Explained with ayahs 9–11
مال و دولت کی خود سپردگی خرابی کی جڑ ہے
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بکثرت ذکر اللہ کیا کریں اور تنبیہہ کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر ذکر اللہ سے غافل ہوجاؤ، پھر فرماتا ہے کہ جو ذکر اللہ سے غافل ہوجائے اور دنیا کی زنت ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے اپنے رب کی اطاعت میں سست پڑجائے، وہ اپنا نقصان آپ کرنے والا ہے۔ پھر اپنی اطاعت میں مال خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے کہا پنی موت سے پہلے خرچ کرلو، موت کے وقت کی بےبسی دیکھ کر نادم ہونا اور امیدیں باندھنا کچھ نفع نہ دے گا، اس وقت انسان چاہے گا کہ تھوڑی سی دیر کے لئے بھی اگر چھوڑ دیا جائے تو جو کچھ نیک عمل ہو سکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
سورة الْمُنٰفِقُوْن 17
اب تمام ان لوگوں کو جو دائرہ اسلام میں داخل ہوں، قطع نظر اس سے کہ سچے مومن ہوں یا محض زبانی اقرار ایمان کرنے والے، عام خطاب کر کے ایک کلمۂ نصیحت ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے ہم کئی مرتبہ بیان کرچکے ہیں کہ قرآن مجید میں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے کبھی تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا جاتا ہے، اور کبھی اس کے مخاطب منافقین ہوتے ہیں کیونکہ وہ زبانی اقرار ایمان کرنے والے ہوا کرتے ہیں، اور کبھی ہر طرح کے مسلمان بالعموم اس سے مراد ہوتے ہیں۔ کلام کا موقع و محل یہ بتادیتا ہے کہ کہاں کونسا گروہ ان الفاظ کی مخاطب ہے۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 18
مال اور اولاد کا ذکر تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(آیت) وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ، اس آیت میں موت کے آجانے سے مراد موت کے آثار کا مشاہدہ ہے اور مراد یہ ہے کہ موت کے آثار سامنے آنے سے پہلے صحت و قوت کی حالت میں اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کر کے آخرت کے درجات حاصل کرلو، ورنہ موت کے بعد یہ مال وغیرہ تمہارے کچھ کام نہ آئے گا، اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ ذکر سے مراد تمام طاعات اور احکام شرعی کی پابندی ہے جس میں ضرورت کے مواقع پر مال خرچ کرنا بھی داخل ہے پھر یہاں صرف انفاق مال کو جدا کر کے بیان کرنے کی دو وجہ ہو سکتی ہیں، اول یہ کہ اللہ اور اس کے احکام کی تعمیل سے انسان کو غفلت میں ڈالنے…
Read the full tafseer →(ولن یوخر اللہ نفسا اذا جاء اجلھا واللہ خبیر بما تعملون) (11)۔
یعنی جب موت کی گھڑی سر پر آجائے گی تو اس قسم کی حسرت، حسرت ہی رہے گی۔ اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ زندگی کی فرصت گزر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کی مہلت نہیں دیا کرتا اور اللہ تعالیٰ کو یہ بھی پتہ ہے کہ آج انفاق اور نیکی کی زندگی بسر کرنے کا جو عہد تم کر رہے ہو یہ بالکل بےحقیقت ہے۔ اگر تمہیں مزید مہلت بھی ملی تو تم وہی کرو گے جو اب تک کرتے رہے ہو۔ ان سطور پر اس سورة کی تفسیر بنو فیق ایزدی تمام ہوئی۔ (فلللہ الحمد ولہ المنۃ)۔۔ لاہور۔۔ 30۔ مارچ 1978ء۔ 19 ربیع الثانی 1398ھ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10۔ 1 خرچ کرنے سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔
10۔ 2 اس سے معلوم ہوا کہ زکواۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعا تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آجائے ؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
8: یہ وہی بات ہے جو عبداللہ بن ابی نے کہی تھی اور پھر اس سے مکر گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ اوپر آچکا ہے۔
