Explained with ayahs 9–11
مال و دولت کی خود سپردگی خرابی کی جڑ ہے
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بکثرت ذکر اللہ کیا کریں اور تنبیہہ کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر ذکر اللہ سے غافل ہوجاؤ، پھر فرماتا ہے کہ جو ذکر اللہ سے غافل ہوجائے اور دنیا کی زنت ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے اپنے رب کی اطاعت میں سست پڑجائے، وہ اپنا نقصان آپ کرنے والا ہے۔ پھر اپنی اطاعت میں مال خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے کہا پنی موت سے پہلے خرچ کرلو، موت کے وقت کی بےبسی دیکھ کر نادم ہونا اور امیدیں باندھنا کچھ نفع نہ دے گا، اس وقت انسان چاہے گا کہ تھوڑی سی دیر کے لئے بھی اگر چھوڑ دیا جائے تو جو کچھ نیک عمل ہو سکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
سورة الْمُنٰفِقُوْن 17
اب تمام ان لوگوں کو جو دائرہ اسلام میں داخل ہوں، قطع نظر اس سے کہ سچے مومن ہوں یا محض زبانی اقرار ایمان کرنے والے، عام خطاب کر کے ایک کلمۂ نصیحت ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے ہم کئی مرتبہ بیان کرچکے ہیں کہ قرآن مجید میں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے کبھی تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا جاتا ہے، اور کبھی اس کے مخاطب منافقین ہوتے ہیں کیونکہ وہ زبانی اقرار ایمان کرنے والے ہوا کرتے ہیں، اور کبھی ہر طرح کے مسلمان بالعموم اس سے مراد ہوتے ہیں۔ کلام کا موقع و محل یہ بتادیتا ہے کہ کہاں کونسا گروہ ان الفاظ کی مخاطب ہے۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 18
مال اور اولاد کا ذکر تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(آیت) وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ، اس آیت میں موت کے آجانے سے مراد موت کے آثار کا مشاہدہ ہے اور مراد یہ ہے کہ موت کے آثار سامنے آنے سے پہلے صحت و قوت کی حالت میں اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کر کے آخرت کے درجات حاصل کرلو، ورنہ موت کے بعد یہ مال وغیرہ تمہارے کچھ کام نہ آئے گا، اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ ذکر سے مراد تمام طاعات اور احکام شرعی کی پابندی ہے جس میں ضرورت کے مواقع پر مال خرچ کرنا بھی داخل ہے پھر یہاں صرف انفاق مال کو جدا کر کے بیان کرنے کی دو وجہ ہو سکتی ہیں، اول یہ کہ اللہ اور اس کے احکام کی تعمیل سے انسان کو غفلت میں ڈالنے…
Read the full tafseer →(وانفقوا من ما رزقنکم من قبل ان یاتی احد کم الموت فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب لا نا صدق واکن من الصلحین) (10)
یہ اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ رکھنے، مال و اولاد کے فتنہ سے بچنے اور نفاق کے حملے سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہیں بخشا ہے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی موت سے پہلے پہلے اس میں آخرت کے لیے جو کمائی کرنی ہے کرلے۔ ایسا نہ ہو کہ موت آدھمکے تب وہ حسرت کے ساتھ ہے کہ اب رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا۔ اگر ایسا کرسکتا تو میں بھی صالحین کے زمرہ میں ہوتا۔
سورة توبہ میں منافقین کے کردار کا یہ پہلو خاص طور پر نمایاں ہوا ہے کہ وہ بخل کے سبب سے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10۔ 1 خرچ کرنے سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔
10۔ 2 اس سے معلوم ہوا کہ زکواۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعا تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آجائے ؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
8: یہ وہی بات ہے جو عبداللہ بن ابی نے کہی تھی اور پھر اس سے مکر گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ اوپر آچکا ہے۔
Read the full tafseer →ایک ہی آیت میں انفاق کے لئے بیشمار موثر اکساہٹیں
