Explained with ayahs 9–10
جمعہ کا دن کیا ہے ؟ اس کی اہمیت کیوں ہے ؟
جمعہ کا لفظ جمع سے مشتق ہے، وجہ اشتقاق یہ ہے کہ اس دن مسلمان بڑی بڑی مساجد میں اللہ کی عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی وجہ ہے کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی چھ دن میں ساری کائنات بنائی گئی ہے چھٹا دن جمعہ کا ہے اسی دن حضرت آدم ؑ پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں بسائے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو طلب کرے اللہ تعالیٰ اسے عنایت فرماتا ہے، جیسے کہ صحیح احادیث میں آیا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمان سے پوچھا جانتے ہو جمعہ کا دن کیا ہے ؟…
Read the full tafseer →سورة الْجُمُعَة 14
اس فقرے میں تین باتیں خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں نماز کے لیے منادی کرنے کا ذکر ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی ایسی نماز کی منادی کا ذکر ہے جو خاص طور پر صرف جمعہ کے دن ہی پڑھی جانی چاہیے۔ تیسرے یہ کہ ان دونوں چیزوں کا ذکر اس طرح نہیں کیا گیا ہے کہ تم نماز کے لیے منادی کرو، اور جمعہ کے روز ایک خاص نماز پڑھا کرو، بلکہ انداز بیان اور سیاق وسباق صاف بتارہا ہے کہ نماز کی منادی سن کر نماز کے لیے دوڑنے میں تساہل برتتے تھے اور خریدو فروخت کرنے میں لگے رہتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت صرف اس غرض کے لیے نازل فرمائی کہ لوگ اس منادی اور اس خاص نماز کی اہمیت محسوس کریں اور فرض…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! جب جمعہ کے روز نماز (جمعہ) کے لئے اذان کہی جایا کرے تو تم اللہ کی یاد (یعنی نماز و خطبہ) کی طرف (فوراً) چل پڑا کرو اور خریدو فروخت (اور اسی طرح دوسرے مشاغل مانعہ عن السعی کمافی رد المحتار) چھوڑ دیا کرو (اور تخصیص بیع کی بوجہ زیادہ اہتمام کے ہے کہ اس کے ترک کو فوت نفع سمجھا جاتا ہے) یہ (چل پڑنا مشاغل بیع وغیرہ کو چھوڑ کر) تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے، اگر تم کو کچھ سمجھ ہو (کیونکہ اس کا نفع باقی ہے اور بیع وغیرہ کا نفع فانی) پھر جب نماز (جمعہ کی) پوری ہوچکے (اور اگر ابتداء میں خطبہ موخر تھا تو نماز پورا ہونے سے مراد اس کا مع متعلقات کے پورا ہونا ہے، جس کا حاصل نماز اور…
Read the full tafseer →2۔ آگ آیات 9۔ 11 کا مضمون
آگے مسلمانوں کی ایک غلطی پر گرفت فرمائی جو نماز جمعہ اور پیغمبر ﷺ کے احترام کے معاملے میں ایک جماعت سے صادر ہوئی۔ کوئی تجارتی قافلہ مدینہ میں داخل ہوا اس کی خبر سن کر کچھ لوگ عین اس وقت مسجد سے اٹھ کر چلے گئے جب آنحضرت ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ اگرچہ یہ فعل کچھ خام تربیت لوگوں ہی سے صادر ہوا لیکن اس سے جماعت کی بعض ایسی کمزوریوں کی نشان دہی ہوئی جن کی اصلاح ضروری تھی۔
ایک کمزوری تو یہ ظاہر ہوئی کہ معلوم ہوا کہ ابھی بہتوں کے اندر اس فضل عظیم کا کماحقہ شعور نہیں پیدا ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی شکل میں امیوں پر فرمایا ہے۔ دوسری یہ کہ ابھی لوگوں نے اس بیع و…
Read the full tafseer →9۔ 1 یہ اذان کس طرح دی جائے، اس کے الفاظ کیا ہوں ؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا ہی۔ جمعہ کو، جمعہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر چیز کی پیدائش سے فارغ ہوگیا تھا، یوں گویا تمام مخلوقات کا اس دن اجتماع ہوگیا، یا نماز کے لئے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس بنا پر کہتے ہیں (فتح القدیر) فَاَسْعَوْا کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آؤ، بلکہ یہ ہے کہ اذان کے بعد فوراً کاروبار بند کر کے آجاؤ۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے، وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (صحیح بخاری) بعض حضرات نے ذروا البیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
