Al-Munaafiqoon 63:2

Al-Munaafiqoon · from ayah 2

63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ— اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟اِتَّخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They have taken their oaths as a cover, so they averted [people] from the way of Allah. Indeed, it was evil that they were doing.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Munaafiqoon

All translations of 63:2

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اِس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اللہ کی راه سے رک گئے بیشک برا ہے وه کام جو یہ کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے۔ پھر یہ لوگ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت ہی برے ہیں وہ کام جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا تو اللہ کی راہ سے روکا بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے اپنی قَسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پھر یہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، بیشک وہ بہت ہی برا (کام) ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا۔ یقینا یہ لوگ جو کچھ کرتے رہے ہیں برا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور (اس طرح) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں بہت برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈال بنا رکھا ہے اور وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں۔ بیشک نہایت ہی برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے تو اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پھر یہ (دوسروں کو بھی) روکتے ہیں اللہ کی راہ سے بلاشبہ بڑی ہی بری ہیں وہ حرکتیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

ان لوگوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے پھر یہ لوگ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں بیشک کیسے برے ان کے کرتوت رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور یہ اللہ کے راستے سے رُک گئے ہیں۔ بہت ہی برا کام ہے جو یہ لوگ کرر ہے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They shelter behind their oath, and thus hinder their own selves and others from the Path of Allah. Evil indeed is what they do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They have made their oaths a shield, and thus they have prevented (others) from the way of Allah. Surely evil is what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

They have made their oaths a shield, and thus they have prevented (others) from the way of Allah. Surely evil is what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah. Verily, evil is what they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They make their faith a pretext so that they may turn (men) from the way of Allah. Verily evil is that which they are wont to do,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They have taken their oaths as a cover, so they averted [people] from the way of Allah. Indeed, it was evil that they were doing.

— Saheeh International

They have chosen their oaths as a shield for them to obstruct others from the way of God. How terrible is what they do!

— Muhammad Sarwar

They make their oaths a shelter, and thus turn away from Allah's way; surely evil is that which they do.

— Muhammad Habib Shakir

They have taken their oaths for a shield; then they turn away men from the way of Allah. Verily vile is that which they have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

They have made their oaths a screen (for their misdeeds): thus they obstruct (men) from the Path of Allah: truly evil are their deeds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 63:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ گویہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر درصال دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لئے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں، مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار ہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُنٰفِقُوْن 2 یعنی اپنے مسلمان اور مومن ہونے کا یقین دلانے کے لیے جو قسمیں وہ کھاتے ہیں، ان سے وہ ڈھال کا کام لیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے غصے سے بچے رہیں اور ان کے ساتھ مسلمان وہ برتاؤ نہ کرسکیں جو کھلے کھلے دشمنوں سے کیا جاتا ہے۔ ان قسموں سے مراد وہ قسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو وہ بالعموم اپنے ایمان کا یقین دلانے کے لیے کھایا کرتے تھے، اور وہ قسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو اپنی کسی منافقانہ حرکت کے پکڑے جانے پر وہ کھاتے تھے تاکہ مسلمانوں کو یہ یقین دلائیں کہ وہ حرکت انہوں نے منافقت کی بنا پر نہیں کی تھی، اور وہ قسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو عبداللہ بن ابی نے حضرت زید بن ارقم کی دی ہوئی خبر کو جھٹلانے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

