ اللہ اپنی ذات میں بھی ستودہ صفات ہے اور اس مخلوقات کے اندر بھی اس کی تعریف اور تمجید ہوتی ہے۔ اب اگر اس وسیع کائنات کے سمندر میں ایک اکیلا انسان کافر بن جائے اور اس کی روح اور اس کا قلب غافل اور منکر ہو ، وہ سرکش اور نافرمان ہو ، اللہ کی تسبیح نہ کرے ، اس کی طرف متوجہ نہ ہو تو یہ بالکل شاذ ہوگا ، اور انوکھا ہوگا ، اور عجیب ہوگا اور نمایاں طور پر…
Read the full tafseer →1 اور جس کسی کا راج دنیا میں دکھائی دیتا ہے وہ اسی کا دیا ہوا اور جس کی تعریف کی جاتی ہے وہ حقیقت میں اسی کی تعریف ہے۔
Read the full tafseer →آیت 1{ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔“
سورة التغابن اَلْـمُسَبِّحات کے سلسلے کی آخری سورت ہے۔ اس سلسلے کی سورتوں میں سے یہ دوسری سورت ہے جس کے آغاز میں یُسَبِّحُ کا صیغہ آیا ہے۔ اس سے پہلے یہ صیغہ سورة الجمعہ کی پہلی آیت میں آیا ہے۔ باقی تینوں اَلْـمُسَبِّحات کی ابتدا میں سَبَّحَ کا صیغہ آیا ہے۔
{ لَـہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ } ”اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے۔“
کل کائنات کی بادشاہی بھی اللہ ہی کی ہے اور کل شکر وسپاس اور تعریف و ثنا کا مستحق حقیقی بھی صرف وہی ہے۔
{ وَہُوَ…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا تو پھر اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا۔ جیسا کہ قدیم فلاسفہ کا نظریہ تھا۔ بلکہ ہر آن اس پر حکومت بھی کر رہا ہے۔ اور جس چیز کی تخلیق سے جو مقصد درکار تھا اسے اس کام پر لگا دیا ہے اور اس سے مطلوبہ مقصد حاصل کرنے کی وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →1۔ (اور وہی ساری صفات کمال و جمال کا جامع ہے) (آیت) ” یسبح ..... الارض “۔ یہ تسبیح ہر مخلوق کی اس کے مرتبہ وجود کے مطابق ومتناسب ہوگی، کہیں زبان حال سے کہیں زبان قال سے۔ (آیت) ” لہ الملک “۔ حکومت وملکیت صرف اسی ذات پاک کی ہے۔ (آیت) ” ولہ الحمد “۔ محمودیت کی مرکز صرف وہی ذات پاک ہے۔
Read the full tafseer →ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آسمانوں اور زمین میں جو بھی چیزیں وہ اللہ کی تسبیح پا کی بیان کرتی ہیں للہ میں لام زائدہ ہے اور من کے بجائے ما کو لایا گیا ہے اکثر کو غلبہ دینے کے لئے، اسی کی سلطنت ہے اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس نے تم کو پیدا کیا، سو تم میں سے بعضے تو اصل خلقت میں کافر ہیں اور بعضے مومن پھر وہ اس کے مطابق تم کو موت دے گا، اور لوٹائے گا، اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ اس کو خوب دیکھ رہا ہے، اسی نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائی، اور بہت اچھی بنائیں، اس لئے کہ اس نے انسانی…
Read the full tafseer →یسبح للہ مافی السموات وما فی الارض .
” اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں۔ “
(تسبیح کرنے کا کیا مطلب ہے اور ما کا لفظ جو بےعقل چیزوں کے لیے آتا ہے اس جگہ کیوں استعمال کیا گیا) اس کی تشریح سابق میں گزر چکی ہے۔
لہ الملک ولہ الحمد . ” اسی کی بادشاہت ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے۔ “
لہ ٗ کو دونوں جگہ پہلے ذکر کیا گیا ‘ یہ تقدیم مفید حصر ہے (یعنی اللہ ہی کا ملک ہے اور اللہ ہی کے لیے ہر تعریف ہے) ۔
وھو علی کل شی قدیر . ” اور وہ ہر شے پر قابو رکھتا ہے۔ “
قدرت خداوندی کی نسبت ہر ممکن سے برابر ہے اس لیے (بغیر کسی عاجزی اور ترجیح کے) وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) آسمانوں و زمین میں جتنی مخلوقات اور زندہ چیزیں ہیں سب اسی کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہیں اسی کی ہمیشہ کی سلطنت ہے اور آسمانوں اور زمین دونوں پر یا یہ کہ دنیا و آخرت والوں پر اسی کی حمد و ثنا واجب ہے۔
اور وہ امور دنیا و آخرت میں سے ہر ایک امر پر اور آسمان والوں اور زمین والوں کو آراستہ کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →یُسَبِّحُ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ : اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ حدید (1) اور سورة ٔ حشر (1) کی تفسیر۔ ”یسبح“ (مضارع) کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ جمعہ کی پہلی آیت کی تفسیر
2۔”لَہُ الْمُلْکُ“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر اور ”ولہ الحمد“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ فاتحہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
3۔ فرمایا آسمان و زمین میں جو بھی چیز ہے وہ زبان قال و حال سے شہادت دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور ہر کمی سے پاک ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات خلق ، قدرت اور علم وغیرہ اور ان کے مظاہر بیان فرمائے جن سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید ، تسبیح ، قیامت اور…
Read the full tafseer →پہلی آیت کی تفسیر پہلے کئی دفعہ گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن حبان فی الضعفاء والطبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن عمرو ؓ عنما سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ پید انہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے سر کے جال میں سورة تغابن کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوتی ہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب منی رحم میں چالیس راتیں ٹھہر جاتی ہے تو اس کے پاس نفوس کا فرشتہ آتا ہے اور اسے لے کر رب کریم کی طرف اوپر چڑھتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ مذکر ہو یا مونث ہو ؟ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں جو وہ فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتہ کہتا ہے بدبخت ہو یا نیک بخت…
Read the full tafseer →[يُسَبِحُ للّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ : تسبیح کرتی ہے اللہ کی (ہر) وہ چیز جو آسمانوں میں ہے ] [وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور (بر) وہ چیز جو زمین میں ہے ] [لَهُ الْمُلْكُ : اس کے لیے ہی ساری بادشاہت ہے ] [وَلَهُ الْحَمْدُ : اور اس کے لیے ہی کل حمد ہے ] [وَهُوَ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز پر ] [قَدِيْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آسمان و زمین کی کائنات اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول ہے، تم میں بعض کافر اور بعض مومن ہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے
یہاں سے سورة التغابن شروع ہو رہی ہے یہ لفظ ” غبن “ سے لیا گیا ہے۔ غبن نقصان کو کہتے ہیں آخرت میں جو نقصان ہوگا اس سورت کے پہلے رکوع کے ختم کے قریب اس کو تغابن اور یوم آخرت کو یوم التغابن سے تعبیر فرمایا ہے اس لئے یہ سورة ، سورة التغابن کے نام سے معروف ہے اوپر چند آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تنز یہہ بیان فرمائی ارشاد فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں زبان قال یا زبان حال سے سب تسبیح میں مشغول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تقسیم اولاد آدم در قسم مومن و کافر و انکار وحدت قومیہ بلحاظ وطن :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض ..... الی ...... واللہ بما تعملون خبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورة منافقون میں منافقین کے احوال اور ان کی مذموم خصلتوں کا بیان تھا، اس کے ضمن میں ابن ابی منافق کی وہ بات بھی ذکر کردی گئی تھی کہ (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاول “۔ جس کے ذریعے اس منافق نے وطنی عصبیت کو ہوا دینی چاہی تھی اور ایمانی اخوت ووحدت جو انصار ومہاجرین میں قائم ہوچکی تھی، اس کو پارہ پارہ کرنا چاہا تھا تو اس سورت میں نہایت واضح طور سے یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اولاد آدم اور تمام انسانوں کو صرف…