6: جمعہ کی پہلی اذان کے بعد جمعہ کے لئے روانہ ہونے کے سوا کوئی اور کام جائز نہیں، نیز جب تک نماز جمعہ ختم نہ ہوجائے خریدو فروخت کا کوئی معاملہ جائز نہیں ہے، اللہ کے ذکر سے مراد جمعہ کا خطبہ اور نماز ہے۔
Read the full tafseer →جمعہ کی نماز بغیر جماعت کے نہیں ہوسکتی ، اس میں یہ بات لازمی ہے کہ مسلمان اس میں جمع ہوں اور خطبہ جمعہ سنیں اور اس خطبے میں مسلمانوں کو دینی تعلیم دی جائے۔ یہ مسلمانوں کا ایک دینی اور تنظیمی اجتماع ہے ، جس میں دین اور دنیا اور آخرت سب کو ایک ہی سلسلہ اجتماع میں جمع کردیا گیا ہے اور یہ سب امور عبادت کا حصہ ہیں۔ نماز جمعہ سے اسلام کا اجتماعی نظریہ اور نظام بڑی خوبی سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں بیشمار احادیث وارد ہیں جن میں جمعہ کی فضیلت ، اس کی تیاری ، غسل ، کپڑوں کی صفائی اور خوشبو لگانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اذا جاء احدکم…
Read the full tafseer →8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ہر اذان کا یہ حکم نہیں، کیونکہ جماعت پھر بھی ملے گی۔ اور جمعہ ایک ہی جگہ ہوتا تھا۔ پھر کہاں ملے گا۔ " اور اللہ کی یاد سے مراد خطبہ ہے اور نماز بھی اس کے عموم میں داخل ہے۔ یعنی ایسے وقت جائے کہ خطبہ سنے۔ اس وقت خریدو فروخت حرام ہے۔ اور " دوڑنے " سے مراد پورے اہتمام اور مستعدی کے ساتھ جانا ہے۔ بھاگنا مراد نہیں۔ (تنبیہ) " نودی " سے مراد قرآن میں وہ اذان ہے جو نزول آیت کے وقت تھی یعنی جو امام کے سامنے ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلی اذان بعد کو حضرت عثمان ؓ کے عہد میں صحابہ کے اجماع سے مقرر ہوئی ہے۔ لیکن حرمت بیع میں اس اذان کا حکم بھی اذان قدیم کے ہے کیونکہ اشتراک علت…
Read the full tafseer →سورت کے تیسرے اور آخری حصے میں نماز جمعہ کا ذکر ہے۔ نماز جمعہ دراصل ”حزب اللہ“ کا ہفتہ وار تعلیمی و تربیتی اجتماع ہے۔ ایسے اجتماعات کا انعقاد ہر انقلابی تحریک کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی زمانے میں کمیونسٹوں کے ہاں بھی اپنے کارکنوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ہفتہ وار ”سٹڈی سرکلز“ کا انعقاد بڑے اہتمام سے کیا جاتا تھا۔ دراصل حزب اللہ کا نصب العین بہت عظیم اور راستہ بہت کٹھن ہے۔ اس راستے پر سفر جاری رکھنے کے لیے غیر معمولی صبر اور استقامت درکار ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ انقلابی کارکنوں کے ذہنوں میں ان کے بنیادی نظریے اور نصب العین کا شعور ہر لحظہ مستحضر رہے۔ چناچہ جمعہ کے اجتماع کا بنیادی…
Read the full tafseer →14 سنت کے واجب الاتباع ہونے پر دلیل :۔ انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول سے پیشتر اذان اور جمعہ دونوں چیزوں سے خوب متعارف تھے۔ انہیں ہدایت صرف یہ دی جارہی ہے کہ جب جمعہ کے لیے اذان ہوجائے تو خریدو فروخت اور دوسرے دنیوی مشاغل سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً جمعہ کا خطبہ سننے اور نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں پہنچ جاؤ۔ حالانکہ قرآن میں نہ کہیں اذان کے کلمات کا ذکر ہے اور نہ نماز جمعہ کی ترکیب کا۔ یہ باتیں رسول اللہ کی بتائی ہوئی ہیں۔ جن کی قرآن سے توثیق کردی گئی ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ جس طرح قرآن کے احکام واجب الاتباع ہیں اسی طرح رسول اللہ کے احکام بھی واجب الاتباع ہیں اور جو شخص…
Read the full tafseer →9۔ اس ذکر اللہ کے عموم میں نماز فرض اور خطبہ واجب دونوں آگئے۔ (آیت) ” یایھا الذین “۔ اس کے عموم سے وہ لوگ خارج ہیں، جن پر جمعہ واجب ہی نہیں۔ عورتیں، بچے، مریض، مسافر وغیرہ۔ (آیت) ” للصلوۃ “۔ ال عہد کا ہے، اور للصلوۃ سے مراد لوقت الصلوۃ ہے۔ الصلوۃ سے مراد صلوۃ الجمعۃ ہے، (آیت) ” من یوم الجمعۃ “۔ من یہاں فی کے معنی میں ہے۔ اے فی یوم الجمعۃ (مدارک) ” فاسعوا “۔ سعی یہاں اپنے لفظی معنی میں، یعنی دوڑنے کے مرادف نہیں، بلکہ اس سے مقصود چلنے میں توجہ واہتمام کی تاکید ہے۔ السعی یستمل للجدفی الامر (راغب) المراد بالسعی القصد دون العدو (کشاف) ولیس المراد من السعی الاسراع انما المراد منہ العمل والفعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ترجمہ : اے ایمان والو جب جمعہ کے روز جمعہ (کی نماز) کے لئے اذان کہی جائے تو تم اللہ کی یاد (نماز) کی طرف (فوراً ) چل پڑا کرو، من ’ بمعنی فی ہے اور خریدو فروخت ترک کردیا کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھتے ہو کہ یہ بہتر ہے، پھر تم اس پر عمل کرو، پھر جب نماز ہوچکے تو تم زمین میں پھیل جائو امرا باحت کے لئے، اور خدا کا فضل (روزی) طلب کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہا کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ آپ ﷺ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ ایک قافلہ آیا، اور دستور کے مطابق اس کی آمد پر ڈھول بجایا گیا تو لوگ اس کے لئے مسجد سے نکل گئے، سوائے بارہ آدمیوں کے تو یہ آیت نازل ہوئی، وہ لوگ جب کسی تجارت کو…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ و ذروا البیع ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون . ” اے ایمان والو ! جب جمعہ کے روز نماز (جمعہ) کے لیے اذان کہی
جایاکرے تو تم اللہ کی یاد (یعنی نماز و خطبہ) کی طرف (فوراً ) چل پڑا کرو اور خریدو فروخت (اور اسی طرح کے دوسرے مشاغل جو چلنے سے مانع ہوں) چھوڑ دیا کرو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم کو کچھ سمجھ ہو ‘ (تو سمجھو) ۔ “
اِذَا نُوْدِیَ : یعنی جب اذان دی جائے۔
مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ : مِنْ بیانیہ ہے یہ اِذَا نُوْدِیَ کا بیان ہے ‘ بعض اہل علم نے اس جگہ مِنْ کو بمعنی فِیْ کہا گیا یعنی جب نماز جمعہ کے لیے جمعہ کے دن اذان دی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9۔ 10) اے ایمان والو ! جب اذان جمعہ کے ذریعے سے تمہیں نماز کی طرف بلایا جائے تو تم نماز اور خطبہ کی طرف فورا چلے آیا کرو اور اذان کے بعد خریدو فروخت چھوڑ دیا کرو یہ نماز اور خطبہ امام تمہارے لیے روزی و تجارت سے زیادہ بہتر، اگر تم لوگ کتاب خداوندی کی تصدیق کرتے ہو۔
اب اس حرمت کے بعد اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ جب امام نماز جمعہ سے فارغ ہوجائے تو اگر تم چاہو تو مسجد سے تمہیں جانے کی اجازت ہے اور اگر تم چاہو تو اللہ کی روزی تلاش کرو اور ایک مطلب یہ ہے کہ جب امام نماز جمعہ سے فارغ ہوجائے تو مسجد میں بیٹھ کر معرفت توحید زہد و توکل کی تعلیم حاصل کرو اور ہر ایک حالت میں ذکر لسانی و قلبی کرتے رہو…
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ۔۔۔۔۔: اہل کتاب کی شقاوت اور امیین کی سعادت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہود و نصاریٰ پر جمعہ کا دن فرض کیا گیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں اختلاف کیا۔ یہود نے اپنے لیے ہفتے کا دن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن عبادت کے لیے مقرر کرلیا ، جبکہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو جمعہ کے دن کی ہدایت عطاء فرما دی ، جس سے انہیں یہودو نصاریٰ دونوں پر سبقت حاصل ہوگئی۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ نحل کی آیت (124) :(انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ) کی تفسیر۔
2۔ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا۔۔۔۔۔۔: یہ آیت واضح دلیل ہے کہ جمعہ ان تمام لوگوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اس میں تیرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ یایھا الذین امنوا اذا نودی الصلوۃ من نوم الجمعۃ حضرت عبداللہ بن زبیر اور اعمش وغیرہ نے الجمعۃ میم کو ساکن کرتے ہوئے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں، ان دونوں کی جمع جمعہ اور جمعات آتی ہے۔ فراء نے کہا، الجمعۃ (میم کے سکون کے ساتھ) الجمعۃ (میم کے ضمہ کے ساتھ) اور الجمعہ میم کے فتحہ کے ساتھ یہ یوم کی صفت ہے، یعنی یہ لوگوں کو جمع کرتا ہے جس طرح ضحکۃ اسے کہتے ہیں جو لوگوں کو ہنساتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، قرآن حکیم تثقیل و تفخیم کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ اسے جمعہ پڑھا کرو یعنی میم مضموم ہے۔ فراء اور ابوعبیدہ نے کہا، تخفیف زیادہ مناسب اور اچھی ہے جس…
