Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ گویہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر درصال دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لئے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں، مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار ہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم…
Read the full tafseer →سورة الْمُنٰفِقُوْن 5
حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بڑے ڈیل ڈول کا، تندرست، خوش شکل اور چرب زبان آدمی تھا۔ اور یہی شان اس کے بہت سے ساتھیوں کی تھی۔ یہ سب مدینہ کے رئیس لوگ تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آتے تو دیواروں سے تکیے لگا کر بیٹھتے اور بڑی لچھے دار باتیں کرتے۔ ان کے جُثّے بشرے کو دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر کوئی یہ گمان تک نہ کرسکتا تھا کہ بستی کے یہ معززین اپنے کردار کے لحاظ سے اتنے ذلیل ہوں گے۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 6
یعنی یہ جو دیواروں کے ساتھ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں، یہ انسان نہیں ہیں بلکہ لکڑی کے کندے ہیں۔ ان کو لکڑی سے تشبیہ دے کر یہ بتایا گیا کہ یہ اخلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
خلاصہ تفسیر
جب آپ کے پاس یہ منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (دل سے) گواہی دیتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں (اس میں تو ان کے قول کی تکذیب نہیں کی جاتی) اور (باوجود اس کے) اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین (اس کہنے میں) جھوٹے ہیں ، (کہ ہم دل سے گواہی دیتے ہیں، کیونکہ وہ گواہی محض زبانی ہے اعتقاد قلب سے نہیں) ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال کو بچانے کے لئے) ڈھال بنا رکھا ہے (کیونکہ اظہار کفر کرتے تو ان کی حالت بھی مثل دوسرے کفار کے ہوجاتی کہ جہاد کیا جاتا اور قتل و غارت ہوتا) پھر (اس لازمی خرابی کے ساتھ متعدی خرابی بھی ہے…
Read the full tafseer →(واذا ارایتھم تعجبک جسامھم وان یقولو تسمع لقولھم کا نھم خشت مسندۃ یحسبون کل صحیۃ علیھم ھم العدونا حذرھم قتلھم اللہ انی یوفکون) (4)۔
(منافقین کے ظاہر اور باطن کی تصویر)۔ یہ ان منافقین کی تصویر ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں ان کے ظاہر اور باطن دونوں کی اس طرح تصویر کھینچ دی گئی ہے کہ کوئی پہلو بھی مخفی نہیں رہ گیا ہے۔ اوپر کے دو فقروں میں ان کے ظاہر کی تصویر ہے۔ بعد کے دو فقروں میں ان کے باطن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پھر پیغمبر ﷺ کو ان سے ہوشیار رہنے کی تاکید اور ساتھ ہی ان کی حالت پر اظہار افسوس ہے۔
(واذا رایتھم تعجبک احیسامھم) فرمایا کہ جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کے…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی ان کے حسن و جمال اور رونق و شادابی کی وجہ سے۔
4۔ 2 یعنی زبان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے۔
4۔ 3 یعنی اپنی درازئی قد اور حسن ورعنائی، عدم فہم اور قلت خیر میں ایسے ہیں گویا کہ دیوار پر لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو تو بھلی لگتی ہے لیکن کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
4۔ 4 یعنی بزدل ایسے ہیں کہ کوئی زوردار آواز سن لیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم پر کوئی آفت نازل ہوگئی یا گھبرا اٹھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کسی کاروائی کا آغاز تو نہیں ہو رہا۔
