Explained with ayahs 5–8
منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب
ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول کریم ﷺ تمہارے لئے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس بات کو حقارت کے ساتھ رد کردیتے ہیں، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب ان کے لئے بخشش کے دروازے بند ہیں نبی کا استغفار بھی انہیں کچھ نفع نہ دے گا، بھلا ان فاسقوں کی قسمت میں ہدیات کہاں ؟ سورة براۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت گذر چکی ہے اور وہیں اس کی تفسیر اور ساتھ ہی اس کے متعلق کی حدیثیں بھی باین کردی گئی ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے…
Read the full tafseer →سورة الْمُنٰفِقُوْن 12
یعنی صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس استغفار کے لیے آئیں، بلکہ یہ بات سن کر غرور اور تمکنت کے ساتھ سر کو جھٹکا دیتے ہیں اور رسول کے پاس آنے اور معافی طلب کرنے کو اپنی توہین سمجھ کر اپنی جگہ جمے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ ان کے مومن نہ ہونے کی کھلی علامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورت کا تر جمہ اور خلاصہ تفسیر اوپر لکھا جا چکا ہے، اب اس کے خاص خاص جملوں کو مزید توضیح دیکھئے۔ (آیت) وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ الاٰیة، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین جس کے معاملہ میں یہ سورت نازل ہوئی ہے جس میں اس کی قسموں کا جھوٹا ہونا واضح کردیا گیا تو لوگوں نے اس کو از راہ خیر خواہی یہ کہا کہ تجھے معلوم ہے کہ تیرے بارے میں قرآن میں کیا نازل ہوا ہے، اب بھی وقت نہیں گیا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجا (اور اعتراف جرم کرلے) تو رسول اللہ ﷺ تیرے لئے استغفار فرما دیں گے، اس نے جواب میں کہا کہ تم لوگوں نے مجھے کہا کہ ایمان لے آ میں نے ایمان اختیار…
Read the full tafseer →(واذا قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووارء وسھم ورایتھم یصدون و ھم مستلبرون) (5)۔
(جھوٹی عزت نفس)۔ یہ وہی بات ذرا مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے جو سورة ٔ بقرہ کی مندرجہ بالا آیت میں (واذا فیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزیز بالا ثم) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کے نوٹس میں آنے کے بعد جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کرو تاکہ حضور ﷺ تمہارے لیے استغفار کریں اور آپ ﷺ کا استغفار اللہ کے ہاں تمہارے لیے سفارش بنے تو اکڑتے اور اپنے سر مٹکاتے ہیں اور نہایت غرور کے ساتھ اس سے اعراض کرتے ہیں۔
ان کے سفر وارنہ اعراض کا اظہار ان کا جوارح سے…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی استغفار سے اعراض کرتے ہوئے اپنے سروں کو موڑ لیتے ہیں۔
5۔ 2 یعنی کہنے والے کی بات سے منہ موڑ لیں گے یارسول اللہ ﷺ سے اعراض کرلیں گے۔
Read the full tafseer →5: قرآن کریم نے جو لفظ استعمال فرمایا ہے، اس کا ترجمہ سر کا موڑنا بھی ہوسکتا ہے، اور ہلانا بھی۔ حضرت شیخ الہند نے شاید اسی لیے اس کا ترجمہ مٹکانے سے کیا ہے جس میں ایک مکاری کا تصور پنہاں ہے، اور جو ان کی کیفیت کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →سلف صالحین میں بیشمار لوگوں کی رائے یہ ہے کہ یہ آیات عبدالہل ابن ابی ابن سلول کے بارے میں ہیں۔ علامہ ابن اسحاق نے غزوہ بنی الصطلق کے ذیل میں اس کی تفصیلات دی ہیں۔ یہ کو اقعہ بنی المصطلق کے پانی کے چشمے المریسیع پر سن 6 ہجری میں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پانی پر نزول فرمایا تھا ، غزوہ کے واقعات کے بعد واقعہ یوں ہوا کہ لوگ پانی بھرنے کے لئے اس پانی پر جمع ہوگئے۔ حضرت عمر ؓ کے ساتھ ایک شخص ملازم تھا جو بنی غفار قبیلے کا تھا اور اس کا نام جبجا ابن مسعود تھا۔ یہ آپ کے گھوڑے کو چلاتا تھا۔ یہ جبجا اور ایک دوسرے شخص سنان ابن وبر الجہنی بنی عون ابن الخزرج کا حلیف ایک دوسرے سے آگے ہونے کی وجہ سے پانی پر…
