63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة المنافقون سورة نمبر 63 کل رکوع 2 آیات 11 الفاظ و کلمات 183 حروف 821 مقام نزول مدینہ منورہ اے ایمان والو ! کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ سے غافل کردیں۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ سخت نقصان اٹھائے گا۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں جو کچھ مال و دولت عطا فرمایا ہے موت آنے سے پہلے خرچ کرو۔ کہیں ایس انہ ہو کہ جب عذاب سامنے آئے تو تم یہ کہنے لگو کہ مہلت اور مل جاتی تو ہم خوب صدقہ خیرات کرتے۔ نیک اور صالح بندوں میں شامل ہوجاتے۔ فرمایا کہ یاد رکھو موت آنے کے بعد پھر مہلت نہیں دی جاتی۔ جو کرنا ہے وہ اسی دنیا میں کر گزرو۔ وہ اللہ تمہارے ایک ایک عمل سے اچھی طرح واقف ہے۔ چرب زبان، مکار اور منافقوں سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے جو زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان قبول کرچکے ہیں لیکن یہ لوگ اندر ہی اندر اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ یہ اہل ایمان کے مخلص نہیں ہیں بلکہ جہاں ان کا موقع ہوتا ہے وہیں یہ اسلام کے خلاف سرگرمیوں میں لگ جاتے ہیں۔ سورۃ المنافقون کا ایک مفہوم تو عام ہے یعنی ہر زمانہ میں دین اسلام کی مخالفت کرنے کے لئے آستین کے ایسے سانپ آتے رہیں گے جو اسلام کو اپنے مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ بنائیں گے اور اپنی منافقانہ روش سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ ان کی شرارتوں سے کیسے بچا جائے اس کا طریقہ بھی بتا دیا گیا۔ ان آیات کا دوسرا مفہوم خاص منافقین کا پس منظر بھی ہے۔ علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ تشریف آوری سے کچھ پہلے مدینہ منورہ کے قبیلہ اوس و خزرج نے مسلسل جنگوں سے تنگ آکر یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ دونوں قبیلے اپنے اختلافات کو ہمیشہ کے واسطے ختم کردیں اور کسی کو اپنا بادشاہ بنالیں۔ عبد اللہ ابن ابی سلول ایک چالاک، عیار اور مکار آدمی تھا۔ سب نے اس کو اپنا بادشاہ بنانے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے ایک بہترین تاج تیار کرلیا تھا۔ ابھی اس کی تاج پوشی کی تیاریاں ابتدائی مراحل میں تھیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ منورہ آمد سے ہر طرف ان ہی کا چرچا شروع ہوگیا اور لوگ عبد اللہ ابن ابی کی تاج پوشی کو بھول گئے۔ دونوں قبیلوں کے لوگ بڑی تیزی سے مسلمان ہونا شروع ہوگئے۔ اس صورت حال کے سامنے ابن ابی اور اس کے ساتھی انتہائی مایوس اور بےبس ہوگئے۔ اب ان کیلئے اس کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا کہ وہ بھی ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیں۔ چناچہ ابن ابی اور اس کے قبیلے کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ وہ نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ میں شریک رہتے مگر وہ سب اس بات سے اندر ہی اندر سلگ رہے تھے کہ ان حالات نے ان سے بادشاہت کا خواب چھین لیا تھا۔ اس کے بعد عبد اللہ ابن ابی جہاں اور جس جگہ موقع پاتا اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کاتنے پر کسر نہ چھوڑتا۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کی غداریوں، جنگ احد میں اپنے سات سو ساتھیوں کے ساتھ اسلامی لشکر سے علیحدگی، کفار مکہ سے ساز باز اور سازشوں نے اس کو مسلمانوں کے سامنے بےنقاب کردیا تھا۔ جب غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر صحابہ (رض) کی دو جماعتوں میں اختلاف ہوا تو اس نے اس معمولی سی بات کو اتنی ہوا دی کہ انصار اور مہاجرین کے درمیان جنگ ہوسکتی تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بروقت اقدام فرما کا عبد اللہ ابن ابی کی سازش کو بری طرح ناکام بنادیا۔ مگر ان ابی چوٹ کھائے ہوئے سانپ کی طرح کھل کر اسلام دشمنی میں سامنے آگیا۔ اس نے انصار مدینہ کو جمع کرکے لمبی چوڑی تقریر کی اور یہ کہا کہ اے انصار ! یہ سب کچھ تمہاری غلطیوں کی وجہ سے ہوا ہے تم نے ان لوگوں کو اپنے شہ ر میں جگہ دی۔ ان پر مال تقسیم کیا یہاں تک کہ آج یہ تمہارے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ اگر تم ان سے اپنے ہاتھ روک لو تو ان سے تمہاری جان چھوٹ جائے گی۔ اس نے کہا اللہ کی قسم مدینہ واپس جا کر ہم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ عبد اللہ ابن ابی کی ان باتوں کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ہوگئی۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد اللہ ابن ابی سے پوچھا کہ کیا اس نے ایسا کہا ہے تو اس نے صاف انکار کردیا۔ اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ سے تیزی سے نکل کر جانے اور کوچ کرنے کا حکم دیا اور مدینہ منورہ واپس پہنچ گئے۔ چونکہ ابن ابی کھل کر سامنے آگیا تھا اس لئے تمام صحابہ کرام (رض) ساری بات سمجھ گئے تھے۔ اس موقع پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم سچے دل سے قرار کرتے اور گواہی دیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک اللہ گواہی دیتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں لیکن یہ منافقین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اللہ کا رسول اس لئے کہتے ہیں کہ یہ اپنا بچائو کرسکیں۔ یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقین دلانا چاہتے ہیں درحقیقت یہ اندر سے کافر ہی ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر ایک ایسی مہر لگ چکی ہے جس سے یہ اچھے اور برے میں فرق کر ہی نہیں سکتے۔ ان کا ڈیل ڈول اور لچھے دار گفتگو ایسی ہوتی ہے کہ آدمی دیکھتا اور سنتا ہی رہ جائے لیکن یہ ان لڑکیوں کی طرح ہیں جو کندے کی شکل میں دیوار سے لگا کر کھڑی کردی گئی ہیں اور جو کسی مصرف کی نہ ہوں۔ ہر زور دار آواز سے یہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور ہر اٹھی ہوئی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ اللہ کے دین کے دشمن ہیں۔ اللہ ان کو غارت کر دے ان سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ نجانے کس طرف الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔ فرمایا کہ جب ان منافقین سے یہ کہا جاتا ہے کہ آئو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلتے ہیں وہ اللہ سے تمہارے لئے دعائے مغفرت کریں گے تو وہ تکبر سے اپنا سر جھٹک کر کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان لوگوں کا کفر، غرور، تکبر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی معافی کی درخواست کریں نہ کریں اللہ اس کو قبول نہ فرمائے گا، نہ ان کو راہ ہدایت عطا فرمائے گا۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تم ان مسلمانوں کو اہمیت نہ دو ، ان کی امداد اور خرچ بند کردو تو یہ لوگ تنگ آکر ادھر ادھر بھاگ جائیں گے۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ زمین اور آسمان کے سارے خزانوں کا مالک تو اللہ ہے لیکن یہ بات منافقین کی سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو ہم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ فرمایا کہ یہ لوگ بھول رہے ہیں کہ ساری عزت تو اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لئے ہے لیکن ابھی ان منافقین کو اس کا علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا وہ زبردست نقصان اٹھائے گا۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں جو کچھ مال و دولت دیا ہے تم اس میں سے موت آنے سے پہلے خرچ کردو تاکہ تم افسوس کے ساھت یہ نہ کہو کہ اے ہمارے رب اگر ہمیں تھوڑی سے مہلت اور دی ہوتی تو ہم خوب صدقہ خیرات کرتے اور نیک اور صالح بندوں میں شامل ہوجاتے۔ فرمایا کہ موت آجانے کے بعد پر مہلت نہیں دی جائے گی جو کرنا ہے وہ کر گزرو اللہ تمہارے ایک ایک کام سے اچھی طرح واقف ہے۔

