Al-Munaafiqoon 63:8

Al-Munaafiqoon · from ayah 8

63:8

یَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَی الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ؕ— وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟۠يَقُوۡلُوۡنَ لَئِنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ ‌ؕ وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَلٰـكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They say, "If we return to al-Madinah, the more honored [for power] will surely expel therefrom the more humble." And to Allah belongs [all] honor, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites do not know.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Munaafiqoon

All translations of 63:8

یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت واﻻ وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا۔ سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہتے ہیں کہ : اگر ہم مدینہ کو لوٹ کر جائیں گے تو جو عزت والا ہے، وہ وہاں سے ذلت والے کو نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو اللہ ہی کو حاصل ہے اور اس کے رسول کو، اور ایمان والوں کو، لیکن منافق لوگ نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کہتے ہیں: اگر (اب) ہم مدینہ واپس ہوئے تو (ہم) عزّت والے لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں (یعنی مسلمانوں) کو باہر نکال دیں گے، حالانکہ عزّت تو صرف اللہ کے لئے اور اس کے رسول ﷺ کے لئے اور مومنوں کے لئے ہے مگر منافقین (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ کہتے ہیں یقینا اگر ہم مدینہ واپس گئے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہتے ہیں : اگر ہم مدینہ واپس گئے تو (وہاں کا) عزیز تر آدمی، ذلیل تر آدمی کو نکال باہر کرے گا حالانکہ تمام تر عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے لیکن منافق یہ بات جانتے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹے مدینہ کو تو جو غالب ہیں وہ وہاں سے ان کو نکال چھوڑیں گے جو بالکل بےحیثیت ہیں، حالانکہ غلبہ اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے لیکن یہ منافقین نہیں جانتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینے واپس پہنچ گئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو وہاں سے نکال کر دم لے گا حالانکہ عزت تو اصل میں اللہ ہی کیلئے ہے اور اسکے رسول اور ایمان والوں کیلئے مگر یہ منافق جانتے نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

حالانکہ اللہ ہی کے تو ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے البتہ منافقین ہی نہیں سمجھتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب مدینہ میں لوٹ کر جائیں گے تو غلبہ والا وہاں سے مغلوبوں کو نکال باہر کریگا۔ حالانکہ عزت تو بس اللہ ہی کی ہے اور اس کے پیغمبر کی اور ایمان والوں کی البتہ منافقین (ہی اس کا) علم نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ لوٹ گئے تو جو طاقتور ہیں وہ لازماً نکال باہر کریں گے وہاں سے ان کمزور لوگوں کو۔ حالانکہ اصل عزت تو اللہ اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچے تو ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، حالانکہ عزت اللہ کی ہے۔ اس کے رسول ﷺ کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: “When we return to Madinah, the honourable ones will drive out from it those that are abject.” In truth, all honour belongs to Allah, and to His Messenger, and to the believers. But the hypocrites do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :If we return to Madinah, the more honorable ones will drive out the meaner ones from there. And to Allah belongs the honour, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :If we return to Madinah, the more honorable ones will drive out the meaner ones from there. And to Allah belongs the honour, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They say: "If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the weaker." But Al-`Izzah belongs to Allah, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They say: Surely, if we return to Al-Madinah the mightier will soon drive out the weaker; when might belongeth to Allah and to His messenger and to the believers; but the hypocrites know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They say, "If we return to al-Madinah, the more honored [for power] will surely expel therefrom the more humble." And to Allah belongs [all] honor, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites do not know.

— Saheeh International

They say, "When we return to Medina, the honorable ones will certainly drive out the mean ones." Honor belongs to God, His Messenger and the believers, but the hypocrites do not know.

— Muhammad Sarwar

They say: If we return to Medina, the mighty will surely drive out the meaner therefrom; and to Allah belongs the might and to His Apostle and to the believers, but the hypocrites do not know.

— Muhammad Habib Shakir

They say: surely, if we return to Madina the mightier shall drive out the meaner thence: whereas might is Allah's and His apostle's and the believers; yet the hypocrites know not.

