Ayah 64:1پہلی آیت کی تفسیر پہلے کئی دفعہ گزر چکی ہے۔
Ayah 64:2حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو مومن اور کافرپیدا کیا قیامت کے روز انہیں مومن، کافر کی حیثیت سے دوبارہ اٹھائے گا (4) حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی گئی ہے۔ کہا : نبی کریم ﷺ نے پچھلے پہر ایک دفعہ خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں آئندہ ہونے والے امور کے بارے میں ذکر کیا (5) ۔ فرمایا :” لوگ مختلف طبقات میں جنم لیتے ہیں ایک آدمی مومن کی حیثیت میں پیدا ہوتا ہے، مومن کی حیثیت میں زندہ رہتا ہے اور مومن کی حیثیت میں مر جاتا ہے۔ ایک آدمی کافر کی حیثیت میں جنم لیتا ہے، کافر کی حیثیت میں زندہ رہتا ہے اور اکفر کی حیثیت میں مر جاتا ہے۔ “ حضرت ابن مسعود نے کہا، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے فرعون کو اس کی ماں کے پیٹ میں کافر پیدا کیا اور حضرت یحییٰ بن زکریا کو اپنی ماں کے پیٹ میں مومن پیدا کیا “ (1) صحیح میں حضرت ابن مسعود سے روایت مروی ہے :” تم میں سے کوئی جنتیوں کا ساعمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے درمیان اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ یا باع (دونوں بازوں کو پھیلایا جائے تو ان کے درمیان کا فاصلہ) کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آجاتی ہے تو وہ جہنمیوں کا سا عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک آدمی جہنمیوں کا سا عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ یا باع کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے تو وہ جنتی کا سا عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے ٭“ اسے امام بخاری اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے، اس میں باع کا ذکر نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت سہل بن سعد ساعدمی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ایک آدمی جنتی کا سا عمل کرتا ہے ان امور میں جو لوگوں کے لئے ظاہر ہوتے ہیں جبکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک آدمی ظاہر میں جہنمی کا ساعمل کرتا ہے جبکہ وہ جنتی ہوتا ہے “ (2) ہمارے علماء نے کہا، ان احادیث کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ کا علم الزی ہے معلوم کے ساتھ متعق ہے تو وہی کچھ ہوتا ہے جو اس کے علم میں ہوتا ہے، جس کا وہ ارادہ کرے اور جو وہ حکم دے وہ عام احوال میں کبھی ایک شخص کے ایمان کا ارادہ کرتا ہے اور کبھی معلوم وقت تک ایمان کا ارادہ کرتا ہے۔ یہی حالت کفر کی ہے۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے (3) کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یوں ہے فمنکم مومن و منکم کافر ومنکم فاسق کلام سے حذف اس لئے ہوا کیونکہ کلام میں ایسی چیز موجود ہے جو اس کے حذف پر دلالت کرتی ہے، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا، اس میں کوئی حذف نہیں کیونکہ مقصود دونوں طرفوں کا ذکر ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا پھر انہوں نے کفر کیا اور وہ ایمان لائے۔ انہوں نے کہا، تمام کلام ھو الذی خلقکم ہے پھر ان کی صفت لگائی۔ فمنکم کافروا منکم مومن جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واللہ خلق کل دآبۃ من مآء فمنھم من یمشی علی بطنہ (النور : 45) انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا اور چلنا انسانوں کا فعل ہے، اس قول کو حسین بن فضل نے اختیار کیا ہے۔ حسین بن فضل نے کہا، اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں مومن و کافر کی حیثیت سے پیدا کیا ہوتا تو ان کی صفت اس انداز میں نہ بتاتا فمنکم کافرومنکم مومن انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے استنباط کیا ہے :” ہر بچے کو فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے، اس کے والدین اسے یہید بناتے ہیں، اسے نصرانی بناتے ہیں اور اسے مجسوی بناتے ہیں۔ “ (4) سورة روم میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔ ضحاک نے کہا، تم میں سے کچھ اندر سے کافر اور باہر سے مومن ہیں جس طرح منافق ہوتے ہیں۔ تم میں سے کچھ اندر سے مومن اور باہر سے کافر ہوتے ہیں جس طرح حضرت عمار (5) وغیرہ۔ عطاء بنی ابی رباح نے کہا، تم میں سے کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے والے اور ستاروں کا انکار کرنے والے ہوتے ہیں یعنی یہ انوائ (ستاروں) کے بارے میں ہے (1) زجاج نے کہا، یہ بہترین قول ہے، جو ائمہ اور جمہور امت کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر کو پیدا کیا اور اس کا کفر اس کا اپنا فعل اور کسب ہے جبکہ اس کے فعل کفر کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے، اللہ تعالیٰ نے مومن کو پیدا کیا اس کا ایمان اس کا فعل اور کسب ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ایمان کا خالق ہے کافر کفر کرتا ہے اور کفر کو پسند کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کفر کو پہلے پیدا کیا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو اس پر قدرت دی اور اس سے کفر کے وقوع کو جانتا تھا۔ یہ جائز نہیں کہ ان دونوں سے اس کے علاوہ کوئی چیز پائی جائے جن پر اللہ تعالیٰ نے اسے قادر بنایا تھا اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کیونکہ مقدور کے خلاف کا پایا جانا یہ عاجزی ہے اور معلوم کے خلاف کا پایج انا جہالت ہے۔ یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں اس قول میں انسان جبر و قدر کے قول سے محفوظ رہتا ہے، جس طرح شاعر نے ہا ،
