63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsسراج البیان

Ayahs 63:1–5

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب منافق (ف 2) تیرے پاس آجاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک منافق جھوٹے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنایا پس لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا برے کام ہیں جو وہ کرتے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے ۔ پھر ان کے دلوں پر مہر کی گئی ۔ سو اب وہ نہیں سمجھتے

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تو انہیں دیکھے تو ان کے ڈیل (جسم) تجھے خوش لگیں اور اگر بات کہیں تو تو ان کی بات کی طرف کان لگائے گویا وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگی ہوئی ہیں ۔ ہر آواز کو اپنے اوپر (ہلاکت) وہی دشمن ہیں سو تو ان سے بچتا رہ اللہ غارت کرے کہاں پھیرے جاتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب انہیں کہا گیا کہ آؤ تمہارے رسول خدا معافی مانگیں تو اپنے سر پھیر لئے ہیں اور تونے انہیں دیکھا کہ رکتے اور تکبر کرتے ہیں

منافقین بزدل ہیں 2: قرآن حکیم نے منافقین کے اسرار واحوال کئی مقامات پر واشگاف اور پر بیان کئے ہیں ۔ تاکہ ان کو معلوم ہو ۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی واقعہ اور کوئی سازش پوشیدہ نہیں ۔ وہ ہر حرکت کو جانتا ہے ۔ اور ہر شرارت سے آگاہ ہے ۔ اس کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔ اس صورت میں بالخصوص ان کے افعال کی مذمت کی ۔ اور بتایا ۔ کہ ان کو دیکھوں تو بظاہر بھلے چنگے معلوم ہوتے ہیں ۔ شکل وشباہت سے وجہات ٹپکتی ہے ۔ معقول آدمی دکھائی دیتے ہیں ۔ مگر قلب و دماغ کی یہ کیفیت ہے ۔ کہ بالکل بیکار ہیں ۔ جس طرح غیر ضروری لکڑیاں دیوار کے سہارے کھڑی کردی جاتی ہیں ۔ اسی طرح یہ لوگ بالکل مہمل ہیں ۔ ان سے فائدہ کی توقع فضول ہے ۔ یعنی دنیا کے کاروبار میں بلحاظ غیر مفید ہونے کے ان کو لکڑیوں سے تشبیہہ دی ہے ہے باوجود اس ڈیل ڈول اور اور جسامت کے بزدل اس درجہ ہیں کہ ہر آواز کو جو بلند ہو ۔ یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ ان ہی کی مخالفت میں بلندہوتی ہے ۔ دلوں میں تسکین و طمانیت موجود نہیں ۔ ہر آن سہمے ہوئے رہتے ہیں اور انہیں خطرہ رہتا ہے ۔ کہ کہیں ہماری بدمعاشیوں کی وجہ سے ہم کو گزند نہ پہنچایا جائے ۔ اس آیت میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ کفر کی ظاہری چمک دمک اور رکھ رکھاؤ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ منکرین کی دولت اور ثروت کو دیکھ کر یہ نہیں سمجھنا چاہیے ۔ کہ اللہ ان سے خوش ہے ۔ اور اللہ کان پر بڑا کرم ہے ۔ کیونکہ جہاں ان کے باطن کا تعلق ہے ۔ اس میں جرات موجود نہیں ہے ۔ پاکیزگی اور تقویٰ کا نام ونشان تک نہیں ۔ اور وہ فضائل جو ایک انسان میں موجود ہونے ضروری ہیں ۔ ان سے یہ لوگ یک قلم محروم ہیں ۔ منافقین کے حق میں طلب بخشش فضول ہے ۔
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

ان کے لئے تو مغفرت مانگے (ف 1) یا نہ مانگے ۔ ان کے حق میں برابر ہے ۔ اللہ تو انہیں نہ بخشے گا ۔ بیشک اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا

