Explained with ayahs 9–11
مال و دولت کی خود سپردگی خرابی کی جڑ ہے
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بکثرت ذکر اللہ کیا کریں اور تنبیہہ کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر ذکر اللہ سے غافل ہوجاؤ، پھر فرماتا ہے کہ جو ذکر اللہ سے غافل ہوجائے اور دنیا کی زنت ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے اپنے رب کی اطاعت میں سست پڑجائے، وہ اپنا نقصان آپ کرنے والا ہے۔ پھر اپنی اطاعت میں مال خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے کہا پنی موت سے پہلے خرچ کرلو، موت کے وقت کی بےبسی دیکھ کر نادم ہونا اور امیدیں باندھنا کچھ نفع نہ دے گا، اس وقت انسان چاہے گا کہ تھوڑی سی دیر کے لئے بھی اگر چھوڑ دیا جائے تو جو کچھ نیک عمل ہو سکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
سورة الْمُنٰفِقُوْن 17
اب تمام ان لوگوں کو جو دائرہ اسلام میں داخل ہوں، قطع نظر اس سے کہ سچے مومن ہوں یا محض زبانی اقرار ایمان کرنے والے، عام خطاب کر کے ایک کلمۂ نصیحت ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے ہم کئی مرتبہ بیان کرچکے ہیں کہ قرآن مجید میں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے کبھی تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا جاتا ہے، اور کبھی اس کے مخاطب منافقین ہوتے ہیں کیونکہ وہ زبانی اقرار ایمان کرنے والے ہوا کرتے ہیں، اور کبھی ہر طرح کے مسلمان بالعموم اس سے مراد ہوتے ہیں۔ کلام کا موقع و محل یہ بتادیتا ہے کہ کہاں کونسا گروہ ان الفاظ کی مخاطب ہے۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 18
مال اور اولاد کا ذکر تو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور اولاد (مراد اس سے مجموعہ دنیا ہے) اللہ کی یاد (اور اطاعت) سے (مراد اس سے مجموعہ دین ہے) غافل نہ کرنے پاویں (یعنی دنیا میں ایسے مہنمک مت ہوجانا کہ دین میں خلل پڑنے لگے) وہ جو ایساکرے گا ایسے لوگ ناکام رہنے والے ہیں (کیونکہ نفع دنیوی تو خمت ہوجاوے گا اور آخرت کا ضرر اور خطارہ ممتد یا دائم رہ جاوے گا) اور (منجملہ طاعات کے ایک اطاعت مالیہ کا حکم کیا جاتا ہے کہ لاتلہکم اموا لکم کے عام مضمون میں سے ایک فرد خاص ہے یعنی) ہم نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں سے (حقوق واجبہ کو) اس سے پہلے پہلے خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آ کھڑی ہو پھر وہ (بطور تمنا و…
Read the full tafseer →(یایھا الذین امنوا لا تلھکم اموالکم ولا اولاد کم عن ذکر اللہ ومن یسل ذلک فائولیک ھم الخسرون) (9)
(مسلمانوں کو تنبیہ)۔ یہ آخر میں مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ تم ان منافقوں کو روش کی تقلید نہ کرنا۔ ان کو مال و اولاد کی محبت نے خدا سے غافل کردیا ہے۔ اب ان کے اندر آخرت کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ باقی نہیں رہا۔ اگر تم بھی انہی کی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر خدا اور آخرت کو بھول بیٹھے تو یاد رکھو کہ اصل نامرادی و محرومی یہی ہے۔ جو لوگ اللہ کو بھلا بیٹھتے ہیں وہ خود اپنے انجام کو بھلا بیٹھتے ہیں اور شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ سورة مجادلہ میں منافقین کے بارے میں فرمایا ہے۔ (اِسْتَحْوَذَ…
Read the full tafseer →9۔ 1 یعنی مال اور اولاد کی محبت تم پر غالب آجائے کہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام و فرائض سے غافل ہوجاؤ اور اللہ کی قائم کردہ حلال وحرام کی حدوں کی پروا نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
8: یہ وہی بات ہے جو عبداللہ بن ابی نے کہی تھی اور پھر اس سے مکر گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ اوپر آچکا ہے۔
