Ayah 63:1اذا جآءک المنفقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون۔ امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم سے روایت نقل کی ہے (1) کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا تو میں نے عبداللہ بن ابی بن سلول کو کہتے ہوئے سنا : لاتنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا اور کہا، لئن رجعنآٰ الی المدینۃ لیخرجن الاعزمنھا الاذل میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور میرے چچا نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے قاسم اٹھا دی کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق کردی اور مجھے جھٹلایا۔ مجھے ایسا غم لاحق ہوا جیسا کبھی غم لاحق نہیں ہوا تھا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی صدیق کردی اور مجھے جھٹلایا۔ مجھے ایسا غم لاحق ہوا جیسا کبھی غم لاحق نہیں ہوا تھا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو (آیت)
کو نازل کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا بھیجا پھر فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے تیری تصدیق کی ہے۔ “ اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت زید بن ارقم سے مروی ہے (1) ، ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک غزوہ میں شرکت کی جبکہ ہمارے ساتھ کچھ بدو بھی تھے ہم پانی کی طرف جلدی کرتے تو بدو ہم سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے بدو اپنے ساتھیوں پر سبقت لے جاتا وہ حضو بھرتا اور اس کے گرد پتھر رکھ دیتا اور اس پر چمڑے سے بنی چٹائی ڈال دیتا یہاں تک کہ اس کے ساتھی آجاتے ایک انصاری ایک بدو کے پاس آیا، اپنی اونٹنی کی لگام ڈھیلی کی تاکہ وہ پانی پی لے اس بدو نے انکار کردیا کہ پانی اس کے لئے چھوڑے۔ اس انصاری نے ایک پتھر وہاں سے ہٹایا تو پانی کم ہوگیا۔ بدو نے ایک لکڑی اٹھائی اور انصاری کے سر پر ماری اور اسے زخمی کردیا۔ وہ انصاری عبداللہ بن ابی کے پاس آیا جو منافقوں کا سردار تھا اور اسے بتایا یہ آدی بھی اس کے ساتھیوں میں سے تھا۔ عبداللہ بن ابی غضبناک ہوگیا۔ پھر اس نے کا : جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کے پاس چلے جائیں کھانے کے وقت یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ عبداللہ نے کہا، جب وہ حضرت محمد ﷺ کے پاس سے چلے جائیں تو اس وقت حضرت محمد ﷺ کے پاس کھانا لے جائو تو آپ ﷺ خود اور آپ کے صحابہ کھائیں۔ پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا : اگر تم مدینہ طیبہ کی طرف لوٹو تو عزت والا اس سے ذلیل کو ناکل دے۔ زید نے کہا، میں اپنے چچا کا ردیف تھا میں نے عبداللہ بن ابی کی بات کو سنا تو میں نے اپنے چچا کو اس بارے میں خبر دی میرا چچا گیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی، رسول اللہ ﷺ نے اسے بلا بھیجا اس نے قسم اٹھائی اور اس بات کا انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور مجھے جھٹلایا۔ میرا چچا میرے پاس آیا اور کہا، میں نے یہ ارادہ نہیں کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تجھ سے ناراض ہوں اور رسول اللہ ﷺ اور منفاق تجھے جھٹلائیں۔ کہا : مجھ پر ان کی جرأت ایسی واقع ہوئی جیسی کسی پر واقع نہیں ہوئی تھی۔ اسی اثناء میں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا میں نے غم کی وجہ سے سر جھکایا ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے میرے کان کو ملا اور میرے ساتھ مسکرائے، اگر اس کے بدلے میرے لئے تمام دنیا ہوتی تو مجھے وہ چیز خوش نہ کرتی پھر حضرت ابوبکر صدیق مجھے آ ملے۔ پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے تجھے کیا فرمایا ؟ میں نے عرض کی : مجھے تو کچھ نہیں فرمایا، صرف آپ ﷺ نے میرے کان کو ملا اور میرے سامنے مسکرائے۔ فرمایا، تجھے بشارت ہو۔ پھر حضرت عمر مجھے ملے۔ میں نے آپ کو اسی طرح کی بات کی جو میں نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہی تھی۔ جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ نے سورة منافقین پڑی۔ ابو یحییٰ نے کہا، یہ حدیث حسن صحیح یہ۔ حضرت حذیفہ سے منافق کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا : جو اسلام کا صوف بیان کرے اور اس پر عمل نہ کرے۔ وہ آج کے روز ان سے زیادہ شر یر ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھے کیونکہ ان دنوں وہ نفاق چھپایا کرتے تھے آج وہ ظاہر کرتے ہیں۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” منافق کی تین علامات ہیں۔ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو اسے توڑتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔ “ (1)
حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا :” چار چیزیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے ان میں سے ایک جس میں ہو اس میں نفاق کی خصلت ہے یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکیھ جائے تو وہ خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اسے توڑے اور جب وہ جھگڑا کرے تو گالی گلوچ نکالے۔ “ (2) نبی کریم ﷺ نے خبر دی کہ جو ان خصائل کو مع کرے تو وہ منافق ہے اور آپ ﷺ کی خبر سچی ہے۔ حضتر حسن بصری کے بارے میں مروی ہے کہ ان کے سامنے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا، بنی یعقوب نے بات کی تو جھوٹ بولا، وعدہ کیا تو اسے توڑا، ان کے پاس امانت رکیھ گی تو انہوں نے خیانت کی۔ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد خبردار کرنے کے طریقہ پر ہے اور ڈرانے کے انداز میں ہے کہ کہیں وہ ان خصلتوں کے عادی ہی نہ بن جائیں اس خوف کی وجہ سے کہ یہ خصلتیں انہیں نفاق کی طرف لے جائیں گی۔ اس کا یہ معنی نہیں جن سے یہ امور جلدی کی وجہ سے اختیار اور عادت کے بغیر واقع ہوں وہ منافق ہیں۔ اس بارے میں گفتگو مفصل سورة براۃ میں گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مومن جب گفتگو کرتا ہے، سچ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکیھ جاتی ہے تو پوری پوری واپس کرتا ہے۔ ‘ معنی ہے کامل مومن جب گفتگو کرتا ہے تو سچ بولتا ہے۔
قالوانشھدانک لرسول اللہ ایک قول یہ کیا گیا ہے (3) نشھد کا معنی ہے ہم قسم اٹھاتے ہیں۔ حلف کو شہادت سے تعبیر کیا کیونکہ قسم اور شہادت غائب امر کو ثابتک رتے ہیں، اسی معنی میں قیس بن ذریح کا قول ہے۔
واشھد عند اللہ انی احب تھا فھذا لھا عندی فما عندھالیا (4)
میں اللہ تعالیٰ کے ہاں قسم اٹھاتا ہوں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں یہ میرے ہاں اس کے لئے ہے اس کے ہاں میرے لئے نہیں۔
یہ احتمال موجود ہے کہ یہ کلام ظاہر معنی پر محمول ہو وہ گواہی دیتے ہوں کہ محمد، رسول اللہ ﷺ ہیں وہ ایمان کا اعتراف کرتے ہوں اور اپنی ذاتوں سے نفاق کی نفی کرتے ہوں۔ یہ تعبیر زیادہ مناسب ہے۔
واللہ یعلم انک لرسولہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سج طرح انہوں نے اپنی زبانوں سے کہا : واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون۔ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ انہوں نے اپنی زبانوں سے جو گواہی دی اور قسم اٹھائی ہے اس میں وہ جھوٹے ہیں۔ فراء نے کہا، معنی ہے اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ وہ اندر سے جھوٹے ہیں جھٹلانا یہ ان کے ضمائر کی طرف لوٹے گا۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایمان سے مراد تصدیق قلبی ہے اور حقیقی کلام دل کی کلام ہوا کرتی ہے۔ جو آدمی کوئی بات کرے اور اس کے برعکس کا اعتقاد رکھے تو وہ جھوٹا ہے۔ سورة بقرہ کے شروع میں یہ بات گزر چکی ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قسموں میں جھوٹا قرار دے دیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویحلفون باللہ انھم المنکم وماھم منکم (التوبۃ : 56 )