ف 1: منافقین کی بدبختی اور شقاوت کی ھدیہ ہے ۔ کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کم بختو ! حضور ﷺ طبیعت کے بہت نرم ہیں ۔ اور دل سے چاہتے ہیں کہ تم لوگ تائب ہوجاؤ۔ اور زمرۃ منافقین سے نکل آؤ۔ وہ تمہارے لئے بخشش کی دعا کرینگے ۔ تم آؤ اور دربار نبوی سے نجات کا پروانہ حاصل کرلو ۔ مگر یہ لوگ بکمال مروی اور نخوت منہ پھیر کر اغراض کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ لوگ جب تک منافق رہیں گے ۔ ان کی بخشش نہیں ہوسکتی ۔ آپ کا تجسس کا مانگنا یا نہ مانگنا برابر ہے ۔ کیونکہ ان کے دلوں میں فسق وفجور کی خباثت موجود ہونے کی وجہ سے ان کو علام غیوب خدا نے حضور ﷺ رحمتہ للعالمین کو ان کے ایمان لانے سے ناامید کیا ہے ۔ حل لغات :۔ فطبع علی قلوبھم ۔ یعنی ایمان کے بعد کفر امتیاز کرنے پر ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ۔ اور اس صلاحیت کو چھین لیا گیا جو وجہ استہزاز ہوتی ہے اجسامھم ان کے ظاہری جسم ان کے قدواقامت صیحۃ ۔ چیخ ۔ آواز ۔
Ayahs 63:7–10

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

وہی ہیں (جو انصار کو) کہتے ہیں کہ (اپنا مال) (ف 1) ان لوگوں پر جو رسول خدا کے پاس ہیں خرچ نہ کرو ۔ یہاں تک کہ وہ بھاگ جائیں اور آسمان اور زمین کے خزانے اللہ کے ہیں ۔ لیکن منافق نہیں سمجھتے

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اگر ہم (غزوہ بنی مصطلق سے) لوٹ کر مدینہ میں گئے تو عزت دار لوگ بےقدر لوگوں کو وہاں سے نکال دیں گے اور (حالانکہ) عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کی ہے ۔ لیکن منافق نہیں جانتے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

مومنو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کی یاد سے غافل کریں اور جس نے یہ کیا ۔ تو وہی لوگ زیاں کار ہیں

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو ۔ اس سے پہلے کہ تم میں کسی کو موت آئے ۔ پھر کہے ۔ کہ اے رب ایک وقت قریب تک تونے مجھے مہلت کیوں نہ دی کہ میں خیرات دیتا ۔ اور نیکوں میں ہوجاتا

ف 1: یہ لوگ جب یہ محسوس کرتے ۔ کہ مسلمان ہر صبح کو اپنے اقتدار میں اضافہ کررہے ہیں ۔ اور ہر شام کو ہمارے اقبال کا آفتاب غرورب ہورہا ہے ۔ تو دل میں بہت زیادہ کڑھتے اور بھنا کر کہتے ۔ کہ اصل میں یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے ۔ اگر ہم ان کو جگہ نہ دیتے ۔ اور ان کی مالی امداد نہ کرتے ۔ تو یہ لوگ اس قوت نہ حاصل کرسکتے ۔ اور کہتے کہ دیکھو آئندہ مسلمانوں کی مالی مدد نہ کرو ۔ پھر ایک ایک کرکے یہ لوگ خود بخود اسلام کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں گے ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ جانتے کہ اس قوم کا تعلق اس خدا سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے خزائن کا تنہا مالک ہے ۔ وہ تمہاری مدد اور امانت کا پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتا ۔ پھر یہ بھی کہتے کہ اب کے سفر سے ہم لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے ۔ تو ہم میں سے باعزت لوگ ان ذلیل مسلمانوں کو نکال کر رہیں گے ۔ یہ گفتگو ایک سفر کی ہے جبکہ حضور ﷺ نے ایک مہاجر اور انصاری میں ان کی توقعات کے خلاف صلح کرادی تھی اس کے جواب میں کہا ۔ کہ تمہیں معلوم ہی ہیں ۔ آئندہ عزت کا معیار بدل دیا گیا ہے ۔ اب عزت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے ۔ اور ان لوگوں کے لئے ہے جو مومن ہیں ۔ تم باوجود مال و دولت کے ذلیل ورسوا ہوجاؤ گے ۔ حل لغات :۔ ینفصوا ۔ بھاگ کھڑے ہوں گے ۔ منتشر ہوجائیں گے ۔
Ayah 63:11

