Explained with ayahs 1–4
اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ گویہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر درصال دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لئے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں، مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار ہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم…
Read the full tafseer →سورة الْمُنٰفِقُوْن 1
یعنی جو بات وہ زبان سے کہہ رہے ہیں وہ ہے تو بجائے خود سچی، لیکن چونکہ ان کا اپنا عقیدہ وہ نہیں ہے جسے وہ زبان سے ظاہر کر رہے ہیں، اس لیے اپنے اس قول میں وہ جھو ٹے ہیں کہ وہ آپ کے رسول ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شہادت دو چیزوں سے مرکب ہوتی ہے۔ ایک وہ اصل بات جس کی شہادت دی جائے۔ دوسرے اس بات کے متعلق شہادت دینے والے کا اپنا عقیدہ۔ اب اگر بات بجائے خود بھی سچی ہو، اور شہادت دینے والے کا عقیدہ بھی وہی ہو جس کو وہ زبان سے بیان کر رہا ہو، تو ہر لحاظ سے وہ سچا ہوگا۔ اور اگر بات اپنی جگہ جھوٹی ہو، لیکن شہادت دینے والا اسی کے حق ہونے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
خلاصہ تفسیر
جب آپ کے پاس یہ منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (دل سے) گواہی دیتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں (اس میں تو ان کے قول کی تکذیب نہیں کی جاتی) اور (باوجود اس کے) اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین (اس کہنے میں) جھوٹے ہیں ، (کہ ہم دل سے گواہی دیتے ہیں، کیونکہ وہ گواہی محض زبانی ہے اعتقاد قلب سے نہیں) ان لوگوں نے اپنی قسموں کو (اپنی جان و مال کو بچانے کے لئے) ڈھال بنا رکھا ہے (کیونکہ اظہار کفر کرتے تو ان کی حالت بھی مثل دوسرے کفار کے ہوجاتی کہ جہاد کیا جاتا اور قتل و غارت ہوتا) پھر (اس لازمی خرابی کے ساتھ متعدی خرابی بھی ہے…
Read the full tafseer →اذا جاءک المنفقون قالو انشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون) (1)۔
(پختہ کار منافقین کا کردار)۔ ایک گروہ کے منافقانہ طرز عمل کی طرف اشارہ پچھلی سورة میں بھی ہوا ہے لیکن وہاں بات عام صیغہ سے در پردہ فرمائی گئی تھی، اس سورة میں پردہ بالکل اٹھا دیا گیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس میں ان منافقین کا کردار زیر بحث ہے جو نفاق میں اتنے پختہ ہوچکے تھے کہ ان سے کسی اصلاح کی توقع باقی نہیں رہی تھی چناچہ ان کے بارے میں آگے پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا بھی ہے کہ ان کے لیے تم مغفرت مانگو بھی تو اللہ ان کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ بلکہ دوسرے مقام میں یہاں تک فرمایا ہے…
Read the full tafseer →1۔ 1 منافقین سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔ یہ جب نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
1۔ 2 یہ جملہ معترضہ ہے جو مضمون ماقبل کی تاکید کے لیے ہے جس کا اظہار منافقین بطور منافقت کے کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو ویسے ہی زبان سے کہتے ہیں، ان کے دل اس یقین سے خالی ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔
1۔ 3 اس بات میں کہ وہ دل سے آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، یعنی دل سے گواہی نہیں دیتے صرف زبان سے دھوکا دینے کے لئے اظہار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہ رسول اللہ کے پاس آتے تھے۔ آپ کے سامنے یہ لوگ آپ کی رسالت پر ایمان کی شہادت دیتے تھے ، لیکن دل سے یہ شہادت نہ ہوتی۔ بطور تقیہ یہ شہادت دیتے ، تاکہ ان کی حقیقت مسلمانوں سے چھپ جائے ، لیکن درحقیقت یہ جھوٹی شہادت دے رہے تھے۔ محض دھوکے کے لئے آتے۔ یہ اس کے ذریعہ اپنے آپ کو چھپاتے۔ چناچہ اللہ فرماتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ لیکن اس موقعہ پر اللہ حضور کی رسالت کی تصدیق خود فرماتا ہے اور منافقین کی جھوٹ کی شہادت دیتا ہے۔
