تجارت عبادت اور صلوۃ جمعہ٭٭ مدینہ میں جمعہ والے دن تجارتی مال کے آجانے کی وجہ سے جو حضرات خطبہ چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ عتاب کر رہا ہے کہ یہ لوگ جب کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھ لیتے ہیں تو اس کی طرف چل کھڑے ہوتے ہیں اور تجھے خطبہ میں ہی کھڑا چھوڑ دیتے ہیں، حضرت مقاتل بن حیان فرماتے ہیں یہ مال تجارت وحیہ بن خلیفہ کا تھا جمعہ والے دن آیا اور شہر میں خبر کے لئے طب بجنے لگا حضرت وحیہ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے، طبل کی آواز سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے صرف چند آدمی رہ گئے، مسند احمد میں ہے صرف بارہ آدمی رہ گئے باقی لوگ اس تجارتی قافلہ کی طرف چل دیئے جس پر یہ آیت اتری۔ مسند ابو…
Read the full tafseer →سورة الْجُمُعَة 19
یہ ہے وہ واقعہ جس کی وجہ سے اوپر کی آیات میں جمعہ کے احکام ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اس کا قصہ جو کتب حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابو مالک، اور حضرات حسن بصری، ابن زید، قتادہ، اور مقاتل بن حیان سے منقول ہوا ہے، یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں شام سے ایک تجارتی قافلہ عین نماز جمعہ کے وقت آیا اور اس نے ڈھول تاشے بجانے شروع کیے تاکہ بستی کے لوگوں کو اس کی آمد کی اطلاع ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ ڈھول تاشوں کی آوازیں سن کر لوگ بےچین ہوگئے اور 12 آدمیوں کے سوا باقی سب بقیع کی طرف دوڑ گئے جہاں قافلہ اترا ہوا تھا۔ اس قصے کی…
Read the full tafseer →(آیت) وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَۨا انْفَضُّوْٓا اِلَيْهَا وَتَرَكُوْكَ قَاۗىِٕمًا ۭ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۭ وَاللّٰهُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ
اس آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو جمعہ کا خطبہ چھوڑ کر تجارتی کا مکی طرف متوجہ ہوگئے تھے، امام ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ خطبہ جمعہ نماز جمعہ کے بعد دیا کرتے تھے جیسا کہ عیدین میں اب بھی یہی معمول ہے، ایک جمعہ کے روز یہ واقعہ پیش آیا کہ نماز جمعہ سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک تجارتی قافلہ مدینہ طیبہ کے بازار میں پہنچا اور ڈھول باجہ…
Read the full tafseer →(واذا ارادتجارۃ اولھو انفضوا الیھا و تر کرک قائما قل ما عند اللہ خیر من اللھو ومن التجارۃ واللہ خیر الرزقین) (11)۔
(واقعہ جو اس کا تنبیہ کا سبب ہوا)۔ یہ آخر میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو مذکورہ بالا تنبیہات وتعلیمات کے نزول کا سبب ہوا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کا کوئی تجارتی قافلہ، عین خطبہ جمعہ کے وقت، مدینہ میں داخل ہوا۔ اس نے اعلان و اشتہار کے لیے، رواج کے مطابق، اپنے ڈھول اور دف جو بجائے تو کچھ لوگ پیغمبر ﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ کر اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح کے قافلے اس زمانے میں بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ ضروری چیزوں کی خریدو فروخت انہی کے ذریعہ سے ہوتی اس وجہ سے لوگوں کو ان کا…
Read the full tafseer →11۔ 1 ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ جمعے کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک قافلہ آگیا، لوگوں کو پتہ چلا تو خطبہ چھوڑ کر باہر خریدو فروخت کے لئے چلے گئے کہ کہیں سامان فروخت ختم نہ ہوجائے صرف 12 آدمی مسجد میں رہ گئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی (صحیح بخاری)۔ انفضاض کے معنی ہیں مائل اور متوجہ ہونا دوڑ کر منتشر ہوجانا۔ الیھا میں ضمیر کا مرجع تجارۃ ہے یہاں صرف ضمیر تجارت پر اکتفا کیا اس لیے کہ جب تجارت بھی باوجود جائز اور ضروری ہونے کے دوران خطبہ مذموم ہے تو کھیل وغیرہ کے مذموم ہونے کیا شک ہوسکتا ہے ؟ علاوہ ازیں قائما سے معلوم ہوا کہ خطبہ جمعہ کھڑے ہو کردینا سنت ہے۔ چناچہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ آپ ﷺ کے دو خطبے…
