Al-Munaafiqoon 63:3

Al-Munaafiqoon · from ayah 3

63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ ۟ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ‏

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔ سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is because they believed, and then they disbelieved; so their hearts were sealed over, and they do not understand.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Munaafiqoon

All translations of 63:3

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔ سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان ﻻکر پھر کافر ہوگئے پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ اب یہ نہیں سمجھتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ساری باتیں اس وجہ سے ہیں کہ یہ (شروع میں بظاہر) ایمان لے آئے پھر انہوں نے کفر اپنا لیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، نتیجہ یہ کہ یہ لوگ (حق بات) سمجھتے ہی نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اِس وجہ سے کہ وہ (زبان سے) ایمان لائے پھر (دل سے) کافر رہے تو اُن کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی سو وہ (کچھ) نہیں سمجھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس سبب سے ہے کہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی پس یہ سمجھنے سے عاری ہوگئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا تو انکے دلوں پر مہر کردی گئی جسکے نتیجے میں اب یہ کچھ نہیں سمجھتے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اس سے ہے کہ یہ لوگ ایمان لے آئے پھر کافر ہوگئے۔ سو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو یہ (اب) نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی پس یہ سمجھنے سے عاری ہوگئے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس لیے کہ یہ پہلے تو ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

All that is because they first believed and then disbelieved, and therefore a seal was set on their hearts; as a result they understand nothing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is because they declared faith (in Islam apparently) , then disbelieved (secretly) . Therefore a seal has been set on their hearts, and thus they do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani

That is because they declared faith (in Islam apparently) , then disbelieved (secretly) . Therefore a seal has been set on their hearts, and thus they do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That is because they believed, and then disbelieved; therefore their hearts are sealed, so they understand not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That is because they believed, then disbelieved, therefore their hearts are sealed so that they understand not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is because they believed, and then they disbelieved; so their hearts were sealed over, and they do not understand.

— Saheeh International

This is because they accepted the faith and then rejected it. God has sealed their hearts, thus, they do not have any understanding.

— Muhammad Sarwar

That is because they believe, then disbelieve, so a seal is set upon their hearts so that they do not understand.

— Muhammad Habib Shakir

That is, because they believed, and thereafter disbelieved, wherefore their hearts are sealed, so that they understand not.

— Abdul Majid Daryabadi

That is because they believed, then they rejected Faith: So a seal was set on their hearts: therefore they understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 63:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ گویہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر درصال دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لئے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں، مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار ہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُنٰفِقُوْن 4 اس آیت میں ایمان لانے سے مراد ایمان کا اقرار کر کے مسلمانوں میں شامل ہونا ہے۔ اور کفر کرنے سے مراد دل سے ایمان نہ لانا اور اسی کفر پر قائم رہنا ہے جس پر وہ اپنے ظاہری اقرار ایمان سے پہلے قائم تھے۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ جب انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر سیدھے سیدھے ایمان یا صاف صاف کفر کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے یہ منافقانہ روش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اور ان سے یہ توفیق سلب کرلی گئی کہ وہ ایک سچے اور بےلاگ اور شریف انسان کا سا رویہ اختیار کریں۔ اب ان کی سمجھ بوجھ کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہے۔ ان کی اخلاقی حس مر چکی ہے۔ انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

خلاصہ تفسیر جب آپ کے پاس یہ منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (دل سے) گواہی دیتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں (اس میں تو ان کے قول کی تکذیب نہیں کی جاتی) اور (باوجود اس کے) اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین (اس کہنے میں) جھوٹے ہیں ، (کہ ہم دل سے گواہی دیتے ہیں، کیونکہ وہ گواہی محض زبانی ہے اعتقاد قلب سے نہیں) ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال کو بچانے کے لئے) ڈھال بنا رکھا ہے (کیونکہ اظہار کفر کرتے تو ان کی حالت بھی مثل دوسرے کفار کے ہوجاتی کہ جہاد کیا جاتا اور قتل و غارت ہوتا) پھر (اس لازمی خرابی کے ساتھ متعدی خرابی بھی ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ذلک بانھم امنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبھم فھم لا یفھون) (3)۔ فرمایا کہ یہ راہ انہوں نے اس وجہ سے اختیار کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے۔ جس کے سبب سے وہ فکر سلیم کی نعمت سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس مہر کے لگنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کی راہ اختیار کرلی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جن کو وہ ایک مرتبہ اسلام کی روشنی دکھا دیتا ہے اگر وہ اس کی قدر کرتے ہیں تو ان کی روشنی میں اضافہ کرتا ہے اور اگر قدر نہیں کرتے بلکہ مڑ مڑ کر پیچھے ہی کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کی وہ روشنی بھی سلب ہوجاتی ہے اور ان کے دل پر مہر بھی کردی جاتی ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ پھر وہ صحیح…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–3

