63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsانوار البیان

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

اے محمد) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (ازراہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحققت تم اسکے پیغمبر ہو۔ لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں

(63:1) ازا جاء ک المنفقون۔ جملہ شرط ہے۔ قالوا نشھد انک لرسول اللہ۔ جواب شرط۔ اذا۔ جب (شرطیہ) جاء ک میں ک ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں۔ المنفقون۔ اسم فاعل جمع مذکر معرف باللام ۔ نفاق کرنے والے مرد۔ دو رخی کرنے والے۔ یعنی زبان و عمل سے بظاہر مسلمان اور دل سے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھنے والے۔ یہ نافقاء ونفقۃ سے ہے۔ جس کے معنی ہیں گواہ (جنگلی چوہا) کا بھٹ۔۔ جس کے کم از کم دو منہ ہوتے ہیں ایک دہانے سے گوہ اس میں داخل ہوتی ہے شکاری اس طرف متوجہ ہوتا ہے تو دوسرے سوراخ سے باہر نکل جاتی ہے (تبریزی) ۔ اصطلاح قرآنی میں نفاق اور منافقت اسی دو رخی کا نام ہے بظاہر زبان سے آدمی مومن ہونے کا اقرار کرتا ہے اور دکھاوے کی نمازیں بھی پڑھتا ہے لیکن دل میں کافر رہتا ہے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے ایسے آدمی کو عرف شریعت میں منافق کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر عقیدہ مؤمنانہ ہو اور عمل کافرانہ تو دو رخی کی ایک یہ بھی شکل ہوتی ہے ایک دروازے سے آدمی اسلام کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور دوسرے راستہ سے کا رج ہوتا ہوا نظر آتا ہے لیکن قرآن اصطلاح میں ایسے آدمی کو منافق نہیں کہا جاتا بلکہ فاسق اور عاصی کہا جاتا ہے (شرح عقائد نسفی) قالوا میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب المنافقون کی طرف راجع ہے نشھد مضارع جمع متکلم شھادۃ (باب سمع) مصدر سے۔ ہم گواہی دیتے ہیں۔ لرسول اللہ میں لام تاکید کا ہے۔ انک لرسول اللہ بیشک آپ ضرور اللہ کے رسول ہیں۔ واللہ یعلم انک لرسولہ۔ اور اللہ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں۔ جملہ معترضہ ہے کلام سابق کی تاکید کے لئے ہے۔ واللہ یشھد ان المنافقین لکذبون : ان حرف مشبہ بالفعل، المنافقین اسم ان لکذبون اس کی خبر۔ جملہ اسمیہ ہوکر فعل یشھد کا مفعول۔ اللہ فاعل ، فعل، فاعل، مفعول مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ منافق جھوٹے ہیں (یعنی زبان سے جو کہہ رہے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن ان کے دل میں ان کا اعتقاد بالکل الٹ ہے وہ دل کی بات صحیح طور پر نہیں بیان کر رہے)
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور انکے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

(63:2) اتخذوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر سے انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے اختیار کرلیا۔ انہوں نے ٹھہرا لیا۔ انہوں نے بنا لیا۔ ایمانہم : مضاف مضاف الیہ ان کی قسمیں (جو وہ اپنے جھوٹ کی تائید میں کھاتے ہیں) جنۃ۔ ڈھال۔ آڑ۔ پردہ۔ جنن جمع۔ جن (باب نصر) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کا حواس سے چھپ جانا۔ چونکہ ڈھال سے بدن کو چھپایا جاتا ہے اس لئے اس کو جنۃ کہتے ہیں۔ اسی مصدر سے جنۃ بمعنی جنت۔ باغ۔ بہشت ہے ۔ کیونکہ باغات کے درخت زمین کو چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور اسی مصدر سے جنۃ بمعنی جنون دیوانگی ہے کہ عقل کو چھپا دیتی ہے اور اسی سے جن بمعنی جن ہے کہ عام مخلوق سے پوشیدہ اور غائب رہتے ہیں۔ یہاں جنۃ اتخذوا کا مفعول ثانی ہے یہ جملہ مستانفہ ہے اور منافقین کی دروغ گوئی اور اس پر چھوٹی قسمیں کھانے کے بیان میں آیا ہے۔ فصدوا عن سبیل اللہ :ترتیب کا ہے۔ صدوا ماضی جمع مذکر غائب صدود (باب ضرب و نصر) رکنا۔ اعراض کرنا۔ عن حرف جار سبیل اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر جرور۔ پس وہ اللہ کی راہ سے اعراض کرتے رہتے ہیں۔ صدود مصدر لازم ہے بمعنی رکنا۔ اعراض کرنا۔ اس صورت میں ترجمہ وہی ہوگا جو اوپر تحریر ہے۔ لیکن اگر فعل صدوا مصدر صد (باب نصر) سے ہو تو یہ فعل متعدی ہوگا ۔ کیونکہ صد بمعنی روکنا اور باز رکھنا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے اور باز رکھتے ہیں۔ سائ۔ ماضی واحد مذکر غائب سوء (باب نصر) مصدر۔ یہ فعل ذم ہے۔ برا ہے بمعنی بئس آیا ہے۔ ما کانوا یعملون : ما موصولہ اس سے اگلا جملہ اس کا صلہ۔ برا ہے (ان کا یہ فعل) جو وہ کرتے تھے، یا کیا کرتے تھے۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