یا ناظرا فی الذین ما الامر لا قدر صح والا جبر
اے دین میں غور و فکر کرنے والے ! یہ معاملہ کیا ہے نہ قدر (2) صحیح ہے اور نہ جبر (3) صحیح ہے۔ سیلان نے کہا، ایک بدو بصرہ میں آیا۔ اسے کہا گیا، تو قدر کے بارے میں کیا کہتا ہے اس نے جواب میں کہا، یہ ایسا امر ہے جس میں گمانات بہت بڑھ گئے ہیں اور اختلاف کرنے والوں نے اس میں اختلاف کیا ہے ضرویر ہے کہ ہم پر جو اس کے حکم میں سے معاملہ مشتبہ ہوجائے ہم اسے اس کے علم کی طرف پھیر دیں۔
Ayah 64:3خلق السموت والارض بالحق اس کی تفسیر کئی مواقع پر گزر چیک ہے یعنی اسی نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ امر حق ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : باء لام کے معنی میں ہے، یعنی انہیں حق کے لئے پیدا فرمایا۔ مراد ہوگا جنہوں نے برے اعمال کئے انہیں ان کے عمل کی جزا دے اور جہنمیوں نے اچھا علم کیا انہیں اچھائی کا بدلہ عطا فرمائے۔ وصورکم فاحسن صورکم مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں (4) اللہ تعالیٰ نے آپ کی کر اتم کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا، یہ مقاتل کا قول ہے۔ (2) تمام مخلوق مراد ہے۔ (3) تصویر کا معنی گزر چکا ہے اس سے مراد خط لگانا اور شکل و صورت بنانا ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے، ان کی صورتوں کو کیسے اچھا بنایا ؟ تو اسے جواب دیا جائے گا : اللہ تعالیٰ نے اسے تمام حیوانوں سے اچھا بنایا اور سب سے زیادہ خوبصورت بنایا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انسان یہ تمنا نہیں کرتا کہ اس کی صورت اس کے خلاف ہو جو اس نے تمام صورتیں دیکھی ہیں۔ اس کی حسین صورت سے مراد یہ بھی ہے کہ اسے سیدھا پیدا کیا وہ جانوروں کی طرح منہ کے بل گرا ہوا نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ (التین) اس کی وضاحت انشاء اللہ آئے گی۔ والیہ المصیر۔ اس کی طرف سب کا اٹھنا ہے وہ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
Ayah 64:4اس آیت کی تفسیر کئی مواقع پر گزر چکی ہے وہ عالم غیب و شہادت ہے، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 64:5خطاب قریش کو ہے یعنی کیا تمہارے پاس گزری ہوئی امتوں کے کفار کی خبر نہیں پہنچی۔ انہیں دنیا میں بھی ان کے اعمال پر سزا دی گئی اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 64:6انہیں یہ عذاب اس وجہ سے آیا کہ انہوں نے ان رسولوں کا انکار کیا جو ان کے پاس واضح دلیل لائے انہوں نے انکار کردیا کہ رسول بشر بھی ہو سکتا ہے بشر مبتداء ہونے کی حیثیت میں مرفوع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فعل مضمر ہے اور اس میں جمع کا معنی ہے اسی وجہ سے یھدوننا ارشاد فرمایا۔ یھدینا نہیں فرمایا۔ بعض اوقات واحد جمع کے معنی میں ہوتا ہے تو وہ اسم جنس ہوتا ہے اس کا واحد انسان ہے لفظوں میں اس کا کوئی واحد نہیں۔ بعض اوقات جمع واحد کے معنی میں آتا ہے جس طرح فرمایا : ماھذا بشراً (یوسف : 31) انہوں نے اس قول ابشر یھدوننا کے ساتھ انکار کیا۔ انہوں نے یہ قول ان کے چھوٹے پن کو ظاہر کرنے کے لئے کیا تھا۔ انہیں علم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے رسولوں کا انکار کیا ہر طرف سے روگردانی کی اور ایمان و موعظت سے اعراض برتا۔
اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت کی وجہ سے بندوں کی طاعت سے مستغنی ہے اسے بندوں کی طاعت کی کوئی ضرورت نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو برہان ظاہر کی ہے اور جس امر کو واضح کیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان سے اس امر کے بارے میں بےنیاز ہوگیا ہے کہ ان پر مزید کوئی کرم نوازی فرمائے جو انہیں ہدایت کی طرف دعوت دے اور ہدایت کی طرف لے جائے۔ (1)
Ayah 64:7کافروں نے یہ گمان کیا کہ انہیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ زعم سے مراد گمان رکھتے ہوئے کوئی بات کرنا۔ شریح نے کہا، ہر شی کی کنیت ہے اور کذب (جھوٹے) کی کنیت زعموا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عاص بن وائل سہمی اور حضرت خباب کے بارے میں نازل ہوئی۔ جس کی وضاحت سورة مریم کے آخر میں گزر چکی ہے پھر ہر کافر کو شامل ہوگئی۔ اے محمد چ ﷺ فرما دیجیے : کیوں نہیں تمہیں ضرور تمہاری قبروں سے زندہ کیا جائے گا پھر تمہیں تمہارے اعمال کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ دوبارہ اٹھانا اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی دفعہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔
Ayah 64:8قیامت کی پہچان کرانے کے بعد انہیں ایمان کا حکم دیا۔ نور سے مراد قرآن ہے۔ یہ ایسا نور ہے جس کے ذریعے گمراہی کی تاریکی سے ہدیا دی جاتی ہے۔
Ayah 64:9مسئلہ نمبر 1۔ یوم یجمعکم الیوم الجمع یوم میں عالم لتنبون ہے یا خبیر ہے کیونکہ اس میں وعید کا معنی موجود ہے۔ گویا فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے گا جس دن تمہیں جمع کرے گا یا اذکر فعل جو مضمر ہے وہ اس میں عامل ہے۔ غبن کا معنی نقص ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، غبنہ غبنا جب کم قیمت کے ساتھ وہ کوئی چیز لے عام قرأت یجمعکم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واللہ بما تعملون خبیر۔ (الحدید) اس کے بارے میں خبر دی اور اللہ تعالیٰ کا نام پہلے ذکر کیا ہے اس لیء خبیر اس کے مناسب ہے۔