Ayah 63:2اس میں تین مسائل ہیں۔
اتخذوآ ایمانھم جنۃ، جنۃ کا معنی پر وہ ہے (1) یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، نشھد انک لرسولہ اللہ کی طرف راجع نہیں یہ آیت کے سبب کی طرف راجع ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جس طرح امام بخاری اور امام ترمذی نے ابن ابی کے بارے میں روایت نقل کی ہے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ اس نے یہ بات نہیں کی حالانکہ اس نے یہ بات کہی تھی۔ ضحاک نے کہا، اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھایت ھی کہ وہ تمہیں میں سے ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : ان کی ایمان سے مرادوہ ہے جو ان کے رب نے ان کے بارے میں سورة براۃ آیت 74 میں خبر دیا رشاد باری تعالیٰ ہے : یحلفون باللہ ماقلوا۔
مسئلہ نمبر 2۔ جس نے کہا : اقسم باللہ اشھد باللہ اعزم باللہ احلف باللہ، اقسمت باللہ اشھدت باللہ۔ اعزت باللہ، احلف باللہ۔ سب میں فرمایا : باللہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ قسم ہے۔ اس طرح امام مالک اور آپ کے اصحاب کا نقطہ نظر ہے۔ اگر کوئی کہے : اقسم، اشھد، اعزم، احلف اور بالہل کے الفاظ نہ کہے اگر وہ ارادہ کرے تو قسم ہوگی اگر وہ باللہ کا ارادہ نہ کرے تو یہ قسم نہ ہوگی۔ ال کیا نے امام شافعی سے بیان کیا ہے امام شافعی نے کہا جب ایک آدمی نے کہا اشھد باللہ اور قسم کی نیت کی تو وہ قسم ہی ہوگی (2) امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب نے کہا، اگر اس نے کہا اشھد باللہ لقد کان کذا تو وہ قسم ہوگی (3) اگر اس نے کہا، اشھد لقد کان کذانیت نہ کی تو اس آیت کی وجہ سے وہ قسم ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شہادت کا ذکر کیا پھر فرمایا : اتخذوا ایمانھم جنۃ امام شافعی کے نزدیک وہق سم نہ ہوگیا گرچہ وہق سم کی نیت کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، اتخذوآ ایمانھم جنۃ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان قالوا انشھد کی طرف نہیں لوٹ رہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : یحلفون باللہ ماقالوا جو سورة براۃ میں ہے کی طرف لوٹ رہا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ فصدواعن سبیل اللہ انہوں نے اعراض کیا۔ یہ صدود سے مشتق ہے یا ممونین کو پھیر دیا کہ وہ منافقوں پر اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ کریں جیسے قتل کرنا، قیدی بنانا اور مال چھین لینا۔ یہ صد سے مشتق ہے یا انہوں نے لوگوں کو جہاد سے روکا وہ پیچھے رہیں اور دوسرے لوگ بھی ان کی اقتدار کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے یہودیوں اور مشرکوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکا کہ انہوں نے کہا، لو ہم کافر ہیں اگر محمد ﷺ نبی برحق ہوتے تو ہم سے اس نفاق و پہچانتے ہوتے اور ہمیں عبرت کا نشان بناتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کیا کہ ان کا حال مخفی نہیں لیکن اس کا حکم یہ ہے جو ایمان کو ظاہر کرے تو ظاہر میں اس پر ایمان کا حکم جاری کیا جائے گا۔
انھم سآء ماکانوا یعملون۔ ان کے اعمال خبیشہ کتنے ہی برے ہیں، ان کا نفاق، ان کی جھوٹی قسمیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنا۔
Ayah 63:3اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ خبر دی گئی ہے کہ منفاق کافر ہیں یعنی انہوں نے زبان سے اقرار کیا پھر دل سے انکار کردیا۔ یہ قول یہ کیا گیا ہے، یہ آیت اسی قوم کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لاتے پھر انہوں نے ارتداد اختیار کیا۔