خلاصہ تفسیر جب آپ کے پاس یہ منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (دل سے) گواہی دیتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں (اس میں تو ان کے قول کی تکذیب نہیں کی جاتی) اور (باوجود اس کے) اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین (اس کہنے میں) جھوٹے ہیں ، (کہ ہم دل سے گواہی دیتے ہیں، کیونکہ وہ گواہی محض زبانی ہے اعتقاد قلب سے نہیں) ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال کو بچانے کے لئے) ڈھال بنا رکھا ہے (کیونکہ اظہار کفر کرتے تو ان کی حالت بھی مثل دوسرے کفار کے ہوجاتی کہ جہاد کیا جاتا اور قتل و غارت ہوتا) پھر (اس لازمی خرابی کے ساتھ متعدی خرابی بھی ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(اتخذوا یمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ انھم ساء ما کانو یعملون) (2)۔ (قسم کو سپر بنانے والوں کا انجام)۔ لیکن انہوں نے تمہاری گرفت سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی قسموں کو ڈھال بنایا ہے کہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کے سبب جو وہ اسلام کے خلاف برابر کررہے ہیں۔ تمہیں ان کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو، وہ اسلام کے برابر مخلص سمجھے جاتے رہیں۔ سورة مجادلہ آیت 14 میں ان منافقین ہی کی یہ سازش بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے خدا کی مغضوب قوم یہود سے دوستی گانٹھ رکھی ہے۔ ایک طرف اپنی قسموں کے ذریعہ سے انہیں اطمینان دلا رکھا ہے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کو بھی قسم کھا کر اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم تو آپ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یعنی وہ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تمہاری طرح مسلمان ہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں انہوں نے اپنی اس قسم کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اس کے ذریعے سے وہ تم سے بچے رہتے ہیں اور کافروں کی طرح یہ تمہاری تلواروں کی زد میں نہیں آتے۔ 2۔ 2 دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ انہوں نے شک و شبہات پیدا کرکے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–3

