Ayah 63:1یہ رسول اللہ کے پاس آتے تھے۔ آپ کے سامنے یہ لوگ آپ کی رسالت پر ایمان کی شہادت دیتے تھے ، لیکن دل سے یہ شہادت نہ ہوتی۔ بطور تقیہ یہ شہادت دیتے ، تاکہ ان کی حقیقت مسلمانوں سے چھپ جائے ، لیکن درحقیقت یہ جھوٹی شہادت دے رہے تھے۔ محض دھوکے کے لئے آتے۔ یہ اس کے ذریعہ اپنے آپ کو چھپاتے۔ چناچہ اللہ فرماتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ لیکن اس موقعہ پر اللہ حضور کی رسالت کی تصدیق خود فرماتا ہے اور منافقین کی جھوٹ کی شہادت دیتا ہے۔
واللہ ................ لرسولہ (36 : 1) ” اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو “۔ اور واللہ .................... لکذبون (36 : 1) ” اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں “۔
یہاں انداز تعبیر میں نہایت احتیاط ملحوظ رکھی گئی ہے۔ منافقین کے قول کی تکذیب سے پہلے رسالت محمدی کی تصدیق فرماتا ہے۔ اگر یوں نہ ہوتا تو صرف یہ بات آتی کہ منافقین کی شہادت جھوٹی ہے۔ اور شہادت تو رسالت سے متعلق فرماتا ہے۔ اور قرآن کا مقصد یہ نہ تھا۔” ان کی شہادت سچی ہے لیکن وہ اپنی شہادت میں جھوٹے ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ شہادت سچی ہے لیکن وہ اقرار رسالت میں جھوٹے ہیں۔ ضمیر کے مطابق شہادت نہیں دے رہے۔
Ayah 63:2اتخذو ................ جنة (36 : 2) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایمان کے بارے میں جب ذرا بھی شبہ پیدا ہوتا تو وہ قسمیں اٹھانا شروع کردیتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب معلوم ہوتا کہ انہوں نے فلاں فلاں سازش میں حصہ لیا۔ یا جب ان کی کوئی تنقید مسلمانوں تک پہنچ جاتی۔ جب بھی ان کی کوئی ایسی بات کھلتی وہ قسمیں شروع کردیتے۔ یوں وہ اپنی صفائی بیان کردیتے۔ اور اس ڈھال کے پیچھے اپنے آپ کو بچا لیتے ، تاکہ آئندہ وہ اپنی سازشیں اور خفیہ تدابیر جاری رکھ سکیں اور ان میں جو بیوقوف تھے ان کو مزید دھوکہ دے سکیں۔
فصدوا ................ اللہ (36 : 2) ” اس طرح وہ اللہ کے راستے سے رکتے اور روکتے ہیں “۔ یعنی خود اپنے نفوس کو بھی روکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ اور سچائی کے ساتھ یقین نہیں کرتے۔ اور اس سلسلے میں جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔
انھم .................... یعملون (36 : 2) ” یعنی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ آخر جھوٹ ، فریب اور گمراہ کرنے سے بڑھ کر اور کیا برائی ہوگی۔
Ayah 63:3سوال یہ ہے کہ یہ لوگ یہ کام کرتے ہیں ؟ جھوٹی شہادت ، جھوٹی قسمیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا عمل نامشکور کیوں کرتے ہیں ؟ یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا ہے۔ یعنی اسلام کو اچھی طرح جاننے اور دیکھنے کے بعد انہوں نے کفر پر چلنے کا ارادہ کرلیا ہے۔
ذلک بانھم ................ یفقھون (36 : 3) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا ، اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے “۔
انہوں نے اسلام کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ لیکن اعلان کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کوئی سمجھ دار ، باذوق اور زندہ دل انسان یہ نہیں کرسکتا ایمان لانے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جائے۔ کون ایسا ہوسکتا ہے جو ذوق رکھتا ہو ، معرفت رکھتا ہو۔ جو اس کائنات کے ایمانی تصور سے واقف ہو ، جس نے ایمانی زندگی کا مزہ چکھا ہو ، اور ایمان کی پاکیزہ فضا میں زندگی بسر کی ہو ، ایمان کی روشنی میں سیدھی راہ چلاہو ، جو ایمان کے سایوں میں رہاہو ، اور پھر وہ کفر کی سیاہ رات اور کفر کی گرم اور جھلسادینے والی فضاﺅں میں جانا پسند کرے۔ یہ حرکت وہی شخص کرسکتا ہے جس کا ذوق نہ ہو ، جس کا دل حسد سے بھرا ہوا ہو۔ جس کے اندر کوئی احساس و شعور نہ ہو اور جو سیاہ سفید میں تمیز نہ کرسکتا ہو۔
فطبع ................ یفقھون (36 : 3) ” اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے “۔
اس کے بعد ان کی ایک نہایت منفرد تصویر پیش کی جاتی ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر حقارت ، نفرت پر بےاختیار ہنسی آتی ہے کہ یہ عجیب کندہ ناتراش ہیں۔ اندھے اور بہرے ہیں۔ بےعقل ، خالی الدماغ ، اندھے ، بزدل ، سخت بخیل اور حاسد بلکہ وہ کندہ ناتراش کی طرح ایک دیوار کے ساتھ چنے ہوئے ہیں۔
Ayah 63:4واذا ........................ یوفکون (36 : 4) ” انہیں دیکھو تو ان کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے ہو مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیئے گئے ہوں۔ ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکے دشمن ہیں ، ان سے بچ کر رہو ، اللہ کی مار ان پر ، یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔
یہ اس طرح ہیں جس طرح مضحکہ خیز حثے ہوتے ہیں۔ انسان معلوم ہی نہیں ہوتے۔ جب یہ خاموش ہوتے ہیں تو کندہ ناتراش نظر آتے ہیں اور جب یہ بولتے ہیں تو ان کے الفاظ ہر قسم کے مفہوم ، احساس ، اثر یا حقیقت سے خالی ہوتے ہیں ، تم ان کی بات سنتے ہو ، یوں نظر آتے ہیں کہ گویا لکڑیاں ہیں جن کو دیوار کے سہارے سے کھڑا کردیا گیا ہے (یعنی یہ بےجان ہیں اور ماسوائے آواز کے ان میں زندگی کی کوئی علامت نہیں) ۔
ایک طرف تو وہ ایسے جامد ، نافہم اور بےروح ہیں اور دوسری طرف سے یہ اسی قدر چوکنے ہیں اور ڈرپوک ہیں اور ہر وقت کانپتے ہی رہتے ہیں اور انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں راز فاش نہ ہوجائے۔
یحسبون .................... علیھم (36 : 4) ” ہر زور کی آواز یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں “۔ ان کو تو علم ہے کہ وہ منافق ہیں۔ اور ان کے اوپر نفاق کا مہین پردہ پڑا ہوا ہے ، جو چالاکی ، قسموں اور احتیاطوں کی وجہ سے ابھی تک فاش نہیں ہوا۔ ہر وقت وہ سہمے رہتے ہیں کہ یہ پردہ چاک ہی نہ ہوجائے اور راز فاش ہی نہ ہوجائے ۔ تصویر ایسی کھینچی گئی ہے کہ ہر وقت ادھر ادھر دیکھتے رہتے ہیں۔ ہر حرکت ، ہر آواز اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر حرکت ان پر دار ہے ، اور ہر آواز ان کی پکار ہے۔ یہ عجیب تصویر ہے ان کی اگر معاملہ فہم وادراک کا ہو ، تو وہ لکڑی کے بت ہیں۔ کوئی سمجھ ، کوئی روح ، کوئی شعور اور ایمان کا اثر ان پر نہیں ہے۔ اور اگر معاملہ ثابت قدمی اور خوف کا ہو تو وہ اس باریک ٹہنی کی طرح ہیں جو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ جھلکتی رہتی ہے۔ ہر وقت کپکپاتی رہتی ہے۔ اور اپنی ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ وہ رسول اللہ کے دشمن نمبر ایک ہیں۔
ھم العدو فاحذرھم (36 : 4) ” یہ پکے دشمن ہیں ان سے بچ کر رہو “۔ یہ اسلامی محاذ کے اندر گھسے ہوئے خفیہ دشمن ہیں۔ اسلامی صفوں کے اندر ہیں ، اس لئے یہ خارجی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔
فاحذرھم (36 : 4) ” ان سے بچ کر رہو “۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود حضور اکرم ﷺ کو حکم نہیں دیا گیا کہ ان کو قتل کرو ، ان کو دوسرے انداز سے پکڑنا مطلوب تھا۔ اور اس میں حکمت ، یقین ، رواداری کے ساتھ ان کی سازشوں سے بچنا مطلوب تھا۔ (اس کا ایک نمونہ ابھی آرہا ہے)
قتلھم ................ یوفکون (36 : 4) ” اللہ کی مار ان پر یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔ یہ جہاں بھی جائیں اللہ ہی ان کے ساتھ جنگ کرنے والا ہے۔ اور اللہ جس کے خلاف دعا کرے ، تو یہ حکم تصور ہوتا ہے کہ گویا فیصلہ ہوگیا کہ یہ ختم ہوگئے ، قتل ہوگئے۔ اور یہی ہوا پہلے مدینہ اور پھر جزیرة العرب میں۔
مزید بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی اندرونی حالت کیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف خفیہ طور پر کیا سازشیں کرتے ہیں اور آپ کے سامنے کس طرح جھوٹ بولتے ہیں ان کی اہم صفات یہ ہیں :
Ayah 63:5سلف صالحین میں بیشمار لوگوں کی رائے یہ ہے کہ یہ آیات عبدالہل ابن ابی ابن سلول کے بارے میں ہیں۔ علامہ ابن اسحاق نے غزوہ بنی الصطلق کے ذیل میں اس کی تفصیلات دی ہیں۔ یہ کو اقعہ بنی المصطلق کے پانی کے چشمے المریسیع پر سن 6 ہجری میں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پانی پر نزول فرمایا تھا ، غزوہ کے واقعات کے بعد واقعہ یوں ہوا کہ لوگ پانی بھرنے کے لئے اس پانی پر جمع ہوگئے۔ حضرت عمر ؓ کے ساتھ ایک شخص ملازم تھا جو بنی غفار قبیلے کا تھا اور اس کا نام جبجا ابن مسعود تھا۔ یہ آپ کے گھوڑے کو چلاتا تھا۔ یہ جبجا اور ایک دوسرے شخص سنان ابن وبر الجہنی بنی عون ابن الخزرج کا حلیف ایک دوسرے سے آگے ہونے کی وجہ سے پانی پر لڑ پڑے۔ جہنی نے آواز دی ” اے قوم انصار “۔ اور جبجاہ نے آواز دی ” اے مہاجرین “۔ اس پر عبداللہ ابن ابی ابن سلول سخت غصے میں آگیا۔ اس وقت اس کی قوم کے کچھ لوگ اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں حضرت زید بن رقم ایک نوجوان لڑکے بھی تھے۔ عبداللہ ابن ابی ابن سلول نے کہا اچھا ، یہاں تک بات پہنچ گئی ، اب یہ لوگ ہمارے علاقے میں زیادہ ہوکر ہمیں یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ خدا کی قسم قریش کے ان گرے پڑے لوگوں اور ہماری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کہا : کتے کو پالو کہ وہ تمہیں کاٹے ، خدا کی قسم اگر ہم مدینہ گئے تو ہم میں سے جو زیادہ عزت دار ہوگا وہ ذلیل کو نکال دے گا۔ اس کے بعد اس نے حاضرین مجلس سے خطاب کرکے کہا۔ یہ تو کام تو تم نے اپنے ساتھ خود کیا ہے ۔ تم نے ان کو اپنے علاقے میں آنے دیا۔ تم نے ان کے ساتھ اپنے مال تقسیم کیے۔ خدا کی قسم اگر تم نے ان سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے ہوتے تو وہ دوسرے علاقوں کا رخ کرتے۔ یہ باتیں زید ابن ارقم نے سن لیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور یہ پوری باتیں آپ کو سنائیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ رسول اللہ اپنے دشمنوں سے فارغ ہوگئے تھے۔ جب حضور کے سامنے یہ بات کی گئی تو حضرت عمر ؓ موجود تھے۔ تو حضرت عمر ؓ نے کہا حضور عبادا بن بشر کو حکم دیں کہ اسے قتل کردے۔ اس پر حضور نے فرمایا : ” عمر اس پر تو لوگ یہ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرنے لگا ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا البتہ فوراً کوچ کا اعلان کردو “۔ یہ ایسا وقت تھا کہ اس میں رسول اللہ کبھی سفر نہ فرماتے تھے۔ لوگ نکل پڑے۔ عبداللہ ابن ابی ابن سلول حضور اکرم کے پاس گیا۔ یہ اس وقت جب اسے معلوم ہوگیا کہ زید ابن ارقم نے پوری بات حضور اکرم ﷺ تک پہنچا دی ہے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ نہ میں نے یہ بات کی ہے اور نہ اس بارے میں کوئی لفظ کہا ہے۔ یہ عبداللہ ابن ابی اپنی قوم میں بڑا معزز اور ذی مرتبہ تھا۔ اس کے ساتھ جو صحابہ کرام انصار سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا رسول خدا ممکن ہے یہ لڑکا بات کو پوری طرح نہ سمجھا ہو ، یا وہم سے اس نے ایک بات سے کچھ اور سمجھا ہو۔ اور بات اسے پوری طرح یاد نہ رہی ہو۔ یہ لوگ عبداللہ ابن ابی ابن سلول پہ مہربان تھے اور اس کے طرفدار تھے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضور نے کوچ کیا اور چل پڑے تو اسید ابن حضیر آئے اور رسول اللہ ﷺ کو نبوت کا سلام کیا ، اور پھر کہا اللہ کے نبی آپ تو ایک ایسے وقت میں کوچ کررہے ہیں جو ایک نیاوقت ہے۔ ایسے اوقات میں آپ نے کبھی کوچ کا حکم نہیں دیا۔ رسول اللہ نے فرمایا کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے ساتھی نے کیا کہا۔ تو انہوں نے کہا ” حضور وہ کون ساتھی ہے تو آپ نے فرمایا (عبداللہ ابن ابی) ۔ تو انہوں نے کہا اس نے کیا کہا ہے ؟ تو حضور نے فرمایا کہ ” اس کا خیال ہے کہ جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت دار آدمی ذلیل لوگوں کو نکال دے “۔ تو انہوں نے کہا رسول اللہ تو پھر آپ اسے مدینہ سے نکال دیں گے۔ اگر آپ چاہیں گے۔ خدا کی قسم وہ ذلیل ہے اور آپ معزز ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ رسول اللہ اس کے ساتھ نرمی فرمائیں ، خدا کی قسم اللہ نے آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے اور اس کی قوم اس کے لئے موتی تلاش کررہی تھی کہ ان سے تاج بنا کر اسے پہنا دے۔ اس کا خیال یہ ہے کہ آپ نے اس سے ایک مملکت چھین لی ہے۔
اس کے بعد حضور اس دن پورا دن لوگوں کو لے کر چلے ، شام ہوگئی ، پھر ساری رات چلے کہ صبح ہوگئی ، اور دوسرے دن بھی سورج نکل آیا اور وہ ان کو اذیت دینے لگا۔ اس کے بعد حضور نے حکم دیا کہ پڑاﺅ کرو ۔ جونہی لوگ اتر کر زمین پر پڑے سوگئے اور حضور نے یہ کام اس لئے کیا کہ لوگوں کو کل کی بات پر کوئی چہ میگوئی کرنے کا موقعہ ہی نہ ملے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں اس وقت سورة منافقون نازل ہوئی۔ یہ ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی اور ان لوگوں کے بارے میں جو اس جیسے تھے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو حضور نے زید ابن ارقم کو کان سے پکڑا۔” یہ شخص ہے جس نے اللہ کے لئے اپنے کانوں سے کام کیا “۔ اور عبداللہ ابن عبداللہ ابن ابی ابن سلول کو پتہ چل گیا کہ اس کے والد نے کیا کیا ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے عاصم ابن عمر ابن قتادہ نے بتایا کہ یہ عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ یارسول اللہ ﷺ ........ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ میرے والد عبداللہ ابن ابی کو قتل کرنا چاہتے ہیں ؟ اگر آپ لازماً یہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ مجھے حکم دیں میں اس کا سر لاکر حاضر کردوں گا۔ کیونکہ خزرج کو معلوم ہے کہ اپنے والد کے ساتھ اچھا برتاﺅ کرنے والا میرے مقابلے میں کوئی نہیں ہے۔ مجھے یہ خطرہ ہے کہ آپ کسی اور کو حکم دیں گے وہ میرے والد کو قتل کردے۔ میرا نفس مجھے اجازت نہ دے گا کہ عبداللہ ابن ابی کا قاتل مدینہ میں لوگوں کے اندر پھرے اور میں مجبور ہوجاﺅں کہ ایک کافر کے بدلے مومن کو قتل کردوں اور ہمیشہ کے لئے جہنمی ہوجاﺅں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” نہیں ہم اس کے ساتھ نرمی کریں گے اور اس کی ملاقات بھی اچھے طریقے سے کریں گے جب تک وہ ہمارے اندر زندہ ہے “۔