فطبع علی قلوبھم ان پر کفر کی مہر لگا دی گئی۔ فھم لایفقون۔ وہ ایمان و خیر کو نہیں مانتے۔ زید بن علی نے فطبع اللہ علی قلوبھم پڑھا ہے۔
Ayah 63:4واذا رایتھم تعجبک اجسامنھم ان کی ہیتیں اور ان کے مناظر آپ کو خوش کریں گے۔ و ان یقولوا تسمع لقولیم مراد عبداللہ بن ابی ہے یعنی آپ اس کی بات غور سے سنتے ہیں۔ حضتر ابن عباس نے فرمایا : عبدلالہ بن ابی خبوصورت جسم، صحت مند، روشن چہرے والا اور عمدہ گفتگو کرنے والا تھا (1) جب وہ گفتگو کرتا تو نبی کریم ﷺ اس کی گفتگو توجہ سے سنتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت کاملص ورت اور اچھی گفتگو سے کی ہے۔ کلبی نے کہا، مراد ابن ابی، جد بن قیس اور معتب بن قشیر ہے۔ سب بڑے جسیم، خوبصورت اور فصیح گفتگو کرنے والے تھے۔ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان کا نھم خشب مسندۃ کی تفسیریوں ہے، وہ سب خوبصورت لوگ تھے گویا ایسی لکڑیاں ہوں جنہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کردیا گیا ہو۔ انہیں ایسی لکڑیوں کے ساتھ تشبیہ دی گی ہے جنہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کیا گیا ہو جو نہ بات توجہ سے سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔ یہ ایسے جسم ہیں جن میں روحیں نہیں اور ایسے جسم ہیں جن میں قعل نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی لکڑیوں سے تشبیہ دی ہے جسے دیمک نے کھالیا ہو اور وہ کسی سہارے کھڑی ہوں۔ ان میں کیا ہے کوئی پتہ نہ ہوڈ
قنبل، ابو عمرو اور کسائی نے خشب شین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، یہ حضرت براء بن عازب کی قرأت ہے۔ ابوعبید نے بھی اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ اس کا واحد خشبہ ہے جس طرح تو کہتا ہے، بدنہ بدن لغت میں فعلہ کی جمع فعل کے وزن پر نہیں آتی۔ اس کے تقل سے یہ لازم آتا ہے کہ توالبدن پڑھے۔ یزیدی نے ذکر کیا ہے کہ یہ خشباء کی جمع ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وحدآئق غلباً ۔ (عبس) اس کا واحد حدیقۃ غلباء ہے۔ باقی قراء نے تشقیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ بزئی کی ابن کثیر سے اور عیاش کی ابو عمرو سے روایت ہے۔ اکثر روایات عاصم سے ہیں۔ ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے گویا یہ خشاب اور خشب کی جمع ہے جس طرح ثموۃ ثمار اور ثمر ہے اگر تو چاہغے تو خشبہ کی جمع خشب بنا لے۔ سیبویہ نے کہا، خشبہ کی جمع خشب ہے جس طرح بدنہ کی جمع بدن ہے اسی کی مثل ہاء کے بغیر ہے۔ خشبہ کی جمع خشاب اور اس کی جمع خشب ہے جس طرح ثموۃ کی جمع ثمار اور ثمار کی مع ثمر ہے اسناد کا معنی امالہ (جھکانا) ہے تو کہتا ہے، اسندت الشئی یعنی تو نے اسے جھ کیا ا۔ مستدۃ کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یعنی انہوں نے اپنی جانوں کی حفاظت کی خاطر ایمان کا سہارا لیا۔
یحسبون کل صیحۃ علیھم ھم العدو صیحۃ سے پہلے اھل کا لفظ مخذوف ہے۔ ھم العدو مفعول ثاین کے محل میں ہے۔ اس شرط پر کہ کلمہ میں ضمیر نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی صفت بزدلی اور ذلت سے بیان کرت ا ہے۔ مقاتل اور سدی نے کہا، جب کوئی لشکر میں ندا کرنے والا یہ ندا کرے کہ کوئی جانور چھوٹ گیا ہے یا کسی گمشدہ چیز کا اعلان کیا جائے تو وہ گمان کرتے ہیں کہ مراد وہی ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں رعب ہے جس طرح شاعر اخطل نے کہا :
مازلت تحسب کل شئی بعدھم خیلا تکز علیھم ورجالا (1)
ان کے بعد تو ہر شی کو گمان کرتا ہے کہ وہ گھڑ سوار ہیں یا پیدل جوان پر پے در پے حملہ کرتے ہیں۔
