Ayah 63:11 ۔ منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی گواہی کہ یہ قطعی جھوٹے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی طور پر جھوٹے ہیں کہ یہ جو کچھ زبان سے کہتے ہیں دل میں عقیدہ اس کے خلاف رکھتے ہیں، صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ مریسیع کے سفر کے دوران رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول نے وہ جھوٹٰ باتیں کیں جن کا ذکر آگے اسی سورة کریمہ میں فرمایا گیا ہے، تو میں نے معاملہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، آپ کے تحقیق فرمانے پر ابن ابی سلول نے صاف انکار کردیا، اور اس کے حواریوں نے بھی اسی کا ساتھ دیا، جس پر آنحضرت ﷺ نے مجھے جھوٹا قرار دیا اور ان کو سچا ( کذبنی و صدقھم) اس سے مجھے اس قدر غم اور صدمہ لاحق ہوا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور میں غمگین ہو کر گھر بیٹھ گیا، یہاں تک کہ یہ سورة کریمہ نازل ہوئی، آنحضرت ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق فرما دی ہے ( روح، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، جامع وغیرہ) اس قصہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی اختیار کلی اور ہر جگہ حاضر ناظر ہونے کے تمام شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ گئی، والحمدللہ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ منافق قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 63:22 ۔ منافقوں کے اپنی قسموں کو ڈھال بنانے کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ یعنی دنیوی سزاؤں سے بچنے کے لیے جو اہل کفر کے لیے مقرر و مخصوص ہیں، سو یہ لوگ اپنی جھوٹی قسموں کے ذریعے اپنے بجاؤ کا سامان اس طرح کرتے ہیں جس طرح ڈھال کے ذریعے اپنے بچاؤ کا سامان کیا جاتا ہے، سو یہ لوگ اپنی ان جھوٹی قسموں کے ذریعے مسلمانوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ اور آپ ہی میں سے ہیں، اور یہود وغیرہ تمہارے دشمنوں سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، لیکن جھوٹٰ قسموں کی بناء پر قائم کردہ یہ ڈھال ان کو زیادہ دیر تک کام نہیں دے سکتی، انہوں نے جلد رسوا ہو کر اپنے انجام کو پہنچنا ہے، اس کے نتیجے میں ان کے لیے دنیا کا عذاب کبھی اور کسی بھی شکل میں آکستا ہے، اور آخرت کا عذاب تو ان کے لیے مقرر ہے ہی، سو اس طرح اپنی اس منافقت سے یہ لوگ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں، والعیاذ باللہ۔ اس سے پہلے سورة مجادلہ میں بھی منافقوں کے ایسے منافقانہ کرتوتوں کا ذکر فرمایا جا چکا ہے کہ انہوں نے ایک طرف تو خدا کی مغضوب علیہ قوم سے دوستی گانٹھ رکھ ہے اور قسمیں کھا کر ان کو یقین دلا تے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، اور دوسری طرف یہ لوگ مسلمانوں کو بھی قسمیں کھا کر یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، سو اس طرح منافقوں کے اس منافقانہ کردار کو اجاگر فرمادیا گیا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
3 ۔ منافقوں کا کام راہ حق سے رکنا، اور روکنا۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے یعنی قسما قسم کے شکوک و شبہات کے ذریعے، صد لازم بھی استعمال ہوتا ہے اور متعدی بھی، یعنی اس کے معنی خود رکھنے کے بھی ہیں، اور دوسروں کو روکنے کے بھی اور منافق لوگوں کے اندر یہ دونوں ہی باتیں پائی جاتی تھیں، اور اس طرح وہ جرم بالائے کرم کے مرتکب ہوتے تھے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو انہوں نے پہلے تو اسلام کی طرف قدم بڑھایا اور ظاہری طور پر اس کا اعلان و اقرار بھی کیا، لیکن پھر اپنی جھوٹی قسموں کی آڑ میں یہ لوگ اس سے پھرگئے، انہوں نے جب دیکھا کہ محض ظاہری اعلان اور زبانی اقرارت سے اپنی اسلامیت کی دھونس جمائی جاسکتی اور مسلمانوں کو جھوٹی قسموں کے ذریعے دھوکہ دیا جاسکتا ہے، تو انہوں نے کہا کہ اس سے آگے بڑھ کر خطرات میں کیوں مبتلا ہوں ؟ سو اس طرح یہ لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر ہولناک خسارے میں پڑگئے، اور اس طور پر کہ ان کو اس کا احساس و شعور ہی نہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے اور جس چیز کو یہ لوگ اپنی بدبختی کی بنا پر اپنی چالاکی سمجھتے اور اپنی دانشمندانہ سیاست قرار دیتے ہیں وہ دراصل ان کی حماقت و محرومی کی ہلاکت و بربادی کا سامان اور ان کی منافقانہ چالوں کا پلندہ ہے مگر یہ اس کو سمجھتے نہیں۔ سو کفر و نفاق اور اسی طرح شرک و بدعت کی نحوست سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے جس سے ایسے لوگ راہ حق و ہدایت سے محروم ہوجاتے ہیں مگر ان کو اپنے اس ہولناک خسارے کا احساس ہی نہیں ہوتا، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان وانت العزیز الوھاب جل وعلا۔
Ayah 63:34 ۔ منافقین سنت خداوندی کی زد میں، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفر و نفاق کی سزا مہر خداوندی اور دائمی محرومی ہے، والعیاذ باللہ۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں یہ لوگ نہ حق کو سمجھتے ہیں اور نہ حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ حق اور حقیقت سے محروم رہ کر یہ کس قدر خسارے میں دوچار ہو رہے ہیں، فھم کی فاء تغریع سے ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ سب کچھ ان لوگوں کے خود اپنے ہی اختیار کردہ کفر و نفاق اور اپنے ہی کیے کا ثمرہ و نتیجہ ہے، والعیاذ باللہ۔ سو یہ کفر و نفاق کی ایک نقد اور بڑی ہولناک سزا ہے، جو سنت ایزدی اور دستور خداوندی کے مطابق ایسے لوگوں کو ملتی ہے کہ ان کے کفر و نفاق کے نتیجے میں ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت کردی جاتی ہے، جس سے ان کی مت ایسے مار دی جاتی ہے کہ ان کو کچھ سمجھ نہیں آتا، اور ان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ یہ اپنے نقصان کو بھی نفع سمجھنے لگتے ہیں، اور جب مریض اپنی بیماری کو بھی صحت سمجھنے لگے تو پھر اس کے لیے صحت و سلامتی کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے ؟ سو اس طرح اور یہ لوگ عقل سلیم اور فکر مستقیم سے محروم ہو کر ہمیشہ کے اور انتہائی ہولناک خسارے میں پڑگئے اور یہ اس لیے کہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کی راہ اختیار کی اور اللہ پاک سبحانہ وتعالی کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ جو لوگ نور ایمان کی قدر کرتے ہیں وہ اپنی رحمت و عنایت سے ان کے اس نور میں اضافہ فرماتا ہے جس سے ان کے باطن روشن سے روشن تر ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کو قدرت کی فیاضیوں سے عطاء کی گئی ہوتی ہے، اور اس کے برعکس جو لوگ اس کی بےقدری اور ناشکری کرتے ہیں ان سے ان کی وہ پہلی روشنی بھی سلب ہوجاتی ہے اور ان کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے، جس سے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جو خساروں کا خسارہ ہے، مگر ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں ہوتا، والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 63:45 ۔ منافقوں کی ملمع سازی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم ان کو دیکھو گے تو تمہیں اچھے لگیں گے ان کے ڈیل ڈول اور یہ اگر بات کریں تو تم سنتے رہ جاؤ ان کی باتوں کو۔ ان کی طلاقت لسانی اور چرب زبانی کی وجہ سے اور منافقین کا آج تک اور ہر دور میں یہی حال رہا ہے، سو یہ ان لوگوں کے ظاہر حال کی تصویر ہے کہ ان کے جسمانی ڈیل ڈول، بڑے بنے ٹھنے، سجے سجائے نظر آئیں گے اور ان کی باتیں بڑی لچھے دار اور چکنی چپڑی ہوں گی، لیکن بےحقیقت اور بےجان، کیونکہ قوت اور وزن پیدا ہوتا ہے، ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت سے، جس سے یہ لوگ عاری اور محروم ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے منافقوں کی تصویر کو آشکارا فرما دیا گیا جس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان کا ظاہر اور باطن اور حقیقت سے محروم دھوکے کا سامان اور ملمع سازی کا مجموعہ ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال اور فسق و نفاق کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، فعلیک نتوکل وبک نستعین فی کل ان و حین۔
