63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (از راہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بےشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں

اذا جائک المنافقون ... لرسول اللہ . ” جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم (دِل سے) گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ “ اَلْمُنٰفِقُوْنَ : یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی۔ تَشْھَدُ : شہادت ‘ شہود سے ماخوذ ہے۔ شہود کا معنی ہے حضور (حاضر ہونا) اور اطلاع شہادت کا مطلب ہے اپنے علم یقینی کے مطابق خبر دینا۔ اسی لیے اللہ نے اپنے رسول کے رسول ہونے کی تصدیق کی اور منافقوں کی شہادت کو جھوٹا قرار دیا کیونکہ جو شہادت وہ دے رہے تھے اسکی بناء علم یقینی پر نہیں تھی۔ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ... لکذبون . ” اور اللہ کو یہ معلوم ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ منافق بلاشبہ اس قول میں (کہ ہم دل سے رسالت کی شہادت دے رہے ہیں) جھوٹے ہیں۔ “ لَکَاذِبُوْنَ : یعنی اس بات میں جھوٹے ہیں کہ ان کی شہادت دل سے ہے اور یقینی علم کے بعد ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ ان کے ظاہری قول وقرار کو شہادت کہناہی صحیح نہیں ہے۔ یہ تشریح اس صورت میں ہوگی جب نشھد کو جملہ خبریہ مانا جائے ‘ لیکن اگر اس کو انشائیہ کہا جائے تو اس صورت میں صدق و کذب کا احتمال ہی نہ ہوگا اور مشہود بہ یعنی انک لرسول اللہ کلام صادق ہوگا۔ اس تشریح پر لکاذبون کا معنی یہ ہوگا کہ وہ اپنے خیال میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سچی ہے آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں لیکن وہ اس کو جھوٹ جانتے ہیں اور اپنے خیال میں جھوٹی بات کہہ رہے ہیں۔ نظام معتزلی (ابراہیم بن سیار) نے کہا : صدق کا معنی ہے اعتقاد کے مطابق ہونا اور کذب کا معنی ہے اعتقاد کے موافق نہ ہونا۔ نظام نے اپنے قول پر اسی آیت سے استدلال کیا ہے (اور کہا ہے کہ ان منافقوں کا انک لرسول اللہ کہنا چونکہ ان کے عقیدہ کے موافق نہیں تھا اس لیے ان کو کاذب قرار دیا گیا) لیکن نظام کا یہ خیال غلط ہے (آیت سے استدلال درست نہیں) کیونکہ آیت کا مطلب وہی ہے جو ہم نے بیان کردیا۔
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

اتخذوا ... یعملون . ” ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال کو بچانے کے لیے) سپر بنا رکھا ہے ‘ پھر دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ‘ ان کے یہ اعمال بہت ہی برے ہیں۔ “ اَیْمَانَھُمْ : ایمان سے مراد ہیں قسمیں یا شہادت کیونکہ شہادت بھی (ایک طرح کی قسم ہی ہوتی ہے) شہادت الفاظ حلف میں سے ہے۔ جُنَّۃً : یعنی قتل و قید سے بچنے کا ذریعہ۔ فَصَدُّوْا : پھر خود رک گئے یا دوسروں کو روک دیا۔ اگر اس کا مصدر صدور ہو تو رکنے ‘ اعراض کرنے اور باز رہنے کے معنی ہوں گے اور اگر صدٌّ مصدر سے مشتق مانا جائے تو دوسروں کو روکنے کے معنی ہوں گے (اوّل لازم ہے ‘ دوسرا متعدی) ۔ عَنْ سَبِیْلِ اللہ : یعنی دین اسلام میں داخل ہونے سے۔ سَآءَ مَا کَانُوْا : یعنی نفاق اور راہ خدا سے روکنا بہت برا عمل ہے۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔ سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں

ذلک بانھم ... یفقھون . ” یہ بات اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ (اوّل ظاہر میں) ایمان لائے ‘ پھر (کلمات کفریہ کہہ کر) کافر ہوگئے۔ سو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی۔ اس سبب سے وہ حق بات کو) نہیں سمجھتے۔ ذٰلِکَ : یعنی یہ نفاق اور اسلام سے روگردانی ‘ جھوٹی قسموں کو بچاؤ کا ذریعہ بنانا اس سبب سے ہے کہ وہ بظاہر مؤمنوں کی نظر میں مؤمن ہوگئے پھر اپنے ساتھیوں کے پاس تخلیہ میں پہنچ کر کافر ہوگئے (کفریہ کلمات کہنے لگے) یا یہ مطلب ہے کہ کوئی نشانی یا معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے ‘ پھر شیطان (ساتھیوں) نے ان کے دلوں میں شبہات پیدا کردیئے تو کافر ہوگئے۔ فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ : یعنی اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا کہ فہم حق ان کے دلوں سے چھین لیا گیا۔ فَھُمْ لاَ یَفْقَھُوْنَ : سو اب وہ حقیقت ایمان کو سمجھتے ہی نہیں۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی) اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تقریر کو توجہ سے سنتے ہو (مگر فہم وادراک سے خالی) گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر بلا آئی۔ یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں

واذا رایتھم تعجبک اجسامھم وان یقولوا تسمع لقولھم کانھم خشب مسندۃ . ” اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قد و قامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور اگر وہ بات کہیں تو آپ ان کی بات سن لیں گویا وہ لکڑیاں ہیں جو (دیوار کے سہارے لگائی ہوئی) کھڑی ہیں۔ “ تُعْجِبُکَ.... یعنی قدر آور ہیں ‘ رنگ شگفتہ ہیں ‘ دیکھنے میں خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔ وَاِنْ یَّقُوْلُوْا .... اور اگر وہ کچھ بات کریں تو آپ ان کی بات سنیں یعنی سچی جانیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ابن ابی قد آور اور فصیح اللسان تھا۔ جب وہ بات کرتا تھا تو رسول اللہ ﷺ اس کی بات سنتے تھے۔ کَاَنَّھُمْ خَشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ : حالانکہ وہ دیوار کے سہارے سے کھڑی ہوئی لکڑیاں ہیں ‘ علم و معرفت اور عقل سلیم سے خالی ‘ کھوکھلی۔ یحسبون ... یوفکون ” وہ ہر غل پکار کو اپنے اوپر پڑنے والی خیال کرتے ہیں (خواہ وہ پکار کسی وجہ سے ہو) یہی لوگ (تمہارے پکے) دشمن ہیں ‘ ان سے ہوشیار رہو ان کو خدا غارت کرے کہاں پھرے چلے جاتے ہیں۔ “ یَحْسَبُوْنَ.... یعنی ان کے دل چونکہ رعب زدہ ہیں ‘ اس لیے ہر پکار اور اونچی آواز کو اپنے اوپر ٹوٹ پڑنے والی خیال کرتے ہیں۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان کو ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کا نفاق ظاہر نہ ہوجائے جس کی وجہ سے ان کا خون مباح کردیا جائے اور ان کو قتل کردیا جائے۔ اس لیے لشکر میں جو اونچی آواز سنائی دیتی ہے مثلاً کوئی کسی کو پکارتا ہے یا کوئی جانور چھوٹ کر بھاگ پڑتا ہے یا گم شدہ اونٹ کو ڈھونڈا جاتا ہے تو وہ خیال کرتے کہ ان کے قتل اور گرفتاری کا حکم ہوگیا اور اب ان کو پکڑا جائے گا۔ ھُمُ العَدُوُّ : یہ منافق پکے دشمن ہیں ‘ ان سے ہوشیار رہو۔ ہوشیار رہنے اور احتیاط رکھنے کے حکم کا مقصد یہ ہے کہ ان کی صحبت میں نہ ہو ‘ ان کو ساتھ نہ رکھو ‘ ان سے بےخوف نہ رہو کیونکہ جو شخص ہر وقت اپنی جان کے اندیشے میں رہے اور خوف جان ہر وقت اس کو لگا رہے وہ یقیناً پکا دشمن ہوتا ہے اور جس کی طرف سے اس کو خوف لگا رہتا ہے اس کو دکھ پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ قَاتَلَھُمُ اللہ : ان پر اللہ کی لعنت۔ بظاہر یہ بددعا ہے اور خود اپنی ذات سے منافقوں پر لعنت کرنے کی طلب ہے لیکن حقیقت میں یہ مسلمانوں کو لعنت اور بددعا کرنے کی تعلیم ہے۔ اَنّٰی یُؤْفِکُوْنَ : یعنی وہ کس طرح حق سے پھیرے جاتے ہیں۔ ابن جریر ‘ قتادہ اور ابن المنذر نے عکرمہ کا یہی تشریحی قول نقل کیا ہے ‘ اس قصہ میں ہم نے اوپر ذکر کردیا ہے کہ مسلمانوں نے عبداللہ بن ابی سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر استغفار کرنے کی درخواست کرے مگر اس نے گردن نیوڑائی۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

