Explained with ayahs 9–10
جمعہ کا دن کیا ہے ؟ اس کی اہمیت کیوں ہے ؟
جمعہ کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے چھٹا دن جمعہ کا ہے اسی دن حضرت آدم ؑ پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمان سے پوچھا جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے ؟…
Read the full tafseer →سورة الْجُمُعَة 16
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد زمین میں پھیل جانا اور تلاش رزق کی دوڑ دھوپ میں لگ جانا ضروری ہے۔ بلکہ یہ ارشاد اجازت کے معنی میں ہے۔ چونکہ جمعہ کی اذان سن کر سب کاروبار چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا اس لیے فرمایا گیا کہ نماز ختم ہوجانے بعد تمہیں اجازت ہے کہ منتشر ہوجاؤ اور اپنے جو کاروبار بھی کرنا چاہو کرو، یہ ایسا ہی ہے جیسے حالت احرام میں شکار کی ممانعت کرنے کے بعد فرمایا فَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا (الماعدہ۔ 2) " جب احرام کھول چکو تو شکار کرو " اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احرام کھولنے کے بعد ضرور شکار کرو، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے بعد شکار پر کوئی…
Read the full tafseer →(آیت) فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ ، سابقہ آیات میں اذان جمعہ کے بعد بیع و شراء وغیرہ کے تمام دنیوی امور کو ممنوع کردیا گیا تھا، اس آیت میں اس کی اجازت دے دیگئی کہ نماز جمعہ سے فارغ ہونے کے بعد تجارتی کاروبار اور اپنا اپنا رزق حاصل کرنے کا اہتمام سب کرسکتے ہیں۔
جمعہ کے بعد تجارت و کسب میں برکت
حضرت عراک بن مالک جب نماز جمعہ سے فارغ ہو کر باہر آتے تو دروازہ مسجد پر کھڑے ہو کر یہ دعا کرتے تھے۔
اللھم انی اجبت دعوتک وصلیت فریضتک وانتشرت کما امرتنی فارزقنی من فضلک و انت خیر الراز قین (رواہ ابن ابی حاتم، از ابن کثیر)
”یعنی یا اللہ میں نے…
Read the full tafseer →(فاذا فضیت الصلوٰۃ فانتشرو فی الارض واتبغوا من فضل اللہ واذکرواللہ کثیرا لعلکم تفلحون) (10)۔
(یہود کے احترام سبقت کے بالمقابل جمعہ کی پابندی آسان ہے)۔ یعنی یہ پابندی صرف اتنی ہی دیر کے لیے ہے کہ نماز سے فارغ ہو جائو ! اس کے بعد تمہیں اجازت ہے کہ تم جہاں چاہو جائو اور جس شکل میں چاہو اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اتنے قلیل وقت کی پابندی بھی تم اپنے رب کی خوشنودی کے لیے گوارا نہیں کرسکتے تو پھر تمہارا ایمان و اسلام کیا ہے ! یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہود پر سبقت کے احترام کی پابندی پورے دن کے لیے تھی۔ لیکن اس امت پر جمعہ کے احترام کی پابندی صرف اذان سے لے کر ختم نماز تک…
Read the full tafseer →10۔ 1 اس سے مراد کاروبار اور تجارت ہے۔ یعنی نماز جمعہ سے فارغ ہو کر تم اپنے اپنے کاروبار اور دنیا کے مشاغل میں مصروف ہوجاؤ۔ مقصد اس امر کی وضاحت ہے کہ جمعہ کے دن کاروبار بند رکھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف نماز کے وقت ایسا کرنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →7: جیسا کہ بارہا گزرچکا ہے، اللہ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح میں تجارت وغیرہ کے ذریعے روزگار حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے، لہذا مطلب یہ ہے کہ خریدو فروخت پر جو پابندی اذان کے بعد عائد ہوئی تھی، جمعہ کی نماز ختم ہونے کے بعد وہ اٹھ جاتی ہے اور خریدو فروخت جائز ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →فاذ قضیت ........................ تفلحون (26 : 01) ” پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاﺅ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے “۔