Read the full tafseer →4۔ سعید بن منصور وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کس چیز کی وجہ سے یوم الجمعہ کا نام جمعہ رکھا گیا۔ آپ نے فرمایا اس میں تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کی مٹی کو جمع کیا گیا۔ اور اسی میں زلزلہ اور دوبارہ اٹھنا ہوگا اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایک گھڑی ایسی ہے اس میں جو دعا مانگے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔
5۔ سعید بن منصور واحمد والنسائی وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا سول ہی بہتر جانتے ہیں اس کو آپ نے تین مرتبہ فرمایا پھر آپ نے…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ] [اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ : جب پکارا جائے نماز کے لیے ] [مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ : جمعہ کے دن میں سے ] [فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ : تو تم لوگ لپکو اللہ کی یاد کی طرف ] [وَ : اور ] [ذَرُوا : تم لوگ چھوڑ دو ] [الْبَيْعَ : سوداگری کو ] [ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ : یہ بہتر ہے تمہارے لیے ] [ان كُنْتم تَعْلَمُوْنَ : اگر تم لوگ جانتے ہو ]
نوٹ۔ 1: جمعہ کے دن کو یوم جمعہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے اجتماع کا دن ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں اس دن کو یوم عروبہ کہا جاتا تھا۔ سب سے پہلے عرب میں کعب بن لوئی نے اس کا نام جمعہ رکھا۔ قریش اس…
Read the full tafseer →جمعہ کی اذان ہوجائے تو کاروبار چھوڑ دو اور نماز کے لئے روانہ ہوجاؤ
ان آیات میں جمعہ کی فرضیت اور فضیلت بیان فرمائی ہے اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے پکارا جائے یعنی اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو۔ نماز جمعہ سے پہلے جو خطبہ ہوتا ہے اسے ذکر اللہ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کو سننے کے لئے دوڑ جانے کا حکم دیا ہے دوڑ جانے سے مراد یہ نہیں ہے کہ بھاگ کر جاؤ بلکہ مطلب یہ ہے کہ جمعہ کی حاضری جلدی کرو اور خطبہ سننے کے لئے حاضر ہوجاؤ۔
﴿وَ ذَرُوا الْبَيْعَ ﴾ اور خریدو فروخت کو چھوڑ دو ۔ خرید فروخت بطور مثال فرمایا ہے کیونکہ تاجر لوگ اپنے سوداگری کے دھندوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترغیب اہل ایمان برائے اقامۃ جمعہ وتاکید سعی الی ذکر اللہ وترک بیع وشراء براذان :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ...... الی ..... واللہ خیر الرزقین “۔
(ربط) ماقبل آیات میں یہود پر تین طرح زجروتوبیخ کی گئی تھی (1) اول جب انہوں نے اپنے علم وفضل پر فخر کیا عرب اور آنحضرت ﷺ کو قوم جاہل کہا تو اس کے بالمقابل یہ ثابت کیا گیا کہ خود یہ لوگ گدھے ہیں او جس علم وفضل پر یہ اترا رہے ہیں اس کا بوجھ ان پر حرف بالکل ایسا ہی ہے جیسے گدھے پر کتابوں کا انبار لداہو اہو۔ (2) جب انہوں نے یہ فخر کیا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس وجہ سے ہم خدا تعالیٰ سے زیادہ قریب ہیں بلکہ اس کے دوست اور…
Read the full tafseer →9:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ ترغیب الی الذکر ہے۔ جمعہ کا اجتماع چونکہ سات دنوں میں ایک بار ہوتا تھا اور سب لوگ اکٹھے ہوتے تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ خطبہ جمعہ میں زیادہ اہمیت کے مسائل بیان فرماتے تھے مثلا جہاد میں خرچ کرنے اور جہاد میں شمولیت کی ترغیب وغیرہ۔ اس لیے ارشاد فرمایا جب جمعہ کی اذا ہونجائے تو تجارت اور دیگر کاروبار چھوڑ کر خطبہ کی طرف دوڑوں اور زیادہ اہمیت کے احکام سنو اور ان پر عمل کرو تمہاری دینی اور دنیوی بہتری اسی میں ہے۔ ” وذروا البیع “ اور خریدو فروخت کو چھوڑ دو ، سے ایک لطیف اشارہ نکلتا ہے کہ نماز جمعہ اسی جگہ قائم کی جائے جہاں تجارتی کاروبار ہوتا ہو، اور ایسی جگہ قصبات یا بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