Ayahs 63:1–11

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ جب وہ منافق آپ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین البتہ جھوٹے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

یہ لوگ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ بیشک وہ جو کچھ کر رہے ہیں بہت برا کر رہے ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایمان لا کر پھر انکار کرنے والے بن گئے تو اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ اب وہ حق بات کو سمجھتے ہی نہیں۔

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے (ظاہری جسم) خوش نما لگتے ہیں اور یہ لوگ (لچھے دار) باتیں کرتے ہیں کہ ان کو سنتے ہی رہیں جیسے وہ خشک لکڑیاں ہیں جو کسی دیوار سے لگا دی گئی ہیں۔ اور وہ ہر بلند ہونے والی آواز کو اپنے خلاف (خطرہ) سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ دشمن ہیں آپ ان سے بچ کر رہیے۔ اللہ ان کو غارت کردے یہ کہاں (الٹے) پھرے جا رہے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان (منافقین) سے کہا جاتا ہے کہ آئو تاکہ اللہ کے رسول تمہارے لئے بخشش ( کی دعائیں) مانگیں تو یہ لوگ اپنے سروں کو پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے بےرخی اختیار کرتے ہیں۔

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کریں یا نہ کریں دونوں باتیں برابر ہیں۔ اللہ ان کو ہر گزر معاف نہ کرے گا۔ بیشک اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہ لوگ ہی تو ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس رہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ خود بخود منتشر ہوجائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے سارے خزانے اللہ کے پاس رہیں لیکن منافق تو اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے۔

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

وہ (منافقین) کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ حالانکہ ساری عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے لئے ہے لیکن یہ منافق اس بات کو نہیں جانتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں۔ جو ایسا کریں گے تو وہی لوگ سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

(لوگو ! ) ہم نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے اس سے پہلے خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے۔ پھر وہ یہ کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار آپ نے مجھے تھوڑی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خوب خرچ کرتا اور صالحین میں سے ہوجاتا۔