اس کا اثر یہ ہوا کہ اس کے بعد جب بھی وہ کوئی ایسی حرکت کرتا ، اس کی قوم اس پر اس کی سخت گرفت کرتی۔ اسے پکڑتے اور اس کے ساتھ لوگ سختی کرتے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے کہا۔ حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ اس کی قوم اس سے نفرت کرنے لگی ہے۔ ” عمر ؓ تمہاری اب کیا رائے ہے ؟ کہ جس دن تم نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں اسے قتل کردوں ، اگر میں اسے اس دن قتل کردیتا تو اس کی وجہ سے شورش پیدا ہوجاتی اور آج اگر میں خود اس کے قبیلے کو حکم دوں تو وہ اسے قتل کردیں “۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : خدا کی قسم مجھے اب معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی رائے میری رائے سے بہت زیادہ برکت والی ہے۔
عکرمہ اور ابن زید وغیرہ نے ذکر فرمایا ہے کہ لوگ جب واپس مدینہ پہنچے تو حضرت عبداللہ ابن عبداللہ ابن ابی ابن السلول ؓ مدینہ کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے تلوار نکال لی ، لوگ اس کے پاس سے گزرتے رہے ، جب اس کے والد رئیس المنافقین آئے تو انہوں نے باپ سے کہا : ” پیچھے کھڑے ہوجاﺅ“۔ خدا کی قسم ، تم اس جگہ سے ادھر نہیں آسکتے۔ جب تک رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دے دیں۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ معزز ہیں۔ اور تم ذلیل ہو ، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ اس وقت قافلے کے ” ساقہ “ کے طور پر آرہے تھے (ساقہ قافلے کے پیچھے چلنے والا افسر جو دیکھے کہ کسی نے راہ گم کردیا ہو یا کوئی ضرورت مند ہوگیا ہو) تو رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی ابن سلول نے حضور ﷺ سے اپنے بیٹے کی شکایت کی تو عبداللہ ؓ نے کہا حضور یہ اس وقت تک شہر کے اندر نہیں جاسکتا جب تک آپ اجازت نہ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اجازت دی۔ اور بیٹے سے کہا : اب جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اجازت دے دی ہے تو آپ جاسکتے ہیں “۔
یہاں آکر ہم کبھی ان واقعات کو دیکھتے ہیں ، کبھی صحابہ کرام کو دیکھتے ہیں اور کبھی نصوص قرآنی کو دیکھتے ہیں ، یوں ہم نبی ﷺ کی سیرت ، اللہ تعالیٰ کے نظام تربیت اور اللہ کے دست قدرت اور نظام قضا وقدر کو دیکھتے ہیں۔ تو حیران رہ جاتے ہیں .... مسلمانوں کی صفوں کے اندر منافقین نہایت دور تک گھسے ہوئے ہیں۔ یہ منایق تقریباً دس سال سے یہاں رہ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ ان کو چن کر اپنی صفوں سے نکالتے نہیں ہیں اور ان منافقین کے ناموں اور اشخاص کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو صرف اپنی وفات سے چندایام قبل ہی اطلاع دیتا ہے۔ اگرچہ حضور ﷺ ان کی چاپلوسی ، چالاکی اور عیاری کی وجہ سے انہیں خوب جانتے تھے۔ اسی طرح دوسری علامات کی وجہ سے بھی کہ جب کوئی بات ہوتی ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا تھا۔ اور اللہ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ اللہ کسی شخص کے دل کو کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں دیتا۔ دلوں کا مالک صرف اللہ ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو دلوں کے بھیدوں پر محاسبہ کرسکتا ہے۔ لوگوں کا تعلق لوگوں کے ساتھ ظاہری اقرار اور حالات پر ہوگا۔ اور محض شک کی بنا پر کسی کو پکڑا نہ جائے گا بلکہ شک کی بنا پر چھوڑا جائے گا۔ محض عقل کی بنیاد پر کسی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ جب اللہ نے رسول کو اطلاع دے دی کہ آخر تک بعض لوگ نفاق پر قائم ہیں اور نام بھی بتادیئے تب بھی حضور ﷺ نے ان کو جماعت سے نہ نکالا۔ جب تک کہ وہ اسلام کا اقرار کرتے اور اسلامی فرائض وواجبات ادا کرتے رہے اور حضور ﷺ نے صرف حذیفہ ابن الیمان ؓ کو اطلاع دی تھی اور انہوں نے مسلمانوں کے اندر اس راز کو نہیں پھیلایا۔ یہاں تک کہ حضرت ابن عمر ؓ حضرت عذیفہ کے پاس آتے تھے اور اپنے بارے میں ان سے اطمینان حاصل کرتے کہ بتاﺅ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تو منافقین میں شمار نہیں کیا۔ تو حضرت حذیفہ فرماتے ، عمر ؓ تم ان میں سے نہیں ہو اور اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے اور رسول اللہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ان میں سے اگر کوئی مرجائے تو اس کا نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔ جب ان میں سے کوئی مرجاتا تو رسول اللہ ﷺ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھاتے۔ یوں معلوم ہوجاتا کہ یہ منافق ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے تو حضرت حذیفہ ؓ ان لوگوں کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوتے تھے۔ اور حضرت عمر ؓ کسی نماز جنازہ میں نہ جاتے تھے ، جن میں حضرت حذیفہ نہ گئے ہوں۔ جب وہ دیکھتے کہ حضرت حذیفہ موجود ہیں تو معلوم کرلیتے کہ منافقین میں سے نہیں ہے۔ اور اگر حذیفہ نہ ہوتے تو حضرت عمر ؓ نماز نہ پڑھتے لیکن منہ سے کچھ نہ کہتے۔