جمعہ کی فضیلت :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجمعہ اسی لئے ہے کہ اس کے دوسرے رکوع میں جمعہ کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ جمعہ کے دن اور اس کی نماز کو دین میں خصوصیت حاصل ہے۔ نمازجمعہ نماز ظہر کے قائم مقام پڑھی جاتی ہے۔ تاہم یہ ظہر سے زیادہ موکدہ ہے۔ جمعہ کے دن کو حضور ﷺ نے سعید الایام فرمایا ہے اور قیامت والے دن یہ بڑی نمایاں حیثیت میں ظاہر ہوگا۔ یوم الجمعہ کے فضائل کے ضمن میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰحضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا ، اسی دن آپ کو جنت میں داخل کیا اور اسی دن وہاں سے نکالا قیامت بھی بروز جمعہ ہی برپا ہوگی۔ حضور ﷺ کو ایک آئینہ دکھایا گیا جس کے درمیان میں ایک نقطہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللہِ وَذَرُوا الْبَيْعَ 0 ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 9
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ترکیب : مثل الذین مبتدا کمثل الحمار خبرہ یحمل الجملۃ اماحال والعامل فیھا معنی المثل اوصفۃ للحمارا ولیس المراد بہ معنیافھوفی حکم النکرۃ کما فی ھذا القول ولقد امر علی اللئیم یسینی مثل القوم فاعل بئس الذین فی موضع خبرلغتا للقوم والمخصوص بالذم محذوف ای ہذا المثل ویمکن ان یکون فی موضع رفع تقدیرہ ئبس مثل القوم مثل الذین فمثل المحذوف ھوالمخصوص بالذم وقدحذف اوقیم المضاف الیہ مقامہ۔ (ابن الصائغ) وقدر العلامۃ ابوالمسعود وھذا ای بئس مثلاً مثل القوم الذین کذبوا علی ان التمیز محذوف والفاعل المفسربہ مستتر ومثل القوم ھوالمخصوص بالذم اولموصول صفۃ لقوم۔ فانہ ملاقیکم الجملہ خبران ودخلت الفاء لمافی الذی شبہ…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِاللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الجمعۃ : 9)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چلو، اور خریدوفروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ )
جمعہ کی اصطلاح کی وضاحت اور اہمیت
جمعہ درحقیقت ایک اسلامی اصطلاح ہے جس سے مراد وہ دن ہے جس میں مسلمان تذکیر و عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں اور اس اجتماع کی وجہ سے اس کو جمعہ کا نام دیا گیا ہے۔ زمانہ ٔ جاہلیت میں اہل عرب اسے یوم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : موت کی سختیوں اور آخرت کے عذاب سے بچنے کے لیے ایمانداروں کو پانجگانہ نماز اور جمعہ کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
اے ایمان والو ! جب تمہیں جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑتے ہوئے آؤ اور خریدو فروخت بند کر دو ۔ اگر تم اس کی حقیقت سمجھتے ہو، تو ایسا کرنا تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین ارشاد فرمائے ہیں۔
1۔ نماز کے لیے اذان دینا :
یہ فرمان بظاہر جمعہ کی نماز کے لیے ہے لیکن اس میں یہ تخصیص موجود نہیں کہ اذان صرف جمعہ کی نماز کے لیے ہی ہونی چاہیے کیونکہ نبی ﷺ نے ہر نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے کا حکم دیا ہے۔ جہاں تک…
Read the full tafseer →ندائے جمع :
9 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ (اے ایمان والو ! جب جمعہ کے روز نماز جمعہ کیلئے اذان دی جایا کرے) النداءؔ : اذان، منؔ یہ اذا ؔ کا بیان ہے۔ اور اسکی تفسیر ہے۔ یوم جمعہ یہ دنوں کا سردار ہے۔ حدیث میں وارد ہے۔ جو آدمی جمعہ کے دن فوت ہوا اس کے لئے شہید کا اجر لکھا جائے گا۔ اور اس کو فتنہ قبر سے بچا لیا جائیگا۔ (رواہ ابو یعلی فی مسندہ : 4113) فَاسْعَوْا (تو تم اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف (فوراً ) چل پڑا کرو) اسعوا اور امضوا جانے اور چلنے کے معنی میں ہے۔ اور ایک قراءت میں اس طرح آیا ہے۔ قول فراء السعی، المضی، الذھاب، ان کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8-7…” ولا یتمنونہ ابدا بما قدمت ایدیھم واللہ علیم بالظالمین۔ قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم ثم تردون الی عالم الغیب والشھادۃ فینئکم بما کنتم تعملون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 10۔ صحیح بخاری 2 ؎ نسائی ‘ ابو داؤود وغیرہ میں سائب بن یزید سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ابوبکر ‘ عمر اور عثمان کی ابتداء خلافت اس تمام عہد میں جمعہ کے دن کی فقط ایک وہی اذان تھی جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت کہی جاتی تھی اس کے بعد جب مدینہ میں آدمیوں کی کثرت ہوگئی تو حضرت عثمان (علیہ السلام) نے اپنی خلافت میں خطبہ کی اذان سے پہلے ایک اور اذان کا حکم دیا یہ اذان مدینہ کے بازار کے ایک بلند مقام پر دی جاتی تھی جس مقام کا نام زوراء ہے اس حدیث کی بناء پر سلف نے اس آیت کی تفسیر میں اسی اذان کا ذکر کیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے عہد میں خطبہ کے وقت تھی۔ صحیح 3 ؎ مسلم اور ابو داؤود میں…
Read the full tafseer →اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں، سعی، سے مراد جلدی کرنا، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے فرمایا (وَذَرُوا الْبَيْعَ ۭ ) یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو خریدوفروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ( ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ ) کیونکہ جمع کی نماز تمہارے خریدو فروخت میں مشغول ہونے سے او تمہارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے جو تمام فرائض سے زیادہ موکد ہے۔ ( اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعایل کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اذان جمعہ سے کیا مرا د ہے ؟
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا نودی لصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع، اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! جب پکارا جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو ) تا آخر آیت۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جمعہ کے روز حسب معمول باجماعت نمازیں ادا کی جاتی ہیں جس طرح اس روز زندگی کے اور دوسرے مشاغل سرانجام دیے جاتے ہیں لیکن آیت میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ان ہی نمازوں میں سے کوئی جمعہ کی نماز ہے۔
تاہم مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت میں اس سے وہ نماز مراد ہے کہ جسے اگر کوئی شخص جمعہ کے روز امام کے ساتھ ادا کرلے تو پھر…
Read the full tafseer →20 ۔ نماز جمعہ کے لیے خاص اہتمام کی ہدایت کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے نماز جمعہ کے لیے خاص اہتمام اور جمعہ کے روز اذان ہوتے ہی نماز کی طرف چل پڑنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، یعنی جب دوسری اذان دی جایا کرے جو کہ منبر کے پاس دی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور حضرات شیخین کریمین سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق ؓ کے عہد خلافت میں یہی اذان ہوا کرتی تھی، بعد میں جب آبادی بڑھ گئی اور لوگوں میں سستی آنے لگی تو حضرت عچمان بن عفان ؓ کے دور میں زوراء کے مقام پر دوسری اذان دی جانے لگی، جس پر کسی نے نکیر نہ فرمائی، اس طرح سب صحابہ کرام ؓ اجمعین کا اس پر گویا اجماع ہوگیا ( صفوۃ البیان وغیرہ) اور بعض حضرات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
مومنوں کے لیے نماز جمعہ کا حکم
