Explained with ayahs 5–8
منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب
ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول کریم ﷺ تمہارے لئے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس بات کو حقارت کے ساتھ رد کردیتے ہیں، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب ان کے لئے بخشش کے دروازے بند ہیں نبی کا استغفار بھی انہیں کچھ نفع نہ دے گا، بھلا ان فاسقوں کی قسمت میں ہدیات کہاں ؟ سورة براۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت گذر چکی ہے اور وہیں اس کی تفسیر اور ساتھ ہی اس کے متعلق کی حدیثیں بھی باین کردی گئی ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الْمُنٰفِقُوْن 13
یہ بات سورة توبہ میں (جو سورة منافقون کے تین سال بعد نازل ہوئی ہے) اور زیادہ تاکید کے ساتھ فرما دی گئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے منافقین کے متعلق فرمایا کہ " تم چاہے ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر (70) مرتبہ بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کرو گے تو اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا " (التوبہ۔ آیت 80)۔ آگے چل کر پھر فرمایا " اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورت کا تر جمہ اور خلاصہ تفسیر اوپر لکھا جا چکا ہے، اب اس کے خاص خاص جملوں کو مزید توضیح دیکھئے۔ (آیت) وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ الاٰیة، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین جس کے معاملہ میں یہ سورت نازل ہوئی ہے جس میں اس کی قسموں کا جھوٹا ہونا واضح کردیا گیا تو لوگوں نے اس کو از راہ خیر خواہی یہ کہا کہ تجھے معلوم ہے کہ تیرے بارے میں قرآن میں کیا نازل ہوا ہے، اب بھی وقت نہیں گیا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجا (اور اعتراف جرم کرلے) تو رسول اللہ ﷺ تیرے لئے استغفار فرما دیں گے، اس نے جواب میں کہا کہ تم لوگوں نے مجھے کہا کہ ایمان لے آ میں نے ایمان اختیار…
Read the full tafseer →(سواء علیھم استغفرت لھم امر لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم ان اللہ لا یھدی القوم الفسقین) (6)۔
(گناہوں پر اصرار کرنے والوں کو اللہ مغفرت سے محروم کردیتا ہے)۔ ان کے اس غرور و اعراض کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خطاب کر کے ان کے بارے میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ تم ان کے لیے مغفرت مانگو یہ نہ مانگو، اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنی ہدایت سے نہیں نوازتا جو نافرمانی پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ ہدایت صرف انہی کو دیا کرتا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سورة نساء میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔
(وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ…
Read the full tafseer →6۔ 1 اپنے نفاق پر اصرار اور کفر پر قائم رہنے کی وجہ سے وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں استغفار اور عدم استغفار ان کے حق میں برابر ہے۔
6۔ 2 اگر اسی حالت میں نفاق میں مرگئے۔ ہاں اگر وہ زندگی میں کفر و نفاق سے تائب ہوجائیں تو بات اور ہے، پھر ان کی مغفرت ممکن ہے۔
Read the full tafseer →6: مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ لوگ اپنی منافقت سے توبہ کر کے صحیح معنی میں مسلمان نہیں ہوجاتے، اس وقت تک ان کی بخشش نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →سواء علیھم .................... الفسقین (36 : 6) ” اے نبی ! تم چاہے ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو ، ان کے لئے یکساں ہے ، اللہ ہرگز انہیں معاف نہ کرے گا ، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا “۔
ان کے فسق وفجور کی ایک جھلک ملاحظہ ہو ، جس کی وجہ سے اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا ہے کہ انہیں ہدایت نصیب نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
2 یعنی ممکن ہے آپ ﷺ غایت رحمت و شفقت سے ان کے لیے بحالت موجودہ معافی طلب کریں۔ مگر اللہ کسی صورت سے ان کو معاف کرنے والا نہیں، اور نہ ایسے نافرمانوں کو اس کے ہاں سے ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اس طرح کی آیت سورة " برأت " میں آچکی ہے۔ وہاں کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔
3 ایک سفر میں دو شخص لڑ پڑے ایک مہاجرین میں کا اور ایک انصار کا۔ دونوں نے اپنی حمایت کے لیے اپنی جماعت کو پکارا جس پر خاصا ہنگامہ ہوگیا۔ یہ خبر رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کو پہنچی کہنے لگا اگر ہم ان (مہاجرین) کو اپنے شہر میں جگہ نہ دیتے تو ہم سے مقابلہ کیوں کرتے تم ہی خبر گیری کرتے ہو تو یہ لوگ رسول کے ساتھ جمع رہتے ہیں، خبر گیری…
Read the full tafseer →آیت 6{ سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ } ”اے نبی ﷺ ! ان کے لیے برابر ہے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں۔“
{ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ } ”اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔“
یہی مضمون اس سے زیادہ سخت الفاظ میں سورة التوبہ میں بھی آچکا ہے۔ وہاں ان لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا : { اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْلاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْط اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْط } آیت 80 ”اے نبی ﷺ ! آپ خواہ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں۔ اگر آپ ستر ّمرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کریں…
Read the full tafseer →10 اس کی تشریح کے لیے سورة توبہ کی آیات نمبر 80 اور 84 کے حواشی دیکھ لیے جائیں جو اس موقعہ پر نازل ہوئی تھیں۔ جب عبداللہ بن ابی کی وفات واقع ہوئی تھی۔
11 اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں کہ ایک یہ کہ دعائے مغفرت بھی صرف ان لوگوں کے لئے ہی قبول اور مفید ہوسکتی ہے جو خود بھی ہدایت کے راستے پر چلنا چاہتے ہوں یا چل رہے ہوں، خواہ دعائے مغفرت کرنے والے خود اللہ کے رسول ہی کیوں نہ ہوں۔ دوسری یہ کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی کی روش اختیار کئے ہوئے ہوں انہیں اللہ زبردستی ہدایت کی راہ پر نہیں لایا کرتا۔
Read the full tafseer →8۔ (جو فسق عملی واعتقادی میں غرق ہوچکے ہیں، اور قبول حق وہدایت کا قصد ہی نہیں کرتے) قرآن مجید حق تعالیٰ کے اس قانون تکوینی کی تکراربار بار کرچکا ہے، تاکہ بندوں کو خوب اس کا استحضار رہے۔ (آیت) ” سوآء ...... لھم “۔ رسول تک کے استغفار کی شرط قبولیت وجود ایمان ہے۔ جو دل ایمان ہی سے خالی ہیں، ان کے لیے رسول اللہ ﷺ تک کا استغفار لاحاصل ہے، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اے ماداموا علی النفاق (مدارک) (آیت) ” استغفرت لھم “۔ یعنی آپ ﷺ بھی بہرحال بشر ہی ہیں، سید البشر اور کامل الفراست ہونے کے باوجود ممکن ہے کہ ان کے زبانی دعوے اور ظاہری بیان کا اعتبار کرلیں، جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اے الذی سبق ذکرھم وھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم لن یغفر اللہ لھم ان یھدی القوم الفاسقین
‘ اب آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں ‘ ان کے حق میں دونوں برابر ہیں ‘ اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ بیشک اللہ ایسے نافرمان لوگوں کو (ہدایت کی) توفیق نہیں دیتا۔ “
سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ..... ابن المنذر نے بروایت عروہ و مجاہد و قتادہ بیان کیا کہ جب آیت : اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْلاَ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہ لَھُمْ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ستّر سے زیادہ بار دعائے مغفرت کروں گا۔ اس پر آیت : سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ.... نازل ہوئی۔
ابن المنذر نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
یہ منافقین جب تک نفاق پر قائم رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا اور نفاق پر مرنے والوں کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرماتا۔
شان نزول : سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ (الخ)
ابن منذر نے عکرمہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور نیز عروہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت استغفرلھم اولا تستغفرلھم نازل ہوئی تو رسول اکرم نے فرمایا میں ستر مرتبہ سے زائد استغفار کروں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ۔
نیز مجاہد اور قتادہ سے بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ اور عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب سورة برات کی یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نے فرمایا کہ میں…