اس طرح یہ واقعات آگے بڑھتے رہے ، اللہ کی تقدیر اور حکمت کے مطابق۔ اللہ کی مقرر کردہ حکمتوں اور مقاصد کے حصول کے لئے تربیت ، عبرت اور اخلاقی اور تنظیمی تربیت کی خاطر .... یہ واقعہ جس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ، اس کے اندر کس قدر عبرتیں ہیں ؟
ذرا عبداللہ ابن ابی ابن سلول کو دیکھیں۔ یہ مسلمانوں کے اندر رہ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے قریب رہتا ہے ۔ اس دین کی حقانیت کے واقعات و احادیث اور نشانات و علامات اس کے ماحول میں ، اس کے سامنے پے درپے ظاہرہو رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسے توفیق ایمان نہیں دے رہا ہے۔ کیونکہ اللہ کے نظام قضا وقدر میں اس طرح لکھا ہی نہ گیا تھا۔ اثر آفرینی اور ضوپاشی کا یہ سیلاب اس تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوا ، اس لئے کہ اس کے دل میں اس دین کی دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ یوں کہ وہ اوس اور خزرج کا بادشاہ نہ بن سکا۔ اس نے یہ کھیل تیار کرلیا تھا ، مگر اسلام اور حضور اکرم ﷺ جب مدینہ میں داخل ہوئے تو یہ کھیل خراب ہوگیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے ہدایت قبول نہ کی۔ حالانکہ ہدایت کے دلائل ہر طرف سے آرہے تھے۔ اور اسلام میں ہر طرف وسعت ہورہی تھی۔
لیکن دوسری طرف ان کے بیٹے ہیں ، ان کا نام بھی حضرت عبداللہ ؓ ہے۔ یہ ایک مسلم اور مخلص مسلم کا بلندترین نمونہ ہیں۔ یہ باپ ان کے لئے مصیبت ہے ، یہ باپ کے کارناموں سے تنگ آچکے ہیں۔ باپ جو موقف اختیار کرتا ہے ، وہ ان کے لئے شرمندگی کا سبب ہے۔ لیکن باپ جو بھی کرے وہ اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے سعادت مند بیٹے ہیں۔ یہ سنتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تو شاید اس شخص کو اب قتل ہی کرادیں۔ ان کے دل میں جذبات اور رد عمل کا واضح طوفان اٹھتا ہے۔ اور ورہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان کا اظہار صاف صاف کردیتے ہیں۔ وہ اسلام سے محبت کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے مطیع فرمان بھی ہیں۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے باپ ہی کے خلاف حکم دیں تو میں تعمیل کروں گا۔ لیکن وہ اس بات کو برداشت نہیں کرتے کہ کوئی اور آگے بڑھے اور ان کے باپ کی گردن اڑادے۔ وہ زمین کے اوپر زندہ پھرے اور لوگ انہیں دیکھیں۔ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ شاید میرا نفس اس منظر کو برداشت نہ کرسکے۔ شیطان مجھے بدلہ لینے پر مجبور کردے۔ تو وہ حضور ﷺ کے سامنے اپنے یہ خلجانات پیش کرکے مسئلے کے حل کی درخواست کرتے ہیں۔ اور خود ہی تجویز پیش کرتے ہیں کہ اگر آپ نے لازماً یہ کام کرنا ہی ہے تو مجھے حکم دیں۔ میں اس کا سر آپ کے سامنے پیش کردوں گا تاکہ کوئی غیر اس کام کو نہ کرے اور میں اپنے کافر والد کے بدلے ایک مسلمان کو قتل کردوں اور جہنم رسید ہوجاﺅں۔
انسانی فکر و خیال کو جس میدان میں بھی جو لانی دی جائے ، اور جس پہلو سے بھی اس واقعہ پر نظر دوڑائی جائے اس میں حسن و جمال ہی نظر آتا ہے۔ ایک مومن کے دل میں ایمان کس قدر خوبصورت نظر آتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ تجویز رکھتا ہے کہ دنیا کا مشکل ترین کام یعنی خوداپنے باپ کے قتل کا حکم مجھے دیجئے۔ اور یہ ڈیوٹی وہ صداقت سے لے رہا ہے۔ اور نور ایمان اور حکمت ایمانی کا جمال دیکھئے کہ اس پیشکش کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو کسی حکمت سے اس سے بھی بڑی مصیبت سے بچاتا ہے۔ یہ کہ وہ انسانی جذبات سے مغلوب ہوکر ایک کافر باپ کے بدلے مومن کو قتل کردے اور وہ مومن کو جنت میں پائے اور اپنے آپ کو دوزخ میں۔ اور اسی مومن کی صداقت اور سچائی دیکھئے کہ وہ اپنی کمزوری کا بھی صاف صاف اظہار کرتا ہے اور وہ کہتا ہے ” خدا کی قسم خزرج کو معلوم ہے کہ میرے مقابلے میں والد کے بارے میں احسان کرنے والا جوان نہیں ہے “۔ چناچہ وہ حضور اکرم ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں اس مشکل سے نکالا جائے۔ یہ مومن اپنے کیس کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ نہ حکم عدولی ہوتی ہے اور نہ آپ کی دل شکنی ہوتی ہے۔ کیونکہ حکم رسول کو ماننے کے لئے وہ تیار ہیں۔ اشارے کی ضرورت ہے۔ بشرطیکہ حضور حکم دیں اور وہ والد کا سر پیش کردیں۔