Read the full tafseer →8: حافظ ابن کثیر ؒ نے فرمایا ہے کے شروع میں آنحضرت ﷺ جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ دیا کرتے تھے، ایک مرتبہ جب جمعہ کی نماز ختم ہوچکی تھی اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو ایک قافلہ کچھ سامان لے کر آیا، اور ڈھول بجاکر اسکے آنے کا اعلان بھی کیا جارہا تھا، اس وقت مدینہ منورہ میں کھانے پینے کی چیزوں کی کمی تھی، اس لئے صحابہ کی ایک بڑی تعداد خطبہ چھوڑ کر اس قافلے کی طرف نکل گئی، اور تھوڑے سے افراد مسجد میں رہ گئے، اس آیت میں اس طرح جانے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ خطبہ چھوڑ کر جانا جائز نہیں تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ کی صرف نماز ہی فرض نہیں ہے، بلکہ خطبہ سننا بھی واجب ہے۔
Read the full tafseer →واذاراو ........................ الرزقین (26 : 11) ” اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے کہو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ سب سے بہتررزق دینے والا ہے “۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک بار جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک قافلہ آگیا ، جس میں کھانے کا سامان تھا۔ لوگ قافلے کی طرف لپک گئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو آدمی رہ گئے۔ ان میں حضرت ابوبکر اور عمر ؓ تھے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
واذا ........................ وترکوک قائما (26 : 11) اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا…
Read the full tafseer →1 ایک مرتبہ جمعہ میں حضرت محمد ﷺ خطبہ فرما رہے تھے، اسی وقت تجارتی قافلہ باہر سے غلہ لے کر آپہنچا۔ اس کے ساتھ اعلان کی غرض سے نقارہ بجتا تھا۔ پہلے سے شہر میں اناج کی کمی تھی۔ لوگ دوڑے کہ اس کو ٹھہرائیں (خیال کیا ہوگا کہ خطبہ کا حکم عام وعظوں کی طرح ہے جس میں سے ضرورت کے لیے اٹھ سکتے ہیں۔ نماز پھر آکر پڑھ لیں گے۔ یا نماز ہوچکی ہوگی جیسا کہ بعض کا قول ہے کہ اس وقت نماز جمعہ خطبہ سے پہلے ہوتی تھی۔ بہرحال خطبہ کا حکم معلوم نہ تھا) اکثر لوگ چلے گئے حضرت کے ساتھ بارہ آدمی (جن میں خلفائے راشدین بھی تھے) باقی رہ گئے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی سوداگری اور دنیا کا کھیل تماشا کیا چیز ہے، وہ ابدی دولت حاصل…
Read the full tafseer →آیت 1 1{ وَاِذَا رَاَوْ تِجَارَۃً اَوْ لَہْوَا نِ انْفَضُّوْآ اِلَـیْہَا } ”اور جب انہوں نے دیکھا تجارت کا معاملہ یا کوئی کھیل تماشا تو اس کی طرف چل دیے“
{ وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا } ”اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیا۔“
یہ خاص طور پر منافقین کے طرز عمل کا ذکر ہے کہ وہ تجارت اور کھیل تماشے کو اللہ کے ذکر پر ترجیح دیتے ہیں۔
اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں شام سے ایک تجارتی قافلہ عین نماز جمعہ کے وقت آیا اور اہل شہر کو اطلاع دینے کے لیے ڈھول بجانے شروع کردیے۔ چونکہ قحط کا زمانہ تھا ‘ لہٰذا حاضرین مسجد قافلے کی آمد کی اطلاع پا کر فوراً اس کی طرف لپکے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد…
Read the full tafseer →16 مدنی دور کی ابتدائی زندگی معاشی لحاظ سے بھی مسلمانوں کے لیے سخت پریشان کن تھی۔ مہاجرین کی آباد کاری کے علاوہ کفار مکہ نے بھی اہل مدینہ کی معاشی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ جس کی وجہ سے غلہ کم یاب بھی تھا اور گرانی بھی بہت تھی۔ انہی ایام میں ایک دفعہ رسول اللہ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ کہ ایک غلہ کا تجارتی قافلہ مدینہ آن پہنچا اور انہوں نے اپنی آمد کی اطلاع کے طور پر طبلے بجانا شروع کردیئے۔ یہ خبر مژدہ جانفزا سے کم نہ تھی۔ چناچہ خطبہ سننے والے مسلمان بھی، محض اس خیال سے کہ اگر دیر سے گئے تو سارا غلہ بک ہی نہ جائے، خطبہ چھوڑ کر ادھر چلے گئے اور آپ کے پاس صرف بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ رہا۔…