1: جس طرح ڈھال سے تلوار کا بچاؤ کیا جاتا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے اپنے بچاؤ کے لیے یہ قسمیں کھالی ہیں کہ وہ مومن ہیں، تاکہ دنیا میں کافروں کا جو برا انجام ہونے والا ہے، یہ اس سے بچ جائیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

سوال یہ ہے کہ یہ لوگ یہ کام کرتے ہیں ؟ جھوٹی شہادت ، جھوٹی قسمیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا عمل نامشکور کیوں کرتے ہیں ؟ یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا ہے۔ یعنی اسلام کو اچھی طرح جاننے اور دیکھنے کے بعد انہوں نے کفر پر چلنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ ذلک بانھم ................ یفقھون (36 : 3) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا ، اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے “۔ انہوں نے اسلام کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ لیکن اعلان کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کوئی سمجھ دار ، باذوق اور زندہ دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی زبان سے ایمان لائے، دل سے منکر رہے اور مدعی ایمان ہو کر کافروں جیسے کام کیے اس بےایمانی اور انتہائی فریب و دغا کا اثر یہ ہوا کہ ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ جن میں ایمان و خیر اور حق و صداقت کے سرایت کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں رہی۔ ظاہر ہے کہ اب اس حالت پر پہنچ کر ان سے سمجھنے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ جب آدمی کا قلب اس کی بدکاریوں اور بےایمانیوں سے بالکل مسخ ہوجائے پھر نیک و بد کے سمجھنے کی صلاحیت کہاں باقی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا } ”یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے“ یعنی ان کی منافقت شعوری نہیں ہے کہ وہ بدنیتی سے دھوکہ دینے کے لیے ایمان لائے ہوں۔ دین اسلام کی دعوت جب ان لوگوں تک پہنچی تھی تو ان کی فطرت نے گواہی دی تھی کہ یہ سچ اور حق کی دعوت ہے اور اس وقت وہ نیک نیتی سے ایمان لائے تھے۔ کچھ دیر کے لیے انہیں ایمان کی دولت نصیب ہوئی تھی ‘ لیکن ایمان لاتے وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ ع ”یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے“۔ اہل ِایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے : { وَلَـنَـبْلُوَنَّــکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 یعنی اسلام تو لے آئے اور ایمان کا دعویٰ بھی کیا۔ مگر دل سے یہ کافر کے کافر ہی رہے۔ ان کی ہمدردیاں اور سرگوشیاں اور رازداریاں سب کافروں سے ہی وابستہ رہیں اور یہ عادت ان میں اس قدر پختہ ہوگئی کہ اب مسلمانوں کی کوئی بھلائی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ لہذا اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی کیونکہ اللہ کسی کو جبراً اور کان پکڑ کر راہ ہدایت کی طرف نہیں لایا کرتا۔ اور وہ بیوقوف ایسے ہیں کہ انہیں یہ سمجھ بھی نہیں آرہی کہ جو کام وہ کر رہے ہیں وہ ان کے لیے مفید رہیں گے یا الٹا انہیں پکڑوا دیں گے اور ان کی ذلت و رسوائی کا باعث بن جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ یعنی پہلے مومنین کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا، پھر اپنے رازداروں کی مجلس میں جا کر کلمات کفر کہے۔ اے نطقوا بکلمۃ الشھادۃ لم ظھر کفرھم بعد ذلک (مدارک) او نطقوا بالایمان عند ال مومنین ثم نطقوابالکفر عند شیاطینھم (مدارک) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی ان کے کرتوتوں کا برار اور بہت برا ہونا، اشارۃ الی قولہ ساء ماکانوا یعملون (مدارک) (آیت) ” بانھم “۔ میں ب سبییہ ہے۔ اے بسبب انھم (مدارک) 4۔ (دین کے روشن ترین دلائل وحقائق کو بھی) (آیت) ” فطبع “۔ دلوں پر یہ مہر اسی ارادی منافقت کی عادت کی بناپرلگی، اور پھر اس نتیجہ کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے ذہنوں سے صلاحیت ہی حقائق دین کی فہم کی جاتی رہی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک بانھم ... یفقھون . ” یہ بات اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ (اوّل ظاہر میں) ایمان لائے ‘ پھر (کلمات کفریہ کہہ کر) کافر ہوگئے۔ سو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی۔ اس سبب سے وہ حق بات کو) نہیں سمجھتے۔ ذٰلِکَ : یعنی یہ نفاق اور اسلام سے روگردانی ‘ جھوٹی قسموں کو بچاؤ کا ذریعہ بنانا اس سبب سے ہے کہ وہ بظاہر مؤمنوں کی نظر میں مؤمن ہوگئے پھر اپنے ساتھیوں کے پاس تخلیہ میں پہنچ کر کافر ہوگئے (کفریہ کلمات کہنے لگے) یا یہ مطلب ہے کہ کوئی نشانی یا معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے ‘ پھر شیطان (ساتھیوں) نے ان کے دلوں میں شبہات پیدا کردیئے تو کافر ہوگئے۔ فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ : یعنی اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور یہ منافقین کے کام اس وجہ سے ہیں کہ پہلے تو یہ ظاہر میں ایمان لے آئے، پھر خفیہ طور پر کفر پر قائم رہے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے کفر و نفاق کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردی گئی یہ حق و ہدایت کو نہیں سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا :”ذلک“ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا مومن ہونے کی جھوٹی قسمیں کھانا اور اللہ کی راہ سے روکنا وغیرہ اس لیے ہے کہ وہ ایمان لائے ، پھر انہوں نے کفر کیا۔ ایمان لا کر کفر تین طرح سے ہے ، ایک یہ کہ وہ ظاہر میں ایمان لائے اور مسلمان ہوگئے مگر دل میں کافر ہی رہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے پاس آئے تو ایمان کی شہادت دی ، پھر کفار کے پاس گئے تو انہیں اپنے کفر کا یقین دلایا ، جیسا کہ فرمایا :(وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰـطِیْنِہِمْلا قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ) (البقرۃ : 14)”اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ خبر دی گئی ہے کہ منفاق کافر ہیں یعنی انہوں نے زبان سے اقرار کیا پھر دل سے انکار کردیا۔ یہ قول یہ کیا گیا ہے، یہ آیت اسی قوم کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لاتے پھر انہوں نے ارتداد اختیار کیا۔ فطبع علی قلوبھم ان پر کفر کی مہر لگا دی گئی۔ فھم لایفقون۔ وہ ایمان و خیر کو نہیں مانتے۔ زید بن علی نے فطبع اللہ علی قلوبھم پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ ابن سعد واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم الترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے۔ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔ تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ان پر مت خرچ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے بھاگ جائیں اور مزید یہ بھی کہا اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے یہ سن کر میں نے نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے اس بات کی آپ کو خبر دی آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے قسم کھالی کہ اس نے ایسا نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ذٰلِكَ بِانهُمْ : یہ اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ ] [اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا : ایمان لائے پھر انھوں نے انکار کیا ] [فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : تو ٹھپہ لگا دیا گیا ان کے دلوں پر ] [فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ : نتیجۃً وہ سمجھتے نہیں ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ﴾ (الآیۃ) ان کی یہ بدعملی اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ پہلے ایمان لائے یعنی ظاہری طور پر اپنے کو مومن بتایا، ان لوگوں کے لئے خیر اسی میں تھی کہ ظاہر و باطن سے مومن ہوتے اور اپنے باطن کو بھی ظاہر کے مطابق کرلیتے یعنی سچے دل سے مومن ہوجاتے لیکن انہوں نے یہ حرکت کی کہ ظاہر میں بھی کافر ہوگئے یعنی ان سے ایسی باتیں ظاہر ہوگئیں جن سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ مومن نہیں جو ظاہری ایمان تھا اس کو بھی باقی نہ رکھ سکے۔ ﴿ فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ﴾ (جب یہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر مہر مار دی گئی) ﴿ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ 003﴾ (اب یہ حق کو نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔ (ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” ذلک بانہم “ یہ اس لیے کہ زبان سے تو انہوں نے ایمان کا اقرار کیا، لیکن دل میں کفر رکھا جو آخر ان کے کردار و گفتار سے ظاہر ہو کر رہا۔ تو اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کو ایمان خالص کی توفیق اور حقیقت ایمان کے فہم سے محروم کردیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة المنافقون ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے اس سوۃ میں اللہ نے منافقوں کی مذمت بیان کی ہے لہٰذا یہ سورة انہیں کے نام پر موسوم ہے۔ پچھلی سورة کی طرح یہ بھی چھوٹی سورة ہے ، جس کی گیارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 776 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس میں منافقوں کی قباحت ، ان کی سازش اور بزدل کا بیان ہے۔ اللہ نے ان منافقوں کی بداعمالیوں کی قلعی اس ورۃ میں کھولی ہے اور حضور ﷺ کو ان کی سازشوں سے آگاہ کیا ہے۔ اس سورة کے علاوہ سورة البقرہ سورة آل عمران ، سورة مائدہ ، سورة توبہ ، سورة احزاب اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا يَفْقَہُوْنَ۝ 3 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : اذا شرط قالوا جو ابہ وقیل محذوف وقالوا حال ای جائوک قائلین کیت وکیت فلاتقبل منھم وقیل جو ابہ اتخذوا فیہ مافیہ۔ واللہ یعلم الخ جملہ معترضۃ مقررۃ لمضمون ماقبلھا وھو الشہادۃ باللسان مع الانکار فی القلب اتخذو الخ الجملۃ مستانفۃ لبیان کذبھم و حلفھم علیہ۔ ایمانہم عند الجمھور بفتح الھمزۃ جمع الیمین وقریٔ بکسرہا والجنۃ الترس ‘ سپر۔ ساء ھھنا بمعنی بئس فی افادۃ الذم فطبع قرء الجمھور مبنیا للمفعول وقریٔ مبنیا للفاعل واذارایتھم شرط تعجبک جو ابہ وان یقولوا شرط تسمع جو ابہ وقریٔ یسمع علی البناء للمفعول مسندۃ من الاسنا دبمعنی الامالۃ والتشدید للمبالغۃ وقریٔ خشب بضمتین وقریٔ باسکان الشین وقری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَھُمْ لاَ یَفْقَھُوْنَ ۔ (المنافقون : 3) (یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ یہ پہلے ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، پس وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ ) منافقین کے نفاق کا سبب ان کے دلوں پر مہر لگ جانا ہے منافقین کے جس رویئے کا ذکر اوپر کی آیت میں کیا گیا ہے یہ اس کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ان کا یہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے۔ اور مہر کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص فکرِسلیم سے محروم ہوجاتا ہے۔ صحیح بات کو سمجھنے کے دلائل اس کے سامنے ہوتے ہیں، لیکن وہ ان سے صحیح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–3