وانفقو ................ رزقنکم (36 : 01) ” جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو “۔ یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تمہارے ہاں رزق اور وسائل رزق جو آتے ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ اس اللہ کے ہاں سے آتے ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو ، اور جو تمہیں انفاق کا حکم دیتا ہے۔
من قبل .................... الموت (36 : 01) ” قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے “۔ بس اس سے سب کچھ رہ جائے اور یہ اسکی اولاد یا دوسروں کے پاس چلا جائے۔ اور اگلے جہاں میں جب وہ تلاش کرے تو اسے آگے بھیجا ہوا کچھ نظر نہ آئے۔ یہ سب سے بڑی حماقت اور سب سے بڑا خسارہ ہے۔ پھر وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
7 یہ شاید منافقوں کے قول (لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا) 63 ۔ المنافقون :7) کا جواب ہوا کہ خرچ کرنے میں خود تمہارا بھلا ہے جو کچھ صدقہ خیرات کرنا ہے جلدی کرو، ورنہ موت سر پر آپہنچے گی تو پچھتاؤ گے کہ ہم نے کیوں خدا کے راستہ میں خرچ نہ کیا۔ اس وقت (موت کے قریب) بخیل تمنا کرے گا کہ اے پروردگار ! چند روز اور میری موت کو ملتوی کردیتے کہ میں خوب صدقہ خیرات کر کے اور نیک بن کر حاضر ہوتا۔ لیکن وہاں التواء کیسا ؟ جس شخص کی جس قدر عمر لکھ دی اور جو میعاد مقرر کردی ہے، اس کے پورا ہوجانے پر ایک لمحہ کی ڈھیل اور تاخیر نہیں ہوسکتی۔ (تنبیہ) ابن عباس سے منقول ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 10{ وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰــکُمْ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ یَّــاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ } ”اور خرچ کر دو اس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے“
{ فَـیَـقُوْلَ رَبِّ لَــوْلَآ اَخَّرْتَنِیْ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍلا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ } ”پھر وہ اس وقت کہے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے ایک قریب وقت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہوجاتا !“
گویا نفاق کی بیماری کا بالمثل علاج انفاق ہے۔ سورة الحدید کی آیت 18 کے تحت وضاحت کی جا چکی ہے کہ مال کی محبت کو دل سے نکالنے کے لیے دل کی زمین میں…
Read the full tafseer →15 افضل ترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات کے علی الرغم کیا جائے :۔ بخل یا شحّ اور ایمان دو متضاد چیزیں ہیں۔ جو ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ بخل دراصل نفاق کی علامت ہے ایمان کی نہیں۔ بخیل آدمی ساری عمر پیسہ جوڑنے میں گزار دیتا ہے۔ کسی وقت بھی مال کی محبت اس کے دل سے جدا نہیں ہوتی بلکہ بڑھاپے میں اور زیادہ بڑھنے لگتی ہے۔ پھر جب موت سر پر کھڑی ہوتی ہے اور اسے یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اب مجھے یہ مال و دولت چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ جانا پڑے گا اس وقت البتہ اس کا جی چاہتا ہے کہ صدقہ کرکے اپنے مال سے جتنا زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے اٹھا لوں۔ اس وقت بھی اس کا اصل مقصد کسی محتاج کی احتیاج دور کرنا نہیں ہوتا۔…
Read the full tafseer →14۔ یہ قول بطور تمنا و حسرت زبان پر اس وقت آئے گا، جو عین انکشاف حقیقت کی گھڑی ہوگی، (آیت) ” وانفقوا “۔ یعنی ادائے حقوق واجب میں، طاعت الہی میں خرچ کرو ، (آیت) ” فاصدق “۔ ف، یہاں حتی کے مرادف ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ کلمہ لولا “ جو ابھی گزر چکا ہے اس کے جواب میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فیقول رب لو لا اخرتنی الی اجل قریب ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ زکوٰۃ واجب تھی اور ادا نہیں کی یا حج فرض تھا مگر نہیں کیا، وہ موت سامنے آجانے کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس کی تمنا کرے گا کہ میں پھر دنیا کی طرف لوٹ جائوں یعنی موت میں کچھ مہلت مل جائے تاکہ میں صدقہ خیرات کرلوں اور فرائض سے سبکدوش ہوجائوں، مگر حق تعالیٰ شانہٗ نے اگلی آیت لن یوخر اللہ (الآیۃ) میں بتلا دیا کہ موت کے آجانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں دی جاتی یہ تمنائیں لغو اور فضول ہیں۔ (معارف)