Read the full tafseer →12۔ بعض صحابیوں کی طرف اشارہ ہے جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے، اور شریعت کے قوانین و احکام ابھی ان میں پوری طرح راسخ نہیں ہوئے تھے، مدینہ میں ایک بار خطبہ جمعہ کے وقت (جو اس وقت تک بعد نماز ہوتا تھا) تجارتی قافلہ غلہ لے کر آیا، اور اعلان کے لیے دف بھی بج رہا تھا۔ 12 پختہ وراسخ صحابیوں کو کو چھوڑ کر، باقی دوسرے حضرات یہ سمجھ کر کہ نماز تو ختم ہی ہوچکی ہے، تجارتی قافلہ کی طرف چل پڑے، یہ تنیبہ ان کی اسی اجتہادی غلطی پر کی جارہی ہے۔ (آیت) ” وترکوک قآئما “۔ ان الفاظ سے اس مسئلہ پر کہ خطیب جمعہ کو خطبہ کھڑے ہو کردینا چاہیے۔ ایک قرآنی دلیل قائم ہورہی ہے۔ دلیل علی ان الامام یخطب یوم الجمعۃ قائم…
Read the full tafseer →شان نزول
واذا راو اتجارۃ (الآیۃ) یہ آیت اب وقت نازل ہوئی جب کہ ایک روز آپ ﷺ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک تجارتی قافلہ ضرویات زندگی کا سامان لے کر شام سے آگیا، تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ ایک بہت بڑے تاجر وحیہ کلبی کا تھا، اطلاع عام کے لئے ڈھول وغیرہ بجوا کر عام منا دی کرا دی گئی، مدینہ میں ان دنوں خشک سالی تھی ہر شخص کو خوردو نوش کے سامان کی اشد ضرورت تھی جن میں صحابہ ؓ بھی شامل تھے، اس اندیشہ کے پیش نظر کہ کہیں قافلہ کا سامان ختم ہوجائے جس کی وجہ سے ہم نہ پاسکیں آپ ﷺ کو خطبہ پڑھتا چھوڑ کر سوائے بارہ آدمیوں کے سب بازار میں چلے گئے، یہ روایت ابو دائود…
Read the full tafseer →واذا راوا تجارۃ او لھوا انفضوا الیھا و ترکوک قائما .
” اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔ “
تجارت اور لہو۔ دو لفظ پہلے ذکر کیے پھر الیھا کی ضمیر صرف تجارت کی طرف راجع کی ‘ یہ کنایہ ہے اس امر کا کہ اصل مقصد تجارت ہی تھا کیونکہ لہو سے مراد ہر کھیل نہیں ہے بلکہ وہ طبل مقصود ہے جو قافلہ کے استقبال کے لیے بجایا جاتا تھا۔ تجارت اور لہو کے درمیان لفظ اَوْ کا ذکر کرنا ‘ دلالت کر رہا ہے اس امر پر کہ بعض لوگ صرف طبل کی آواز سننے اور قافلہ کو دیکھنے کے لیے خطبہ چھوڑ کر مسجد سے چلے گئے تھے (گو عمومی طور پر اکثر کا مقصد تجارت تھا) ۔ ابن جریر نے…
Read the full tafseer →اور بعض کی یہ حالت ہے کہ جب دحیہ بن خلفیہ کی تجارت کو دیکھتے ہیں اور طبل کی آواز سنتے ہیں تو مسجد سے اس کی طرف نکل جاتے ہیں۔ البتہ اٹھارہ آدمی یا یہ کہ بارہ آدمی اور دو عورتیں اس وقت مسجد سے نہیں نکلیں اور آپ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے چھوڑ جاتے ہیں۔
آپ فرما دیجیے کہ ثواب و اجر ایسے مشغلہ سے بہتر ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم حضور کے ساتھ نماز پوری کر کے پھر باہر آتے تو یہ چیز تمہارے لیے ثواب کے اعتبار سے فورا نکلنے سے بہتر تھی اور جب منافقین آپ کے پاس آئیں تو آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ بہترین روزی دینے والا ہے۔
شان نزول : وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً (الخ)
بخاری و مسلم نے جابر سے روایت کیا ہے کہ…
Read the full tafseer →1۔ وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَ نِانْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا۔۔۔۔: اس سے پہلے عام تراجم کے مطابق اس آیت کا ترجمہ اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں“۔ کیا گیا تھا۔ اس ترجمہ کی وجہ یہ ہے کہ لفظ ”اذا“ عموماً مستقبل کے لیے آتا ہے ، حالانکہ اس مقام پر یہ لفظ مستقبل نہیں بلکہ ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، لہٰذا آیت کا مذکورہ بالا ترجمہ درست نہیں ، بلکہ درست ترجمہ یہ ہے :”اور جب انہوں نے کوئی تجارت دیکھی یا تماشا تو اٹھ کر اس کی طرف چلے گئے اور انہوں نے تجھے کھڑا چھوڑ دیا“۔ قرینہ اس کا یہ ہے کہ یہ فعل صحابہ کرام ؓ سے صرف ایک…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1۔ واذا راواتجارۃ اولھوا انفضوآ الیھا صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے روز کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہ تھے تو شام سے ایک تجاتری قافلہ آگیا لوگ اس قافلہ کی طرف چلے گئے، یہاں تک کہ صرف بارہ افراد مسجد میں رہ گئے (1) ایک روایت میں ہے، میں بھی ان میں سے ایک تھا، تو یہ آیت جو سورة جمعہ میں ہے نازل ہوئی۔ ایک رویت میں ہے : ان بارہ افراد میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاورق بھی تھے۔ کلبی اور دوسرے علماء نے کہا، جو اس تجارتی قافلہ کو لایا تھا وہ حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی تھے۔ جو شام سے یہ قافلہ لائے جبکہ زمانہ سخت بھوک اور مہنگائی کا تھا۔ ان کے پاس تمام…