فہم القرآن ربط کلام : منافق صرف جھوٹ نہیں بولتا بلکہ جھوٹی قسمیں بھی اٹھاتا ہے۔ منافق دنیا کے فائدے کی خاطر منافقت اختیار کرتا ہے۔ جب اسے کسی نقصان یا اپنی بےعزتی کا خطرہ محسوس ہو تو اس سے بچنے کے لیے جھوٹی قسم اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اس طرح وہ اللہ کے نام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ منافق نہ صرف خود صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی سیدھے راستے سے روکتا ہے۔ منافق کا جھوٹی قسمیں کھانا اور لوگوں کو ” اللہ “ کی راہ سے روکنا بدترین عمل ہے کیونکہ منافق دنیا کے فائدے کی خاطر ایسا کرتا ہے اس لیے اسے فائدہ نظر آئے تو وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتا اور بظاہر مسلمانوں جیسا کردار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منافقین کا طرز عمل : 3 : ذٰلِکَ (یہ بات) اس کا مشار الیہ ساء ما کانوا یعملون ہے۔ مطلب یہ ہے یہ قول اس بات پر شاہدعدل ہے کہ وہ عملی اعتبار سے لوگوں میں سب سے بدترین ہیں۔ بِاَنَّھُمْ (اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ) ای بسبب انہم۔ اس سبب سے کہ وہ ٰامَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا (ایمان لائے پھر کافر ہوگئے) نمبر 2۔ ان کے جو حالات منافقت وکذب اور ایمان کو دنیاوی اغراض کیلئے بطور ڈھال استعمال کرنا وغیرہ تمام کام اس سبب سے ہیں کہ انہوں نے پہلے اپنی زبانوں سے کلمہ شہادت کا اقرار کیا اور اسلام میں داخل ہونے والے جیسا عمل تو کیا مگر پھر کافر ہوگئے ان کا کفر ان کے اس قول میں ظاہر ہوگیا۔ ان کان ما یقولہ محمد حقا فنحن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” اتخذوا ایمانھم جنۃ “ ڈھال۔ ” فصدوا عن سبیل اللہ “ لوگوں کو جہاد اور محمد ﷺ پر ایمان لانے سے روکا ہے۔ ” انھم ساء ماکانوا یعملون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور اسلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے۔ بیچ میں اپنے رسول کی تسکین کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ قسم کھا کر اس بات کی صداقت ادا کرتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم اللہ کے رسول ہو لیکن ان منافقوں کی دو دلی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ذٰلِكَ ) وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کردیا ( بِاَنَّهُمْ ) اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدر نہیں بلکہ ( اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ ) وہ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی، کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی داخل نہیں ہوسکے گی۔ (فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ ) پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انہیں فائدہ دیتی ہے اور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے ؟