6 ۔ منافقوں کے کھوکھلے پن کی تصویر کا ذکرو بیان : سو ان کے باطن کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے باطن ایسے کھوکھلے ہیں کہ گویا کہ یہ لوگ لکڑٰ کے کندے ہیں جن کو ٹیک لگا کر رکھ دیا گیا ہو جن کا دوسروں پر بوجھ بننے کے سوا کوئی فائدہ نہیں، نور ایمان سے محروم اور قوت یقین سے تہی دست، بےجان، بےقیمت اور کندہ ناتراش ہیں۔ بہرکیف اس سے ان لوگوں کے باطن کی کیفیت کی عکاسی فرمائی گئی ہے کہ ان کی شکلیں اور ان کے ظاہری ڈیل ڈول اگرچہ بڑے عمدہ اور خوبصورت لگتے ہیں لیکن ان کے اندر جو دل ہیں وہ مردہ ہیں، اور اس کے نتیجے میں ان کے قوائے علم و ادراک ماؤف و معطل ہو کر رہ گئ، اور اس طرح ان کی حیثیت لکڑی کے ان کندھوں کی سی ہے جن کو کسی دیوار وغیرہ کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھ دیا گیا ہو، اور جو کسی کام کے نہیں ہوتے، سوائے اس کے کہ ان کو ایندھن کے طور پر آگ میں جھونک دیا جائے، سو جس چیز کو منافق لوگ اپنی چالاکی اور دانشمندی سمجھتے ہیں اس کی حقیقت اور اس کا انجام یہ ہے لیکن منافق لوگوں کو اپنی محرومی اور بدبختی کی بنا پر اس کا احساس و شعور تک نہیں کہ وہ اس کے تدارک و تلافی کی طرف متوجہ ہوسکیں اور اس کے لیے فکر و سعی کرسکیں، سو یہ سب سے بڑا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے، محروم انسان کو تلافی کی طرف متوجہ ہوسکیں اور اس کے لیے فکر و سعی کرسکیں۔ سو یہ سب سے بڑا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے کہ محروم انسان کو اپنی محرومی کا احساس و شعور بھی نہ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال و سوء و انحراف بکل حال من الاحوال۔
7 ۔ منافقت کی ایک نقد سزا کا ذکر وبیان، والعیاذ باللہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ان لوگوں کی ایک نقد سزا کے اظہار وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ہر اونچی آواز کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں، اپنے دل کے چور کی وجہ سے، سو اس طرح منافق شخص اپنی منافقت کی ایک نقد سزا یہیں بگھتا رہتا ہے، جب کہ مومن صاق اپنے ایمان و یقین کی دولت کی بناء پر ہر حال میں مطمئن رہتا ہے، سو ایمان و یقین کی دولت ایسی عظیم الشان اور عدیم النظیر اور بےمثال دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے ہمکنار اور سرفراز کرتی اور اس کو ہر حال میں مطمئن رکھتی ہے، فالحمدللہ الذی شرفنا بھذہ النعمۃ، نعمۃ الایمان والیقین زدنا منھا وثبتنا علیھا۔ آمین یا رب العالمین۔ " صیحیۃ " کے لفظ کے اصل معنی تو چیخ کے آتے ہیں، لیکن یہ خطرے کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں پر اس لفظ کے یہی معنی مراد ہیں، کیونکہ خطرے کے موقع پر انسان بےساختہ چیخ مارتا ہے، سو یہاں پر لازم بول کر ملزوم مراد لیا گیا ہے، پس نور ایمان و یقین سے محروم ان بدبختوں کا حال یہ ہے کہ جب یہ خطرے کی کوئی آواز سنتے ہیں تو اپنی بزدلی کی بنا سمجھتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ بجلی انہی پر گرنے والی ہے اور اس طرح یہ لوگ اپنی منافقت کی ایک نقد سزا بھگت رہے ہوتے ہیں، مگر ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں ہوتا، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، سوء وانحراف، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء الصراط۔