Read the full tafseer →ولن یوخر ........................ تعملون (36 : 11) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے “۔ غرض ایک ہی آیت میں یہ مختلف قسم کی یاد دہانیاں ہیں۔ اور منافقین کی خصوصیات اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں کو بیان کرنے کے بعد یہ ہدایات برمحل تھیں۔ اب جبکہ مسلمان اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی صف میں اہل عزت کے ساتھ یکجا کھڑے ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے پورے کریں۔ اللہ کو یاد کریں اللہ کی قوت امن کا سرچشمہ ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قرآن کے ذریعہ تربیت دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
7 یہ شاید منافقوں کے قول (لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا) 63 ۔ المنافقون :7) کا جواب ہوا کہ خرچ کرنے میں خود تمہارا بھلا ہے جو کچھ صدقہ خیرات کرنا ہے جلدی کرو، ورنہ موت سر پر آپہنچے گی تو پچھتاؤ گے کہ ہم نے کیوں خدا کے راستہ میں خرچ نہ کیا۔ اس وقت (موت کے قریب) بخیل تمنا کرے گا کہ اے پروردگار ! چند روز اور میری موت کو ملتوی کردیتے کہ میں خوب صدقہ خیرات کر کے اور نیک بن کر حاضر ہوتا۔ لیکن وہاں التواء کیسا ؟ جس شخص کی جس قدر عمر لکھ دی اور جو میعاد مقرر کردی ہے، اس کے پورا ہوجانے پر ایک لمحہ کی ڈھیل اور تاخیر نہیں ہوسکتی۔ (تنبیہ) ابن عباس سے منقول ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 1 1 { وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَا } ”اور اللہ ہرگز مہلت نہیں دے گا کسی جان کو جب اس کا وقت معین آپہنچے گا۔“
قوموں کی ”اجل“ موخر ہونے کی ایک مثال تو موجود ہے ‘ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے معاملے میں عین وقت پر عذاب ٹالنے کا فیصلہ ہوا تھا ‘ لیکن انسانوں کی انفرادی اجل کبھی موخر نہیں کی گئی۔
{ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ } ”اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔“
اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اس وقت کی یہ جزع فزع اور نالہ و شیون بھی فی الحقیقت منافقانہ ہوگی۔ اگر کہیں بالفرض کوئی مہلت مل بھی جائے تو پھر دوبارہ مال کی محبت عود کر آئے گی اور پھر…
Read the full tafseer →16 یعنی اللہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ اگر بالفرض تمہیں کچھ مہلت بھی دے دی جائے تو تم پھر بھی بخل ہی کرو گے۔ صدقہ نہیں کروگے کیونکہ جو عادتیں زندگی بھر پختہ ہوتی رہتی ہیں، تھوڑی سی مہلت ملنے پر بدل نہیں جاتیں۔
Read the full tafseer →15۔ (اس کے ہاں جزاء وسزا میں کسی غلطی کا امکان نہیں) (آیت) ” ولن ...... اجلھا “۔ یہاں یہ بتادیا کہ جب وہ وقت موعود آجائے گا، تو ساری حسرت و تمنا بیکار رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فیقول رب لو لا اخرتنی الی اجل قریب ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ زکوٰۃ واجب تھی اور ادا نہیں کی یا حج فرض تھا مگر نہیں کیا، وہ موت سامنے آجانے کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس کی تمنا کرے گا کہ میں پھر دنیا کی طرف لوٹ جائوں یعنی موت میں کچھ مہلت مل جائے تاکہ میں صدقہ خیرات کرلوں اور فرائض سے سبکدوش ہوجائوں، مگر حق تعالیٰ شانہٗ نے اگلی آیت لن یوخر اللہ (الآیۃ) میں بتلا دیا کہ موت کے آجانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں دی جاتی یہ تمنائیں لغو اور فضول ہیں۔ (معارف)
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →ولن .... تعملون .