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–9

اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 ۔ منافقین سنت خداوندی کی زد میں، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفر و نفاق کی سزا مہر خداوندی اور دائمی محرومی ہے، والعیاذ باللہ۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں یہ لوگ نہ حق کو سمجھتے ہیں اور نہ حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ حق اور حقیقت سے محروم رہ کر یہ کس قدر خسارے میں دوچار ہو رہے ہیں، فھم کی فاء تغریع سے ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ سب کچھ ان لوگوں کے خود اپنے ہی اختیار کردہ کفر و نفاق اور اپنے ہی کیے کا ثمرہ و نتیجہ ہے، والعیاذ باللہ۔ سو یہ کفر و نفاق کی ایک نقد اور بڑی ہولناک سزا ہے، جو سنت ایزدی اور دستور خداوندی کے مطابق ایسے لوگوں کو ملتی ہے کہ ان کے کفر و نفاق کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

منافق ان کے کارنامے اور انجام تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی صرف ظاہر میں ایمان لائے حقیقت میں کافی ہی رہے یا مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کیا اور کافروں کے سامنے کفر کا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(63:3) ذلک : یعنی نفاق اور اسلام سے روگردانی، جھوٹی قسموں کو بچاؤ کا ذریعہ بنا لینا۔ اشارۃ الی ما ذکر من حالہم فی النفاق والکذب والاستخبان بالایمان الفاجرۃ (روح المعانی) ۔ یہ اشارہ ہے ان کے نفاق اور تکذیب کی طرف اور جھوٹی قسموں کو بچاؤ کا ذریعہ بنانے کی طرف۔ بانھم ب سببیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل۔ ہم ضمیر جمع مذکر گا ئب۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ سب لوگ۔ امنوا۔ وہ ایمان لائے ۔ وہ ایمان دار ہوگئے (بظاہر مؤمنون کے سامنے ایمان کا اقرار کرنے پر) ۔ ثم کفروا۔ پھر وہ کافر ہوگئے (کلمات کفریہ کہہ کر یا اپنے ساتھیوں کے پاس تخلیہ میں پہنچ کر جہاں وہ اپنے اصل اعتقاد کا بر ملا اظہار کیا کرتے تھے) ۔ قرآن پاک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔ تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔ اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

منافقوں اور ان کی علامات کا ذکر۔ (ف 1) زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر نبی ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا، اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور سلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ اور ہے دل میں کچھ ہے بیچ میں اپنے محبوب کی تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ کہتے ہیں اس نیک بات کا اثر ان لوگوں کے دل تک نہیں پہنچتا، صحیح حدیث اوپرگذرچ کی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی پہلے زبان سے ایمان لائے لیکن دل سے منکر رہے اور مدعی ایمان ہو کر کافروں جیسے کام کئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