Read the full tafseer →2: یعنی ان کا ظاہری حلیہ بڑا پرکشش ہے، اور باتیں بڑی لچھے دار ہیں، کہ آدمی انہیں سنتا ہی رہ جائے، لیکن اندر سے ان میں نفاق کی نجاست بھری ہوئی ہے، روایات میں ہے کہ عبداللہ ابن ابی اپنے ڈیل ڈول کے اعتبار سے پرکشش شخصیت رکھتا تھا، اور اس کی باتیں بڑی فصاحت و بلاغت کی حامل ہوتی تھیں۔
3: لکڑیاں اگر کسی دیوار کے سہارے لگی رکھی ہوں تو دیکھنے میں کتنی اچھی لگیں، ان کا فائدہ کوئی نہیں ہوتا، اسی طرح یہ منافق لوگ دیکھنے میں کتنے اچھے لگیں، حقیقت میں بالکل بےمصرف ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یہ لوگ جب آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تو ان کا جسم اگرچہ مجلس میں ہوتا تھا ؛ لیکن دل و دماغ آپ کی طرف متوجہ نہیں…
Read the full tafseer →واذا ........................ یوفکون (36 : 4) ” انہیں دیکھو تو ان کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے ہو مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیئے گئے ہوں۔ ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکے دشمن ہیں ، ان سے بچ کر رہو ، اللہ کی مار ان پر ، یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔
یہ اس طرح ہیں جس طرح مضحکہ خیز حثے ہوتے ہیں۔ انسان معلوم ہی نہیں ہوتے۔ جب یہ خاموش ہوتے ہیں تو کندہ ناتراش نظر آتے ہیں اور جب یہ بولتے ہیں تو ان کے الفاظ ہر قسم کے مفہوم ، احساس ، اثر یا حقیقت سے خالی ہوتے ہیں ، تم ان کی بات سنتے ہو ، یوں نظر آتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →7 یعنی دل تو مسخ ہوچکے ہیں، لیکن جسم دیکھو تو بہت ڈیل ڈول کیے، چکنے چپڑے، بات کریں تو بہت فصاحت اور چرب زبانی سے، نہایت لچھے دار کہ خواہ مخواہ سننے والا ادھر متوجہ ہو۔ اور کلام کی ظاہری سطح دیکھ کر قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ کسی نے خوب کہا ہے
ازبروں چوں گور کافر پر خلل از بروں طعنہ زنی بربایزید
اندروں قہر خدائے عزوجل و از درونت ننگ میدارد یزید
8 خشک اور بیکار لکڑی جو دیوار سے لگا کر کھڑی کردی جائے محض بےجان اور لا یعقل، دیکھنے میں کتنی موٹی، مگر ایک منٹ بھی بدون سہارے کے کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ہاں ضرورت پڑے تو جلانے کے کام آسکتی ہے۔ یہ ہی حال ان لوگوں کا ہے۔ ان کے موٹے فربہ جسم، اور تن و توش سب…
Read the full tafseer →آیت 4 { وَاِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ } ”اے نبی ﷺ ! جب آپ انہیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو بڑے اچھے لگتے ہیں۔“
جسمانی طور پر ان کی شخصیات بڑی دلکش اور متاثر کن ہیں۔
{ وَاِنْ یَّـقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ } ”اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کی بات سنتے ہیں۔“
ظاہر ہے یہ لوگ سرمایہ دار بھی تھے اور معاشرتی لحاظ سے بھی صاحب حیثیت تھے۔ اس لحاظ سے ان کی گفتگو ہر فورم پر توجہ سے سنی جاتی تھی۔
{ کَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ} ”لیکن اصل میں یہ دیوار سے لگائی ہوئی خشک لکڑیوں کی مانند ہیں۔“
حقیقت میں ان لوگوں کی حیثیت ان خشک لکڑیوں کی سی ہے جو کسی سہارے کے بغیر کھڑی بھی نہیں…
