Ayah 63:1منافقین کی شرارتوں اور حرکتوں کا بیان
یہاں سے سورة المنافقون شروع ہو رہی ہے۔ اس میں منافقین کی بےایمانی اور بات کر کے مکر جانے اور جھوٹی قسم کھا جانے کا تذکرہ ہے۔ منافقین جو اوپر اوپر سے ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور دل سے کافر تھے یہ لوگ نمازوں میں بھی برے دل سے شریک ہوجاتے تھے نیز جہاد کے مواقع میں بھی حاضر ہوتے تھے اور اپنی حرکتیں جاری رکھتے تھے، شرارتوں سے اور ناگوار باتوں سے باز نہیں آتے تھے، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ جہاد کے لئے تشریف لے گئے (شراح حدیث نے فرمایا ہے کہ یہ غزوہ بنی المصطلق کا واقعہ ہے اور سنن نسائی میں اس کی تصریح ہے) منافقین بھی حسب عادت ساتھ لگ گئے تھے وہاں یہ قصہ پیش آیا کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کو دھپ مار دیا۔ اس پر انصاری نے مدد کے لئے انصار کو اور مہاجر نے مہاجرین کو پکارا رسول اللہ ﷺ نے آواز سنی تو فرمایا یہ کیا جاہلیت کی دہائی ہے (کہ مسلمان ہونے کے بعد بھی گروہ بندی کی عصبیت کام کرنے لگی) ۔ عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصاری کو ایک دھپ مار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس جاہلیت کی دہائی کو چھوڑو۔ یہ بد بودار چیز ہے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے بھی مہاجرین اور انصار کے جھگڑنے والی بات سن لی اس نے کہا کہ اچھا یہ بات ہے کہ مہاجرین انصار کو مارنے لگے۔ یہ لوگ جو باہر سے آئے ہیں ہم نے انہیں کھلایا پلایا تو یہ اتنے چڑھ گئے، یہ تو وہی بات ہوئی کہ جس کا کھائے اس پر غرائے۔ اب ان لوگوں پر خرچ نہ کرو تاکہ خود ہی منتشر ہوجائیں کھانے کو نہیں ملے گا تو خود ہی تتر بتر ہوجائیں گے اور اس نے یہ بھی کہا کہ مدینہ پہنچ کر عزت والے ذلت والوں کو نکال دیں گے (عزت والا اس نے اپنے آپ کو کہا کیونکہ انصاری پہلے سے مدینہ میں رہتے تھے اور ذلت والا مہاجرین کو کہا جو مکہ مکرمہ سے آکر مدینہ منورہ میں مقیم ہوگئے تھے) ۔
یہ واقعہ صحیح بخاری میں حضرت زید بن ارقم اور حضرت جابر ؓ دونوں سے مروی ہے جو کہ صحیح بخاری میں صفحہ 28، 29 پر مذکور ہے۔ حضرت زید بن ارقم ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن ابی منافق کی بات نقل کردی، جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو عبداللہ زور دار قسم کھا گیا اور اس نے صاف کہہ دیا کہ میں نے یہ بات نہیں کہی، عبداللہ کے جو دوسرے ساتھی تھے انہوں نے بھی جھوٹی قسم کھالی اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق فرما دی اس پر مجھے اتنی ندامت ہوئی اور طبیعت پر بوجھ ہوا اور رنج کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ﴿ اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ سے لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ﴾ تک آیات نازل فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق فرما دی، حضرت عمر ؓ ایسے مواقع پر اپنے جذبات پر قابو پانے والے کہاں تھے جو بات انہوں نے حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں کہی تھی وہ ہی بات یہاں بھی عرض کردی اور کہا یارسول اللہ مجھے اجازت دیں اس منافق کی گردن ماردوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چھوڑو اگر ایسا کرو گے تو لوگ یوں کہیں گے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔
رئیس المنافقین کے بیٹے کا ایمان والا طرز عمل :
سنن الترمذی میں بھی حضرت زید بن ارقم ؓ کی روایت مذکور ہے اس میں یہ ہے کہ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے۔ حضرت جابر ؓ کی روایت بھی امام ترمذی نے نقل کی ہے اس میں یہ ہے کہ غزوہ بنی المصطلق کا قصہ ہے علماء کرام نے اس دوسری روایت کو ترجیح دی ہے۔