” اور اللہ کسی شخص کو جب اسکی معیاد (ختم ہونے پر) آجاتی ہے مہلت نہیں دیتا اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کی پوری خبر ہے۔ “
یعنی اللہ اس کو مہلت ہرگز نہیں دے گا ‘ خواہ وہ کیسی ہی تمنا کرے۔
اِذَا جَآءَ اَجَلُھَا : جب اس کا مقرر وقت آجائے اور اس کی عمر ختم ہوجائے۔
وَ اللہ ُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : یعنی اللہ تمہارے اعمال سے باخبر اور ان کا بدلہ دینے والا ہے۔
الحمد اللہ سورة منافقون کی تفسیر ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10۔ 11) اور جو کچھ ہم نے تمہیں مال دیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اس سے پہلے خرچ کرو یا یہ کہ زکوٰۃ دو کہ تم میں سے کسی کی موت آکھڑی اور پھر وہ کہنے لگے کہ دنیا کی موت کی طرح مجھ کو اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں اپنے مال کی خیر خیرات دے لیتا اور اس مال سے حج کر کے میں بھی حاجیوں میں سے ہوجاتا۔
یا ایھا الذین امنوا سے یہاں تک یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو فاصدق کی تفسیر اگر منافقین کے ساتھ کی جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ میں یہی سچا ایمان اختیار کرلیتا اور سچے مومنوں کی طرح اپنے مال کو خیرات کردیتا۔
Read the full tafseer →1۔ وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللہ ُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَا : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ یونس کی آیت (49) کی تفسیر۔
2۔ وَ اللہ ُ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس میں تنبیہ ہے کہ ہر کام کرتے وقت یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے ہر عمل کی پوری خبر ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نیک عمل والوں کے لیے وعدہ ہے اور برے عمل والوں کے لیے وعید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
مسئلہ نمبر 1 وانفقوا من مارزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت یہ آیت جلدی زکواۃ کی ……وجوب پر دلالت کرتی ہے اس کو موخر کرنا اصلاً جائز نہیں اسی طرح باقی عبادات جن کا وق معین ہو۔
مسئلہ نمبر 2 فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاضدق واکن من اصلحین :۔ اس نے دنیا کی طرف لوٹنے کا سوال کیا تاکہ عمل صالح کرے۔ امام ترمذی نے ضحاک بن مزاحم سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں۔ فرمایا : جس کے پاس اتنا ملا تھا جس کے ساتھ وہ حج بیت اللہ کرسکتا تھا یا اس میں زکوۃ وجب ہوتی تھی اس نے ایسے نہ کیا وہ موت کے وقت رجوع کا سوال کرتا ہے۔ ایک آدمی نے عرض کی : اے ابن عباس ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ یہ لوٹنے کا سوال تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
7۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت فاصدق واکن من الصلحین یعنی میں حج ادا کرلوں۔
8۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت فاصدق واکن من الصلحن واو کے ساتھ۔
9۔ ابن الانباری نے المصاحف میں زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ قراءت کرنا سنتوں میں سے ایک سنت ہے اور تم قرآن کو اس طرح پڑھ وجی سے تم کو پڑھایا گیا ہے جیسے آیت ان ہذان لسحرا (طہ آیت 63) اور آیت فاصدق واکن من الصلحین۔
الحمد للہ سورة المنافقون مکمل ہوئی۔
سورۃ التغابن۔ یہ سورة مدنی ہے اور اس کی اٹھارہ آیات ہیں
1۔ ابن…