Read the full tafseer →5 منافقوں کی عادات اور خصائل :۔ منافقوں کا رئیس عبداللہ بن ابی بن سلول معاشی لحاظ سے بھی رئیس تھا دیکھنے میں بڑا خوبصورت اور لمبے قدوقامت والا جوان تھا۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں آپ کے چچا سیدنا عباس ننگے تھے تو اسی کی قمیص ان کو پوری آسکتی تھی۔ آپ نے عبداللہ بن ابی سے مانگی تو اس نے دے دی تھی۔ اسی بات کا معاوضہ آپ نے اس وقت دیا تھا جب عبداللہ بن ابی مرا تھا۔ اور اس کے بیٹے عبداللہ نے جو سچا مسلمان تھا آپ سے یہ التجا کی تھی کہ آپ اگر اپنی قمیص دے دیں تو میں یہ اپنے باپ کو پہنا دوں اور آپ نے دے دی تھی۔ لسان بھی تھا۔ باتیں کرنے کا اور باتوں سے خوش اور مطمئن کرنے کا اسے ڈھنگ آتا تھا۔ باتیں کرتا تو…
Read the full tafseer →5۔ (کہ دیکھنے میں تو لمبی، چوڑی، موٹی، شاندار مگر بےجان محض روح سے خالی) (آیت) ” واذا ..... اجسامھم “۔ یہ خوشنمائی ان کے ظاہری شان و شوکت اور مادی تن وتوش کی بناء پر ہوگی۔ آج بھی منافقوں، زندیقوں، بیدینوں کے مجمع میں کیسے کیسے خوش پوش اور کیسے کیسے خوش ظاہر نظر آتے ہیں۔ (آیت) ” وان .... لقولھم “۔ جاذب تو جہ ان کی تقریر کی ظاہری شستگی اور آراستگی ہوگی۔ آج بھی منافقوں، زندیقوں، بےدینوں کے مجمع میں کیسے کیسے خوش تقریر، خوش تحریر، خطیب وادیب نظر آتے ہیں۔ !
6۔ (دین حق سے) (آیت) ” قتلھم اللہ “۔ عربی زبان میں ایک بدعاء کا کلمہ ہے، ایک مومن آج جب قرآن مجید میں منافقین کی ایسی ایسی تکلیف دہ اور مسلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →واذا رایتھم تعجبک اجسامھم وان یقولوا تسمع لقولھم کانھم خشب مسندۃ .
” اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قد و قامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور اگر وہ بات کہیں تو آپ ان کی بات سن لیں گویا وہ لکڑیاں ہیں جو (دیوار کے سہارے لگائی ہوئی) کھڑی ہیں۔ “
تُعْجِبُکَ.... یعنی قدر آور ہیں ‘ رنگ شگفتہ ہیں ‘ دیکھنے میں خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔
وَاِنْ یَّقُوْلُوْا .... اور اگر وہ کچھ بات کریں تو آپ ان کی بات سنیں یعنی سچی جانیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ابن ابی قد آور اور فصیح اللسان تھا۔ جب وہ بات کرتا تھا تو رسول اللہ ﷺ اس کی بات سنتے تھے۔
کَاَنَّھُمْ خَشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ : حالانکہ وہ دیوار کے سہارے سے کھڑی ہوئی…
Read the full tafseer →اور جب آپ ان منافقین کو دیکھیں تو ان کے قد و قامت خوبصورت اور اچھے معلوم ہوں گے اور اگر یہ قسم کھانے لگیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ ان کی باتوں کو سن لیں اور خیال کرنے لگیں کہ یہ سچے ہیں مگر یہ سچے نہیں ہیں ان کے جسم لکڑیوں کی طرح ہیں یعنی ان کے دلوں میں نور اور بھلائی نہیں جیسا کہ خشک لکڑی میں جان اور تازگی نہیں ہوتی۔ مدینہ مونرہ میں جو بھی شور ہوتا ہے وہ بزدلی کی وجہ سے طور پر ہی خیال کرتے ہیں، آپ ان سے مطمئن نہ ہوجائیے اللہ ان کو غارت کرے کہاں کا جھوٹ بک رہے ہیں یا یہ کہ جھوٹ کی وجہ سے کہاں بہکے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ وَ اِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ : اکثر منافقین خوش حال ، صاحب حیثیت ، تیز طرار اور ہوشیار لوگ تھے ، ان کی خوش حالی اور مال کی حرص بھی ان کے نفاق کا باعث تھی۔ ان کا سردار عبد اللہ بن ابی معاشی لحاظ سے بھی رئیس تھا اور دیکھنے میں بڑا خوب صورت ، لمبے قدوالا اور جسیم تھا۔ زید بن ارقم ؓ نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا : (کانوا رجالاً اجمل شئی) (بخاری : 4903)”وہ بہت خوبصورت آدمی تھے“۔ مزید تفصیل آگے آیت (7) کی تفسیر میں دیکھئے۔ جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ (بدر کے قیدیوں میں سے) عباس مدینہ میں تھے ، انصار نے انہیں پہنانے کے لیے کپڑا تلاش کیا مگر انہیں عبد اللہ بن ابی کی قمیص…