Read the full tafseer →سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ۔۔۔۔۔:”استغفرت“ اصل میں ”ء استغفرت“ ہے۔ ہمزۂ تسویہ آنے کے بعد ہمزۂ وصل کی ضرورت نہ رہی ، اس لیے وہ گرگیا۔ اس میں ہمزہ استفہام کا نہیں ہے ، بلکہ اسے ہمزہ ٔ تسویہ کہتے ہیں۔ (دیکھئے بقرہ : 6) آیت کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ توبہ (80) کی تفسیر۔ اس سے مقصود آپ ﷺ کی ان کے لیے معافی کی امید کو ختم کرنا ہے ، کیونکہ منافقون کی تمام شرارتوں اور بےادیبوں کے باوجود آپ ﷺ اپنی طبعی رحمت و شفقت کی بناء پر چاہتے تھے کہ ان کے لیے معافی کی دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے لیے معافی کی دعا سے منع فرما دیا ، کیونکہ ان کا فسق حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
سوآء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم یعنی یہ سب برابر ہے۔ آپ ﷺ کا استغفار کرنا کچھ نفع نہیں دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، سوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون (البقرۃ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سوآء علینا اوعظت ام لم تکن من الوعظین۔ (الشعرائ) ان اللہ لا یھدی ال قوم الفسقین۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود تھا کہ وہ فاسق ہی مرے گا۔
آیت
ہم نے سبب نزول کا ذکر کیا۔ ابن ابی نے کہا، جو لوگ حضرت محمد ﷺ کے پاس رہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس سے بکھر جائیں گے (1) اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ زمین و آسمان کے خزانے…
Read the full tafseer →7۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب سورة براءت کی یہ آیت نازل ہوئی آیت استغرلہم اولا تستغرلہم (التوبہ : 80) تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب کو سنا کہ اس بارے میں انہوں نے مجھے رخصت دی ہے اللہ کی قسم ! میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو مغفرت فرمادے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آتی سواء علیہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم۔ لن یغفر اللہ لہم۔ اب آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں ان کے حق میں دونوں برابر ہیں اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔
8۔ ابن مردویہ نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت استغرلہم اولاتستغفر لہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم۔…
Read the full tafseer →[سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ : برابر ہے ان پر ] [اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ : خواہ آپ استغفار کریں ان کے لیے ] [اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ : یا آپ استغفار نہ کریں ان کے لیے ] [لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ : ہرگز معاف نہیں کرے گا اللہ ان کے لیے (ان کے گناہوں کو)] [ان اللّٰهَ لَا يَهْدِي : بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا ] [الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والی قوم کو ]
Read the full tafseer →ان کی بےرخی کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ﴿ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ﴾ (ان کے حق میں برابر ہے کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں) آپ کا استغفار کرنا انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں) ۔
﴿لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ﴾ (اللہ تعالیٰ ہرگز کبھی ان کی بخشش نہیں فرمائے گا) کیونکہ کفر کی بخشش نہیں ہوسکتی اور یہ پہلے معلوم ہوگیا کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے مزید فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 006﴾ (بیشک اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔
(ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ…
Read the full tafseer →8:۔ ” سواء علیہم “ یہ منافقین، نفاق اور ضد وعناد کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں، اس لیے ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہے اور ان سے توبہ کرنے اور راہ راست پر آنے کی توفیق سلب کرلی گئی ہے، اس لیے آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں، اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے فساق و فجار کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا جو راہ راست پر نہ آنا چاہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ربط آیات :