Read the full tafseer →2:۔ ” یسبح للہ “ مقصود اصلی مسئلہ توحید کا اعادہ کیا گیا تاکہ قائین اس سے غافل نہ ہوجائیں اور سمجھ لیں کہ قتال اور انفاق فی القتال اسی مسئلہ کی خاط ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے حال کے مناسب اللہ کی تنزیہ و تقدیس میں مصروف ہے اور اس کے ہر شریک سے پاک ہونے کی مقر و معترف ہے۔ ” لہ الملک ولہ الحمد “ کیوں نہ ہو ؟ ساری کائنات میں اسی کا تصرف و اختیار نافذ ہے اس کے علاوہ تمام صفات کارسازی بھی اسی کے ساتھ مختص ہیں اور ہر چیز پر قدرت اور دسترس بھی اسی کو حاصل ہے۔ لہذا اس کائنات میں صرف وہی معبود برحق اور وہی کارساز ہے اور کوئی نہیں۔ ” لہ الملک ولہ الحمد “ میں چونکہ حصر ہے، اس لیے ” وھو علی کل شیئ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سور ۃ التغابن ہے جو کہ اس کی آیت 9 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے ۔ تغابن غبن کے مادہ سے ہے ۔ جس میں نقصان کا معنی پایا جاتا ہے اور یوم التغابن قیامت کے دن کو کہا گیا ہے جس کا ذکر اس سورة میں آرہا ہے زیادہ تر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں سورة تحریم کے بعد نازل ہوئی ، تاہم بعض فرماتے ہیں کہ اس کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ہیں۔
اس سورة مبارکہ میں اٹھارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ اور یہ سورة 241 الفاظ اور 1070 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے اعتقادی منافقوں کی مذمت بیان فرمائی ، جو حضور ﷺ…
Read the full tafseer →يُسَبِّــحُ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0 ۚ لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ 0 ۡوَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 1
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : وھو الجملۃ معطوفۃ علی ماقبلھا۔ ویمکن تکون حالامن الضمیر فی لہ فمنکم خبرمقدم کافر مبتداء اوالجملۃ تشریح و تفصیل للخلق ومنکم مومن الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ واللہ مبتداء بصیر خبرہ بماتعلمون متعلق بہ بالحق حال من فاعل خلق اے خلق متلبسًا بالحق بشر مبتداء یھدوننا خبرہ۔
تفسیر : یہ سورة بھی اکثر کے نزدیک مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ضحاک یہی کہتے ہیں۔ ابن عباس اور ابن زبیر ؓ بھی یہی فرماتے ہیں مگر کلبی کہتے ہیں کہ سورة کچھ مکہ میں کچھ مدینے میں نازل ہوئی یعنی اخیر کی چند آیات یا ایہا الذین آمنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم مدینے میں نازل ہوئیں جبکہ عوف بن مالک اشجعی ؓ نے…
Read the full tafseer →یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج لَہُ الْمُلْـکُ وَلَـہُ الْحَمْدُ ز وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَی ئٍ قَدِیْرٌ۔ (التغابن : 1)
(اللہ ہی کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے وجود اور بندگی کی شہادت دے رہی ہے
جو شخص بھی کھلی نگاہوں سے اس کائنات کو دیکھے گا تو وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکے گا کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی مخلوق ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود کی شہادت نہ دیتی ہو اور اس کی تسبیح نہ کررہی ہو۔ مخلوق کا وجود بجائے خود خالق کے وجود کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : مسبِّحات میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کررہی ہے۔ ہر کسی کی تسبیح میں یہ اقرار شامل ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی ” اللہ “ کے لیے ہے اور وہی ہر قسم کی تعریف کے لائق ہے، نہ صرف زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا بادشاہ ہے بلکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح اقتدار اور اختیار بھی رکھتا ہے۔
اس فرمان میں یہ بات بالکل واضح کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے پیدا فرما کر یونہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ ساری کائنات اور اس کا نظام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے جب چاہے اور جس طرح چاہے اپنا حکم نافذ…
Read the full tafseer →حقیقی بادشاہی اللہ کی :
1 : یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے)
آیت میں دونوں ظروف کو مقدم کیا تاکہ ملک و حمد کی خصوصیت اللہ عزوجل کے ساتھ ثابت ہوسکے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بادشاہی حقیقت میں اسی ہی کی ہے کیونکہ وہ ہر چیز کو ابتداء سے بنانے والا اور اس کو قائم رکھنے والا ہے اور اسی طرح تعریف حقیقی کا حقدار بھی وہی ہے۔ کیوں کہ اصول نعمت اور فروع نعمت اس کی طرف سے میسر ہوئیں۔ باقی دنیا میں…