نصر ابن ابی اسحاق، حجدری، یعقوب اور سلام نے نجمعکم پڑھا۔ یہ قراء والنور الذی انزلنا کی موافقت کا اعتبار کرتے ہیں۔ یوم الجمع سے مراد وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ اولین، آخرین، انسانوں، جنوں، آسمان والوں اور زمین والوں کو مع کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس روز اللہ تعالیٰ ہر بندے اور اس کے عمل کو جمع کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یوم الجمع اس لئے فرمایا کیونکہ اس میں وہ ظالم اور مظلوم کو جمع فرمائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ ہر نبی اور اس کے امتی کو جمع فرمائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ اس اللہ تعالیٰ اہل طاعت کے ثواب اور اہل معصیت کے عقاب کو جمع فرمائے گا۔
ذلک یوم التغابن یہ قیامت کا دن ہے (1) ۔ جس طرح ہا :
الا انما الرحات یوم التغابن خبردار ! راحتیں قیامت کے دن ہی ہوں گی۔
یوم قیامت کو یوم تغابن کا نام دیا کیونکہ اس میں جنتی، جہنمیوں سے غبن کریں گے یعنی جنتی جنت لے لیں گے اور جہنمی جہنم کو لے لیں گے۔ یہ مبادلہ کے طریقہ پر ہوگا۔ غبن اس لئے واقع ہوگا کیونکہ انہوں نے خیر کو شر، عمدہ کو ردی اور نعیم کو عذاب کے بدلے بدلا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : غبنت فلانا جب تو اس کے ہاتھ بیچے یا اس سے خریدے اور نقص و کمی اس پر واقع ہو اور غلبہ تیرے لئے ہو یہی کیفیت اہل جنت اور اہل نار کی ہوگی جس کی وضاحت بعد میں آئے گی۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : غبنت الثوب وخبنتہ جب وہ تیری مقدار اور قد سے لمبا ہو اور اس سے کسی چیز کو سی دے تو یہ بھی نقصان ہے۔ مغابن جو ڈھانچے اور ہئیت میں سے دہری ہوجائے ج طرح ابطن (بغلیں) اور فخذین (دونوں رانیں) مفسرین نے کہا، مغبون اسے کہتے ہیں جنت میں جس کے اہل اور منازل میں غبن واقع ہوجائے۔ اس روز ایمان کے ترک کرنے کی وجہ سے ہر کافر خسارے میں ہوگا اور ہر مومن کا نقصان احسان میں کتواہی اور دنوں کو ضابئع کرنے کی وجہ سے ظاہر ہوگا۔ زجاج نے کہا، جنت میں جس کی منزل بلند ہوگی وہ کم متربہ سے غبن کرنے والا ہوگا۔
مسئلہ نمبر 2۔ اگر یہ کہا جائے : وہ کون سا معاملہ ہے جو ان دونوں کے درمیان واقع ہوا یاں تک کہ اس میں غبن واقع ہواڈ ایک قول یہ کیا گیا ہے، بیع و شراء میں غبن میں مجاز کا قاعدہ جاری ہو رہا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی (البقرۃ : 16) جب یہ فرمایا کہ کفار نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے حاصل کرلیا اور انہوں نے تجارت میں کوئی نفع حاصل نہ کیا بلکہ انہوں نے نقصان اٹھایا تو یہ بھی ذکر کیا کہ ان کے ساتھ غبن کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنتیوں نے دنیا ترک کر کے آخرت کو خریدا اور جہنمیوں نے آخرت ترک کر کے دنیا کو خریدا۔ مجازاً یہ بھی مبادلہ کی ایک صورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو اجزاء میں تقسیم کیا۔ ایک فریق جنت میں اور ایک فریق آگ میں، ہر ایک کی منزل جنت اور جہنم میں رکھی گئی ہیں۔ یہ امر حق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بےی اور مددگار چھوڑنا بندے پر غالب آجاتا ہے جس طرح ہم اس سورت اور دوسری سورتوں میں ب یان کرچکے ہیں تو وہ جہنمی ہوجاتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ کی جابن سے توفیق حاصل ہوتی ہے اسے محروم کا مکان بھی دے دیا جاتا ہے اور جس کو توفیق حاصل ہوتی ہے جہنم میں اس کا مکان محروم کو دے دیا جاتا ہے، گویا یوں مبادلہ واقع ہوا اور تغابن حاصل ہوا۔ لغت اور قرآن میں بیشمار مثلہ موجود ہیں۔ نشر آثار میں ان سب کو جمع کردیا گیا ہے جبکہ اس کتاب میں یہ بکھری ہوئی ہیں۔ بعض اوقات اس تبادلہ کو وراثت سے تعبیر کیا گیا ہے جس طرح ہم نے قد افلح المومنون۔ (المومنون) میں بیان کیا ہے۔ بعض اوقات تغابن اس دن کے علاوہ میں واقع ہوتا ہے جس کی وضاحت بعد میں آئے گی لیکن یہاں ایسے تغابن کا ارادہ کیا جس کی کمی کو پورا کرنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ وہ تغابن انتہاء درجے کا ہے۔ حسن بصری اور اقتادہ نے کہا : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ تغابن کی تین قسمیں ہیں۔ ایسا آدمی جس نے علم سیکھا اسے دوسرے لوگوں کو سکھایا اور خود اسے ضائع کردیا، اس پر عمل نہ کیا تو وہ بدخت ہوگیا۔ جس نے اس سے سیکھا تھا اس نے اس پر عمل کیا تو وہ نجتا پا گیا۔ ایک ایسا آدمی جس نے کئی طریقوں سے مال کمایا اس سیم ال کا سوال کیا جاتا ہے اور وہ بخل سے کام لیتا ہے اور وہ اس کے باعث اپنے رب کی اطاعت میں کتواہی کرتا ہے اور اس مال میں کوئی بھلائی کا کام نہیں کرتا، وہ اس مال کو وارث کے لئے چھوڑ جاتا ہے اس مال میں اس کے لئے کوئی نفع نہیں۔ وہ وارث اس مال میں اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جس کا ایک غلام تھا، وہ آدمی اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اور سعادت مند ہوجاتا ہے اور آقا اپنے رب کی معصیت کرتا ہے تو وہ بدبخت ہوجاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ سے مروی ہے انہوں نے کہا، ” اللہ تعالیٰ مرد اور عورت کو اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو فرمائے گا : تم دونوں کہو جو تم کہنا چاہتے ہو۔ مرد عرض کرے گا : اے میرے ربچ تو نے اس کا نفقہ مجھ پر لازم کیا۔ میں نے اسے حلال و حرام سب کھلایا۔ یہ مدعی اس مال کا مطالبہ کرتے ہیں میرے پاس تو کچھ بھی باقی نہیں جو ان کے حقوق پورے کرسکوں۔ عورت عرض کرے گی : اے میرے ربچ ایسا نہیں ہوا کہ میں نے اسے کہا ہو کہ تو حرام مال حاصل کر۔ میں نے اسے حلال سمجھ کر ہی کھایا اور اس نے میری رضا کی خاطر تیری نافرمانی کی۔ میں اس کیلئے اس پر راضی نہیں اسے اپنی رحمتوں سے دور کر دے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا، تو نے سچ کہا۔ اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا اور عورت کو جنت کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا۔ وہ عورت جنت کے درجات سے اس کی طرف جھانکے گی اور اسے کہے گی : غبناک، غبناک جس کے ساتھ تو بدبخت ہوا ہم اس کے ذریعے سعادت مند ہوئے۔ یہی یوم تغابن ہے۔ “
مسئلہ نمبر 3۔ ابن عربی نے کہا، ہمارے علماء نے ذلک یوم التغابن سے یہ استدلال کیا ہے کہ دنیاوی معاملات میں بھی غبن جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تغابن کو قیامت کے دن کے ساتھ خاص کیا ہے۔ فرمایا : ذلک یوم التغابن یہ اختصاص اس امر کا فائدہ یدتا ہے کہ دنیا میں کوئی غبن نہیں جب کوئی آدمی بیع میں غبن پر مطلع ہو تو جب وہ ثلث پر زائد ہو تو اسے رد کردیا جائے گا، بغدادیوں نے اسے اتخیار کیا ہے اور کئی وجوہ سے اس پر استدلال کیا۔ ان میں سے ایک نبی کریم ﷺ کا حضرت حبان بن منقذ کے لئے ارشاد ہے : اذا بایعت فقل لاخلابۃ ولک الخیار ثلاثا جب تو خریدو فروخت کرے تو کہہ دے، کوئی دھوکہ نہیں نہیں ہوگا اور تیرے لئے تین دن تک خیار (شرط) ہوگا۔ اس میں طویل سوچ و بچار کی ضرورت ہے۔ ہم نے اسے اختلافی مسائل میں ذکر کیا ہے۔ اس کا نکتہ یہ ہے کہ دنیا میں غبن بالا جماع ممنوع ہے یہی دین کا حکم ہے کیونکہ غبن دھوکہ کے باب سے تعلق رکھتا ہے جو ہر ملت میں شرعاً حرام ہے لیکن تھوڑے سے غبن سے عموماً بچنا ممکن نہیں۔ شرع میں یہ امر گزر چکا ہے۔ اگر ہم اس کے لوٹانے کا حکم دیں تو بیع کبھی بھی نافذ نہ ہو سکے گی کیونکہ بیع تھوڑے بہت غبن سے خالی نہیں ہوتی۔ ہاں کثیر سے احتراز ممکن ہے تو اسے رد کرنا واجب ہے۔ قلیل اور کثیر میں فرق شریعت میں معلمو ہو معروف قا اعدہ ہے ہمارے علماء نے اس حد تکے لئے ثلث کو مقدر کیا ہے کیونکہ وہ ثلث (ایک تہائی) کو وصیت وغیرہ میں پاتے ہیں۔ اس تعبیر کی بنا پر معنی یہ ہوگا وہ تغابن کا دن ہے جو مطلقاً جائز ہے اس کی کوئی تفصیل نہیں یا وہ ایسے تغابن کا دن ہے جس کا کبھی بھی تدارک نہ کیا جاسکے گا کیونکہ دین کا تغابن دو طریقوں سے دور کیا جاسکتا ہے۔ بعض اموال میں رد کرنے کے ساتھ یا کسی دوسری بیع یا دوسرے سامان میں نفع حاصل کرنے کے ساتھ مگر جو آدمی جنت کو پانے میں خسارہ میں رہا تو اس کا کبھی بھی تدارک نہیں کیا جاسکتا۔ بعص صوفیا نے کہا، اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق پر غبن کو لکھ دیا ہے۔ کوئی آدمی بھی اپنے رب سے ملاقات نہیں کرے گا مگر وہ مغبون ہوگا کیونکہ اس کے لئے عمل میں پورا حق ادا کرنا ممکن نہیں یہاں تک کہ اسے پورا ثواب حاصل ہو۔ ایک حدیث میں بنی کریم ﷺ کا ارشاد ہے (آیت) (1) کوئی بندہ اللہ سے ملاقات نہیں کرے گا مگر وہ آدم ہوگا۔ اگر گناہگار ہوگا تو وہ کہے گا : اس نے اچھا عمل کیوں نہیں کیا اگر وہ محسن ہوگا تو وہ کہے گا : اس نے زیادہ عمل کیوں نہیں کیا۔ نافع اور ابن عامر نے یکفر اور یدخلہ کو نون کے ساتھ اور باقی فراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 64:10آیاتنا سے مراد قرآن ہے۔ جب مومنوں کے لئے جو کچھ ہے اس کا ذکر کیا تو جو کچھ کافروں کے لئے ہے اس کا بھی ذکر کیا جس طرح کئی مواقع پر پہ لے گزر چکا ہے۔
Ayah 64:11ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ اذن سے مراد ارادہ اور قضا ہے۔ فراء نے کہا : مراد اللہ تعالیٰ کا امر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ کفار نے کہا : جس پر مسلمان ہیں اگر یہ حق ہوتا تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں مصائب سے محفوظ رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کیا کہ نفس، مال، قول یا فعل میں جب بھی مصیبت واقع ہوتی ہے وہ بےچینی اور غم کا تقاضا کرتی ہے یا ایسے عقاب کا تقاضا کرتی ہے جو جلدی واقع ہونے والا ہوتا ہے یا دیر سے واقع ہونے والا ہوتا ہے تو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم اور قضا سے ہوتا ہے۔
ومن یومن باللہ جو اس امر کی تصدیق کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی مصیبت ہیں پہنچتی۔ یھد قلبہ تو صبر و رضا کی طرف اس کے دل کو ہدایت عطا فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے دل کو ایمان پر مضبوط کرتا ہے۔ ابو عثمان جیزی نے کہا : جس کا ایمان صحیح ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اتباع سنت کی ہدایت دیتا ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھتا ہے مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے : انا للہ وانا الیہ رجعون (البقرۃ): یہ ابن جبیر کا قول ہے (3) ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اللہ تعالیٰ اس کے دل میں یقین پیدا کرتا ہے تاکہ اسے علم ہو کہ اسے جو مصیبت پہنچی ہے وہ چھوٹنے والی نہ تھی اور جو اسے نہیں پہنچی وہ اسے پہنچنے والی نہ تھی (4) ۔ کلبی نے کہا : جب اسے آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور جب اس پر انعام کیا جاتا ہے تو وہ شکر بجالاتا ہے اور جب اس پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ بخش دیتا ہے (5) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ جنت میں ثواب پانے کی طرف اس کے دل کی رہنمائی کرتا ہے۔ عام قرأت یھد ہے یاء پر فتحہ اور دل کے نیچے کسرہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا پہلے نام ذکر کیا گیا ہے۔ سلمی اور قتادہ نے یھد قلبہ پڑھا ہے۔ یہ مجہول کا صیغہ ہے اور قلبہ کی باء مرفوع ہے کیونکہ اللہ یہ فعل مجہول کا نائب فاعل ہے۔
