63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 63:1–4

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب آئیں تیرے پاس منافق کہیں ہم قائل ہیں تو رسول ہے اللہ کا اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے رکھا ہے اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر پھر روکتے ہیں اللہ کی راہ سے یہ لوگ برے کام ہیں جو کر رہے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ ایمان لائے پھر منکر ہوگئے پھر مہر لگ گئی ان کے دل پر سو وہ اب کچھ نہیں سمجھتے

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تو دیکھے ان کو تو اچھے لگیں تجھ کو ان کے ڈیل اور اگر بات کہیں سنے تو ان کی بات کیسے ہیں جیسے کہ لکڑی لگا دی دیوار سے جو کوئی چیخیں جانیں ہم ہی پر بلا آئی وہی ہیں دشمن ان سے بچتارہ گردن مارے ان کی اللہ کہاں سے پھرے جاتے ہیں

خلاصہ تفسیر جب آپ کے پاس یہ منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (دل سے) گواہی دیتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں (اس میں تو ان کے قول کی تکذیب نہیں کی جاتی) اور (باوجود اس کے) اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین (اس کہنے میں) جھوٹے ہیں ، (کہ ہم دل سے گواہی دیتے ہیں، کیونکہ وہ گواہی محض زبانی ہے اعتقاد قلب سے نہیں) ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال کو بچانے کے لئے) ڈھال بنا رکھا ہے (کیونکہ اظہار کفر کرتے تو ان کی حالت بھی مثل دوسرے کفار کے ہوجاتی کہ جہاد کیا جاتا اور قتل و غارت ہوتا) پھر (اس لازمی خرابی کے ساتھ متعدی خرابی بھی ہے کہ) یہ لوگ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں بیشک ان کے یہ اعمال بہت ہی برے ہیں (اور ہمارا) یہ (کہنا کہ ان کے اعمال بہت برے ہیں) اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ (اول ظاہر میں) ایمان لے آئے پھر (اپنے شیاطین کے پاس جا کر کلمات کفریہ انامعکم انمانحن و مستہزون کہہ کر) کافر ہوگئے (مطلب یہ کہ ان پر برے اعمال کا حکم کرنا ان کے نفاق کے سبب سے ہے کہ وہ بدترین عمل کفر ہے) سو (اس نفاق کی وجہ سے) ان کے دلوں پر مہر کردی گئی، تو یہ (حق بات کو) نہیں سمجھتے اور (ظاہر میں یہ ایسے چکنے چڑے ہیں کہ) جب آپ ان کو دیکھیں (تو شان و شوکت ظاہری کی وجہ سے) ان کے قدو قامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور (باتوں میں ایسے ہیں کہ) اگر یہ باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی بات (غایت فصاحت و شیرینی کی وجہ سے) سن لیں (لیکن چونکہ اندر خاک بھی نہیں ہے اس لئے قدو قامت ظاہری کے ساتھ باطنی کمالات سے خالی ہونے کے سبب ان کی ایسی مثال ہے کہ) گویا یہ لکڑیاں ہیں جو (دیوار کے) سہارے سے لگائے ہوئی (کھڑی) ہیں (کہ حبثہ میں تو لمبی چوڑی موٹی موٹی مگر بےجان محض اور عام عادت یہ ہے کہ اکثر جو لکڑی فی الحال کام میں نہیں لگتی وہ اس طرح رکھ دی جاتی ہے، ایسی لکڑی بےنفع محض بھی ہے، اسی طرح یہ لوگ ظاہری دیکھنے میں تو شاندار ہیں لیکن اندر سے محض بیکار اور چونکہ بوجہ عدم اخلاص و عدم ایمان کے ہر وقت ان کو اندیشہ رہتا ہے کہ کبھی مسلمانوں کو ہمارے حال کی اطلاع کسی قرینہ سے یا بذریعہ وحی کے نہ ہوجاوے اور مثل دیگر کفار کے ہم پر بھی جہاد وغیرہ نہ ہونے لگے اس خیال سے ایسے غائف رہتے ہیں کہ) ہر غل پکار کو (گو کسی وجہ سے ہو) اپنے ہی اوپر (پڑنے والی) خیال کرنے لگتے ہیں (یہی جب کوئی شور و غل ہوتا ہے یہی سمجھتے ہیں کہ کہیں ہمارے اوپر بھی افتاد پڑنے والی نہ ہو حقیقت میں) یہی لوگ (تمہارے پورے) دشمن ہیں آپ ان سے ہوشیار رہئے (یعنی ان کی کسی بات پر اعتماد نہ کیجئے) خدا ان کو غارت کریں کہاں (دین حق سے) پھرے چلے جاتے ہیں (یعنی روزانہ دور ہی ہوتے جاتے ہیں) اور (ان کے تکبر اور شرارت کی یہ کیفیت ہے کہ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (رسول اللہ ﷺ کے پاس) آؤ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ استغفار کردیں تو وہ اپنا سر پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ (اس خیر خواہی اور استغفار رسول سے) تکبر کرتے ہوئے بےرخی کرتے ہیں (جب ان کے کفر کی یہ حالت ہے تو) ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں خواہ آپ ان کے لئے استغفار کریں یا ان کے لئے استغفار نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہ بخشے گا (مطلب یہ کہ اگر وہ آپ کے پاس آتے بھی اور آپ ان کی ظاہری حالت کے اعتبار سے استغفار بھی فرماتے تب بھی ان کو کچھ نفع نہ ہوتا، یہ تو ماضی کے اعتبار سے ان کی حالت ہوئی اور آئندہ کے لئے یہ ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ ایسے نافرمان لوگوں کو (توفیق) ہدایت (کی) نہیں دیتا یہ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس (جمع) ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو یہاں تک کہ یہ آپ ہی منتشر ہوجاویں گے اور (ان کا یہ کہنا جہل محض ہے کیونکہ) اللہ ہی کے ہیں سب خزانے آسمانوں اور زمین کے و لیکن منافق سمجھتے نہیں ہیں (کہ رزق کا مدار اہل شہر کے نفقات کو سمجھتے ہیں اور) یہ (لوگ) یوں کہتے ہیں کہ اگر ہم اب مدینہ میں لوٹ کر جاویں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو باہر نکال دے گا (یعنی ہم ان مسافر پر دیسیوں کو نکال باہر کردیں گے) اور (اس قول میں جو اپنے کو عزت والا اور مسلمانوں کو ذلت والا کہتے ہیں یہ جہل محض ہے، بلکہ) اللہ ہی کی ہے عزت (بالذات) اور اس کے رسول کی (بواسطہ تعلق باللہ کے) اور مسلمانوں کی (بواسطہ تعلق مع اللہ .... والرسول کے) و لیکن منافق جانتے نہیں (بلکہ مدار امور فانیہ کو سمجھتے ہیں)۔ معارف و مسائل سورة منافقون کے نزول کا مفصل واقعہ یہ واقعہ محمد بن اسحاق کی روایت کے مطابق شعبان سن 6 ھ میں اور قتادہ و عروہ کی روایت کے مطابق شعبان سن 5 ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر پیش آیا ہے (مظہری) جو محمد بن اسحاق اور اکثر علماء مغازی و سیر کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر ملی کہ بنی المصطلق کے رئیس حارث بن ضرار رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، یہ حارث بن ضرار جویریہ کے والد ہیں جو بعد میں مسلمانہو کر ازواج مظہرات میں داخل ہوئیں اور خود حارث بن ضرار بھی بعد میں مسلمان ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب ان کی جنگی تیاری کی خبر ملی تو رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لئے نکلے، اس جہاد کے لئے نکلنے والے مسلمانوں کے ساتھ بہت سے منافق بھی اس طمع میں نکلے کہ ہمیں بھی مال غنیمت میں حصہ ملے گا کیونکہ یہ لوگ باوجود دل میں کافرو منکر ہونے کے یہ یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد آپ کے ساتھ ہے اور آپ ہی غالب اور فاتح ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ جب بنی المصطلق کے مقام پر پہنچے تو حارث بن ضرار کے لشکر سے سامنا اس پانی کے چشمہ یا کنویں پر ہوا جو مریسیع کے نام سے معروف تھا، اسی لئے اس غزوہ کو غزوہ مریسیع بھی کہا جاتا ہے، جانبین سے جنگ کی صفیں مرتب ہو کر تیروں کے ساتھ مقابلہ ہوا جس میں بنی المصطلق کے بہت سے آدمی مارے گئے باقی بھاگنے لگے، حق تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو فتح عطا فرمائی، ان کے کچھ اموال غنیمت اور کچھ مرد و عورت قید ہو کر مسلمان کے ہاتھ آئے اس جہاد کا قضیہ تو ختم ہوا۔ وطنی یا نسبی قومیت کی بنیاد پر تعاون و تناصر کفر و جاہلیت کا نہرہ ہے مگر اس کے بعد ابھی مسلمانوں کا لشکر اسی مریسیع کے پانی پر جمع تھا کہ ایک ناگوار واقعہ یہ پیش آ گیا کہ ایک مہاجر اور ایک انصاری میں اسی پانی پر باہم جھگڑا ہوگیا اور نوبت باہم قتل و قتال کی آگئی، مہاجر نے اپنی مدد کے لئے مہاجرین کو پکارا اور انصاری نے انصار کو، دونوں کی مدد کے لئے کچھ افراد پہنچے گئے اور قریب تھا کہ مسلمانوں کے باہم ایک فتنہ کھڑا ہوجائے، رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فوراً موقع پر تشریف لے گئے اور سخت ناراضی کے ساتھ فرمایا ”مابال دعوی الجاھلیة“ (یعنی یہ جاہلیت کا نعرہ کیسا ہے) کہ وطنی اور نسبی قومیت کو بنیاد بنا کر امداد و دفاع کا معاملہ ہونے لگا، اور فرمایا ”دعوھا فانھا منتنة“ (اس نعرہ کو چھوڑ دو یہ بدبو دار نعرہ ہے) اور فرمایا کہ ہر مسلمان کو اپنے ہر مسلمان بھائی کی مدد کرنا چاہئے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مظلوم کی مدد کرنا تو ظاہر ہے کہ اس کو ظلم سے بچائے اور ظالم کی مدد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ظلم سے روکے، کیونکہ اس کی حقیقی مدد یہی ہے، مراد یہ تھی کہ ہر معاملہ میں یہ دکھنا چاہئے کہ مظلوم کون ہے، ظالم کون، پھر ہر مسلمان کا خواہ وہ مہاجری ہو یا انصاری اور کسی قبیلہ و خاندان کا ہو یہ فرض ہوجاتا ہے کہ مظلوم کو ظلم سے چھڑائے اور ظالم کا ہاتھ روکے، خواہ وہ اپنا حقیقی بھائی اور باپ ہی کیوں نہ ہو، یہ نسبی اور وطنی قومیت جاہلانہ اور بد بودار نعرہ ہے جس سے گندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سنتے ہی جھگڑا ختم ہوگیا، اس معاملہ میں زیادتی جہجاہ مہاجری کی ثابت ہوئی، اس کے بالمقابل سنان بن وبرہ جہنی انصاری کو زخم آ گیا تھا، حضرت عبادہ بن صامت کے سمجھانے سے سنان بن وبرہ نے اپنا حق معاف کردیا اور جھگڑنے والے ظالم و مظلوم پھر بھائی بھائی بن گئے۔ منافقین کی ایک جماعت جو مال غنیمت کی طمع میں مسلمانوں کے ساتھ لگی ہوئی تھی، ان کا سردار عبداللہ بن ابی تھا جو دل میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے دشمنی رکھتا تھا، مگر دنیوی فوائد کی خاطر اپنے کو مسلمان کہتا تھا، اس کو جب مہاجرین و انصار کے باہم تصادم کی خبر ملی تو اس نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کا موقع غنیمت پایا اور اپنی مجلس میں جس میں منافقین جمع تھے اور مومنین میں سے صرف زید بن ارقم موجود تھے ........ اس نے انصار کو مہاجرین کے خلاف بھڑکایا اور کہنے لگا کہ تم نے ان کو اپنے وطن میں بلا کر اپنے سروں پر مسلط کیا، اپنے اموال و جائیداد ان کو تقسیم کر کے دے دیئے یہ تمہاری روٹیوں پر پلے ہوئے اب تمہارے ہی مقابلہ پر آئے ہیں، اگر تم نے اب بھی اپنے انجام کو نہ سمجھا تو آگے یہ تمہارا جینا مشکل کردیں گے، اس لئے تمہیں چاہئے کہ آئندہ مال سے ان کی مدد نہ کرو تو خود ہی ادھر ادھر بھاگ جائیں گے اور اب تمہیں چاہئے کہ جب مدینہ پہنچ جاؤ تو تم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو نکال باہر کرے۔ اس کی مراد عزت والے سے خود اپنی جماعت اور انصار تھے اور ذلیل سے مراد معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین صحابہ تھے، حضرت زید بن ارقم نے جب اس کا یہ کلام سنا تو فوراً بولے کہ واللہ تو ہی ذلیل و خوار اور مبغوض ہے اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دی ہوئی عزت اور مسلمانوں کی دلی محبت سے کامیاب ہیں۔ عبداللہ بن ابی چونکہ اپنے نفاق پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا اسی لئے الفاظ صاف نہ بولے تھے، اس وقت زید بن ارقم کے اظہار غضب سے اس کو ہوش آیا کہ میرا کفر ظاہر ہوجائے گا، تو حضرت زید سے عذر کیا کہ میں نے تو یہ بات ہنسی میں کہہ دی تھی، میرا مطلب رسول اللہ ﷺ کے خلاف کچھ کرنا نہیں تھا۔ حضرت زید بن ارقم اس مجلس سے اٹھ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابن ابی کا یہ سارا واقعہ کہہ سنایا، رسول اللہ ﷺ پر یہ خبر بہت شاق ہوئی، چہرہ مبارک پر تغیر کے آثار نظر آنے لگے (زید بن ارقم کم عمر صحابی تھے) آپ نے ان سے کہا کہ لڑکے تم جھوٹ تو نہیں بول رہے ہو ؟ زید بن ارقم نے قسم کھا کر کہا کہ نہیں میں نے اپنے کانوں سے اس کے یہ کلمات سنے ہیں، آپ نے پھر فرمایا کہ تمہیں کچھ شبہ تو نہیں ہوگیا، زید بن ارقم نے پھر وہی جواب دیا اور پھر ابن ابی کی یہ بات مسلمانوں کے پورے لشکر میں پھیل گئی اور آپس میں اس بات کے سوا کوئی بات ہی نہ رہی، ادھر حضرات انصار سب زید بن ارقم کو ملامت کرنے لگے کہ تم نے قوم کے سردار پر تہمت لگائی اور قطع رحمی کی، زید ابن ارقم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم پورے قبیلہ خزرج میں مجھے ابن ابی سے زیادہ کوئی محبوب نہیں (مگر جب اس نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف یہ کلمات کہے تو میں اسے برداشت نہیں کرسکا) اور اگر میرا باپ بھی ایسی بات کہتا تو میں اس کو بھی ضرور رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتا۔ دوسری طرف حضرت عمر بن خطاب نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن ماردوں اور بعض روایات میں ہے کہ فاروق اعظم نے یہ عرض کیا کہ آپ عباد بن بشر کو حکم دیدیجئے کہ اس کا سر قلم کر کے آپ کے سامنے پیش کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے عمر اس کا کیا ہوگا کہ لوگوں میں یہ شہرت دی جائے گی کہ میں اپنے اصحاب کو قتل کردیتا ہوں، اس لئے آپ نے ان ابی کے قتل سے روک دیا، حضرت فاروق اعظم کے اس کلام کی خبر عبداللہ بن ابی منافق کے بیٹے کو پہنچی، ان کا نام بھی عبداللہ تھا اور یہ پکے مسلمان تھے، یہ فوراً آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ کا ارادہ میرے باپ کو ان کی اس گفتگو کے نتیجہ میں قتل کرنے کا ہے تو آپ مجھے حکم دیجئے میں انپے بات کا سر کاٹ کر آپ کی خدمت میں اس سے پہلے کہ آپ اپنی مجلس سے اٹھیں پیش کر دوں گا اور عرض کیا کہ پورا قبیلہ خزرج اس کا گواہ ہے کہ ان میں کوئی بھی مجھ سے زیادہ اپنے والدین کی خدمت و اطاعت کرنے والا نہیں ہے، مگر اللہ و رسول کے خلاف ان کی بھی کوئی چیز برداشت نہیں ہو سکتی اور مجھے خطرہ ہے کہ اگر آپ نے کسی اور کو میرے باپ کے قتل کا حکم دیا اور اس نے قتل کردیا تو ایسا نہ ہو کہ جب میں اپنے باپ کے قاتل کو چلتا پھرتا دیکھوں تو مجھ پر غیرت نسبی غالب آجائے اور میں اسے قتل کر بیٹھوں جو میرے لئے عذاب کا سبب بنے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ میرا ارادہ اس کے قتل کا ہے نہ میں نے کسی کو اس کا حکم دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عام عادت کے خلاف بےوقت سفر کرنے کا اعلان عام فرما دیا اور خود ناقہ قصویٰ پر سوار ہوگئے جب عام حضرات صحابہ روانہ ہوگئے تو آپ نے عبداللہ ابن ابی کو بلایا اور دریافت کیا کہ کیا تم نے ایسا کہا ہے ؟ یہ قسمیں کھا گیا کہ میں نے ہرگز ایسا نہیں کہا یہ لڑکا (زید بن ارقم) جھوٹا ہے، عبداللہ بن ابی کی اپنی قوم میں عزت تھی سب نے یہ قرار دیا کہ شاید زید بن ارقم کو کچھ مغالطہ لگ گیا ہے، ابن ابی نے ایسا نہیں کہا۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ نے ابن ابی کی قسم اور عذر کو قبول کرلیا اور لوگوں میں زید بن ارقم پر غصہ اور ان کی ملامت اور تیز ہوگئی اور یہ اس رسوائی کے سبب لوگوں سے چھپے رہنے لگے، پھر رسول اللہ ﷺ نے پورے لشکر اسلام کے ساتھ پورے دن پھر پوری رات سفر کیا اور اگلے روز صبح کو بھی برابر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ دھوپ تیز ہونے لگی اس وقت آپ نے قافلہ کو ایک جگہ ٹھہرایا، پورے ایک دن ایک رات کو مسلسل سفر سے تھکے ہوئے صحابہ کرام جب اس منزل پر اترے تو فوراً سب محو خواب ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عام سفر کرنے کی عادت کے خلاف فوری طور پر بےوقت سفر شروع کرنے اور پھر سفر کو اتنا طویل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ابن ابی کے واقعہ کا چرچا جو تمام مسلمانوں میں پھیل گیا تھا مسلمانوں کو سفر کے ایسے شغل میں لگا دے کہ یہ چرچا ختم ہوجائے۔ اس کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ نے سفر شروع کیا، اسی دوران میں جب تک ابن ابی کے بارے میں قرآن کی آیات نازل نہ ہوئی تھیں تو عبادہ بن صامت نے اس کو نصیحت کی کہ تو خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرے تو رسول اللہ ﷺ تیرے لئے استغفار فرما دیں گے، تیری نجات ہوجائے گی، ابن ابی نے ان کی نصیحت سن کر اپنا سر اس طرف سے پھیرلیا، حضرت عبادہ نے اسی وقت فرمایا کہ ضرور تیرے اس اعراض کے بارے میں قرآن .... نازل ہوگا۔ ادھر رسول اللہ ﷺ سفر میں تھے اور زید بن ارقم بار بار آپ کے قریب آتے تھے کیونکہ ان کو اپنی جگہ یقین تھا کہ اس شخص منافق نے مجھے پوری قوم میں جھوٹا قرار دے کر رسوا کیا ہے ضروری میری تصدیق اور اس شخص کی نکیر میں قرآن نازل ہوگا، اچانک زید بن ارقم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو وحی کے وقت ہوتی تھی کہ سانس پھولنے لگا اور پیشانی مبارک پر پسینہ بہنے لگا اور آپ کی سواری ناقہ بوجھ سے دبنے لگی، تو ان کو امید ہوئی کہ اب کوئی وحی اس بارے میں نازل ہوگی، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ کیفیت رفع ہوئی، میری سواری چونکہ آپ کے قریب تھی آپ نے اپنی سواری ہی پر سے میرا کان پکڑا اور فرمایایا غلام صدق اللہ حدیثک ونزلت سورة المنفقین فی ابن ابی من اولھا ابی اخرھا (یعنی اے لڑکے اللہ نے تیری بات کی تصدیق کردی اور پوری سورة منافقوں اسی واقعہ ابن ابی کے متعلق نازل ہوئی)۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سورة منافقون دوران سفر ہی میں نازل ہوگئی تھی مگر بغوی کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ مدینہ طیبہ پہنچ گئے اور زید بن راقم رسوائی کے خوف سے گھر میں چھپ کر بیٹھ رہے اس وقت یہ سورت نازل ہوئی، واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ کے قریب وادی عقیق میں پہنچے تو عبداللہ بن ابی منافق کے مومن صاحبزادے عبداللہ آگے بڑھے اور تمام سواریوں میں تلاش کرتے ہوئے اپنے باپ ابن ابی کی سواری کے قریب پہنچ کر باپ کی اونٹنی کو بٹھا دیا اور اس کے گھٹنے پر پاؤں رکھ کر باپ سے خطاب کیا کہ خدا کی قسم ! تم مدینہ میں داخل نہیں ہو سکو گے جب تک رسول اللہ ﷺ داخل ہونے کی اجازت نہ دیں اور جب تک تم یہ بات واضح نہ کرو کہ تم نے جو بات کہی ہے کہ عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا، اس میں عزت والا کون ہے رسول اللہ ﷺ یا تم ؟ عبداللہ بن عبداللہ ابن ابی اپنے باپ کا راستہ روکے ہوئے کھڑے تھے اور پاس سے گزرنے والے لوگ عبداللہ کو ملامت کر رہے تھے کہ باپ کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے، آخر میں جب رسول اللہ ﷺ کی سواری ان کے قریب آئی تو معاملہ کے متعلق دریافت کیا، لوگوں نے بتلایا کہ عبداللہ مومن نے اپنے باپ کا راستہ اس لئے روکا ہوا ہے کہ جب تک رسول اللہ ﷺ اس کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے یہ مدینہ میں داخل نہ ہوسکے گا اور آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ ابن ابی منافق بیٹے سے مجبور ہو کر یہ کہہ رہا ہے کہ میں تو بچوں اور عورتوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوں، رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر صاحبزادے سے کہا کہ ان کا راستہ چھوڑ دو ، مدینہ میں جانے دو ، تب بیٹے نے راستہ چھوڑا۔ سورة منافقون کے نزول کا قصہ تو اتنا ہی تھا جو اوپر لکھا گیا، قصہ کے شروع میں یہ بھی اجمالاً ذکر ہوا ہے کہ غزوہ بنی المصطلق کا اصل ذمہ دار ام المومنین حضرت جویریہ کا والد حارث بن ضرار ہوا تھا، بعد میں حضرت جویریہ کو اللہ تعالیٰ نے شرف اسلام کے ساتھ امہات المومنین میں داخل ہونے کا شرف عطا فرمایا اور باپ بھی مسلمان ہوگیا۔ اس کا کو واقعہ مسند احمد ابو داؤد وغیرہ میں یہ منقول ہے کہ جب بنو المصطلق کو شکست ہوئی تو مال غنیمت کے ساتھ ان کے کچھ قیدی بھی ہاتھ آئے، اسلامی قانون کے مطابق سب قیدی اور مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کردیئے گئے، قیدیوں میں حارث بن ضرار کی بیٹی جویریہ بھی تھیں، یہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے حصہ میں آگئیں، انہوں نے جویریہ کو بصورت کتابت آزاد کرنے کا ارادہ فرمایا جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ غلام یا کنیز پر کچھ قرم مقرر کردی جائے اور اس کو محنت مزدوری یا تجارت کی اجازت دے دیجائے وہ مقرر رقم کما کر مالک کو ادا کر دے تو آزاد ہوجائے۔ جویریہپر جو رقم مقرر کی تھی وہ بڑی رقم تھی جس کی ادائیگی ان کے لئے آسان نہ تھی وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور درخواست کی کہ میں مسلمان ہوچکی ہوں، شہادت دیتی ہوں کہ اللہ ایک ہے اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں پھر اپنا واقعہ سنایا کہ ثابت بن قیس جن کے حصہ میں میں آئی ہوں انہوں نے مجھے مکاتب بنادیا ہے مگر رقم کتابت کی ادائیگی میرے بس میں نہیں، آپ اس میں میری کچھ مدد فرما دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو درخواست قبول فرمالی اور ساتھ ہی ان کو آزاد کرکے اپنی زوجیت میں لینے کا ارادہ ظاہر فرمایا، جویریہ کے لئے یہ بہت بڑی نعمت تھی وہ کیسے قبول نہ کرتیں، بخوشی خاطر قبول کیا اور یہ ازواج مطہرات میں داخل ہوگئیں، ام المومنین حضرت جویریہ کا بیان ہے کہ غزوہ بنی المصطلق میں رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے سے تین دن پہلے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ یثرب کی طرف سے چاند چلا اور میری گود میں آ کر گرگیا ، اس وقت تو میں نے یہ خواب کسی سے ذکر نہ کیا تھا اب اس کی تعبیر آنکھوں سے دیکھ لی۔ یہ سردار قوم کی بیٹی تھیں، ان کے ازواج مظہرات میں داخل ہونے سے پورے قبیلہ پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوئے اور ایک فائدہ ان تمام عورتوں کو پہنچا جو ان کے ساتھ گفرتار ہوئی تھیں اور ان کی رشتہ دار تھیں، کیونکہ ان کا ام المومنین ہوجانا معلوم کرنے کے بعد جس جس مسلمان کے پاس ان کی رشتہ دار کوئی کنیز تھی سب نے ان کو آزاز کردیا کہ ان کی عزیز کسی عورت کو کنیز بنا کر اپنے پاس رکھنا ادب کے خلاف سمجھا، اس طرح سو کنیزیں ان کے ساتھ آزاد ہوگئیں اور پھر ان کے والد بھی رسول اللہ ﷺ کا ایک معجزہ دیکھ کر مسلمان ہوگئے۔ واقعہ مذکورہ میں اہم ہدایات و فوائد سورة منافقون کے نزول کا واقعہ اس کی تفسیر کے سمجھنے میں تو معین ہے ہی، اس کے ضمن میں بہت اہم ہدایات و مسائل، اخلاق، سیاست اور معاشرت کے متعلق آگئے ہیں، اس لئے احقر نے اس واقعہ کی پوری تفصیل یہاں نقل کی ہے، وہ ہدایات یہ ہیں۔ اسلامی سیاست کا سنگ بنیاد خالص اسلامی برادری قائم کرنا ہے جس میں رنگ و نسل اور زبان اور ملکی و غیر ملکی کے سب امتیازات بالکل ختم کردیئے جاویں غزوہ بنی المصطلق میں پیش آنے والا ایک انصاری اور ایک مہاجر کا جھگڑا اور دونوں طرف سے انصار مہاجرین کو اپنی اپنی مدد کے لئے پکارنا، یہ وہ جاہلیت کا بت تھا جس کو رسول اللہ ﷺ نے توڑ دیا تھا اور مسلمان کہیں کا رہنے والا ہو کسی رنگ و زبان اور کسی نسل و قوم کا ہو سب کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا، انصار و مہاجرین میں باقاعدہ پھر مواخات کرا کر ان کی مشترک اسلامی برادری بنادی تھی، مگر شیطان کا یہ پرانا جال ہے جس میں لوگوں کو پھنسا کر باہمی جھگڑوں کے وقت قوم و وطن اور زبان و رنگ وغیرہ کو تعاون و تناصر کی بنیاد بنا دیتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تعاون و تناصر کا اسلامی معیار حق و انصاف سب کے ذہنوں سے اوجھل ہوجاتا ہے، صرف برادری اور قومیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا اصول بن جاتا ہے، اس طرح وہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے بھڑا دیتا ہے، اس واقعہ میں بھی کچھ ایسی ہی صورت بن رہی تھی، مگر رسول اللہ ﷺ نے فوراً موقع پر پہنچ کر اس فتنہ کو ختم کردیا اور بتلایا کہ یہ جاہلیت و کفر کا بدبودار نعرہ ہے، اس سے بچو اور پھر سب کو قرآنی اصول تعاون پر قائم کردیا جس میں ارشاد ہے تعاونوا علے البر والتقوی ولا تعاونوا علی الا ثم و العدوان، یعنی مسلمانوں کے لئے کسی کی مدد کرنے یا مدد حاصل کرنے کا معیار یہ ہونا چاہئے کہ جو شخص عدل و انصاف اور نیکی پر ہے اس کی مدد کرو، اگرچہ وہ نسب و خاندان اور زبان و وطن میں تم سے الگ ہو اور جو شخص کسی گناہ اور ظلم پر ہو اس کی ہرگز مدد نہ کرو اگرچہ وہ تمہارا باپ اور بھائی ہی ہو، یہی وہ معقول اور منصفانہ بنیاد ہے جس کو اسلام نے قائم فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے ہر قدم پر اس کو خود رعایت فرمائے اور سب کو اس کے تابع رہنے کی تلقین فرمائی اور اپنے آخری خطبہ حجہ الوداع میں اعلان فرمایا کہ جاہلیت کی سب رسمیں میرے قدموں کے نیچے مسل دی گئی ہیں، اب عربی، عجمی، کالے گورے ملکی غیر ملکی کے امتیازات کے بت ٹوٹ چکے ہیں، باہمی تعاون و تناصر کی اسلامی بنیاد صرف حق و انصاف ہے، سب کو اس کے تابع چلنا ہے۔ اس واقعہ نے ہمیں یہ بھی سبق دیا ہے کہ دشمنان اسلام آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا شیرازہ منتشر کرنے کے لئے یہی برادری اور وطنی قومیت کا حربہ استعمال کرتے ہیں جب اور جس وقت موقع مل جاتا ہے اسی سے کام لے کر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتے ہیں۔ افسوس ہے کہ زمانہ دراز سے پھر مسلمان اپنے اس سبق کو بھول گئے اور اغیار نے مسلمانوں کی اسلامی وحدت کے ٹکڑے کرنے میں پھر وہی شیطانی جال پھیلا دیا اور دین و اصول دین سے غفلت کی بنا پر عام دنیا کے مسلمان اس جال میں پھنس کر باہمی خانہ جنگیوں کے شکار ہوگئے اور کفر و الحاد کے مقابلہ کے لئے ان کی متحدہ قوت پاش پاش ہوگئی، صرف عربی و عجمی ہی نہیں عربوں میں مصری، شامی حجازی، یمنی ایک دوسرے سے متحد نہ رہے، ہندوستان اور پاکستان میں پنجابی، بنگالی، سندھی، ہندی، پٹھان اور بلوچی باہم آویزش کے شکار ہوگئے، فالی اللہ المثتکی، دشمنان اسلام ہماری آویزش سے کھیل رہے ہیں اس کے نتیجہ میں وہ ہر میدان میں ہم پر غالب آتے جاتے ہیں اور ہم ہر جگہ شکست خوردہ غلامانہ ذہنیت میں مبتلا انہی کی پناہ لینے پر مجبور نظر آتے ہیں، کاش ! آج بھی مسلمان اپنے قرآنی اصول اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات پر غور کریں، غیروں کے سہارے جینے کے بجائے خود اسلامی برادری کو مضبوط بنالیں، رنگ و نسل اور زبان و وطن کے بتوں کو پھر ایک دفعہ توڑ ڈالیں تو آج بھی خدا تعالیٰ کی نصرت و امداد کا مشاہدہ کھلی آنکھوں ہونے لگے۔ صحابہ کرام کی اسلامی اصول پر بینظیر ثابت قدمی اور مقام بلند اس واقعہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگرچہ وقتی طور پر شیطان نے کچھ لوگوں کو نعرہ جاہلیت میں مبتلا کردیا تھا مگر درحقیقت سب کے دلوں میں ایمان رچابس ہوا تھا، ذراسی تنبیہ پر سب ان خیالات سے تائب ہوگئے اور ان کے دلوں پر اللہ اور رسول کی محبت و عظمت کا ایسا غلبہ تھا جس میں کوئی رشتہ ناطہ برادری اور قومیت حائل نہ ہوئی، اس کی شہادت خود اسی واقعہ میں اول زید بن ارقم کے بیان سے واضح ہوئی کہ وہ خود بھی قبیلہ خزرج کے آدمی ہیں، اوز ابن ابی اس قبیلہ کا سردار تھا اور زید بن ارقم بھی اس کی عزت و عظمت کے قائل تھے لیکن جس وقت اس کی زبان سے مومنین مہاجرین اور خود رسول اللہ ﷺ کے خلاف الفاظ سنے تو برداشت نہ کرے سکے، اسی مجلس میں ابن ابی کو منہ توڑ جواب دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے سامنے شکایت پیش کردی اگر آج کل کی برادری پرستی ہوتی تو اپنی برادری کے سردار کی یہ بات وہ کبھی حضور رسول اللہ ﷺ تک نہ پہنچاتے۔ اس واقعہ میں خود ابن ابی کے صاحبزادے عبداللہ کے واقعہ نے اس کو کس قدر روشن کردیا کہ ان کی محبت و عظمت کا اصل تعلق صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے تھا، جب اپنے باپ سے ان کے خلاف بات سنی تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر خود اپنے باپ کا سر قلم کرنے کی پیشکش کردی اور اجازت طلب کی، آپ نے اس سے روک دیا، تو مدینہ کے قریب پہنچ کر باپ کی سواری کو بٹھا دیا اور مدینہ جانے کا راستہ روک کر باپ کو مجبور کیا کہ وہ یہ اقرار کرے کہ عزت دار صرف رسول اللہ ﷺ ہیں وہ خود ذلیل و خوار ہے، پھر آپ کی اجازت ملنے سے پہلے باپ کا راستہ نہیں کھولا، جس کو دیکھ کر بےساختہ زبان پر آتا ہے۔ تو نخل خوش ثمر کیستی کہ سرو وسمن ہمہ زخویش برید ندد باتو پیو ستند اس کے علاوہ بدر واحد اور احزاب کی جنگوں نے تو بذریعہ تلوار اس قوم پرستی اور وطن پرستی کے بت کے ٹکڑے اڑائے ہیں، جس نے ثابت کردیا کہ مسلمان کسی قوم و وطن اور کسی رنگ و زبان کا ہو وہ سب آپس میں بھائی بھائی ہیں اور جو اللہ و رسول کو نہ مانے وہ اگرچہ حقیقی بھائی اور باپ ہی کیوں نہ ہو وہ دشمن ہے۔ ہزار خویش کہ بیگانہ خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کا شنا باشد مسلمانوں کے مصالح عامہ کی رعایت اور ان کو غلط فہمی سے بچانے کا اہتمام اس واقعہ نے ہمیں ایک سبق یہ دیا کہ جو کام فی نفسہ جائز و درست ہو مگر اس کے کرنے سے کوئی یہ خطرہ ہو کہ کسی مسلمان کو خود غلط فہمی پیدا ہوگی یا دشمنوں کو غلط فہمی پھیلانے کا موقع ملے گا تو یہ کام نہ کیا جائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے رئیس المنافقین ابن ابی کا نفاق کھل جانے کے بعد بھی فاروق اعظم کے اس مشورہ کو قبول نہیں فرمایا کہ اس کو قتل کیا جائے، کیونکہ اس میں خطرہ یہ تھا کہ دشمنوں کو عام لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیلانے کا موقع مل جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو بھی قتل کردیتے ہیں۔ مگر دوسری روایات سے یہ ثابت ہے کہ غلط فہمی کے خطرہ سے ایسے کاموں کو چھوڑا جاسکتا ہے جو مقاصد شرعیہ میں سے نہ ہوں گو مستحب اور کار ثواب ہوں، کسی مقصد شرعی کو ایسے خطرہ سے ترک نہیں کیا جاسکتا بلکہ خطرہ کے ازالہ کی فکر کی جائے گی اور اس کام کو کیا جائے گا۔
Ayahs 63:5–6

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب کہئے ان کو آؤ معاف کرا دے تم کو رسول اللہ کا مٹکائے ہیں اپنے سر اور تو دیکھے کہ وہ روکتے ہیں اور وہ غرور کرتے ہیں

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

برابر ہے ان پر تو معافی چاہے ان کی یا نہ معافی چاہئے ہرگز نہ معاف کرے گا ان کو اللہ بیشک اللہ راہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو

سورت کا تر جمہ اور خلاصہ تفسیر اوپر لکھا جا چکا ہے، اب اس کے خاص خاص جملوں کو مزید توضیح دیکھئے۔ (آیت) وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ الاٰیة، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین جس کے معاملہ میں یہ سورت نازل ہوئی ہے جس میں اس کی قسموں کا جھوٹا ہونا واضح کردیا گیا تو لوگوں نے اس کو از راہ خیر خواہی یہ کہا کہ تجھے معلوم ہے کہ تیرے بارے میں قرآن میں کیا نازل ہوا ہے، اب بھی وقت نہیں گیا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجا (اور اعتراف جرم کرلے) تو رسول اللہ ﷺ تیرے لئے استغفار فرما دیں گے، اس نے جواب میں کہا کہ تم لوگوں نے مجھے کہا کہ ایمان لے آ میں نے ایمان اختیار کرلیا، پھر تم نے مجھے اپنے مال سے زکوٰة دینے کو کہا وہ دینے لگا، اب اس کے سوا کیا رہ گیا کہ میں محمد ﷺ کو سجدہ کیا کروں، اس پر آیات مذکورہ نازل ہوئیں، جن میں واضح کردیا گیا کہ جب اس کے دل میں ایمان ہی نہیں تو اس کے لئے کسی کا استغفار نافع نہیں ہوسکتا۔ ابن ابی اس واقعہ کے بعد مدینہ طیبہ پہنچ کر چند روز ہی زندہ رہا پھر جلد ہی مر گیا (مظہری)