Read the full tafseer →[وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ : اور ہرگز پیچھے نہیں کرے گا (مہلت نہیں دے گا) اللہ ] [نَفْسًا : کسی جان کو ] [اِذَا جَاۗءَ اَجَلُهَا : جب آجائے گا اس کا (خاتمے کا) وقت ] [وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ: اور اللہ باخب رہے ] [بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس سے جو ہم لوگ عمل کرو گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اس کے بعد مال خرچ کرنے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا ﴿ وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ﴾ (الآیۃ) کہ موت آنے سے پہلے اس مال میں سے خرچ کرو جو ہم نے تم کو دیا ہے۔ چونکہ ذکر اللہ سے غفلت مال کمانے میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے ساتھ ہی مال خرچ کرنے کا بھی حکم دیدیا، مال آتا ہے تو خرچ بھی ہوتا ہے مومنین صالحین اسے اللہ کی رضا میں خرچ کرتے ہیں اور جن لوگوں کو مال سے محبت ہوتی ہے دین پر چلنے کا شوق نہیں ہوتا وہ مال لے کر بیٹھے رہتے ہیں روپیہ پیسہ کے غلام بنے رہتے ہیں، فرض زکوٰۃ اور تھوڑا سا صدقہ بھی انہیں کھلتا ہے۔
آیت بالا میں یہ بھی فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
تنبیہ وتحذیر اھل ایمان از غفلت ذکر اللہ وتاکید انفاق فی سبیل اللہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ....... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) ابتداء سورت سے جملہ آیات منافقین کے کردار اور ان کی مذموم ترین خصلتوں کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں ایسے اسباب غفلت سے مسلمانوں کو چوکنا فرمایا گیا جو انسان کو ایمان وتقوی کی حقیقت سے دور کردیں اور غفلت ہی دراصل نفاق کا پیش خیمہ ہے نفاق کی اصل حقیقت جب یہ معلوم ہوگئی کہ دل میں ایمان نہ ہو اور زبان سے ایمان کا دعوی اور اعلان ہو تو مال واولاد کے فتنوں میں بھی مبتلا ہونے سے یہی نوعیت قلب کی ہوجاتی ہے، امام بخاری (رح) نے اپنی…
Read the full tafseer →14:۔ ” ولن یؤخر اللہ “ اور جب کسی کی موت کا معین وقت آجائیگا تو اللہ تعالیٰ اس میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں فرمائیگا اور وہ سب کے تمام اعمال سے باخبر ہے، ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
سورة منافقون کی خصوصیات : مؤمنین کو انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب، منافقین کی خباثتوں کا بیان۔ ؎
سورة منافقون ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ربط آیات :
پہلے رکوع میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور اب ایمان والوں کو غفلت سے بچنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ پہلے منافقوں کی سازش ، ریشہ دوانی ، بخل اور برائی اور بداخلاقی کے دیگر امور کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ان کے فاسد خیالات اور اعتقادات کی نفی فرمائی۔ اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ منافقوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں مکی زندگی میں تو نفاق پیدا نہیں ہوا ، وہاں تو مومن تھے یا کافر ، البتہ مدنی دور میں آکر اعتقادی منافق پیدا ہوگئے ، جو زبان سے تو کلمہ توحید پڑھتے تھے اور بعض دیگر نیکی کے کام بھی کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں کفر ہی بھرا ہوا تھا۔ منافقوں کی یہ قسم کافروں کی…
Read the full tafseer →وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَاۗءَ اَجَلُہَا 0 ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 11 ۧ
أخر ( تاخیر)
والتأخير مقابل للتقدیم، قال تعالی: بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ [ القیامة/ 13] ، ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَما تَأَخَّرَ [ الفتح/ 2] ، إِنَّما يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصارُ [إبراهيم/ 42] ، رَبَّنا أَخِّرْنا إِلى أَجَلٍ قَرِيبٍ [إبراهيم/ 44]
( اخ ر ) اخر