اللہ منافقین کے فریب اور جھوٹ کی قلعی کھولی ہے اور ان کی بزدلی کا حال ذکر کیا ہے اور یہ کہ وہ جھوٹی قسمیں اٹھا کر بات کرتے ہیں اور پھر جھوٹی قسم اٹھا کر انکار کردیتے ہیں۔ بظاہر کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں اور اللہ کے رسول کو رسول جانتے ہیں ، مگر یہ بات ان کے دل میں نہیں ہوتی۔ اظہار ایمان کے بعد دل میں کفر کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دیے ہیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ ظاہری ڈیل ڈول اور شکل و صورت کے اعتبار سے بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن اندر سے اس طرح کھوکھلے ہیں جیسے کسی دیمک خوردہ لکڑی کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کردیا گیا ہو۔ یہ لوگ پرلے درجے کے بزدل…
Read the full tafseer →سَوَاۗءٌ عَلَيْہِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ 0 ۭ لَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 6
سواء
ومکان سُوىً ، وسَوَاءٌ: وسط . ويقال : سَوَاءٌ ، وسِوىً ، وسُوىً أي : يستوي طرفاه، ويستعمل ذلک وصفا وظرفا، وأصل ذلک مصدر، وقال :
فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] ، وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] ، فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] ، أي : عدل من الحکم، وکذا قوله : إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] ، وقوله : سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] ،
سَواءٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ترکیب : واذا قیل مجزوم لو قوعہ فی جواب الامر ای تعالوا لو وا جواب الشرط۔ وھم مستکبرون الجملہ حال من فاعل یعبدون ورایت لو کان من الرویۃ البصرۃ فیصدون حال والا فھو مفعول ثان حتی ینفضوا قراء الجمہور من الانفضاض وھو التفرق وقری ینفضوامن انفض القوم اذا اغنیت ازوادھم
تفسیر : فرمایا تھا کہ اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس لوگوں کو اللہ کے رستہ جہاد ‘ ایمان ‘ اعمال صالحہ سے روکتے ہیں دلوں میں شبہ ڈالوا کر اور اسلام میں جھوٹے عیب و اتہام لگا کر اور جو ان کا یہ جرم کسی نے ظاہر کردیا تو قسمیں کھا کر سزا سے بچ گئے۔ یہ دستور کر رکھا ہے۔ لیکن ساء ما کانوا یعملون یہ بہت بڑی بات ہے۔ اب ان کے اس جرم کے…
Read the full tafseer →سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ ط لَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (المنافقون : 6)
(یکساں ہے ان کے لیے آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا۔ )
منافقین کا طرزعمل ان کی محرومی کا باعث ہوا
منافقین نے جس غرور اور تکبر سے آنحضرت ﷺ کی بارگاہ میں آنے سے انکار کیا تھا اس کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے ان کے بارے میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ آپ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، اللہ تعالیٰ ان کو کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی ہٹ دھرمی کی انتہا۔
منافقت ایسا نقص اور عیب ہے کہ جو زیادہ دیرتک چھپ نہیں سکتا۔ جب مدینہ کے منافقین کی منافقت ظاہر ہوگی تو ان کے عزیز و اقرباء میں مخلص مسلمانوں نے انہیں سمجھایا کہ آئندہ اس حرکت سے توبہ کرو اور اپنی غلطیوں کی نبی محترم ﷺ سے معذرت کرلو۔ منافقین نے کھلے الفاظ میں کہا کہ ہمیں کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ایسے ہی موقع پر عبداللہ بن ابی کو مسلمانوں نے سمجھایا کہ آؤ اللہ کے رسول سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ﷺ تیرے لیے اللہ سے استغفار کریں۔ عبداللہ بن ابی نے بڑی نخوت کے ساتھ جواب دیا کہ تم لوگوں نے مجھے اس پر ایمان لانے کی دعوت دی، میں اس پر ایمان…
Read the full tafseer →6 : سَوَائٌ عَلَیْھِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْ (اب آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں۔ ان کے حق میں دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا) جب تک وہ نفاق پر مداومت اختیار کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے۔ استغفار اور عدم استغفار ان کے حق میں برابر ہے کیونکہ وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نہ ہی اس کو کوئی حیثیت دیتے ہیں۔ اس کا سبب کفر ہے۔ نمبر 2۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہ بخشیں گے اس لئے ان کے حق میں استغفار اور عدم استغفار برابر ہے۔
قراءت : استغفرت حرف استفہام کو حذف کرکے پڑھا گیا۔ کیونکہ ام جو دو میں سے ایک کیلئے آتا…
Read the full tafseer →5 ۔” واذ قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووارء وسھم ورایتھم یصدون وھم مستکبرون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