Read the full tafseer →واذا رایتھم تعجبک اجسامنھم ان کی ہیتیں اور ان کے مناظر آپ کو خوش کریں گے۔ و ان یقولوا تسمع لقولیم مراد عبداللہ بن ابی ہے یعنی آپ اس کی بات غور سے سنتے ہیں۔ حضتر ابن عباس نے فرمایا : عبدلالہ بن ابی خبوصورت جسم، صحت مند، روشن چہرے والا اور عمدہ گفتگو کرنے والا تھا (1) جب وہ گفتگو کرتا تو نبی کریم ﷺ اس کی گفتگو توجہ سے سنتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت کاملص ورت اور اچھی گفتگو سے کی ہے۔ کلبی نے کہا، مراد ابن ابی، جد بن قیس اور معتب بن قشیر ہے۔ سب بڑے جسیم، خوبصورت اور فصیح گفتگو کرنے والے تھے۔ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان کا نھم خشب مسندۃ کی تفسیریوں ہے، وہ سب خوبصورت لوگ تھے گویا ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن سعد واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم الترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے۔ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔ تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ان پر مت خرچ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے بھاگ جائیں اور مزید یہ بھی کہا اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے یہ سن کر میں نے نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے اس بات کی آپ کو خبر دی آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے قسم کھالی کہ اس نے ایسا نہیں کیا…
Read the full tafseer →[وَاِذَا رَاَيْتَهُمْ : اور جب کبھی آپ دیکھتے ہیں ان کو ] [تُعْجبكَ اَجسامُهُمْ : تو دلکش لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم ] [وَان يَّقُوْلُوْا : اور اگر وہ لوگ کہتے ہیں (کچھ)] [تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ : تو آپ سنتے ہیں ان کی بات کو ] [كَانهُمْ : جیسے کہ وہ لوگ ] [خُشُبٌ: ایسی موٹی لکڑیاں ہیں جو ] [مُّسَنَّدَةٌ: نیک دی ہوئی ہیں ] [يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ : وہ لوگ گمان کرتے ہیں ہر چنگھاڑ کو ] [عَلَيْهِمْ : اپنے پر ہی (پڑنے والی)] [هُمُ الْعَدُوُّ : وہلوگ ہی دشمن ہیں ] [فَاحْذَرْهُمْ : تو آپ محتاط رہیں ان سے ] [قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ : ہلاک کرے ان کو اللہ ] [انٰى يُؤْفَكُوْنَ : کہاں سے پھیر دیئے جاتے ہیں…
Read the full tafseer →منافقوں کی ظاہری باتیں پسند آتی ہیں :
﴿ وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ ﴾ منافقین کی صفت بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ یہ لوگ نظروں میں بھاتے ہیں ان کے قد بھی بڑے ہیں رنگ بھی اچھے ہیں۔ صحیح البخاری میں ہے کا نوا رجالا واجمل شی۔ ﴿ وَ اِنْ يَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ﴾ اور باتیں کرنے کا ڈھنگ اور فصاحت و بلاغت ایسی ہے کہ اگر آپ سے باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوں گے اور آپ ان کی بات کو دھیان سے سنیں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ﴾ (گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئی) یعنی ان کے جسم بھی قدوقامت والے ہیں اور باتیں بھی میٹھی ہیں مگر آپ کے کام نہیں آسکتے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔
(ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ…