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →وانفقوا من ما رقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق و اکن من الصلحین . ” اور ہم نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں سے کچھ (حقوق واجبہ ادا
کرنے میں) خرچ کرو ‘ اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آ کھڑی ہو پھر وہ (حسرت و تمنا کے طور پر) کہنے لگے اے میرے ربّ ! مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہیں دی کہ میں خیر خیرات کردیتا اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا۔ “
وَاَنْفِقُوْا : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انفاق سے مراد ہے ‘ ادائے زکوٰۃ۔
اَنْ یَّاْتِی اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ : موت آنے سے مراد ہے ‘ علامات موت کا سامنے آجانا اور نشانات موت دکھائی دینا اور ایسی حالت میں خیرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(10۔ 11) اور جو کچھ ہم نے تمہیں مال دیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اس سے پہلے خرچ کرو یا یہ کہ زکوٰۃ دو کہ تم میں سے کسی کی موت آکھڑی اور پھر وہ کہنے لگے کہ دنیا کی موت کی طرح مجھ کو اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں اپنے مال کی خیر خیرات دے لیتا اور اس مال سے حج کر کے میں بھی حاجیوں میں سے ہوجاتا۔
یا ایھا الذین امنوا سے یہاں تک یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو فاصدق کی تفسیر اگر منافقین کے ساتھ کی جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ میں یہی سچا ایمان اختیار کرلیتا اور سچے مومنوں کی طرح اپنے مال کو خیرات کردیتا۔
Read the full tafseer →1۔ وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰـکُمْ۔۔۔۔۔:”من ما رزقنکم“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ کی تیسری آیت کی تفسیر۔ نفاق سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں میں سے جتنا ہو سکے مرنے سے پہلے خرچ کرنے کا حکم دیا۔
2۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ۔۔۔۔: یعنی مرتے وقت یہ دعا اور تمنا کرنا بےکار ہے ، عقل مند کا کام یہ ہے کہ مہلت سے فائدہ اٹھائے اور مرنے سے پہلے آخرت کا سامان تیا ر کرے۔ دیکھئے سورة ٔ ابراہیم (44) اور سورة ٔ مومنون (99، 100)۔ 3۔ فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ :”فاصدق“ اصل میں ”فاتصدق“ ہے ، اس پر نصب اس لیے آیا ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
مسئلہ نمبر 1 وانفقوا من مارزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت یہ آیت جلدی زکواۃ کی ……وجوب پر دلالت کرتی ہے اس کو موخر کرنا اصلاً جائز نہیں اسی طرح باقی عبادات جن کا وق معین ہو۔
مسئلہ نمبر 2 فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاضدق واکن من اصلحین :۔ اس نے دنیا کی طرف لوٹنے کا سوال کیا تاکہ عمل صالح کرے۔ امام ترمذی نے ضحاک بن مزاحم سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں۔ فرمایا : جس کے پاس اتنا ملا تھا جس کے ساتھ وہ حج بیت اللہ کرسکتا تھا یا اس میں زکوۃ وجب ہوتی تھی اس نے ایسے نہ کیا وہ موت کے وقت رجوع کا سوال کرتا ہے۔ ایک آدمی نے عرض کی : اے ابن عباس ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ یہ لوٹنے کا سوال تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
7۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت فاصدق واکن من الصلحین یعنی میں حج ادا کرلوں۔
8۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت فاصدق واکن من الصلحن واو کے ساتھ۔