(63:3) ذلک : یعنی نفاق اور اسلام سے روگردانی، جھوٹی قسموں کو بچاؤ کا ذریعہ بنا لینا۔ اشارۃ الی ما ذکر من حالہم فی النفاق والکذب والاستخبان بالایمان الفاجرۃ (روح المعانی) ۔ یہ اشارہ ہے ان کے نفاق اور تکذیب کی طرف اور جھوٹی قسموں کو بچاؤ کا ذریعہ بنانے کی طرف۔ بانھم ب سببیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل۔ ہم ضمیر جمع مذکر گا ئب۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ سب لوگ۔ امنوا۔ وہ ایمان لائے ۔ وہ ایمان دار ہوگئے (بظاہر مؤمنون کے سامنے ایمان کا اقرار کرنے پر) ۔ ثم کفروا۔ پھر وہ کافر ہوگئے (کلمات کفریہ کہہ کر یا اپنے ساتھیوں کے پاس تخلیہ میں پہنچ کر جہاں وہ اپنے اصل اعتقاد کا بر ملا اظہار کیا کرتے تھے) ۔ قرآن پاک میں ہے :۔ واذا خلوا الی شیطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزء ون (2:14) اور جب اپنے شیاطینوں میں جاتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ (پیروان محمد سے تو) ہم محض ہنسی مخول کیا کرتے ہیں۔ فطبع علی قلوبھم :سببیہ۔ ای بسبب نفاقھم ھذا (ان کے اس نفاق کی وجہ سے) ان کے دلوں پر مۃ ر لگا دی گئی۔ حتی یموتوا علی الکفر یہاں تک کہ وہ کفر کی حالت میں مرجائیں۔ طبع ماضی مجہول واحد مذکر غائب طبع (باب فتح) مصدر۔ مہر کردی گئی۔ بندش کردی گئی۔ فھم لا یفقھون :ترتیب کے لئے۔ یعنی اس مہر لگانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اب کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ لایفتھون مضارع منفی جمع مذکر غائب فقہ مصدر۔ باب سمع بمعنی سمجھنا۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تم ان (کے تناسب اعضاء) کو دیکھتے ہو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تخریج کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی ہوئی ہیں کہ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر (بلا آئی) یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