طلحہ بن مصرف اور اعرج نے سے نھد پڑھا ہے۔ یہاں نون تعظیم کے لئے ہے اور قلبہ کی باء پر زبر ہے۔ عکرمہ نے یھد اقلبہ پڑھا ہے، یعنی اس کا دل سکون پاتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے۔ اس کی مثل مالک بن دینار کی قرأت ہے مگر اس میں ہمزہ کو ضغصہ کے ساتھ نہیں پڑھا بلکہ ہمزہ کو لینہ پڑھا ہے۔
واللہ بکل شئی علیم جس نے اطاعت کی اطاعت کی اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کی اطاعت شعاری اس پر مخفی نہیں اور جس نے اس کو نہ مانا اس کی کراہت بھی اس پر مخفی نہیں۔
Ayahs 64:12–13مصائب کو اپنے اوپر ہلکا جانو، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے آپ کو مشغول رکھو اور سنت پر عمل کرنے میں اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم اطاعت سے روگردانی کرو گے تو اللہ کے رسول کے ذمہ تو صرف پیغام حق پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے سوا کوئی خالق نہیں اس پر بھروسہ کرو۔
Ayah 64:14مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا الذین امنوا ان من آزواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت مدینہ طیبہ میں حضرت عوف بن مالک اشجعی کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اپنی بیوی اور اولاد کی جفا کی شکایت کی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی، یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ طبری نے عطا بن یسار سے روایت نقل کی ہے کہ سورة تغابن پوری کی پوری مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی مگر یہ آیات حضرت عوف بن مالک اشجعی کے حق میں نازل ہوئیں (1) ۔ وہ اہل و اولاد والے تھے۔ جب حضرت مالک جہاد پر جانے کا ارادہ کرتے تو یہ روتے اور انہیں نرم کرنے کی کوشش کرتے۔ وہ کہتے : آپ ہمیں کس کے حوالے کرکے جا رہے ہیں ؟ تو حضرت مالک بھی ان کے لئے نرم ہوجاتے اور اپنے گھر میں ہی رہ جاتے تو یہ آیت ان کے حق میں مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ باقی آیات سورت کے آخر تک مدینہ طیبہ میں نازل ہوئیں۔
امام ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے : ایک آدمی نے آپ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا۔ فرمایا : یہ کچھ لوگ تھے جو اہل مکہ میں سے تھے، وہ مسلمان ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں اور بچوں نے انکار کردیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا تو ان کی بیویوں اور بچوں نے انکار کردیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کے پاس جائیں جب وہ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ دین میں کافی تفقہ حاصل کرچکے ہیں تو انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنی بیویوں اور اولادوں کو سزا دیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (2) ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : یہ عداوت کی وجہ … کرتی ہے کیونکہ دشمن اپنی ذات کی وجہ سے دشمن نہیں ہوتا وہ اپنے فعل کی وجہ سے دشمن ہوتا ہے (1) ۔ جب بیوی اور اولاد دشمنوں کا سا عمل کرے تو وہ دشمن ہی ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی قبیح فعل نہیں ہو سکتا کہ وہ بندے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں حائل ہوجائے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” شیطان انسان کے لئے ایمان کے راستہ میں بیٹھتا۔ اسے کہتا : کیا تو ایمان لاتا ہے اور اپنے سابقہ دین اور اپنے آباء کے دین کو چھوڑتا ہے ؟ انسان اس کی مخالفت کرتا ہے، ایمان لاتا ہے۔ وہ ہجرت کے راستہ پر بیٹھتا اور اسے کہتا : کیا تو اپنے مال اور اپنے اہل کو چھوڑتا ہے ؟ انسان اس کی مخالفت کرتا ہے اور ہجرت کرتا ہے۔ پھر وہ جہاد کے راستہ پر بیٹھتا ہے اسے کہتا ہے کیا تو جہاد کرتا ہے اپنے نفس کو قتل کرتا ہے تو تیری عورتوں سے نکاح کیا جائے گا اور تمہارا مال تقسیم کردیا جائے گا ؟ انسان اس کی مخالفت کرتا ہے، وہ جہاد کرتا ہے اور شہید ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر لے لیا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے “ (2) ۔ شیطان کے بیٹھنے کی دو صورتیں ہیں۔ (1) وسوسہ کے ذریعے۔ (2) وہ انسان جس کا ارادہ کرتا ہے اس کو روکنے کے لئے خاوند، بچے اور ساتھی کو برانگیختہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وقیضا لم قرناء فزینوا لھم مابین ایدیھم وما خلفھم (فصلت : 25) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حکمت کی باتوں میں سے ہے : جس نے اہل، مال اور اولاد کو ہی لازم پکڑ لیا تو وہ دنیا کا بندہ ہے۔ صحیح حدیث میں اس سے ادنیٰ کی حالت کا ذکر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” دینار کا بندہ ہلاک ہو، درہم کا بندہ ہلاک ہو، ثمیصہ (سیاہ رنگ کی مربع چادر جس میں دھاریاں ہوں) کا بندہ ہلاک ہو، قطیفہ (بڑی چادر) کا بندہ ہلاک ہو، وہ ہلاک و برباد ہو اور جب اسے کانٹا چبھے تو اس کا کانٹا نہ نکلے “ (3) ۔ دینار اور درہم کی عبادت سے بڑھ کر کوئی کمینگی نہیں اور کوئی خواہش اس سے پست خواہش نہیں ہو سکتی جو نئے کپڑے کے ساتھ پوری ہوجاتی ہو۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ جس طرح مرد کے لئے اس کی اولاد اور اس کی بیوی دشمن ہوتی ہے اسی طرح عورت کے لئے اس کا خاوند اور اس کی اولاد اس معنی میں بعینہ اس کی دشمن ہوا کرتی ہے۔ من ازواجکم کے عموم میں مذکر اور مونث دونوں داخل ہیں کیونکہ یہ دونوں آیت کے عموم میں داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ فاحذروھم اپنے بارے میں ان سے ہوشیار رہو۔ اپنی ذات کے بارے میں محتاط ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ (1) دین میں ضرر کی وجہ سے۔ (2) بدن میں ضرر کی وجہ سے۔ جسم کا ضرر دنیا سے متعلق ہے اور دین کا ضرر آخرت سے متعلق ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بندے کو اس سے خبردار کیا اور اس سے ڈرایا۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ وان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم طبری نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ کوئی آدمی نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا ارادہ کرتا تو اس کے گھر والے اسے کہتے : تو کہاں جاتا ہے اور تو ہمیں کہاں چھوڑے جا رہا ہے (4) ؟ جب وہ اسلام لے آیا اور اس نے دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرلی تو اس نے کہا : میں ان کی طرف ضرور جائوں گا جو مجھے اس سے منع کرتے تھے اور میں یہ یہ کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ مجاہد نے اس آیت کے بارے میں کہا : انہوں نے دنیا میں ان سے کوئی دشمنی نہیں کی لیکن ان کی محبت نے انہیں اس امر پر برانگیختہ کیا کہ وہ ان کے لئے حرام مال حاصل کریں اور انہیں دے دیں۔ آیت ہر معصیت کو عام ہے۔ انسان اپنے دین اور مال کی وجہ سے ان کا ارتکاب کرتا ہے۔ سبب نزول کا خصوص، حکم کے عموم کے مانع نہیں۔
Ayah 64:15انما اموالک و اولادکم فتنۃ فتنہ سے مراد آزمائش اور امتحان ہے جو تمہیں حرام چیز کے کمانے اور اللہ تعالیٰ کے حق کو روکنے پر برانگیختہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی معصیت کرتے ہوئے ان کی اطاعت نہ کرو۔ حدیث میں ہے یوتی برجل یوم القیامۃ فیقال اکل عیالہ حسناتہ (1) قیامت کے روز ایک آدمی لایا جائے گا اسے کہا جائے گا : اس کے عیال اس کی نیکیاں کھا گئے ہیں۔ بعض سلف صالحین سے مروی ہے : عیال طاعات کے لئے گھن ہے۔ قتیبی نے کہا : فتنہ کا معنی ہے دلدادہ ہونا یہ جملہ بولا جاتا ہے : فتن الرجل بالمرأۃ مرد عورت کی محبت میں مبتلا ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فتنہ کا معنی امتحان ہے اسی معنی میں شاعر کا قول ہے :
لقد فتن الناس بدینھم ” لوگ اپنے دین میں امتحان میں پڑگئے “۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : اے اللہ ! مجھے فتنہ سے محفوظ رکھ کیونکہ تم میں سے کوئی بھی اپنے دین، مال اور اولاد کی طرف نہیں لوٹتا مگر وہ فتنہ پر مشتمل ہوتا ہے بلکہ وہ یہ کہے : اللھم انی اعوذبک من مضلات الفتن، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے فتنوں سے جو گمراہ کرنے والے ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : من ازواجکم میں من تبعیض کے لئے ہے کیونکہ وہ سارے کے سارے اعداء نہیں (2) ۔ انما اموالکم و اولاد کم فتنۃ میں من ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ دونوں چیزیں فتنہ اور دل کی مشغولیت سے خالی نہیں۔
امام ترمذی وغیرہ نے عبد اللہ بن بریدہ سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا۔ حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسین ؓ آئے جبکہ ان پر سرخ قمیصیں تھیں۔ وہ چل رہے تھے اور لڑکھڑا رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نیچے اترے، ان دونوں کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا : تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔ میں نے ان دونوں بچوں کو چلتے ہوئے اور لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو کو قطع کیا اور ان دونوں کو اٹھا لیا “ (3) ۔ پھر آپ خطبہ میں شروع ہوگئے۔
واللہ عندہ اجر عظیم۔ اجر عظیم سے مراد جنت ہے۔ یہ غایت ہے مفسرین کے قول کے مطابق اس سے بڑھ کر کوئی اجر نہیں۔ صحیحین میں حدیث ہے۔ الفاظ بخاری کے ہیں (1) ۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا : اے جنتیو ! وہ عرض کریں گے : لبیک وسعدیک اے ہمارے رب ! اللہ تعالیٰ پوچھے گا : کیا تم راضی ہو ؟ وہ عرض کریں گے : ہم کیوں راضی نہ ہوں جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا ہے جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی عطا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا : کیا میں تمہیں اس افضل عطا نہ کروں ؟ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! اس سے افضل کوئی چیز ہے ؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : میں تم پر اپنی رضا نازل کرتا ہوں، اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا “ (2) ۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رضا آرزوئوں کی غایت ہے۔ صوفیہ نے اس کی تحقیق میں یہ اشعار کہے ہیں :