Read the full tafseer →1 بعض دفعہ جب ان منافقوں کی کوئی شرارت صاف طور پر کھل جاتی اور کذب و خیانت کا پردہ فاش ہوجاتا تو لوگ کہتے کہ (اب بھی وقت نہیں گیا) آؤ ! رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے اپنا قصور معاف کرا لو۔ حضور ﷺ کے استغفار کی برکت سے حق تعالیٰ تمہاری خطا معاف فرما دے گا۔ تو غرور وتکبر سے اس پر آمادہ نہ ہوتے اور بےپروائی سے گردن ہلا کر اور سر مٹکا کر رہ جاتے۔ بلکہ بعض بدبخت صاف کہہ دیتے کہ ہم کو رسول اللہ کے استغفار کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 5 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَــکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اپنی غلطی مان لو تاکہ اللہ کے رسول ﷺ تمہارے لیے استغفار کریں“
ظاہر ہے ان کے دلوں میں تو نبی اکرم ﷺ کے خلاف بغض اور عناد پیدا ہوچکا تھا تو ان حالات میں وہ کیسے آتے اور کیونکر اپنی غلطی تسلیم کرتے ؟
{ لَوَّوْا رُئُ وْسَہُمْ } ”تو وہ اپنے سروں کو مٹکاتے ہیں“
کہ ہاں ہاں ! ٹھیک ہے ہم آئیں گے ‘ ضرور آئیں گے۔
{ وَرَاَیْتَہُمْ یَصُدُّوْنَ وَہُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ۔ } ”اور آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ رک جاتے ہیں تکبر کرتے ہوئے۔“
ان کے دلوں میں چونکہ تکبر ہے ‘ اس لیے وہ آپ ﷺ کے پاس آکر معافی…
Read the full tafseer →9 ویسے تو سب منافقوں کا یہی حال تھا۔ مگر ان کا سردار عبداللہ بن ابی اس بات میں بھی ان کا سردار تھا۔ جب بھی ان کی کوئی سازش یا ناشائستہ حرکت یا راز کی بات پکڑی جاتی تو مسلمان ان سے کہتے کہ : چلو، چل کر رسول اللہ سے معافی مانگ لو۔ وہ آپ کو خود بھی معاف کردیں گے اور اللہ سے بھی تمہاری مغفرت کی دعا کریں گے۔ ایسے ہی ایک موقعہ پر عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو یہ جواب دیا کہ تم نے مجھے ایمان لانے کو کہا تو میں ایمان لے آیا۔ تم نے نمازیں ادا کرنے کو کہا تو وہ بھی میں نے ادا کیں۔ تم نے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کو کہا تو وہ بھی میں نے ادا کی۔ اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں محمد کو سجدہ کروں ؟ اس کا کبرونخوت…
Read the full tafseer →7۔ حاصل یہ کہ نفاق کے ساتھ ساتھ مرض رعونت وخودبینی میں بھی یہ لوگ مبتلا تھے، اور اسی لیے نہ کسی قسم کی معذرت کی ضرورت سمجھتے تھے نہ توبہ و استغفار کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →واذا قیل لھم تعالوا یستغفر لکم رسول اللہ لو وارء وسھم ورایتھم یصدون وھم مستکبر
’ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس) آؤتمہارے لیے رسول اللہ ﷺ استغفار کریں تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ (اس ناصح اور استغفار کرنے والے سے) تکبّر کرتے ہوئے بےرخی کرتے ہیں
لَوَّوْارُءُ وْسَھُمْ : یعنی وہ بار بار متواتر اعراض کرتے اور غرور سے سر پھیر لیتے ہیں (گردنیں نیوڑا لیتے ہیں) ۔
وَرَاَیْتَھُمْ : مسلمانوں نے منافقوں سے جو کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤ تاکہ حضور ﷺ تمہارے لیے دعائے مغفرت کردیں۔ اس قول کے وقت جو لوگ حاضر تھے ‘ یہ خطاب انہی سے ہے۔
یَصُدُّوْنَ : یہ…
Read the full tafseer →اور جب ان سے ان کے خاندان والے ان کے رسوا ہونے کے بعد کہتے ہیں کہ رسول اکرم کے پاس جاؤ اور کفر و نفاق سے توبہ کرو تو وہ اپنے سر جھکا لیتے اور منہ پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو توبہ و استغفار اور آپ کی خدمت میں حاضری سے بےرخی کرتا ہوا دیکھیں گے۔
شان نزول : وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا (الخ)
ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن ابی سے کہا گیا کہ تو رسول اکرم کے پاس جا حضور تیرے لیے استغفار کردیں گے تو وہ اپنا سر مٹکانے لگا تو اس کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →1۔ وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَکُمْ۔۔۔۔۔:”لووا“ ”لوی یلوی لیا“ (ض) (پھیرنا) سے باب تفعیل ہے ، جس سے سر پھیرنے میں مبالغہ یا اس کا تکرار مقصود ہے۔ آیت (7) میں اس کا سبب نزول آرہا ہے۔
2۔ وْا رُئُ وْسَہُمْ وَرَاَیْتَہُمْ یَصُدُّوْنَ وَہُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ :”صد یصد صدا و صدودا“ (ن) ”صدا“ (متعدی) روکنا اور ”وصدودا“ (لازم) اعراض کرنا ، منہ پھیرلینا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر معذرت کرلینے کی ترغیب پر تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیں گے۔
Read the full tafseer →واذا قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ جب قرآن ان کی صفت کے بارے میں نازل ہوا ان کے قبیلہ کے لوگ ان کے پاس گئے انہوں نے کہا، تم نفاق کی وجہ سے ذلیل و رسوا ہوگئے۔ نفاق سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور یہ عرض کرو کہ وہ تمہاری بخشش فرمائے تو انہوں نے اپنے سروں کو جھٹک دیا یعنی انہوں نے استہزاء کے انداز میں اور انکار کرتے ہوئے اسے حرکت دی، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر سبب میں عبداللہ بن ابی کا ایسا موقف تھا جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی طاعت پر برانگیختہ کرتا۔ اسے کہا گیا، یہ چیز تجھے کیا نفع دے گی جبکہ رسول اللہ ﷺ تجھ پر ناراض ہیں۔ آپ کی خدمت میں…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں جب کسی منزل پر اترتے تو اس جگہ سے روانہ نہ ہوتے ج تک اس میں نماز نہ پڑھتے۔ جب غزوہ تبوک ہوا تو آپ نے ایک مقام پر قیام فرمایا عبداللہ بن ابی منافق نے کہا گر ہم مدینہ طیبہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ہم عزت والے وہاں سے ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ وہاں سے روانہ ہوئے اور نماز نہیں پڑھی۔ صحابہ ؓ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ابن ابی کا واقعہ بیان فرمایا پھر قرآن بھی اس بارے میں نازل ہوا آیت اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ واللہ یعلم انک لرسولہ۔ پھر عبداللہ بن ابی، نبی…
Read the full tafseer →[وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ : اور جب بھی کہا جاتا ہے ان سے ] [تَعَالَوْا : تم لوگ آئو ] [يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ : تو مغفرت مانگیں گے تمہارے لیے ] [رَسُوْلُ اللّٰهِ : اللہ کے رسول ] [لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ : تو وہ لوگ مٹکاتے ہیں اپنے سروں کو ] [وَرَاَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ : اور آپ دیکھتے ہیں ان کو رکتے ہوئے ] [وَهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ : اس حال میں کہ وہ بڑائی چاہنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →﴿ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا ﴾ (الآیۃ) معالم التنزیل صفحہ 350: جلد 4 میں لکھا ہے کہ جب عبداللہ بن ابی منافق کے بارے میں آیت قرآنیہ نازل ہوگئی جس سے اس کا جھوٹا ہونا اور حضرت زید بن ارقم کا سچا ہونا، ثابت ہوگیا تو اس سے کسی نے کہا کہ دیکھ تیرے بارے میں کیسی سخت بات نازل ہوئی ہے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا کہ وہ تیرے لئے اللہ سے دعا کریں اس پر اس نے انکار کرتے ہوئے اپنے سر کو حرکت دی اور کہنے لگا کہ تم لوگوں نے مجھ سے ایمان لانے کو کہا تو میں ایمان لے آیا تم لوگوں نے زکوٰۃ دینے کے لئے کہا تو میں نے زکوٰۃ بھی دی۔ اب اتنی سی بات رہ گئی ہے کہ رسول اللہ کو سجدہ کرلوں، اس پر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔
(ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ…
