Al-Munaafiqoon 63:7

Al-Munaafiqoon · from ayah 7

63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا ؕ— وَلِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ ۟هُمُ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا‌ؕ وَلِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَفۡقَهُوۡنَ

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They are the ones who say, "Do not spend on those who are with the Messenger of Allah until they disband." And to Allah belongs the depositories of the heavens and the earth, but the hypocrites do not understand.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Munaafiqoon

All translations of 63:7

یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ یہ منتشر ہو جائیں حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی وه ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وه ادھر ادھر ہو جائیں اور آسمان وزمین کے کل خزانے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہی تو ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ یہ خود ہی منتشر ہوجائیں گے، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہوجائیں، اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے مگر منافقوں کو سمجھ نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) یہی وہ لوگ ہیں جو (آپ سے بُغض و عِناد کی بنا پر) یہ (بھی) کہتے ہیں کہ جو (درویش اور فقراء) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہتے ہیں اُن پر خرچ مت کرو (یعنی ان کی مالی اعانت نہ کرو) یہاں تک کہ وہ (سب انہیں چھوڑ کر) بھاگ جائیں (منتشر ہوجائیں)، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے سارے خزانے اللہ ہی کے ہیں لیکن منافقین نہیں سمجھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ منتشر ہوجائیں، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاآنکہ وہ تتر بتر ہوجائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے تو اللہ کے پاس ہیں مگر منافق لوگ سمجھتے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر تم لوگ اپنے مال خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں تاکہ وہ منتشر ہوجائے اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے لیکن منافقین نہیں سمجھتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تم ان لوگوں پر مت خرچ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ تتر بتر ہوجائیں حالانکہ اللہ ہی کے لیے ہیں سب خزانے آسمانوں اور زمین کے مگر یہ منافق لوگ سمجھتے نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

یہی لوگ تو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو یہاں تک کہ وہ (آپ ہی) منتشر ہوجائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مت خرچ کرو ان پر جو اللہ کے رسول ﷺ کے گرد جمع ہوگئے ہیں یہاں تک کہ یہ منتشر ہوجائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے تو اللہ ہی کے ہیں لیکن منافقین اس حقیقت کا فہم نہیں رکھتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق نہـیں سمجھتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is they who say: “Give nothing to those who are with the Messenger of Allah so that they may disperse.” (They say so although) the treasures of the heavens and the earth belong to Allah. But the hypocrites do not understand.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They are those who say, :Do not spend on those who are with Allah‘s Messenger until they disperse. And to Allah belong the treasures of the heavens and the earth, but the hypocrites do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani

They are those who say, :Do not spend on those who are with Allah‘s Messenger until they disperse. And to Allah belong the treasures of the heavens and the earth, but the hypocrites do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are the ones who say: "Spend not on those who are with Allah's Messenger, until they desert him." And to Allah belong the treasures of the heavens and the earth, but the hypocrites comprehend not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They it is who say: Spend not on behalf of those (who dwell) with Allah's messenger that they may disperse (and go away from you); when Allah's are the treasures of the heavens and the earth; but the hypocrites comprehend not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They are the ones who say, "Do not spend on those who are with the Messenger of Allah until they disband." And to Allah belongs the depositories of the heavens and the earth, but the hypocrites do not understand.

— Saheeh International

It is they who say, "Give nothing to those who are around the Messenger of God so that they will desert him." To God belongs the treasures of the heavens and the earth, but the hypocrites have no understanding.

— Muhammad Sarwar

They it is who say: Do not spend upon those who are with the Apostle of Allah until they break up. And Allah's are the treasures of the heavens and the earth, but the hypocrites do not understand.

— Muhammad Habib Shakir

They are the ones who say: expend not on those who are with Allah's apostle, that they may disperse; whereas Allah's are the treasures of the heavens and the earth; yet the hypocrites understand not.