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ ان مومنین کو آخری بار پکارتا ہے ، وہ مومنین جن کے رسول کو اور خود ان کو اللہ نے اپنی عزت سے معزز بنایا ، اللہ کی طرف سے ان کی طرف اب اس سورت میں آخری ندا آتی ہے کہ وہ عزت اور شرف کے اس مقام تک بلند ہوجائیں اور منافقین کی تمام صفات اپنے اندر سے نکال دیں۔ اور مال اور اولاد سے بلند ہوکر شرف کا یہ مقام حاصل کریں ، دیکھو دنیا کا کوئی مفاد ، چاہے مال ہو یا اولاد ہو ، تمہیں روک نہ دے۔
اگر انسان کا قلب زندہ نہ ہو تو مال اور اولاد انسان کو غافل کردینے والے بن جاتے ہیں۔ یہ سامان لہو ولعب ہیں۔ قلب زندہ ہوگا تو معلوم ہوگا کہ انسان کا مقصد وجود کیا ہے۔ اسے معلوم ہوگا کہ اللہ نے اسے پیدا کیا…
Read the full tafseer →6 یعنی آدمی کے لیے بڑے خسارے اور ٹوٹے کی بات ہے کہ باقی کو چھوڑ کر فانی میں مشغول ہو اور اعلیٰ سے ہٹ کر ادنیٰ میں پھنس جائے۔ مال و اولاد وہی اچھی ہے جو اللہ کی یاد اور اس کی عبادت سے غافل نہ کرے۔ اگر ان دھندوں میں پڑ کر خدا کی یاد سے غافل ہوگیا تو آخرت بھی کھوئی اور دنیا میں قلبی سکون و اطمینان نصیب نہ ہوا۔ (وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى) 20 ۔ طہ :124)
Read the full tafseer →اب دوسرے رکوع کی تین آیات میں اس بیماری کا علاج بتایا گیا ہے۔ جس طرح طب میں ایک مرض کا علاج دو طرح سے کیا جاتا ہے ‘ ایک حفاظتی preventive قسم کا علاج ہے اور دوسرا معالجاتی curative طرز کا ‘ اسی طرح یہاں بھی مرض نفاق کے علاج کے ضمن میں یہ دونوں پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ ظاہر ہے کسی بیماری کے حوالے سے انسان کی پہلی کوشش تو یہی ہونی چاہیے کہ وہ اس بیماری کی چھوت سے بچا رہے۔ اس کے لیے ظاہر ہے اسے پرہیزی اقدام preventive measures اپنانے کی ضرورت ہوگی۔ جیسے آج کل کسی بیماری سے بچنے کا موثر طریقہ یہی ہے کہ آپ متعلقہوی کسی نیشن کا انجکشن لگوالیں۔ چناچہ اب اگلی آیت میں اس اقدام کا ذکر ہے جسے نفاق کی…
Read the full tafseer →14 مال اور اولاد کا نام اس لیے لیا گیا کہ ہر انسان کی زیادہ تر دلچسپی انہیں سے ہوتی ہے ورنہ اس میں ہر وہ کاروبار یا شغل شامل کیا جاسکتا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل کر دے۔ اور اللہ کی یاد سے غفلت کا نتیجہ فسق و فجور کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ کسب حلال کی تمیز اٹھ جاتی ہے اور انسان زندگی کے ہر میدان میں بےراہ رو ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →13۔ (کہ دنیوی لذت، عیش و راحت تو بہرحال ایک دن ختم ہوجانے والی ہیں، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں جتنی کو تاہیاں رہ گئیں اس کا وبال باقی رہ جانے والا ہے) (آیت) ” عن ذکر اللہ “۔ اس ذکر الہی کی بڑی فرد اطاعت احکام الہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مال واولاد تو خود اسی لیے عطا ہوئے ہیں کہ اللہ سے متعلق جو حقوق عائد ہوتے ہیں انہییں پورا کرکے اپنے مدارج روحانی کی تکمیل کرو، لیکن اگر کہیں انہیں چیزوں کو جو ذریعہ عبادت اور سبب طاعت ہیں، تم نے اصل مقصود ومطلوب بنالیا، تو تم عین گمراہی میں پڑگئے،
Read the full tafseer →ترجمہ : اے مسلمانو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کے ذکر پنج و قتہ نماز سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کریں وہ بڑے زیاں کاروں میں ہیں اور جو کچھ ہم نے تم کو دے رکھا ہے اس میں سے زکوٰۃ میں خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار ! تو کس لئے مجھے تھوڑی دیر کی مہلت نہیں دیتا ؟ (لو لا) بمعنی ھلا یا لا زائدہ ہے، اور لو تمنی کے لئے ہے کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجائوں، کہ حج کروں، (فا صدق) تاء کو اصل میں صاد میں ادغام کر کے، یعنی زکوٰۃ ادا کروں، ابن عباس ؓ نے فرمایا، کسی نے حج و زکوٰۃ میں کوتاہی نہیں کی مگر یہ کہ اس نے موت کے وقت (دنیا میں)…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا لاتلھکم اموالکھم ولا اولادکم عن ذکر اللہ ومن یفعل ذلک فاولئک ھم الخسرون . ” اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد (یعنی ساری دنیا) اللہ کی یاد سے
غافل نہ کرے اور جو ایسا کریں گے وہی ناکام رہنے والے ہوں گے۔ “