Read the full tafseer →ٖف 7:۔ ” واذا قیل لہم “ یہ بھی منافقین پر زجر ہے۔ جب منافقین کی تکذیب نازل ہوئی تو تمام مسلمانوں نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو ملامت کی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کرنے کا مشورہ دیا، خود رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلا بھیجا تاکہ وہ سچے دل سے ایمان لے آئیں اور نفاق سے توبہ کرلیں تو آپ ان کے لیے اللہ سے استغفار کریں اور ان کے لیے معافی کی درخواست کریں تو انہوں نے کمال بےاعتنائی سے کبر و غرور کے ساتھ اس سے اعراض کیا اور خدمت عالیہ میں حاضر ہونے سے انکار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ربط آیات :
اللہ منافقین کے فریب اور جھوٹ کی قلعی کھولی ہے اور ان کی بزدلی کا حال ذکر کیا ہے اور یہ کہ وہ جھوٹی قسمیں اٹھا کر بات کرتے ہیں اور پھر جھوٹی قسم اٹھا کر انکار کردیتے ہیں۔ بظاہر کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں اور اللہ کے رسول کو رسول جانتے ہیں ، مگر یہ بات ان کے دل میں نہیں ہوتی۔ اظہار ایمان کے بعد دل میں کفر کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دیے ہیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ ظاہری ڈیل ڈول اور شکل و صورت کے اعتبار سے بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن اندر سے اس طرح کھوکھلے ہیں جیسے کسی دیمک خوردہ لکڑی کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کردیا گیا ہو۔ یہ لوگ پرلے درجے کے بزدل…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللہِ لَوَّوْا رُءُوْسَہُمْ وَرَاَيْتَہُمْ يَصُدُّوْنَ وَہُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ 5
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ترکیب : واذا قیل مجزوم لو قوعہ فی جواب الامر ای تعالوا لو وا جواب الشرط۔ وھم مستکبرون الجملہ حال من فاعل یعبدون ورایت لو کان من الرویۃ البصرۃ فیصدون حال والا فھو مفعول ثان حتی ینفضوا قراء الجمہور من الانفضاض وھو التفرق وقری ینفضوامن انفض القوم اذا اغنیت ازوادھم
تفسیر : فرمایا تھا کہ اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس لوگوں کو اللہ کے رستہ جہاد ‘ ایمان ‘ اعمال صالحہ سے روکتے ہیں دلوں میں شبہ ڈالوا کر اور اسلام میں جھوٹے عیب و اتہام لگا کر اور جو ان کا یہ جرم کسی نے ظاہر کردیا تو قسمیں کھا کر سزا سے بچ گئے۔ یہ دستور کر رکھا ہے۔ لیکن ساء ما کانوا یعملون یہ بہت بڑی بات ہے۔ اب ان کے اس جرم کے…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْلَـکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَوَّوْا رُئُ وْسَہُمْ وَرَاَیْتَھُمْ یَصْدُّوْنَ وَھُمْ مُّسْتَـکْبِرُوْنَ ۔ (المنافقون : 5)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت طلب کرے تو وہ اپنے سر جھٹکتے ہیں، اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ حاضری سے رک رہے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کررہے ہیں۔ )
منافقین کی بدنصیبی
منافقین کی بدنصیبی کا حال یہ ہے کہ جب ان کے نفاق کا پردہ مختلف واقعات نے چاک کر ڈالا، بالخصوص غزوہ بنو مصطلق میں پیش آنے والے واقعہ نے جس طرح ان کے خبث باطن کو نمایاں کیا کہ تنگ آکر بعض اصحابِ کبار نے آنحضرت ﷺ کو مشورہ دیا کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی ہٹ دھرمی کی انتہا۔
منافقت ایسا نقص اور عیب ہے کہ جو زیادہ دیرتک چھپ نہیں سکتا۔ جب مدینہ کے منافقین کی منافقت ظاہر ہوگی تو ان کے عزیز و اقرباء میں مخلص مسلمانوں نے انہیں سمجھایا کہ آئندہ اس حرکت سے توبہ کرو اور اپنی غلطیوں کی نبی محترم ﷺ سے معذرت کرلو۔ منافقین نے کھلے الفاظ میں کہا کہ ہمیں کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ایسے ہی موقع پر عبداللہ بن ابی کو مسلمانوں نے سمجھایا کہ آؤ اللہ کے رسول سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ﷺ تیرے لیے اللہ سے استغفار کریں۔ عبداللہ بن ابی نے بڑی نخوت کے ساتھ جواب دیا کہ تم لوگوں نے مجھے اس پر ایمان لانے کی دعوت دی، میں اس پر ایمان…