8 ۔ منافق خطرناک دشمن۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہیں اصل دشمن، پس تم ان سے بچ کر رہنا، اور ان کے ظاہری لباد سے دھوکہ نہیں کھانا، یہ کھلے دشمن سے بھی بڑھ کر خطرناک دشمن ہیں، کہ یہ مار آستین ہیں، والیعاذ باللہ۔ سو یہ تو جھوٹٰ قسموں وغیرہ کے ذریعے اپنے آپ کو بےگناہ ثابت کرنے اور دوسروں کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن تمہارے اصل دشمن یہی ہیں، اس لیے تم ان سے محتاط اور چوکنا رہنا، نہ ان کے ساتھ زیادہ میل جول رکھو نہ ان کی مجلسوں میں زیادہ اٹھو بیٹھو، اور نہ ان کے پروگراموں میں بلا ضرورت شرکت کرو، کہ یہ لوگ خطرناک دشمن ہیں، اور یہ ہمیشہ خوف اور ڈر میں مبتلا رہتے ہیں، اور جو دشمن خوف میں رہتا ہے وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی طرح اس کو نقصان پہنچا سکتا ہے جس کو وہ اپنا دشمن جانتا ہے اور یہ اپنے باطن کے خوف کے باعث اور وہمی خطرے کی بنا پر وہ بعض اوقات یوں ہی بلا کسی وجہ اور بغیر کسی سبب کے دوسرے پر حملہ کرسکتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، و سوء و شر۔
9 ۔ منافقوں کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا اور منافقوں کے حال پر اظہار تعجب اور افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ان کو غارت کرے یہ لوگ کہاں اوندھے ہوئے جارہے ہیں، اور ان کی مت کیسے ماری جارہی ہے، اور ان کی کھوپڑیاں کہاں الٹی اور اندھی ہوئی جاتی ہیں کہ ایمان و یقین جیسی دولت بےمثال کی قدروقیمت سے بھی یہ لوگ آگاہ نہیں ہوتے اور اپنے نفع و نقصان کو بھی نہیں پہچانتے اور یہ ہر قدم الٹا ہی اٹھائے جارہے ہیں، سو اس میں ان پر زجر و ملامت بھی ہے اور ان کے حال پر اظہار افسوس بھی، والعیاذ باللہ۔ اور ان کی اس ہٹ دھرمی کی بناء پر پیغمبر کے استغفار سے بھی ان کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا، سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے جیسے کہ اہل بدعت کا کہنا ہے، کیونکہ استغفار یعنی بخشش کی دعا کرنا اور اختیار کلی میں منافات ہے، اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہاں پر پر جیسا کہ اگلی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے، پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں ان کے حق میں ایک برابر ہے، کہ اللہ ہرگز ان کی بخشش نہیں فرمائے گا مگر اس کے باوجود اہل بدعت کا کہنا ہے کہ پیغمبر مختار کل ہوتے ہیں جو چاہیں کریں، والعیاذ باللہ۔ اتنی یوفکون یہ لوگ کہاں اور کیسے اوندھے ہوئے جارہے ہیں اور کس طرح ہلاکت و تباہی کے انتہائی مہیب اور ہولناک گڑھے میں گرتے جار ہے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین
Ayah 63:510 ۔ نفاق و استکبار باعث محرومی و ہلاکت، والعیاذ باللہ العظیم : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نفاق و استکبار محرومیوں کی محرومی اور فساد کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللہ۔ روایات میں وارد ہے کہ جب غزوی مریسیع کے سفر کے اس واقعہ کے بعد جو ان آیات کا شان نزول ہے جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئی تو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول سے اس کے کچھ ملنے والوں نے کہا کہ تمہارے بارے میں بڑی سخت آیتیں نازل ہوئی ہیں اس لیے تم چل کر رسول اللہ ﷺ سے معافی مانگو، تو اس نے اپنے مخصوص متکبرانہ اور منافقانہ انداز میں کہا کہ تم لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اس پر اور اس کے دین پر ایمان لے آؤں، تو میں ایمان لے آیا، پھر تم لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں زکوٰۃ دوں تو میں نے اپنے مال کی زکوٰۃ دی، اور اب اس کے بعد کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی، سوائے اس کے کہ میں محمد کو سجدہ کروں تو کیا اب تم لوگ یہی چاہتے ہو کہ میں اس کو سجدہ کروں ؟ سو ایسا کبھی اور ہرگز نہیں ہوسکتا، روایات میں ہے کہ اس کے کچھ ہی دن بعد وہ بیمار ہوا اور اپنے اسی کفر و نفاق پر مرگیا ( خازن، مراغی، ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی وغیرہ) سو اس سے واضح ہوگیا کہ نفاق و استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنا محرومیوں کی محرومی اور فساد و ناکامی کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس بندے کا کام اور اس کے شان یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے خالق ومالک کے حکم و ارشاد سے آگے جھکار ہے اور اس کے ہر حکم و ارشاد کو دل و جان سے بجا لائے کہ یہی اس کی شان عبدیت و بندگی کا تقاضا اور اس کے خالق ومالک کا اس پر حق ہے اور اسی میں اس کی بھلائی اور بہتری ہے اور یہی اس کے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 63:611 ۔ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے، علیھم الصلوۃ والسلام : سو اس سے یہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کیونکہ یہاں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ اے پیغمبر ان منافقوں کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، ان کے حق میں دونوں صورتیں برابر ہیں اور دوسری اس سے بھی زیادہ قطعیت اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش کی دعا کریں تب بھی اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا، چناچہ سورة توبہ میں ارشاد فرمایا گیا اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ (التوبہ 80 پ 10) مگر اس کے باوجود اہل بدعت کا کہنا ہے کہ پیغمبر مختار کل ہوتے ہیں جو چاہیں کریں، اللہ ہی ایسے لوگوں کی ٹیڑھی کھوپڑی کو سیدھا کرے، بہرکیف اس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے ان کا کام استغفار یعنی بخشش کی دعا کرنا ہوتا ہے اور دعا و استغفار اور اختیار کلی کے درمیان منافات ہے اور پھر دعا کی قبولیت یا عدم قبولیت بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتی ہے، جس کی دعا چاہے قبول فرمائے، اور جس کی چاہے نہ قبول فرمائے، کیونکہ وہ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق ہی فیصلہ فرماتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ جل وعلا، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
12 ۔ اعراض و استکبار کا نتیجہ محرومی و بربادی، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منافقین کے اعراض و استکبار کی سزا اور اس کا نتیجہ و انجام محروم ہے، چناچہ ان منافقین کو ان کے اعراض و استکبار کی سزا یہ ملی کہ ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ایسوں کی بخشش ہرگز نہیں فرمائے گا۔ کیونکہ ان کے دلوں پر شقاوت و بدبختی کا زنگ اب پختہ ہوچکا ہے ان کے اپنے کرتوتوں کی بناء پر، پس یہ لوگ بخشش کے قابل نہیں رہے، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے ان کی اس سزا کو واضح فرما دیا گیا کہ ان کے غرور اور اعراض کی بناء پر ان کو بخشش کبھی نہیں ہوگی، اور پیغمبر سے ان کے بارے میں صاف وصریح طور پر ارشاد فرما دیا گیا کہ آپ ان کے حق میں بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں ان کی بخشش بہرحال نہیں ہوسکتی۔ ان کے حق میں یہ دونوں باتیں ایک برابر ہیں، روایات میں وارد ہے منقول ہے کہ جب پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان کے حق میں ستر مرتبہ بھی دعا کریں گے تو بھی قبول نہیں ہوگی تو آپ نے اپنی انتہائی رحمت و شفقت کی بناء پر فرمایا کہ میں ان کے لیے ستر مرتبہ سے زیادہ دعا کروں گا کہ ان کی بخشش ہوجائے، تو اس پر حق تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی نہیں بخشے گا ( روح المعانی وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم۔