یہ ہے اسلامی نظام کا توازن۔ یعنی زمین ضر ضروریات زندگی کا توازن۔ مثلاً کام کاج اور تلاش معاش اور روح کا ذکر الٰہی میں مشغول کرنا اور ایک وقت کے لئے تلاش معاش کی سرگرمیوں سے نکل کر عزات نشیں ہوکر ذکر وفکر میں مشغول ہونا ، قلبی زندگی کے لئے یہ ضروری ہے اور اس قلبی اور روحانی بالیدگی کے بغیر کوئی شخص اس عظیم امانت کا حق ادا نہیں کرسکتا جو ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے اور ذکر الٰہی تلاشمعاش کے دوران بھی ضروری…
Read the full tafseer →10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہود کے ہاں عبادت کا دن ہفتہ تھا، سارا دن سودا منع تھا اس لیے فرما دیا کہ تم نماز کے بعد روزی تلاش کرو، اور روزی کی تلاش میں بھی اللہ کی یاد نہ بھولو۔ "
Read the full tafseer →آیت 10{ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ } ”پھر جب نماز پوری ہوچکے تو زمین میں منتشر ہو جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو“
یعنی جمعہ کے حوالے سے اسلام میں یہودیوں کے یوم سبت جیسی سختی نہیں ہے کہ پورا دن اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص کر دو۔ بلکہ مسلمانوں سے اس دن صرف یہ تقاضا ہے کہ وہ نماز جمعہ سے قبل اپنے تمام کام کاج چھوڑ دیں۔ نہائیں دھوئیں ‘ اچھے کپڑے پہنیں ‘ خوشبو لگائیں اور بروقت مسجد میں پہنچ جائیں ‘ تاکہ تعلیمی و تربیتی نشست سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔ اسی لیے نماز جمعہ کے لیے اوّل وقت مسجد میں آنے والے کو حدیث میں اونٹ کی قربانی کے برابر…
Read the full tafseer →15 یہ اجازت ہے حکم نہیں یعنی اگر تم نماز جمعہ کے بعد مسجد میں ہی بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے رہو تو بھی اچھا ہے، جانا چاہو تو بھی اجازت ہے۔ اور اگر جمعہ کی نماز کے بعد کاروبار یا کام کاج کرنا چاہو تو بھی مکمل اجازت ہے ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ جو بھی کام کاج کرو دل میں ہر وقت اللہ کی یاد ضرور رہنی چاہیے اور اگر ہوسکے تو زبانی بھی اللہ کا ذکر کرو۔ یہ یاد تمہیں معاصی میں پڑنے سے روکے گی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن بھی سارا دن ہمیں کام کاج سے چھٹی منانے کی ضرورت نہیں۔ ضروری یہ ہے کہ جمعہ کے دن جس پر جمعہ واجب ہے وہ بر وقت غسل کرے، مسواک کرے۔ صاف ستھرے کپڑے پہنے، تیل اور خوشبو لگائے پھر خطبہ…
Read the full tafseer →11۔ یعنی جب نماز سے فارغ ہوجاؤ تو اب اجازت ہے کہ اپنے جمعہ کو مسیحیوں کے اتوار اور یہود کے شنبہ کی طرح دنیوی کاروبار سے تعطل کا دن نہ فرض کرلو،۔ ہاں دنیوی کارربار میں اشتغال خدا فراموشی کے مرادف نہیں۔ احکام الہی کا استحضار کاروبار میں بھی پوری طرح رہے۔ دیانت امانت تقوی، تجارت اور ہر قسم کین دنیوی مشغلہ میں مسلمان کے لیے لازمی ہیں۔ آیت میں جو حکم ہے، اس کی پوری قدر جب ہوگی، جب یہود ونصاری کا معاملہ جو انہوں نے اپنے اپنے ہفتہ وارتہواروں کے ساتھ کر رکھا ہے، پیش نظر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ترجمہ : اے ایمان والو جب جمعہ کے روز جمعہ (کی نماز) کے لئے اذان کہی جائے تو تم اللہ کی یاد (نماز) کی طرف (فوراً ) چل پڑا کرو، من ’ بمعنی فی ہے اور خریدو فروخت ترک کردیا کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھتے ہو کہ یہ بہتر ہے، پھر تم اس پر عمل کرو، پھر جب نماز ہوچکے تو تم زمین میں پھیل جائو امرا باحت کے لئے، اور خدا کا فضل (روزی) طلب کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہا کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ آپ ﷺ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ ایک قافلہ آیا، اور دستور کے مطابق اس کی آمد پر ڈھول بجایا گیا تو لوگ اس کے لئے مسجد سے نکل گئے، سوائے بارہ آدمیوں کے تو یہ آیت نازل ہوئی، وہ لوگ جب کسی تجارت کو…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