ایکق ول یہ کیا گیا ہے کہ یحسبون کل صیحۃ علیھم ھم العدوا ایسی کلام ہے (2) جس کی ضمیر اس میں ہے جو مابعد کی محتاج نہیں، تقدیر کلام یہ ہے یحسبون کا صیحۃ علیھم انھم قدفطن بھم وعلم بنفقاتھم کیونکہ جہاں تک ہو خطرہ خوف ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے نئے سرے سے خطاب فرمایا : ھم العدو، یہ ضحاک کے قول کا معنی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہر آواز کو گمان کرتے ہیں جسے وہ مسجد میں سنتے ہیں کہ وہ آواز انہی کے متعلق ہے اور نیب کریم ﷺ نے ان کے قتل کے بارے میں حکم دیا۔ وہ ہمیشہ خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کوئی ایسا امر نہ نازل فرما دے جو ان کے خونوں کو مباح کر دے اور ان کے پردوں کو چاک کر دے۔ اس معنی میں شاعر کا قول ہے :
فلو انھا عصفورۃ لحسب تھا مسومۃ تدعوا عبیدا وازنما (1)
اگرچہ وہ چڑیا ہو میں اسے نمایاں سردار خیال کرتا ہوں جو غلاموں اور کمینے لوگوں کو بلائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ساتھ ان کی صفت بیان کی ھم العدوفا حذرھم سے عبدالرحمان بن ابی حاتم نے بیان کیا ہے فاخذرھم میں دو وجوہ ہیں (1) اس سے احت یاط کیجیے کہ تو ان کے قول پر اعتماد کرے اور ان کے کلام کی طرف مئال ہو۔ (2) وہ جو آپ ﷺ کے دشمنوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اور آپ کے صحابہ کو چھوڑتے ہیں ان سے احتیاط کیجیے۔
قتلھم اللہ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی، یہ حضرت ابن عباس اور ابو مالک کا قول ہے یہ ذم و توجیح کا قول ہے۔ عرب کہتے ہیں، قاتلہ اللہ ما اشعرہ عرب اسے تعجب کی جگہ رکھتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا یا ہے۔ قتلھم اللہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے آدمی کے محل میں رکھا جس کے ساتھ جابر دشمن جنگ کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر معاند پر غالب ہے، ابن عیسیٰ نے یہ حکایت بیان کی ہے۔
انی یوفکون۔ کیسے وہ جھوٹ بولتے ہیں یہ حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے (2) قتادہ نے کہا، وہ حق سے کیسے اعرضا کرتے ہیں۔ حسن بصری نے کہا، وہ ہدایت سے پھترے ہیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، دلائل کے واضح ہونے کے باوجود ان کی عقلیں کیسے گمراہ ہوتی ہیں۔ یہ افت سے مشتق ہے جس کا معنی پھرنا ہے۔ الی یہ کیف کے معنی میں ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 63:5واذا قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ جب قرآن ان کی صفت کے بارے میں نازل ہوا ان کے قبیلہ کے لوگ ان کے پاس گئے انہوں نے کہا، تم نفاق کی وجہ سے ذلیل و رسوا ہوگئے۔ نفاق سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور یہ عرض کرو کہ وہ تمہاری بخشش فرمائے تو انہوں نے اپنے سروں کو جھٹک دیا یعنی انہوں نے استہزاء کے انداز میں اور انکار کرتے ہوئے اسے حرکت دی، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر سبب میں عبداللہ بن ابی کا ایسا موقف تھا جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی طاعت پر برانگیختہ کرتا۔ اسے کہا گیا، یہ چیز تجھے کیا نفع دے گی جبکہ رسول اللہ ﷺ تجھ پر ناراض ہیں۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہو آپ تیرے لئے بخشش طلب کریں گے۔ اس نے انکار کردیا۔ اس نے کہا، میں آپ کے پاس نہیں جائوں گا۔ ان ایٓات کے نزول کا سبب یہ ہے کہ نیب کریم ﷺ نے بنی مصطلق کے ایک چشمہ پر جنگ کی جسے مریسیع کہتے جو قدیہ سے ساحل کی جانب تھا۔ حضرت عمر کے مزدور جسے جیجاہ کہتے کا عبداللہ بن ابی کے حلیف کے ساتھ جھگڑا ہوگیا جسے سنان کہتے ہیں جھگڑا ایک چشمہ پر ہوا جسے مثلل کہتے۔ جہجاہ نے مہاجرین کو بلایا اور سنان نے انصار کو بلایا۔ جہجاہ نے سنان کو تھپڑ مارا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا، کیا انہوں نے ایسا کیا ہے اللہ کی قسم ! ہماری اور ان کی مثال اس کی طرح ہے جس طرح پہلے نے کہا : اپنے کتے کو مٹوا کرو تاکہ وہ تجھے کھا جائے۔ اللہ کی قسمچ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو عزت والا ذلیل کو نکال دے گا (عزت والے سے مراد اس نے اپنی ذات اور اذل سے مراد اس نے سرور دو عالم ﷺ کی ذات لی) پھر اپنی قوم سے کہا، اپنے ھکانے کو آپ سے روک لو جو آپ کے پاس ہیں ان پر کھانا خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ بکھر جائیں اور چھوڑ جائیں۔ حضرت زید بن ارقم نے کہا جبکہ وہ عبداللہ کے حمایتیوں میں سے تھا : اللہ کی قسم ! تو ذلیل ہے، اپنی قوم میں پست درجہ پر ہے اور حضرت محمد ﷺ رحمان کی جانب سے عزت سے سرفراز ہیں اور مسلمانوں کی جانب سے محبت سے سرفراز ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں اس کے بعد تجھ سے کلام نہیں کروں گا۔ عبداللہ منافقف نے کہا، خاموش رہ، میں تو ویسے ہی بات کر رہا تھا۔ حضرت زید نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عضر کی تو عبدلالہ بن ابی نے قسم اٹھا دی نہ اس نے یہ عمل کیا اور نہ ہی یہ بات کہی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی معذرت قبول کرلی۔ حضرت زید نے کہا، مجھے بڑا دکھ ہوا اور لوگوں نے مجھے ملامت کی تو سورة منافقین حضرت زید کی تصدیق اور عبدلالہ کی تکیذب میں نازل ہوئی۔ عبداللہ بن ابی سے کہا گیا : تیرے بارے میں شدید ایٓات نازل ہوئی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا کہ اپنے بارے میں بخشش کا طالب ہو۔ تو اس نے اپنا سر ہلا دیا تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ امام بخاری، امام مسلم اور امام ترمذی نے اسی معنی کی روایات نقل کی ہیں۔ سورت کے آغاز میں وہ گزر چکی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یستغفرلکم کا معنی ہے نفاق سے توبہ کی دعا کریں گے کیونکہ توبہ کا معنی بھی استغفار ہے۔
ورایتھم یصدون وھم مستکبرون۔ وہ رسول اللہ سے اعراض کرتے ہیں اور تکبر سے اعراض کرتے ہیں۔ نافع نے تخفیف کے ساتھ لووا پڑھا ہے باقی قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابوعبید نے اسے ہی پسند کیا ہے۔ کہا : یہ جماعت کا فعل ہے۔ نحاس نے کہا، یہ درست نہیں کیونکہ یہ عبداللہ بن ابی کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب اسے کہا گیا : آئو ! تیرے لئے رسول اللہ مغرفت طلب کریں تو اس نے استہزاء کے طریقہ پر اپنا سر ہلا دیا۔ اگر یہ کہا جائے : جماعت کے فعل کے ساتھ اس کے بارے میں کیو خبر دی گی ؟ اسے کہا جائے گا : عرب اسی طرح کرتے ہیں جب وہ کسی انسان کے بارے میں میں کنایۃ بات کرتے ہیں۔
سیبوبہ نے حضرت حسان کا شعرپ ڑھا :
ظننتم بان یخفی الذی قد صنعتم وفینا رسول عندہ الوحی واضعہ
تو گمان کرتا ہے ہے کہ جو تو نے کہا ہے وہ مخفی رہے گا جبکہ ہمارے درمیان اللہ کے رسول ہیں ان کے پاس وحی آتی ہے۔
حضرت حسان بن ثابت نے ابن ابیرق سے خطاب کیا جس نے مکہ مکرمہ میں چوری کی اس کا واقعہ مشہور ہے۔
یہ بھی جائز ہے کہ اس کے بارے میں خبر دی ہو اور جس نے اس جیسا فعل کیا ہو اس کے بارے میں خبر دی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب ابن ابی نے اپنے سر کو ہلایا تو اس نے کہا، تم نے مجھے حکم دیا کہ میں ایمان لائو تو میں ایمان لے آیا ہم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے مال کی زکوۃ دوں تو میں نے زکوۃ دے دی اور میرے لئے کوئی چیز باقی نہیں سوائے اس کے کہ محمد ﷺ کو سجدہ کروں۔
Ayahs 63:6–8سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم یعنی یہ سب برابر ہے۔ آپ ﷺ کا استغفار کرنا کچھ نفع نہیں دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، سوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون (البقرۃ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سوآء علینا اوعظت ام لم تکن من الوعظین۔ (الشعرائ) ان اللہ لا یھدی ال قوم الفسقین۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود تھا کہ وہ فاسق ہی مرے گا۔