(63:4) واذا رایتھم جملہ شرط۔ تعجبک اجسامہم جواب شرط۔ اذا شرطیہ (جب) رایت میں ضمیر واحد مذکر حاضر عام مخاطب کے لئے ہے (جب اے مخاطف تو ان کو دیکھے) یا خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے کہ جب (اے محمد ﷺ ) آپ ان کو دیکھیں) ۔ تعجبک اجسامہم : تعجب مضارع واحد مؤنث غائب اعجاب (افعال) مصدر۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تجھے تعجب میں ڈال دے۔ وہ تجھے بھلی لگے ۔ وہ تجھے خوشمنا لگے۔ اجسامہم ان کے جسم۔ ان کے ڈیل ڈول۔ وان یقولوا۔ جملہ شرطیہ ہے اور اگر وہ گفتگو کریں۔ تسمع لقولہم جواب شرط۔ تو تو توجہ سے ان کی بات سنے۔ تسمع مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر حاضر۔ سمع (باب سمع) مصدر۔ کانھم خشب مسندۃ لقولہم میں ضمیر مجرور ہم سے حال ہے۔ حالانکہ وہ دیوار کے سہارے کھڑی لکڑیاں ہیں ۔ (عقل سلیم اور علم و معرفت سے خالی اور کھوکھلی۔ کان حرف مشابہ بفعل ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم ۔ خشب مسندۃ موصوف و صفت مل کر اس کی خبر۔ حال یہ ہے کہ وہ سب گویا دیوار کے سہارے کھڑی ہوئی لکڑیاں ہیں۔ خشب خشب کی جمع جیسے بدنۃ کی جمع بدن ہے (وہ گائے یا اونٹ کہ جس کی حج کے موقعہ پر مکہ میں قربانی کی جائے) موصوف مسندۃ صفت اسم مفعول واحد مؤنث تسنید (تفعیل) مصدر۔ دیوار کے سہارے لگائی ہوئی۔ یعنی جس سے پشت کا سہارا لگایا جائے۔ اسناد جمع سناد قوی الجثہ دراز قامت اسناد (افعال) کسی بات کی طرف نسبت کرنا۔ تسنید (تفعیل) لکڑی کو دیوار وغیرہ کے سہارے لگا دینا۔ کانھم خشب مسندۃ گویا وہ سب دیوار کے سہارے کھڑی کی ہوئی لکڑیوں ہیں۔ اچھی لکڑی عموما فرنیچر اور چھت کے لئے استعمال میں لائی جاتی ہے ان منافقین کی یہ حالت ہے کہ یہ اس لکڑی کی مانند ہیں جو دیکھنے میں تو بڑی اچھی ، جاذب نظر، دیر پا رہنے والی معلوم دیتی ہے اور ہر دیکھنے والے کے دل کو لبھاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اندر سے کھوکھلی اور بالکل بیکار اور ناکارہ ہے اس میں کسی اور کے بوجھ کا سہارا بننا تو کجا خود اپنے بوجھ کو اٹھا رکھنے سے عاری ہے اسے چھت کے نیچے کھڑا کرنے کی جرورت پڑے تو دیوار کے ساتھ سہارا دیتے ہوئے اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ذرا کسی بیرونی یا اندرونی دباؤکی وجہ چھت میں جنبش ہوئی اس کو یوں محسوس ہوا کہ گویا ساری قیامت اسی پر ڈٹ پڑنے لگی ہے۔ اسی طرح یہ منافقین ظاہری شکل و صورت میں تو نہایت حسین ڈیل ڈول کے ہیں اور پرلے درجے کے باتونی اور چرب زبان ہیں زبانی کلامی اپنی عقل و دانش اور شجاعت و مردانگی کے قصے سنا سنا کر سامعین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیں گے لیکن درحقیقت پرلے درجے کے بےجان ، بزدل، علم و معرفت سے بالکل خالی اور نرے کھوٹے سکے ہیں ۔ نکمے بےفائدہ۔ یحسبون : مضارع جمع مزکر غائب حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ خیال کرتے ہیں۔ وہ گمان کرتے ہیں۔ کل صیحۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہر چیخ ، ہر کڑک، ہر ہولناک آواز۔ صیحۃ صاح یصیح کا مصدر ہے اور بمعنی حاصل مصدر بھی آتا ہے۔ اصل میں لکڑی کے چرنے یا کپڑے کے چھٹنے سے جو زور کے جھراٹے کی آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کے نکلنے کو الصیاح کہتے ہیں۔ صیحۃ اسی سے ہے اور چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے اس لئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ علیہم : اپنے خلاف۔ یعنی ہر اونچی آواز کو اپنے اوپر پڑنے والی خیال کرتے ہیں۔ چونکہ اپنی اندرونی کمزوری اور اپنے اندر دل کے چور یعنی نفاق کو وہ جانتے ہیں اس لئے جب کسی کو اونچا بولتے سنتے ہیں یا کسی بھاگ دوڑ کی آواز ان کے کانوں میں آتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتے ہیں شاید ان کے خلاف ہی نہ ہو۔ جیسے کہاوت ہے ” چور کی ڈاڑھی میں تنکا “۔ ہم العدو۔ یہی (منافق) ہیں جو (پکے) دشمن ہیں (مسلمانوں کے) ۔ فاحذرھم :سببیہ۔ بسبب ذلک بایں سبب۔ لہذا۔ اس لئے۔ احذر : فعل امر واحد مذکر حاضر۔ حذر (باب سمع) مصدر۔ تو بچتارہ۔ (اگر خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے) یا خطاب مسلمانوں سے ہے۔ اے مسلمانو ! ان (منافقین) سے بچتے رہو۔ اس صورت میں احذر (واحد کا صیغہ) بمعنی احذروا ہوگا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا منافقین ہیں۔ قاتلہم اللہ : اللہ کی ان پر لعنت ہو۔ خدا ان کو غارت کرے۔ ان پر اللہ کی مار ہو اللہ ان کو ہلاک کرے۔ یہ بددعائیہ فقرہ ہے جس میں ان کی مذمت بھی ہے اور زجرو توبیخ بھی۔ علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ بظاہر یہ بددعا ہے اور خود اپنی ذات سے منافقوں پر لعنت کرنے کی طلب ہے لیکن حقیقت میں مسلمانوں کو لعنت اور بددعا کرنے کی تعلیم ہے۔ انی اسم ظرف ہے زمان اور مکان دونوں کے لئے آتا ہے۔ ظرف زمان ہو تو بمعنی متی (جب) ظرف مکان ہو تو بمعنی این (جہاں ، کہاں) اور استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف کیسے ۔ کیونکر۔ ہوتا ہے۔ یہاں انی بمعنی کیف اظہار تعجب کے لئے ہے کہ اتنی روشن دلیلوں کے باوجود وہ حق سے روگرداں ہیں۔ یؤفکون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ افک (باب ضرب) مصدر۔ وہ پھیرے جاتے ہیں۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہتے ہیں۔ قتلہم اللہ انی یؤفکون۔ خدا ان کو غارت کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں یہ کیسے بہکائے جاتے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو 9:30) جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ منکم (24:11) جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی لوگوں سے ایک جماعت ہے۔
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو اپنے سرہلا دیتے ہیں اور تم انکو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