امتحن اللہ بہ خلقہ فالنار والجنۃ فی قبضتہ
فھجرہ اعصم من نارہ ووصلہ اطیب من جنتہ
اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اپنی مخلوق کا امحتان لیا آگ اور جنت اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اس کا فراق اس کی آگ سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے اور اس کا وصل اس کی جنت سے اچھا ہے۔
Ayahs 64:16–17اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اہل تاویل کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ آیت اس آیت اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : 102) کے لئے ناسخ ہے۔ ان میں قتادہ، ربیع بن انس، سدی اور ابن زید ہیں۔ طبری نے ذکر کیا ہے : مجھے یونس بن عبدالاعلی نے اور انہیں ابن دہب نے انہیں ابن زید نے خبر دی کہ یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : 102) کے ارشاد سے شدید امر آیا صحابہ نے کہا : اس کی قدر کون پہچان سکتا ہے یا کوئی اس تک پہنچ سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے پہچان لیا کہ یہ امر ان پر شدید ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر منسوخ کردیا اور اس آیت کے بدلے دوسری آیت لایا، وہ یہ آیت ہے فاتقوا اللہ ما استطعتم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ محکم ہے اس میں کوئی نسخ نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اتقوا اللہ حق تقتہ منسوخ نہیں لیکن حق تقتہ کا معنی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے جہاد کرے جیسے جہاد کرنے کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں گرفت میں نہیں لیت، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے انصاف کے لئے کھڑے ہوتے ہیں خواہ انصاف ان کے خلاف ہوا ان کے آباء کے خلاف ہو اور ان کے بیٹوں کے خلاف ہو۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اگر یہ کہا جائے : جب یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان جو سورة تغابن میں ہے فاتقوا اللہ ما استطعتم کا کیا معنی ہے تو یہ کیسے جائز ہوگا کہ اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : 102) اور فاتقوا اللہ ما استطعتم جمع ہوجائیں جبکہ اتقوا اللہ حق تقتہ ایسا امر ہے جو بغیر کسی خصوص کے ثابت ہے اور ان میں کوئی شرط بھی نہیں اور فاتقوا اللہ ما استطعتم ایسا امر ہے جو شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ تو اسے کہا جائے گا : اللہ تعالیٰ کا فرمان فاتقوا اللہ ما استطعتم اس سے مختلف ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : اتقوا اللہ حق تقتہ دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان فاتقوا اللہ ما استطعتم کا معنی ہے اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور تاڑ میں رہو ان چیزوں میں جو تمہارے لئے فتنہ بنا دی گئی ہیں وہ تمہارے مالوں میں سے ہو اور تمہاری اولاد سے ہو کہ کہیں وہ فتنہ تم پر غالب ہی نہ آجائے اور اللہ تعالیٰ کے لئے جو تم پر واجب ہے اس سے تمہیں روک نہ دے جیسے کفر کے علاقہ سے اسلام کی سرزمین کی طرف ہجرت کی۔ جس قدر تم طاقت رکھتے ہو تو تم ہجرت کو ترک کر دو ، معنی ہے تم ہجرت کی طاقت رکھتے ہو۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کو معذور جانا ہے جو ہجرت کی طاقت نہ رکھتا ہو، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَاِلِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْط قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِط قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللہ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوْا فِیْہَاط فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰہُمْ جَہََنَّمُط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا۔ اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَا یَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللہ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ (النسائ : 99)
اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ جو آدمی حیلہ نہیں رکھتا اور دار شرک میں رہنے کی وجہ سے کوئی راہ نہیں پاتا تو اسے معافی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان : فاتقوا اللہ ما استطعتم بھی ہجرت کے بارے میں ہے کہ دارشرک سے داراسلام کی طرف ہجرت کرو تو تم اپنے اموال اور اولاد کے فتنہ کی وجہ سے ترک کرو، جو چیز اس کی صحت پر دال ہے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاتقوا اللہ ما استطعتم جو یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم کے بعد آیا ہے۔