Read the full tafseer →90۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا وترکوک قائما۔ کے بارے میں روایت کیا کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ کا قافلہ آیا تو کھانے پینے کا سامان اٹھائے ہوئے تھا۔ تو جمعہ سے لوگ باہر نکل گئے ان میں سے بعض تو سامان خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے اور ان میں سے بعض دحیہ ؓ کو دیکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر کھڑا ہوا چھوڑ دیا اور مسجد میں میں صرف بارہ مرد اور سات عورتیں باقی رہ گئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم سب کے سب نکل جاتے تو ان پر مسجد آگ سے بھڑک اٹھتی۔
تجارتی قافلہ کا مدینہ منورہ آمد
91۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن…
Read the full tafseer →[وَاِذَا رَاَوْا : اور جب وہ دیکھتے ہیں ] تِجَارَةً اَوْ لَهْوَۨا : کوئی تجارت یا تماشہ ] [انفَضُّوْٓا اِلَيْهَا : تو بکھر جاتے ہیں اس کی طرف ] [وَتَرَكُوْكَ قَاۗىِٕمًا : اور چھوڑ جاتے ہیں آپ کو کھڑا ہوا ] [قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ: آپ کہیے جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے ] [مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ : تماشے سے اور تجارت سے ] [وَاللّٰهُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ : اور اللہ رزق دینے والوں کا بہترین ہے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 11 ۔ میں ان لوگوں کو تنبیہہ کی گئی ہے جو جمعہ کا خطبہ چھوڑ کر تجارتی کام کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ امام ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب نبی کریم ﷺ خطبۂ جمعہ…
Read the full tafseer →خطبہ چھوڑ کر تجارتی قافلوں کی طرف متوجہ ہونیوالوں کو تنبیہ
حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ رہے تھے۔ اچانک (مدینہ منورہ) میں ایک اونٹوں کا قافلہ آگیا جن پر کھانے پینے کا سامان لدا ہوا تھا (جب حاضرین کے کانوں میں اس کی بھنک پڑی تو) اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور بازار کی طرف چل دیئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارہ آدمی رہ گئے اس پر آیت کریمہ ﴿ وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا ا۟نْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا ﴾ نازل ہوگئی۔ (رواہ البخاری صفحہ 128: جلد 1 صفحہ 727: جلد 2)
یہ صحیح بخاری کی روایت ہے اور صحیح مسلم صفحہ 284 میں اس روایت میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترغیب اہل ایمان برائے اقامۃ جمعہ وتاکید سعی الی ذکر اللہ وترک بیع وشراء براذان :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ...... الی ..... واللہ خیر الرزقین “۔
(ربط) ماقبل آیات میں یہود پر تین طرح زجروتوبیخ کی گئی تھی (1) اول جب انہوں نے اپنے علم وفضل پر فخر کیا عرب اور آنحضرت ﷺ کو قوم جاہل کہا تو اس کے بالمقابل یہ ثابت کیا گیا کہ خود یہ لوگ گدھے ہیں او جس علم وفضل پر یہ اترا رہے ہیں اس کا بوجھ ان پر حرف بالکل ایسا ہی ہے جیسے گدھے پر کتابوں کا انبار لداہو اہو۔ (2) جب انہوں نے یہ فخر کیا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس وجہ سے ہم خدا تعالیٰ سے زیادہ قریب ہیں بلکہ اس کے دوست اور…
Read the full tafseer →11:۔ ” واذا راو “ یہ مومنین پر زجر ہے۔ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوراک کی قلت اور نایابی کی وجہ سے لوگوں کو فاقوں کا شکار ہونا پڑا، کیونکہ خوراک کی قیمتیں اس قدر چڑھ گئیں کہ عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوگئیں۔ ایک دن آپ جمعہ کا خطبہ فرما رہے تھے کہ اچانک ڈھنڈورہ پیٹنے کی آواز سنائی دی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی تاجر اشیاء خوردنی میں لے کر مدینہ میں آ وارد ہوا ہے۔ تو بہت سے مسلمان بھی آپ کو بحال خطبہ چھوڑ کر بازارچلے گئے تاکہ وہ ضرورت کی چیزیں خرید لیں۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر وہ نماز ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں تو سارا مال بک جائے گا اور وہ اس قحط کے زمانے میں اشیاء ضرورت سے محروم رہ جائیں گے۔…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے احکام بیان فرمائے۔ جن میں جمعہ کی فرضیت ، اذان کا مسئلہ ، اجتماع المسلمین ، خطبہ سننا ، نماز ادا کرنا اور نماز سے متعلقہ امور کے علاوہ تمام کاموں کو ترک کردینا وغیرہ شامل ہیں۔ نماز کے اختتام پر اللہ نے اجازت دے دی کہ زمین میں پھیل جائو یعنی اپنے کاروبار یا محنت مزدوری پر چلے جائو اور اللہ کا فضل یعنی رزق حلال تلاش کرو۔ فرمایا جمعہ کے اجتماع میں شرکت کرنا ، اس کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونا اور ممکن حد تک اللہ کا ذکر کرنا باعث نجات ہے۔
شان نزول :
سورۃ کی اس آخری آیت میں اللہ نے ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور یہی اس آیت کا شان نزول…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَہْوَۨا انْفَضُّوْٓا اِلَيْہَا وَتَرَكُوْكَ قَاۗىِٕمًا 0 ۭ قُلْ مَا عِنْدَ اللہِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّہْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ 0 ۭ وَاللہُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 11 ۧ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما…
Read the full tafseer →ترکیب : اذا شرط من یوم من بمعنی فی ای فی یوم الجمعۃ فاسعوا جو ابہ وذروا عطف علی فاسعوا الجمعۃ بضمتین وباسکان المیم مصدر بمعنی الاجتماع فاذا قضیت شرط فانتشروا جو ابہ کثیرا ای ذکر کثیر واذ اراوا شرط انفضوا جو ابہ وترکوا معطوف علیہ قائمًا حال من المفعول فی ترکوک ما موصولۃ عنداللہ صلۃ خیر خبر للموصول والصلۃ۔
تفسیر : یہود پر تین زجرو توبیخ ہوئیں۔ اول جب انہوں نے اپنے علم و فضل کا فخر کیا اور عرب اور آنحضرت ﷺ کو جاہل قرار دیا تو ان کو گدھے سے تشبیہ دی اور جب انہوں نے یہ فخر کیا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے سبب خدا تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہتر اور خاص دوست ہیں دار آخرت کی نعماء…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَا نِ انْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا ط قُلْ مَاعِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌمِّنَ اللَّھْوِوَمِنَ التِّجَارَۃِ ط وَاللّٰہُ خَیْرُالرّٰزِقِیْنَ ۔ (الجمعۃ : 11)
(اور جب انھوں نے تجارت اور کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف منتشر ہوگئے اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیا، کہہ دیجیے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ )
واقعہ جو متذکرہ بالا احکام کے نزول کا سبب بنا
اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو متذکرہ بالا احکام اور تنبیہات کے نزول کا سبب بنا۔ امام ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں نماز جمعہ کے لیے کاروبار چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب جمعہ کے بعد کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکم ہوا کہ جب تم نماز مکمل کرلو تو اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے فرمائیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے کھیل، تماشے اور تجارت سے بہت بہتر ہے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ بہتررزق دینے والا ہے۔ اس آیت میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس طرح ہے کہ مدینہ کی منڈی میں دحیہ کلبی کا تجارتی قافلہ…
Read the full tafseer →تجارتی فاصلہ کا واقعہ :
1 1 : وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْلَھْوَا نِانْفَضُّوْا اِلَیْھَا (اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے) آپ سے جدا ہوگئے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ واذا راوا تجارۃ انفضوا الیھا اولھوًا انفضوا الیہ پس ایک فعل کو حذف کردیا کیونکہ دوسرا اس پر دلالت کر رہا ہے۔ تجارت کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان کے لئے اہم ترین تھی۔ (یا جب یہ آیت اتری تو وہ واقعہ تجارتی قافلہ کا ہی تھا) ۔