قباء کے رہنے والے بھی (قبا سے آکر جمعہ کی نماز) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے۔ کذا روی ابن ماجۃ و ابن خزیمۃ۔ قباء کے ایک باشندے نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا تھا کہ قباء سے (مدینہ میں آ کر) ہم جمعہ کی نماز میں حاضر ہوں۔
بیہقی کی روایت ہے کہ ذوالحلیفہ کے باشندے مدینہ میں آکر جمعہ کی نماز پڑھتے تھے۔
دور صحابہ میں مختلف ممالک اور متعدد شہر فتح ہوئے ‘ وہاں مسجدیں تعمیر کی گئیں ‘ منبر نصب کیے گئے اور جمعہ کی نماز قائم کی گئی لیکن اقامت جمعہ صرف شہروں میں ہوئی ‘ گاؤں میں نہیں ہوئی۔ اگر کسی گاؤں میں جمعہ کی نماز قائم کی گئی ہوتی تو تاریخی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9۔ 10) اے ایمان والو ! جب اذان جمعہ کے ذریعے سے تمہیں نماز کی طرف بلایا جائے تو تم نماز اور خطبہ کی طرف فورا چلے آیا کرو اور اذان کے بعد خریدو فروخت چھوڑ دیا کرو یہ نماز اور خطبہ امام تمہارے لیے روزی و تجارت سے زیادہ بہتر، اگر تم لوگ کتاب خداوندی کی تصدیق کرتے ہو۔
اب اس حرمت کے بعد اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ جب امام نماز جمعہ سے فارغ ہوجائے تو اگر تم چاہو تو مسجد سے تمہیں جانے کی اجازت ہے اور اگر تم چاہو تو اللہ کی روزی تلاش کرو اور ایک مطلب یہ ہے کہ جب امام نماز جمعہ سے فارغ ہوجائے تو مسجد میں بیٹھ کر معرفت توحید زہد و توکل کی تعلیم حاصل کرو اور ہر ایک حالت میں ذکر لسانی و قلبی کرتے رہو…
Read the full tafseer →2۔ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ۔۔۔: یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ، تو کیا نماز کے بعد مسجد سے نکلنا ضروری ہے اور کیا کاروبار بھی ضرور ی ہے یا گھر میں آرام بھی کیا جاسکتا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اگرچہ اصل یہی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے وہ فرض ہوتا ہے ، مگر قرینہ موجود ہو تو امر استحباب کے لیے بھی ہوتا ہے اور بیان جواز کے لیے بھی۔ یہاں اذان کے بعد بیع سے منع فرمایا تھا، اب اس ممانعت کی حد بیان فرما دی کہ یہ ممانعت نماز پوری ہونے تک ہے ، اس کے بعد بیع کی اجازت ہے اور تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اس میں تیرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ یایھا الذین امنوا اذا نودی الصلوۃ من نوم الجمعۃ حضرت عبداللہ بن زبیر اور اعمش وغیرہ نے الجمعۃ میم کو ساکن کرتے ہوئے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں، ان دونوں کی جمع جمعہ اور جمعات آتی ہے۔ فراء نے کہا، الجمعۃ (میم کے سکون کے ساتھ) الجمعۃ (میم کے ضمہ کے ساتھ) اور الجمعہ میم کے فتحہ کے ساتھ یہ یوم کی صفت ہے، یعنی یہ لوگوں کو جمع کرتا ہے جس طرح ضحکۃ اسے کہتے ہیں جو لوگوں کو ہنساتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، قرآن حکیم تثقیل و تفخیم کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ اسے جمعہ پڑھا کرو یعنی میم مضموم ہے۔ فراء اور ابوعبیدہ نے کہا، تخفیف زیادہ مناسب اور اچھی ہے جس…
Read the full tafseer →79۔ ابو عبید وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے عبداللہ بن بسر الحرانی (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی عبداللہ بن بشر المازنی ؓ کو دیکھا کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکلے تو کچھ دیر بازار میں گھومے پھر مسجد کی طرف لوٹ آئے۔ پھر وہ نماز پڑھتے جتنا اللہ چاہتا کہ وہ پڑھیں تو ان سے پوچھا گیا۔ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ فرمایا میں نے سید المرسلین ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ۔ پھر جب نماز پوری ہوچکے تو اس کے بعد تم کو اجازت ہے کہ زمین پر چلو پھرو۔ اور خداداد روزی تلاش کرو۔