Read the full tafseer →سورة التغابن
عطاء (رح) فرماتے ہیں مکی ہے مگر تین آیات اللہ تعالیٰ کے قول ” یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم “ سے ان کے آخر تک اور اس کی اٹھارہ 18 آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گزر چکا ہے لہ الملک ولہ الحمد کا یہ مطلب ہے کہ زمین و آسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اس لئے ہر ایک چیز زمین و آسمان کی اپنے اپنے حال کے موافق اسی کی حمد و ثنا میں لگی ہوئی ہے وھو علی کل شی قدیر کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے کہ بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے۔ چناچہ اس کی تفصیل سورة تبارک الذی میں آئے گی۔ وھو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل اولہیت بےپیاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد وثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے اقتدار تمام تر اللہ کا ہے اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں، حمدوثنا کا صرف وہی مالک ہے اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیا کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احخام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں، اس کی قدرت سب کو شامل ہے موجودات میں…
Read the full tafseer →1 ۔ کائنات ساری اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول، سبحانہ و تعالیٰ : سو اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے، اسی کی بادشاہی، اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، سبحانہ وتعالی۔ سو اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ کائنات ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول و منہمک ہے، اور اس میں انسان کے لیے آنکھیں کھولنے والا ایک عظیم الشان درس عبرت و بصیرت پایا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیشہ اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی تخیلقات
تشریح : یہ تمام آیات اللہ وحد لا شریک کی لاجواب تخلیقات اور بےحساب حکمتوں کا اظہار کر رہی ہیں ہم خود اور ہمارے گرد پھیلی ہوئی تمام بہترین تخلیقات ہمارے دل و دماغ میں اس خالق کے وجود کا یقین پکا کردیتی ہیں جو کسی کا محتاج نہیں بالکل واحد ہے ہم سب اس کے محتاج ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس خالق ومالک کی تعریف نہ کریں اور اسی سے اپنی مرادیں نہ مانگیں۔ اللہ صرف ایک ہے مگر اس کی بنائی ہوئی ہر چیز جوڑوں میں ہے یا دو سے زیادہ میں ہے یہی فرق ہے مخلوق اور خالق میں۔ کیسی کیسی چیزیں اللہ نے بنا دی ہیں جن کو جاننا اور سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہاں انسان کو اس نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
زمینوں اور آسمانوں کی ساری مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی اور پنے شعور کے مطابق زبان قال سے بھی کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہر شے پر قادر ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر تم میں کچھ اپنے اختیار سے ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔
ایمان وکفر ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد ہے۔
قرآن میں یہ مضمون متعدد مقامات پر گزرچکا ہے کہ قوموں کی تقسیم صرف ایمان وکفر پر ہے اس کے بعد خاندان اور قبیلے ہیں جو پہچان کے لیے ہیں اور یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ایک جیسے اور فطری اوصاف لے کر پیدا ہوتے ہیں کوئی کافر پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب…
Read the full tafseer →ف 6 دنیا میں اگر کسی کو اتخیار اور تعریف حاصل ہے تو وہ اسی کا فیض اور عصیہ ہے۔
Read the full tafseer →(64:1) یسبح للہ ما فی السموت والارض۔ (ملاحظہ ہو 57:1 ، 62:1) اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں۔
لہ الملک ولہ الحمد : الملک بادشاہت۔ الحمد (ال استغراق کا ہے یعنی ہر قسم کی تعریف) تعریف۔ لہ میں لام تملک کا ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے ۔ لہ دونوں جگہ ذکر کیا گیا۔ یہ تقدیم مفید حصر ہے۔ یعنی اللہ ہی کے لئے ہر تعریف ہے اور اللہ ہی کی بادشاہت ہے۔
وھو علی کل شیء قدیر : جملہ ھذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ یا لہ کی ضمیر واحد مذکر سے حال ہے۔ درآں حالیکہ وہ ہر شے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
صور۔ اس نے صورت شکل بنائی۔ لن یبعثوا۔ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ تنبون۔ تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ التغابن۔ گھاتے اور نقصان کا دن۔