اَمْوَالُکُمْ وَلَااَوْلَادُکُمْ : یعنی مال اور اولاد کا انتظام و اہتمام۔
عَنْ ذِکْرِ اللہ : لفظ ذکر عام ہے ‘ تمام عبادتوں کو شامل ہے لیکن اہل تفسیر کے نزدیک اس جگہ پانچوں وقت کی نمازیں مراد ہیں۔
وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ : یعنی جو لوگ مال و اولاد میں ایسا اشتغال رکھیں گے ‘ جو ذکر اللہ سے مانع ہو تو ایسے ہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں کہ انہوں نے حقیر ‘ فنا پذیر…
Read the full tafseer →اے ایمان والو مکہ مکرمہ میں تمہارے جو اموال اور اولاد ہے وہ تمہیں ہجرت اور جہاد سے غافل نہ کرنے پائے اور جس نے ان کی وجہ سے غفلت کی وہ سزا کے اعتبار سے گھاٹے میں رہیں گے۔
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ :”لا تلہ“”لھو“ میں سے باب افعال ”الھی بلھی“ کا نہی مؤنث غائب کا صیغہ ہے ، ”کم“ اس کا مفعول بہ اور ’ ’ اموالکم ولا اولادکم“ فاعل ہے۔ فاعل جمع مکسر ہونے کی وجہ سے فعل واحد مؤنث کا صیغہ لایا گیا ہے۔
2۔ منافقین کے برے اعمال کا حال بیان کرنے کے بعد تمام ایمان لانے والوں کو خواہ وہ مخلص ہیں یا منافق ، ان دو چیزوں سے ہوشیار رہنے کی نصیحت فرمائی جو انسان کے لیے فتنہ ہیں اور نفاق کا باعث بنتی ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ) (التغابن : 15)”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو محض ایک…
Read the full tafseer →مومنوں کو منافقین کے اخلاق سے خبر دار کیا یعنی اپنے اموال میں ہی مگن نہ رہو جس طرح منافقوں نے کیا جب انہوں نحے مال میں بخل کی وجہ سے کہا، جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر مال خرچ نہ کرو۔ عن ذکر اللہ ذکر سے مراد حج اور زکوۃ ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد قرآن کی قرأت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دائمی ذکر ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے، پانچ نمازیں ہیں، یہ ضحاک کا قول ہے حضرت حسن بصری نے کہا، مراد تمام فرئاض ہیں گویا فرمایا : اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ منافقوں کو خطاب ہے یعنی تم زبان سے ایمان لاتے ہو تم دل سے بھی ایمان لائو۔
ومن یفعل ذلک فائولئک ھم الخسرون۔ یعنی…
Read the full tafseer →1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت یا ایہالذین اٰمنوا لا تلہکم اموالکم ولا اولادکم۔ اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد سے (اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے) سے مراد میری امت میں سے جو نیک بندے ہیں کہ ان کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے اور پانچوں فرض نمازوں سے غافل نہیں کرے گی۔
2۔ عبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جس کے پاس اتنا مال تھا کہ وہ بیت اللہ کا حج کرسکتا تھا۔۔ یا اس پر مال میں زکوٰۃ فرض تھی۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو موت کے وقت…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ : اے لوگو جو ایمان لائے تم لوگوں کو غافل نہ کریں ] [اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ : تمہارے مال اور نہ تمہاری اولادیں ] [عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کی یاد سے ] [وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ : اور جو کرے گا یہ (کام)] [فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : تو وہ لوگ ہی خسارہ پانے والے ہیں ]
نوٹ۔ 1: اب خطاب مومنین سے ہے۔ ان کو اس سے ڈرایا گیا ہے کہ دنیا کی محبت میں ایسے مدہوش نہ ہوجائیں جیسے منافقین ہوگئے۔ دنیا کی سب سے بڑی دو چیزیں ہیں جو انسان کو اللہ سے غافل کرتی ہیں۔ مال اور اولاد۔ اس لیے ان دونوں کا نام لیا گیا، ورنہ مراد اس سے پوری متاع دنیا ہے۔…
Read the full tafseer →تمہارے اموال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں، اللہ نے جو کچھ عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرو !
دنیا میں مال اور اولاد دو چیزیں ایسی ہیں جن میں مشغول ہو کر انسان اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے۔ فرائض اور واجبات کو چھوڑنا نوافل و اذکار سے دور رہنا زبان سے دنیاوی دھندوں میں پھنسا رہنا، یہ سب امور ایسے ہیں جو اللہ کی یاد سے غافل کرنے والے ہیں، آدمی مال کمانے میں لگتا ہے تو اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے اولاد کو مالدار بنانے کے لئے اور موت کے بعد بہت سا مال چھوڑنے کے لئے كمائی کرتا ہے۔ حلال حرام کا خیال نہیں کرتا زکوٰۃ ادا نہیں کرتا واجبات شرعیہ میں خرچ نہیں کرتا، اگر کوئی شخص حلال مال ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
تنبیہ وتحذیر اھل ایمان از غفلت ذکر اللہ وتاکید انفاق فی سبیل اللہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ....... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) ابتداء سورت سے جملہ آیات منافقین کے کردار اور ان کی مذموم ترین خصلتوں کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں ایسے اسباب غفلت سے مسلمانوں کو چوکنا فرمایا گیا جو انسان کو ایمان وتقوی کی حقیقت سے دور کردیں اور غفلت ہی دراصل نفاق کا پیش خیمہ ہے نفاق کی اصل حقیقت جب یہ معلوم ہوگئی کہ دل میں ایمان نہ ہو اور زبان سے ایمان کا دعوی اور اعلان ہو تو مال واولاد کے فتنوں میں بھی مبتلا ہونے سے یہی نوعیت قلب کی ہوجاتی ہے، امام بخاری (رح) نے اپنی…
Read the full tafseer →ٖ 12:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہے۔ ” ذکر اللہ “ سے تمام عبادات خصوصا جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ مراد ہے۔ مومنوں سے ارشاد فرمایا مال و اولاد کی تدبیر واصلاح میں اشتغال و انہماک تمہیں جہاد و انفاق اور دیگر عبادات سے غافل نہ کردے۔ جو لوگ دنیوی امور میں منہمک ہو کر ذکر اللہ سے غافل ہوجائیں وہ انتہائی خسارے میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ربط آیات :
پہلے رکوع میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور اب ایمان والوں کو غفلت سے بچنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ پہلے منافقوں کی سازش ، ریشہ دوانی ، بخل اور برائی اور بداخلاقی کے دیگر امور کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ان کے فاسد خیالات اور اعتقادات کی نفی فرمائی۔ اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ منافقوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں مکی زندگی میں تو نفاق پیدا نہیں ہوا ، وہاں تو مومن تھے یا کافر ، البتہ مدنی دور میں آکر اعتقادی منافق پیدا ہوگئے ، جو زبان سے تو کلمہ توحید پڑھتے تھے اور بعض دیگر نیکی کے کام بھی کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں کفر ہی بھرا ہوا تھا۔ منافقوں کی یہ قسم کافروں کی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْہِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہِ 0 ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ 9
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترکیب : فیقول بالنصب بالفاء 1 ؎ الواقعۃ فی جواب الامرو ھو انفقوا لو لاحرف التحضیض معناھا حض علی الفعل لمضارع ولوم ان دخلت علی الماضی فاصدق بالنصب لوقوعہ فی جواب لولائ۔ واصلہ الصدق والجمہور علی ادغام التاء فی الصاد واکن اصلہ اکون سقطت الواؤ بالجزم وقراء الجمہور بالجزم عطفا علی محل فاصدق کانہ قیل ان اخرتنی واکن وقریٔ اکون بالنصب عطفا علی لفظۃ فاصدق لن یوخر الخ الجملۃ تدل علی جواب اذا جائ۔
تفسیر : منافقوں کی افسوسناک حالت بیان فرما کر مسلمانوں کو یاد الٰہی کی طرف ابھارتا ہے اور ایک ناگہانی آجانے والے سے ڈراتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین امنوا الخ کہ اے ایماندارو ! مال اور اولاد کے مشغلہ میں اللہ کی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُلْھِکُمْ اَمْوَالُـکُمْ وَالَآ اَوْلاَ دُکُمْ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (المنافقون : 9)
(اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کریں گے وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ )
مسلمانوں کو تنبیہ