روایت میں ہے کہ مدینہ منورہ میں بھوک اور مہنگائی پھیل گئی دحیہ بن خلیفہ ایک تجارتی قافلہ لے کر شام سے مدینہ پہنچے۔ اس میں زیتون کا تیل وغیرہ تھا۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور نبی…
Read the full tafseer →10 ۔” فاذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الارض “ یعنی جب نماز سے فارغ ہو تو زمین میں تجارت کے لئے اور اپنی ضروریات میں تصرف کرنے کے لئے پھیل جائو۔ ” وابتغوامن فضل اللہ “ یعنی رزق اور یہ امرباحت ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واذاحللتم فاصطادوا “ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اگر تو چاہے تو نکل اور اگر چاہے تو بیٹھ جا اور اگر تو چاہے تو عصر تک نماز پڑھ اور کہا گیا ہے کہ ” فانتشروافی الارض “ دنیاطلب کرنے کے لئے نہیں ہے لیکن مریض کی عیادت اور جنازہ میں حاضر ہونے اور راخ فی اللہ کی زیارت کے لئے ہے اور حسن، سعید بن جبیر اور مکحول رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” وابتغوا من فضل اللہ “ یہ علم طلب کرنے کے لئے ہے۔ ”…
Read the full tafseer →11۔ صحیحین 1 ؎ وغیرہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے۔ اس آیتوں کی شان نزول کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں عید کی طرح جمعہ کا خطبہ نماز کے بعد ہوا کرتا تھا نماز کے بعد خطبہ سننے سے پہلے صحابہ ؓ بنجارہ کو دیکھنے چلے گئے تھے اس پر یہ خفگی کی آیتیں آخر شورہ تک نازل ہوئیں اس بنجارہ کے ساتھ ایک نقارہ بھی تھا مدینہ میں آنے کے بعد وہ نقارہ بجا دیا جاتا تھا کہ بنجارہ کے آنے کی خبر لوگوں کو معلوم ہوجائے یہ بنجارہ شام کے ملک کی طرف سے ہر طرح کی ضرورت کی چیزیں لایا کرتا تھا ان آیتوں کے نازل ہونے کے زمانے میں جب یہ بنجارہ آیا تو اس وقت مدینہ میں بہت گرانی تھی اس گرانی کے سبب سے…
Read the full tafseer →(وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَۨا انْفَضُّوْٓا اِلَيْهَا) جب وہ کوئی سودابکتا یا لہو لعب دیکھتے ہیں تو اس لہو لعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں (وَتَرَكُوْكَ قَاۗىِٕمًا) اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا نبی اکرم لوگوں کو جمعہ خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسا معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کرنا مناسب نہ تھا (قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ )…
Read the full tafseer →قول باری ہے (واذادم وتجارۃ او لھون انفضوا الیھا، اور جب انہوں نے تجارت یا کھیل تماشہ ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے) حضرت جابر ؓ بن عبداللہ اور حسن سے مروی ہے کہ لوگوں نے دیکھا کہ قافلہ تجارت خوراک وغیرہ لے کر آیا ہے لوگوں کو اس کی بڑی ضرورت تھی کیونکہ ان پر بھوک کا غلبہ تھا۔ اور خوراک کی قلت درپیش تھی۔
حضرت جابر ؓ کا قول لہو سے آلات موسیقی مثلاً بانسری وغیرہ مراد ہیں۔ مجاہد کے قول کے مطابق اس سے طبلہ سارنگی وغیرہ مراد ہے۔ قول باری ہے (قل ما عند اللہ کہہ دیجئے کہ جو کچھ اللہ کے پاس موجود ہے) یعنی خطبہ سننے اور پندونصیحت کی مجلس میں حاضری دینے کا ثواب (خیر من اللھو ومن التجارۃ وہ کھیل تماشے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
22 ۔ نماز جمعہ کے بعد طلب و تلاش رزق کی اجازت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کی نماز ادا کردی جائے تو تم پھیل جاؤ زمین میں، اور طلب و تلاش کرو اللہ کا فضل، یعنی روزی اور روزی کا لفظ فضل سے تعبیر فرمانے میں یہ اہم درس بھی ہے کہ یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کے فضل و کرم کا ثمرہ و پھل ہے، پس تم روزی کے حصول کے لیے کوشش اور محنت تو کر، اور ضرور کرو، اور بھر پور طریقے سے کرو، اور اس کے لیے مطلوبہ اسباب و وسائل بھی پوری طرح اپناؤ مگر دل کا بھروسہ بہرحال ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی پر رکھو کہ تم کو ملے گا وہی جو وہ اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
مومنوں کے لیے نماز جمعہ کا حکم
