63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 63:1–8

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک آپ اس کے پیغمبر ہیں۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا (دل میں ایمان نہ ہونے کے سبب) یہ منافق جھوٹے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے تو یہ لوگ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ بیشک جو کچھ یہ کرتے ہیں بہت برا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے پھر (کلمات کفریہ کہہ کر) کافر ہوئے سو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی سو یہ سمجھتے ہی نہیں

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب آپ ان کو دیکھیں تو (ظاہری شان و شوکت کے باعث) ان کے قد کاٹھ آپ کو بھلے معلوم ہوں اور جب یہ باتیں کرتے ہیں تو آپ ان کی باتیں سنیں (فہم وادراک سے خالی) گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔ ہر چیخ و پکار کو اپنے اوپر (مصیبت) سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی لوگ (آپ کے) دشمن ہیں سو آپ ان سے ہوشیار رہیے۔ اللہ ان کو غارت کرے یہ کہاں پھرے جاتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ کہ اللہ کے پیغمبر تمہارے لئے بخشش طلب فرمائیں تو اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

آپ ان کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں ان کے حق میں برابر ہے۔ اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشیں گے۔ بیشک اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں فرماتے

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کے پیغمبر کے پاس (جمع) ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو یہاں تک کہ یہ لوگ (خود بخود) بکھر جائیں۔ اور آسمانوں اور زمین کے خزانے تو اللہ کے ہیں و لیکن منافق نہیں سمجھتے

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت والے ، ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت اللہ کے لئے ہے اور اس کے پیغمبر کے لئے ہے اور ایمان والوں کے لئے و لیکن منافقین نہیں جانتے

آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں ساتھ تھے ان کا کردار بھی ظاہر ہوا کہ انہوں نے انصار ومہاجر کے نام پر مسلمانوں کو لڑانے کی سازش کی جس کی بنیاد پر دو صحابہ کا معمولی ساتکرار تھا اور انصار سے منافقین کے سردار نے کہا یہ یہ باہر سے آئے ہوئے کمزور لوگ ہیں انہیں نکال باہر کرو اور ان کی مدد کرنا بند کرو کہ اسے اپنے سردار بننے کا یقین تھا مگر حضور کی تشریف آوری پر وہ سارا نظام ختم ہوگیا اور اسلام کا نظام رائج ہواجس کے سربراہ نبی کریم تھے پھر ان کے خلفاء تو ابن ابی منافقین کے سردار نے اس کو ختم کرنے کی ناکام سازش کی جس کے بارے ارشاد ہوا کہ جب یہ منافقین آپ کی خدمت میں آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم آپ کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں اور اللہ جانتا ہے یہ حق ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ منافقت۔ مگر اللہ اس بات کا بھی گواہ ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں یعنی یہ دل سے آپ کے لائے ہوئے نظام کو قبول نہیں کرتے کہ اس میں ان کی ریاست و حکومت یا اقتدار واختیار کی کوئی صورت نہیں بنتی تو گویا ایسا شخص جو مسلمان کہلاتا ہو تو نماز روزہ ادا کرتا ہوں مگر اسلامی نظام کا اس لیے ساتھ نہ دے کہ اس طرح وہ اقتدار میں نہیں آسکتا منافق کہلائے گا ، اعاذنا اللہ منہا۔ ان منافقین نے اپنے دعوائے ایمان کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس کے ساتھ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ظاہر ہے نماز روزہ تودکھاوے کے لیے وہ خود بھی کرتے تھے عملا اسلام کے ریاستی نظام کے حق میں نہ تھے اور اعتراضات کرتے رہتے تھے۔ ان کا یہ عمل بہت ہی برا ہے انہیں ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی مگر انہوں نے کفر کو پسند کیا دنیا کے فائدے کے لیے دل میں وہی کافرانہ نظام بساکررکھا ہے جس پر ناراض ہو کر اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اب یہ ان باتوں کو سمجھنے کے شعور سے ہی محروم ہوگئے۔ ان کو دیکھیں تو بڑے صحت مند جوان نظر آتے مگر اندر سے کھوکھلے ہیں یعنی باطنی کمالات ، ایمان اخلاق اور جرات سے عاری ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے لکڑیاں کسی دیوار کے سہارے کھڑی ہوں اور ہر وقت ان پر خوف طاری ہے گویا ہر مصیبت صرف ان کے لیے ہی آنے والی ہے یہ خطرناک دشمن ہیں لہذا آپ ان سے احتیاط کیجئے اللہ انہیں تباہ کرے یہ کس کام میں لگ گئے۔ اگر انہیں توبہ کی دعوت بھی دی جائے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لیے دعا کریں گے جو تمہاری بخشش کا سامان ہوگاتوسرکوجھٹک کر چل دیتے ہیں اور ہمیشہ اسلام کی راہ روکنے میں لگے رہتے ہیں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اسیر ہیں۔ اب ایسے لوگ جو آپ کے خلاف یعنی آپ کے لائے ہوئے نظام کے خلاف کمربستہ ہیں مگر آپ بھی اپنے مزاج کریمہ کے سبب انہیں معاف فرما کر ان کے لیے دعافرمائیں یا آپ نہ فرمائیں برابر ہے کہ اللہ ایسے بدکاروں کو ہرگز معاف نہ کرے گا۔ نام نہاد مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ۔ بظاہرنیکی کا اظہا کرنے والے حکمران اگر نظام اسلام کی مخالفت پر کمربستہ رہے جیسے آجکل ہیں تو یہ ضرور خیال کرلیں کہ یہ مخالفت اسلام کی نہیں داعی اسلام کی ہے جواتنابڑاجرم ہے جو اس کی بخشش کی دعا کرنے سے اللہ نے اپنے رسول اللہ کو منع فرمادیا ہے اے کاش اللہ کریم ان کو ہدایت دے۔ مغرب کی پالیسی۔ یہ ایسے ظالم ہیں کہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی اور اسلامی نظام کی مالی مدد نہ کی جائے تو مسلمان از خود منتشر ہوجائیں گے اور آج بھی نادان حکمرانوں کی غفلت اور ہوس اقتدار کے باعث مغرب کی یہی پالیسی ہے کہ مسلمان ریاستوں کے مالی وسائل چھین لیے جائیں تاکہ مسلمان کبھی اسلام نظام کا نام نہ لے سکیں۔ مگریہ نادان اس بات سے بیخبر ہیں کہ زمینوں اور آسمانوں کے خزانے اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ اپنے بندوں کو کفارومنافقین کی سازشوں کا شکار نہ ہونے دے گا اور ان کا کہنا تو ہے کہ جب واپس مدینہ پہنچیں تو ہم طاقتوران کمزور لوگوں کو نکال باہر کریں گے مگر حق یہ ہیی کہ عزت و غلبہ اللہ ک لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے جو خلوص دل سے نبی کی اتباع کرتے ہیں مگر یہ بات منافقین کی سمجھ میں نہیں آتی قرآن حکیم کا نزول بیشک خاص واقعات پر ہوا مگر یہ ہمیشہ کے لیے ہے اور حکم عام ہے آج بھی جو برائے نام مسلمان اسلام کے خلاف سازش کر رہے ہیں ان پر یہی احکام لاگو ہوں گے۔
Ayahs 63:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے۔ اور جو کوئی ایسا کرے گا تو ایسے لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے (اس وقت) سے پہلے خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے۔ تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار ! آپ نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو اللہ اسے ہرگز مہلت نہیں دیتے۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہیں

آیات 9 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ اے ایمان والو ! یہ مال وزر کی جائز تلاش اور اولاد کی پرورش یا ان کی بہتری کی فکر جو جائز بھی ہو وہ بھی اس قدر مصروف نہ کردے کہ اللہ یاد سے غفلت میں آنے لگے۔ ذکر اللہ۔ ذکر اللہ میں تمام عبادات اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے سارے عمل شامل ہیں یہ عملی ذکر ہے اس کے ساتھ تلاوت تسبیحات ذکرلسانی یازبانی ذکر ہے اور ذکرقلبی نصیب ہوجائے یعنی قلب بھی ذاکر ہوجائے تو بھرپور فائدے کی امید کی جاسکتی ہے کہ خلوص سے شریعت پر عمل اور جہاد آسان ہوجاتا ہے اگر کوئی دنیا کی مصروفیات کے سبب اللہ کے ذکر سے غافل ہوا تو وہ بہت زیادہ نقصان میں چلا گیا کہ دینی نقصان تو ہوا دنیا کے امور سے بھی برکت اٹھ جاتی ہے اور اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو یعنی اسلامی تعلیمات کو عام کرنے میں اور اسلام کو عملانافذ کرنے میں مال وجان اور اقتدار واختیار جو بھی نصیب ہے کام میں لاؤ پیشتر اس کے موت آجائے اور پھرج ب موت کے وقت آخرت منکشف ہوتوکہہ اٹھو کہ اے اللہ اب مجھے تھوڑی سی مہلت دے کہ میں اپنی دولت وقوت تیری راہ میں خرچ کرسکوں اور میرا شمار تیرے نیک بندوں میں ہونے لگے۔ وقت کی آخری آرزو۔ موت کے آخری لمحات میں فرشتے بھی نظر آنے لگتے ہیں ان سے بات چیت کو قران نے نقل فرمایا ہے اور آخرت بھی دکھائی پڑتی ہے تو سمجھ آجاتی ہے کہ دراصل مال وجان کو بچانے کے لیے ظلم اور کفر سے سمجھوتہ کس قدر نقصان دہ ہے تو آدمی کہہ اٹھتا ہے کہ اے اللہ اب تھوڑی سی مہلت عطا کر کہ میں اپنے سارے وسائل تیرے دین کے لیے صرف کردوں اور تیرے بندوں میں شامل ہوسکوں مگر جب وقت مقرر آجائے تو اللہ کریم کسی کو مزید مہلت عطا نہیں فرمائے گا یہ اللہ کے طے شدہ نظام ہے جس میں تبدیلی نہیں ہوتی تو بہرحال جو کرچکے ہو وہ تو سب اللہ کے سامنے ہے۔