اب عام مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی جارہی ہے کہ ان منافقین کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ مال و اولاد کی محبت میں ایسے ڈوبے کہ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے، تم ان کی تقلید نہ کرنا۔ کیونکہ مال و دولت کی محبت جب حد سے گزر جاتی ہے تو انسان کے اندر آخرت کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافق اولاد اور مال کی خاطر منافقت اختیار کرتا ہے جس سے ایماندار لوگوں کو منع گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جن چیزوں کو آزمائش قرار دیا ہے ان میں سر فہرست اولاد اور مال ہے۔ ان چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے اکثر مقامات پر مال کا پہلے ذکر کیا ہے۔ بیشمار لوگ مال کی خاطر اپنا ایمان اور عزت برباد کرلیتے ہیں اور اولاد کی محبت میں ماں باپ وہ کچھ کرجاتے ہیں جس کے کرنے کی شریعت نے انہیں اجازت نہیں دی۔ مال اور اولاد کی آزمائش سے بچ کر زندگی بسر کرنا مومن کے لیے لازم ہے۔ اس لیے مومنوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو ! تمہیں تمہارے مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل…
Read the full tafseer →9 : یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ (اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال غافل نہ کردیں) لاتلھکم تمہیں مشغول نہ کردیں۔ اموالؔ یعنی اموال میں لین دین اور اس کو بڑھانے کی کوشش اور اس پر نفع کی طلب۔ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ (اور نہ تمہاری اولادیں) اور تمہارا ان سے خوش ہونا اور ان پر شفقت کرنا اور ان کی امداد کیلئے کھڑے ہونا عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی یاد سے) یعنی صلوات خمس یا قرآن مجید کے وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ (اور جو ایسا کریں گے) وہ دین ترک کر کے دنیا میں مشغول ہوجائیں گے۔
ایک قول یہ ہے :
کہ جو آدمی اپنے اموال کو بڑھانے کی طرف متوجہ ہے۔ مگر اپنے احوال کی طرف…
Read the full tafseer →8 ۔” یقولون……………لا یعلمون “ ” کہتے ہیں اگر ہم مدینے کو لوٹ کر پہنچے تو جو عزت (اور قوت و غلبہ) والا ہوگا وہ ذلت والے کو (یعنی کمزور کو) مدینے سے نکال کر باہر کرے گا، عزت (اور غلبہ اور قوت) تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو حاصل ہے لیکن منافق (یہ بات) نہیں جانتے “۔
” العزۃ “ یعنی حقیقت میں غلبہ اور قوت تو اللہ ہی کو حاصل ہے وہ اللہ کی عطاء کردہ ہے۔ اس نے اپنے دین کو غالب کہو دشمنوں پر ان کو فتح عنایت فرمائی ہے۔ ” لا یعلمون “ یعنی منافق جہالت اور غرور کے سبب اس بات کو نہیں جانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9۔ 11۔ اوپر عبد اللہ بن ابی منافق کا ذکر تھا کہ اس نے اپنی دنیا داری کی غفلت میں عقبیٰ کو یہاں تک بھلا دیا تھا کہ طرح طرح کے گناہوں کے بعد اس سے ان گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے اور مغفرت کی دعا کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے انکار کیا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ کسی ایمان دار آدمی کو منافقوں کی مانند اس طرح دنیا میں گرفتار نہ ہونا چاہئے جس سے اللہ کی عبادت میں فتور پڑ کر اس کی عقبیٰ خراب ہوجائے۔ ذکر الٰہی میں سب عبادت بدنی داخل ہے پھر فرمایا کہ جو کوئی حکم الٰہی کے برخلاف عمل کرے گا اس کا بہت نقصان ہوگا۔ صحیح مسلم 1 ؎ میں مستورد بن شداد کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع فوز و فلاح اور بیشمار بھلائیاں ہیں اللہ نے انہیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثرت نفوس کی جبلت ہے۔ اسی لیے وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اسلیے فرمایا (وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ) جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردیتے ہیں (فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں
قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