جب عبداللہ بن ابی کی یہ بات اس کے بیٹے نے سنی کہ عزت دار ذلت والے کو نکال دے گا تو اس نے باپ سے کہا کہ تو مدینہ میں واپس نہیں ہوسکتا جب تک تو یہ اقرار نہ کرلے کہ تو ذلیل ہے اور رسول اللہ ﷺ عزت دار ہیں چناچہ جب اس نے یہ اقرار کرلیا تو مدینہ منورہ آنے کی اجازت دے دی یادر ہے کہ عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا نام بھی عبداللہ تھا جو مسلمان تھے۔ اب آیت کا ترجمہ دوبارہ پڑھئے اور بات سمجھتے جائیے۔ (الدر المنثور)
جب منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کو معلوم ہے کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ اپنی گواہی اور اپنی قسم میں جھوٹے ہیں۔ یہ بات تو سچ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن ان کا اس انداز سے گواہی دینا اور قسم کھانا کہ وہ آپ کو دل سے اللہ کا رسول مانتے ہیں اس میں وہ جھوٹے ہیں، آدمی اس لئے قسم کھاتا ہے کہ وہ سننے والوں کو یہ بتائے کہ میرا ظاہر و باطن ایک ہے اور جو کہہ رہا ہوں وہ ہی دل میں ہے چونکہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور رسالت کے قائل نہ تھے اس لئے ان کی اس قسما دھرمی کو اور اپنے اس دعوے کو کہ ہم دل کی گہرائی سے آپ کے رسول ہونے کی گواہی دے رہے ہیں جھوٹا قرار دیدیا درمیان میں یہ بھی فرما دیا۔ ﴿ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ 1ؕ﴾ (اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں) آپ کی رسالت کے لئے ان کی گواہی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بات یہ ہے کہ جھوٹا ہی قسمیں زیادہ کھایا کرتا ہے سچے آدمی تو بہت کم کبھی قسم کھالیتے ہیں جن کے دل میں کھوٹ ہوتا ہے وہ ہی اپنی زبان اور دل کی موافقت ثابت کرنے کے لیے قسم کھاتے ہیں۔
Ayah 63:2﴿اِتَّخَذُوْۤا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً ﴾ (انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے) اپنے جھوٹے دعوائے ایمان کو ثابت کرنے کے لئے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ مسلمان سمجھے جائیں اور مسلمانوں کے ماحول میں ان کی جانیں اور اموال اور اولاد محفوظ رہ سکیں اگر کھل کر کفر کا اقرار کرلیں تو اندیشہ ہے کہ دوسرے کافروں کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ ہی ان کے ساتھ کیا جائے اور ان کے ساتھ جو امن وامان کا برتاؤ ہوتا ہے وہ ختم کردیا جائے۔
﴿فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ﴾ (سو انہوں نے روک دیا اللہ کی راہ سے) اپنی جانوں کو بھی اللہ کی راہ سے دور رکھا اور اپنی اولاد کو بھی اور دوسرے ملنے جلنے والوں کو بھی ﴿ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 002 ﴾ (بیشک یہ لوگ جو عمل کرتے ہیں یہ برے عمل ہیں) گویہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے لئے اچھا طریقہ اختیار کیا کہ مسلمانوں سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور غیر مسلموں سے بھی) یہ لوگ اپنی بدعملی کی سزا پالیں گے۔
Ayah 63:3﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ﴾ (الآیۃ) ان کی یہ بدعملی اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ پہلے ایمان لائے یعنی ظاہری طور پر اپنے کو مومن بتایا، ان لوگوں کے لئے خیر اسی میں تھی کہ ظاہر و باطن سے مومن ہوتے اور اپنے باطن کو بھی ظاہر کے مطابق کرلیتے یعنی سچے دل سے مومن ہوجاتے لیکن انہوں نے یہ حرکت کی کہ ظاہر میں بھی کافر ہوگئے یعنی ان سے ایسی باتیں ظاہر ہوگئیں جن سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ مومن نہیں جو ظاہری ایمان تھا اس کو بھی باقی نہ رکھ سکے۔ ﴿ فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ﴾ (جب یہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر مہر مار دی گئی) ﴿ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ 003﴾ (اب یہ حق کو نہ سمجھیں گے) اور حقیقی بات کو نہ جانیں گے۔