(63:5) واذا۔ واؤ عاطفہ ہے اذا طرف زمان (شرطیہ) جب۔ تعالوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تعالیٰ (تفاعل) مصدریہ ۔ تعال کے اصل معنی ہیں کسی کو بلند جگہ کی طرف بلانا۔ پھر عام بلانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تم آؤ۔ ع ل ی ، ع ل و مادہ کے حروف ہیں۔ واذا قیل لہم تعالوا جملہ شرط ہے۔ یستغفر۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر ای تعالوا واحد مذکر غائب استغفار (استفعال) مصدریہ۔ یہ معافی مانگیں گے (یعنی رسول اللہ ﷺ ) ۔ یہ امر تعالوا کے جواب میں ہے۔ یعنی آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لئے مغفرت طلب فرمائے۔ لووا ماضی جمع مذکر غائب تلویۃ (تفعیل) مصدر۔ ل ی ی مادہ۔ وہ نیوڑاتے ہیں۔ گھماتے ہیں۔ لہراتے ہیں۔ اکڑاتے ہیں۔ یہ تمام علامت غرور کی ہے۔ مجرد لوی یلوی کا معنی بھی موڑنا۔ لہرانا۔ دوہرا کرنا ہے۔ باب تفعیل میں لاکر اس فعل میں زیادتی اور مبالغہ کا اظہار کیا گیا ہے ۔ باب ضرب سے اس مادہ کے افعال لازم بھی آتے ہیں۔ اور متعدی بھی۔ صلات کے اختلاف سے مفہوم میں بہت اختلاف ہوجاتا ہے۔ ، مثلا لوی الغلام (لڑکا بیس سال کا ہوگیا) لوی الحبل (رسی کو دوہرا کیا) لوی راسہ (اس نے سر کو موڑ لیا) وغیرہ وغیرہ۔ لودا رؤسہم جملہ جواب شرط ہے واذا قیل لہم تعالوا ۔۔ کا جواب ہے۔ تو وہ سرہلا دیتے ہیں۔ یصدون : مضارع جمع مذکر غائب۔ صد (باب نصر) مصدر۔ وہ باز رہتے ہیں۔ وہ اعراض کرتے ہیں۔ وہم مستکبرون۔ واؤ حالیہ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ جس کا مرجع منافقین ہے جن کا ذکر اوپر ہو رہا ہے۔ مستکبرون اسم فاعل جمع مذکر ۔ تکبر کرنے والے۔ غرور کرنے والے۔ استکبار (استفعال) مصدر سے۔ جملہ حالیہ ہے یصدون کے فاعل سے۔
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے خدا انکو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(63:6) سوائ۔ برابر ہے۔ اسم مصدر ۔ بمعنی استوائ۔ یعنی دونوں طرف سے بالکل برابر ہونے کے۔ نہ اس کا تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔ علامہ جلال الدین سیوطی (رح) اپنی تفسیر الاتقان میں لکھتے ہیں۔ جلد اول نوع 40 ۔ سواء بہ معنی مستوی (برابر) آتا ہے ۔ لہٰذا کسرہ کے ساتھ قصر اور فتحہ کے ہمراہ مد کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ قصر کی مثال :۔ قولہ تعالیٰ مکانا سوی۔ (20:58) جگہ برابر یعنی صاف اور ہموار۔ سوی۔ سین کے کسرہ کے ساتھ ۔ ابو جعفر۔ نافع ابن کثیر۔ ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ باقی قراء نے اسے سوی سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے) ۔ اور مد کی مثال ہے قولہ تعالیٰ سواء علیہمء انذرتھم ام لم تنذرھم (2:6) انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو۔ سواء وسط کے معنی میں بھی آتا ہے اس صورت میں بھی فتحہ کے ساتھ اس کو مد کرکے پڑھتے ہیں جیسے قولہ تعالیٰ : فی سواء الجحیم (37:55) میں ہے (دوزخ کے وسط میں) علیہم : علی حرف جار ہم ضمیر جمع مذکر غائب مجرور۔ ان پر۔ استغفرت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ استغفار (استفعال) مصدر۔ خواہ تو بخشش مانگے۔ اصل میںء استغفرت تھا (حسب تصریح شوکانی) پہلی ہمزہ استفہام (جو یہاں تسویہ کے معنی میں تھی) حذف کردی گئی۔ کیونکہ آیت میں ام اس کے معنی پر دلالت کرنے کے لئے موجود ہے اور حسب تصریح ابو حیان ہمزہ تسویہ باقی ہے اور دوسری ہمزہ جو کہ ہمزہ وصل تھی۔ وہ محذوف ہے۔ ام۔ خواہ۔ لم تستغفرلہم۔ مضارع نفی جحد بلم واحد مذکر حاضر۔ (خواہ) تو بخشش نہ مانگے۔ لن یغفر۔ مضارع نفی تاکید بلن واحد مذکر غائب۔ ہرگز نہیں بخشے گا۔ القوم الفسقینموصوف و صفت مل کر مفعول فعل لایھدیکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہدایت نہیں بخشتا۔ ہدایت نہیں دیا کرتا
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کو پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