Read the full tafseer →5:۔ ” واذا رایتہم “ بھی زجر ہے۔ جب منافقین کو آپ دیکھتے ہیں تو حسن و جمال اور جسمانی ڈیل ڈول کی وجہ سے وہ آپ کو بھلے معلوم ہوتے ہیں اور ان کی باتیں بھی آپ بغور سنتے ہیں، کیونکہ وہ فصاحت و بلاغت، شیریں کلامی ور چرب زبانی میں ماہر ہیں اور اپنی دلیری اور بہادری کی ڈینگیں مارتے ہیں۔ ” کانہم خشب مسندۃ “ یہ کلام مستانف ہے اور اس میں منافقین کے ایمان سے خالی ہونے کا بیان ہے جس طرح بیکار لکڑی دیوار کے ساتھ کھڑی کردی جاتی ہے جو نہ ستون ہو نہ شہتیر نہ کڑی الغرض فائدے سے خالی ہو اسی طرح یہ منافقین جو آپ کی مجلسوں میں دیواروں سے تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں محض بیکار اور ایمان سے خالی ہیں۔ شبھو فی جلوسہم مجالس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة المنافقون ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے اس سوۃ میں اللہ نے منافقوں کی مذمت بیان کی ہے لہٰذا یہ سورة انہیں کے نام پر موسوم ہے۔ پچھلی سورة کی طرح یہ بھی چھوٹی سورة ہے ، جس کی گیارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 776 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس میں منافقوں کی قباحت ، ان کی سازش اور بزدل کا بیان ہے۔ اللہ نے ان منافقوں کی بداعمالیوں کی قلعی اس ورۃ میں کھولی ہے اور حضور ﷺ کو ان کی سازشوں سے آگاہ کیا ہے۔ اس سورة کے علاوہ سورة البقرہ سورة آل عمران ، سورة مائدہ ، سورة توبہ ، سورة احزاب اور…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَيْتَہُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُہُمْ 0 ۭ وَاِنْ يَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ 0 ۭ كَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَـنَّدَۃٌ 0 ۭ يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَۃٍ عَلَيْہِمْ 0 ۭ ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ 0 ۭ قٰتَلَہُمُ اللہُ 0 ۡاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 4
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر…
Read the full tafseer →3 ؎ کھوکھلے
4 ؎ جب کوئی چیخے تو جانتے ہیں ہم پر بلا آئی۔
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَیْتَھُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُھُمْ ط وَاِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ ط کَاَنَّھُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ ط یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْھِمْ ط ھُمُ الْعَدُوُّفَاحْذَرْھُمْ ط قٰـتَلَھُمُ اللّٰہُ ز اَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ ۔ (المنافقون : 4) (اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوتے اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو آپ توجہ سے ان کی بات سنتے ہیں، مگر ان کی مثال ایسی ہے گویا وہ لکڑی کے کندے ہیں جنہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کردیا گیا ہے، وہ ہر زور کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، اصلی دشمن وہی ہیں، پس ان سے ہوشیار رہئے، اللہ ان کو غارت کرے کدھر الٹے پھرائے جارہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقوں کی گفتگو کا انداز۔
منافق کی نیّت میں فطور اور اس کے کردار میں جھول ہوتی ہے۔ اس لیے اسے اپنی گفتگو میں تصنّع اور تکلّف اختیار کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کی بات سننے والے کو اس کے کردار کا جھول اور نیت کے فطور کا علم نہ ہوسکے۔ اسی وجہ سے مدینہ کے منافق جب نبی معظم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اس طرح تکلّف اور لجاجت کے ساتھ گفتگو کرتے کہ سننے والے کو خواہ مخواہ ان کی طرف متوجہ ہونا پڑتا۔ مدینہ کے منافقین میں سے عبداللہ بن ابی اور کچھ منافق ظاہری تشخص ( PERSONALITY) کے اعتبار سے بھی ایک معقول آدمی نظر آتے تھے۔ اس لیے کچھ مسلمان ان کے ظاہری تشخص اور گفتگو سے متاثر ہوجایا کرتے…