17 ۔ عزت اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے، سو اصل اور بالذات عزت اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت سے ہمکنار کرے کہ وہ اپنے علم لا محدود اور حکمت لامتناہی سے پوری طرح جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے اور کس کے ساتھ کیا اور کیسا برتاؤ کیا جائے، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ (آل عمران 26 پ 3) اور اس نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کے غلبہ کا وعدہ بھی فرمایا ہے، ارشاد ہوتا ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
موت یقینی ہے اور اللہ خبر رکھنے والا ہے
تشریح : ان آیات کو غور سے پڑھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رب العٰلمین کس قدر مہربان اور حکیم و عزیز اور رحمن و رحیم ہے۔ اس نے اپنے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ قرآن و سنت کے ذریعے معیشت، معاشرت، تمدن اور پرسکون زندگی گزارنے کے اصول بھی ہمیں بتا دیے ہیں۔ مال اور اولاد انسانی زندگی کا بہترین سرمایہ ہیں مگر ساتھ ہی بد ترین آزمائش کا ذریعہ ہیں اگر ان دونوں کی محبت میں ہم نے اعتدال سے کام نہ لیا تو یقینا ہم غفلت، بد اندیشی، نفرت، جرائم، بےاعتدالی اور اللہ سے دوری اختیار کرلیں گے تو اس سے اللہ کو یا کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہ ہوگا بلکہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیات 9 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ بھی یاد رکھو کہ اے ایمان والو ! یہ مال وزر کی جائز تلاش اور اولاد کی پرورش یا ان کی بہتری کی فکر جو جائز بھی ہو وہ بھی اس قدر مصروف نہ کردے کہ اللہ یاد سے غفلت میں آنے لگے۔
ذکر اللہ۔
ذکر اللہ میں تمام عبادات اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے سارے عمل شامل ہیں یہ عملی ذکر ہے اس کے ساتھ تلاوت تسبیحات ذکرلسانی یازبانی ذکر ہے اور ذکرقلبی نصیب ہوجائے یعنی قلب بھی ذاکر ہوجائے تو بھرپور فائدے کی امید کی جاسکتی ہے کہ خلوص سے شریعت پر عمل اور جہاد آسان ہوجاتا ہے اگر کوئی دنیا کی مصروفیات کے سبب اللہ کے ذکر سے غافل ہوا تو وہ بہت زیادہ نقصان میں چلا گیا کہ دینی نقصان…
Read the full tafseer →ف 2 کیونکہ وہ باقی کو چھوڑ کر فانی میں مشغول ہوگئے۔ مال و اولاد تو وہی اچھی ہے جو آخرت سے غافل نہ کرے ورنہ اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں
Read the full tafseer →(63:9) تلہکم : تلہ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث الہاء (افعال) مصدر بمعنی غافل کردینا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تم کو غافل کر دے۔ لاتلکہم (وہ تم کو غافل نہ کردے) صیغہ نہی ہے۔
دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ الہکم التکاثر (102:1) لوگو تم کو کثرت مال و جاہ اور اولاد کی خواہش نے غافل کردیا ۔ ل، ھ، و ، مادہ۔ سے مشتق ہے اللھو ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے غافل کر دے۔ باز رکھے ۔ ہٹائے۔
من یفعل ذلک : من شرطیہ یفعل مضارع (مجزوم بوجہ شرط) صیغہ واحد مذکر غائب ۔ جس کسی نے ایسا کیا۔
فالئکجواب شرط کے لئے ہے۔ اولئک اسم اشارہ بعید جمع مذکر۔ پس وہی لوگ۔
الخسرون خسر و خسران سے اسم فاعل جمع مذکر۔ گھاٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔
تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔
اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) اوپر ابن ابی منافق کا ذکر تھا اس نے اپنی دنیا داری کی غفلت میں عقبی کو یہاں تک بھلادیا تھا کہ طرح طرح کے گناہوں کے بعد جب اس سے ان گناہوں پر نادم ہوکر اللہ اور رسول کی خدمت میں حاضر ہونے اور مغفرت کی دعا کرانے کے لیے کہا گیا تو اس نے انکار کیا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ کسی مسلمان آدمی کو منافقوں کی مانند اس طرح دنیا میں گرفتار نہ ہونا چاہیے جس سے اللہ کی عبادت یعنی پنج گانہ نماز ودینی اومر وغیرہ میں پڑ کر اس کی عقبی خراب ہوجائے پھر فرمایا کہ جو کوئی اس حکم الٰہی کے برخلاف عمل کرے گا اس کا بہت نقصان ہوگا۔
خیرات اور آداب خیرات کا ذکر۔