1: جس طرح ڈھال سے تلوار کا بچاؤ کیا جاتا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے اپنے بچاؤ کے لیے یہ قسمیں کھالی ہیں کہ وہ مومن ہیں، تاکہ دنیا میں کافروں کا جو برا انجام ہونے والا ہے، یہ اس سے بچ جائیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اتخذو ................ جنة (36 : 2) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایمان کے بارے میں جب ذرا بھی شبہ پیدا ہوتا تو وہ قسمیں اٹھانا شروع کردیتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب معلوم ہوتا کہ انہوں نے فلاں فلاں سازش میں حصہ لیا۔ یا جب ان کی کوئی تنقید مسلمانوں تک پہنچ جاتی۔ جب بھی ان کی کوئی ایسی بات کھلتی وہ قسمیں شروع کردیتے۔ یوں وہ اپنی صفائی بیان کردیتے۔ اور اس ڈھال کے پیچھے اپنے آپ کو بچا لیتے ، تاکہ آئندہ وہ اپنی سازشیں اور خفیہ تدابیر جاری رکھ سکیں اور ان میں جو بیوقوف تھے ان کو مزید دھوکہ دے سکیں۔ فصدوا ................ اللہ (36 : 2) ” اس طرح وہ اللہ کے راستے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جھوٹی قسمیں کھالیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور مجاہدین اسلام کے ہاتھوں سے اپنی جان و مال محفوظ رکھنے کے لیے ان ہی قسموں کی آڑ پکڑتے ہیں۔ جہاں کوئی بات قابل گرفت ان سے سرزد ہوئی اور مسلمانوں کی طرف سے مواخذہ کا خوف ہوا، فوراً جھوٹی قسمیں کھا کر بری ہوگئے۔ 5 یعنی اسلام اور مسلمانوں کی نسبت طعن وتشنیع اور عیب جوئی کر کے دوسروں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور لوگ ان کو بظاہر مسلمان دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں، تو ان کی جھوٹی قسموں کا ضرر فساد ان ہی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دوسروں تک متعدی ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر برا کام اور کیا ہوگا۔ (لیکن ایک شخص جب تک بظاہر ضروریات دین کا اقرار کرتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور یہ اللہ کے راستے سے رُک گئے ہیں۔“ جہاد و قتال سے بچنے کے لیے یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر جھوٹے بہانے بناتے تھے کہ اللہ کی قسم میری بیوی سخت بیمار ہے ‘ گھر میں کوئی دوسرا اس کی دیکھ بھال کرنے والا بھی نہیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔ جب نوبت قسموں تک پہنچ گئی تو گویا مرض دوسری سٹیج میں داخل ہوگیا۔ { اِنَّہُمْ سَآئَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ } ”بہت ہی برا کام ہے جو یہ لوگ کرر ہے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 یعنی قسموں سے وہ کام لیتے ہیں وہ جو ڈھال سے لیا جاتا ہے۔ وہ قسموں کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنے ایمان کا یقین دلا کر اپنا جان و مال محفوظ کرلیتے تھے۔ نیز جب ان کی کوئی ناشائستہ حرکت یا سازش پکڑی جاتی ہے۔ تو جھوٹی قسمیں کھا کر مسلمانوں کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ کیونکہ اسلام کا قانون یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری افعال پر ہی گرفت کرتا ہے۔ 3 صَدَّ کا لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے خود تو ان منافقوں کا اسلام سے رکنا واضح ہے جو لوگ اسلام لانا چاہیں ان کے دلوں میں کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کے اسلام لانے میں سدّراہ بن جاتے ہیں اور وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب یہ پہلے سے اسلام میں داخل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ یہ منافقین خود تو ایمان سے محروم تھے ہی، دوسروں کو بھی راہ حق سے روکتے رہتے تھے، اور اس لیے ان کا جرم دہرا جرم تھا۔ (آیت) ” اتخذوا ایمانھم جنۃ “۔ یعنی یہ لوگ اگر علانیہ اپنے کفر وعداوت اسلام کا اظہار کردیں تو ان کا شمار بھی کفروں میں ہونے لگے اور ان کے مقابلہ میں جہادواجب ہوجائے، اس لیے یہ اپنے جان اور مال کے بچانے کی خاطر جھوٹی قسمیں کھاکھا کر اپنے کو مسلمان ظاہر کررہے ہیں۔ کوئی شخص جب تک زبان سے اسلام کا اقرار کررہا ہے، خواہ وہ حقیقہ کیسا ہی دشمن اسلام ہو، اسلام اسے قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا، (آیت) ” فصدوا عن سبیل اللہ “۔ یعنی دوسروں کو بھی راہ حق سے روک کر اپنے جرم کا درجہ دگنا کررہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اتخذوا ... یعملون . ” ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال کو بچانے کے لیے) سپر بنا رکھا ہے ‘ پھر دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ‘ ان کے یہ اعمال بہت ہی برے ہیں۔ “ اَیْمَانَھُمْ : ایمان سے مراد ہیں قسمیں یا شہادت کیونکہ شہادت بھی (ایک طرح کی قسم ہی ہوتی ہے) شہادت الفاظ حلف میں سے ہے۔ جُنَّۃً : یعنی قتل و قید سے بچنے کا ذریعہ۔ فَصَدُّوْا : پھر خود رک گئے یا دوسروں کو روک دیا۔ اگر اس کا مصدر صدور ہو تو رکنے ‘ اعراض کرنے اور باز رہنے کے معنی ہوں گے اور اگر صدٌّ مصدر سے مشتق مانا جائے تو دوسروں کو روکنے کے معنی ہوں گے (اوّل لازم ہے ‘ دوسرا متعدی) ۔ عَنْ سَبِیْلِ اللہ : یعنی دین اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ان لوگوں نے اپنی قسموں کو اپنی حفاظت کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے کہ خفیہ طور پر لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکتے ہیں ان کا یہ روکنا اور ان کا مکرو خیانت یہ برے کام ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً۔۔۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ مجادلہ کی آیت (16) کی تفسیر۔”سبیل اللہ“ سے مراد اسلام بھی ہے اور جہاد بھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں۔ اتخذوآ ایمانھم جنۃ، جنۃ کا معنی پر وہ ہے (1) یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، نشھد انک لرسولہ اللہ کی طرف راجع نہیں یہ آیت کے سبب کی طرف راجع ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جس طرح امام بخاری اور امام ترمذی نے ابن ابی کے بارے میں روایت نقل کی ہے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ اس نے یہ بات نہیں کی حالانکہ اس نے یہ بات کہی تھی۔ ضحاک نے کہا، اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھایت ھی کہ وہ تمہیں میں سے ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : ان کی ایمان سے مرادوہ ہے جو ان کے رب نے ان کے بارے میں سورة براۃ آیت 74 میں خبر دیا رشاد باری تعالیٰ ہے : یحلفون باللہ ماقلوا۔ مسئلہ نمبر 2۔ جس نے کہا : اقسم باللہ اشھد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ ابن سعد واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم الترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے۔ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔ تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ان پر مت خرچ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے بھاگ جائیں اور مزید یہ بھی کہا اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے یہ سن کر میں نے نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے اس بات کی آپ کو خبر دی آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے قسم کھالی کہ اس نے ایسا نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانهُمْ : انھوں نے بنایا اپنی قسموں کو ] [جُنَّةً : ایک ڈھال ] [فَصَدُّوْا : پھر وہ روکتے ہیں (لوگوں کو)] [عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کے راستہ سے ] [انهُمْ : بیشک وہ لوگ (ہیں کہ)] [سَاۗءَ مَا : برا ہے وہ جو ] [كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے رہتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِتَّخَذُوْۤا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً ﴾ (انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے) اپنے جھوٹے دعوائے ایمان کو ثابت کرنے کے لئے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ مسلمان سمجھے جائیں اور مسلمانوں کے ماحول میں ان کی جانیں اور اموال اور اولاد محفوظ رہ سکیں اگر کھل کر کفر کا اقرار کرلیں تو اندیشہ ہے کہ دوسرے کافروں کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ ہی ان کے ساتھ کیا جائے اور ان کے ساتھ جو امن وامان کا برتاؤ ہوتا ہے وہ ختم کردیا جائے۔ ﴿فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ﴾ (سو انہوں نے روک دیا اللہ کی راہ سے) اپنی جانوں کو بھی اللہ کی راہ سے دور رکھا اور اپنی اولاد کو بھی اور دوسرے ملنے جلنے والوں کو بھی ﴿ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔ (ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” اتخذوا ایمانہم “ یہ منافقین پر زجر ہے۔ یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے حضرت زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ مریسیع میں منافقین نے بھی شرکت کی۔ میں نے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کو اپنے ساتھیوں سے یہ کہتے سنا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی مالی امداد کرنا بند کردو تو وہ بھوکوں مرتے خود بخود اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہوجائیں گے اور جب ہم مدینہ میں واپس جائیں گے (عیاذا باللہ) ان ذلیلوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے۔ میں چونکہ چھوٹا تھا اس لیے براہ راستحضور ﷺ کی خدمت میں حقیقت حال واضح کرنے کے بجائے اپنے چچا کو صورت حال سے آگاہ کردیا جنہوں نے سارا ماجر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کردیا۔ آپ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة المنافقون ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے اس سوۃ میں اللہ نے منافقوں کی مذمت بیان کی ہے لہٰذا یہ سورة انہیں کے نام پر موسوم ہے۔ پچھلی سورة کی طرح یہ بھی چھوٹی سورة ہے ، جس کی گیارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 776 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس میں منافقوں کی قباحت ، ان کی سازش اور بزدل کا بیان ہے۔ اللہ نے ان منافقوں کی بداعمالیوں کی قلعی اس ورۃ میں کھولی ہے اور حضور ﷺ کو ان کی سازشوں سے آگاہ کیا ہے۔ اس سورة کے علاوہ سورة البقرہ سورة آل عمران ، سورة مائدہ ، سورة توبہ ، سورة احزاب اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝ 0 ۭ اِنَّہُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 2 أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : اذا شرط قالوا جو ابہ وقیل محذوف وقالوا حال ای جائوک قائلین کیت وکیت فلاتقبل منھم وقیل جو ابہ اتخذوا فیہ مافیہ۔ واللہ یعلم الخ جملہ معترضۃ مقررۃ لمضمون ماقبلھا وھو الشہادۃ باللسان مع الانکار فی القلب اتخذو الخ الجملۃ مستانفۃ لبیان کذبھم و حلفھم علیہ۔ ایمانہم عند الجمھور بفتح الھمزۃ جمع الیمین وقریٔ بکسرہا والجنۃ الترس ‘ سپر۔ ساء ھھنا بمعنی بئس فی افادۃ الذم فطبع قرء الجمھور مبنیا للمفعول وقریٔ مبنیا للفاعل واذارایتھم شرط تعجبک جو ابہ وان یقولوا شرط تسمع جو ابہ وقریٔ یسمع علی البناء للمفعول مسندۃ من الاسنا دبمعنی الامالۃ والتشدید للمبالغۃ وقریٔ خشب بضمتین وقریٔ باسکان الشین وقری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَھُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اِنَّھُمْ سَآئَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المنافقون : 2) (انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے وہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دوسروں کو روکتے ہیں، بیشک نہایت ہی برا ہے جو یہ کررہے ہیں۔ ) قسم کو سپر بنانے کی وجہ منافقین کے دل میں چونکہ کھوٹ بلکہ دشمنی تھی اس لیے جب بھی انھیں موقع ملتا وہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے۔ یہود سے درپردہ ان کے روابط بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھے۔ دل کا کھوٹ ہمیشہ آدمی کو اپنے بارے میں بھی یکسو نہیں ہونے دیتا، اسے یہ گمان رہتا ہے کہ ممکن ہے کہ دوسرے لوگ میرے بارے میں بری رائے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–3