13 ۔ ہٹ دھرموں کو ہدایت نہیں مل سکتی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہدایت سے نہیں نوازتا فاسق لوگوں کو، یعنی ایسے لوگ ہدایت کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ ہدایت کے لیے اولین شرط ہے طلب صادق، اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں، سو ان ہٹ دھرم لوگوں کو یہ ہدایت نہیں مل سکتی جو اپنی نافرمانی اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہتے ہیں کہ یہ بات سنت الہی اور دستور خداوندی کے خلاف ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو طلب حق وسیلہ سرفرازی ہے اور اللہ پاک کی عنایات انہی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور وہ نور حق کے طالب اور خواہش مند ہوتے ہیں، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 63:714 ۔ منافقوں کے کافرانہ طرز فکر کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے منافقوں کا وہ کافرانہ طرز فکر کھل کر سامنے آجاتا ہے جس کو وہ اپنے نفاق کے پردے میں چھپائے ہوئے تھے، چناچہ یہ لوگ آپس میں کہتے تھے کہ اللہ کے رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا چھوڑ دو ، یہاں تک کہ یہ لوگ ان سے چھٹ جائیں اور تتر بتر ہو کر الگ ہوجائیں، چناچہ رئیس المنافقین ابن ابی بن سلول نے اسی سفر کے دوران جس کا ذکر اوپر آچکا ہے، انصار کو مہاجرین کے خلاف بھڑکانے کے لیے یہ زہر آلود فقرے کہے تھے کہ " سمن کلبک یاکلک " یعنی تم اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تاکہ وہ تم ہی کو کاٹ کھائے، خدا کی قسم اب ہم اگر لوٹ کر واپس مدینہ پہنچے تو ہم جو عزت والے ہیں ان رذیلوں کو وہاں سے باہر نکال کر دم ل ہیں گے، اور انصار کے جو آدمی اس موقع پر وہاں موجود تھے ان سے اس ملعون نے خطاب کر کے کہا یہ خود تمہارے اپنے کیے کا خمیازہ ہے جو اب تمہیں بھگتنا پڑ رہا ہے، تم نے ان لوگوں کو اپنے گھروں میں اتارا، اپنے مالوں میں ان کو شریک بنایا، تو نوبت یہاں تک آپہنچی، ورنہ اگر تم نے ان سے ہاتھ کھینچ لیا ہوتا تو یہ کبھی کے بھاگ کھڑے ہوتے، سو اس آیت کریمہ میں انہی کے بعض فقروں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس سے منافقوں کے اندر چھپا ہوا کفر کھل کر سامنے آگیا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ لوگ دعوی تو ایمان کا کرتے ہیں مگر اندر سے ہیں پکے کافر، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
15 ۔ کافرانہ ذہنیت کا ابطال اور اس کی تردید : سو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول اینڈ کمپنی نے اپنی کافرانہ اور منافقانہ ذہنیت کی بنا آپس میں کہا کہ تم لوگ رسول اللہ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ یہ چھٹ جائیں تو اس کے رد میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے، کہ ان سب کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لا شریک ہے اور ان پر حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ وہ جس کو چاہے عطا فرمائے، اور جتنا چاہے عطا فرمائے، اور جس سے چاہے چھین لے، سبحانہ وتعالی۔ پس منافقوں کا اس کے خلاف سمجھنا ان کی حماقت ہے، رزق و روزی اور عزت و ذلت کا معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں، اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، وہ جس کو نوازنا چاہے اس کو کوئی اس سے محروم نہیں کرسکتا، سبحانہ وتعالی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، جل وعلا۔
16 ۔ منافقوں کی حماقت اور کوڑھ مغزی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کے سب خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں، لیکن منافق سمجھتے نہیں۔ جس کے نتیجے میں یہ ایسی ایسی الٹی باتیں کرتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر ان کے کفر و نفاق کے بنا پر مہر لگی ہوئی ہے۔ جس کے باعث یہ لوگ حق اور حقیقت کے فہم و ادراک سے محروم ہیں، سو کفر و نفاق کی نحوست ایسی ہولناک نحوست اور نور ایمان و یقین سے محرومی ایسی تباہ کن محرومی ہے کہ اس کے نتیجے میں ایسے انسان کی مت مار دی ہے اور اس کی کھوپڑی ایسی اوندھی اور الٹی ہوجاتی ہے کہ وہ کھلے اور واضح حقائق کے فہم اور ادراک سے بھی اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر ہی گامزن رکھے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین واکرم الاکرمین۔
