63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsبیان القرآن

Ayahs 63:1–3

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب آپ کے پاس یہ منافقین آتے ہیں (ف 6) تو کہتے ہیں کہ ہم (دل سے) گواہی دیتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں (اس میں تو ان کے قول کی تکذیب نہیں کی جاتی) اور (باوجود اس کے) اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین (اس کہنے میں) جھوٹے ہیں۔

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال بچانے کے لئے) سپر بنارکھا ہے پھر یہ لوگ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں بیشک ان کے یہ اعمال بہت ہی برے ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

(اور ہمارا) یہ (کہنا کہ ان کے اعمال بہت برے ہیں) اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ (اول ظاہر میں) ایمان لائے پھر (کلمات کفریہ کہ کر) کافر ہوگئے سو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو یہ (حق بات کو) نہیں سمجھتے۔

ف 6۔ سبب نزول آیات متضمنہ ذکر منافقین کا یہ ہے کہ کسی غزوہ میں کسی مہاجر اور انصاری میں تکرار ہوگیا، اس پر عبداللہ بن ابی بگڑا کہ تم نے ان پر دیسیوں کو روٹیاں کھلا کھلا کر بگاڑ دیا۔ اب کے مدینہ پہنچ کر ان لوگوں کو خرچ دینا بند کردو، خود ہی چلے جائیں گے، اور یہ بھی کہا کہ ہم عزت والے ہیں ان ذلت والوں کو نکال دیں گے، یہ بات زید بن ارقم صحابی نے سن کر رسول اللہ ﷺ سے جا کہی، آپ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے رفقاء کو بلا کر پوچھا وہ صاحب مکر گیا اور قسمیں کھا گیا، زید بن ارقم کو بڑا رنج ہوا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayahs 63:4–5

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب آپ ان کو دیکھیں تو (شان و شوکت ظاہری کی وجہ سے) ان کی قدرو قامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور اگر یہ باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتیں سن لیں گویا یہ لکڑیاں ہیں جو (دیوار کے) سہارے لگائی ہوئی (کھڑی) ہیں (کہ جثّہ میں تو لمبی چوڑی موٹی موٹی مگر بےجان محض) ․ہرغل پکار کو (خواہ وہ کسی وجہ سے ہو) اپنے اوپر (پڑنے والی) خیال کرنے لگتے ہیں (ف 1) ․یہی لوگ (تمہارے پورے) دشمن ہیں آپ ان سے ہوشیار رہئے (ف 2) ․خدا ان کو غارت کرے (دین حق سے) کہاں پھرے چلے جاتے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (رسول اللہ (علیہ السلام) کے پاس) آؤ تمہارے لئے رسول اللہ استغفار کردیں تو وہ اپنا سر پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ (وہ اس ناصح اور استغفار سے) تکبر کرتے ہوئے بیرخی کرتے ہیں۔

ف 1۔ یعنی جب کوئی شور وغل ہوتا ہے یہی سمجھتے ہیں کہ کہیں ہمارے ہی اوپر افتاد پڑنے والی نہ ہو۔ 2۔ یعنی ان کی کسی بات کا اعتماد نہ کیجئے۔
Ayahs 63:6–8

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

(جب ان کے کفر کی یہ حالت ہے تو) ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں خواہ ان کے لئے آپ استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں اللہ تعالیٰ انکو ہرگز نہ بخشے گا (ف 3) ․بے شک اللہ تعالیٰ ایسے نافرمان لوگوں کو (توفیق) ہدایت (کی) نہیں دیتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ (علیہ السلام) کے پاس (جمع) ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو یہاں تک کہ یہ آپ ہی منتشر ہوجاوینگے . اور (ان کا یہ کہنا جہل محض ہے کیونکہ) اللہ ہی کے ہیں سب خزانے آسمانوں کے اور زمین کے و لیکن منافقین سمجھتے نہیں ہیں۔

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

(اور) یہ (لوگ) کہتے ہیں کہ اگر ہم اب مدینہ میں لوٹ کرجائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو باہر نکال دے گا اور (یہ کہنا جہل محض ہے بلکہ) اللہ کی ہے عزت (بالذات) اور اس کے رسول (علیہ السلام) کی (بواسطہ تعلق مع اللہ کے) اور مسلمانوں کی (بواسطہ تعلق مع اللہ والرسول کے) و لیکن منافقین جانتے نہیں۔

ف 3۔ مطلب یہ کہ اگر وہ آپ کے پاس آتے بھی اور آپ ان کی ظاہری حالت کے اعتبار سے استغفار بھی فرماتے تب بھی ان کو کچھ نفع نہ ہوتا۔
Ayahs 63:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے ایمان والو تم کو تمہارے مال اور اولاد (مراد اس سے مجموعہ دنیا ہے) اللہ کی یاد اور (اطاعت) سے (مراد اس سے مجموعہ دین ہے) غافل نہ کرنے پاویں (ف 4) . اور جو ایسا کرے گا ایسے لوگ ناکام رہنے والے ہیں۔ (ف 5)

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور (منجملہ طاعات کے ایک طاعت مالیہ کا حکم کیا جاتا ہے کہ) ہم نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں سے (حقوق واجبہ) اس سے پہلے پہلے خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آ کھڑی ہو ․پھر وہ (بطور تمنا و حسرت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو اور تھوڑے دنوں کیوں مہلت نہ دی کہ میں خیر خیرات دے لیتا اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا۔

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کسی شخص کو جب کہ اس کی میعاد (عمر کی ختم ہونے پر) آجاتی ہے ہرگز مہلت نہیں دیتا . اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کو پوری خبر ہے (ویسی ہی جزا کے مستحق ہوگے ) ۔

ف 4۔ یعنی دنیا میں منہمک موت ہوجانا کہ دین میں خلل پڑنے لگے۔ 5۔ کیونکہ نفع دنیوی تو ختم ہوجاوے گا اور ضرر اخروی ممتد یا دائم رہ جائے گا۔