9۔ ابن الانباری نے المصاحف میں زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ قراءت کرنا سنتوں میں سے ایک سنت ہے اور تم قرآن کو اس طرح پڑھ وجی سے تم کو پڑھایا گیا ہے جیسے آیت ان ہذان لسحرا (طہ آیت 63) اور آیت فاصدق واکن من الصلحین۔
الحمد للہ سورة المنافقون مکمل ہوئی۔
سورۃ التغابن۔ یہ سورة مدنی ہے اور اس کی اٹھارہ آیات ہیں
1۔ ابن…
Read the full tafseer →[وَانفِقُوْا : اور تم لوگ خرچ کرو ] [مِنْ مَا رَزَقْنٰكُمْ : اس میں سے جو ہم نے عطا کیا تم کو ] [مِّنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ ] [يَاْتِيَ اَحَدَكُمُ : آپہنچے تم میں کے کسی ایک کو ] [الْمَوْتُ : موت ] [فَيَقُوْلَ رَبِ : نتیجۃً وہ کہے اے میرے رب ] [لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ: کیوں نہ تو نے پیچھے کیا (مہلت دی) مجھ کو ] [اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ : ایک قریبی مدت تک ] [فَاَصَّدَّقَ : نتیجۃً میں صدقہ کرتا ] [وَاَكُنْ : اور (پھر تو) میں ہو جائوں گا ] [مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : نیکی کرنے والوں میں سے ]
ترکیب : (آیت۔ 10) فا سببیہ ہونے کی وجہ سے اَصَّدَّقَ حالت نصب میں آیا ہے۔ آگے اَکُنْ اگر فا سببیہ پر عطف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اس کے بعد مال خرچ کرنے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا ﴿ وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ﴾ (الآیۃ) کہ موت آنے سے پہلے اس مال میں سے خرچ کرو جو ہم نے تم کو دیا ہے۔ چونکہ ذکر اللہ سے غفلت مال کمانے میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے ساتھ ہی مال خرچ کرنے کا بھی حکم دیدیا، مال آتا ہے تو خرچ بھی ہوتا ہے مومنین صالحین اسے اللہ کی رضا میں خرچ کرتے ہیں اور جن لوگوں کو مال سے محبت ہوتی ہے دین پر چلنے کا شوق نہیں ہوتا وہ مال لے کر بیٹھے رہتے ہیں روپیہ پیسہ کے غلام بنے رہتے ہیں، فرض زکوٰۃ اور تھوڑا سا صدقہ بھی انہیں کھلتا ہے۔
آیت بالا میں یہ بھی فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
تنبیہ وتحذیر اھل ایمان از غفلت ذکر اللہ وتاکید انفاق فی سبیل اللہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ....... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) ابتداء سورت سے جملہ آیات منافقین کے کردار اور ان کی مذموم ترین خصلتوں کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں ایسے اسباب غفلت سے مسلمانوں کو چوکنا فرمایا گیا جو انسان کو ایمان وتقوی کی حقیقت سے دور کردیں اور غفلت ہی دراصل نفاق کا پیش خیمہ ہے نفاق کی اصل حقیقت جب یہ معلوم ہوگئی کہ دل میں ایمان نہ ہو اور زبان سے ایمان کا دعوی اور اعلان ہو تو مال واولاد کے فتنوں میں بھی مبتلا ہونے سے یہی نوعیت قلب کی ہوجاتی ہے، امام بخاری (رح) نے اپنی…
Read the full tafseer →13:۔ ” وانفقوا من ما رزقنکم “ یہ ذکر اللہ کی تفسیر ہے نیز سورة جمعہ کی آخری آیتوں کی تفصیل ہے مقصد یہ ہے کہ عبادت کے وقت عبادت کرو اور فارغ وقت میں تجارت اور دوسری کاروبار کرو اپنے ہاتھ سے کماؤ خود کھاؤ، فقراء مسلمین پر اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرو تاکہ منافقین کی مالی امداد کی تمہیں حاجت ہی نہ رہے۔ اپنی زندگی میں موت سے پہلے خرچ کرلو، ورنہ پچھتاؤ گے اور موت کے وقت آرزو کروگے کہ بار الٰہا ! تھوڑی سی مہلت ہی دیدے تاکہ میں خیرات کرلوں اور نیک بن جاؤں۔ اَکُنْ مجزوم فَاَصَّدَّقَ کے محل پر معطوف ہے گویا اسل عبارت اس طرح ہے۔ اخرتنی اصدق واکن۔ یا مجزوم کا عطف منصوب پر ہے جیسا کہ بعض نحویوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ربط آیات :