تشریح : جیسا کہ سورت کے تعارف میں بتا دیا گیا ہے کہ یہ سورت اس واقعہ کی وجہ سے نازل ہوئی جو ان آخری آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے ہماری زندگی موت، روزی، رزق، بیماری و صحت، عزت و ذلت اور خیر و برکت سب کچھ اللہ کے حکم سے ہے مگر ساتھ ہی ہمیں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ ان تمام چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اللہ کے بتائے ہوئے مخصوص قوانین کے تحت مقررہ حدود میں رہتے ہوئے پورے خلوص اور محنت سے کام کریں۔ یہ نہیں کہ جو اللہ نے لکھ دیا وہ تو مل ہی جائے گا چاہے کچھ بھی نہ کریں۔ اگر ایسا کیا تو پھر یہود جیسا انجام ہوگا۔ اللہ نے یہ جو اعضاء کی نعمتیں ہمیں دے رکھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیات 9 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان ہوجائے تو اپنا کاروبار بند کردو اور پورے اہتمام سے اللہ کے ذکر کے لیے یعنی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں پہنچو۔
جمعہ کے احکام۔
جمعہ مسلمانوں کا بہت ہی مبارک دن ہے جس میں ظہر کی نماز نہیں ہوتی بلکہ جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے یہ نماز عورتوں ، مریضوں اور مسافروں پر فرض نہیں وہ ظہر کی نماز ادا کرسکتے ہیں اور جب اذان ہوجائے تو دنیاوی کاروبار حرام ہوجاتا ہے۔ جمعہ علماء کے نزدیک ایسی آبادی جس میں دکانیں ہوں یاسرکاری دفتر ، سکول ، ڈاکخانہ ، وغیرہ ہوہوسکتی ہے تفصیل فقہ کی کتب میں دیکھی جائے ۔ چناچہ یہاں نماز کی ادائیگی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 3 مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے قوت دی جاتی ہے کیونکہ نبی ﷺ کے زمانہ میں جمعہ کی صرف یہی اذان ہوتی تھی حضرت عثمان نے اپنے زمانہ خلافت میں جب لوگ زیادہ ہوگئے تو ایک اور اذان کا اضافہ کردیا اور وہ زوراء کے مقام پر دی جاتی تھی۔4 اس آیت کی رو سے ہر بالغ و عاقل مسلمان پر جمع کی نماز با جماعت فرض ہے اور یہی چیز آنحضرت کی سنت سے ثابت ہے۔ نسائی بروایت حضرت حفضہ اور بلاعذر جمعہ کے ترک پر وعید آئی ہے جمعہ کی نماز ہر اس جگہ ہوجاتی ہے جہاں اتنے لوگ جمع ہوجائیں جن سے جماعت ہوجائے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آنحضرت کی مسجد میں جمع شروع ہونے کے بعد سب سے پہلا جمعہ اسلام میں ہوا وہ بحرین کے…
Read the full tafseer →(62:9) اذا۔ جب ، ظرف زمان ہے بطور شرط آیا ہے۔ اذا تأدی الصلوٰۃ من یوم الجمعۃ جملہ شرط ہے۔
نودی ماضی مجہول واحد مذکر غائب نداء ومناواۃ (مفاعلۃ) مصدر، بمعنی بلانا۔ کسی کام پر لوگوں کو بلانا۔ ن د ی مادہ۔ شریعت میں نداء الصلوٰۃ نماز کی اذان کے لئے مخصوص ہے۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل آیا ہے۔
من یوم الجمعۃ جیم اور میم کے ضمہ کے ساتھ اور جیم کے ضمہ اور میم کے سکون کے ساتھ۔ دونوں طرح استعمال ہے۔ بمعنی اجتماع
فاسعوا :جواب شرط کا ہے فاسعوا الی ذکر اللہ جملہ جواب شرط ہے۔ اسعوا فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ سعی (باب فتح) مصدر بمعنی تیز روی۔ تو تم دوڑو۔ تم تیزی سے چلو۔
ذکر اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کے ذکر کی طرف۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
جمعہ کی نماز کی شرائط۔
(ف 1) اے مسلمانو ! خدا اور رسول پر ایمان لانے والو، جب جمعہ کی نماز کے واسطے اذان دی جائے تو خدا کی طرف تم کو بلایاجائے تو سب باتیں چھوڑ کر اللہ کے ذکر، خطبے کے سننے ، نماز کے پڑھنے کے لیے کوشش کروفورا متوجہ ہوجاؤ۔
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خریدوفروخت حرام ہوتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرالٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اسمیں داخل ہیں ۔ اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے۔
مسئلہ : اس آیت سے نماز جمعہ کی فرضیت اور بیع وغیرہ مشاغل دنیویہ کی حرمت اور سعی یعنی اہتمام نماز کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا۔
مسئلہ : جمعہ مسلمان مرد مکلف ، آزاد…
Read the full tafseer →[10] اس ذکر الٰہی کے عموم میں نماز فرض اور خطبہئـ جمعہ واجب دونوں آگئے۔ اس کے عموم سے وہ لوگ خارج ہیں جن پر جمعہ واجب نہیں، جیسے عورتیں، بچے، مریض، مسافر وغیرہ۔
[11] فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خریدوفروخت ہی نہیں بلکہ ہر قسم کا کاروبار حرام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