— Abdul Majid Daryabadi

They are the ones who say, "Spend nothing on those who are with Allah's Messenger, to the end that they may disperse (and quit Medina)." But to Allah belong the treasures of the heavens and the earth; but the Hypocrites understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 63:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–8

منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول کریم ﷺ تمہارے لئے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس بات کو حقارت کے ساتھ رد کردیتے ہیں، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب ان کے لئے بخشش کے دروازے بند ہیں نبی کا استغفار بھی انہیں کچھ نفع نہ دے گا، بھلا ان فاسقوں کی قسمت میں ہدیات کہاں ؟ سورة براۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت گذر چکی ہے اور وہیں اس کی تفسیر اور ساتھ ہی اس کے متعلق کی حدیثیں بھی باین کردی گئی ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الْمُنٰفِقُوْن 13 یہ بات سورة توبہ میں (جو سورة منافقون کے تین سال بعد نازل ہوئی ہے) اور زیادہ تاکید کے ساتھ فرما دی گئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے منافقین کے متعلق فرمایا کہ " تم چاہے ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر (70) مرتبہ بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کرو گے تو اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا " (التوبہ۔ آیت 80)۔ آگے چل کر پھر فرمایا " اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا، یہ وہی قول ہے جو جہجاہ مہاجر اور سنان انصاری کے جھگڑے کے وقت ابن ابی نے کہا تھا، جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دے دیا کہ یہ بیوقوف یوں سمجھ رہے ہیں کہ مہاجرین ہماری داد و دہش کے محتاج ہیں ہم ہی ان کو دیتے ہیں حالانکہ تمام آسمان و زمین کے خزانے تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہیں تو مہاجرین کو تمہاری کسی امداد کے بغیر سب کچھ دے سکتے ہیں، اس کا ایسا سمجھنا چونکہ بےعقلی اور بیوقوفی کی دلیل ہے اس لئے قرآن حکیم نے اس جگہ لایفقمون کا لفظ اختیار فرما کر بتلا دیا کہ ایسا خیال کرنے والا بےعقل و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ھم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا وللہ خزائن السموات والارض ولکن المنفقین لا یفقھون) (7)۔ (اللہ تعالیٰ کے غضب کا سبب) یہ سبب بتایا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے اس غضب کے مستحق کیوں ٹھہرے کہ اگر رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لیے ستر بار مغفرت مانگیں جب بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمانے والا نہیں ہے۔ ارشاد ہوا کہ یہی لوگ ہیں جو لوگوں کو روکتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ 6 ھ؁ میں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر نبی ﷺ نے جس چشمہ پر پڑائو ڈالا وہاں پانی کے بارے میں ایک غریب مہاجر اور ایک انصاری میں جھگڑا ہوگیا۔ مہاجر نے انصاری کو تھپڑ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 مطلب یہ کہ مہاجرین کا رازق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے رزق کے خزانے اسی کے پاس ہیں، وہ جس کو جتنا چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے۔ 7۔ 2 منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ انصار اگر مہاجرین کی طرف دست تعاون دراز نہ کریں تو وہ بھوکے مرجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: سورت کے تعارف میں جو واقعہ اوپر آچکا ہے، اس میں یہ بات عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہی تھی کہ مسلمانوں پر اپنا مال خرچ کرنا بند کردو، اس کے نتیجے میں معاذ اللہ صحابہ آنحضرت ﷺ کو چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھم الذین .................... ینفضوا (36 : 7) ”” یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کرو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں “۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے کہنے والے کا خبث باطن عیاں ہے اور یہ شخص نہایت ہی ذلیل انسان ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جو اہل باطل روز اول سے اہل ایمان کے خلاف آزماتے ہیں۔ زمان ومکان کی قید کے سوا ہر جگہ اور ہر دور میں اہل باطل نے یہ نسخہ آزمایا ہے جیسا کہ اگلوں پچھلوں نے مشورہ کرکے یہ طے کردیا ہے کہ اہل دین اور اہل نظر یہ لوگوں پر رزق کے دروازے بند کردو۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ اس قدر ذلیل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ ہر بات ہر فیصلہ پیٹ کے نقطہ نظر سے کرتے ہیں۔ چناچہ اہل ایمان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 6–7