Read the full tafseer →منافقین کی دوغلی پالیسی :
4 : وَاِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ (جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدوقامت خوشنما معلوم ہوں) کؔ کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو فرمایا گیا۔ نمبر 2۔ ہر مخاطب مراد ہے۔ وَاِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِھِمْ (اگر وہ بات کہیں تو آپ ان کی بات سن لیں) عبد اللہ بن ابی لحیم جسیم خوبصورت فصیح الکلام آدمی تھا۔ کچھ دیگر منافق بھی اسی ڈیل ڈول کے تھے۔ پس جب وہ مجلس نبوی ﷺ میں حاضر ہوتے۔ پس وہ اس میں ٹھاٹھ سے بیٹھتے۔ پرشوکت مناظر اور فصیح زبانوں سے بولتے۔ نبی اکرم ﷺ اور حاضرین مجلس ان کی شکلوں اور صورتوں پر تعجب کرتے اور ان کی گفتگو کی طرف کان لگاتے۔ کَاَنَّھُمْ خُشُبٌ…
Read the full tafseer →2 ۔” ذلک بانھم امنوا “ زبان سے اقرار کیا جب مومنوں کو دیکھا۔ ” ثم کفروا “ جب مشرکین کی طرف تنہائی اختیار کی۔ ” فطبع علی قلوبھم “ کفر کی ” فھم لایفقھون “ ایمان کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور اسلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے۔ بیچ میں اپنے رسول کی تسکین کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ قسم کھا کر اس بات کی صداقت ادا کرتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم اللہ کے رسول ہو لیکن ان منافقوں کی دو دلی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ…
Read the full tafseer →(وَاِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ ) اور جب آپ انہیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپکو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی ان کی خوشنمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ( وَاِنْ يَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ) یعن آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( ۭ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ۭ ) گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں
قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…
Read the full tafseer →5 ۔ منافقوں کی ملمع سازی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم ان کو دیکھو گے تو تمہیں اچھے لگیں گے ان کے ڈیل ڈول اور یہ اگر بات کریں تو تم سنتے رہ جاؤ ان کی باتوں کو۔ ان کی طلاقت لسانی اور چرب زبانی کی وجہ سے اور منافقین کا آج تک اور ہر دور میں یہی حال رہا ہے، سو یہ ان لوگوں کے ظاہر حال کی تصویر ہے کہ ان کے جسمانی ڈیل ڈول، بڑے بنے ٹھنے، سجے سجائے نظر آئیں گے اور ان کی باتیں بڑی لچھے دار اور چکنی چپڑی ہوں گی، لیکن بےحقیقت اور بےجان، کیونکہ قوت اور وزن پیدا ہوتا ہے، ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت سے، جس سے یہ لوگ عاری اور محروم ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے منافقوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
منافق ان کے کارنامے اور انجام
تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی نہایت فصاحت اور چرب زبانی سے ایسی لچھے دار باتیں رتے ہیں کہ خوام خواہ سننے کو جی چاہیے۔6 یعنی جیسے لکڑیوں میں عقل اور سمجھ نہیں وتی اسی طرح یہ بھی عقل اور سمجھ سے عاری ہیں۔ جب یہ آپ کی مجلس میں بٹھیں تو یہ سمجھئے کہ آدمی بیٹھے ہیں بلکہ یوں سمجھئے کہ لکڑیاں ہیں جو ٹیک لگا کر رکھی دی گئیں ہیں گوبظاہر خوبصورت نظر آتے ہیں۔ (قرطبی)7 یعنی انتہائی بزدل اور ڈرپوک ہیں۔ اپنے سنگین جرائم اور بےایمانیوں کی وجہ سے انہیں ہر آن دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کی دغا بازیوں کا پردہ چاک نہ ہوجائے۔ ِ 8 کیونکہ یہ مار آستین ہیں اور کافر کھلے دشمن اور ظاہر ہے کہ جو نقصان گھر کا بھیدی پہنچا سکتا ہے وہ باہر…
Read the full tafseer →(63:4) واذا رایتھم جملہ شرط۔ تعجبک اجسامہم جواب شرط۔ اذا شرطیہ (جب) رایت میں ضمیر واحد مذکر حاضر عام مخاطب کے لئے ہے (جب اے مخاطف تو ان کو دیکھے) یا خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے کہ جب (اے محمد ﷺ ) آپ ان کو دیکھیں) ۔ تعجبک اجسامہم : تعجب مضارع واحد مؤنث غائب اعجاب (افعال) مصدر۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تجھے تعجب میں ڈال دے۔ وہ تجھے بھلی لگے ۔ وہ تجھے خوشمنا لگے۔ اجسامہم ان کے جسم۔ ان کے ڈیل ڈول۔
وان یقولوا۔ جملہ شرطیہ ہے اور اگر وہ گفتگو کریں۔
تسمع لقولہم جواب شرط۔ تو تو توجہ سے ان کی بات سنے۔ تسمع مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر حاضر۔ سمع (باب سمع) مصدر۔
کانھم خشب مسندۃ لقولہم میں ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔
تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔
اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
منافقوں اور ان کی علامات کا ذکر۔
(ف 1) زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر نبی ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا، اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور سلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ اور ہے دل میں کچھ ہے بیچ میں اپنے محبوب کی تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ کہتے ہیں اس نیک بات کا اثر ان لوگوں کے دل تک نہیں پہنچتا، صحیح حدیث اوپرگذرچ کی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[4] یعنی بالکل ناکارہ ہیں۔ کیونکہ لکڑی بھی اگر کوئی فائدہ دیتی ہے تو اس وقت جب وہ استعمال ہو رہی ہو۔ دیوار سے لگا کر کندے کی شکل میں جو لکڑی رکھ دی گئی ہو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
[5] یعنی اپنی بےایمانیوں کی وجہ سے ہر وقت ان کے دل میں دغدغہ لگا رہتا کہ دیکھئے کہیں ہماری دغا بازیوں کا پردہ تو چاک نہیں ہوگیا۔ ذرا کہیں شوروغل ہو تو ان کا دل دہل جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی پر کوئی افتاد پڑی۔
[6] یہ نہیں بتایا کہ دین حق سے پھر انے والا کون ہے۔ اس کی تصریح نہ کرنے سے خودبخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کی اس الٹی چال کا کوئی ایک محرک نہیں بلکہ بہت سے محرکات ہیں۔ اپنے نفس کے اغراض ہیں، بیوی بچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
منافقین بزدل ہیں
2: قرآن حکیم نے منافقین کے اسرار واحوال کئی مقامات پر واشگاف اور پر بیان کئے ہیں ۔ تاکہ ان کو معلوم ہو ۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی واقعہ اور کوئی سازش پوشیدہ نہیں ۔ وہ ہر حرکت کو جانتا ہے ۔ اور ہر شرارت سے آگاہ ہے ۔ اس کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔ اس صورت میں بالخصوص ان کے افعال کی مذمت کی ۔ اور بتایا ۔ کہ ان کو دیکھوں تو بظاہر بھلے چنگے معلوم ہوتے ہیں ۔ شکل وشباہت سے وجہات ٹپکتی ہے ۔ معقول آدمی دکھائی دیتے ہیں ۔