واللہ ................ لرسولہ (36 : 1) ” اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو “۔ اور واللہ .................... لکذبون (36 : 1) ” اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں…
Read the full tafseer →2 یعنی ہم دل سے اعتقاد رکھتے ہیں آپ ﷺ کے رسول ہونے پر۔
3 یعنی جھوٹ کہتے ہیں کہ ان کو دل سے اعتقاد ہے۔ واقع میں وہ آپ کی رسالت کے قائل نہیں محض اپنی اغراض کے پیش نظر زبان سے باتیں بناتے ہیں اور دل میں سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ پھر اسی ایک بات پر کیا منحصر ہے، جھوٹ بولنا ان کی امتیازی خصلت اور شعار بن چکا ہے۔ بات بات میں کذب و دروغ سے کام لیتے ہیں۔ چناچہ اسی سورت میں ایک واقعہ کا ذکر آیا چاہتا ہے جس میں انہوں نے صریح جھوٹ بولا، اور اللہ نے آسمان سے ان کی تکذیب کی۔
Read the full tafseer →آیت 1{ اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ 7} ”اے نبی ﷺ ! جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔“
{ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ } ”اور اللہ جانتا ہے کہ یقینا آپ اس کے رسول ہیں۔“
{ وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَــکٰذِبُوْنَ۔ } ”اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین یقینا جھوٹے ہیں۔“
یعنی آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی یہ لوگ صرف اپنی زبانوں سے دیتے ہیں ‘ ان کے دل اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے ‘ اس لیے یہ لوگ جھوٹے کٰذِبُوْنَ ہیں۔ جیسا کہ تمہیدی کلمات میں ذکر ہوا ہے بات بات پر جھوٹ بولنا مرض…
Read the full tafseer →1 یعنی منافق بھی یہ شہادت دیتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے بھی یہی شہادت دی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے باوجود اللہ یہ بھی شہادت دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔ کیونکہ یہ شہادت وہ دل کے یقین سے نہیں بلکہ محض فریب کاری کی غرض سے زبانی طور پر دیتے تھے۔ علاوہ ازیں ان کے اعمال ان کے اس زبانی دعویٰ کی تائید نہیں کرتے تھے۔ اور قول و فعل میں دیدہ دانستہ تضاد منافقت کی دلیل ہے۔ ایمان کی نہیں۔
Read the full tafseer →1۔ (اپنے اس دعوے میں کہ ہم آپ کے رسول ہونے کے گواہ ہیں) (آیت) ” قالوا ..... اللہ “۔ یعنی اپنے اصلی اور دلی اعتقاد کے خلاف آپ ﷺ کے سامنے آکر آپ کی تصدیق رسالت کانمائشی اظہار کرتے ہیں۔ (آیت) ” لکذبون “۔ اس کذب کا تعلق ظاہر ہے کہ خبر سے نہیں، مخبر سے ہے۔ یعنی بات بجائے خود تو سچی ہے، مگر یہ کہنے والے اس سچ جان کر نہیں کہہ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →اذا جائک المنافقون ... لرسول اللہ .
” جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم (دِل سے) گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ “
اَلْمُنٰفِقُوْنَ : یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی۔
تَشْھَدُ : شہادت ‘ شہود سے ماخوذ ہے۔ شہود کا معنی ہے حضور (حاضر ہونا) اور اطلاع شہادت کا مطلب ہے اپنے علم یقینی کے مطابق خبر دینا۔ اسی لیے اللہ نے اپنے رسول کے رسول ہونے کی تصدیق کی اور منافقوں کی شہادت کو جھوٹا قرار دیا کیونکہ جو شہادت وہ دے رہے تھے اسکی بناء علم یقینی پر نہیں تھی۔
واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ... لکذبون .
