Explained with ayahs 5–8
کتابوں کا بوجھ لادا گدھا اور بےعمل عالم
ان آیتوں میں یہودیوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے کہ انہیں تورات دی کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے تو اسے یہ تو معلوم ہے کہ اس پر کوئی بوجھ ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے ؟ اسی طرح یہود ہیں کہ ظاہری الفاظ تو خوب رٹے ہوئے ہیں لیکن نہ تو یہ معلوم ہے کہ مطلب کیا ہے ؟ نہ اس پر ان کا عمل ہے بلکہ اور تبدیل و تحریف کرتے رہتے ہیں، پس درصال یہ اس بےسمجھ جانور سے بھی بدترین، کیونکہ اسے تو قدرت نے سمجھ ہی نہیں دی لیکن یہ سمجھ رکھتے ہوئے پھر بھی اس کا استعمال نہیں کرتے۔ اسی لئے دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے۔ (ترجمہ) یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الْجُمُعَة 13
بالفاظ دیگر ان کا موت سے یہ فرار بےسبب نہیں ہے۔ وہ زبان سے خواہ کیسے ہی لمبے چوڑے دعوے کریں، مگر ان کے ضمیر خوب جانتے ہیں کہ خدا اور اس کے دین کے ساتھ ان کا معاملہ کیا ہے، اور آخرت میں ان حرکتوں کے کیا نتائج نکلنے کی توقع کی جاسکتی ہے جو وہ دنیا میں کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا نفس خدا کی عدالت کا سامنا کرنے سے جی چراتا ہے۔
Read the full tafseer →قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملقیکم، یعنی یہود جو اس دعوے کے باوجود موت کی تمنا سے گریز کرتے ہیں اس کا حاصل موت سے گریز کرنا اور بھاگنا ہے، ان کو آپ فرما دیں کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو آ کر رہے گی، اس وقت نہیں تو پھر بعد چند روز کے، اس لئے موت سے فرار بالکلیہ کسی کے بس ہی میں نہیں۔
اسباب موت سے فرار کے احکام
جو چیزیں عادةً موت کا سبب ہوتی ہیں، ان سے فرار مقتضائے عقل بھی ہے، مقتضائے شرع بھی، رسول اللہ ﷺ ایک جھکی ہوتی دیوار کے نیچے سے گزرے تو تیزی کے ساتھ نکل گئے، اسی طرح کہیں آگ لگ جائے وہاں سے نہ بھاگنا، عقل و شرع دونوں کے خلاف ہے، مگر وہ فرار من الموت جس کی مذمت آیت مذکورہ میں وارد…
Read the full tafseer →(قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملقیکم ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون) (8)۔
اوپر (واللہ علیم بالظلمین) میں جو تہدید مضمر تھی وہ اس آیت میں اچھی طرح کھل گئی ہے۔ فرمایا کہ موت سے بھاگتے ہو تو بھاگو، لیکن تم اس سے بھاگ کے کہاں جائو گے ؟ وہ تمہیں پکڑ ہی لے گی۔ پھر تم اپنی تمام بد اعمالیوں کے ساتھ اپنے اس خدا کے سامنے پیش کیے جائو گے جو تمام غائب و حاضر کا جاننے والا ہے۔ نہ اس سے تمہارا کوئی فعل مخفی ہے، نہ کوئی چیز تم اس سے چھپا سکو گے۔ وہ تمہارا سارا کچا چٹھا تمہارے سامنے رکھ دے گا اور تمہیں اپنے ہر جرم کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ 1 یعنی کفر و معاصی اور کتاب الٰہی میں تحریف و تغیر کا جو ارتکاب یہ کرتے رہے ہیں، ان کے باعث کبھی بھی یہ موت کی آرزو نہیں کریں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
6: جمعہ کی پہلی اذان کے بعد جمعہ کے لئے روانہ ہونے کے سوا کوئی اور کام جائز نہیں، نیز جب تک نماز جمعہ ختم نہ ہوجائے خریدو فروخت کا کوئی معاملہ جائز نہیں ہے، اللہ کے ذکر سے مراد جمعہ کا خطبہ اور نماز ہے۔
Read the full tafseer →قل ان .................... تعملون (26 : 8) ” ان سے کہو ، ” جس موت سے تم بھاگتے ہو ، وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاﺅ گے جو پوشیدہ وظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو “۔
یہ ایک توجہ دلاﺅ نوٹس ہے ، مسلمانوں کو ، اور غیر مسلموں سب کو کہ ایک حقیقت کو اپنے دل و دماغ میں تازہ کرلو۔ اور لوگ اس اٹل حقیقت کو بھول جاتے ہیں ، یا بھلانے کی کوشش کرتے ہیں ، موت تو آنے والی ہے۔ یہ زندگی ختم ہونے والی ہے۔ اس دنیا میں تم جس قدر اس سے بھاگو ، تم موت کے منہ میں پہنچ جاﺅ گے۔ لہٰذا کوئی جائے پناہ اللہ کے سوا نہیں ہے ، وہاں حساب و کتاب دینے سے کوئی بھاگنے…