Read the full tafseer →5 : وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْلَکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَوَّوْا رُئُ وْ سَھُمْ (جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئو۔ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ استغفار کریں تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں) ان کو موڑتے اور اس سے اعراض کرتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے ان کو مائل کرتے ہیں۔
قراءت : نافع نے لَوَؤا تخفیف سے پڑھا ہے۔
غزوئہ بنو مصطلق اور منافقین کی بدزبانی :
وَرَاَیْتَھُمْ یَصُدُّوْنَ (اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ بےرخی کرتے ہیں) اعراض کرتے ہیں۔ وَھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ (تکبر کرتے ہوئے) معذرت اور استغفار سے۔ روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب بنو مصطلق کو مریسیع کے مقام پر جالیا۔ (یہ…
Read the full tafseer →4 ۔” واذا رایتھم تعجبک اجسامھم وان یقولوا تسمع لقولھم کانھم خشب مسندۃ “ ” اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدوقامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور اگر وہ بات کہیں تو آپ ان کی بات سن لیں گے گویا وہ لکڑیاں ہیں جو (دیوار کے سہارے لگائی ہوئی) کھڑی ہیں “۔
” تعجبک “ یعنی قد آور ہیں ، رنگ شگفتہ ہیں، دیکھنے میں خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔ ” وان یقولوا “ اور اگر وہ کچھ بات کریں تو آپ ان کی بات سنیں یعنی سچی جانیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ابن ابی قدآور اور فصیح اللسان تھا۔ جب وہ بات کرتا تھا تو رسول اللہ ﷺ اس کی بات سنتے تھے۔ ” کانھم خشب مسندۃ “ حالانکہ وہ دیوار کے سہارے سے کھڑی ہوئی لکڑیاں ہیں، علم و معرفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
5۔ 8۔ ان آیتوں کی تفسیر قصہ طلب ہے اور وہی قصہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ایک صحابی انصاری کا ایک صحابی مہاجر سے کچھ جھگڑا ہوگیا۔ یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کچھ روایتوں کے موافق تبوک کی لڑائی سے اور بعضی روایتوں کے موافق بنی مصطلق کی لڑائی کے سفر میں تھے اس جھگڑے کو سن کر عبد اللہ بن ابی منافق نے اپنے قبیلہ کے انصار لوگوں سے یہ کہا کہ ہمارے قبیلہ کے لوگوں کی طرف سے ان مہاجرین کی خبر گیری جو کچھ کی جاتی ہے وہ آئندہ بند کردی جائے تاکہ یہ مہاجر لوگ خرچ برچ سے تنگ ہو کر ہماری بستی سے چلے جائیں اور اس سفر سے مدینہ واپس پہنچنے کے بعد ان مہاجرین کو مدینہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ ) جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے آؤ تاکہ رسول تمہارے ان گناہوں کے بارے میں تمہارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں تاکہ تمہارے احوال درست اور تمہارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ (لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ ) تو اپنے سرہلادیتے ہیں۔ رسول سے د عا طلب کرنے سے بچنے کے لیے ( وَرَاَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ ) اور آپ انہیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ( وَهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ ) اور وہ سرکشی، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔
جب رسول اللہ سے مغفرت کی دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں
قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…