(63:7) ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع الفسقین (آیت 6، متذکرۃ الصدر) ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ یقولون : سلہ۔ یہی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں۔ لاتنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ یہ مقولہ ہے ان لوگوں کا جو اوپر مذکور ہوئے۔ لا تنفقوا فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر۔ مت خرچ کرو علی پر۔ اوپر۔ (ان کے لئے) من موصولہ ہے عند رسول اللہ اس کا صلہ عند نزدیک، قریب، پاس، منزلت میں قریب۔ یہاں اسم ظرف مکان مستعمل ہے مضاف ہے۔ رسول اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر عند کا مضاف الیہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو قدرومنزلت میں اللہ کے رسول کی قربت میں ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ حتی۔ حرف جر ہے انتہاء غایت کے لئے ہے۔ یہاں تک کہ۔ ینفضوا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب ۔ انفضاض (افعلال) مصدر نفض مادہ۔ وہ منتشر ہوجائیں ۔ یہاں تک کہ وہ (خود بخود) منتشر ہوجائیں۔ بھاگ جائیں۔ چھوڑ کر چلے جائیں (نیز ملاحظہ ہو 62:11) وللہ خزائن السموت والارض ۔۔ لا یفقھون ۔ جملہ حالیہ ہے اور اللہ تعالیٰ فاسقین کی اس بڑھ کے مقابلہ میں کہ جو رسول کریم کی معیت میں ہیں ان پر خرچ کرنا بند کر دو یہاں تک کہ یہ خود بخود چھوڑ کر چلے جائیں۔ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیا خرچ کریں گے اور کیا بند کریں گے۔ آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے تو کلی طور پر اس کی ملکیت ہیں۔ ان میں وہ اپنی مشیت اور مرضی کے مطابق تصرف کا اکیلا ہی حق رکھتا ہے کسی اور کا اس میں کوئی عمل ودخل نہیں۔ لیکن یہ منافق سمجھ ہی نہیں رکھتے ۔ واؤ حالیہ ہے للہ میں لام تملیک کا ہے اور المنفقین بوجہ عمل لکن منصوب ہے لایفقھون مضارع منفی جمع مذکر غائب ، فقہ مصدر ہے (باب سمع) وہ نہیں سمجھتے۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اسکے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