تشریح : جیسا کہ سورت کے تعارف میں بتا دیا گیا ہے کہ یہ سورت اس واقعہ کی وجہ سے نازل ہوئی جو ان آخری آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے ہماری زندگی موت، روزی، رزق، بیماری و صحت، عزت و ذلت اور خیر و برکت سب کچھ اللہ کے حکم سے ہے مگر ساتھ ہی ہمیں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ ان تمام چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اللہ کے بتائے ہوئے مخصوص قوانین کے تحت مقررہ حدود میں رہتے ہوئے پورے خلوص اور محنت سے کام کریں۔ یہ نہیں کہ جو اللہ نے لکھ دیا وہ تو مل ہی جائے گا چاہے کچھ بھی نہ کریں۔ اگر ایسا کیا تو پھر یہود جیسا انجام ہوگا۔ اللہ نے یہ جو اعضاء کی نعمتیں ہمیں دے رکھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیات 9 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان ہوجائے تو اپنا کاروبار بند کردو اور پورے اہتمام سے اللہ کے ذکر کے لیے یعنی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں پہنچو۔
جمعہ کے احکام۔
جمعہ مسلمانوں کا بہت ہی مبارک دن ہے جس میں ظہر کی نماز نہیں ہوتی بلکہ جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے یہ نماز عورتوں ، مریضوں اور مسافروں پر فرض نہیں وہ ظہر کی نماز ادا کرسکتے ہیں اور جب اذان ہوجائے تو دنیاوی کاروبار حرام ہوجاتا ہے۔ جمعہ علماء کے نزدیک ایسی آبادی جس میں دکانیں ہوں یاسرکاری دفتر ، سکول ، ڈاکخانہ ، وغیرہ ہوہوسکتی ہے تفصیل فقہ کی کتب میں دیکھی جائے ۔ چناچہ یہاں نماز کی ادائیگی اور…
Read the full tafseer →“8 صحیح روایات کے مطابق مدینہ منورہ میں گرانی تھی اور لوگ غلہ کے سخت ضرورتمند تھے۔ آنحضرت منبر پر کھڑے جمعہ کا خطبہ دے رے تھے۔ اتنے میں شام سے ایک قافلہ غلہ لے کر آپہنچا۔ سب لوگ اس کی طرف چل دیئے یہاں تک کہ مسجد میں صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی (شوکانی) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کردینا چاہیے9 جمعہ کی نماز اور خطبہ سے متعلق مزید احکام کتب حدیث میں دیکھ لئے جائیں۔
Read the full tafseer →(62:11) واذا رأوا تجارۃ او لھوا جملہ شرط۔ تجارۃ او لھوا مفعول اول و مفعول ثانی راوا کے۔ رأوا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح۔ ر ا ی مادہ) مصدر۔ رأوا اصل میں رابوا تھا۔ ی متحرک ما قبل اس کا مفتوح ی کو الف سے بدلا۔ اب الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوگئے ۔ الف کو حذف کردیا۔ انہوں نے دیکھا۔
انفضوا الیہا : جملہ جواب شرط ہے۔ انفضوا ماضی جمع مذکر غائب۔ انفیضاض (انفعال) مصدر۔ وہ متفرق ہوگئے۔ض ض مادہ۔ الفض کے معنی کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں۔ جیسے فض ختم الکتب خط کی مہر کو توڑ دیا۔ اسی سے انفض القوم کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی متفرق و منتشر ہوجانے کے ہیں۔ آیت ہذا میں اس کے معنی ہیں…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول۔
نبی ﷺ مدینہ طیبہ میں روز جمعہ خطبہ فرما رہے تھے اس حال میں تاجروں کا ایک قافلہ آیا اور حسب دستور اعلان کے لیے طبل بجایا گیا زمانہ بہت تنگی اور گرانی کا تھا لوگ بایں خیال اس کی طرف چلے گئے کہ ایسا نہ ہو کہ دیر کرنے سے اجناس ختم ہوجائیں۔ اور ہم نہ پاسکیں۔ اور مسجد شریف میں صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ سوداگری اور دنیا کا کھیل تماشہ کیا چیز ہے وہ ابدی دولت حاسل کرو جو اللہ کے پاس ہے اور جو رسول کی صحبت اور مجالس ذکر و عبادت میں ملتی ہے باقی قحط کی وجہ سے روزی کا کھٹکا جس کی بنا پر تم اٹھ کر چلے گئے سو یاد رکھو روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہی…
Read the full tafseer →[13] یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو مذکورہ بالا احکام جمعہ کے نزول کا سبب ہوا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کا کوئی تجارتی قافلہ عین خطبہ جمعہ کے وقت مدینے میں داخل ہوا اور اعلان و اشتہار کے لئے رواج کے مطابق ڈھول اور دف بجائے تو کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ کر قافلے کی طرف دوڑ گئے۔ یہ فعل جن لوگوں سے صادر ہوا ظاہر ہے کہ ان پر اسلامی تربیت کا رنگ ابھی اچھی طرح نہیں چڑھا تھا یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خطبہ جمعہ کی اہمیت سے اچھی طرح واقف نہ تھے، ان کے نزدیک اہمیت صرف نماز کی تھی۔ بہرحال ان سے جو غلطی ہوئی اس سے امت کو یہ فائدہ پہنچا کہ جمعہ کے متعلق ایسی ہدایات نازل ہوگئیں جو…