2 یعنی ممکن ہے آپ ﷺ غایت رحمت و شفقت سے ان کے لیے بحالت موجودہ معافی طلب کریں۔ مگر اللہ کسی صورت سے ان کو معاف کرنے والا نہیں، اور نہ ایسے نافرمانوں کو اس کے ہاں سے ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اس طرح کی آیت سورة " برأت " میں آچکی ہے۔ وہاں کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔ 3 ایک سفر میں دو شخص لڑ پڑے ایک مہاجرین میں کا اور ایک انصار کا۔ دونوں نے اپنی حمایت کے لیے اپنی جماعت کو پکارا جس پر خاصا ہنگامہ ہوگیا۔ یہ خبر رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کو پہنچی کہنے لگا اگر ہم ان (مہاجرین) کو اپنے شہر میں جگہ نہ دیتے تو ہم سے مقابلہ کیوں کرتے تم ہی خبر گیری کرتے ہو تو یہ لوگ رسول کے ساتھ جمع رہتے ہیں، خبر گیری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ ہُمُ الَّذِیْنَ یَـقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا } ”یہی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مت خرچ کرو ان پر جو اللہ کے رسول ﷺ کے گرد جمع ہوگئے ہیں ‘ یہاں تک کہ یہ منتشر ہوجائیں۔“ منافقین سمجھتے تھے کہ اگر اہل مدینہ مہاجر مسلمانوں پر خرچ کرنا بند کردیں گے تو چند ہی دنوں میں یہ ساری بھیڑ چھٹ جائے گی۔ یہی بات عبداللہ بن ابی نے متذکرہ بالا جھگڑے کے موقع پر انصارِ مدینہ سے کہی تھی۔ { وَلِلّٰہِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰــکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَہُوْنَ۔ } ”حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے تو اللہ ہی کے ہیں ‘ لیکن منافقین اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 ہجرت سے پہلے مدینہ میں عبداللہ بن ابی کی حیثیت :۔ آیت نمبر 7 اور 8 کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے ان کا تاریخی پس منظر سمجھنا ضروری ہے جو یہ ہے کہ جب رسول اللہ مدینہ تشریف لائے تو ان کی آمد سے پہلے مدینہ کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج اسے اپنا بادشاہ تسلیم کرنے پر تیار ہوچکے تھے اور اس کے لیے سنہری تاج بھی تیار کرالیا گیا تھا۔ وہ خود قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا۔ اوس اور خزرج اپنی باہمی جنگوں سے بہت تنگ آئے ہوئے تھے اور غالباً عبداللہ بن ابی ہی وہ پہلا شخص تھا جس کی سربراہی کو دونوں قبائل نے تسلیم کرلیا تھا۔ اس کی رسم تاجپوشی ادا ہونے ہی والی تھی کہ آپ مدینہ تشریف لے آئے اور جب تمام لوگ آپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ روایتوں میں آتا ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر انصار ومہاجرین کے درمیان بےلطفی اور رنجش ہوگئی تھی، منافقین کو موقع مل گیا، انصار کے ہمدرد وغمخوار بن کر ان سے بولے کہ تمہیں نے تو رشتہ مواخات قائم کر کر کے ان کے حوصلے بڑھادیئے، ان کے دماغ خراب کردیئے تم آج خرچ دینا بند کردو تو ابھی تو یہ مجمع منتشر ہوا جاتا ہے۔ (آیت) ” یقولون “۔ منافقین یہ انصار مدینہ سے کہتے تھے۔ (آیت) ” من عند رسول اللہ “۔ اشارہ مہاجرین مکہ کی جانب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا وللہ خزائن السموات والارض ولکنم المنافقین لا یفقھون . ” یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاسجمع ہیں ‘ ان پر کچھ خرچ مت کرو ‘ یہاں تک کہ وہ آپ ہی منتشر ہوجائیں گے اور اللہ ہی کے پاس ہیں آسمانوں کے اور زمین کے خزانے لیکن یہ منافق سمجھتے نہیں۔ “ ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ : یعنی منافق انصار سے کہتے ہیں ‘ یہ عدم مغفرت کی دلیل ہے۔ عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ : یعنی نادار مہاجرین جیسے جہجاہ وغیرہ۔ خَزَآءِنُ السَّمٰوٰتِ : یعنی جنت کی نعمتیں ‘ بارش اور تقدیر رزق۔ وَالْاَرْضِ : اور زمین کے خزانے یعنی روزی ‘ رزق سب اللہ ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–7