(63:8) لئن لام تاکید کے لئے ہے ان شرطیہ لئن رجعنا الی المدینۃ جملہ شرط ہے اگر ہم لوٹ کر گئے مدینہ کو۔ رجعنا ماضی جمع متکلم رجوع (باب ضرب) مصدر ۔ ہم لوٹے۔ ہم واپس ہوئے ۔ لیخرجن الاعز منھا الاذل جملہ جواب شرط ہے۔ لیخرجن میں لام جواب شرط کا ہے۔ یخرجن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغیہ واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدریہ۔ نکال دے گا۔ الاعز : عز سے باب ضرب مصدر افعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر۔ زیادہ زور والا۔ زیادہ عزت والا۔ یخرجن کا فاعل ہے منھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع المدینۃ ہے۔ الادل۔ ذلۃ (باب ضرب) مصدر سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر۔ زیادہ ذلیل۔ زیادہ کمزور۔ یخرجن کا مفعول ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (منافق) کہتے ہیں اگر لوٹ کر گئے مدینہ میں تو عزت والے ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں گے یا جو عزت والا (قوت و غلبہ والا) ہوگا۔ وہ ذلت والے کو (یعنی کمزور کو) مدینہ سے نکال باہر کر دے گا۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین جملہ حالیہ ہے۔ حالانکہ حقیقت میں عزت (اور غلبہ اور قوت) تو اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنین ہی کو حاصل ہے۔ العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے۔ یہ عزیعز (باب ضرب) کا مصدر ہے اور بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

مومنو تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

(63:9) تلہکم : تلہ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث الہاء (افعال) مصدر بمعنی غافل کردینا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تم کو غافل کر دے۔ لاتلکہم (وہ تم کو غافل نہ کردے) صیغہ نہی ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ الہکم التکاثر (102:1) لوگو تم کو کثرت مال و جاہ اور اولاد کی خواہش نے غافل کردیا ۔ ل، ھ، و ، مادہ۔ سے مشتق ہے اللھو ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے غافل کر دے۔ باز رکھے ۔ ہٹائے۔ من یفعل ذلک : من شرطیہ یفعل مضارع (مجزوم بوجہ شرط) صیغہ واحد مذکر غائب ۔ جس کسی نے ایسا کیا۔ فالئکجواب شرط کے لئے ہے۔ اولئک اسم اشارہ بعید جمع مذکر۔ پس وہی لوگ۔ الخسرون خسر و خسران سے اسم فاعل جمع مذکر۔ گھاٹا پانے والے۔ نقصان اٹھانے والے۔ زیاں کار۔
Ayah 63:10