80۔ ابن المنذر نے سعید بن…
Read the full tafseer →[فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ : پھر جب پوری کرلی جائے نماز ] [فَانتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ : تو تم لوگ منتشر ہو جائو زمین میں ] [وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ : اور تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے (روزی)] [وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا : اور ذکر کرتے رہو اللہ کا کثرت سے ] [لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ : شاید کہ تم لوگ مراد پائو ]
آیت۔ 10 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد زمین میں پھیل جانا اور رزق تلاش کرنا ضروری ہے بلکہ یہ ارشاد اجازت کے معنی میں ہے جیسے سورة نساء میں ایک سے زائد نکاح کی اجازت فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ یہاں اگرچہ فَانْکِحُوْا فعل امر ہے مگر…
Read the full tafseer →نماز جمعہ کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو :
اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ ﴾ (الآیۃ) (یعنی جب نماز ختم ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو) ۔ یہ امرو جوب کے لیے نہیں ہے اباحت اور اجازت کے لیے ہے۔ مطلب یہ کہ جب نماز ختم ہوگئی تو مسجد کی حاضری والا کام ختم ہوگیا اب اپنے دنیاوی مشاغل میں لگ سکتے ہو مسجد سے فارغ ہو کر بازار میں جاؤ۔ اللہ کا رزق حاصل کرو۔ جمعہ کی حاضری کے لیے جو کاروبار چھوڑ کر آئے تھے چاہو تو اس میں لگ جاؤ چونکہ یہ امراباحت کے لیے ہے اس لئے اگر کوئی شخص نماز پڑھ کر عصر تک یا مغرب تک مسجد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترغیب اہل ایمان برائے اقامۃ جمعہ وتاکید سعی الی ذکر اللہ وترک بیع وشراء براذان :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ...... الی ..... واللہ خیر الرزقین “۔
(ربط) ماقبل آیات میں یہود پر تین طرح زجروتوبیخ کی گئی تھی (1) اول جب انہوں نے اپنے علم وفضل پر فخر کیا عرب اور آنحضرت ﷺ کو قوم جاہل کہا تو اس کے بالمقابل یہ ثابت کیا گیا کہ خود یہ لوگ گدھے ہیں او جس علم وفضل پر یہ اترا رہے ہیں اس کا بوجھ ان پر حرف بالکل ایسا ہی ہے جیسے گدھے پر کتابوں کا انبار لداہو اہو۔ (2) جب انہوں نے یہ فخر کیا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس وجہ سے ہم خدا تعالیٰ سے زیادہ قریب ہیں بلکہ اس کے دوست اور…
Read the full tafseer →ف 10:۔ ” فاذا قضیت “ جب نماز جمعہ سے فارگ ہوجاؤ تو بدستور خریدو فروخت اور دیگر کاروبار میں لگ جاؤ اور اپنی روزی تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد رکھو۔ اللہ کی یاد کو صرف نماز ہی سے مختص نہ کرو بلکہ ہر وقت اس کو یاد کرتے رہو۔ اللہ کی یاد زبان سے یاد کرنے ہی میں منحصر نہیں اگر کوئی شخص اپنے کاروبار میں اللہ کو یاد رکھتا ہے تو وہ بھی ذکر اللہ میں مصروف ہے۔ واذکروا کثیرا فی مجامع احوالکم ولا تخصوا ذکرہ بالصلوۃ الخ (مظہری ج 9 ص 298) ۔ اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنا فلاح دارین کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
جمعہ کی فضیلت :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجمعہ اسی لئے ہے کہ اس کے دوسرے رکوع میں جمعہ کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ جمعہ کے دن اور اس کی نماز کو دین میں خصوصیت حاصل ہے۔ نمازجمعہ نماز ظہر کے قائم مقام پڑھی جاتی ہے۔ تاہم یہ ظہر سے زیادہ موکدہ ہے۔ جمعہ کے دن کو حضور ﷺ نے سعید الایام فرمایا ہے اور قیامت والے دن یہ بڑی نمایاں حیثیت میں ظاہر ہوگا۔ یوم الجمعہ کے فضائل کے ضمن میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰحضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا ، اسی دن آپ کو جنت میں داخل کیا اور اسی دن وہاں سے نکالا قیامت بھی بروز جمعہ ہی برپا ہوگی۔ حضور ﷺ کو ایک آئینہ دکھایا گیا جس کے درمیان میں ایک نقطہ…