پہلے رکوع میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور اب ایمان والوں کو غفلت سے بچنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ پہلے منافقوں کی سازش ، ریشہ دوانی ، بخل اور برائی اور بداخلاقی کے دیگر امور کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ان کے فاسد خیالات اور اعتقادات کی نفی فرمائی۔ اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ منافقوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں مکی زندگی میں تو نفاق پیدا نہیں ہوا ، وہاں تو مومن تھے یا کافر ، البتہ مدنی دور میں آکر اعتقادی منافق پیدا ہوگئے ، جو زبان سے تو کلمہ توحید پڑھتے تھے اور بعض دیگر نیکی کے کام بھی کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں کفر ہی بھرا ہوا تھا۔ منافقوں کی یہ قسم کافروں کی…
Read the full tafseer →وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ 0 ۙ فَاَصَّدَّقَ وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ 10
نفق
نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترکیب : فیقول بالنصب بالفاء 1 ؎ الواقعۃ فی جواب الامرو ھو انفقوا لو لاحرف التحضیض معناھا حض علی الفعل لمضارع ولوم ان دخلت علی الماضی فاصدق بالنصب لوقوعہ فی جواب لولائ۔ واصلہ الصدق والجمہور علی ادغام التاء فی الصاد واکن اصلہ اکون سقطت الواؤ بالجزم وقراء الجمہور بالجزم عطفا علی محل فاصدق کانہ قیل ان اخرتنی واکن وقریٔ اکون بالنصب عطفا علی لفظۃ فاصدق لن یوخر الخ الجملۃ تدل علی جواب اذا جائ۔
تفسیر : منافقوں کی افسوسناک حالت بیان فرما کر مسلمانوں کو یاد الٰہی کی طرف ابھارتا ہے اور ایک ناگہانی آجانے والے سے ڈراتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین امنوا الخ کہ اے ایماندارو ! مال اور اولاد کے مشغلہ میں اللہ کی…
Read the full tafseer →وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّارَزَقْنٰـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ لا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصٰلِحِیْنَ ۔ (المنافقون : 10)
(اور خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں رزق دیا، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے پھر وہ حسرت سے کہے، اے میرے رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیکوکاروں میں سے ہوجاتا۔ )
حُبِ دنیا کے نقصانات سے بچنے کا طریقہ
مال و دولت کی محبت کے نقصانات سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ رکھنے کا طریقہ اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : مال کی محبت سے بچنے کا بہترین طریقہ۔
انسان کی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ انسان زندگی بھر مال کی محبت میں سرگرداں رہتا ہے۔ حد سے زیادہ مال کی حرص سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا رہے قبل اس کے کہ اسے موت آجائے اور یہ اپنے رب سے آرزو کرے کہ میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں تیرے راستے میں مال خرچ کرتا اور نیک لوگوں میں شمار ہوتا، لیکن اس وقت کسی انسان کو نہ مہلت دی گئی ہے اور نہ دی جائے گی کیونکہ جب کسی شخض کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس میں ایک لمحہ بھی تقدیم و تاخیر نہیں کی جاتی۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ…
Read the full tafseer →موت سے پہلے خرچ کرلو :
10 : وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّارَزَقْنٰکُمْ (اور ہم نے جو کچھ تم کو دیا۔ اس میں سے کچھ (حقوق واجبہ کی ادائیگی میں) خرچ کرو) مِنؔ یہ تبعیض کیلئے ہے۔ مراد اس سے انفاق واجب علی الواجب ہے۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّأْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ (اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آکھڑی ہو) یعنی من قبل ان یری دلائل الموت اس سے پہلے کہ وہ موت کے آثار دیکھے اور ان معاونتوں کو جو مہلت سے مایوس کرنے والی ہوں درآنحالیکہ اس پر خرچ کرنا بھی مشکل ہو۔ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ(پھر وہ حسرت سے کہنے لگے اے میرے رب مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہیں دی) آپ نے میری موت کو مؤخر کیوں نہ…