التاخیر یہ تقدیم کی ضد ہے ( یعنی پیچھے کرنا چھوڑنا ۔ چناچہ فرمایا :۔ { بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ } ( سورة القیامة 13) جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ۔ { مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ } (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترکیب : فیقول بالنصب بالفاء 1 ؎ الواقعۃ فی جواب الامرو ھو انفقوا لو لاحرف التحضیض معناھا حض علی الفعل لمضارع ولوم ان دخلت علی الماضی فاصدق بالنصب لوقوعہ فی جواب لولائ۔ واصلہ الصدق والجمہور علی ادغام التاء فی الصاد واکن اصلہ اکون سقطت الواؤ بالجزم وقراء الجمہور بالجزم عطفا علی محل فاصدق کانہ قیل ان اخرتنی واکن وقریٔ اکون بالنصب عطفا علی لفظۃ فاصدق لن یوخر الخ الجملۃ تدل علی جواب اذا جائ۔
تفسیر : منافقوں کی افسوسناک حالت بیان فرما کر مسلمانوں کو یاد الٰہی کی طرف ابھارتا ہے اور ایک ناگہانی آجانے والے سے ڈراتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین امنوا الخ کہ اے ایماندارو ! مال اور اولاد کے مشغلہ میں اللہ کی…
Read the full tafseer →وَلَنْ یُّؤَخِّرَاللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُھَا وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (المنافقون : 11)
(اور اللہ ہرگز کسی جان کو ڈھیل نہیں دیتا جب اس کی مقررہ مدت آجاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ )
جو لوگ موت کے وقت یا آخرت میں اس قسم کی حسرت کا اظہار کریں گے ان کے جواب میں پروردگار ارشاد فرما رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو مہلت عمل ختم ہوجانے کے بعد مزید مہلت عطا نہیں کرتا، جو اس کی موت کا وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے پھر اس میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہوتی۔ یہ کہنا کہ اگر مزید مجھے تھوڑی سے مہلت مل جاتی تو میں صدقہ کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہوجاتا۔ یہ بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : مال کی محبت سے بچنے کا بہترین طریقہ۔
انسان کی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ انسان زندگی بھر مال کی محبت میں سرگرداں رہتا ہے۔ حد سے زیادہ مال کی حرص سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا رہے قبل اس کے کہ اسے موت آجائے اور یہ اپنے رب سے آرزو کرے کہ میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں تیرے راستے میں مال خرچ کرتا اور نیک لوگوں میں شمار ہوتا، لیکن اس وقت کسی انسان کو نہ مہلت دی گئی ہے اور نہ دی جائے گی کیونکہ جب کسی شخض کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس میں ایک لمحہ بھی تقدیم و تاخیر نہیں کی جاتی۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ…
Read the full tafseer →1 1 : وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا (اور اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مہلت نہیں دیتا) موت سے اِذَا جَآ ئَ اَجَلُھَا (جبکہ اس کی میعاد ختم ہونے پر آجاتی ہے) جو لوح محفوظ میں لکھی جاچکی ہے۔ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب کاموں کی پوری خبر ہے)
قراءت : حمادو یحییٰ نے یعملون پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوگا جب تمہیں معلوم ہے۔ کہ موت کی اپنے وقت سے تاخیر کا کوئی راستہ نہیں۔ اور وہ اچانک ہجوم کر کے آجانے والی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سارے اعمال کا علم ہے۔ پس وہ ترک واجبات پر خود سزا دیں گے۔ اب تو صرف اتنی بات باقی رہ گئی کہ آدمی جلد ازجلد اپنے واجبات و فرائض سے بریٔ…