آیت
ہم نے سبب نزول کا ذکر کیا۔ ابن ابی نے کہا، جو لوگ حضرت محمد ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس سے بکھر جائیں گے (1) اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ زمین و آسمان کے خزانے اسی کے ہیں جیسے وہ چاہتا ہے، خرچ کرتا ہے۔ ایک آدمی نے حاتم اصم سے کہا، تو کہاں سے کھاتا ہے ؟ جواب دیا وللہ خآئن السموت والارض جنید بغدادی نے کہا، آسمانوں کے خزانے غیوب ہیں اور زمین کے خزانے دل ہیں وہی غیوب کو جاننے والا ہے اور دلوں کو پھیرنے والا ہے (2) شعبی کہا کرتے تھے : وللہ خزآئن السموت والارض (1) جب زمین و آسمان کے خزانے اللہ تعالیٰ کے ہیں تو تم کہاں جائوگے ؟ ولکن المنفقین لایفقھون۔ (2) منافق یہ نہیں سمجھتے جب وہ کسی امر کا ارادہ کرلے تو اسی آسان بنا دیتا ہے۔
جس طرح پہلے گزرا ہے یہ بات کرنے والا ابن ابی تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جب ابن ابی نے یہ کہا : لیخرجن الاعز منھا الاذل وہ مدینہ کی طرف لوٹا چند دن رہا تو مرگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے مغفرت طلب کی، اس کو اپنی قمیض پہنائی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لن یغفر اللہ لھم اس کی وضاحت سورة براءۃ میں مفصل گزر چکی ہے۔ یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ حضتر عبدلالہ بن عبداللہ ؓ نے اپنے باپ ابن سلول منافق سے کہا، اللہ کی قسمچ تو اس وقت تک مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک تو یہ نہ کہے : رسول اللہ ﷺ عزت والے ہیں اور میں سب سے ذلیل ہوں۔ ابن ابی نے یہ بات کہی (1) لوگوں کا وہم تھا کہ عزت اموال کی کثرت اور پیروکاروں کی کثرت سے ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس امر کو بیان کردیا کہ عزت، شان و شوکت اور قوت اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔
Ayah 63:9مومنوں کو منافقین کے اخلاق سے خبر دار کیا یعنی اپنے اموال میں ہی مگن نہ رہو جس طرح منافقوں نے کیا جب انہوں نحے مال میں بخل کی وجہ سے کہا، جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر مال خرچ نہ کرو۔ عن ذکر اللہ ذکر سے مراد حج اور زکوۃ ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد قرآن کی قرأت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دائمی ذکر ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، پانچ نمازیں ہیں، یہ ضحاک کا قول ہے حضرت حسن بصری نے کہا، مراد تمام فرئاض ہیں گویا فرمایا : اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ منافقوں کو خطاب ہے یعنی تم زبان سے ایمان لاتے ہو تم دل سے بھی ایمان لائو۔
ومن یفعل ذلک فائولئک ھم الخسرون۔ یعنی جو اپنے رب کی اطاعت کی بجائے مال اور اولاد میں مشغول ہو اور وہ خسارے میں ہے۔
Ayahs 63:10–11مسئلہ نمبر 1 وانفقوا من مارزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت یہ آیت جلدی زکواۃ کی ……وجوب پر دلالت کرتی ہے اس کو موخر کرنا اصلاً جائز نہیں اسی طرح باقی عبادات جن کا وق معین ہو۔