Read the full tafseer →ف 1: واقعہ یہ تھا ۔ کہ وحید بن خلیفۃ الکلبی اسلام سے قبل ایک قافلہ کی صورت میں غلہ سے لداپھدا آرہا تھا ۔ مدینہ والوں نے اسکا گرمجوشی سے استقبال کیا ۔ اور یہ بھول گئے ۔ کہ ہم حضور کے سامنے خطبہ کی سماعت کررہے ہیں ۔ یہ اس آیت میں ان کے اس طرز عمل کی مذمت کی گئی ۔ اور کہا گیا ۔ کہ تم لوگوں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا ۔ کہ اللہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ مال ہے ۔ جس قدر کہ وحید کے پاس ہے ۔ پھر کیا اس کا تقاضا یہ نہیں ہے ۔ کہ تم لوگ زیادہ توجہ کے ساتھ اس کے حضور میں بیٹھو ۔ اور اس سے طلب رزق کرو ۔
Read the full tafseer →(11) اور یہ لوگ جب کوئی بنجارہ اور تجارتی قافلہ یا کوئی کھیل اور شغل دیکھتے ہیں تو اس کے دیکھنے کے لئے متفرق اور منتشر ہوجاتے ہیں اور آپ ﷺ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں یعنی آپ ﷺ کو خطبہ فرماتے ہوئے کھڑے ہونے کی حالت میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں آپ ان سے فرمادیجئے جو چیز اللہ کے پاس ہے اور جو اجر اللہ کے ہاں ہے وہ کھیل تماشے اور سوداگری سے بدرجہا بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ سب روزی دینے والوں سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بار جمعہ میں حضرت ﷺ خطبہ فرماتے تھے اسی وقت بنجارا آیا اس کے ساتھ نقارہ بجتا تھا پہلے سے شہر میں اناج کی کمی تھی لوگ دوڑے کہ اس کو ٹھہرا دیں نماز کو پھر…
Read the full tafseer →ف 5۔ جو صحابہ اٹھ کر چلے گئے تھے ان کی ابتدائی حالت تھی، پھر حب نقل بعض زمانہ قحط وجوع کا تھا، پھر کبراء صحابہ سے اس کا صدور نہیں ہوا پھر اجتہادی غلطی تھی اس لئے اعتراض کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →جمعہ پڑھنے والوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کا مختصر ذکر
11 ؎ زیر نظر آیت کے تحت ہمارے مفسرین نے ایک واقعہ تحریر کیا ہے اور بلا شبہ وہی واقعہ شروع سے نقل ہوتا چلا آرہا ہے اور شروع سے ہماری مراد یہ ہے کہ جب سے تحریر کا سلسلہ شروع ہوا اور تفسیر و احادیث کو باقاعدہ ضبط کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہمیں اعتراف ہے کہ اس طرح کا واقعہ گزرا ہوگا اور اسلام کے شروع دور میں یعنی ہجرت کے معاً بعد جب نماز جمعہ کی فرضیت نازل ہوئی اور باقاعدہ جمعہ کی نماز اور خطبہ کا سلسلہ شروع ہوا اور ابھی تک جمعہ کے آداب سے لوگ مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوئے تھے۔ اس واقعہ کا اختصار یہ ہے کہ جمعہ کے روز عین اس وقت کہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →Admonishing those who abandon the Imam while he is delivering the Jumu’ ah Khutbah [ Sermon ]
وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّـهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۚ وَاللَّـهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
And when they see some merchandise or amusement, they break away to it, and leave you standing. Say, “ What is with Allah is much better than the amusement and the merchandise, and Allah is the best giver of sustenance.” (62:11)
The verse admonishes those who once abandoned the Friday sermon and attended some…
Read the full tafseer →19 This is the incident because of which the commandments pertaining to the Friday congregational Prayer have been enjoined in the preceding verses. Its narrative as related in the collections of Hadith, on the authority of Hadrat Jabir bin 'Abdullah, Hadrat 'Abdullah bin `Abbas, Hadrat Abu Hurairah, Hadrat Abu Malik, and Hasan Basri, lbn Zaid, Qatadah and Muqatil bin Hayyan is as follows: A trade caravan from Syria arrived in Madinah right at the time of the Friday Prayer and its people started playing their drums to announce their arrival. The Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) at…
Read the full tafseer →