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور اللہ کسی جان کو جب اس کا وقت (ف 1) آجاتا ہے ۔ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

مرد مسلمان کا اللہ سے تعلق 1: مرد مسلمان کی وابستگی اللہ تعالیٰ کے ساتھ نوع کی ہے ۔ کہ وہ مذہباً مجبور ہے ۔ کہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہو ۔ ہر آن اسی کی ذات میں غوروفکر اور اس کے احکام کے ساتھ شغف ضروری بڑے سے بڑا تعلق بھی اس کے لئے اس تعلق وارادت کے مقابلہ میں ہیچ ہے ۔ جو اس کو اس حسن مطلق کے ساتھ ہے ۔ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہر لحظہ اور ہر آن یہ خیال رکھتا ہے ۔ کہ اس کی حرکات اور اعمال وجوارح تک اللہ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے ۔ ومن احسن من اللہ یبغۃ اس کو حکم دیا گیا ہے ۔ کہ دیکھو دنیا میں رہو ۔ کہ مال واولاد کی محبت تم کو الجھا دے ۔ اور تمہارے دامن کو شرک آلود کردے ۔ مال کے اکتساب میں سعی بلیغ ضروری ہے زیادہ سے زیادہ مال و دولت جمع کرو سیم وزر کے ڈھیر اپنے سامنے لگالو ۔ اسی طرح اولاد پیدا کرو ۔ اعوان و انصاف بڑھاؤ۔ مگر یہ چیزیں اللہ کی محبت کے ازدیاوکاباعث ہوں ۔ ترکہ اپنی طرف تم کو مائل کردیں ۔ جب اس کو ضرورت ہو ۔ تو یہ خزانے بےدریغ اس کی راہ میں لٹا دو ۔ اور تمام دولت نچھاور کردو ۔ اور اولاد کی ضرورت ہو ۔ تو اس سے بھی دریغ نہ کرو ۔ اسلامی فوج میں بھیج دو ۔ گریہ کیفیت ولی میں موجود ہو ۔ اور یہ عزائم ہوں ۔ تو پھر غفلت اور تساہل کے پردے اس پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ فرمایا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھا ہے ۔ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کرو ۔ اس سے قبل کہ موت کے چنگل میں گرفتار ہوجاؤ۔ اور فنا کا فرشتہ آموجود ہو ۔ کیونکہ اس وقت دل میں حسرتیں پیدا ہوں گی ۔ جو پوری نہ ہوسکیں گی ۔ اس وقت یہ خواہش ہوگی ۔ کہ کاش موت کے لمحات میں کچھ تاخیر ہوجاتی ۔ اور چندے خیرات اور صدقات کی مہلت مل جاتی ۔ اور صلاح وتقویٰ کے مواقع میسر آجاتے ۔ مگر یہ ناممکن ہے موت کا وقت مقرر ہے ۔ اس میں ایک ثانیہ اور ایک لمحہ کی تاخیر نہیں ہوتی ۔ بڑے سے بڑا آدمی باوجود اپنی جلالت قدر کے اس کے سامنے اپنے کو جھکادیتا ہے اور یہ تسلیم کرتا ہے ۔ کہ موت کی قوتیں اس کی عقل وبصیرت سے زیادہ زبردست ہیں ۔ پھر جب یہ حقیقت ہے ۔ کہ ہر نفس کو مرنا ہے ۔ اور بھی درست ہے کہ موت ایک لمحہ کے لئے بھی ٹل نہیں سکتی ۔ تو کیا حالات کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ مسلمان میدان جہاد میں آجائیں اور املا کلمۃ اللہ کے لئے مقدور بھر سعی کریں ۔ باقی صفحہ حل لغات : ۔ الخاسرون ۔ خسارہ پانے والے ۔