— Abdul Majid Daryabadi

They say, "If we return to Medina, surely the more honourable (element) will expel therefrom the meaner." But honour belongs to Allah and His Messenger, and to the Believers; but the Hypocrites know not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 63:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–8

منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول کریم ﷺ تمہارے لئے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس بات کو حقارت کے ساتھ رد کردیتے ہیں، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب ان کے لئے بخشش کے دروازے بند ہیں نبی کا استغفار بھی انہیں کچھ نفع نہ دے گا، بھلا ان فاسقوں کی قسمت میں ہدیات کہاں ؟ سورة براۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت گذر چکی ہے اور وہیں اس کی تفسیر اور ساتھ ہی اس کے متعلق کی حدیثیں بھی باین کردی گئی ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُنٰفِقُوْن 15 حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں کہ جب میں نے عبداللہ بن ابی کا یہ قول رسول اللہ ﷺ تک پہنچایا، اور اس نے آ کر صاف انکار کردیا اور اس پر قسم کھا گیا، تو انصار کے بڑے بوڑھوں نے اور خود میرے اپنے چچا نے مجھے بہت ملامت کی، حتیٰ کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ حضور ﷺ نے بھی مجھے جھوٹا اور عبداللہ بن ابی کو سچا سمجھا ہے۔ اس چیز سے مجھے ایسا غم لاحق ہوا جو عمر بھر کبھی نہیں ہوا اور میں دل گرفتہ ہو کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا کر ہنستے ہوئے میرا کان پکڑا اور فرمایا لڑکے کا کان سچا تھا، اللہ نے اس کی خود تصدیق فرما دی (ابن جریر۔ ترمذی میں بھی اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ، یہ بھی اسی منافق عبداللہ ابن ابی کا قول ہے جس میں اگرچہ الفاظ صاف نہیں بولے مگر مطلب ظاہر تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اور انصار مدینہ کو عزت والا اور ان کے مقابل رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین صحابہ کو معاذ اللہ ذلیل قرار دیا اور انصار مدینہ کو اس پر بھڑکانا چاہا کہ ان کمزور اور ذلیل لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں، حق تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کی بات کو اسی پر الٹ دیا کہ اگر عزت والوں نے ذلت والوں کو نکالا تو اس کا خمیازہ تمہیں کو بھگتنا پڑے گا، کیونکہ عزت تو اللہ اور اللہ کے رسول اور مومنین کا حق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منھا الازل وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنفقین لا یعلمون) (8)۔ یہ عبد اللہ بن ابی کے اس دوسرے زہر آلود فقرے کی طرف اشارہ ہے جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ اس نے انصار کو مہاجرین کے خلاف اکسانے کے لیے یہ بھی کہا کہ اب مدینہ واپس ہوتے ہیں پہلا کام یہ کرنا ہے کہ جو عزت و اقتدار والے ہیں (یعنی انصار) وہ ان لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے جو ذلیل ہیں۔ یہ اشارہ اس کا مہاجرین کی طرف تھا۔ یعنی اس نے وہی جاہلی نعرہ لگایا جو اہل عرب کا شعار تھا کہ اس سر زمین پر ہم ہمیشہ عزت و اقتدار والے رہے ہیں اور یہ ہمارا ہی حق ہے۔ ہم یہ کس طرح گوارا کرسکتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 اس کا کہنے والا رئیس المنافق عبد اللہ بن ابی تھا، عزت والے سے اس کی مراد تھی، وہ خود اور اس کے رفقاء اور ذلت والے سے (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ اور مسلمان۔ 8۔ 2 یعنی عزت اور غلبہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت و غلبہ عطا فرمادے۔ 8۔ 3 اس لیے ایسے کام نہیں کرتے جو ان کے لیے مفید ہیں اور ان چیزوں سے نہیں بچتے جو اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