Read the full tafseer →10 ۔ نفاق و استکبار باعث محرومی و ہلاکت، والعیاذ باللہ العظیم : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نفاق و استکبار محرومیوں کی محرومی اور فساد کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللہ۔ روایات میں وارد ہے کہ جب غزوی مریسیع کے سفر کے اس واقعہ کے بعد جو ان آیات کا شان نزول ہے جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئی تو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول سے اس کے کچھ ملنے والوں نے کہا کہ تمہارے بارے میں بڑی سخت آیتیں نازل ہوئی ہیں اس لیے تم چل کر رسول اللہ ﷺ سے معافی مانگو، تو اس نے اپنے مخصوص متکبرانہ اور منافقانہ انداز میں کہا کہ تم لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اس پر اور اس کے دین پر ایمان لے آؤں، تو میں ایمان لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
منافق ان کے کارنامے اور انجام
تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی جب ان کی دغا بازی کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے اور کوئی سچا مسلمان ان سے کہتا ہے کہ اب تو ان حرکتوں سے باز آجائو اور آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی مانگ لو
Read the full tafseer →(63:5) واذا۔ واؤ عاطفہ ہے اذا طرف زمان (شرطیہ) جب۔
تعالوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تعالیٰ (تفاعل) مصدریہ ۔ تعال کے اصل معنی ہیں کسی کو بلند جگہ کی طرف بلانا۔ پھر عام بلانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تم آؤ۔ ع ل ی ، ع ل و مادہ کے حروف ہیں۔ واذا قیل لہم تعالوا جملہ شرط ہے۔
یستغفر۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر ای تعالوا واحد مذکر غائب استغفار (استفعال) مصدریہ۔ یہ معافی مانگیں گے (یعنی رسول اللہ ﷺ ) ۔ یہ امر تعالوا کے جواب میں ہے۔ یعنی آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لئے مغفرت طلب فرمائے۔
لووا ماضی جمع مذکر غائب تلویۃ (تفعیل) مصدر۔ ل ی ی مادہ۔ وہ نیوڑاتے ہیں۔ گھماتے ہیں۔ لہراتے ہیں۔ اکڑاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔
تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔
اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
شان رسالت مآب سے منافق حسد سے جل جاتے ہیں اور عاشق خوش ہوتے ہیں۔
(ف 1) شان نزول : امام بخاری (رح) وغیرہ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ مریسع سے فارغ ہوکرجب نبی ﷺ نے سرچاہ نزول فرمایا تو وہاں یہ واقعہ پیش آیا، کہ حضرت عمر کے اجیر جہجاہ غفاری اور ابن ابی کے حلیف سنان بن وبرجہنی کے درمیان جنگ ہوگئی جہجاہ نے مہاجرین اور سنان نے انصار کو پکارا۔ اس وقت ابن ابی منافق نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ بےہودہ باتیں بکیں اور یہ کہا کہ مدینہ طیبہ پہنچ کر ہم میں سے عزت والے ذلیلوں کو نکال دیں گے کیونکہ یہ بدبخت اپنے آپ کو بڑا معزز سمجھتا تھا اور مسلمانوں کو ذلیل جانتا تھا اور اپنی قوم سے کہنے لگا کہ تم انہیں کچھ خرچ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[4] یعنی بالکل ناکارہ ہیں۔ کیونکہ لکڑی بھی اگر کوئی فائدہ دیتی ہے تو اس وقت جب وہ استعمال ہو رہی ہو۔ دیوار سے لگا کر کندے کی شکل میں جو لکڑی رکھ دی گئی ہو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
[5] یعنی اپنی بےایمانیوں کی وجہ سے ہر وقت ان کے دل میں دغدغہ لگا رہتا کہ دیکھئے کہیں ہماری دغا بازیوں کا پردہ تو چاک نہیں ہوگیا۔ ذرا کہیں شوروغل ہو تو ان کا دل دہل جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی پر کوئی افتاد پڑی۔
[6] یہ نہیں بتایا کہ دین حق سے پھر انے والا کون ہے۔ اس کی تصریح نہ کرنے سے خودبخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کی اس الٹی چال کا کوئی ایک محرک نہیں بلکہ بہت سے محرکات ہیں۔ اپنے نفس کے اغراض ہیں، بیوی بچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