یہ منافقین جب تک نفاق پر قائم رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا اور نفاق پر مرنے والوں کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرماتا۔ شان نزول : سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور نیز عروہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت استغفرلھم اولا تستغفرلھم نازل ہوئی تو رسول اکرم نے فرمایا میں ستر مرتبہ سے زائد استغفار کروں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ۔ نیز مجاہد اور قتادہ سے بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ اور عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب سورة برات کی یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نے فرمایا کہ میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ ِ۔۔۔۔: اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں ان منافقین کے فسق کے نمونے کے طور پر ان کے کچھ گستاخانہ جملے ذکر فرمائے ہیں ، جن سے ان کی اسلام اور مسلمانوں سے شدید نفرت اور دلی بغض کا اظہارہو رہا ہے۔ گویا بتایا جا رہا ہے کہ یہ ہے کہ ان کا بد ترین فسق جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نہیں دیتا اور جس کی وجہ سے ان کے حق میں رسول اللہ ﷺ کے استغفار کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں :(خجنا مع النبی ﷺ فی سفر اصاب الناس فیہ شدۃ ، فقال عبد اللہ بن ابی لا صحابہ لا تفقوا علی من عند رسول اللہ حتیٰ ینفضوا من حولہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–8

سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم یعنی یہ سب برابر ہے۔ آپ ﷺ کا استغفار کرنا کچھ نفع نہیں دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، سوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون (البقرۃ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سوآء علینا اوعظت ام لم تکن من الوعظین۔ (الشعرائ) ان اللہ لا یھدی ال قوم الفسقین۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود تھا کہ وہ فاسق ہی مرے گا۔ آیت ہم نے سبب نزول کا ذکر کیا۔ ابن ابی نے کہا، جو لوگ حضرت محمد ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس سے بکھر جائیں گے (1) اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ زمین و آسمان کے خزانے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

9۔ ابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ من حولہ۔ منافقین کو قتل نہ کرنے کی حکمت 11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہیں۔ اگر تم ان پر خرچ نہ کروگے تو وہ بھاگ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیجرجن الاعز منہا الاذل۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات اس بڑے منافق نے کہی ان دو آدمیوں کے بارے میں جو آپس میں لڑ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[هُمُ الَّذِينَ يَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ ہی وہ ہیں جو کہتے ہیں ] [لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ : تم لوگ خرچ مت کرو ان پر جو ] [عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ : اللہ کے رسول کے پاس ہیں ] [حَتّٰى يَنْفَضُّوْا : یہاں تک کہ وہ لوگ منتشر ہوجائیں ] [وَللّٰهِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : حالانکہ اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے ] [وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ : اور لیکن منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منافقین کہتے تھے کہ اہل ایمان پر خرچ نہ کرو وہ مدینہ سے خود ہی چلے جائیں گے : اس کے بعد منافقین کا دوسرا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ﴿ هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا ﴾ (یہ وہ لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ مت کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ خود منتشر ہوجائیں) منافقین نے دوسری بیہودہ باتوں کی طرح یہ بھی بڑی جاہلانہ بات کہی انہوں نے اپنے کو رازق سمجھ لیا اور یہ سوچا کہ یہ مہاجرین کو کھانا نہیں دیں گے تو روٹی کی فکر انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ہٹادے گا (عموما جاہل دنیا دار اس طرح کی باتیں کہہ دیا کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔ (ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” ھم الذین “ تمہید کے بعد اصل مقصود کا بیان ہے اور یہ پہلا شکوی ہے۔ منافقین جن باتوں سے انکار کر رہے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہی ہیں بیشک انہوں ہی نے وہ باتیں کہی ہیں لیکن اب جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے ہی کہا تھا کہ جو لوگ پیغمبر (علیہ السلام) کے ارد گرد جمع ہوتے ہیں ہم ہی ان کو کھلاتے پلاتے ہیں اس لیے ان پر خرچ کرنا چھوڑ دو تاکہ وہ اس کے پاس سے منتشر ہوجائیں، انہیں یہاں کھانے پینے کو کچھ نہیں ملے گا، تو خود بخود اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ 10:۔ ” وللہ خزائن السموات “ جملہ معترضہ برائے ابطال قول منافقین۔ منافقین کا یہ خیال باطل ہے کہ اگر وہ خرچ نہ کریں گے تو مسلمان بھوکوں مرتے پیغمبر (علیہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–8