8: یہ وہی بات ہے جو عبداللہ بن ابی نے کہی تھی اور پھر اس سے مکر گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ اوپر آچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور اس کے بعد ان کا یہ قول : یقولون .................... الاذل (36 : 8) ” یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا “۔ اس سے قبل ہم بتا چکے ہیں کہ اس حقیقت کو عبداللہ ابن عبداللہ ابن ابی نے کس طرح حقیقت کرکے پیش کیا اور کس طرح ذلیل آدمی عزت دار آدمی کی اجازت سے شہر میں داخل ہوا۔ وللہ العزة ............................ لا یعلمون (36 : 8) ” حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے ، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں “۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ اور مومنین کو اپنے ساتھ ایک صف میں شامل کرکے ان کو بھی معزز بنایا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی منافق یہ نہیں جانتے کہ زور آور اور عزت والا کون ہے۔ یاد رکھو اصلی اور ذاتی عزت تو اللہ کی ہے۔ اس کے بعد اسی سے تعلق رکھنے کی بدولت درجہ بدرجہ رسول کی اور ایمان والوں کی۔ روایات میں ہے کہ عبد اللہ بن ابی کے وہ الفاظ (کہ عزت والا ذلیل کو نکال دے گا) جب اس کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ کو پہنچے (جو مخلص مسلمان تھے) تو باپ کے سامنے تلوار لے کر کھڑے ہوگئے۔ بولے جب تک اقرار نہ کرلے گا تو رسول اللہ عزت والے ہیں اور تو ذلیل ہے، زندہ نہ چھوڑوں گا اور نہ مدینہ میں گھسنے دوں گا۔ آخر اقرار کرا کر چھوڑا۔ ؓ '۔ منافقین کی توبیخ و تقبیح کے بعد آگے مومنین کو چند ہدایات کی گئی ہیں۔ یعنی تم دنیا میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ یَـقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَــآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَـیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ } ”وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ لوٹ گئے تو جو طاقتور ہیں وہ لازماً نکال باہر کریں گے وہاں سے ان کمزور لوگوں کو۔“ عربی میں عزت کا اصل مفہوم طاقت اور غلبہ ہے ‘ جبکہ ذلیل کے معنی کمزور اور بےحیثیت کے ہیں۔ مذکورہ واقعہ چونکہ غزوئہ بنی مصطلق سے واپس آتے ہوئے راستے میں پیش آیا تھا اس لیے منافقین کے مکالمے میں یہاں مدینہ پلٹنے کا ذکر آیا ہے۔ عبداللہ بن ابی نے لوگوں کے جذبات بھڑکاتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ جب ہم مدینہ واپس پہنچیں تو بالکل متفق الرائے ہو کر یہ طے کرلیں کہ جو صاحب عزت ہیں ‘ جو مدینہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 عبداللہ بن ابی کو جھوٹ بولنے کی کیا سزا ملی ؟ جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے جرائم سے انکار کرنے کی سزا اس منافق کو ایک تو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کے نفاق اور کذب کا بھانڈا پھوڑ دیا اور اسے رسوا کیا۔ اور دوسری سزا یہ ملی کہ خود اس کا بیٹا عبداللہ جو سچا مومن تھا۔ مدینہ کے دروازہ پر تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا۔ اور اپنے باپ کی راہ روک کر کہنے لگا کہ جب تک رسول اللہ اجازت نہ دیں تم مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ معزز ترین تو اللہ کا رسول ہے اور ذلیل ترین تم ہو۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ وہاں پہنچے جہاں بیٹا باپ کا راستہ روکے کھڑا تھا، آپ نے از راہ کرم عبداللہ بن ابی کو مدینہ میں داخل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ (بلکہ بکمال حماقت ونادانی یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ مہاجرین کے رزق کا مدار انصار مدینہ کے چندہ اور عطیہ پر ہے) 11۔ یعنی ہم کہ ہمارا شمار مدینہ کے اکابر واہل اقتدار میں ہے، ان غریب نوواردوں اور مکی پردیسیوں کو اپنے شہر سے نکال باہر کریں گے۔ (آیت) ” رجعنآ الی المدینۃ “۔ یہ گفتگو مدینہ سے باہر غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر ہورہی تھی۔ 12۔ (کہ غلبہ اور مغلوبی، عزت وذلت کا حقیقی اور تکوینی معیار کیا ہے) (آیت) ” وللہ ..... لل مومنین “ حق تعالیٰ کا غالب اور صاحب عزت ہونا بالذات اور اصالۃ ہے۔ اور ہر صفت کے اعتبار سے بالکل کامل ومکمل۔ اور رسول اللہ ﷺ کا سبب ان کے تعلق اور ربط باللہ کے، اور بلحاظ ان کے لائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الا عزمنھا الاذل وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ..... لا یعلمون . ” کہتے ہیں اگر ہم مدینے کو لوٹ کر پہنچے تو جو عزت (اور قوّت و غلبہ) والا ہوگا وہ ذلت والے کو (یعنی کمزور کو) مدینے سے نکال کر باہر کرے گا ‘ عزت (اور غلبہ اور قوّ ت) تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو ہی حاصل ہے لیکن منافق (یہ بات) نہیں جانتے۔ اَلْعِزَّۃُ : یعنی حقیقت میں غلبہ اور قوّت تو اللہ ہی کو حاصل ہے وہ اللہ کی عطاہ کردہ ہے۔ اسی نے اپنے دین کو غالب کیا۔ دشمنوں پر ان کو فتح عنایت فرمائی ہے۔ لَا یَعْلَمُوْنَ : یعنی منافق جہالت اور غرور کے سبب اس بات کو نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