Read the full tafseer →10 ۔” وانفقوا مما رزقناکم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مال کی زکوٰۃ مراد ہے۔ ” من قبل ان یاتی احدکم الموت “ پھر وہ لوٹنے کا مطالبہ کرے۔ ” فیقول رب لولا اخرتنی “ کیوں نہیں تو نے مجھے مہلت دی اور کہا گیا ہے کہ ” لا “ صلہ ہے۔ پس کلام تمنی کے معنی میں ہوگی۔ یعنی اگر آپ مجھے مہلت دے دیتے۔ ” الی اجل قریب فاصدق “ فاتصدق میں صدقہ دوں اور اپنے مال کی زکوٰۃ دوں۔ ” واکن من الصالحین “ یعنی ” من المومنین “ مومنین میں سے۔ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” ومن صلح من آبائھم “ ہے۔ یہ مقاتل (رح) اور جماعت کا قول ہے اور ان حضرات نے کہا ہے کہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت مومنین کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9۔ 11۔ اوپر عبد اللہ بن ابی منافق کا ذکر تھا کہ اس نے اپنی دنیا داری کی غفلت میں عقبیٰ کو یہاں تک بھلا دیا تھا کہ طرح طرح کے گناہوں کے بعد اس سے ان گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے اور مغفرت کی دعا کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے انکار کیا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ کسی ایمان دار آدمی کو منافقوں کی مانند اس طرح دنیا میں گرفتار نہ ہونا چاہئے جس سے اللہ کی عبادت میں فتور پڑ کر اس کی عقبیٰ خراب ہوجائے۔ ذکر الٰہی میں سب عبادت بدنی داخل ہے پھر فرمایا کہ جو کوئی حکم الٰہی کے برخلاف عمل کرے گا اس کا بہت نقصان ہوگا۔ صحیح مسلم 1 ؎ میں مستورد بن شداد کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ ) اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرو۔ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ، مثلا زکوۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ نان ونفقہ اور تمام نفقات مستحبہ، مثلا تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ( مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ ) یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفقے کا مکلف نہیں بنایاجو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار اور بھائیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اس کا حکم
قول باری ہے (وانفقوا مما رزقنا کم میں قبل ان یاتی احدکم الموت جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے) تاآخر آیت۔
عبدالرزاق نے روایت کی ہے، انہیں سفیان نے ابوحباب سے، انہوں نے ابوالضحیٰ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا :
(من کان لہ مال تجب فیہ الزکوٰۃ ومال یبلغہ بین اللہ ثم لم یحج ولم یزک سائل الرجعۃ ، جس شخص کے مال میں زکوٰۃ واجب ہو یا حج پر جانے کے لئے رقم ہو پھر وہ حج پر نہ جائے یا اپنے مال کی زکوٰۃ ادانہ کرے تو مرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →24 ۔ موت اپنے وقت سے ٹلنے والی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ موت کا وقت آجانے کے بعد کسی کو کوئی مہلت نہیں مل سکے گی پھر وہ ٹلنے والی نہیں کہ حضرت حق جل مجدہ کا قانون اٹل ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس زندگی کی اس فرصت کو غنیمت جان کر اس میں جس قدر کمائی کرسکتے ہو کرلو پھر یہ موقع ہاتھ آنے کا نہیں، فایک نسال یا ربنا التوفیق والسداد لذالک الا عز الاکرم، وفانک انت نعم المولی و نعم النصیر، و بالاجابۃ جدیر، وعلی کل شیء قدیر۔ سو موت کا وقت مقرر کے آجانے کے بعد اس قسم کی حسرت ہی رہے گی، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، والعیاذ باللہ۔ سو آخرت کے لیے کمائی کا موقع اسی دنیاوی زندگی اور اس کی فرصت محدود میں ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
موت یقینی ہے اور اللہ خبر رکھنے والا ہے