” اور اللہ کو یہ معلوم ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ…
Read the full tafseer →جب آپ کے پاس یہ مدینہ منورہ کے منافقین یعنی عبداللہ بن ابی، معتب بن قشیر، جد بن قیس وغیرہ آتے ہیں۔ تو اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہی ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں اس میں ان منافقین کی گواہی کی کوئی حاجت نہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ اپنی قسموں میں جھوٹے ہیں وہ اس چیز کو نہیں جانتے۔
شان نزول : اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ (الخ)
امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی منافق کو اپنے ساتھیوں سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو لوگ رسول اکرم کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو اگر اب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا…
Read the full tafseer →1۔ اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰـفِقُوْنَ :”الْمُنٰـفِقُوْنَ“”النافقائ“ سے مشتق ہے جو ”یربوع“ (چوہے سے ملتے جلتے ایک جنگلی جانور) کے بل کا ایک منہ ہوتا ہے ، وہ اسے اس طرح بناتا ہے کہ اس جگہ مٹی کی طرف اتنی تہہ رہنے دیتا ہے کہ سر مارے تو کھل جائے ، اس منہ کو وہ چھپا کر رکھتا ہے اور دوسرا منہ ظاہر کردیتا ہے۔ منافق بھی چونکہ اپنا کفر چھپاتا اور ایمان ظاہر کرتا ہے ، اس لیے اس کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ یہ ایک خالص اسلامی اصطلاح ہے ، مراد اس سے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔
2۔ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے کچھ عرصہ پہلے اوس اور خزرج کے درمیان ہونے والی جنگ بعاث میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے ،…
Read the full tafseer →اذا جآءک المنفقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون۔ امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم سے روایت نقل کی ہے (1) کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا تو میں نے عبداللہ بن ابی بن سلول کو کہتے ہوئے سنا : لاتنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا اور کہا، لئن رجعنآٰ الی المدینۃ لیخرجن الاعزمنھا الاذل میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور میرے چچا نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے قاسم اٹھا دی کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق کردی اور مجھے جھٹلایا۔ مجھے ایسا غم لاحق ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن سعد واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم الترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے۔ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔ تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ان پر مت خرچ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے بھاگ جائیں اور مزید یہ بھی کہا اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے یہ سن کر میں نے نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے اس بات کی آپ کو خبر دی آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے قسم کھالی کہ اس نے ایسا نہیں کیا…
Read the full tafseer →[اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ : جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق لوگ ] [قَالُوْا : تو وہ کہتے ہیں (کہ)] [نَشْهَدُ انكَ : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ] [لَرَسُوْلُ اللّٰهِ : یقینا اللہ کے رسول ہیں ] [وَاللّٰهُ يَعْلَمُ : اور اللہ جانتا ہے ] [انكَ لَرَسُوْلُهٗ : کہ آپ یقینا اس کے رسول ہیں ] [وَاللّٰهُ يَشْهَدُ : اور اللہ گواہی دیتا ہے ] [ان الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ : کہ منافق لوگ یقینا جھوٹے ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 1) عام قاعدہ یہ ہے کہ اِنَّ جملہ کے شروع میں آتا ہے اور اَنَّ جملہ کے درمیان میں آتا ہے۔ اس کا ایک استثنا ہم پڑھ چکے ہیں کہ قَالَ یا اس کے مشتقات سے شروع ہونے والے جملوں کے درمیان میں اِنَّ…