نماز جمعہ
1: اسلام میں اجتماعیت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اس کی عبادات میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ موجود ہے ۔ کہ وہ نوع انسانی کے لئے کیونکر زیادہ سے زیادہ تعاون اور تناصر کے جذبات کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ نماز ہی کو دیکھئے ۔ کہ علاوہ روحانی فوائد کے اس کا بین فائدہ یہ ہے ۔ کہ مسلمان پانچ وقت باقاعدہ اپنے محلہ کی مسجد میں جمع ہوتے ہیں ۔ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں ۔ گویا صرف محلے کے لوگوں کے لئے دن اور رات میں پانچ وقت ضروری ہے ۔ کہ ایک جگہ جمع ہوں ۔ اور اپنی فلاح و بہبود کے متعلق سوچیں ۔ اور غور کریں ۔ جمعہ نماز پنجگانہ کی زیادہ کامل صورت ہے ۔ اس کے…
Read the full tafseer →(9) اے دعوت ایمانی کے قبول کرنے والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو تم اللہ تعالیٰ کے ذکر اور خدا تعالیٰ کی یاد کے لئے بلا تاخیر چل کھڑے ہوا کرو اور اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دیا کرو یہ کاروبار کو چھوڑ کر نماز کی طرف تیزگامی سے چلنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھتے ہو۔ ندا اذان کے معنی میں استعمال ہوا ہے مطلب یہ ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو تو کاروبار چھوڑ کر نماز کی طرف اور خدا کے ذکر کی طرف چل پڑو۔
سعی سے مراد بھاگنا یا دوڑنا نہیں ہے بلکہ لین دین بیع وشرا کو چھوڑ کر چل کھڑے ہو اذان سے مراد خطبے کی اذان ہے جو امام کے ممبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ تخصیص بیع کی بوجہ زیادة اہتمام کے ہے کہ اس کے ترک کو فوت نفع سمجھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
صلوٰۃ جمعہ ادا کرلینے کے بعد اپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہونے کی اجازت عام ہے
10 ؎ پیچھے ” ذکر اللہ “ کی وضاحت گزر چکی ہے کہ اس سے مراد خطبہ جمعہ ہے جس کا سننا لوازمات جمعہ میں سے ہے اگرچہ فقہاء کی تشریحات اس کے خلاف ہیں اور ان کے کہنے کے مطابق یا آپ یوں کہیں کہ ان میں سے بعض کے کہنے کے مطابق صلوٰۃ جمعہ میں اگر کوئی شخص مل گیا تو بھی اس کو جمعہ کے بقیہ فرض دو فرضوں میں جو باقی رہ جائے اس کو پورا کرنا ضروری ہے اور جب کسی نے دو فرض جمعہ ادا کرلیے یا ان کا بعض حصہ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تشہد میں بھی آ کر مل گیا تو اس کی صلوٰۃ جمعہ ادا ہوگئی لیکن ہماری تفہیم میں جمعہ اس کا ادا ہو سکتا ہے جس نے…
Read the full tafseer →Commentary
یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ
O you who believe, when the call for salah (prayer) is proclaimed on Friday, hasten for the remembrance of Allah, and leave off business…[ 62:9]
The Arabic word for Friday is ‘Yaum-ul-Jumu’ ah1 and is so called because it is the day of congregation for Muslims. Allah created the heavens, the earth and the entire universe in six days, and Friday was the last day when the creation was completed. Prophet ‘Adam (علیہ السلام) was created on that day; he…
Read the full tafseer →14 Three things in this sentence are particularly noteworthy: (1) That it contains mention of the call to the Prayer; (2) that the mention is of the call to such a Prayer as has to be performed particularly only on Fridays; and (3) that these things have not been mentioned so as to suggest that the call is to be made for the Prayer and a particular Prayer is to be performed on Friday, but the style and context clearly show that the call to the Prayer and the particular Prayer were both already being performed and practiced on Friday. The people, however were being negligent in that on hearing…
Read the full tafseer →