رسول اللہ ﷺ معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ سچا مومن کس قدر مشکل صورت حال میں پھنس گیا ہے حضور ﷺ نہایت ہی شریفانہ انداز میں ان کی ہر مشکل دور فرمادیتے ہیں۔ بلکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں ” ہم اس کے ساتھ نرمی کریں گے اور اس کے ساتھ محفل میں اچھا سلوک کریں گے جب تک کہ وہ زندہ ہے “۔ اور اس سے قبل جب حضرت عمر ؓ نے اس کے قتل کی تجویز پیش کی تو آپ نے ان کی تجویز یہ کہہ کر رد کردی کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔
پھر اس واقعہ میں حضرت نبی ﷺ کے جو تصرفات واقدامات ہیں وہ بھی قابل ملاحظہ اور قابل تقلید ہیں۔ آپ ایک ایسے قائد کی طرح کام کرتے نظر آتے جو الہام کی روشنی میں کام کرتا ہے۔ آپ نے لشکر کو حکم دیا کہ کوچ کرو ، حالانکہ آپ کی ایسے اوقات میں کوچ کرنے کی عادت نہتھی۔ اور آپ نے اس سفر کو اس قدر طویل وقت کے لئے جاری رکھا کہ لوگ تھک کر چور ہوگئے تاکہ لوگوں کے اندر عصبیت جاہلیہ کے جذبات پھیلائے جانے کا کوئی موقعہ ہی کسی کو نہ ملے۔ کیونکہ دو افراد نے اپنی جنگ میں عصبیت کا سہارا لیا تھا۔ ایک نے کہا اے انصاریو ! ، دوسرے نے کہا اے مہاجرو ! اور پھر اس موقعہ پر رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی ابن سلول جو فتنہ انگیزی کرنا چاہتا تھا اسے بھی حضور ﷺ نے دبا دیا۔ اس کی اسکیم یہ تھی کہ مہاجرین اور انصار کے درمیان جو اخوت اور محبت ہے ، اس کو جلا کر رکھ دے۔ حالانکہ یہ اخوت و محبت کا وہ نادر نمونہ تھا جس کی مثال انسان کی ہزاروں سالوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے بعد اسید ابن حضیر کے ساتھ حضور کی گفتگو اور اس کے اندر پائی جانے والی روحانی تیاری ، جو اس فتنے کے مقابلے میں حضور فرما رہے تھے اور پھر اس فتنے کے سرغنے کو پکڑنے کا جوش جبکہ وہ اپنی قوم میں اب تک بھی بااثر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سب سے آخر میں رجل مومن عبداللہ ابن عبداللہ کا کردار نہایت ہی روشن اور خوبصورت ہے کہ وہ مدینہ کے باہر تلوار لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے باپ کو شہر کے اندر داخل نہیں ہونے دیتے ، جب تک حضور اکرم ﷺ اجازت نہ دیں۔ اور یہ ہے مظاہرہو اس بات کا کہ۔
لیخرجن ................ الاذل (36 : 8) ” اس معزز شخص ذلیل شخص کو نکال باہر کرے گا “۔ اور اس پر بھی رجل مومن نے یہ کام اس لئے کیا کہ لوگ جان لیں کہ رسول اللہ ﷺ کی عزت دار ہیں اور ان کا باپ ذلیل ہے۔ آخر کار رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے ہیں اور اس ذلیل شخص کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور سائنسی تجربہ بتا دیتا ہے کہ عزیز کون ہے اور ذلیل کون ؟ اسی واقعہ میں اور اسی وقت میں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بلند ترین چوٹی ہے جہاں تک یہ مومنین پہنچ چکے تھے۔ ایمان نے ان کو ان مقامات بلند اور مراتب بلند تک پہنچا دیا تھا لیکن وہ تھے انسان۔ ان میں بشری کمزوریاں تھیں ، ان میں جذبات تھے ، ان کے دلوں میں خلجانات آتے تھے ، یہ ہے اس دین کا نہایت ہی نمایاں وصف ، بشرطیکہ لوگ اسے اس کی حقیقت کے مطابق سمجھیں۔ اور لوگ ان لوگوں کو ایک انسان کی طرح رکھ کر سمجھیں۔ کہ یہ لوگ مکہ اور مدینہ کی سرزمین پر بطور انسان رہے ، کھانا کھاتا رہے اور بازاروں میں پھرتے رہے اور پھر بھی اس مقام تک پہنچ گئے۔
اب وہ آیات جو ان واقعات کے بارے میں نازل ہوئیں ، مناسب ہے کہ قدرے ان کے ساتھ بھی رہیں :
واذا قیل ........................ مستکبرون (36 : 5) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگو تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لئے مغفرت کی دعا کرے تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں “۔ یہ لوگ یہ فعل کرتے ہیں ، اور اس قسم کی باتیں منہ سے نکالتے ہیں ، جب ان کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ تک یہ باتیں پہنچ گئی ہیں تو پھر یہ فوراً ڈر جاتے ہیں۔ ذلیل ہوکر جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں اور ان جھوٹی قسموں کے سہارے زندہ رہ رہا ہے اور اگر وہ امن کی حالت میں ہوں ، کوئی ان سے کہے کہ آﺅ رسول اللہ سے درخواست کرو کہ تمہاری بخشش کے لئے رسول اللہ دعا کریں تو سرجھٹکتے ہیں اور نہایت ہی تکبر میں حضور کے پاس آنے سے رک جاتے ہیں۔ یہ منافقین کی دونوں باہم متضاد صفات ہیں۔ اگرچہ یہ اپنی قوم میں ، باعزت اور بامقام لوگ ہوں۔ یہ دل میں اپنے اندر سے اس قدر کھوکھلے اور ڈرپوک ہوتے ہیں کہ یہ تکبر کرتے ہیں ، اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ سر جھٹک کر پھیر دیتے ہیں ، جب ان کو خوف نہ ہو ، لیکن جب یہ خوف ہو کہ رسول اللہ کے سامنے جانا ہے تو پھر قسمیں اٹھاتے ہیں۔
چناچہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا ہے ، لہٰذا اب آپ ان کے بارے میں استغفار کریں یا نہ کریں ، استغفار کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
Ayah 63:6سواء علیھم .................... الفسقین (36 : 6) ” اے نبی ! تم چاہے ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو ، ان کے لئے یکساں ہے ، اللہ ہرگز انہیں معاف نہ کرے گا ، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا “۔
ان کے فسق وفجور کی ایک جھلک ملاحظہ ہو ، جس کی وجہ سے اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا ہے کہ انہیں ہدایت نصیب نہ ہوگی۔
Ayah 63:7ھم الذین .................... ینفضوا (36 : 7) ”” یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کرو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں “۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے کہنے والے کا خبث باطن عیاں ہے اور یہ شخص نہایت ہی ذلیل انسان ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جو اہل باطل روز اول سے اہل ایمان کے خلاف آزماتے ہیں۔ زمان ومکان کی قید کے سوا ہر جگہ اور ہر دور میں اہل باطل نے یہ نسخہ آزمایا ہے جیسا کہ اگلوں پچھلوں نے مشورہ کرکے یہ طے کردیا ہے کہ اہل دین اور اہل نظر یہ لوگوں پر رزق کے دروازے بند کردو۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ اس قدر ذلیل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ ہر بات ہر فیصلہ پیٹ کے نقطہ نظر سے کرتے ہیں۔ چناچہ اہل ایمان کے خلاف شیطان نے یہی نسخہ آزمانے کی تجویز کی۔
یہی نسخہ قریش نے بنی ہاشم کے خلاف آزمایا اور ان کو شعب بن طالب میں محصور کردیا اور راشن اور ضروریات زندگی ان پر بند کردیں تاکہ بنو ہاشم رسول اللہ کی حمایت چھوڑ دیں اور رسول اللہ کو مشرکین کے سپرد کردیں۔
اور یہی منصوبہ منافقین مدینہ کے رئیس نے پیش کیا کہ تم ان لوگوں پر انفاق بند کردو ، یہ سب بھاگ کر چلے جائیں گے۔ تنگی حالات اور بھوک و افلاس سے مجبور ہوکر۔
اور یہی نسخہ کمیونسٹوں نے اپنے علاقے میں ان اہل دین کے خلاف استعمال کیا کہ ان پر ضروریات زندگی بند کردیں تاکہ بھوک سے مرجائیں یا دین اور خدا کا انکار کریں۔ اور نماز و روزہ چھوڑ دیں۔
آج ہمارے دور میں پوری دنیا میں احیاء اسلام کی جو تحاریک چل رہی ہیں ان کے ساتھ بھی ان کے مخالفین یہی سلوک کررہے ہیں۔ ان کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں ، انہیں افلاس سے مار رہے ہیں اور ان پر ملازمتوں کے دروازے بند کررہے ہیں۔
غرض تمام دشمنان اسلام نے بالاتفاق اس ذلیل ذریعہ کو اہل ایمان کے خلاف آزمایا ہے۔ اور یہ طریقہ قدیم زمانوں سے آج تک یونہی چلا آرہا ہے۔ لیکن ان دشمنان اسلام نے اس حقیقت کو بھلایا ہے۔
وللہ خزائن ................................ لایفقھون (36 : 7) ” حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہے ، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں “۔ حالانکہ زمین و آسمان کے خزانوں ہی سے اللہ ان لوگوں کو رزق دے رہا ہے جو مسلمانوں کا رزق بند کررہے ہیں۔ کیونکہ نہ یہ لوگ خود اپنا رزق پیدا کررہے ہیں اور نہ مومنین کا رزق بند کرسکتے ہیں لیکن یہ لوگ غبی ہیں اور یہ اس واضح حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ وہ خود اپنی روزی کے مالک نہیں اور بند کرنا چاہتے ہیں دوسروں کا رزق۔
یوں اللہ تعالیٰ مومنین کو ثابت قدم اور ان کے دلوں کو مضبوط فرماتے ہیں تاکہ وہ دشمنان اسلام کے اس ذلیل منصوبے کا مقابلہ کریں۔ کیونکہ اللہ کے دشمنوں کے پاس اب اور کوئی ہتھیار نہیں رہا ہے۔ اس لئے وہ اچھے ہتھیاروں پر ائر آئے ہیں۔ اللہ ان کو مطمئن کرتا ہے کہ زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ اگرچہ دشمنوں کو بھی دیتا ہے لیکن دوستوں کو بھی نہیں بھلاتا۔ اللہ کی رحمت کا قانون یہ ہے کہ وہ دشمنوں کو بھی رزق دیتا ہے۔ کسی کو بھی بھوک سے نہیں مارتا۔ ان لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اللہ ان کا رزق کاٹ دے تو یہ لوگ کچھ بھی نہ پائیں گے۔ اس لئے اللہ اپنے بندوں کو ایسے حالات کے سپرد نہیں کرتا کہ وہ روزی سے محروم ہوجائیں۔ وہ تو بہت بڑا کریم ہے۔ کیونکہ کسی پر رزق کے دروازے بند کرنے کا کام وہ شخص ہی کرسکتا ہے جو بہت ذلیل اور پرلے درجے کا خصیں ہو۔
Ayah 63:8اور اس کے بعد ان کا یہ قول :
یقولون .................... الاذل (36 : 8) ” یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا “۔ اس سے قبل ہم بتا چکے ہیں کہ اس حقیقت کو عبداللہ ابن عبداللہ ابن ابی نے کس طرح حقیقت کرکے پیش کیا اور کس طرح ذلیل آدمی عزت دار آدمی کی اجازت سے شہر میں داخل ہوا۔