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ؟

(63:10) انفقوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر انفاق (افعال) مصدر۔ تم خرچ کرو۔ مما رزقنکم : رزقنا ماضی جمع متکلم رزق (باب نصر) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اور خرچ کرلو اس رزق میں سے جو ہم نے تم کو دیا۔ من قبل : اس سے پہلے۔ ان یاتی : ان مصدریہ ، یاتی مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب کہ آجائے۔ احدکم : احد مفعول فعل یاتی کا۔ مضاف۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مضاف الیہ کہ آجائے تم میں سے کسی ایک کو موت۔ فیقول :جواب امر کے لئے ۔ یقول مضارع منصوب بوجہ عملجو جواب امر (وھو افقوا) میں واقع ہوئی ہے۔ تو پھر کہنے لگے۔ رب : ای یا ربی۔ لولا۔ حرف تخضیض ہے۔ جس کا معنی فعل پر ابھارنا۔ برانگیختہ کرنا ہے۔ کیوں نہ ۔ اخرتنی : اخرت ماضٰ واحد مذکر حاضر۔ تاخیر (تفعیل) مصدر بمعنی دیر کرنا ڈھیل دینا۔ ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ تو نے مجھ کو ڈھیل دی۔ تو نے مجھے مہلت دی۔ الی اجل : الی حرف جار اجل مجرور۔ اجل موت ، مدت، مہلت۔ موصوف۔ قریب صفت۔ نزدیک ، کچھ۔ تھوڑی، الی اجل قریب تھوڑی سی مدت تک۔ فاصدق :علت کا ہے لولا کے جواب میں واقع ہے۔ تاکہ۔ اصدق مضارع منصوب (بوجہ عمل فاء جو لولا کے جواب میں واقع ہو کر ان کا سا عمل کرتی ہے۔ صیغہ واحد متکلم۔ تصدق (تفعل) مصدر۔ بمعنی خیرات دینا صدقہ دینا۔ تاکہ وہ خیرات کرلیتا ۔ واکن۔ واؤ عاطفہ (اس کا عطف فاصدق پر ہے) اکن اصل میں اکون تھا مضارع واحد متکلم ۔ اور میں ہوجاتا۔ من الصالحین نیک لوگوں میں سے۔
Ayah 63:11

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو خدا اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔

(63:11) ولن یؤخر اللہ ۔۔ واؤ عاطفہ لن یؤخر مضارع نفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب ، تاخیر (تفعیل) مصدر۔ اور اللہ مہلت نہیں دیتا ۔ نفسا۔ اسم مفرد بمعنی جان۔ مراد شخص (منصوب بوجہ مفعول فعل یؤخر کے ۔ کسی شخص کو ۔ اذا جاء اجلہا : جب اس کی موت آجاتی ہے۔ جب اس کا وقت آجاتا ہے ۔ جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث نفسا کے لئے ہے۔ واللہ خبیر بما تعملون اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کیا کرتے ہو۔ یہ عدم تأخر کی تاکید میں ارشاد فرمایا۔ اولا یہ کہ جب کسی کا وقت آجاتا ہے تو اس میں وہ تاخیر و تعجیل نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ محض تمہارے کہنے کی باتیں ہیں کہ اگر مہلت مل جائے تو نیک اعمال کرکے صالحین میں داخل ہوجائیں گے۔ اگر بالفرض مہلت مل بھی جائے تو پھر وہی کچھ کرو گے جو کرتے چلے آئے ہو۔ اسی مضمون میں اور جگہ ارشاد ہے :۔ (1) وانذر الناس یوم یاتیہم العذاب فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب نجب دعوتک ونتبع الرسل ، اولم تکونوا اقسم مالکم من زوال (14:44) اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کرو جب ان پر عذاب آجائے گا۔ تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سء مدت مہلت عطا کر تاکہ ہم تیری دعوت (توحید) کو قبول کریں اور تیرے پیغمبروں کی اتباع کرلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھاتے تھے کہ تم (اس حال سے کہ جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا۔ (2) حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون ۔ لعلی اعمل صلھا فیما ترکت کلا ۔ انھا کلمۃ ھو قائلہا (23:99-100) (یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائیگی تو وہ کہے گا اے میرے پروردگار مجھے پھر دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔ ہرگز نہیں یہ ایک (ایسی) بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہے (اور اس پر یہ عمل نہیں کرے گا) ۔