Read the full tafseer →فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہِ وَاذْكُرُوا اللہَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 10
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ترکیب : مثل الذین مبتدا کمثل الحمار خبرہ یحمل الجملۃ اماحال والعامل فیھا معنی المثل اوصفۃ للحمارا ولیس المراد بہ معنیافھوفی حکم النکرۃ کما فی ھذا القول ولقد امر علی اللئیم یسینی مثل القوم فاعل بئس الذین فی موضع خبرلغتا للقوم والمخصوص بالذم محذوف ای ہذا المثل ویمکن ان یکون فی موضع رفع تقدیرہ ئبس مثل القوم مثل الذین فمثل المحذوف ھوالمخصوص بالذم وقدحذف اوقیم المضاف الیہ مقامہ۔ (ابن الصائغ) وقدر العلامۃ ابوالمسعود وھذا ای بئس مثلاً مثل القوم الذین کذبوا علی ان التمیز محذوف والفاعل المفسربہ مستتر ومثل القوم ھوالمخصوص بالذم اولموصول صفۃ لقوم۔ فانہ ملاقیکم الجملہ خبران ودخلت الفاء لمافی الذی شبہ…
Read the full tafseer →فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (الجمعۃ : 10)
(پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو۔ )
یہود کے بالمقابل جمعہ کے احکام میں وسعت
کاروبار چھوڑ دینے کی پابندی اور ہر طرح کی مصروفیت سے دستبرداری کا حکم صرف نماز جمعہ کے لیے تھا اس کے بعد اجازت دی گئی ہے کہ تم جہاں چاہو اور جس شکل میں چاہو اللہ تعالیٰ کے رزق و فضل کو تلاش کرو۔ یہود پر سبت کے احترام کی پابندی پورے دن کے لیے تھی، لیکن مسلمانوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں نماز جمعہ کے لیے کاروبار چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب جمعہ کے بعد کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکم ہوا کہ جب تم نماز مکمل کرلو تو اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے فرمائیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے کھیل، تماشے اور تجارت سے بہت بہتر ہے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ بہتررزق دینے والا ہے۔ اس آیت میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس طرح ہے کہ مدینہ کی منڈی میں دحیہ کلبی کا تجارتی قافلہ…
Read the full tafseer →فضل اللہ سے مراد :
10 : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ (جب نماز ادا کی جاچکے) فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ (تو زمین میں پھیل جائو) یہ امراباحت کیلئے ہے۔ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ ( اور تم اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو) فضل اللہؔ سے۔ نمبر 1۔ رزق مراد ہے۔ نمبر 2۔ طلب علم نمبر 3۔ عیادۃ المریض۔ نمبر 4۔ دینی بھائی کی ملاقات۔ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کیا کرو) اور اس کا اس بات پر شکریہ ادا کرو کہ اس نے اپنے فریضہ کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرمائی۔ لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (کامیابی کی امید رکھتے ہوئے)
Read the full tafseer →9 ۔” یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلاۃ من یوم الجمعۃ “ یعنی یوم یوم الجمعہ اللہ تعالیٰ کے قول ” ارونی ماذا خلقوا من الارض “ یعنی فی الارض کی طرح۔
اذا نودی للصلوٰۃ کی تفسیر