Read the full tafseer →منافقین کی شرارتوں اور حرکتوں کا بیان
یہاں سے سورة المنافقون شروع ہو رہی ہے۔ اس میں منافقین کی بےایمانی اور بات کر کے مکر جانے اور جھوٹی قسم کھا جانے کا تذکرہ ہے۔ منافقین جو اوپر اوپر سے ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور دل سے کافر تھے یہ لوگ نمازوں میں بھی برے دل سے شریک ہوجاتے تھے نیز جہاد کے مواقع میں بھی حاضر ہوتے تھے اور اپنی حرکتیں جاری رکھتے تھے، شرارتوں سے اور ناگوار باتوں سے باز نہیں آتے تھے، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ جہاد کے لئے تشریف لے گئے (شراح حدیث نے فرمایا ہے کہ یہ غزوہ بنی المصطلق کا واقعہ ہے اور سنن نسائی میں اس کی تصریح ہے) منافقین بھی حسب عادت ساتھ لگ گئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔
(ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ…
Read the full tafseer →2:۔ ” اذا جاءک المنافقون۔ تا۔ ان اللہ لا یہدی القوم الفاسقین “ منافقین پر شکوی ہے۔ منافقین کے اعمال خبیثہ اور ان کے ناپاک عزائم کو واشگاف کر کے مسلمانوں کو ان سے متنفر کیا گیا ہے، تاکہ وہ ان سے دور رہیں۔ ” قالوا نشہد انک لرسول اللہ “ منافقین جب آپ کے پاس آتے ہیں تو قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم دل و جان سے آپ کو اللہ کا سچا رسول مانتے ہیں۔ منافقین کا یہ دعوی چونکہ حق و صداقت کے خلاف تھا، کیونکہ وہ صرف زبان ہی سے رسالت کا اقرار کرتے تھے، لیکن ان کے دل ایمان وتصدیق سے خالی تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تکذیب فرمائی۔ ” واللہ یشہد انہم لکذبون “ کہ اللہ تعالیٰ اعلان فرماتا ہے کہ منافقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة المنافقون ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے اس سوۃ میں اللہ نے منافقوں کی مذمت بیان کی ہے لہٰذا یہ سورة انہیں کے نام پر موسوم ہے۔ پچھلی سورة کی طرح یہ بھی چھوٹی سورة ہے ، جس کی گیارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 776 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس میں منافقوں کی قباحت ، ان کی سازش اور بزدل کا بیان ہے۔ اللہ نے ان منافقوں کی بداعمالیوں کی قلعی اس ورۃ میں کھولی ہے اور حضور ﷺ کو ان کی سازشوں سے آگاہ کیا ہے۔ اس سورة کے علاوہ سورة البقرہ سورة آل عمران ، سورة مائدہ ، سورة توبہ ، سورة احزاب اور…
Read the full tafseer →اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللہِ 0 ۘ وَاللہُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُہٗ 0 ۭ وَاللہُ يَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ 1 ۚ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : اذا شرط قالوا جو ابہ وقیل محذوف وقالوا حال ای جائوک قائلین کیت وکیت فلاتقبل منھم وقیل جو ابہ اتخذوا فیہ مافیہ۔ واللہ یعلم الخ جملہ معترضۃ مقررۃ لمضمون ماقبلھا وھو الشہادۃ باللسان مع الانکار فی القلب اتخذو الخ الجملۃ مستانفۃ لبیان کذبھم و حلفھم علیہ۔ ایمانہم عند الجمھور بفتح الھمزۃ جمع الیمین وقریٔ بکسرہا والجنۃ الترس ‘ سپر۔ ساء ھھنا بمعنی بئس فی افادۃ الذم فطبع قرء الجمھور مبنیا للمفعول وقریٔ مبنیا للفاعل واذارایتھم شرط تعجبک جو ابہ وان یقولوا شرط تسمع جو ابہ وقریٔ یسمع علی البناء للمفعول مسندۃ من الاسنا دبمعنی الامالۃ والتشدید للمبالغۃ وقریٔ خشب بضمتین وقریٔ باسکان الشین وقری…
Read the full tafseer →اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰـفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّـکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ م وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّـکَ لَرَسُوْلُـہٗ ط وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ (المنافقون : 1)
(جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔ )
علامہ ابن منظور لفظ منافق کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