نیز عبداللہ بن ابی منافق ہی نے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا جب ہم اپنے غزوہ سے واپس جائیں گے تو مدینہ سے محمد کو نکال دیں گے مگر ان منافقین پر اللہ ہی کو اور اس کے رسول کو اور مسلمانوں کو غلبہ اور طاقت حاصل ہے مگر منافقین نہ اس چیز کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ : جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : (کنا فی غزاۃ قال سفیان مرۃ فی جیش فکسع رجل من المھاجرین رجلا ً من الانصار فقال الانصاری یا للانصار و قال المھاجری یا للمھاجرین فسمع ذلک رسول اللہ ﷺ فقال مال بال دعویٰ جاھلیۃ ؟ قالوا یا رسول اللہ ! کسع رجل من المجاجرین رجلاً میں الانصار فقال دعوھا فانھما متنۃ ، فسمع بذلک عبد اللہ بن ابی فقال فعلوھا ؟ اما واللہ ! لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعزمنھا الاذل فبلغ النبی ﷺ فقام عمر فقال یا رسول اللہ ! دعنی اضرب عنق ھذا المنافق فقال النبی ﷺ دعہ لا یتحدث الناس ان محمدا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–8

سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم یعنی یہ سب برابر ہے۔ آپ ﷺ کا استغفار کرنا کچھ نفع نہیں دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، سوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون (البقرۃ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سوآء علینا اوعظت ام لم تکن من الوعظین۔ (الشعرائ) ان اللہ لا یھدی ال قوم الفسقین۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود تھا کہ وہ فاسق ہی مرے گا۔ آیت ہم نے سبب نزول کا ذکر کیا۔ ابن ابی نے کہا، جو لوگ حضرت محمد ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس سے بکھر جائیں گے (1) اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ زمین و آسمان کے خزانے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

9۔ ابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ من حولہ۔ منافقین کو قتل نہ کرنے کی حکمت 11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہیں۔ اگر تم ان پر خرچ نہ کروگے تو وہ بھاگ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیجرجن الاعز منہا الاذل۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات اس بڑے منافق نے کہی ان دو آدمیوں کے بارے میں جو آپس میں لڑ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ : وہ لوگ کہتے ہیں بیشک اگر ہم لوٹے ] [اِلَى الْمَدِيْنَةِ : مدینہ کیطرف ] [لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ : تو لازماً نکالے گا زیادہ باعزت ] [مِنْهَا الْاَذَلَّ : اس سے زیادہ ذلیل کو ] [وَللّٰهِ الْعِزَّةُ : حالانکہ اللہ ہی کے لیے ہے کل عزت ] [وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ : اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان لانے والوں کے لیے ] [وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ : اور لیکن منافق لوگ جانتے نہیں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منافقین نے یہ جو کہا تھا کہ مدینہ پہنچ کر عزت دار ذلت والے کو نکال دے گا ان کی اس بات کو نقل کرتے ہوئے فرمایا : ﴿يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ﴾ (وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس ہوگئے عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا) اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم عزت دار ہیں مدینہ شہر ہمارا شہر ہے۔ ہم اس میں پہلے سے رہتے ہیں مہاجر بعد میں آئے ہیں ہمارے سامنے ذلیل ہیں (العیاذ باللہ) ۔ ہم ان کو نکال دیں گے بات صاف نہیں کہی مگر کہہ دی متکلم کا صیغہ کہنے کے بجائے غائب کا صیغہ اختیار کیا، اللہ جل شانہ نے جواب میں فرمایا ﴿ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔ (ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ ” یقولون لئن رجعنا “ یہ دوسرا شکوی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو ذلیل و حقیر سمجھا اور اپنے کو معزز اور اشراف قرار دیا اور کہا ہمیں مدینہ میں واپس تو جا لینے دو ، ہم (عیاذا باللہ) ان کمینوں اور ذلیلوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے۔ ” واللہ العزۃ الخ “ یہ منافقین کے قول خبیث کا جواب ہے۔ فرمایا عزت، غلبہ اور قوت تو اللہ کیلئے ہے اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کیلئے ہے جن کو اللہ نے عزت اور غلبہ عطا فرمایا ہے اور ان منافقین کے لیے دنیا اور آخرت میں ذلت و رسوائی مقدر ہے۔ ای وللہ تعالیٰ الغلبۃ والقوۃ ولمن اعزہ اللہ تعالیٰ من رسولہ ﷺ والمومنین لا للغیر (روح ج 28 ص 116) ۔ لیکن منافقین…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–8