منافقین بزدل ہیں
2: قرآن حکیم نے منافقین کے اسرار واحوال کئی مقامات پر واشگاف اور پر بیان کئے ہیں ۔ تاکہ ان کو معلوم ہو ۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی واقعہ اور کوئی سازش پوشیدہ نہیں ۔ وہ ہر حرکت کو جانتا ہے ۔ اور ہر شرارت سے آگاہ ہے ۔ اس کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔ اس صورت میں بالخصوص ان کے افعال کی مذمت کی ۔ اور بتایا ۔ کہ ان کو دیکھوں تو بظاہر بھلے چنگے معلوم ہوتے ہیں ۔ شکل وشباہت سے وجہات ٹپکتی ہے ۔ معقول آدمی دکھائی دیتے ہیں ۔
مگر قلب و دماغ کی یہ کیفیت ہے ۔ کہ بالکل بیکار ہیں ۔ جس طرح غیر ضروری لکڑیاں دیوار کے سہارے کھڑی کردی جاتی ہیں ۔ اسی طرح یہ لوگ بالکل مہمل ہیں ۔ ان سے فائدہ کی توقع فضول…
Read the full tafseer →(5) اور جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ آئو اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کرو تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لئے استغفار کرے اور بخشش طلب کرے تو یہ لوگ اپنے سروں کو مٹکاتے پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ اس تحصیل استغفار سے یا اس کہنے والے سے کہ آئو متکبرانہ انداز کے ساتھ بےرخی برتتے ہیں۔ شاید عبداللہ ابن ابی منافق کی کوئی غلطی اور شرارت ظاہر ہوگئی تھی اس پر کسی نے اس سے کہا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوکر عذر کردے تاکہ حضور ﷺ تیرے لئے استغفار کردیں تو اس منافق نے گردن کو مٹکا کر اور سر کر پھیر کر کہا مجھ سے تم نے ایمان کو کہا میں ایمان لے آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1۔ یعنی جب کوئی شور وغل ہوتا ہے یہی سمجھتے ہیں کہ کہیں ہمارے ہی اوپر افتاد پڑنے والی نہ ہو۔
2۔ یعنی ان کی کسی بات کا اعتماد نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →ان کو قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کی طرف دعوت دی جائے تو تکبر سے سر پھرجاتے ہیں
5 ؎ زیر نظر آیت بھی گزشتہ آیت کی طرح ان کی پہچان اور شناخت ہی میں کہی جا رہی ہے کہ اس وقت جب قرآن کریم اتر رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس قوم کے اندر موجود تھے اگر اس طرح کے لوگوں کو آپ ﷺ کے رودر روبات کرنے کے لیے کہا جاتا تو کبھی تیار نہ ہوتے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگوں نے کبھی بھی آپ ﷺ کے قریب آ کر بات نہ کی بلکہ ہر بات آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں کرنے کے عادی تھے اور اگر انہیں موقع بن بھی گیا کہ آمنا سامنا ہوگیا تو انہوں نے اپنی باتوں کا کبھی اقرار نہ کیا کہ ہاں ہم نے ایسا کہا ہے بلکہ اپنے یبان سے منحرف ہوتے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
Let us now study some specific sentences of the Surah:
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ (And when it is said to them, “ Come on, and Allah’ s Messenger will pray for your forgiveness”…63:5). When this Surah exposed the false oaths of ‘Abdullah Ibn Ubayy, the leader of the hypocrites, people went up to him to advise him to approach the Holy Prophet ﷺ and admit his guilt. They said that he has still time to request the Holy Prophet ﷺ to pray to Allah to forgive him. To this, the responded by turning his head around and saying arrogantly. “ I believed when…
Read the full tafseer →12 That is, they not only refuse to come to the Messenger to seek forgiveness, but also on hearing the invitation they shake their heads with arrogance and pride, and remain adamant, thinking that it would be disgraceful for them to approach the Messenger to seek forgiveness. This is a clear sign that they are not believers.
Read the full tafseer →