5۔ 8۔ ان آیتوں کی تفسیر قصہ طلب ہے اور وہی قصہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ایک صحابی انصاری کا ایک صحابی مہاجر سے کچھ جھگڑا ہوگیا۔ یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کچھ روایتوں کے موافق تبوک کی لڑائی سے اور بعضی روایتوں کے موافق بنی مصطلق کی لڑائی کے سفر میں تھے اس جھگڑے کو سن کر عبد اللہ بن ابی منافق نے اپنے قبیلہ کے انصار لوگوں سے یہ کہا کہ ہمارے قبیلہ کے لوگوں کی طرف سے ان مہاجرین کی خبر گیری جو کچھ کی جاتی ہے وہ آئندہ بند کردی جائے تاکہ یہ مہاجر لوگ خرچ برچ سے تنگ ہو کر ہماری بستی سے چلے جائیں اور اس سفر سے مدینہ واپس پہنچنے کے بعد ان مہاجرین کو مدینہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ ) جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے آؤ تاکہ رسول تمہارے ان گناہوں کے بارے میں تمہارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں تاکہ تمہارے احوال درست اور تمہارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ (لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ ) تو اپنے سرہلادیتے ہیں۔ رسول سے د عا طلب کرنے سے بچنے کے لیے ( وَرَاَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ ) اور آپ انہیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ( وَهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ ) اور وہ سرکشی، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔
جب رسول اللہ سے مغفرت کی دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں
قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…
Read the full tafseer →11 ۔ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے، علیھم الصلوۃ والسلام : سو اس سے یہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کیونکہ یہاں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ اے پیغمبر ان منافقوں کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، ان کے حق میں دونوں صورتیں برابر ہیں اور دوسری اس سے بھی زیادہ قطعیت اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش کی دعا کریں تب بھی اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا، چناچہ سورة توبہ میں ارشاد فرمایا گیا اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ۭ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
منافق ان کے کارنامے اور انجام
تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں…
Read the full tafseer →ف 10 اس سے مقصود آنحضرت کو تسکین دیتا ہے کیونکہ منافقوں کی تمام شرارتوں اور بےادبیوں کے باوجود آپ اپنی طبعی رحمت و شفقت کی بنا پر چاہتے تھے کہ ان کے لئے معافی کی دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے لئے دعا کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ان کی سرکشی حد سے بڑھ چکی تھی۔
Read the full tafseer →(63:6) سوائ۔ برابر ہے۔ اسم مصدر ۔ بمعنی استوائ۔ یعنی دونوں طرف سے بالکل برابر ہونے کے۔ نہ اس کا تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔
علامہ جلال الدین سیوطی (رح) اپنی تفسیر الاتقان میں لکھتے ہیں۔ جلد اول نوع 40 ۔
سواء بہ معنی مستوی (برابر) آتا ہے ۔ لہٰذا کسرہ کے ساتھ قصر اور فتحہ کے ہمراہ مد کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ قصر کی مثال :۔ قولہ تعالیٰ مکانا سوی۔ (20:58) جگہ برابر یعنی صاف اور ہموار۔ سوی۔ سین کے کسرہ کے ساتھ ۔ ابو جعفر۔ نافع ابن کثیر۔ ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ باقی قراء نے اسے سوی سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے) ۔ اور مد کی مثال ہے قولہ تعالیٰ سواء علیہمء انذرتھم ام لم تنذرھم (2:6) انہیں تم نصیحت کرو یا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔
تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔
اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
شان رسالت مآب سے منافق حسد سے جل جاتے ہیں اور عاشق خوش ہوتے ہیں۔
(ف 1) شان نزول : امام بخاری (رح) وغیرہ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ مریسع سے فارغ ہوکرجب نبی ﷺ نے سرچاہ نزول فرمایا تو وہاں یہ واقعہ پیش آیا، کہ حضرت عمر کے اجیر جہجاہ غفاری اور ابن ابی کے حلیف سنان بن وبرجہنی کے درمیان جنگ ہوگئی جہجاہ نے مہاجرین اور سنان نے انصار کو پکارا۔ اس وقت ابن ابی منافق نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ بےہودہ باتیں بکیں اور یہ کہا کہ مدینہ طیبہ پہنچ کر ہم میں سے عزت والے ذلیلوں کو نکال دیں گے کیونکہ یہ بدبخت اپنے آپ کو بڑا معزز سمجھتا تھا اور مسلمانوں کو ذلیل جانتا تھا اور اپنی قوم سے کہنے لگا کہ تم انہیں کچھ خرچ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