واذا قیل لھم تعالوا یستغفر لکم رسول اللہ لو وارء وسھم ورایتھم یصدون وھم مستکبر ’ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس) آؤتمہارے لیے رسول اللہ ﷺ استغفار کریں تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ (اس ناصح اور استغفار کرنے والے سے) تکبّر کرتے ہوئے بےرخی کرتے ہیں لَوَّوْارُءُ وْسَھُمْ : یعنی وہ بار بار متواتر اعراض کرتے اور غرور سے سر پھیر لیتے ہیں (گردنیں نیوڑا لیتے ہیں) ۔ وَرَاَیْتَھُمْ : مسلمانوں نے منافقوں سے جو کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤ تاکہ حضور ﷺ تمہارے لیے دعائے مغفرت کردیں۔ اس قول کے وقت جو لوگ حاضر تھے ‘ یہ خطاب انہی سے ہے۔ یَصُدُّوْنَ : یہ صدود سے مشتق ہے یعنی استغفار سے روگردانی کرتے ہیں۔ وَھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ : یعنی عذر خواہی سے غرور کرتے ہیں۔
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے۔ خدا ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ بےشک خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم لن یغفر اللہ لھم ان یھدی القوم الفاسقین ‘ اب آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں ‘ ان کے حق میں دونوں برابر ہیں ‘ اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ بیشک اللہ ایسے نافرمان لوگوں کو (ہدایت کی) توفیق نہیں دیتا۔ “ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ..... ابن المنذر نے بروایت عروہ و مجاہد و قتادہ بیان کیا کہ جب آیت : اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْلاَ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہ لَھُمْ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ستّر سے زیادہ بار دعائے مغفرت کروں گا۔ اس پر آیت : سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ.... نازل ہوئی۔ ابن المنذر نے بحوالۂ عوفی حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ جب آیت براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے اجازت دی گئی ہے میں ستّر مرتبہ سے زیادہ ان کے لیے استغفار کروں گا۔ اس پر آیت : سواء علیھم .... نازل ہوئی۔ اَلْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ : یعنی جو لوگ کفر و نفاق میں اتنے ڈوبے ہوئے ہیں کہ درستی احوال کا گمان بھی نہیں ہوسکتا اور ٹھیک ہونے کی امید کے حدود سے بھی باہر ہوگئے ان کو اللہ ہدایت یاب نہیں کرتا۔
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

ھم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا وللہ خزائن السموات والارض ولکنم المنافقین لا یفقھون . ” یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاسجمع ہیں ‘ ان پر کچھ خرچ مت کرو ‘ یہاں تک کہ وہ آپ ہی منتشر ہوجائیں گے اور اللہ ہی کے پاس ہیں آسمانوں کے اور زمین کے خزانے لیکن یہ منافق سمجھتے نہیں۔ “ ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ : یعنی منافق انصار سے کہتے ہیں ‘ یہ عدم مغفرت کی دلیل ہے۔ عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ : یعنی نادار مہاجرین جیسے جہجاہ وغیرہ۔ خَزَآءِنُ السَّمٰوٰتِ : یعنی جنت کی نعمتیں ‘ بارش اور تقدیر رزق۔ وَالْاَرْضِ : اور زمین کے خزانے یعنی روزی ‘ رزق سب اللہ ہی کے ہیں۔ اسی کے دست قدرت میں ہر چیز ہے ‘ کوئی کسی کو اللہ کی اجازت اور مقدرہ تقسیم کے بغیر کچھ نہیں دے سکتا ‘ نہ اس کی مشیت کے بغیر روک سکتا ہے۔ لَا یَفْقَھُوْنَ : یعنی منافقین اللہ کی شان اور قدرت سے واقف نہیں ‘ اس لیے ایسی بات کہتے ہیں ‘ اگر سمجھ لیتے تو ایسی بات نہ کہتے۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الا عزمنھا الاذل وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ..... لا یعلمون . ” کہتے ہیں اگر ہم مدینے کو لوٹ کر پہنچے تو جو عزت (اور قوّت و غلبہ) والا ہوگا وہ ذلت والے کو (یعنی کمزور کو) مدینے سے نکال کر باہر کرے گا ‘ عزت (اور غلبہ اور قوّ ت) تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو ہی حاصل ہے لیکن منافق (یہ بات) نہیں جانتے۔ اَلْعِزَّۃُ : یعنی حقیقت میں غلبہ اور قوّت تو اللہ ہی کو حاصل ہے وہ اللہ کی عطاہ کردہ ہے۔ اسی نے اپنے دین کو غالب کیا۔ دشمنوں پر ان کو فتح عنایت فرمائی ہے۔ لَا یَعْلَمُوْنَ : یعنی منافق جہالت اور غرور کے سبب اس بات کو نہیں جانتے۔
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں

یایھا الذین امنوا لاتلھکم اموالکھم ولا اولادکم عن ذکر اللہ ومن یفعل ذلک فاولئک ھم الخسرون . ” اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد (یعنی ساری دنیا) اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کریں گے وہی ناکام رہنے والے ہوں گے۔ “ اَمْوَالُکُمْ وَلَااَوْلَادُکُمْ : یعنی مال اور اولاد کا انتظام و اہتمام۔ عَنْ ذِکْرِ اللہ : لفظ ذکر عام ہے ‘ تمام عبادتوں کو شامل ہے لیکن اہل تفسیر کے نزدیک اس جگہ پانچوں وقت کی نمازیں مراد ہیں۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ : یعنی جو لوگ مال و اولاد میں ایسا اشتغال رکھیں گے ‘ جو ذکر اللہ سے مانع ہو تو ایسے ہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں کہ انہوں نے حقیر ‘ فنا پذیر چیز کو پسند کرلیا اور لازوال عالی قدر نعمت کو ترک کردیا۔ سابق آیات میں صراحت کے ساتھ منافقوں کی مذمت کی اور اس آیت میں آخر تک درپردہ ان کی بداعمالی کو بیان کیا ہے ‘ مال و اولاد کے مشغلہ میں پھنسے رہنا اور نماز کو ترک کردینا اور زکوٰۃ ادا نہ کرنا اور تاخیر موت کی تمنا کرنا اور درازئ اجل کا امیدوار ہونا یہ سب منافقوں کی خصوصیت ہے۔ مسلمانوں کے لیے منافقوں کی طرح ان میں سے کسی بات کو اختیار کرنا زیبا نہیں۔
Ayah 63:10

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا

وانفقوا من ما رقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق و اکن من الصلحین . ” اور ہم نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں سے کچھ (حقوق واجبہ ادا کرنے میں) خرچ کرو ‘ اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آ کھڑی ہو پھر وہ (حسرت و تمنا کے طور پر) کہنے لگے اے میرے ربّ ! مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہیں دی کہ میں خیر خیرات کردیتا اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا۔ “ وَاَنْفِقُوْا : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انفاق سے مراد ہے ‘ ادائے زکوٰۃ۔ اَنْ یَّاْتِی اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ : موت آنے سے مراد ہے ‘ علامات موت کا سامنے آجانا اور نشانات موت دکھائی دینا اور ایسی حالت میں خیرات کی وصیت کرنا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کونسی خیرات سب سے بہتر ہے ؟ فرمایا : ایسی حالت میں خیرات کرنی افضل ہے جب کہ تم تندرست ہو ‘ مال کی محبت رکھتے ہو ‘ تم کو مفلس ہوجانے کا اندیشہ ہو اور مالداری کے خواہش مند ہو اور اتنی تاخیر نہ کرتے چلے جاؤ کہ جان حلق میں آپہنچے اور اس وقت تم کہو اتنا فلاں کو دے دو ۔ وہ تو اس (وارث) کا ہو ہی چکا (تم دو یا نہ دو اس کو مل ہی جائے گا) ۔ فَیَقُوْلَ : یعنی زندگی میں جب صدقہ و خیرات نہ کیا ہوگا تو مرنے کے بعد حسرت سے کہے گا۔ لَوْلَآ : کیوں نہیں۔ بعض کے نزدیک لو تمنائی ہے اور لآ زائد ہے یعنی اے ربّ ! کاش دنیا میں تو مجھے تھوڑی مدت ‘ زندگی اور دے دیتا۔ اَجَلٍ قَرِیْبٍ : تھوڑی مدت۔ الصّٰلِحِیْنَ : سے مراد ہے مؤمن۔ یہ قول مقاتل اور اہل تفسیر کی ایک جماعت کا ہے ان حضرات کے نزدیک اس آیت کا نزول منافقوں کے حق میں ہوا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک مسلمانوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور صلاح سے مراد ہے ادائے واجب اور ترک ممنوع۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ضحاک اور عطیہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جس شخص کے پاس مال ہو اور اس نے زکوٰۃ نہ دی ہو یا حج کی طاقت رکھتا ہو اور حج نہیں کیا ہو اور اسی حالت میں وہ مرنے لگے تو مرنے کے وقت وہ (زندگی کی طرف) لوٹنے کی درخواست کرتا ہے اور کہتا ہے : کاش میں نیک لوگوں میں سے ہوجاتا اور حج کرلیتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی :
Ayah 63:11

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو خدا اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے

ولن .... تعملون . ” اور اللہ کسی شخص کو جب اسکی معیاد (ختم ہونے پر) آجاتی ہے مہلت نہیں دیتا اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کی پوری خبر ہے۔ “ یعنی اللہ اس کو مہلت ہرگز نہیں دے گا ‘ خواہ وہ کیسی ہی تمنا کرے۔ اِذَا جَآءَ اَجَلُھَا : جب اس کا مقرر وقت آجائے اور اس کی عمر ختم ہوجائے۔ وَ اللہ ُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : یعنی اللہ تمہارے اعمال سے باخبر اور ان کا بدلہ دینے والا ہے۔ الحمد اللہ سورة منافقون کی تفسیر ختم ہوئی