یسمی المنافق منافقا للنفق وھوالسرب فی الارض وقیل انما سمی منافقالانہ نافق کالیربوع وھو دخولہ نافقاء ہ ولہ جحراخریقال لہ القاصعاء … وھویدخل فی النافقاء ویخرج من…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورت : اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں دنیا کے معاملات اور فائدے کو مقدم سمجھنا عملی طور پر منافقت کرنے کے برابر ہے۔ اس لیے سورة جمعہ کے بعد سورة منافقون رکھی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کو ہر قسم کی منافقت سے بچنے کی تعلیم دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک منافق اس قدر برا ہے کہ اس کے کلمہ پڑھنے پر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
فہم القرآن کے دو مقامات پر یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے۔ نَفق چوہے یا لومڑ کی ایسی بل کو کہتے ہیں جس کے دوراستے ہوں۔ منافق اپنے گفتار اور کر دار کے لحاظ سے دوغلا ہوتا ہے جس وجہ سے اسے منافق کہا جاتا ہے منافق اپنی زبان سے وہ دعویٰ کرتا ہے جس…
Read the full tafseer →1 : اِذَا جَآ ئَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّکَ (جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں) لَرَسُوْلُ اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ (کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ منافقین بلاشبہ اس قول میں جھوٹے ہیں) ۔
جھوٹی شہادت :
قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ الاٰیۃ سے منافقین کی مراد ایسی شہادت تھی کہ جس میں زبانوں کے ساتھ ان کے دل بھی موافقت کرنے والے ہیں۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ یعنی…
Read the full tafseer →سورة المنافقون
مدنی ہے اس کی گیارہ آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور اسلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے۔ بیچ میں اپنے رسول کی تسکین کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ قسم کھا کر اس بات کی صداقت ادا کرتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم اللہ کے رسول ہو لیکن ان منافقوں کی دو دلی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ…
Read the full tafseer →جب نبی کریم مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ یعنی بنواوس اور بنو خزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوط اور ان کا مال سلامت رہے پس اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ایسے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چناچہ فرمایا (اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ۘ) جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسل ہیں۔ منافقین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں
قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین…
Read the full tafseer →1 ۔ منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی گواہی کہ یہ قطعی جھوٹے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی طور پر جھوٹے ہیں کہ یہ جو کچھ زبان سے کہتے ہیں دل میں عقیدہ اس کے خلاف رکھتے ہیں، صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ مریسیع کے سفر کے دوران رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول نے وہ جھوٹٰ باتیں کیں جن کا ذکر آگے اسی سورة کریمہ میں فرمایا گیا ہے، تو میں نے معاملہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، آپ کے تحقیق فرمانے پر ابن ابی سلول نے صاف انکار کردیا، اور اس کے حواریوں نے بھی اسی کا ساتھ دیا، جس پر آنحضرت ﷺ نے مجھے جھوٹا قرار دیا اور ان کو سچا (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
منافق ان کے کارنامے اور انجام
تشریح : اسی مضمون کی آیات پہلے بھی گزر چکی ہیں۔ اصل میں جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ ہجرت کر کے گئے تو وہاں تین گروہ وجود میں آئے مسلم، مشرک اور منافق۔ منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دے کر میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو کچھ مضبوط کرلوں گا اور مسلمان تو آج ہیں کل نہیں۔ مٹ مٹا جائیں گے پھر میرا ہی راج ہوگا۔ جو نشانیاں منافقین کی اس سورت میں بتائی گئی ہیں یعنی مضبوط ڈیل ڈول کے امیر کبیر، خوش گفتار اور وضعدار اور پھر ضرورت سے زیادہ قسمیں کھاکھا کر اپنے ایمان کی یقین دہانی کرانا اور نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دینے کا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