Read the full tafseer →7 یعنی موت سے ڈر کر کہاں بھاگ سکتے ہو۔ ہزار کوشش کرو، مضبوط قلعوں میں دروازے بند کر کے بیٹھ رہو، وہاں بھی موت چھوڑنے والی نہیں۔ اور موت کے بعد پھر وہی اللہ کی عدالت ہے اور تم ہو (ربط) یہود کی بڑی خرابی یہ تھی کہ کتابیں پیٹھ پر لدھی ہوئی ہیں، لیکن ان سے منتفع نہیں ہوتے دین کی بہت سی باتیں سمجھتے بوجھتے، پر دنیا کے واسطے چھوڑ بیٹھتے۔ دنیا کے دھندوں میں منہمک ہو کر اللہ کی یاد اور آخرت کے تصور کو فراموش کردیتے، ایسی روش سے ہم کو منع کیا گیا۔ جمعہ کا تقید بھی ایسا ہی ہے کہ اس وقت دنیا کے کام میں نہ لگو بلکہ پوری توجہ اور خاموشی سے خطبہ سنو اور نماز ادا کرو۔ حدیث میں ہے کہ " جو کوئی خطبہ کے وقت…
Read the full tafseer →آیت 8{ قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیْکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تم سے ملاقات کر کے رہے گی“
{ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ } ”پھر تمہیں لوٹا دیا جائے گا اس ہستی کی طرف جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے“
اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا علم ہے ‘ جو کچھ تمہارے سامنے ہے اس کا بھی اور جو کچھ تمہارے پیچھے ہے اس کا بھی۔ جو کچھ بحیثیت نوع انسانی تمہارے لیے واضح کردیا گیا ہے اس کا بھی اور جو کچھ تم سے غیب میں رکھ دیا گیا ہے اس کا بھی۔
{ فَیُنَــبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } ”پھر وہ تمہیں جتلا…
Read the full tafseer →13 یہود کا دنیا کی ذلت کی زندگی سے پیار اور سب یہودی قبائل کا لڑنے کی بجائے قلعہ بند ہونا :۔ ان کی دنیا کی زندگی سے محبت اور موت سے فرار کا یہ حال ہے کہ ذلیل سے ذلیل تر زندگی کو بھی موت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اسی زندگی کی حرص نے انہیں مال و دولت، سازو سامان، اسلحہ اور سامان رسد کی فراوانی کے باوجود ایک بزدل قوم بنادیا تھا۔ شیخیاں بگھارنے میں بڑے ہوشیار اور تیز طرار، مگر مقابلے میں انتہائی ڈرپوک، اسی وجہ سے یہودیوں کے تینوں قبیلوں میں سے کسی نے بھی مسلمانوں سے میدان میں آکر جنگ نہیں کی۔ بنو قینقاع بھی قلعہ بند ہوئے۔ بنونضیر بھی اور بنو قریظہ بھی۔ کیونکہ یہود موت سے ڈرتے تھے جبکہ مسلمان موت سے بہت…
Read the full tafseer →8۔ (اور اپنے اسی علم کامل وقطعی کے مطابق سزا بھی دے گا) موت سے ناگواری تو انسان کے لیے ایک امر طبعی ہے اس سے یہاں تعرض نہیں، لیکن جو صاحب ایمان ہوتا ہے، وہ اس طبعی گرانی وناگواری کے باوجود عقلی و ایمانی اعتبار سے ہمیشہ موت کی پیشوائی ہی کے لیے تیار رہتا ہے۔ (آیت) ” ان ..... منہ یہاں سے معلوم ہوا کہ موت کا استحضار ضمیر کی بیداری کی خاص علامت ہے، اور قلب کی قساوت کا خاص علاج۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، لام زائدہ ہے من کے بجائے ما ذکر کرنے میں اکثر کو غلبہ دینا ہے جو بادشاہ ہے، ان چیزوں سے پاک ہے جو اس کی شایان شان نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں (یعنی) عرب میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا امی وہ شخص ہے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو اور وہ محمد ﷺ ہیں، جو انہیں اس قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو شرک سے پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب قرآن اور حکمت (یعنی) جس میں احکام ہیں ان مخففہ عن الثقیلہ…
Read the full tafseer →ظقل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملقیکم ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون .
” (اے نبی ﷺ ! ) آپ (یہودیوں سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ (ایک دن) تم کو آپکڑے گی ‘ پھر عالم الغیب والشہادۃ کی طرف تم کو لے جایا جائے گا پھر وہ تم کو تمہارے سب کام بتلا دے گا۔ ‘
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ..... یعنی جس موت سے تم کو انتہائی ڈر لگتا ہے کہ تم کو تمہاری بد اعمالی کے جرم میں پکڑا جائے گا وہ ضرور تم کو آکر رہے گی ‘ اس سے بھاگنا سود مند نہ ہوگا۔
اس جملہ میں آمد موت کی انتہائی تاکید کے لیے ان کو مکرر ذکر کیا ‘ یہودیوں کو کفر اور معاصی پر سخت اصرار تھا ‘ جس سے…
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہیں آپکڑے گی اور پھر آخرت میں اللہ تعالیٰ تمہاری نیکی اور برائی سب تم پر ظاہر کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
قُلْ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ہَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ۔۔۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (94 تا 96) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →زجاج نے کہا، یہ نہیں کہا اجتا : ان زید افمنطلق یہاں ارشاد فرمایا : فانہ ملقیکم کیونکہ الذی میں شرط کا معنی موجود ہے، تقدیر کلام یوں ہوگی ان فررتم منہ فانہ مل اقیکم ان کا فرار انہیں کوئی نفع نہ دے گا اس پر دلالت میں مبالغہ ہے۔
زبیر نے کہا :
ومن ھاب اسباب المنایا ینلنہ ولو رام اسباب السماء بسلم
جو آدمی موتوں کے اسباب سے ڈرتا ہے تو وہ اسے پا لیتی ہیں اگرچہ وہ سیڑھی کے ذریعے آسمان کے اسباب کا قصد کرے۔ میں کہتا ہوں : یہ جائز ہے کہ کلام اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر مکمل ہوجائے۔
الذین تقرون منہ پھر نئے سرے سے کلام شروع ہو فانہ ملقیکم۔ طرفہ نے کہا :
وکفی بالموت قاعلم واعضا لمن الموت علیہ قد قدر
فاذکر…
Read the full tafseer →3۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے معمر (رح) سے روایت کیا کہ قتادہ (رح) نے یہ آیت ثم تردون الی علم الغیب والشہادۃ پھر تم کو عالم الغیب والشہادۃ کی طرف لے جایا جائے گا۔ تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو موت کے ذریعہ پست کیا اور میں اس کے بارے میں خوب جانتا ہوں کہ وہ اس کو بلند کردے گا۔
Read the full tafseer →[قُلْ ان الْمَوْتَ الَّذِي : آپ ﷺ کہیے بیشک وہ موت ] [تَفِرُّوْنَ مِنْهُ : تم لوگ بھاگتے ہو جس سے ] [فَانهٗ مُلٰقِيْكُمْ : تو یقینا وہ ملاقات کرنے والی ہے تم سے ] [ثُمَّ تُرَدُّوْنَ : پھر تم لوگ لوٹائے جائو گے ] [اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : شہادہ اور غیب کے جاننے والے کی طرف ] [فَيُنَبِئُكُمْ : پھر وہ جتلا دے گا تم کو ] [بِمَا كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : وہ، جو تم لوگ کیا کرتے تھے ]
Read the full tafseer →﴿ قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِيْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِيْكُمْ ﴾ (آپ فرما دیجئے کہ بلاشبہ جس موت سے تم بھاگتے ہو اس سے تمہاری ملاقات ضرور ہوگی) ۔ موت سے بھاگنے کی کوئی صورت نہیں ہر ایک کی اجل مقرر ہے جو شخص جہاں بھی ہوگا اپنے وقت پر اسے موت وہیں آجائے گی اور ضرور آئے گی۔ سورة نساء میں فرمایا ﴿ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ ﴾ (تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں ضرور پکڑلے گی اگرچہ تم مضبوط بر جوں میں ہو) موت سے کسی کو چھٹکارہ نہیں اور زیادہ عمر ہوجانے سے عذاب سے بچاؤ نہیں، جو لوگ بحالت کفر مرجائیں گے انہیں جہنم میں داخل ہونا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الجمعۃ :