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

(لیکن اللہ کا قانون یہ ہے کہ ) جب کسی جاندار کا مقرر وقت آجاتا ہے تو اس کو مزید مہلت نہیں دی جاتی۔ اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔ تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔ اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے اوس اور خزرج آپس کی لڑائیوں اور جنگ سے تنگ آچکے تھے انہوں نے یہ طے کیا کہ کسی ایک شخص کو ان دونوں قبیلوں کا سردار اور بادشاہ بنا لیا جائے تاکہ اختلاف اور جھگڑے کے وقت اس سے مدد لی جاسکے۔ عبد اللہ ابن ابی ایک نہایت چالاک اور عیار آدمی تھا۔ اس نے ایسے طریقے اختیار کئے کہ اورس اور خزرج کے لوگ اس کو اپنا بادشاہ بنانے پر رضا مند ہوگئے۔ انہوں نے بادشاہوں جیسا تاج تیار کرلیا تھا تاکہ باقاعدہ تاج پوشی کی رسم ادا کی جائے۔ ادھر بیعت عقبہ ثانیہ کے بعد مدینہ منورہ کے وہ حضرات جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو قبول کرلیا تھا اور دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی مگر انہوں نے جرأت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کو مدینہ منورہ آنے کی باقاعدہ دعوت پیش کردی۔ نبی کریم ﷺ نے انصار مدینہ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما لی۔ آپ ﷺ جیسے ہی مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر گھر میں آپ ہی کا چرچا شروع ہوگیا۔ پھر آپ نے آتے ہی مہاجرین و انصار کو اخوت و محبت کے رشتے میں اس طرح منسلک کردیا کہ وہ سگے بھائیوں سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کرنے لگے۔ دوسری طرف آپ نے مدینہ منورہ میں آباد تمام قبیلوں سے باہمی صلح کا ایک ایسا معاہدہ فرمایا تاکہ سب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ایسی فضا پیدا کریں جس سے بیرونی دشمن کو مدینہ منورہ پر حملہ کرنے یا نقصان پہنچانے کی ہمت نہ ہوسکے۔ یہ سارے اقدامات ایسے تھے کہ لوگ عبد اللہ ابن ابی کی تاج پوشی کو بھول گئے۔ ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے عبد اللہ ابن ابی نے اسی میں میں عافیت سمجھی کہ جس طرح اوس و خزرج اور دوسرے قبیلوں کے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں وہ بھی ظاہری طور پر اسلام قبول کرلے۔ چناچہ اس نے اور اس کے قبیلی کے دو تین سو آدمیوں نے منافقت کے لبادے میں اسلام قبول کرلیا۔ کہتے ہیں چوٹ کھایا ہوا سانپ بڑا خطرناک ہوتا ہے۔ عبد اللہ ابن ابھی بھی اس بات کو کیسے بھول سکتا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کی آمد کی وجہ سے اس کی بادشاہت کا تصور چھین چکا تھا۔ چناچہ اس نے ہر موقع پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور اسلام کے مقاصد کو نقصان پہنچانے میں کسر نہیں چھوڑی۔ ٭جب نبی کریم ﷺ نے بنو قینقاع کی سرکشی اور معاہدہ شکنیوں پر ان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا تو بنو قینقاع کی حمایت میں سب سے آگے یہی عبد اللہ ابن ابی تھا۔ غزوہ بدر کے بعد جب کفار مکہ نے تین ہزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کیا تو نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک ہزار مسلمان تھے۔ اس موقع پر عبد اللہ ابن ابی نے لوگوں میں کفار مکہ کی طاقت کا اس طرح نقشہ کھینچا کہ وہ خود اور اس کے تین سو ساتھی میدان جنگ سے مدینہ منورہ میں اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ اتنے بڑے دشمن کے مقابلے کے وقت اتنی بڑی تعداد کا نکل جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا جس کو نظر انداز رکر دیا جاتا لیکن نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کا بھروسہ صرف اس اللہ پر تھا جو ساری کائنات کی قوتوں کا مالک ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ جن کے پاس پوری طرح ہتھیار بھی نہ تھے جنگ شروع ہوتے ہی ایسے بےجگری سے لڑے کہ دشمن کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنا پڑا۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے دشمن پر ایسے وار کئے کہ دشمن کے دانت کھٹے کردئیے۔ عبد اللہ ابن ابی ان سلول اور اس کے ساتھیوں کے نکل جانے سے اس جنگ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا لیکن عبد اللہ ابن ابی نے اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کرکے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے میں کسر نہ چھوڑی۔ اسی طرح جب 4 ھ میں بنو نضیر نے غداری اور عہد شکنی کی انتہا کردی اور یہ ثابت ہوگیا کہ بن نضیر مکہ کے کفار کے ساتھ سازش کرکے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کا پورا بندوبست کرچکے ہیں تو آپ نے بنو نضیر کو ان کی عہد شکنی کی سزا دینے کا فیصلہ کرلیا۔ عبد اللہ ابن ابی نے بنو نضیر کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنی جگہ ڈٹے رہیں۔ اس کے پاس دو ہزار ایسے مسلح نوجوان موجود ہیں جو ان کی مدد کریں گے۔ جب نبی کریم ﷺ نے بنو نضیر کو ذلت و رسوائی کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکال دیا اس کے بعد۔ غزوہ بنو مصطلق کا موقع تھا کہ ایک دن عبد اللہ ابن ابی نے ایک محفل میں اپنے دلی بغض اور دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگو ! تم نے ان مسلمانوں کو اپنے وطن میں بلا کر اپنے سروں پر مسلط کیا۔ اپنے مال و جائیداد میں ان کو شریک کیا۔ یہ تمہاری روٹیوں پر پلنے والے اب تمہارے ہی مقابلے پر آگئے ہیں۔ اگر تم نے اب بھی اپنے انجام پر غور نہ کیا تو یہ لوگ آگے تمہارا جینا حرام کردیں گے۔ تمہیں چاہیے کہ تم آئندہ سے ان کی کسی طرح مدد نہ کرو اس طرح یہ لوگ مدینہ چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ اب تمہیں چاہیے کہ جب تم مدینہ پہنچو تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو باہر نکال دے۔ حضرت زید ابن ارقم جو بچے تھے انہوں نے عبد اللہ ابن ابی کی ساری باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ کو بتادیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے یہ سب باتیں خود سنی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ عبد اللہ ابن ابی کی یہ بات پورے لشکر اسلام میں پھیل گئی اور ہر طرف عبد اللہ ابن ابی کے خلاف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ عبد اللہ ابن ابی کے بیٹے کا نام بھی عبد اللہ ہی تھا۔ وہ سچے اور پکے مسلمان تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنے باپ کو قتل کردوں۔ لیکن آپ ﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمادیا۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کے اشتعال اور غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اس جگہ سے کوچ کا حکم دیا۔ جب آپ مدینہ کے قریب وادی عقیق میں پہنچے تو عبد اللہ ابن ابی کے بیٹے حضرت عبد اللہ نے اپنے باپ کو تلاش کرنا شروع کردیا۔ جب باپ پر نظر پڑی تو انہوں نے عبد اللہ ابن ابی کی سواری کو بٹھا کر اور اونٹ کے گھٹنے پر پاؤں رکھ کر کہا کہ اللہ کی قسم تم مدینہ میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک اس بات کی وضاحت نہ کردو کہ عزت والا ذلت والے کو نکال دے۔ بتائو اسمیں عزت والا کون ہے ؟ عبد اللہ اپنے باپ کا راستہ روکے کھڑے تھے جب نبی کریم ﷺ کی سواری پاس سے گزری اور صورت حال معلوم کی تو آپ نے اپنے صحابی حضرت عبد اللہ سے فرمایا کہ عبد اللہ ابن ابی کا راستہ چھوڑ دو ۔ مدینہ جانے دو ۔ آپ ﷺ کے حکم کے بعد حضرت عبد اللہ نے اپنے باپ کا راستہ چھوڑ دیا۔ لیکن عبد اللہ ابن بی نہایت ذلیل و خوار ہوچکا تھا اور اس کی منافقت پوری طرح کھل کر سامنے آچکی تھی۔ اس موقع پر زیر مطالعہ آیات نازل ہوئیں۔