ربط آیات : اللہ منافقین کے فریب اور جھوٹ کی قلعی کھولی ہے اور ان کی بزدلی کا حال ذکر کیا ہے اور یہ کہ وہ جھوٹی قسمیں اٹھا کر بات کرتے ہیں اور پھر جھوٹی قسم اٹھا کر انکار کردیتے ہیں۔ بظاہر کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں اور اللہ کے رسول کو رسول جانتے ہیں ، مگر یہ بات ان کے دل میں نہیں ہوتی۔ اظہار ایمان کے بعد دل میں کفر کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دیے ہیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ ظاہری ڈیل ڈول اور شکل و صورت کے اعتبار سے بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن اندر سے اس طرح کھوکھلے ہیں جیسے کسی دیمک خوردہ لکڑی کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کردیا گیا ہو۔ یہ لوگ پرلے درجے کے بزدل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَۃِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ۝ 0 ۭ وَلِلہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 8 ۧ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ ترمذی (رح) نے نقل کیا ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی نے یہ کلمات بکے تو زید نے آنحضرت ﷺ کو خبر دی اور عبد اللہ بن ابی سے جو پوچھا گیا تو قسمیں کھا کر انکار کر گیا مگر اس کے بیٹے عبد اللہ نے جو خالص ایماندار تھا باپ کو پکڑلیا کہ بخدا شہر مدینے نہ جانے دوں گا جب تک تو یہ اقرار کرے کہ میں ذلیل اور رسول اللہ ﷺ عزت دار ہیں آخر اس نے کہا۔ اور یہ جہاد جس میں عبد اللہ بن ابی نے یہ باتیں بکی نہیں چوتھے سال ہجری میں تھا۔ بعض کہتے ہیں۔ چھٹے میں۔ درحقیقت عزت اللہ اور اس کے ماننے والوں کو ہے صحابہ ؓ کی عزت کو غور کرلو خزانے بھی اللہ کے پاس ہیں دیکھ لو صحابہ کو کیسے خزانے عطا کیے اور یوں بھی بارش ہوا گرمی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَـآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لِیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّمِنْھَا الْاَذَلَّ ط وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (المنافقون : 8) (وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹے مدینہ کو، تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور ان کے رسول اور مومنین کے لیے ہے، لیکن یہ منافقین نہیں جانتے۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل اسی موقع پر دوسری بات جو عبداللہ بن ابی نے کہی تھی وہ یہ تھی کہ اب ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے ہمارے لوگوں کو مارنے لگیں، اب مدینہ جانے کی دیر ہے وہاں پہنچتے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی ہرزہ سرائی۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر راستے میں ایک مقام پر صحابہ کرام ؓ نے پڑاؤ ڈالا تو کنویں سے پانی لیتے ہوئے ایک مہاجر اور انصار کے درمیان تکرار ہوگی۔ مہاجر نے انصار کو لات ماری اس بات کا عبداللہ بن ابی کو علم ہوا تو اس نے انصار کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمہارا ہی کیا دھرا ہے، جنہیں ان کی قوم نے اپنے شہر سے نکال دیا تم نے ان کو مدینہ میں ہر چیز مہیا کی اور آج وہ ہم پر سرداری کر رہے ہیں اگر ان سے نجات پانا چاہتے ہو تو ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کرو یہ لوگ بھوک سے تنگ آکر خود بھاگ جائیں گے۔ اس کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ جونہی ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوسری بدزبانی : 8 : یَقُوْلُوْنَ لَپنْ رَّجَعْنَآ (وہ کہتے ہیں اگر ہم مدینہ کو لوٹ کر پہنچے) غزوئہ بنو مصطلق سے واپس مدینہ پہنچے۔ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّمِنْھَا الْاَذَلَّ وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ (تو جو عزت والا ہوگا وہ ذلت والے کو مدینے سے نکال کر باہر کر دے گا۔ عزت تو اللہ) عزت یعنی غلبہ اور قوت وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ (اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کو حاصل ہے) جس کو اللہ تعالیٰ عزت دے اور ان کی تائید اپنے رسول اور مؤمنین سے کروائے۔ اور وہ عزت کے ساتھ خاص ہیں۔ جیسا کہ ذلت، بزدلی شیطان اور اس کے حمایتی کفار و منافقین کیلئے ہے۔ بعض صالحات کا مقولہ : ان کو پھٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” ھم الذین یقولون “ یعنی منافق انصار سے کہتے ہیں، یہ عدم مغفرت کی دلیل ہے۔ ” لا تنفقوا علی من عندرسول اللہ “ یعنی نادار مہاجرین جیسے جہجاہ وغیرہ۔ ” خزآئن السموات “ یعنی جنت کی نعمتیں، بارش اور تقدیر رزق۔ ” والارض “ اور زمین کے خزانے یعنی روزی، رزق سب اللہ ہی کے ہیں۔ اسی کے دست قدرت میں ہر چیز ہے ، کوئی کسی کو اللہ کی اجازت اور مقدرہ تقسیم کے بغیر کچھ نہیں دے سکتا، نہ اس کی مشیت کے بغیر روک سکتا ہے۔ ” ولکن المنافقین لا یفقھون “ یعنی منافقین اللہ کی شان اور قدرت سے واقف نہیں، اس لئے ایسی بات کہتے ہیں، اگر سمجھ لیتے تو ایسی بات نہ کہتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–8