اور اس جواء سے امام کے منبر پر خطبہ کے لئے بیٹھنے کے وقت اذان مراد ہے۔ سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں جمعہ کے دن پہلی اذان جب امام منبر پر بیٹھ جاتا، ہوتی۔ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر اور عمر ؓ کے دور میں پھر جب عثمان ؓ کا دور آیا اور لوگ زیادہ ہوگئے تو حضرت عثمان ؓ نے زوراء (جگہ کا نام) پر دوسری اذان کو زیادہ کیا۔ اعمش (رح) نے ” من یوم الجمعۃ “ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا اور اکثر حضرات نے میم کے پیش کے ساتھ اور اسی دن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 10۔ صحیح بخاری 2 ؎ نسائی ‘ ابو داؤود وغیرہ میں سائب بن یزید سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ابوبکر ‘ عمر اور عثمان کی ابتداء خلافت اس تمام عہد میں جمعہ کے دن کی فقط ایک وہی اذان تھی جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت کہی جاتی تھی اس کے بعد جب مدینہ میں آدمیوں کی کثرت ہوگئی تو حضرت عثمان (علیہ السلام) نے اپنی خلافت میں خطبہ کی اذان سے پہلے ایک اور اذان کا حکم دیا یہ اذان مدینہ کے بازار کے ایک بلند مقام پر دی جاتی تھی جس مقام کا نام زوراء ہے اس حدیث کی بناء پر سلف نے اس آیت کی تفسیر میں اسی اذان کا ذکر کیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے عہد میں خطبہ کے وقت تھی۔ صحیح 3 ؎ مسلم اور ابو داؤود میں…
Read the full tafseer →(فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ ) پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ کام کاج اور تجارت کے لیے چونکہ تجارت میں مشغول ہونا اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے اسل یے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا تاکہ اس کے ذریعے تلافی ہوجائے چناچہ فرمایا (وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا) یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ( لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) تاکہ تم فلاح پاؤ۔ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔
Read the full tafseer →قول باری ہے (فاذا قضیت الصلوٰۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ ، پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو) حسن اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ اجازت اور رخصت ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیع کی ممانعت کے بعد اس کا ذکر کیا تو ظاہراً اس سے اباحت اور ممانعت کے رفع کا مفہوم حاصل ہوا۔ جس طرح یہ قول باری ہے (واذا حللتم فاصلادوا اور جب احرام کھول دو تو شکار کرو) ۔
ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے ” اللہ کی اطاعت اور دعا کے ذریعے اس کا فضل تلاش کرو۔ “ ایک قول ہے کہ ” تجارت وغیرہ کے ذریعے اس کا فضل تلاش کرو۔ “ یہ بھی اباحت کا مفہوم ادا کررہا ہے۔ یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
22 ۔ نماز جمعہ کے بعد طلب و تلاش رزق کی اجازت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کی نماز ادا کردی جائے تو تم پھیل جاؤ زمین میں، اور طلب و تلاش کرو اللہ کا فضل، یعنی روزی اور روزی کا لفظ فضل سے تعبیر فرمانے میں یہ اہم درس بھی ہے کہ یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کے فضل و کرم کا ثمرہ و پھل ہے، پس تم روزی کے حصول کے لیے کوشش اور محنت تو کر، اور ضرور کرو، اور بھر پور طریقے سے کرو، اور اس کے لیے مطلوبہ اسباب و وسائل بھی پوری طرح اپناؤ مگر دل کا بھروسہ بہرحال ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی پر رکھو کہ تم کو ملے گا وہی جو وہ اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
مومنوں کے لیے نماز جمعہ کا حکم