وللہ العزة ............................ لا یعلمون (36 : 8) ” حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے ، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں “۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ اور مومنین کو اپنے ساتھ ایک صف میں شامل کرکے ان کو بھی معزز بنایا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ اپنے رسول اور مومنین کو اپنے پہلو میں کھڑا کردے۔ اور کہے ” ہم ہیں معزز اور یہ ہیں ذلیل۔ اللہ نے بالکل سچ کہا ، کہ اس نے قلب مومن میں ایمان کو عزت کے مساوی قرار دیا اور مومن کو عزت حاصل ہوئی اللہ کی عزت سے ، ایسی جو نہ ہلکی ہوتی ہے ، نہ اس میں سستی آتی ہے ، نہ جھلکتی ہے ، اور نہ نرم ہوتی ہے۔ اور یہ عزت نفس انسان مومن کو بہت ہی متزلزل حالات میں بھی ، ایمان کے حوالے سے کمزور ہونے نہیں دیتی۔ اس طرح جب کسی کے دل میں ایمان اچھی طرح قرار پکڑ لیتا ہے اور پختہ ہوجاتا ہے تو اس شخص کے دل میں عزت بھی نہایت مضبوط اور جڑ پکڑ لیتی ہے۔
ولکن .................... لایعلمون (36 : 8) ” مگر منافق جانتے نہیں “۔ وہ کیا جانیں ، انہوں نے نہ تو عزت نفس کا ذوق پایا اور نہ اس کے پاس اس کا سرچشمہ ہے۔
Ayah 63:9اب اللہ تعالیٰ ان مومنین کو آخری بار پکارتا ہے ، وہ مومنین جن کے رسول کو اور خود ان کو اللہ نے اپنی عزت سے معزز بنایا ، اللہ کی طرف سے ان کی طرف اب اس سورت میں آخری ندا آتی ہے کہ وہ عزت اور شرف کے اس مقام تک بلند ہوجائیں اور منافقین کی تمام صفات اپنے اندر سے نکال دیں۔ اور مال اور اولاد سے بلند ہوکر شرف کا یہ مقام حاصل کریں ، دیکھو دنیا کا کوئی مفاد ، چاہے مال ہو یا اولاد ہو ، تمہیں روک نہ دے۔
اگر انسان کا قلب زندہ نہ ہو تو مال اور اولاد انسان کو غافل کردینے والے بن جاتے ہیں۔ یہ سامان لہو ولعب ہیں۔ قلب زندہ ہوگا تو معلوم ہوگا کہ انسان کا مقصد وجود کیا ہے۔ اسے معلوم ہوگا کہ اللہ نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی ہے۔ اس کی روح کے اندر ایک ایسا روحانی شوق پیدا کیا جو انسان کو ، انسانی طاقت کی حدود کے اندر ، صفات الٰہیہ کا عکس دیتا ہے۔ یہ مال واولاد تو دنیا کے عارضی انتظام اور دنیا میں رہنے کی حد تک ، محدود ذمہ داریاں ہیں ، جو انسان پر ڈالی گئی ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ انسان کو آخرت کی اصل باقی اور دائمی زندگی سے غافل کردیں اور انسان اللہ اور اللہ تک پہنچنے کے اعلیٰ مقصد کو بھلا ہی دے اور انسان وہ سبق بھلا دے جو عالم بالا سے اسے ملتا ہے۔ یوں وہ غافل ہوکر خسارے میں پڑجائے۔
فاولئک ھم الخسرون (36 : 9) ” جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ “ یوں ان کو پہلا خسارہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ انسانی صفات بھلا دیتے ہیں۔ کیونکہ انسان مکمل انسان تب ہی بنتا ہے کہ اسے عالم بالا سے اتصال حاصل ہو اور جو شخص انسانیت ہی گنوادے ، اس نے گویا سب کچھ گنوادیا۔ اس نے گویا اموال واولاد کو بھی گنوادیا۔
Ayah 63:10ایک ہی آیت میں انفاق کے لئے بیشمار موثر اکساہٹیں
وانفقو ................ رزقنکم (36 : 01) ” جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو “۔ یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تمہارے ہاں رزق اور وسائل رزق جو آتے ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ اس اللہ کے ہاں سے آتے ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو ، اور جو تمہیں انفاق کا حکم دیتا ہے۔
من قبل .................... الموت (36 : 01) ” قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے “۔ بس اس سے سب کچھ رہ جائے اور یہ اسکی اولاد یا دوسروں کے پاس چلا جائے۔ اور اگلے جہاں میں جب وہ تلاش کرے تو اسے آگے بھیجا ہوا کچھ نظر نہ آئے۔ یہ سب سے بڑی حماقت اور سب سے بڑا خسارہ ہے۔ پھر وہاں یہ تمنائیں کرے گا کہ اسے دوبارہ مہلت دی جائے اور وہ دوبارہ صالحین میں سے بن جائے گا۔ لیکن یہ تو محض تمنا ہی ہوگی۔
Ayah 63:11ولن یوخر ........................ تعملون (36 : 11) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے “۔ غرض ایک ہی آیت میں یہ مختلف قسم کی یاد دہانیاں ہیں۔ اور منافقین کی خصوصیات اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں کو بیان کرنے کے بعد یہ ہدایات برمحل تھیں۔ اب جبکہ مسلمان اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی صف میں اہل عزت کے ساتھ یکجا کھڑے ہیں۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے پورے کریں۔ اللہ کو یاد کریں اللہ کی قوت امن کا سرچشمہ ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قرآن کے ذریعہ تربیت دیتا ہے۔