یہ سورة مبارکہ خلاف اسلام سازش کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے بارے نازل ہوئی جنہیں منافقین کہا گیا ہے ۔ یہ پانچ یاچھ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی کہ ان کی شرارت کے باعث ان پر لشکر کشی کی گئی خود رسول اللہ نے قیادت فرمائی ان کے چشموں کے نزدیک رن پڑا اور تیراندازی میں ہی ان کے بہت سے لوگ مارے گئے اور انہیں شکست ہوئی بہت سے لوگ قید ہوئے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بھی انہیں قیدیوں میں تھیں جو ازواج مطہرات میں داخکل ہوئیں اور یوں قبیلے کی تقریبا ایک صد خواتین کی رہائی کا سبب بن کر قبیلے کے اسلام لانے کا باعث بھی بنیں۔ اس میں منافقین جو غنیمت کے لالچ میں…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی زبان سے جو بات کہتے ہیں وہ اپنی جگہ صحیح ہے لیکن یہ ان کے دل کی بات نہیں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں دل میں ہرگز آپ کو سچا رسول نہیں سمجھتے شاہ صاحب لکھتے ہیں :” یعنی وہ قائل نہیں عرض کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(63:1) ازا جاء ک المنفقون۔ جملہ شرط ہے۔ قالوا نشھد انک لرسول اللہ۔ جواب شرط۔
اذا۔ جب (شرطیہ) جاء ک میں ک ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں۔
المنفقون۔ اسم فاعل جمع مذکر معرف باللام ۔ نفاق کرنے والے مرد۔ دو رخی کرنے والے۔ یعنی زبان و عمل سے بظاہر مسلمان اور دل سے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھنے والے۔ یہ نافقاء ونفقۃ سے ہے۔ جس کے معنی ہیں گواہ (جنگلی چوہا) کا بھٹ۔۔ جس کے کم از کم دو منہ ہوتے ہیں ایک دہانے سے گوہ اس میں داخل ہوتی ہے شکاری اس طرف متوجہ ہوتا ہے تو دوسرے سوراخ سے باہر نکل جاتی ہے (تبریزی) ۔ اصطلاح قرآنی میں نفاق اور منافقت اسی دو رخی کا نام ہے بظاہر زبان سے آدمی مومن ہونے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
طبع۔ مہر لگا دی گئی۔ خشب۔ لکڑیاں۔ مسندۃ۔ سہار لگائی ہوئی۔ صیحۃ۔ چیخ پکار۔ ینفضوا۔ بکھر جائیں گے۔ الاعذ۔ قوت اور زور والا۔ الاذل ۔ کمزور و ناتواں۔
تشریح : رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول ایک کھلا ہوا منافق اور رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں سب سے آگے تھا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عداوت اور دشمنی سے اچھی طرح واقف تھے لیکن آپ نے کبھی اس کو منافق کہہ کر نہ تو پکارا اور نہ صحابہ کرام نے اس کو اس لقب دے یاد کیا۔ حالانکہ کوئی ایسا موقع نہیں تھا جہاں اس نے حضور اکرم ﷺ کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔
اصل میں نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آواری سے پہلے مدینہ کے دو بڑے قبیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
منافقوں اور ان کی علامات کا ذکر۔
(ف 1) زبان سے تو منافق لوگ قسمیں کھا کر نبی ﷺ کو اللہ کا رسول اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن ان کے دل میں کفر اور نفاق بھرا ہوا تھا، اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے ایمان اور سلام کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل کے نفاق کے سبب سے جس کا حال اللہ کو معلوم ہے اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی زبان پر کچھ اور ہے دل میں کچھ ہے بیچ میں اپنے محبوب کی تسکین کے لیے فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگا دی ہے کہ جو کچھ زبان سے نیک بات یہ لوگ کہتے ہیں اس نیک بات کا اثر ان لوگوں کے دل تک نہیں پہنچتا، صحیح حدیث اوپرگذرچ کی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ…
Read the full tafseer →[1] کیونکہ یہ اپنے اصلی اور دلی اعتقاد کے خلاف آپ کے سامنے آ کر آپ کی تصدیق رسالت کا نمائشی اظہار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
منافقین بزدل ہیں
2: قرآن حکیم نے منافقین کے اسرار واحوال کئی مقامات پر واشگاف اور پر بیان کئے ہیں ۔ تاکہ ان کو معلوم ہو ۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی واقعہ اور کوئی سازش پوشیدہ نہیں ۔ وہ ہر حرکت کو جانتا ہے ۔ اور ہر شرارت سے آگاہ ہے ۔ اس کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔ اس صورت میں بالخصوص ان کے افعال کی مذمت کی ۔ اور بتایا ۔ کہ ان کو دیکھوں تو بظاہر بھلے چنگے معلوم ہوتے ہیں ۔ شکل وشباہت سے وجہات ٹپکتی ہے ۔ معقول آدمی دکھائی دیتے ہیں ۔