مگر قلب و دماغ کی یہ کیفیت ہے ۔ کہ بالکل بیکار ہیں ۔ جس طرح غیر ضروری لکڑیاں دیوار کے سہارے کھڑی کردی جاتی ہیں ۔ اسی طرح یہ لوگ بالکل مہمل ہیں ۔ ان سے فائدہ کی توقع فضول…
Read the full tafseer →(4) اے پیغمبران کی حالت یہ ہے کہ جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدوقامت اور ظاہری جسم آپ کو خوش نما معلوم ہوں اور ان کے ڈیل تجھ کو خوش لگیں اور جب یہ باتیں کریں تو آپ ان کی شیریں کلامی اور دلچسپ باتوں کی وجہ سے ان کی باتیں کان لگا کر سنیں گویا وہ خشک لکڑیاں ہیں جو کسی دیوار کے سہارے لگا دی گئی اور ٹکادی گئی ہیں وہ ہر بلند آواز کو اپنے ہی خلاف خطرہ سمجھتے ہیں جو کوئی پکارے یہ جانیں ہم پر ہی بلا ہے یہی لوگ حقیقی دشمن ہیں۔
اے پیغمبر آپ ان سے بچتے رہیے اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرے اور خدا ان کو غارت کرے یہ کہاں پھر سے چلے جارہے ہیں۔ یعنی دیکھنے میں بڑے متین ڈیل ڈول ایسا کہ دیکھ کر اچنبھا ہو ظاہری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1۔ یعنی جب کوئی شور وغل ہوتا ہے یہی سمجھتے ہیں کہ کہیں ہمارے ہی اوپر افتاد پڑنے والی نہ ہو۔
2۔ یعنی ان کی کسی بات کا اعتماد نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →منافقین کی ظاہری اور باطنی حالت کی مزید وضاحت
4 ؎ ( واذا رایتھم تعجبک اجسامھم) ’ ’ اور جب تو ان کو دیکھتا ہے تو ان کے اجسام آپ کو بھلے لگتے ہیں ‘ ‘ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہوتے ۔ بڑے بڑے پیرو بزرگ ، شیوخ اشیاخ ، مذہبی رہنماء اور پیشوا ، سیاسی لیڈر ، امیر و زیر اور سارے باپ دادا والے لوگ ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کو دیکھ کر کون ہے جو تعجب نہیں کرتا ۔ کون ہے جو ان کی شخصیتوں کو سن کر ، جان کر ان سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا ہے۔ آج کل کی زبان میں جتنے ایم ۔ پی ۔ اے ، ایم ۔ این ۔ اے ۔ سینیٹر اور سارے وزراء ہیں جیسے وزیراعظم ، وزیراعلیٰ ، وزیر داخلہ ، وزیر خارجہ وغیرہ بھلا ان کے نام سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
Commentary
Background of Revelation
The incident, in which this Surah was revealed, took place in the campaign against Banul-Mustaliq which happened, according to Muhammad Ibn Ishaq in Sha’ ban 6AH and according to Qatadah and ‘Urwah, in Sha’ ban 5AH. [ Mazhari ] According to Muhammad Ibn Ishaq and most historians, the details of the incident is as follows: The Messenger of Allah received the news that the leader of Banul-Mustaliq, name, Harith Ibn Dirar, is preparing for a campaign against him Harith Ibn Dirar was the father of Sayyidna Juwairiah ؓ who later on embraced Islam and became one…
Read the full tafseer →5 Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas has stated that 'Abdullah bin Ubayy WAS a strongly built, healthy, handsome and smooth-tongued person, and the same was the case will most .of his companions. They were aII the nobles of Madinah. When they came to sit in the Holy Prophet's assembly, they would sit reclining on cushions against the walls and would talk agreeably and convincingly. From their outward appearance and manner of speech no one could imagine that those honourable people of the city would be so wretched and degraded in their character.
6 That is, "Those who sit reclining on cushions…
Read the full tafseer →