تشریح : جیسا کہ سورت کے تعارف میں بتا دیا گیا ہے کہ یہ سورت اس واقعہ کی وجہ سے نازل ہوئی جو ان آخری آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے ہماری زندگی موت، روزی، رزق، بیماری و صحت، عزت و ذلت اور خیر و برکت سب کچھ اللہ کے حکم سے ہے مگر ساتھ ہی ہمیں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ ان تمام چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اللہ کے بتائے ہوئے مخصوص قوانین کے تحت مقررہ حدود میں رہتے ہوئے پورے خلوص اور محنت سے کام کریں۔ یہ نہیں کہ جو اللہ نے لکھ دیا وہ تو مل ہی جائے گا چاہے کچھ بھی نہ کریں۔ اگر ایسا کیا تو پھر یہود جیسا انجام ہوگا۔ اللہ نے یہ جو اعضاء کی نعمتیں ہمیں دے رکھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیات 9 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان ہوجائے تو اپنا کاروبار بند کردو اور پورے اہتمام سے اللہ کے ذکر کے لیے یعنی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں پہنچو۔
جمعہ کے احکام۔
جمعہ مسلمانوں کا بہت ہی مبارک دن ہے جس میں ظہر کی نماز نہیں ہوتی بلکہ جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے یہ نماز عورتوں ، مریضوں اور مسافروں پر فرض نہیں وہ ظہر کی نماز ادا کرسکتے ہیں اور جب اذان ہوجائے تو دنیاوی کاروبار حرام ہوجاتا ہے۔ جمعہ علماء کے نزدیک ایسی آبادی جس میں دکانیں ہوں یاسرکاری دفتر ، سکول ، ڈاکخانہ ، وغیرہ ہوہوسکتی ہے تفصیل فقہ کی کتب میں دیکھی جائے ۔ چناچہ یہاں نماز کی ادائیگی اور…
Read the full tafseer →ف 7 شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ ” یہود کے ہاں عبادت کا دن ہفتہ تھا اور نصاریٰ کے ہاں، اتوار) سارا دن سودا صکاروبار) منع تھا۔ اس واسطے فرما دیا کہ تم نماز کے بعد روزی کی تلاش کرو اور روزی کی تلاش میں بھی اللہ کو نہ بھولو۔
Read the full tafseer →(62:10) فاذا قضیت الصلوٰۃ :عاطفہ، اذا۔ جب۔ ظرف زمان۔ شرطیہ ۔ قضیت : ماضی مجہول واحد مؤنث غائب قضاء (باب ضرب) مصدر۔ نماز ادا کرنا ق۔ ض۔ ی مادہ۔ پھر جب نماز ادا ہوچکے ۔ جملہ شرط ہے۔
فانشروا :جواب شرط کے لئے ہے انشروا : فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ انتشار (افعال) مصدر۔ تم منتشر ہوجاؤ۔ تم الگ الگ ہوجاؤ۔ تم بکھر جاؤ۔ عربی میں لوگوں کے انتشار کا مطلب ان کا پھیل کر اپنے اپنے کام میں لگ جانا ہے۔ جملہ جواب شرط ہے۔
وابتغوا من فضل اللہ۔ واؤ عاطفہ ابتغوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تم تلاش کرو۔ من تبعیضیہ ہے ۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا فضل۔ فضل سے کیا مراد ہے ؟ اس میں مختلف اقوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
جمعہ کی نماز کی شرائط۔
(ف 1) اے مسلمانو ! خدا اور رسول پر ایمان لانے والو، جب جمعہ کی نماز کے واسطے اذان دی جائے تو خدا کی طرف تم کو بلایاجائے تو سب باتیں چھوڑ کر اللہ کے ذکر، خطبے کے سننے ، نماز کے پڑھنے کے لیے کوشش کروفورا متوجہ ہوجاؤ۔
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خریدوفروخت حرام ہوتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرالٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اسمیں داخل ہیں ۔ اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے۔
مسئلہ : اس آیت سے نماز جمعہ کی فرضیت اور بیع وغیرہ مشاغل دنیویہ کی حرمت اور سعی یعنی اہتمام نماز کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا۔
مسئلہ : جمعہ مسلمان مرد مکلف ، آزاد…
Read the full tafseer →[12] یعنی اب تمہارے لئے جائز ہے کہ معاش کے کاموں میں مشغول ہو۔