Ayahs 63:8–917 ۔ عزت اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے، سو اصل اور بالذات عزت اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت سے ہمکنار کرے کہ وہ اپنے علم لا محدود اور حکمت لامتناہی سے پوری طرح جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے اور کس کے ساتھ کیا اور کیسا برتاؤ کیا جائے، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ (آل عمران 26 پ 3) اور اس نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کے غلبہ کا وعدہ بھی فرمایا ہے، ارشاد ہوتا ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ (المجادلہ 21 پ 28) " اللہ نے لکھ دیا کہ غلبہ بہرحال میرا اور میرے رسولوں ہی کا ہے "۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ عزت و غلبہ اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کا حق اور اسی کا اختصاص ہے کہ عزیز مطلق وہی وحدہ لاشریک ہے، سبحانہ وتعالی۔ وہی اپنے رسول کو عزت و غلبہ سے نوازاتا ہے ان کے شرف رسالت کی بناء پر اور اہل ایمان کو عزت انکے ایمان کی بنا پر ملتی ہے، رہے کفار و فجار اور منافقین اشرار تو ان کے لیے کسی عزت کا کوئی حق ہی نہیں کہ وہ عزیز مطلق حضرت جل مجدہ کے باغی و سرکش ہیں، والعیاذ باللہ العزیز الغفار، جل وعلا۔
18 ۔ کفر و نفاق کا نتیجہ محرومی و ہلاکت، والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عزت و غلبہ تو بہرحال اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے ہے لیکن منافق لوگ جانتے ہیں، سو وہ جانتے نہیں حق اور حقیقت کو، اور اس امر کو کہ ایمان و یقین کی دولت کتنی بڑی اور کس قدر عظیم الشان دولت ہے، اور اس سے محرومی کتنا بڑا خسارہ ہے، سو حق و حقیقت کے علم سے محرومی تمام خرابیوں اور محرومیوں کی اصل اساس اور فتنہ و فساد ہے، والعیاذ باللہ۔ اور اس کے بالمقابل حق و ہدایت کا علم و نور دارین کی سعادت و سرخروئی کا ضامن و کفیل ہے۔ والحمدللہ۔ سو منافقین اور کافر لوگوں کو سنت الہی اور دستور خداوندی کے مطابق جو ڈھیل مل ہوئی ہے اس سے کبھی دھوکے میں نہ پڑیں کہ ان کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 63:1021 ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور خرچ کرو تم لوگ اس میں سے جو ہم نے تم کو دیا ہے اپنے کرم سے، تاکہ اس طرح وہ خود تمہارے لیے دارین کی سعادت اور حقیقی فوز و فلاح کا ذریعہ بن سکے اور جب دیا ہوا سب کچھ ہمارا ہی ہے تو پھر اس میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرنا تمہارے لیے کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور وہ بھی سب نہیں بلکہ اس میں سے کچھ، بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ کرنے، مال و اولاد کے فتنے سے بچنے اور نفاق کے حملے سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتادیا گیا ہے کہ تم لوگ اپنے مال میں سے ہماری راہ میں اور ہماری رضا کے لیے خرچ کرو، کہ یہی تم لوگوں کو کام آئے گا اور اس جہاں میں جہاں تم اس کے سب سے زیادہ محتاج ہوؤ گے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، جل جلالہ وعم نوالہ۔