قرآن حکیم کی تاویل کرنے والے اہل علم اسلاف میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت ایسے افراد کے بارے میں نازل ہوئیں جنہوں نے دار شرک سے داراسلام کی طرف ہجرت کرنے میں تاخیر کی کیونکہ ان کی اولادوں نے انہیں روک لیا تھا جس طرح پہلے گزر چکا ہے، یہ سب طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فاتقوا اللہ ما استطعتم سے مراد ہے یہ نفلی عبادت اور صدقہ کے بارے میں ہے کیونکہ جب اتقوا اللہ حق تقتہ (آل عمران : 102) آیت نازل ہوئی تو یہ حکم قوم پر بڑا سخت واقع ہوا انہوں نے قیام کیا یہاں تک کہ ان کی پنڈلیاں سوج گئیں، ان کی پیشانیاں زخمی ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تخفیف کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی فاتقوا اللہ ما استطعتم تو پہلی آیت منسوخ ہوگئی، یہ ابن جبیر نے کہا : مادردی نے کہا : یہ احتمال موجود ہے اگر یہ قول ثابت نہ ہو کہ جس آدمی کو نافرمانی پر مجبور کیا جائے تو اس کا مواخذہ نہ ہو کیونکہ وہ تقویٰ کی استطاعت نہیں رکھتا تھا (1) ۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ واسمعوا واطیعوا جو تمہیں وعظ نصیحت کی جاتی ہے اس کو سنو اور جس کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے اور جس سے تمہیں روکا جاتا ہے اس کی اطاعت کرو۔ مقاتل نے کہا : اللہ کی کتاب میں سے جو تم پر نازل کی جاتی ہے اسے غور سے سنو، سماع میں یہی اصل ہے اللہ تعالیٰ کا رسول جو تمہیں حکم دے اور جس سے تمہیں منع کرے اس کی اطاعت کرو۔ قتادہ نے کہا : ان دونوں امور میں نبی کریم ﷺ کی بیعت کی گئی کہ امر و نہی کو سنا بھی جاسکتا اور طاعت بھی کی جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسمعوا کا معنی ہے جو تم سنتے ہو اسے قبول کرو۔ اسے سماع سے تعبیر کیا ہے کیونکہ قبول کرنا سماع کا فائدہ ہے۔
میں کہتا ہوں : حجاج نے اس آیت کی تعبیر میں اپنی جانب سے معنی گھسیڑا جب اس نے اس آیت کی تلاوت کی اور اسے عبد الملک بن مروان پر منطبق کیا گیا : فاتقوا اللہ ما استطعتم واسمعوا واطیعوا یہ عبدالملک بن مروان جو امین اللہ اور اس کا خلیفہ ہے کہ بارے میں ہے اس میں کوئی استثناء نہیں اللہ کی قسم ! اگر میں کسی کو حکم دوں کہ وہ مسجد کے دروازے سے باہر نکلے تو وہ کسی اور جگہ سے نکلے تو اس کا خون میرے لئے حلال ہوجائے گا (٭) ۔ اس نے آیت کی تاویل کرنے میں جھوٹ بولا کیوں نہیں یہ اولا نبی کریم ﷺ کے لئے ہے پھر آپ ﷺ کے بعد اولی الامر کے لئے ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (النسائ :59)
مسئلہ نمبر 4 ۔ وانفقوا ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد زکوٰۃ ہے (2) ، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد نفلی صدقہ ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد جہاد میں نفقہ ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انسان کا اپنی ذات کے لئے نفقہ ہے (3) ۔ ابن عربی نے کہا : لانفسکم کے الفاظ نے اس سے یہ قول کروایا ہے اور اس پر یہ امر ختص رہا کہ نفقہ میں فرض اور نفل سب اپنی ذات کے لئے ہی نفقہ ہوتا ہے (4) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان احسنتم احسنتم لانفسکم وان اساتم فلھا (الاسرائ : 7) انسان بھلائی میں سے جو بھی فعل کرتا ہے وہ اپنے لئے ہی کرتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ حکم عام ہے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے عرض کی : میرے پاس ایک دینار ہے۔ فرمایا : ” اسے اپنی ذات پر خرچ کر “۔ اس نے عرض کی : میرے پاس دوسرا ہے۔ فرمایا : ” اسے اپنے گھر والوں پر خرچ کر “۔ عرض کی : میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ فرمایا : ” اسے اپنی اولاد پر خرچ کر “۔ عرض کی میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ فرمایا : ” اسے صدقہ کر دے “ (٭) پہلے ذات، اہل اور اولاد کا ذکر کیا اور صدقہ کو بعد میں رکھا، شرع میں یہی اصل ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ خیرالانفسکم۔ خیرا سیبویہ کے نزدیک فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اس پر انفقوا دلالت کرتا ہے گویا فرمایا : ایتوافی الانفاق خیرا لانفسکم یا قدموا خیر الانفسکم۔ کسائی اور فراء کے نزدیک یہ مصدر مخدوف کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے انفقوا انفاقا خیرء الانفسکم ابو عبیدہ کے نزدیک یہ کان مضمر کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یکن خیرا لکم جس نے خیر سے مراد مال لیا ہے تو یہ انفقوا کی وجہ سے منصوب ہے۔
ومن یوق شخ نفسہ فاولئک ھم المفلحون (11) اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے اس طرح ان تقرضوا اللہ قرضا حسنا یضعفہ لکم ویغفرلکم کے بارے میں سورة بقرہ اور سورة حدید میں بحث گزر چکی ہے۔ ویغفرلکم واللہ شکور حلیم۔ شکر کے بارے میں بحث سورة البقرۃ میں گزر چکی ہے۔ حلیم اسے کہتے ہیں جو جلد بازی نہیں کرتا۔
Ayah 64:18علم الغیب والشھادۃ جو غائب ہے اور جو حاضر ہے اس کو جاننے والا ہے العزیز وہ غالب و قاہر ہے یہ صفات افعال میں سے ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (1) (الزمر) اس اللہ کی جانب سے جو قادر محکم ہے تمام اشیاء کا خالق ہے۔ خطابی نے کہا : بعض اوقات یہ لفظ نفاست قدر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس معنی میں کہا جاتا ہے۔ عزیعز اس تعبیر کی بنا پر عزیز کا معنی اسے بھی شامل ہوتا ہے کہ اس کے ہم پلہ کوئی چیز نہیں اور اس کی مثل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ الحکیم وہ اپنی مخلوق کی تدبیر میں حکیم ہے۔ ابن انباری نے کہا : حکیم سے مراد اشیا کو پیدا کرنے میں محکم ہے اسے فعیل کی طرف پھیرا گیا ہے، اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الر تلک ایت الکتب الحکیم۔ (یونس) یہاں بھی اس کا معنی محکم ہے اسے فعیل کی طرف پھیرا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