تشریح : ان آیات کو غور سے پڑھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رب العٰلمین کس قدر مہربان اور حکیم و عزیز اور رحمن و رحیم ہے۔ اس نے اپنے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ قرآن و سنت کے ذریعے معیشت، معاشرت، تمدن اور پرسکون زندگی گزارنے کے اصول بھی ہمیں بتا دیے ہیں۔ مال اور اولاد انسانی زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں مگر ساتھ ہی بد ترین آزمائش کا ذریعہ ہیں اگر ان دونوں کی محبت میں ہم نے اعتدال سے کام نہ لیا تو یقینا ہم غفلت، بد اندیشی، نفرت، جرائم، بےاعتدالی اور اللہ سے دوری اختیار کرلیں گے تو اس سے اللہ کو یا کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہ ہوگا بلکہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیات 9 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ بھی یاد رکھو کہ اے ایمان والو ! یہ مال وزر کی جائز تلاش اور اولاد کی پرورش یا ان کی بہتری کی فکر جو جائز بھی ہو وہ بھی اس قدر مصروف نہ کردے کہ اللہ یاد سے غفلت میں آنے لگے۔
ذکر اللہ۔
ذکر اللہ میں تمام عبادات اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے سارے عمل شامل ہیں یہ عملی ذکر ہے اس کے ساتھ تلاوت تسبیحات ذکرلسانی یازبانی ذکر ہے اور ذکرقلبی نصیب ہوجائے یعنی قلب بھی ذاکر ہوجائے تو بھرپور فائدے کی امید کی جاسکتی ہے کہ خلوص سے شریعت پر عمل اور جہاد آسان ہوجاتا ہے اگر کوئی دنیا کی مصروفیات کے سبب اللہ کے ذکر سے غافل ہوا تو وہ بہت زیادہ نقصان میں چلا گیا کہ دینی نقصان…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی مرتے وقت یہ دعا اور تمنا کرنا بیکار ہے عقلمند کو چاہیے کہ مرنے سے پہلے آخرت کا توشہ فراہم کرے۔
Read the full tafseer →(63:11) ولن یؤخر اللہ ۔۔ واؤ عاطفہ لن یؤخر مضارع نفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب ، تاخیر (تفعیل) مصدر۔ اور اللہ مہلت نہیں دیتا ۔ نفسا۔ اسم مفرد بمعنی جان۔ مراد شخص (منصوب بوجہ مفعول فعل یؤخر کے ۔ کسی شخص کو ۔
اذا جاء اجلہا : جب اس کی موت آجاتی ہے۔ جب اس کا وقت آجاتا ہے ۔ جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث نفسا کے لئے ہے۔
واللہ خبیر بما تعملون اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کیا کرتے ہو۔ یہ عدم تأخر کی تاکید میں ارشاد فرمایا۔
اولا یہ کہ جب کسی کا وقت آجاتا ہے تو اس میں وہ تاخیر و تعجیل نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ محض تمہارے کہنے کی باتیں ہیں کہ اگر مہلت مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔
تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔
اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) اوپر ابن ابی منافق کا ذکر تھا اس نے اپنی دنیا داری کی غفلت میں عقبی کو یہاں تک بھلادیا تھا کہ طرح طرح کے گناہوں کے بعد جب اس سے ان گناہوں پر نادم ہوکر اللہ اور رسول کی خدمت میں حاضر ہونے اور مغفرت کی دعا کرانے کے لیے کہا گیا تو اس نے انکار کیا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ کسی مسلمان آدمی کو منافقوں کی مانند اس طرح دنیا میں گرفتار نہ ہونا چاہیے جس سے اللہ کی عبادت یعنی پنج گانہ نماز ودینی اومر وغیرہ میں پڑ کر اس کی عقبی خراب ہوجائے پھر فرمایا کہ جو کوئی اس حکم الٰہی کے برخلاف عمل کرے گا اس کا بہت نقصان ہوگا۔
خیرات اور آداب خیرات کا ذکر۔
صحیح مسلم میں مستور بن شداد کی حدیث ہے کہ جس میں نبی ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[9] یہ آخر میں مسلمانوں کو تنبیہہ فرمائی کہ تم ان منافقوں کی روش اختیار نہ کرنا۔ ان کو مال اور اولاد کی محبت نے اللہ سے غافل کردیا ہے اگر تم بھی انہی کی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر اللہ کو بھول بیٹھے تو یاد رکھو کہ اصل نامرادی اور محرومی یہی ہے۔
Read the full tafseer →مرد مسلمان کا اللہ سے تعلق