Read the full tafseer →9 ۔” یایھا الذین امنوا لا تلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ ومن یفعل ذلک فاولئک ھم الخسرون “…” اے ایمان والوں ! تم کو تمہارے مال اور تمہارے اولاد (یعنی ساری دنیا ) اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے اور جو وہ کریں گے وہی ناکام رہنے والے ہوں گے “۔
” اموالکم ولا اولادکم “ یعنی مال اور اولاد کا انتظام و اہتمام ” عن ذکر اللہ “ لفظ ذکر عام ہے، تمام عبادتوں کو حاصل ہے لیکن اہل تفسیر کے نزیک اس جگہ پانچوں وقت کی نمازیں مراد ہیں۔ ” ومن یفعل ذلک “ یعنی جو لوگ مال واولاد میں ایسا اشتعال رکھیں گے جو ذکر اللہ سے مانع ہو تو ایسے ہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں کہ انہوں نے حقیر، فنا پذیر چیز کو پسند کرلیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9۔ 11۔ اوپر عبد اللہ بن ابی منافق کا ذکر تھا کہ اس نے اپنی دنیا داری کی غفلت میں عقبیٰ کو یہاں تک بھلا دیا تھا کہ طرح طرح کے گناہوں کے بعد اس سے ان گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے اور مغفرت کی دعا کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے انکار کیا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ کسی ایمان دار آدمی کو منافقوں کی مانند اس طرح دنیا میں گرفتار نہ ہونا چاہئے جس سے اللہ کی عبادت میں فتور پڑ کر اس کی عقبیٰ خراب ہوجائے۔ ذکر الٰہی میں سب عبادت بدنی داخل ہے پھر فرمایا کہ جو کوئی حکم الٰہی کے برخلاف عمل کرے گا اس کا بہت نقصان ہوگا۔ صحیح مسلم 1 ؎ میں مستورد بن شداد کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ ) اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرو۔ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ، مثلا زکوۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ نان ونفقہ اور تمام نفقات مستحبہ، مثلا تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ( مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ ) یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفقے کا مکلف نہیں بنایاجو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار اور بھائیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اس کا حکم
قول باری ہے (وانفقوا مما رزقنا کم میں قبل ان یاتی احدکم الموت جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے) تاآخر آیت۔
عبدالرزاق نے روایت کی ہے، انہیں سفیان نے ابوحباب سے، انہوں نے ابوالضحیٰ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا :
(من کان لہ مال تجب فیہ الزکوٰۃ ومال یبلغہ بین اللہ ثم لم یحج ولم یزک سائل الرجعۃ ، جس شخص کے مال میں زکوٰۃ واجب ہو یا حج پر جانے کے لئے رقم ہو پھر وہ حج پر نہ جائے یا اپنے مال کی زکوٰۃ ادانہ کرے تو مرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →21 ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور خرچ کرو تم لوگ اس میں سے جو ہم نے تم کو دیا ہے اپنے کرم سے، تاکہ اس طرح وہ خود تمہارے لیے دارین کی سعادت اور حقیقی فوز و فلاح کا ذریعہ بن سکے اور جب دیا ہوا سب کچھ ہمارا ہی ہے تو پھر اس میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرنا تمہارے لیے کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور وہ بھی سب نہیں بلکہ اس میں سے کچھ، بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ کرنے، مال و اولاد کے فتنے سے بچنے اور نفاق کے حملے سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتادیا گیا ہے کہ تم لوگ اپنے مال میں سے ہماری راہ میں اور ہماری رضا کے لیے خرچ کرو، کہ یہی تم لوگوں کو کام آئے گا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
موت یقینی ہے اور اللہ خبر رکھنے والا ہے