فہم القرآن ربط کلام : منافق صرف جھوٹ نہیں بولتا بلکہ جھوٹی قسمیں بھی اٹھاتا ہے۔ منافق دنیا کے فائدے کی خاطر منافقت اختیار کرتا ہے۔ جب اسے کسی نقصان یا اپنی بےعزتی کا خطرہ محسوس ہو تو اس سے بچنے کے لیے جھوٹی قسم اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اس طرح وہ اللہ کے نام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ منافق نہ صرف خود صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی سیدھے راستے سے روکتا ہے۔ منافق کا جھوٹی قسمیں کھانا اور لوگوں کو ” اللہ “ کی راہ سے روکنا بدترین عمل ہے کیونکہ منافق دنیا کے فائدے کی خاطر ایسا کرتا ہے اس لیے اسے فائدہ نظر آئے تو وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتا اور بظاہر مسلمانوں جیسا کردار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : اِتَّخَذُوْا اَیْمَانَھُمْ جُنَّۃً (انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے) یعنی قتل وقید سے بچانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ اشہد یمین ہے۔ فَصَدُّوْا (پھر دوسروں کو بھی روکتے ہیں) عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) اسلام سے نفرت دلاتے ہیں۔ اور لوگوں کو اشتباہ میں مبتلا کرتے ہیں۔ اِنَّہُمْ سَآ ئَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کے یہ اعمال بہت ہی برے ہیں) منافقت سے مراد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنا۔ ساءؔ میں تعجب کا معنی ہے تاکہ سامعین کے ذہنوں میں ان کے اس معاملے کو انتہائی برا سمجھاجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” اذا جاء ک المنافقون “ یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی۔ ” قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقین لکاذبون “ اس لئے کہ انہوں نے جو ظاہر کیا اس کے خلاف دل میں چھپایا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور اسلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے۔ بیچ میں اپنے رسول کی تسکین کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ قسم کھا کر اس بات کی صداقت ادا کرتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم اللہ کے رسول ہو لیکن ان منافقوں کی دو دلی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً ) یعنی انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنارکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے مسوب ہونے سے بچاتے ہیں (اِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) پس انہوں نے خود کو بھی اللہ کے راستے سے روک رکھا ہے اور دوسروں لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے (اِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں وہ برے ہیں۔ انہوں نے ایمان کو ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا اور اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تاثر دیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–9

اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 ۔ منافقوں کے اپنی قسموں کو ڈھال بنانے کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ یعنی دنیوی سزاؤں سے بچنے کے لیے جو اہل کفر کے لیے مقرر و مخصوص ہیں، سو یہ لوگ اپنی جھوٹی قسموں کے ذریعے اپنے بجاؤ کا سامان اس طرح کرتے ہیں جس طرح ڈھال کے ذریعے اپنے بچاؤ کا سامان کیا جاتا ہے، سو یہ لوگ اپنی ان جھوٹی قسموں کے ذریعے مسلمانوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ اور آپ ہی میں سے ہیں، اور یہود وغیرہ تمہارے دشمنوں سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، لیکن جھوٹٰ قسموں کی بناء پر قائم کردہ یہ ڈھال ان کو زیادہ دیر تک کام نہیں دے سکتی، انہوں نے جلد رسوا ہو کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

منافق ان کے کارنامے اور انجام تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

“2 اس معنی میں کہ جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی جانوں اور مالوں کو مسلمانوں سے بچانا چاہتے ہیں۔3 یعنی لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں اور اسی طرح انہیں مسلمان ہونے نہیں دیتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(63:2) اتخذوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر سے انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے اختیار کرلیا۔ انہوں نے ٹھہرا لیا۔ انہوں نے بنا لیا۔ ایمانہم : مضاف مضاف الیہ ان کی قسمیں (جو وہ اپنے جھوٹ کی تائید میں کھاتے ہیں) جنۃ۔ ڈھال۔ آڑ۔ پردہ۔ جنن جمع۔ جن (باب نصر) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کا حواس سے چھپ جانا۔ چونکہ ڈھال سے بدن کو چھپایا جاتا ہے اس لئے اس کو جنۃ کہتے ہیں۔ اسی مصدر سے جنۃ بمعنی جنت۔ باغ۔ بہشت ہے ۔ کیونکہ باغات کے درخت زمین کو چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور اسی مصدر سے جنۃ بمعنی جنون دیوانگی ہے کہ عقل کو چھپا دیتی ہے اور اسی سے جن بمعنی جن ہے کہ عام مخلوق سے پوشیدہ اور غائب رہتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔ تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔ اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

منافقوں اور ان کی علامات کا ذکر۔ (ف 1) زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر نبی ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا، اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور سلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ اور ہے دل میں کچھ ہے بیچ میں اپنے محبوب کی تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ کہتے ہیں اس نیک بات کا اثر ان لوگوں کے دل تک نہیں پہنچتا، صحیح حدیث اوپرگذرچ کی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] یعنی جھوٹی قسمیں کھالیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور مجاہدین اسلام کے ہاتھوں سے اپنی جان و مال محفوظ رکھنے کے لئے انہی قسموں کی آڑ پکڑتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