5۔ 8۔ ان آیتوں کی تفسیر قصہ طلب ہے اور وہی قصہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ایک صحابی انصاری کا ایک صحابی مہاجر سے کچھ جھگڑا ہوگیا۔ یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کچھ روایتوں کے موافق تبوک کی لڑائی سے اور بعضی روایتوں کے موافق بنی مصطلق کی لڑائی کے سفر میں تھے اس جھگڑے کو سن کر عبد اللہ بن ابی منافق نے اپنے قبیلہ کے انصار لوگوں سے یہ کہا کہ ہمارے قبیلہ کے لوگوں کی طرف سے ان مہاجرین کی خبر گیری جو کچھ کی جاتی ہے وہ آئندہ بند کردی جائے تاکہ یہ مہاجر لوگ خرچ برچ سے تنگ ہو کر ہماری بستی سے چلے جائیں اور اس سفر سے مدینہ واپس پہنچنے کے بعد ان مہاجرین کو مدینہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ۭ ) وہ کہتے تھے، البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔ یہ واقعہ غزوہ مریسیع میں ُ یش آیا جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رجنی پیدا ہوئی اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آگیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا ان کے سردار عبداللہ بن ابی سلول نے کہا، ہماری اور ان کی یعنی مہاجرین کی مثال تو بس ایسے ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے، اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔ اور کہنے لگا اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–9

اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–9

17 ۔ عزت اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے، سو اصل اور بالذات عزت اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت سے ہمکنار کرے کہ وہ اپنے علم لا محدود اور حکمت لامتناہی سے پوری طرح جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے اور کس کے ساتھ کیا اور کیسا برتاؤ کیا جائے، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ (آل عمران 26 پ 3) اور اس نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کے غلبہ کا وعدہ بھی فرمایا ہے، ارشاد ہوتا ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