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

وہی ہیں جو کہتے ہیں خرچ مت کرو ان پر جو پاس رہتے ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ متفرق ہوجائیں اور اللہ کے ہیں خزانے آسمانوں کے اور زمین کے لیکن منافق نہیں سمجھتے

(آیت) هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا، یہ وہی قول ہے جو جہجاہ مہاجر اور سنان انصاری کے جھگڑے کے وقت ابن ابی نے کہا تھا، جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دے دیا کہ یہ بیوقوف یوں سمجھ رہے ہیں کہ مہاجرین ہماری داد و دہش کے محتاج ہیں ہم ہی ان کو دیتے ہیں حالانکہ تمام آسمان و زمین کے خزانے تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہیں تو مہاجرین کو تمہاری کسی امداد کے بغیر سب کچھ دے سکتے ہیں، اس کا ایسا سمجھنا چونکہ بےعقلی اور بیوقوفی کی دلیل ہے اس لئے قرآن حکیم نے اس جگہ لایفقمون کا لفظ اختیار فرما کر بتلا دیا کہ ایسا خیال کرنے والا بےعقل و بےسمجھ ہیں۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے ہیں البتہ اگر ہم پھرگئے مدینہ کو تو نکال دے گا جس کا زور ہے وہاں سے کمزور لوگوں کو اور زور تو اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا اور ایمان والوں کا لیکن منافق نہیں جانتے۔

(آیت) يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ، یہ بھی اسی منافق عبداللہ ابن ابی کا قول ہے جس میں اگرچہ الفاظ صاف نہیں بولے مگر مطلب ظاہر تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اور انصار مدینہ کو عزت والا اور ان کے مقابل رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین صحابہ کو معاذ اللہ ذلیل قرار دیا اور انصار مدینہ کو اس پر بھڑکانا چاہا کہ ان کمزور اور ذلیل لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں، حق تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کی بات کو اسی پر الٹ دیا کہ اگر عزت والوں نے ذلت والوں کو نکالا تو اس کا خمیازہ تمہیں کو بھگتنا پڑے گا، کیونکہ عزت تو اللہ اور اللہ کے رسول اور مومنین کا حق ہے، مگر تم اپنی جہالت کی بنا پر اس سے بیخبر ہو، یہاں قرآن کریم نے لایعلمون کا لفظ استعمال فرمایا اور اس سے پہلے لایفقہون فرمایا تھا، وجہ فرق کی یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے آپ کو دسرے انسان کا رازق سمجھ بیٹھے تو یہ سراسر عقل کے خلاف ہے، اس کا یہ سمجھنا بیوقوفی اور بےعقلی کی علامت ہے اور عزت و ذلت و دنیا میں کبھی کسی کو کبھی کسی کو ملتی رہتی ہے، اس لئے اس میں مغالطہ ہو تو یہ واقعات سے بیخبر ی اور ناواقفی کی دلی ہے، اس لئے یہاں لایعلمون فرمایا۔
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! غافل نہ کردیں تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے اور جو کوئی یہ کام کرے تو وہی لوگ ہیں ٹوٹے میں

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور اولاد (مراد اس سے مجموعہ دنیا ہے) اللہ کی یاد (اور اطاعت) سے (مراد اس سے مجموعہ دین ہے) غافل نہ کرنے پاویں (یعنی دنیا میں ایسے مہنمک مت ہوجانا کہ دین میں خلل پڑنے لگے) وہ جو ایساکرے گا ایسے لوگ ناکام رہنے والے ہیں (کیونکہ نفع دنیوی تو خمت ہوجاوے گا اور آخرت کا ضرر اور خطارہ ممتد یا دائم رہ جاوے گا) اور (منجملہ طاعات کے ایک اطاعت مالیہ کا حکم کیا جاتا ہے کہ لاتلہکم اموا لکم کے عام مضمون میں سے ایک فرد خاص ہے یعنی) ہم نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں سے (حقوق واجبہ کو) اس سے پہلے پہلے خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آ کھڑی ہو پھر وہ (بطور تمنا و حسرت) کہنے لگے کہ اسے میرے پروردگار مجھ کو اور تھوڑے دنوں مہلت کیوں نہ دی کہ میں خیرخیرات دے لیتا اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا (اور اس کی یہ تمنا و حسرت اس لئے غیر مفید ہے کہ) اللہ تعالیٰ کسی شخص کو جبکہ اس کی میعاد (عمر کی ختم ہونے پر) آجاتی ہے ہرگز مہلت نہیں دیتا اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کی پوری خبر ہے (ویسی ہی جزاء کے مستحق ہو گے)۔ معارف و مسائل (آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُم، اس سورت کے پہلے رکوع میں منافقین کی جھوٹی قسموں اور ان کی سازشوں کا ذکر تھا اور سب کا خلاصہ دنیا کی محبت سے مغلوب ہونا تھا، اسی وجہ سے ظاہر میں اسلام کا دعویٰ کرتے تھے کہ مسلمانوں کی زد سے بھی بچیں اور اموال غنیمت وغیرہ کا حصہ بھی ملے، اسی وجہ سے ان کی یہ سازش تھی کہ مہاجرین صحابہ پر خرچ کرنا بند کر دوں، اس دوسرے رکوع میں خطاب مومنین مخلصین کو ہے جس میں ان کو اس سے ڈرایا گیا ہے کہ دنیا کی محبت میں ایسے مدہوش نہ ہوجائیں جیسے منافقین ہوگئے، دنیا کی سب سے بڑی دو چیزیں ہیں جو انسان کو اللہ سے غافل کرتی ہیں، مال اور اولاد، اس لئے ان دونوں کا نام لیا گیا، ورنہ مراد اس سے پوری متاع دنیا ہے اور حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ مال واولاد سے محبت ایک درجہ میں مذموم نہیں، ان کے ساتھ ایک درجہ تک اشتغال صرف جائز نہیں بلکہ واجب بھی ہوجاتا ہے مگر اس کی یہ حد فاصل ہر وقت سامنے رہنا چاہئے کہ یہ چیزیں انسان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہ کردیں، یہاں ذکر سے مراد بعض مفسرین نے پانچ وقت کی نماز بعض نے حج اور زکوٰة، بعض نے قرآن قرار دیا ہے، حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ ذکر سے مراد یہاں تمام طاعات و عبادات ہیں اور یہی قول سب کا جامع ہے (قرطبی) خلاصہ یہ ہے کہ اس دنیاوی معیشت کے سامان میں اس قدر مشغول رہنے کی تو اجازت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر یعنی اطاعت سے انان کو غافل نہ کر دے کہ ان کی محبت میں مبتلا ہو کر فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے لگے یا حرام اور مکر و ہات میں مبتلا ہوجائے اور جو ایسا کرے ان کے بارے میں ہے اولٓئک ہم الخسرون، یعنی یہی لوگ ہیں خسارہ میں پڑنے والے، کیونکہ انہوں نے آخرت کی عظیم اور ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں کے بدلے میں دنیا کی حقیر اور فانی نعمتوں کو اختیار کرلیا اس سے بڑا خسارہ کیا ہوگا۔
Ayahs 63:10–11

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور خرچ کرو کچھ ہمارا دیا ہوا اس سے پہلے کہ آپہنچے تم میں کسی کو موت تب کہے اے رب کیوں نہ ڈھیل دی تو نے مجھ کو ایک تھوڑی سی مدت کہ میں خیرات کرتا اور ہوجاتا نیک لوگوں میں

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور ہرگز نہ ڈھیل دے گا اللہ کسی جی کو جب آپہنچا اس کا وعدہ اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو۔

(آیت) وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ، اس آیت میں موت کے آجانے سے مراد موت کے آثار کا مشاہدہ ہے اور مراد یہ ہے کہ موت کے آثار سامنے آنے سے پہلے صحت و قوت کی حالت میں اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کر کے آخرت کے درجات حاصل کرلو، ورنہ موت کے بعد یہ مال وغیرہ تمہارے کچھ کام نہ آئے گا، اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ ذکر سے مراد تمام طاعات اور احکام شرعی کی پابندی ہے جس میں ضرورت کے مواقع پر مال خرچ کرنا بھی داخل ہے پھر یہاں صرف انفاق مال کو جدا کر کے بیان کرنے کی دو وجہ ہو سکتی ہیں، اول یہ کہ اللہ اور اس کے احکام کی تعمیل سے انسان کو غفلت میں ڈالنے والی سب سے بڑی چیز مال ہی ہے، اس لئے جن چیزوں میں مال خرچ کرنا ہوتا ہے جیسے زکوٰة، عشر، حج وغیرہ ان کو مستقلاً بیان کردیا، دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ موت کے آثار کا مشاہدہ ہونے کے وقت یہ تو نہ کسی کے بس میں ہے نہ کسی کو اس کا تصور ہوسکتا ہے کہ اس وقت قضاء شدہ نمازیں ادا کروں یا فوت شدہ حج فرض ادا کروں یا رمضان کے فوت شدہ روزے رکھوں مگر مال سامنے ہوتا ہے اور یہ یقین ہو ہی جاتا ہے کہ اب یہ مال میرے ہاتھ سے چلا، تو اس وقت بھی تمنا ہو سکتی ہے کہ جلد سے جلد مال کو خرچ کر کے مالی عبادات کی کوتاہی سے نجات حاصل کرلیں، نیز یہ کہ صدقہ تمام دوسری بلاؤں اور عذاب کے ٹلا دینے میں بھی موثر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کونسا صدقہ سب سے زیادہ اجر وثواب رکھتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسے وقت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا جب کہ انسان تندرست ہو اور اپنی آئندہ ضروریات کے پیش نظر یہ خوف بھی ہو کہ مال خرچ کر ڈالا تو کہیں بعد میں خود محتاج نہ ہوجاؤں اور فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو اس وقت تک نہ ٹلاؤ جب تک کہ روح تمہارے حلق میں آجائے اور مرنے لگو تو اس وقت کہو کہ اتنا مال فلاں کو دے دواتنا فلاں کام میں خرچ کردو۔ (آیت) فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ، حضرت ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ زکوٰة واجب تھی اور ادا نہیں کی یا حج فرض تھا اور ادا نہیں کیا وہ موت سامنے آجانے کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس کی تمنا کرے گا کہ میں پھر دنیا کی طرف لوٹ جاؤ ں، یعنی موت میں اور کچھ مہلت مل جائے تاکہ میں صدقہ و خیرات کرلوں اور فرائض سے سبکدوش ہوجاؤں وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِين، یعنی وہ مرنے کے وقت یہ بھی تمنا کرے گا کہ کچھ مہلت مل جائے تو ایسے اعمال کرلوں جن کی وجہ سے صالحین میں داخل ہوجاؤں یعنی جو فرائض و واجبات چھوٹے ہیں ان کو قضا کرلوں، جن محرمات و مکروہات میں مبتلا ہوا ہوں ان سے توبہ و استغفار کر کے بیباق ہوجاؤں، مگر حق تعالیٰ نے اگلی آیت میں بتلا دیا کہ موت کے آجانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں جی جاتی یہ تمنائیں لغو و فضول ہیں۔ تمت بحمد اللہ تعالیٰ سورة المنافقون قبل صلوٰة الجمعتہ للثالث عشر من جمادی الثانیتہ س 1391 ھ