صحیح مسلم میں مستور بن شداد کی حدیث ہے کہ جس میں نبی ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[9] یہ آخر میں مسلمانوں کو تنبیہہ فرمائی کہ تم ان منافقوں کی روش اختیار نہ کرنا۔ ان کو مال اور اولاد کی محبت نے اللہ سے غافل کردیا ہے اگر تم بھی انہی کی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر اللہ کو بھول بیٹھے تو یاد رکھو کہ اصل نامرادی اور محرومی یہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 1: یہ لوگ جب یہ محسوس کرتے ۔ کہ مسلمان ہر صبح کو اپنے اقتدار میں اضافہ کررہے ہیں ۔ اور ہر شام کو ہمارے اقبال کا آفتاب غرورب ہورہا ہے ۔ تو دل میں بہت زیادہ کڑھتے اور بھنا کر کہتے ۔ کہ اصل میں یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے ۔ اگر ہم ان کو جگہ نہ دیتے ۔ اور ان کی مالی امداد نہ کرتے ۔ تو یہ لوگ اس قوت نہ حاصل کرسکتے ۔ اور کہتے کہ دیکھو آئندہ مسلمانوں کی مالی مدد نہ کرو ۔ پھر ایک ایک کرکے یہ لوگ خود بخود اسلام کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں گے ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ جانتے کہ اس قوم کا تعلق اس خدا سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے خزائن کا تنہا مالک ہے ۔ وہ تمہاری مدد اور امانت کا پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں…
Read the full tafseer →(9) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے اور ناکام رہنے والے ہوں گے۔ ذکر الٰہی سے بعض لوگوں نے پانچ وقت کی نمازیں لی ہیں ، صحیح چیز یہ ہے کہ مال واولاد سے مراد دنیا کا مجموعی سازو سامان اور ذکر اللہ سے دین و اطاعت کا پورا مجموعہ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا کی کسی بات میں ایسے منہمک نہ ہوجانا کہ دین کا کوئی کام چھوٹ جائے جس قدر دین کو نقصان پہنچے گا اسی قدرآخرت میں ناکامی کا سامانا کرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 4۔ یعنی دنیا میں منہمک موت ہوجانا کہ دین میں خلل پڑنے لگے۔
5۔ کیونکہ نفع دنیوی تو ختم ہوجاوے گا اور ضرر اخروی ممتد یا دائم رہ جائے گا۔
Read the full tafseer →ایمان والو ! تم کو مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے کہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے
9 ؎ جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے اب مخاطب کیا جا رہا ہے ان لوگوں کو جو سچے اور پکے مومن ہیں اور جن کے دلوں میں اسلام مکمل طور پر داخل ہوچکا ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو ! تم کو تمہارا مال اور تمہاری اولاد اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کردیں کیونکہ منافقوں کو اسی چیز نے خراب کیا ہے اور یہی چیزیں اکثر نفاق کا باعث بنتی ہیں۔ جب مال اور اولاد میں کثرت ہوجائے تو انسان کئی ایک غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر وہ جائز و ناجائز اور صحیح اور غلط کی طرف بہت کم ہی دھیان دیتا ہے بلکہ وہ مال اور اولاد کے…
Read the full tafseer →Commentary
Linkage between Sections [ 1] and [ 2]
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ
O those who believe, your riches and your children must not divert you from the remembrance of Allah. (63:9)
The preceding section dealt with the hypocrites, their false oaths and their conspiracies. In sum, their nefarious activities were based on their excessive love for the worldly gains. They outwardly claimed to be Muslims, and might share the spoils of war with them. One of the consequences of this mentality was their design to stop…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
17 Now a word of admonition is being addressed to aII those people, who have entered Islam, whether they are true and sincere believers, or those who profess the faith merely verbally. As we have explained at several places above. the words alladhina amanu in the Qur'an are sometimes used to address the true believers and sometimes to address the hypocrites, for they profess the faith only with the tongue, and sometimes to address the Muslims of aII kinds in general The context itself shows which group is the audience at a particular place.
18 The mention of the possessions and the children,…
Read the full tafseer →