مگر قلب و دماغ کی یہ کیفیت ہے ۔ کہ بالکل بیکار ہیں ۔ جس طرح غیر ضروری لکڑیاں دیوار کے سہارے کھڑی کردی جاتی ہیں ۔ اسی طرح یہ لوگ بالکل مہمل ہیں ۔ ان سے فائدہ کی توقع فضول…
Read the full tafseer →(1) اے پیغمبر جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں اور دل سے گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اور پیغمبر ہیں اور ہاں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ بیشک آپ اس کے رسول ہیں اور باوجود اس کے اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق یقینا جھوٹے اور کاذب ہیں یعنی جو کہتے ہیں اس پر ان کا اعتقاد نہیں۔ پہلی صورت میں یہود کے بعض منافقین کا ذکر فرمایا تھا اس سورت میں مدینے کے بعض دیگر منافقین کا ذکر ہے جو ظاہر میں مسلمانوں کی طرح باتیں کرتے تھے لیکن علیحدگی میں مسلمانوں پر طعن وتشنیع اور عیب چینی اور بدگوئی کرتے تھے نووارد لوگوں کو بہکا کر اور غلط باتیں کہہ کر اسلام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 6۔ سبب نزول آیات متضمنہ ذکر منافقین کا یہ ہے کہ کسی غزوہ میں کسی مہاجر اور انصاری میں تکرار ہوگیا، اس پر عبداللہ بن ابی بگڑا کہ تم نے ان پر دیسیوں کو روٹیاں کھلا کھلا کر بگاڑ دیا۔ اب کے مدینہ پہنچ کر ان لوگوں کو خرچ دینا بند کردو، خود ہی چلے جائیں گے، اور یہ بھی کہا کہ ہم عزت والے ہیں ان ذلت والوں کو نکال دیں گے، یہ بات زید بن ارقم صحابی نے سن کر رسول اللہ ﷺ سے جا کہی، آپ ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے رفقاء کو بلا کر پوچھا وہ صاحب مکر گیا اور قسمیں کھا گیا، زید بن ارقم کو بڑا رنج ہوا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →منافق آپ ﷺ کے اللہ کے رسول ہونے کا جو اقرار کرتے ہیں یہ صرف انکے مونہوں کی باتیں ہیں
1 ؎ ( المنافقون ۔ المنافقین) دونوں ہی اسم فاعل جمع مذکر ہیں ۔ پہلا مرفوع ہے اور دوسرا مجرور ہے اور دونوں کا واحد ال منافق ہے۔ مادہ اس کا نق ہے ۔ دو رخی کرنے والے یعنی ظاہری طور پر مسلمان اور دل سے اسلام کے ساتھ سخت عداوت رکھنے والے ۔ گوہ ایک جانور ہے جس کو عربی زبان میں ضب کہا جاتا ہے۔ اس کی خصوصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ جو بل اپنے رہنے کا بناتا ہے اس کے ہمیشہ دو منہ بناتا ہے۔ شکاری جب اس کا شکار کرنا چاہتا ہے وہ ایک منہ کی طرف سے اس کی تلاش شروع کرتا ہے اور جب اس کو معلوم ہوتا ہے تو وہ دوسرے منہ سے نکل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
Commentary
Background of Revelation
The incident, in which this Surah was revealed, took place in the campaign against Banul-Mustaliq which happened, according to Muhammad Ibn Ishaq in Sha’ ban 6AH and according to Qatadah and ‘Urwah, in Sha’ ban 5AH. [ Mazhari ] According to Muhammad Ibn Ishaq and most historians, the details of the incident is as follows: The Messenger of Allah received the news that the leader of Banul-Mustaliq, name, Harith Ibn Dirar, is preparing for a campaign against him Harith Ibn Dirar was the father of Sayyidna Juwairiah ؓ who later on embraced Islam and became one…
Read the full tafseer →1 That is, "Although the thing they. are uttering with the tongue is true by itself, it dces not reflect their belief. Therefore they lie when they say that they bear witness that you are a Messenger of AIIah." Here, one should clearly understand that an evidence or witness is composed of two things: first, the actual thing to which one bears the witness; second, the concerned person's own belief about the thing to which he bears the witness, Now, if the thing by itself is true and the belief of the bearer of witness also correspons to what he says, he will be truthful in every respect. And…
Read the full tafseer →