ربط آیات : اللہ منافقین کے فریب اور جھوٹ کی قلعی کھولی ہے اور ان کی بزدلی کا حال ذکر کیا ہے اور یہ کہ وہ جھوٹی قسمیں اٹھا کر بات کرتے ہیں اور پھر جھوٹی قسم اٹھا کر انکار کردیتے ہیں۔ بظاہر کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں اور اللہ کے رسول کو رسول جانتے ہیں ، مگر یہ بات ان کے دل میں نہیں ہوتی۔ اظہار ایمان کے بعد دل میں کفر کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دیے ہیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ ظاہری ڈیل ڈول اور شکل و صورت کے اعتبار سے بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن اندر سے اس طرح کھوکھلے ہیں جیسے کسی دیمک خوردہ لکڑی کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کردیا گیا ہو۔ یہ لوگ پرلے درجے کے بزدل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا۝ 0 ۭ وَلِلہِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَہُوْنَ۝ 7 نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–7

ترکیب : واذا قیل مجزوم لو قوعہ فی جواب الامر ای تعالوا لو وا جواب الشرط۔ وھم مستکبرون الجملہ حال من فاعل یعبدون ورایت لو کان من الرویۃ البصرۃ فیصدون حال والا فھو مفعول ثان حتی ینفضوا قراء الجمہور من الانفضاض وھو التفرق وقری ینفضوامن انفض القوم اذا اغنیت ازوادھم تفسیر : فرمایا تھا کہ اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس لوگوں کو اللہ کے رستہ جہاد ‘ ایمان ‘ اعمال صالحہ سے روکتے ہیں دلوں میں شبہ ڈالوا کر اور اسلام میں جھوٹے عیب و اتہام لگا کر اور جو ان کا یہ جرم کسی نے ظاہر کردیا تو قسمیں کھا کر سزا سے بچ گئے۔ یہ دستور کر رکھا ہے۔ لیکن ساء ما کانوا یعملون یہ بہت بڑی بات ہے۔ اب ان کے اس جرم کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَرَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا ط وَلِلّٰہِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لاَ یَفْقَھُوْنَ ۔ (المنافقون : 7) (یہی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ تم خرچ نہ کرو ان لوگوں پر جو اللہ کے رسول کے ساتھ ہیں تاکہ وہ منتشر ہوجائیں اور اللہ ہی کے ہیں آسمان و زمین کے خزانے، لیکن منافق سمجھتے نہیں۔ ) ان محرومین کا گھنائونا کردار اوپر کی آیت میں جن لوگوں پر پروردگار نے غضب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ چاہیں ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا۔ اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی ہرزہ سرائی۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر راستے میں ایک مقام پر صحابہ کرام ؓ نے پڑاؤ ڈالا تو کنویں سے پانی لیتے ہوئے ایک مہاجر اور انصار کے درمیان تکرار ہوگی۔ مہاجر نے انصار کو لات ماری اس بات کا عبداللہ بن ابی کو علم ہوا تو اس نے انصار کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمہارا ہی کیا دھرا ہے، جنہیں ان کی قوم نے اپنے شہر سے نکال دیا تم نے ان کو مدینہ میں ہر چیز مہیا کی اور آج وہ ہم پر سرداری کر رہے ہیں اگر ان سے نجات پانا چاہتے ہو تو ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کرو یہ لوگ بھوک سے تنگ آکر خود بھاگ جائیں گے۔ اس کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ جونہی ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَاتُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ (یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ) رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا (کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو۔ یہاں تک کہ وہ آپ ہی منتشر ہوجائیں) ینفضوا کا معنی منتشر و متفرق ہونا۔ وَلِلّٰہِ خَزَآ ئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ کے پاس آسمان و زمین کے خزانے ہیں) یعنی رزق اور تقسیم رزق اسی کے قبضہ میں ہے۔ وہی انکار ازق ہے۔ اگر اہل مدینہ ان پر خرچ کرنے سے انکار کردیں گے۔ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَایَفْقَھُوْنَ (لیکن یہ منافق سمجھتے نہیں) لیکن عبد اللہ بن ابی اور اس کے ہم مثل جاہل ہیں۔ وہ اس بات کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم لن یغفر اللہ لھم، ان اللہ لا یھدی القوم الفسقین “۔ ” لووارء وسھم “ یعنی وہ بار بار متواتر اعراض کرتے اور غرور سے سر پھیر لیتے ہیں۔ ” ورایتھم “ مسلمانوں نے منافقوں سے جو کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جائو تاکہ حضور ﷺ تمہارے لئے دعائے مغفرت کردیں۔ اس قول کے وقت جو لوگ حاضر تھے، یہ خطاب انہی سے ہے۔ ” یصدون “ یہ صدود سے مشتق ہے یعنی استغفار سے روگردانی کرتے ہیں۔ ” وھم مستکبرون “ یعنی عذر خواہی سے غرور کرتے ہیں۔ ” سوآء علیھم “ ابن المنذر نے بروایت عروہ و مجاہد و قتادہ رحمہم اللہ بیان کیا کہ جب آیات ” استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–8