منافق ان کے کارنامے اور انجام تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یہ بات بھی عبداللہ بن ابی نے کہی تھی لیکن چونکہ اس نے اس بات کے ذریعہ تمام منافقین کی ترجمانی کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو تمام منافقین کی بات کے طور پر ذکر فرمایا عزت والے سے کم بخت نے اپنے آپ کو اور ذلت والے سے نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مراد لیا تھا۔ صحیحین میں ہے کہ مسلمان آنحضرت کے ساتھ غزوہ نبی المصلق میں تھے۔ ایک مہاجر اور ایک انصاری آپ س میں لڑ پڑے۔ دونوں نے اپنی حمایت کے لئے اپنے اپنے لوگوں کو پکار آنحضرت کو اطلاع ہوئی تو آپ نے اسے جاہلیت کی پکار قرار دیا اور اس کی مدت کی۔ عبداللہ بن ابی کو پتا چلا تو اسے گویا موقع ہاتھ آگیا۔ کہنے لگا ” اچھا اب ان لوگوں کو یہ جرأت ہوگئی ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(63:8) لئن لام تاکید کے لئے ہے ان شرطیہ لئن رجعنا الی المدینۃ جملہ شرط ہے اگر ہم لوٹ کر گئے مدینہ کو۔ رجعنا ماضی جمع متکلم رجوع (باب ضرب) مصدر ۔ ہم لوٹے۔ ہم واپس ہوئے ۔ لیخرجن الاعز منھا الاذل جملہ جواب شرط ہے۔ لیخرجن میں لام جواب شرط کا ہے۔ یخرجن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغیہ واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدریہ۔ نکال دے گا۔ الاعز : عز سے باب ضرب مصدر افعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر۔ زیادہ زور والا۔ زیادہ عزت والا۔ یخرجن کا فاعل ہے منھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع المدینۃ ہے۔ الادل۔ ذلۃ (باب ضرب) مصدر سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر۔ زیادہ ذلیل۔ زیادہ کمزور۔ یخرجن کا مفعول ہے۔ ترجمہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔ تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔ اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

شان رسالت مآب سے منافق حسد سے جل جاتے ہیں اور عاشق خوش ہوتے ہیں۔ (ف 1) شان نزول : امام بخاری (رح) وغیرہ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ مریسع سے فارغ ہوکرجب نبی ﷺ نے سرچاہ نزول فرمایا تو وہاں یہ واقعہ پیش آیا، کہ حضرت عمر کے اجیر جہجاہ غفاری اور ابن ابی کے حلیف سنان بن وبرجہنی کے درمیان جنگ ہوگئی جہجاہ نے مہاجرین اور سنان نے انصار کو پکارا۔ اس وقت ابن ابی منافق نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ بےہودہ باتیں بکیں اور یہ کہا کہ مدینہ طیبہ پہنچ کر ہم میں سے عزت والے ذلیلوں کو نکال دیں گے کیونکہ یہ بدبخت اپنے آپ کو بڑا معزز سمجھتا تھا اور مسلمانوں کو ذلیل جانتا تھا اور اپنی قوم سے کہنے لگا کہ تم انہیں کچھ خرچ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[ 8[ روایات میں ہے کہ 6 ھ میں غزوہ بنی المصطلق سے واپسی کے موقع پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں جھگڑا ہوگیا۔ انصاری نے انصار کی دہائی دی اور مہاجر نے مہاجرین کی۔ دونوں طرف کے آدمی تلواریں سونت سونت کر اکٹھے ہوگئے مگر نبی ﷺ کی مداخلت سے بات نہ بڑھنے پائی لیکن رئیس المنافقین عبداللّٰہ بن ابی نے موقع سے فائدہ اٹھا کر مہاجرین کے خلاف انصار کو بھڑکانے کے لئے نہایت زہرآلود فقرے کہے اور انصار کے جو آدمی اس دوران اسکے گرد جمع ہوگئے تھے ان کو مخاطب کر کے اس نے کہا کہ ان مہاجرین پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ یہ مدینے سے بھاگ جائیں۔ پھر کہا کہ مدینے پہنچ کر جو باعزت ہیں (یعنی انصار) وہ رذیلوں (یعنی مہاجروں) کو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–10