22 ۔ فرصت عمر کی قدر و قیمت کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ہمارے دیے بخشے میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ آپہنچے تم میں سے کسی کو موت، تاکہ اس کے لیے وہ خزانہ جمع ہوجائے جو موت کے بعد والی زندگی میں جو کہ حقیقی اور دائمی زندگی ہے اس کے کام آسکے کہ اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں کے لیے کمانے اور جمع کرنے کا کوئی موقع ممکن نہیں ہوگا، سو موت کے اس آخری اور قطعی وقت کے آنے سے پہلے اپنے خالق ومالک کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے خرچ کرلو، سو اس میں فرصت عمر کی قدر و قیمت پہچاننے کی تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود و مختصر ہر دم ہاتھ سے نکلتی اور کم ہوتی جارہی ہے اور ہاتھ سے نکلنے کے بعد یہ پھر کبھی ملنے والی نہیں۔ پس اس کے ہر لمحے کو اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کے حصول اور اپنی آخرت کو بنانے صرف کرنے کی فکر و وکشش کرو، کہ یہی چیز آخرت کی اصل، حقیقی اور ابدی زندگی میں کام آنے والا سرمایہ ہے اور اس کے حصول کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین
23 ۔ بےوقت کی تمنا لا حاصل و بےسود۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس میں واضح فرمایا گیا کہ فرصت حیات کے خاتمے کے بعد کی تمنا و آرزو و بےفائدہ اور لا حاصل ہوگی، سو انسان اس وقت تمنا کرے گا مگر اس تمنا و آرزو کا اس وقت اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا، بجز اس کے اس سے اس کے افسوس اور حسرت میں ہی اضافہ ہوتا رہے، والعیاذ باللہ العظیم، پس ایسا نہ ہو کہ موت کا وقت آدھمکے اور آدمی حسرت بھرے انداز میں کہے کہ اے رب تو نے مجھے مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور اس طرح میں صالحین کے زمرے میں شامل ہوجاتا ہے، مگر بےوقت کی اس تمنا و آروزو کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بجز آتش یاس میں اضافے کے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں فرصت عمر کی قدرو قیمت کا پہچاننے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے قبل اس کے کہ وہ ہاتھ سے نکل جاوے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 63:1124 ۔ موت اپنے وقت سے ٹلنے والی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ موت کا وقت آجانے کے بعد کسی کو کوئی مہلت نہیں مل سکے گی پھر وہ ٹلنے والی نہیں کہ حضرت حق جل مجدہ کا قانون اٹل ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس زندگی کی اس فرصت کو غنیمت جان کر اس میں جس قدر کمائی کرسکتے ہو کرلو پھر یہ موقع ہاتھ آنے کا نہیں، فایک نسال یا ربنا التوفیق والسداد لذالک الا عز الاکرم، وفانک انت نعم المولی و نعم النصیر، و بالاجابۃ جدیر، وعلی کل شیء قدیر۔ سو موت کا وقت مقرر کے آجانے کے بعد اس قسم کی حسرت ہی رہے گی، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، والعیاذ باللہ۔ سو آخرت کے لیے کمائی کا موقع اسی دنیاوی زندگی اور اس کی فرصت محدود میں ہے، اور بس اللہ توفیق بخشے، اور حیات مستعار کا ایک ایک لمحہ اپنی رضا و خوشنودی کے حصول اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی تیاری کے لیے صرف کرنے کی توفیق بخشے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
25 ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ پوری طرح باخبر ہے ان کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو، سو اس سے تمہاری کوئی بھی حالت اور کیفیت چھپی نہیں رہ سکتی، اور اسی کے مطابق تم اس کے یہاں سے بدلہ پاؤ گے، پس ہمیشہ اس کے ساتھ اپنا معاملہ درست رکھنے کی فکر و کوشش کرو، اللھم وفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ سو اس ارشاد میں کہ اللہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو تہدید ہے کافروں اور منافقوں کے لیے کہ تمہارے کرتوت اللہ سے مخفی نہیں ہیں، ان کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور دوسری طرف اس میں تسکین و تسلی ہے اہل ایمان کے لیے کہ تمہاری قربانیاں اور جانفشانیاں کبھی اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں رہ سکتی، تمہیں ان کا اجر بہرحال ملے گا، اللہ تعالیٰ کسی کا عمل ضائع نہیں کرتا۔ ولا یظلمون فتیلا۔