1: مرد مسلمان کی وابستگی اللہ تعالیٰ کے ساتھ نوع کی ہے ۔ کہ وہ مذہباً مجبور ہے ۔ کہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہو ۔ ہر آن اسی کی ذات میں غوروفکر اور اس کے احکام کے ساتھ شغف ضروری بڑے سے بڑا تعلق بھی اس کے لئے اس تعلق وارادت کے مقابلہ میں ہیچ ہے ۔ جو اس کو اس حسن مطلق کے ساتھ ہے ۔ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہر لحظہ اور ہر آن یہ خیال رکھتا ہے ۔ کہ اس کی حرکات اور اعمال وجوارح تک اللہ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے ۔ ومن احسن من اللہ یبغۃ اس کو حکم دیا گیا ہے ۔ کہ دیکھو دنیا میں رہو ۔ کہ مال واولاد کی محبت تم کو الجھا دے ۔ اور تمہارے دامن کو شرک آلود کردے ۔…
Read the full tafseer →(11) اور جب کسی جان دار کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو ہرگز مہلت نہیں دیا کرتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سب سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ بات منافقوں کو سنائی کہ مال خرچ کرنے میں جلدی کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ موت آجائی اور پھر صدقے کی تمنا بھی کرو تو کامیابی نہ ہو عام طور پر موت سے مراد یہاں دنیا کے مرتے وقت کی تمنا ہے البتہ عبداللہ بن عباس ؓ کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس قسم کی خواہش قیامت میں کریں گے اے پروردگار ! ہم کو دنیا میں پھر بھیج دے تو ہم خوب خیرات کریں گے اور نکوکاروں میں سے ہوجائیں گے۔
حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا واللہ خبیر بما تعملون یعنی ہم ان کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 4۔ یعنی دنیا میں منہمک موت ہوجانا کہ دین میں خلل پڑنے لگے۔
5۔ کیونکہ نفع دنیوی تو ختم ہوجاوے گا اور ضرر اخروی ممتد یا دائم رہ جائے گا۔
Read the full tafseer →جب وقت مقرر آجاتا ہے تو پھر ڈھیل نہیں دی جاتی ، قانون الٰہی کا اعلان
11 ؎ بلا شبہ ہرچیز کو موت ہے اور اس کی موت کا وقت متعین و مقرر ہے جب تک موت کا وقت نہیں آتا کوئی چیز مر نہیں سکتی اور یہی حال انسان کا ہے ۔ گزشتہ آیت میں ذکر تھا کہ مرنے والے نے اگر آخرت کے لیے کچھ نہیں کیا ہوگا تو وہ کف افسوس ملے گا اور اپیلیں کرے گا کہ اے اللہ کچھ وقت تک مجھے مہلت عطا فرما دے تاکہ میں اپنی آخرت کے لیے کچھ تیار کرلوں اور خصوصاً اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرلوں اور نیک لوگوں میں شامل ہو جائوں ۔ گزشتہ آیت میں اس کے سوال کا ذکر تھا ، زیر نظر آیت میں اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ اے بات کہنے والے کان کھول کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ (And spend out of what We have given to you before death comes to one of you…63:10) ‘Coming of death’ in this verse refers to ‘witnessing the signs of death’. The verse exhorts the believers to make the best of their opportunities to spend in the way of Allah, in the state of good health and strength, before the signs of death appear, and thus they should have their degrees of rank elevated in the Hereafter. Once death overtakes them the opportunity to spend will be lost, and the wealth will be of no use. Earlier…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
17 Now a word of admonition is being addressed to aII those people, who have entered Islam, whether they are true and sincere believers, or those who profess the faith merely verbally. As we have explained at several places above. the words alladhina amanu in the Qur'an are sometimes used to address the true believers and sometimes to address the hypocrites, for they profess the faith only with the tongue, and sometimes to address the Muslims of aII kinds in general The context itself shows which group is the audience at a particular place.
18 The mention of the possessions and the children,…
Read the full tafseer →