5۔ 8۔ ان آیتوں کی تفسیر قصہ طلب ہے اور وہی قصہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ایک صحابی انصاری کا ایک صحابی مہاجر سے کچھ جھگڑا ہوگیا۔ یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کچھ روایتوں کے موافق تبوک کی لڑائی سے اور بعضی روایتوں کے موافق بنی مصطلق کی لڑائی کے سفر میں تھے اس جھگڑے کو سن کر عبد اللہ بن ابی منافق نے اپنے قبیلہ کے انصار لوگوں سے یہ کہا کہ ہمارے قبیلہ کے لوگوں کی طرف سے ان مہاجرین کی خبر گیری جو کچھ کی جاتی ہے وہ آئندہ بند کردی جائے تاکہ یہ مہاجر لوگ خرچ برچ سے تنگ ہو کر ہماری بستی سے چلے جائیں اور اس سفر سے مدینہ واپس پہنچنے کے بعد ان مہاجرین کو مدینہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ ان کی نبی اکرم اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انہوں نے صحابہ کرام کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ کی رضا کی طلب میں ان کی جلد بازی کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے (لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا ۭ ) تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ خود بخود بھاگ جائیں۔ کیونکہ ان کے زعم باطل کے مطابق اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–9

اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 ۔ منافقوں کے کافرانہ طرز فکر کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے منافقوں کا وہ کافرانہ طرز فکر کھل کر سامنے آجاتا ہے جس کو وہ اپنے نفاق کے پردے میں چھپائے ہوئے تھے، چناچہ یہ لوگ آپس میں کہتے تھے کہ اللہ کے رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا چھوڑ دو ، یہاں تک کہ یہ لوگ ان سے چھٹ جائیں اور تتر بتر ہو کر الگ ہوجائیں، چناچہ رئیس المنافقین ابن ابی بن سلول نے اسی سفر کے دوران جس کا ذکر اوپر آچکا ہے، انصار کو مہاجرین کے خلاف بھڑکانے کے لیے یہ زہر آلود فقرے کہے تھے کہ " سمن کلبک یاکلک " یعنی تم اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرو تاکہ وہ تم ہی کو کاٹ کھائے، خدا کی قسم اب ہم اگر لوٹ کر واپس مدینہ پہنچے تو ہم جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

منافق ان کے کارنامے اور انجام تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 1 یعنی رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑ دیں … یہ بات ان مردود و منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے ایک سفر میں مہاجرین کے بارے میں انصار کے چند لوگوں سے کہی تھی۔ مفصل روایت آگے آرہی ہے۔12 وہی سب کا رازق ہے اگر بالفرض مدینہ کے لوگ ان غریب مہاجرین کی خبر گیری نہ کریں گے تو وہ بھوکے نہ مرجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(63:7) ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع الفسقین (آیت 6، متذکرۃ الصدر) ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ یقولون : سلہ۔ یہی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں۔ لاتنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ یہ مقولہ ہے ان لوگوں کا جو اوپر مذکور ہوئے۔ لا تنفقوا فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر۔ مت خرچ کرو علی پر۔ اوپر۔ (ان کے لئے) من موصولہ ہے عند رسول اللہ اس کا صلہ عند نزدیک، قریب، پاس، منزلت میں قریب۔ یہاں اسم ظرف مکان مستعمل ہے مضاف ہے۔ رسول اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر عند کا مضاف الیہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو قدرومنزلت میں اللہ کے رسول کی قربت میں ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ حتی۔ حرف جر ہے انتہاء غایت کے لئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔ تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔ اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