Ayah 63:4منافقوں کی ظاہری باتیں پسند آتی ہیں :
﴿ وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ ﴾ منافقین کی صفت بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ یہ لوگ نظروں میں بھاتے ہیں ان کے قد بھی بڑے ہیں رنگ بھی اچھے ہیں۔ صحیح البخاری میں ہے کا نوا رجالا واجمل شی۔ ﴿ وَ اِنْ يَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ﴾ اور باتیں کرنے کا ڈھنگ اور فصاحت و بلاغت ایسی ہے کہ اگر آپ سے باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوں گے اور آپ ان کی بات کو دھیان سے سنیں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ﴾ (گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئی) یعنی ان کے جسم بھی قدوقامت والے ہیں اور باتیں بھی میٹھی ہیں مگر آپ کے کام نہیں آسکتے وہ ایسے ہیں جیسے لکڑیاں دیوار کے سہارے سے کھڑی ہوں۔ جیسے لکڑیاں بےجان ہیں ایسے ہی ان کے لمبے چوڑے جسموں کا حال ہے ایمان سے بھی خالی ہے اور جرت اور ہمت سے بھی، یہ آپ کے کام نہیں آسکتے۔
صاحب معالم التنزیل نے یوں تفسیر کی ہے کہ یہ لوگ اشجار مثمرہ یعنی پھل دار درخت نہیں ہیں بلکہ ایسے ہیں جیسے لکڑیاں ہوں جنہیں دیوار کے سہارے ٹیک دیا گیا ہو۔ اس کے بعد ان کی بزدلی اور باطنی خوف کا تذکرہ فرمایا ہے :
﴿يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ 1ؕ هُمُ الْعَدُوُّ ﴾ (یہ لوگ ہر چیخ کو اپنے اوپر خیال کرتے ہیں کہ دشمن ہے) چونکہ دل سے مومن نہیں ہیں اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہمارے نفاق کا پتہ نہ چل جائے اور جو بھی چیخ سنتے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر ہی کوئی مصیبت پڑنے والی ہے۔
فَاحْذَرْهُمْ لہٰذا آپ ان سے محتاط اور ہوشیار رہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو اور اہل ایمان کو کسی مصیبت میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ ﴿ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُٞ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 004 ﴾ اللہ ان کو ہلاک کرے کہاں الٹے پھرے جا رہے ہیں، ایمان کی طرف آتے ہی نہیں۔
Ayah 63:5﴿ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا ﴾ (الآیۃ) معالم التنزیل صفحہ 350: جلد 4 میں لکھا ہے کہ جب عبداللہ بن ابی منافق کے بارے میں آیت قرآنیہ نازل ہوگئی جس سے اس کا جھوٹا ہونا اور حضرت زید بن ارقم کا سچا ہونا، ثابت ہوگیا تو اس سے کسی نے کہا کہ دیکھ تیرے بارے میں کیسی سخت بات نازل ہوئی ہے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا کہ وہ تیرے لئے اللہ سے دعا کریں اس پر اس نے انکار کرتے ہوئے اپنے سر کو حرکت دی اور کہنے لگا کہ تم لوگوں نے مجھ سے ایمان لانے کو کہا تو میں ایمان لے آیا تم لوگوں نے زکوٰۃ دینے کے لئے کہا تو میں نے زکوٰۃ بھی دی۔ اب اتنی سی بات رہ گئی ہے کہ رسول اللہ کو سجدہ کرلوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ ﴿وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ ﴾ نازل فرمائی (اور جب کہا گیا کہ آجاؤ اللہ کے رسول تمہارے لئے استغفار کردیں تو انکار کرتے ہوئے اپنے سروں کو پھیر دیتے ہیں اور تکبر کرتے ہوئے بےرخی اختیار کرلیتے ہیں) ۔
صحیح بخاری میں ﴿ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ﴾ کی تفسیر میں لکھا ہے : (حرکوارؤ سھم استھزوا بالنبی ﷺ کہ یہ لوگ سر کو حرکت دیتے ہیں اور یہ حرکت دینا اس انداز میں ہوتا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑانا مقصود ہوتا ہے۔