Read the full tafseer →ف 2: غرض یہ ہے کہ عبادت سے مراد ترک سعی نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ وہ اور زیادہ اکتساب فضل و دولت کے لئے تیار وآمادہ کرے ۔ اسی لئے ارشاد فرمایا ۔ کہ جب تم لوگ عبادت سے فارغ ہوجاؤ۔ تو پھر حسب معمول اپنے کاروبار میں مصروف ہوجاؤ۔ اور اپنے کاروبار میں اس عہد کو ملحوظ رکھو جو تم نے نماز میں اپنے اللہ سے کیا ہے ۔
حل لغات :۔ ذکیر اللہ ۔ خطبہ کی طرف اشارہ ہے انقضواکیھا ۔ اس کی طرف لپکتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(10) پھر جب نماز پوری ہوچکے تو اختیار ہے کہ تم زمین میں چلو پھرو اور اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی اس کی روزی کی تلاش کرو اور اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پائو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کے ہاں عبادت کا دن ہفتہ تھا سارے دن سودا منع تھا اسی واسطے روزی کی تلاش کرو اور روزی کی تلاش میں بھی اللہ کی یاد کو نہ بھولو۔
خلاصہ : یہ کہ یہود کے ہاں ہفتہ اور نصاری کے ہاں اتوار کا دن عبادت کے لئے مقرر تھا امت محمدیہ ﷺ کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا احادیث میں جمعہ کی بہت فضیلت آئی ہے ایک روایت میں ہے جو شخص جمعہ کے دن مرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے شہید کا اجر لکھتا ہے اور اس کی قبر کے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی اس وقت دنیا کے کاموں کے لئے چلنے پھرنے کی اجازت ہے۔
4۔ یعنی اشغال دنیویہ میں ایسے منہمک مت ہوجاو کہ احکام و عبادات ضروریہ سے غافل ہوجاو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
صلوٰۃ جمعہ ادا کرلینے کے بعد اپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہونے کی اجازت عام ہے
10 ؎ پیچھے ” ذکر اللہ “ کی وضاحت گزر چکی ہے کہ اس سے مراد خطبہ جمعہ ہے جس کا سننا لوازمات جمعہ میں سے ہے اگرچہ فقہاء کی تشریحات اس کے خلاف ہیں اور ان کے کہنے کے مطابق یا آپ یوں کہیں کہ ان میں سے بعض کے کہنے کے مطابق صلوٰۃ جمعہ میں اگر کوئی شخص مل گیا تو بھی اس کو جمعہ کے بقیہ فرض دو فرضوں میں جو باقی رہ جائے اس کو پورا کرنا ضروری ہے اور جب کسی نے دو فرض جمعہ ادا کرلیے یا ان کا بعض حصہ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تشہد میں بھی آ کر مل گیا تو اس کی صلوٰۃ جمعہ ادا ہوگئی لیکن ہماری تفہیم میں جمعہ اس کا ادا ہو سکتا ہے جس نے…
Read the full tafseer →Blessings in Business after Jumu’ ah
فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّـهِ (Then once the salah is finished, disperse in the land, and seek the grace of Allah…62:10). The preceding verses prohibited trading and all other worldly activities, after the adhan of Jumu’ ah. The present verse permits those activities after the Jumu’ ah prayer is over; we are allowed to spread throughout the land in search of our livelihood and sustenance.
When Sayyidna ‘Irak Ibn Malik (رح) finished his Jumu’ ah prayer, he would come out and, standing on the…
Read the full tafseer →16 "This does not mean that after the Friday is over, it is obligatory to go in search of livelihood. but it only implies permission. As it was ordered to stop aII worldly business as soon as the call was made for the Prayer, so it is allowed that after the Prayer is over, the people may dispose and resume or pursue whatever occupation or business they may like. It is just like the prohibition of hunting in the state of ihram, but after ihram is put off, one is told to hunt. (AI-Ma'idah: 2) . That does not mean that one must hunt, but that one may hunt if one so likes. Or, for instance. in…
Read the full tafseer →