تشریح : ہماری دنیاوی زندگی ہار اور جیت کے چکر میں گزر جاتی ہے۔ جیت گئے تو خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا اور اگر ہار گئے تو غم سے نڈھال اور مایوس ہر کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بالکل واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا دیا ہے کہ اس دنیا کا تغابن (ہار جیت) کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہار جیت کا اصل میدان قیامت کا ہولناک دن ہے۔ اس دن جو زندگی کی بازی ہار گیا اور شکست کھا گیا وہ انتہائی بدقسمت لوگوں میں سے ہوگا اور جو اپنے بہترین اعمال کے سبب جیت گیا اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
صفات باری تعالی۔
(ف 1) بےجان چیزوں کی تسبیح کا ذکر اوپر گذرچکا ہے ، لہ الملک ولہ الحمد۔ کا یہ مطلب ہے کہ زمین وآسمان میں اسی کی ساری بادشاہت ہے اسی لیے ہر ایک چیز اپنے حال کے موافق اسی کی حمد وثنا لگی ہوئی ہے ، وھو علی کل شئی قدیر۔ کا یہ مطلب ہے کہ اس کی بادشاہت دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہے بعض باتیں ان کے اختیار سے خارج ہیں بلکہ وہ اپنی بادشاہت میں جو چاہے سو کرسکتا ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة الملک میں آئے گی ھوالذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن۔ کی تفسیر اہل سنت کے مذہب کے موافق یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے اس سب کو اور نیک اور بد لوگوں کو اللہ نے اپنے علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة التغابن
تسبیح سے اس کا آغاز فرمایا ہے ۔ اور بتایا ہے ۔ کہ دراصل بادشاہی اور اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انسان تو محض اس کے امین ہیں ۔ پھر ان اختیارات کو اس نے جس طرح استعمال فرمایا ہے ۔ اس کے لئے وہ سزاوار حمدوستائش ہے ۔ کوئی چیز اور کوئی شیء اس کے قبضہ اقتدار سے باہر نہیں پھر اس کے سعد اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے کہ سب انسانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے ۔ کیا کافر اور کیا مومن اور وہ ان سب کے اعمال سے آگاہ ہے ۔ آسمانوں کو بھی اسی نے بلندی بخشی ہے اور زمین کو بھی اسی کے دست قدرت نے ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ اور وہ چھپی ڈھکی اور علانیہ بات سے آگاہ ہے ۔
معیار نبوت کی بلندی اور معیار الوہیت…
Read the full tafseer →(1) جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو پاکی کیساتھ یاد کرتی ہے اسی کاراج اور اسی کی حکومت ہے اور تمام تعریفیں اسی کو سزا وار ہیں اور وہ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے۔
یعنی آسمان و زمین کی تمام چیزیں زبان حال یا زبان قال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہیں اسی کا راج ہے اور حکومت و سلطنت حقیقت میں اسی کی ہے اگر یہاں مجازاً کسی کی حکومت ہے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہے ہر قسم کی تعریف کا بھی وہی سزاوار ہے اگر یہاں کسی کی تعریف ہوتی ہے تو وہ بھی حقیقت میں اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور ہر چیز اس کی قدرت…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کا تسبیح خواں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے
1 ؎ زیر نظر آیت قبل ازیں دوبارہ گزر چکی ہے اس لیے کہ سورة الحشر کی پہلی آیت بھی یہی ہے اگر کوئی معمولی فرق ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے۔ پہلی دونوں جگہ پر اجمال ہے اور اس جگہ ان کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔ انسان کی تخلیق کیا ہے ؟ وہ مجموعہ اضداد ہے اور ان ضدین میں رہ کر اس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بڑائی سے بچے اور نیکی کی طرف رغبت کرے یہی اس کا کمال ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ حکومت ہے تو وہ اللہ کے لیے ہے اور سب اچھی تعریفیں ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہیں ۔ اس کی قدرت ہرچیز پر محیط ہے…
Read the full tafseer →1 For explanation, see E.N. I of the commentary on Surah AI-Hadid. A study of the following theme by itself shows why the discourse has ban begun with this sentence. What has been stated below about the Universe and Man is that AIIah alone is their Creator, Master, Ruler, and He has not made this universe without purpose and wisdom, that Man has not been created and left irresponsible, so that he may act as he may please, and there should be nobody to call him to account, and that the Ruler of this universe is not a care-free and ignorant king so that he may have no knowledge of what is…
Read the full tafseer →