مسئلہ نمبر 2 فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاضدق واکن من اصلحین :۔ اس نے دنیا کی طرف لوٹنے کا سوال کیا تاکہ عمل صالح کرے۔ امام ترمذی نے ضحاک بن مزاحم سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں۔ فرمایا : جس کے پاس اتنا ملا تھا جس کے ساتھ وہ حج بیت اللہ کرسکتا تھا یا اس میں زکوۃ وجب ہوتی تھی اس نے ایسے نہ کیا وہ موت کے وقت رجوع کا سوال کرتا ہے۔ ایک آدمی نے عرض کی : اے ابن عباس ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ یہ لوٹنے کا سوال تو کفار نے کیا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، میں تم پر قرآن کی تلاوت کرتا ہوں اور آیت نمبر 9، 10 کی تلاوت کی۔ پوچھا : زکوۃ کو کیا چیز واجب کرتی ہے ؟ اس آدمی نے جواب دیا : جب مال دو سو درہم تک پہنچ جائے۔ پوچھا۔ حج کو کیا چیز واجب کرتی ہے ؟ آپ نے جواب دیا : زادرہ اور سواری (1) ۔
میں کہتا ہوں : حلیمی ابوعبداللہ حسین بن حسن نے کتاب ” منہاج الدین “ میں موضوع روایت نقل کی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس کے پاس مال ہو (2) ‘ یہ حدیث سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔ ابن عربی نے کہا : حضرت ابن عباس نے آیت کے عموم سے واجب کے اتفاق کا استدلال کیا ہے نقل مراد نہیں لیا (3) جہاں تک زکوۃ کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کرنے کا تعلق ہے تو یہ عموم کے اعتبار سے اور دو سو کی تقدیر کے ساتھ صحیح ہے جہاں تک حج کے قول کا تعلق ہے تو اس میں اشکال ہے کیونکہ اگر ہم یہ کہیں حج کو موخر کرنا یہاں تک کہ حج کی ادائیئگی سے قبل موت واقع ہوجائے تو اس کے معصیت ہونے میں علماء میں اختلاف ہے اسے آیت کا مصداق نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر ہم کہیں : حج فوری طور پر ادا کرنا ضرویر ہے تو آپ کو عمومی معنی میں رکھنا صحیح ہے کیونکہ جس پر حج واجب ہو اور اس نے حج ادا نہ کیا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت پسند کرے گا کہ وہ لوٹے گا کہ عبادات میں سے جو اس نے ترک کیا ہے۔ اس کو بجا لائے۔ جہاں تک زاد راہ اور راحلہ کے مقدر ماننے کا تعلق ہے تو اس میں علماء میں اختلاف مشہور و معروف ہے۔ حضرت ابن عباس کے کلام کا کوئی عمل عمل دخل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوٹنے کی خواہش اور وعیدان مسائل میں کوئی عمل دخل نہیں رکتھی جن میں اجتہاد کی گنجائش ہو اور نہ ان میں کوئی عمل دخل ہوتا ہے جن میں اختلاف ہو جن مسائل میں اتفاق ہوتا ہے ان میں اس کا عمل دخل ہوتا ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ یہ واجب نفقہ کو شامل ہوتا ہے کہ اسے کیسے خرچ کیا جائے یہ اجماع سے ثابتہ و یا نص قرآنی سے ثابت ہو کیونکہ واجب نفقہ کے علاوہ میں وعید ثابت نہیں ہوتی۔
مسئلہ نمبر 4۔ لولا یہ ھلا کے معنی میں ہے تو یہ استفہام ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : لا زائدہ ہے تو کلام تمنی کے معنی میں ہوگی۔ فاصدق یہ تمنی کے جواب کے طور پر منصوب ہے اور اس سے پہلے فاء آیا ہے۔ واکون اس کا عطف فاصدق پر ہے، یہ ابوعمرو، ابن محیصن اور مجاہد کی قرأت ہے۔ باقی قراء نے واکن کو مجزوم پڑھا ہے اس کا عطف فاء کے محل پر ہے کیونکہ فاصدق مجزوم ہوتا اگر یہاں فاء نہ ہوتی۔ اس کی مثال من یضل اللہ فلا ھادی لہ ویذرھم (الاعراف : 186) ہے۔ یہ تعبیر اس صورت میں ہوتی جب یذرھم کو جزم دی جائے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت اہل توحید کیلئے سب سے سخت ہے کیونکہ کوئی بھی اسا فرد جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں خیر ہو وہ دنیا کی طرف لوٹنے اور اس میں تاخیر کی آرزو نہیں کرتا۔
میں کہتا ہوں : شہید کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ واپس دنیا میں آنے کی آرزو کرے گا یہاں تک کہ اسے پھر شہید کیا جائے۔ وجہ اس کی وہ ہوگی جو وہ کرامت دیکھے گا۔ واللہ خبیر بما تعملون۔ تم جو بھلائی اور برائی میں سے جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ عام قرأت فاء کے ساتھ خطاب کے طریقہ پر ہے۔ ابوبکر نے عاصم سے اور سلمیٰ نے یاء کے ساتھ قرأت کی ہے۔ اس صورت میں یہ اس کے بارے میں خبر ہے جو مرگیا ہے اور اس نے یہ قول کیا۔