منافقین بزدل ہیں 2: قرآن حکیم نے منافقین کے اسرار واحوال کئی مقامات پر واشگاف اور پر بیان کئے ہیں ۔ تاکہ ان کو معلوم ہو ۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی واقعہ اور کوئی سازش پوشیدہ نہیں ۔ وہ ہر حرکت کو جانتا ہے ۔ اور ہر شرارت سے آگاہ ہے ۔ اس کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔ اس صورت میں بالخصوص ان کے افعال کی مذمت کی ۔ اور بتایا ۔ کہ ان کو دیکھوں تو بظاہر بھلے چنگے معلوم ہوتے ہیں ۔ شکل وشباہت سے وجہات ٹپکتی ہے ۔ معقول آدمی دکھائی دیتے ہیں ۔ مگر قلب و دماغ کی یہ کیفیت ہے ۔ کہ بالکل بیکار ہیں ۔ جس طرح غیر ضروری لکڑیاں دیوار کے سہارے کھڑی کردی جاتی ہیں ۔ اسی طرح یہ لوگ بالکل مہمل ہیں ۔ ان سے فائدہ کی توقع فضول…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) ان اہل نفاق نے اپنی قسموں کو ڈھال اور سپر بنارکھا ہے سو یہ منافق لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں بلاشبہ وہ کام بہت برے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک اسلام کا نام لیتے اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں ان پر جہاد نہیں کیا جاسکتا اور ان کی جان اور اموال محفوظ ہیں تو گویا انہوں نے اپنی قسموں کو اپنے اموال اور اپنی جان کے بچائو کے لئے ڈھال بنارکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اپنی مجلس میں منافق طعن اور عیب مسلمانوں کا بکتے جب ان پر پکڑ ہوتی منکر ہوکر قسم کھاجاتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی۔ خلاصہ : یہ کہ اس سے زیادہ برے کام ان کے اور کیا ہوں گے کہ کہیں اور قسم کی آڑ لے کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 6۔ سبب نزول آیات متضمنہ ذکر منافقین کا یہ ہے کہ کسی غزوہ میں کسی مہاجر اور انصاری میں تکرار ہوگیا، اس پر عبداللہ بن ابی بگڑا کہ تم نے ان پر دیسیوں کو روٹیاں کھلا کھلا کر بگاڑ دیا۔ اب کے مدینہ پہنچ کر ان لوگوں کو خرچ دینا بند کردو، خود ہی چلے جائیں گے، اور یہ بھی کہا کہ ہم عزت والے ہیں ان ذلت والوں کو نکال دیں گے، یہ بات زید بن ارقم صحابی نے سن کر رسول اللہ ﷺ سے جا کہی، آپ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے رفقاء کو بلا کر پوچھا وہ صاحب مکر گیا اور قسمیں کھا گیا، زید بن ارقم کو بڑا رنج ہوا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان لوگوں نے قسموں کو محض ڈھال بنا رکھا ہے ، اللہ کی راہ سے دور رہیں 2 ؎ (ایمانھم) انہوں نے اپنی قسموں کو ۔ ایمان جمع ہے یمین کی اور یمین کے اصل معنی تو داہنے ہاتھ کے ہیں ۔ معاہدہ کرنے والا اور حلیف جو دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے یہی حلف کے معنی ہیں ۔ اس فعل سے مستعارہ لیا گیا ہے۔ اس لیے یہ بات یاد رہے کہ ایمان اور ایمان میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایمان کے معنی تصدیق کرنے کے ہیں یعنی خبر دینے والے کے حکم کا یقین کرنا ۔ اسی طرح حکم کو قبول کیا جائے اور بتانے والے کو سچا قرار دیا جائے۔ یہ مصدر ہے بروزن افعال امن سے مآخوذ ہے گویا ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جس پر ایمان لایا جائے اس کو تکذیب و مخالفت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary Background of Revelation The incident, in which this Surah was revealed, took place in the campaign against Banul-Mustaliq which happened, according to Muhammad Ibn Ishaq in Sha’ ban 6AH and according to Qatadah and ‘Urwah, in Sha’ ban 5AH. [ Mazhari ] According to Muhammad Ibn Ishaq and most historians, the details of the incident is as follows: The Messenger of Allah received the news that the leader of Banul-Mustaliq, name, Harith Ibn Dirar, is preparing for a campaign against him Harith Ibn Dirar was the father of Sayyidna Juwairiah ؓ who later on embraced Islam and became one…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 That is, they use the oaths that they swear to convince others of their Islam and faith as a shield to save themselves from the wrath of the Muslims so that they do not treat them as they treat their open enemies. These oaths may imply the oaths which they usually swear to convince others of their faith as well as those which they swore when they were caught committing some hypocritical act, and also those oaths which 'Abdullah bin Ubayy had sworn to contradict the report given by Hadrat Zaid bin Arqam. Besides these, there is another probability that Allah might have regarded this…

Read the full tafseer →