[7] یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنی ہدایت سے نہیں نوازتا جو نافرمانی پر اصرار کئے جاتے ہیں۔ وہ ہدایت کی توفیق انہی کو دیا کرتا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 1: منافقین کی بدبختی اور شقاوت کی ھدیہ ہے ۔ کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کم بختو ! حضور ﷺ طبیعت کے بہت نرم ہیں ۔ اور دل سے چاہتے ہیں کہ تم لوگ تائب ہوجاؤ۔ اور زمرۃ منافقین سے نکل آؤ۔ وہ تمہارے لئے بخشش کی دعا کرینگے ۔ تم آؤ اور دربار نبوی سے نجات کا پروانہ حاصل کرلو ۔ مگر یہ لوگ بکمال مروی اور نخوت منہ پھیر کر اغراض کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ لوگ جب تک منافق رہیں گے ۔ ان کی بخشش نہیں ہوسکتی ۔ آپ کا تجسس کا مانگنا یا نہ مانگنا برابر ہے ۔ کیونکہ ان کے دلوں میں فسق وفجور کی خباثت موجود ہونے کی وجہ سے ان کو علام غیوب خدا نے حضور ﷺ رحمتہ للعالمین کو ان کے ایمان لانے سے ناامید…
Read the full tafseer →(6) اے پیغمبر ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں یا مغفرت نہ طلب کریں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہ فرمائے گا اور ہرگز ان کو نہ بخشے گا بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا اور ایسے بےحکموں کو ہدایت کی توفیق عطا نہیں فرماتا۔
سورہ برات میں گزر چکا ہے کہ اگر آپ ستر بار بھی استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف نہیں کرے گا اس موقعہ پر منقول ہے کہ آپ ﷺ نے بعض صحابہ ؓ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ستر بار فرمایا ہے میں ستر بار سیزیادہ استغفار کی دعا کروں گا شاید پھر قبول ہوجائیگی۔
سورہ منافقون میں فرمایا استغفار کرنا یا نہ کرنا ان کے حق میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 3۔ مطلب یہ کہ اگر وہ آپ کے پاس آتے بھی اور آپ ان کی ظاہری حالت کے اعتبار سے استغفار بھی فرماتے تب بھی ان کو کچھ نفع نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →آپ ان کے لیے بخشش طلب کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کو معاف نہیں کرے گا
6 ؎ ایسے لوگوں کو جب کتاب و سنت کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو سر پھیر دیتے ہیں اور غیر اللہ کی بات آتی ہے تو ان کے دل باغ باغ ہوجاتے ہیں ۔ حقیقی نیکی کی طرف جب ان کو دعوت دی جاتی ہے تو ایک قدم دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اختراعی اور بناوٹی طریقوں کی طرف چلنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں ۔ ان کی حالت کے پیش نظر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے حق میں یہ بات برابر ہے کہ آپ ﷺ ان کے لیے بخشش و مغفرت طلب کریں یا نہ کریں جب اللہ نے اپنے قانون میں یہ طے کردیا ہے کہ ان کو اور ان جیسے کردار کے سارے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
Let us now study some specific sentences of the Surah:
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ (And when it is said to them, “ Come on, and Allah’ s Messenger will pray for your forgiveness”…63:5). When this Surah exposed the false oaths of ‘Abdullah Ibn Ubayy, the leader of the hypocrites, people went up to him to advise him to approach the Holy Prophet ﷺ and admit his guilt. They said that he has still time to request the Holy Prophet ﷺ to pray to Allah to forgive him. To this, the responded by turning his head around and saying arrogantly. “ I believed when…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
13 This thing was reiterated in Surah At-Taubah, which was sent down three years after Surah Al-Mtutafiqun, cven in stronger words. In that Surah AIIah, while addressing the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) said this about the hypocrites: 'O Prophet (it will be aII the same) whether you beg forgiveness for them or not, for AIIah will not forgive them even if you beg forgiveness for them seventy times. This is because they have disbelieved in AIIah and His Messenger, and AIlah does not show guidance to the wrongdoers." (AtTaubah: 80) . A little further on in that Surah it was again…
Read the full tafseer →