تشریح : ان آیات کو غور سے پڑھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رب العٰلمین کس قدر مہربان اور حکیم و عزیز اور رحمن و رحیم ہے۔ اس نے اپنے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ قرآن و سنت کے ذریعے معیشت، معاشرت، تمدن اور پرسکون زندگی گزارنے کے اصول بھی ہمیں بتا دیے ہیں۔ مال اور اولاد انسانی زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں مگر ساتھ ہی بد ترین آزمائش کا ذریعہ ہیں اگر ان دونوں کی محبت میں ہم نے اعتدال سے کام نہ لیا تو یقینا ہم غفلت، بد اندیشی، نفرت، جرائم، بےاعتدالی اور اللہ سے دوری اختیار کرلیں گے تو اس سے اللہ کو یا کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہ ہوگا بلکہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیات 9 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ بھی یاد رکھو کہ اے ایمان والو ! یہ مال وزر کی جائز تلاش اور اولاد کی پرورش یا ان کی بہتری کی فکر جو جائز بھی ہو وہ بھی اس قدر مصروف نہ کردے کہ اللہ یاد سے غفلت میں آنے لگے۔
ذکر اللہ۔
ذکر اللہ میں تمام عبادات اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے سارے عمل شامل ہیں یہ عملی ذکر ہے اس کے ساتھ تلاوت تسبیحات ذکرلسانی یازبانی ذکر ہے اور ذکرقلبی نصیب ہوجائے یعنی قلب بھی ذاکر ہوجائے تو بھرپور فائدے کی امید کی جاسکتی ہے کہ خلوص سے شریعت پر عمل اور جہاد آسان ہوجاتا ہے اگر کوئی دنیا کی مصروفیات کے سبب اللہ کے ذکر سے غافل ہوا تو وہ بہت زیادہ نقصان میں چلا گیا کہ دینی نقصان…
Read the full tafseer →ف 3 حضرت ابو عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ” جس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس پر حج یا زکواۃ فرض ہوجائے اور وہ ایسا نہ کرے تو مرتے وقت وہ دنیا میں لوٹنے کی تمنا کرتا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(63:10) انفقوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر انفاق (افعال) مصدر۔ تم خرچ کرو۔
مما رزقنکم : رزقنا ماضی جمع متکلم رزق (باب نصر) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اور خرچ کرلو اس رزق میں سے جو ہم نے تم کو دیا۔ من قبل : اس سے پہلے۔
ان یاتی : ان مصدریہ ، یاتی مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب کہ آجائے۔
احدکم : احد مفعول فعل یاتی کا۔ مضاف۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مضاف الیہ کہ آجائے تم میں سے کسی ایک کو موت۔
فیقول :جواب امر کے لئے ۔ یقول مضارع منصوب بوجہ عملجو جواب امر (وھو افقوا) میں واقع ہوئی ہے۔ تو پھر کہنے لگے۔ رب : ای یا ربی۔
لولا۔ حرف تخضیض ہے۔ جس کا معنی فعل پر ابھارنا۔ برانگیختہ کرنا ہے۔ کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔
تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔
اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) اوپر ابن ابی منافق کا ذکر تھا اس نے اپنی دنیا داری کی غفلت میں عقبی کو یہاں تک بھلادیا تھا کہ طرح طرح کے گناہوں کے بعد جب اس سے ان گناہوں پر نادم ہوکر اللہ اور رسول کی خدمت میں حاضر ہونے اور مغفرت کی دعا کرانے کے لیے کہا گیا تو اس نے انکار کیا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ کسی مسلمان آدمی کو منافقوں کی مانند اس طرح دنیا میں گرفتار نہ ہونا چاہیے جس سے اللہ کی عبادت یعنی پنج گانہ نماز ودینی اومر وغیرہ میں پڑ کر اس کی عقبی خراب ہوجائے پھر فرمایا کہ جو کوئی اس حکم الٰہی کے برخلاف عمل کرے گا اس کا بہت نقصان ہوگا۔
خیرات اور آداب خیرات کا ذکر۔
صحیح مسلم میں مستور بن شداد کی حدیث ہے کہ جس میں نبی ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[9] یہ آخر میں مسلمانوں کو تنبیہہ فرمائی کہ تم ان منافقوں کی روش اختیار نہ کرنا۔ ان کو مال اور اولاد کی محبت نے اللہ سے غافل کردیا ہے اگر تم بھی انہی کی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر اللہ کو بھول بیٹھے تو یاد رکھو کہ اصل نامرادی اور محرومی یہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 1: یہ لوگ جب یہ محسوس کرتے ۔ کہ مسلمان ہر صبح کو اپنے اقتدار میں اضافہ کررہے ہیں ۔ اور ہر شام کو ہمارے اقبال کا آفتاب غرورب ہورہا ہے ۔ تو دل میں بہت زیادہ کڑھتے اور بھنا کر کہتے ۔ کہ اصل میں یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے ۔ اگر ہم ان کو جگہ نہ دیتے ۔ اور ان کی مالی امداد نہ کرتے ۔ تو یہ لوگ اس قوت نہ حاصل کرسکتے ۔ اور کہتے کہ دیکھو آئندہ مسلمانوں کی مالی مدد نہ کرو ۔ پھر ایک ایک کرکے یہ لوگ خود بخود اسلام کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں گے ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ جانتے کہ اس قوم کا تعلق اس خدا سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے خزائن کا تنہا مالک ہے ۔ وہ تمہاری مدد اور امانت کا پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں…
Read the full tafseer →(10) اور ہم نے تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے خیرات کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے اور مرنے کا وقت سر پر آکھڑا ہو اور وہ آثار موت کو مشاہدہ کرکے یوں کہنے لگے اے میرے پروردگار ! تونے مجھ کو اور تھوڑی مدت مہلت کیوں نہ دی اور میری موت کو تھوڑا سا موخر کیوں نہ کردیا کہ میں خوب صدقہ و خیرات کرتا اور حقوق واجبہ کو ادا کرلیتا اور میں نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا۔ انفاق سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی ہے چونکہ یہ عبادات میں اہم ہے اس کی تاکید فرمائی کہ مرنے سے پہلے پہلے حقوق واجب فی الحال خرچ کردو کہیں ایسا نہ ہو کہ موت آجائے اور آثار موت کا مشاہدہ کرنے کے بعد پروردگار سے یوں کہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 4۔ یعنی دنیا میں منہمک موت ہوجانا کہ دین میں خلل پڑنے لگے۔
5۔ کیونکہ نفع دنیوی تو ختم ہوجاوے گا اور ضرر اخروی ممتد یا دائم رہ جائے گا۔
Read the full tafseer →ایمان والو ! اپنی موت سے قبل جو خرچ کرسکتے ہو کرلو ورنہ تم پچھتائو گے
10 ؎ یہ دوسری نصیحت اس جگہ کی جا رہی ہے کہ ایمان والوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جو مال تم کو اللہ نے دیا ہے اور تم نے نہایت محنت شاقہ کر کے وہ کمایا ہے اس کو اپنی زندگی کے اندر موت آنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرلو ورنہ تم پچھتائو گے ، واویلا کرو گے ، شور مچائو گے اور سر پیٹو گے اور پکار پکار کر کہو گے کہ اے اللہ تو نے مجھے کچھ مدت اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں تیری راہ میں کچھ خرچ کرلیتا ۔ ہم نے یہ بات بہت غور و خوض سے کی ہے اور نہایت واضح اور صاف الفاظ میں بتائی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا وہی خرچ کرنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ (And spend out of what We have given to you before death comes to one of you…63:10) ‘Coming of death’ in this verse refers to ‘witnessing the signs of death’. The verse exhorts the believers to make the best of their opportunities to spend in the way of Allah, in the state of good health and strength, before the signs of death appear, and thus they should have their degrees of rank elevated in the Hereafter. Once death overtakes them the opportunity to spend will be lost, and the wealth will be of no use. Earlier…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
17 Now a word of admonition is being addressed to aII those people, who have entered Islam, whether they are true and sincere believers, or those who profess the faith merely verbally. As we have explained at several places above. the words alladhina amanu in the Qur'an are sometimes used to address the true believers and sometimes to address the hypocrites, for they profess the faith only with the tongue, and sometimes to address the Muslims of aII kinds in general The context itself shows which group is the audience at a particular place.
18 The mention of the possessions and the children,…
Read the full tafseer →