ف 1: یہ لوگ جب یہ محسوس کرتے ۔ کہ مسلمان ہر صبح کو اپنے اقتدار میں اضافہ کررہے ہیں ۔ اور ہر شام کو ہمارے اقبال کا آفتاب غرورب ہورہا ہے ۔ تو دل میں بہت زیادہ کڑھتے اور بھنا کر کہتے ۔ کہ اصل میں یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے ۔ اگر ہم ان کو جگہ نہ دیتے ۔ اور ان کی مالی امداد نہ کرتے ۔ تو یہ لوگ اس قوت نہ حاصل کرسکتے ۔ اور کہتے کہ دیکھو آئندہ مسلمانوں کی مالی مدد نہ کرو ۔ پھر ایک ایک کرکے یہ لوگ خود بخود اسلام کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں گے ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ جانتے کہ اس قوم کا تعلق اس خدا سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے خزائن کا تنہا مالک ہے ۔ وہ تمہاری مدد اور امانت کا پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) نیز یہ منافق یوں کہتے ہیں اگر اب کی دفعہ ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا مدینے سے ذلت والے کو نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور مسلمانوں کے لئے ہے لیکن یہ منافق اس بات کو نہیں جانتے۔ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ بعض منافقین نے عموماً اور عبداللہ ابن ابی نے خصوصاً یہ الفاظ کہے تھے اور زید بن ارقم نے سن کر حضور ﷺ کو اطلاع دی تھی لیکن انہوں نے قسمیں کھا کر حضور ﷺ کو اپنی بےگناہی کا یقین دلایا تھا اور زید ابن ارقم ؓ محجوب ہوئے تھے، ان آیتوں کے بعد نبی کریم ﷺ نے زید بن ارقم ؓ کو بلا کر فرمایا کہ زید یہ تیری تصدیق اور تائید ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح)…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 3۔ مطلب یہ کہ اگر وہ آپ کے پاس آتے بھی اور آپ ان کی ظاہری حالت کے اعتبار سے استغفار بھی فرماتے تب بھی ان کو کچھ نفع نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو تہی ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا ذلیل کو نکال دے گا 8 ؎ اس وقت کے منافقین نے یہ بات اس وقت کی تھی جب بنی المصطلق کے قریب مریسیع نامی چشمہ پر ڈیرہ ڈال چکے تھے اور آدمیوں کے درمیان کسی معاملہ میں تو تو میں ہوگئی جب کہ ایک کا تعلق مہاجرین سے اور دوسرے کا تعلق انصار سے تھا پھر دونوں نے اپنے اپنے لوگوں کو آواز دے دی اور قریب تھا کہ کوئی ناگوار بات ہوجاتی لیکن آپ ﷺ خود وہاں پہنچ گئے اور ان دونوں کو آپ ﷺ نے سمجھایا اس طرح یہ بات تو رفع دفع ہوگئی لیکن کچھ بےپر کی اڑانے والوں نے اس خبر کو خوب گرم کیا اور عبد اللہ بن ابی کو یہ موقع ہاتھ آگیا اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

يَقُولُونَ لَئِن رَّ‌جَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِ‌جَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ (They say, “ If we return to Madinah, the more honourable ones will drive out the meaner ones from there.”…63:8). This too is the statement of Ibn Ubayy, the hypocrite. Although the words used by him were ambiguous, the intention was clear. He termed himself and the natives of Madinah as ‘honourable’ and the Holy Prophet ﷺ and the Emigrant Companions as (God forbid! ) the ‘meanest’. He thus provoked the Helpers of Madinah against the Emigrants that the former should drive out the latter from their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 Hadrat Zaid bin Arqam says: "When I reported these words of Abdullah bin Ubayy to the Holy Prophet, and 'Abdullah bin Ubayy came and disowned them on oath, the elderly people of the Ansar, and cven my own uncle, reproved me for this; so much so that I felt that the Holy Prophet also had mistaken me for a liar and 'Abdullah bin Ubayy for a truthful person. This caused me great anguish and grief. Then, when these verses were revealed, the Holy Prophet call-d me, and taking hold of my car, said: "The boy's ear was truthful AIIah has himself testified to what it had heard." (Ibn Jarir. In…

Read the full tafseer →