Ayah 63:6ان کی بےرخی کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ﴿ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ﴾ (ان کے حق میں برابر ہے کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں) آپ کا استغفار کرنا انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں) ۔
﴿لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ﴾ (اللہ تعالیٰ ہرگز کبھی ان کی بخشش نہیں فرمائے گا) کیونکہ کفر کی بخشش نہیں ہوسکتی اور یہ پہلے معلوم ہوگیا کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے مزید فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 006﴾ (بیشک اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا) ۔
Ayah 63:7منافقین کہتے تھے کہ اہل ایمان پر خرچ نہ کرو وہ مدینہ سے خود ہی چلے جائیں گے :
اس کے بعد منافقین کا دوسرا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ﴿ هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا ﴾ (یہ وہ لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ مت کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ خود منتشر ہوجائیں) منافقین نے دوسری بیہودہ باتوں کی طرح یہ بھی بڑی جاہلانہ بات کہی انہوں نے اپنے کو رازق سمجھ لیا اور یہ سوچا کہ یہ مہاجرین کو کھانا نہیں دیں گے تو روٹی کی فکر انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ہٹادے گا (عموما جاہل دنیا دار اس طرح کی باتیں کہہ دیا کرتے ہیں اور مدارس و مساجد میں کام کرنے والوں پر اس طرح کی پھبتی کس دیتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرما دیا ﴿وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (اور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں خزانے آسمانوں کے اور زمین کے) جس کو چاہے گا دے گا، کوئی یہ نہ سمجھے کہ فلاں کھانا دیتا ہے۔ سب کو کھلانے پلانے والا اللہ ہی ہے۔ ﴿ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ 007﴾ (لیکن منافق نہیں سمجھتے) ۔
اللہ اور رسول اور مومنین ہی کے لئے عزت ہے :
(اور اللہ ہی کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لئے) ﴿ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ 007﴾ (اور لیکن منافقین نہیں جانتے) تھوڑی سی دنیا کے بل بوتہ پر یہ باتیں کر رہے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ اللہ کے رسول اور اہل ایمان ہی عزت والے ہوں گے اور یہ جاہل منافق ہی ذلیل اور خوار ہوں گے، بالآخر ایک وہ دن آیا کہ ان کو مسجد نبوی سے ذلت کے ساتھ نکال دیا گیا پھر ایک ایک کر کے دفع اور دفن ہوگئے اور بعض اسلام قبول کر کے عزت کی زندگی میں داخل ہوگئے۔
Ayah 63:8منافقین نے یہ جو کہا تھا کہ مدینہ پہنچ کر عزت دار ذلت والے کو نکال دے گا ان کی اس بات کو نقل کرتے ہوئے فرمایا :
﴿يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ﴾ (وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس ہوگئے عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا) اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم عزت دار ہیں مدینہ شہر ہمارا شہر ہے۔ ہم اس میں پہلے سے رہتے ہیں مہاجر بعد میں آئے ہیں ہمارے سامنے ذلیل ہیں (العیاذ باللہ) ۔ ہم ان کو نکال دیں گے بات صاف نہیں کہی مگر کہہ دی متکلم کا صیغہ کہنے کے بجائے غائب کا صیغہ اختیار کیا، اللہ جل شانہ نے جواب میں فرمایا ﴿ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ﴾
Ayah 63:9تمہارے اموال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں، اللہ نے جو کچھ عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو !
دنیا میں مال اور اولاد دو چیزیں ایسی ہیں جن میں مشغول ہو کر انسان اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے۔ فرائض اور واجبات کو چھوڑنا نوافل و اذکار سے دور رہنا زبان سے دنیاوی دھندوں میں پھنسا رہنا، یہ سب امور ایسے ہیں جو اللہ کی یاد سے غافل کرنے والے ہیں، آدمی مال کمانے میں لگتا ہے تو اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے اولاد کو مالدار بنانے کے لئے اور موت کے بعد بہت سا مال چھوڑنے کے لئے كمائی کرتا ہے۔ حلال حرام کا خیال نہیں کرتا زکوٰۃ ادا نہیں کرتا واجبات شرعیہ میں خرچ نہیں کرتا، اگر کوئی شخص حلال مال ہی کمائے تب بھی کمانے کا انہماک اللہ کی یاد سے غافل کردیتا ہے، پھر اولاد کے غیر ضروری اخراجات لاڈ اور پیار اور ایسی ہی بہت سی چیزیں ہیں جو گناہ پر لگاتی ہیں اور اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں۔ بقدر ضرورت اپنی جان کے لئے اپنے اہل و اولاد کے لئے اپنے ماں باپ کے لئے مال کمانا جس میں اللہ کی رضا بھی مقصود ہو یہ تو اللہ کے ذکر میں ہی شامل ہے لیکن جس میں دنیا ہی مقصود ہو مال ہی مقصود ہو اس میں اللہ کے ذکر سے غفلت ہوجاتی ہے۔
پھر فرمایا ﴿ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 009﴾ (اور جو شخص ایسا کرے یعنی اللہ کے ذکر سے غافل ہوجائے تو یہ لوگ نقصان میں پڑنے والے ہیں) جو شخص کافر ہے وہ تو پورا ہی خسارہ میں ہے یعنی اس کی ہلاکت کامل ہے آخرت میں اس کے لئے دائمی عذاب ہے اور جو شخص مومن ہوتے ہوئے دنیا کے جھمیلوں میں لگے وہ بقدر جھمیلوں کے اللہ کے ذکر سے غافل رہتا ہے اور اسی کے بقدر خسارہ میں ہے اور یہ خسارہ کوئی معمولی نہیں ہے اللہ کا نام لینے سے ذراسی غفلت بھی بہت بڑے نقصان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص نے ایک بار سبحان اللّٰہ وبحمدہ کہا اس کے لئے جنت میں کھجور کا درخت لگا دیا جائے گا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ایک بار سبحان اللّٰہ والحمدللّٰہ ولا اِلٰہَ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر کہہ دوں تو یہ مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے۔ دیکھو اللہ کے ذکر سے غافل ہونے میں کتنا بڑا نقصان ہے ؟
Ayahs 63:10–11اس کے بعد مال خرچ کرنے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا ﴿ وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ﴾ (الآیۃ) کہ موت آنے سے پہلے اس مال میں سے خرچ کرو جو ہم نے تم کو دیا ہے۔ چونکہ ذکر اللہ سے غفلت مال کمانے میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے ساتھ ہی مال خرچ کرنے کا بھی حکم دیدیا، مال آتا ہے تو خرچ بھی ہوتا ہے مومنین صالحین اسے اللہ کی رضا میں خرچ کرتے ہیں اور جن لوگوں کو مال سے محبت ہوتی ہے دین پر چلنے کا شوق نہیں ہوتا وہ مال لے کر بیٹھے رہتے ہیں روپیہ پیسہ کے غلام بنے رہتے ہیں، فرض زکوٰۃ اور تھوڑا سا صدقہ بھی انہیں کھلتا ہے۔
آیت بالا میں یہ بھی فرمایا ہے کہ موت کے آنے سے پہلے مال خرچ کرو اگر زندگی میں اللہ کے لئے مال خرچ نہ کیا تو موت کے وقت یہ آرزو کام نہیں آئے گی کہ تھوڑی سی اور زندگی مل جاتی تو اللہ کے لئے خرچ کرتا اور صالحین میں سے ہوجاتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس کے پاس اتنا مال ہو جس کے ذریعہ بیت اللہ کا حج کرسکتا ہے اور زکوٰۃ فرض ہوگئی پھر اس نے اس کو زکوۃ ادانہ کی تو وہ موت کے وقت رجعت کا سوال کرے گا یعنی یہ کہے گا کہ مجھے واپس زندگی دے دی جائے تاکہ صدقہ دے دوں اور نیک کام کروں اس کے بعد حضرت ابن عباس ؓ نے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ ﴾ سے لے کر آخری سورة تک تلاوت فرمائی۔ آخر میں فرمایا ﴿ وَ لَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا 1ؕ وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (رح) 0011﴾ کسی کی جان کی موت کو اللہ موخرنہ کرے گا جب اجل آگئی۔ اجل پر تو مرنا ہی مرنا ہے جسے جو کچھ عمل کرنا ہے موت سے پہلے ہی کرلے، موت کے وقت حسرت کام نہ دے گی اور زندگی واپس نہ ملے گی اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ زندگی بھر میں نے جو کچھ کیا ہے اس کی کسی کو کیا خبر ہے کیونکہ جس نے پیدا کیا جان دی اور زندگی دی اس کو تمہارے ہر کام کی خبر ہے۔
آخر تفسیر سورة المنافقون والحمدللہ اولا و آخرا