شان رسالت مآب سے منافق حسد سے جل جاتے ہیں اور عاشق خوش ہوتے ہیں۔ (ف 1) شان نزول : امام بخاری (رح) وغیرہ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ مریسع سے فارغ ہوکرجب نبی ﷺ نے سرچاہ نزول فرمایا تو وہاں یہ واقعہ پیش آیا، کہ حضرت عمر کے اجیر جہجاہ غفاری اور ابن ابی کے حلیف سنان بن وبرجہنی کے درمیان جنگ ہوگئی جہجاہ نے مہاجرین اور سنان نے انصار کو پکارا۔ اس وقت ابن ابی منافق نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ بےہودہ باتیں بکیں اور یہ کہا کہ مدینہ طیبہ پہنچ کر ہم میں سے عزت والے ذلیلوں کو نکال دیں گے کیونکہ یہ بدبخت اپنے آپ کو بڑا معزز سمجھتا تھا اور مسلمانوں کو ذلیل جانتا تھا اور اپنی قوم سے کہنے لگا کہ تم انہیں کچھ خرچ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–7

[7] یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنی ہدایت سے نہیں نوازتا جو نافرمانی پر اصرار کئے جاتے ہیں۔ وہ ہدایت کی توفیق انہی کو دیا کرتا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–10

ف 1: یہ لوگ جب یہ محسوس کرتے ۔ کہ مسلمان ہر صبح کو اپنے اقتدار میں اضافہ کررہے ہیں ۔ اور ہر شام کو ہمارے اقبال کا آفتاب غرورب ہورہا ہے ۔ تو دل میں بہت زیادہ کڑھتے اور بھنا کر کہتے ۔ کہ اصل میں یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے ۔ اگر ہم ان کو جگہ نہ دیتے ۔ اور ان کی مالی امداد نہ کرتے ۔ تو یہ لوگ اس قوت نہ حاصل کرسکتے ۔ اور کہتے کہ دیکھو آئندہ مسلمانوں کی مالی مدد نہ کرو ۔ پھر ایک ایک کرکے یہ لوگ خود بخود اسلام کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں گے ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ جانتے کہ اس قوم کا تعلق اس خدا سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے خزائن کا تنہا مالک ہے ۔ وہ تمہاری مدد اور امانت کا پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) یہ لوگ وہوی تو ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ جو لوگ رسو ل اللہ ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ خود بخود پیغمبر کا ساتھ چھوڑ کر منتشر اور متفرق ہوجائیں حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آسمانوں کے اور زمین کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں لیکن یہ منافق اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 3۔ مطلب یہ کہ اگر وہ آپ کے پاس آتے بھی اور آپ ان کی ظاہری حالت کے اعتبار سے استغفار بھی فرماتے تب بھی ان کو کچھ نفع نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منافقین کی ایک سکیم جس کا ذکر انہوں نے اپنے ہم نوائوں اور سادہ لوح مسلمانوں سے کیا 7 ؎ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس طرح کی حرکتیں کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر اثر و رسوخ ہوتا ہے اور وہ لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور اکثر لوگ بھی ان کو سلام کرتے ہیں ، اس وقت جب رسول اللہ ﷺ خود ابھی اپنے صحابہ کرام ؓ میں موجود تھے اس کردار کے جو لوگ موجود تھے ان سب کا سردار اور مدینہ کار ئیس عبد اللہ بن ابی تھا اور اس کے ساتھی بھی تھے جو لوگوں کی طرح طرح سے ورغلانے کی بےکار سعی و کوشش کرتے تھے ۔ ہم ایک سے زیادہ بار عرض کرچکے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کو اسلام اور مسلمانوں سے عموماً اور رسول اللہ ﷺ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَ‌سُولِ اللَّـهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا (They are the ones who say, “ Do not spend on those who are with Allah’ s Messenger, so that they disperse…63:7). This verse points out to the foolish statement that Ibn Ubayy had made at the time of the dispute between Jahjah, the Emigrant, and Sinan, the Helper. Allah Ta’ ala has responded to it that these foolish people have presumed that the Emigrants need their donations and they are their sustainers, while all treasures of heavens and the earth belong to Allah. If He will, He can provide to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

13 This thing was reiterated in Surah At-Taubah, which was sent down three years after Surah Al-Mtutafiqun, cven in stronger words. In that Surah AIIah, while addressing the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) said this about the hypocrites: 'O Prophet (it will be aII the same) whether you beg forgiveness for them or not, for AIIah will not forgive them even if you beg forgiveness for them seventy times. This is because they have disbelieved in AIIah and His Messenger, and AIlah does not show guidance to the wrongdoers." (AtTaubah: 80) . A little further on in that Surah it was again…

Read the full tafseer →