منافقین بزدل ہیں 2: قرآن حکیم نے منافقین کے اسرار واحوال کئی مقامات پر واشگاف اور پر بیان کئے ہیں ۔ تاکہ ان کو معلوم ہو ۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی واقعہ اور کوئی سازش پوشیدہ نہیں ۔ وہ ہر حرکت کو جانتا ہے ۔ اور ہر شرارت سے آگاہ ہے ۔ اس کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔ اس صورت میں بالخصوص ان کے افعال کی مذمت کی ۔ اور بتایا ۔ کہ ان کو دیکھوں تو بظاہر بھلے چنگے معلوم ہوتے ہیں ۔ شکل وشباہت سے وجہات ٹپکتی ہے ۔ معقول آدمی دکھائی دیتے ہیں ۔ مگر قلب و دماغ کی یہ کیفیت ہے ۔ کہ بالکل بیکار ہیں ۔ جس طرح غیر ضروری لکڑیاں دیوار کے سہارے کھڑی کردی جاتی ہیں ۔ اسی طرح یہ لوگ بالکل مہمل ہیں ۔ ان سے فائدہ کی توقع فضول…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) یہ بسبب اس کے ہے کہ یہ لوگ اول ظاہر میں ایمان لائے پھر منکر ہوگئے سو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی اب یہ لوگ حق بات کو سمجھتے ہی نہیں۔ یعنی یہ اس سبب سے ہوا کہ یہ لوگ پہلے ایمان کے مدعی بنے امنا کہتے پھرے ظاہر میں سب کو ایمان کا یقین دلاتے رہے پھر کافروں سے کہا، انامعکم کافروں کی طرح اسلام کو نقصان پہنچاتے رہے لہٰذا ان کے قلوب پر مہر کردی گئی اور استمرار علی الکفر کی وجہ سے دل مسخ ہوگئے اب ان کی سمجھ میں کوئی حق بات آتی ہی نہیں یہی ان کے وہ برے کام ہیں جن کو اوپر فرمایا تھا انھم ساء ماکانوا یعلون کو خود تو منافق ہیں دوسروں کو بھی مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 6۔ سبب نزول آیات متضمنہ ذکر منافقین کا یہ ہے کہ کسی غزوہ میں کسی مہاجر اور انصاری میں تکرار ہوگیا، اس پر عبداللہ بن ابی بگڑا کہ تم نے ان پر دیسیوں کو روٹیاں کھلا کھلا کر بگاڑ دیا۔ اب کے مدینہ پہنچ کر ان لوگوں کو خرچ دینا بند کردو، خود ہی چلے جائیں گے، اور یہ بھی کہا کہ ہم عزت والے ہیں ان ذلت والوں کو نکال دیں گے، یہ بات زید بن ارقم صحابی نے سن کر رسول اللہ ﷺ سے جا کہی، آپ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے رفقاء کو بلا کر پوچھا وہ صاحب مکر گیا اور قسمیں کھا گیا، زید بن ارقم کو بڑا رنج ہوا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان کے بعد کفر اور کفر کے بعد ایمان اسی حالت نے ان کا ستیا ناس کردیا ہے 3 ؎ ان کی عجیب و غریب حالت کا بیان بھی بڑا عجیب و غریب ہی ہے کہ زبان سے اقرار کرتے ہیں تو عمل سے کفرکا ساتھ دیتے ہیں ۔ جب مسلمان کے سامنے آتے ہیں تو ان کو اپنے ایمان کو باور کرانے کے لیے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ وہ باور کرلیتے ہیں کہ یہ ہمارے بہت ہی خرا خواہ ہیں اور جب اپنے مخصوص ساتھیوں کے سامنے ہوتے ہیں تو ان کو باور کراتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ محض اس لیے میل ملاپ رکھتے ہیں کہ ان سے جو باتیں راز کی ہم کو معلوم ہوں تم کو بتائیں اور حقیقت میں وہ نہ انکے ساتھ ہیں اور نہ ان کے ساتھ ۔ ان کی سمجھ میں آئے یا نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary Background of Revelation The incident, in which this Surah was revealed, took place in the campaign against Banul-Mustaliq which happened, according to Muhammad Ibn Ishaq in Sha’ ban 6AH and according to Qatadah and ‘Urwah, in Sha’ ban 5AH. [ Mazhari ] According to Muhammad Ibn Ishaq and most historians, the details of the incident is as follows: The Messenger of Allah received the news that the leader of Banul-Mustaliq, name, Harith Ibn Dirar, is preparing for a campaign against him Harith Ibn Dirar was the father of Sayyidna Juwairiah ؓ who later on embraced Islam and became one…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 In this verse "believing" means professing the faith in order to be counted among Muslims, and 'disbelieving" means not to believe sincerely and to persist in disbelief as usual. The verse means to say that when they, after due thought, decided to adopt this hypocritical attitude instead of adopting either belief or disbelief plainly, Allah caused a seal to be set on their hearts and deprived them of the grace to adopt the attitude and conduct of a true, sincere and noble person. Now, their power of understanding has been lost, their moral sense has become dead, and while following this way…

Read the full tafseer →