تکمیل بشارت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی اکرم ﷺ وتنبیہ بر شقاوت اہل کتاب بوجہ انحراف از ایمان واتباع نبی آخر الزمان ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ سورت میں خاص طور پر حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی بعثت کا اہم مقصد یہ بیان کیا گیا تھا آنے والے پیغمبر آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ونبوت کی بشارت سنانا تھا اور بنی اسرائیل کو اس بات پر مامور کرنا تھا کہ جب وہ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر وہ لوگ لوگ ایمان لائیں تو اب اس سورت میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا ارشاد ہے پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو…
Read the full tafseer →8:۔ ” قل ان الموت الذی “ یہ آیت ماقب سے متعلق ہے یعنی جس موت سے تم ڈر رہے ہو اور اس سے بچنے کے لیے مباہلہ کی طرف نہیں آتے ہو اس سے تم کبھی بچ نہیں سکتے۔ موت تو بہرحال آئے گی، اس کے بعد تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو تمہاری ہر بات کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ کی توحید اور تنزیہہ بیان کرنے کے بعد نبی آخر الزمان کی بعثت کا ذکر ہوا۔ یہ بعثت عرب کے امیوں کی طرف بالخصوص اور باقی لوگوں کے لئے بالعموم ہے۔ پھر اہل کتاب میں سے یہودیوں کا ذکر ہوا ، جنہیں تورات کا حامل بنایا گیا تھا۔ مگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔ اللہ نے ان کی مثال گدھے کے ساتھ دی جس پر کتابوں کا دفتر لدا ہوا ہے مگر وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسی طرح یہودی بھی اللہ کی کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے بےانصاف لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی۔
موت کی تمنا :
اہل کتاب کا دعویٰ تھا لن یدخل الجنۃ ……………اونصری…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِيْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِيْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 8 ۧ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
موت
أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة :
فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات
. نحو قوله تعالی:
يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ترکیب : مثل الذین مبتدا کمثل الحمار خبرہ یحمل الجملۃ اماحال والعامل فیھا معنی المثل اوصفۃ للحمارا ولیس المراد بہ معنیافھوفی حکم النکرۃ کما فی ھذا القول ولقد امر علی اللئیم یسینی مثل القوم فاعل بئس الذین فی موضع خبرلغتا للقوم والمخصوص بالذم محذوف ای ہذا المثل ویمکن ان یکون فی موضع رفع تقدیرہ ئبس مثل القوم مثل الذین فمثل المحذوف ھوالمخصوص بالذم وقدحذف اوقیم المضاف الیہ مقامہ۔ (ابن الصائغ) وقدر العلامۃ ابوالمسعود وھذا ای بئس مثلاً مثل القوم الذین کذبوا علی ان التمیز محذوف والفاعل المفسربہ مستتر ومثل القوم ھوالمخصوص بالذم اولموصول صفۃ لقوم۔ فانہ ملاقیکم الجملہ خبران ودخلت الفاء لمافی الذی شبہ…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْـہُ فَاِنَّـہٗ مُلٰـقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الجمعۃ : 8)
(اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تمہیں آکر رہے گی، پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو غائب و حاضر کو جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ )
گزشتہ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظاموں کو خوب جاننے والا ہے۔ اور اس آیت میں اس مضمون کو کھول دیا گیا ہے کہ تم دنیا میں تو موت سے ڈر کر میدانِ جنگ ہو تو بھاگ نکلتے ہو اور زندگی کے دوسرے مواقع میں کسی ایسے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور ظالم ہوئے ان میں سر فہرست یہودی ہیں۔ اس لیے انہیں ایک بار پھر براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو یہودی کہہ کر مخاطب نہیں کیا بلکہ انہیں ” ھَادُوْ “ کے الفاظ سے مخاطب کیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ اے لوگو ! جو یہودی بن چکے ہو اگر تمہیں اس بات کا خیال ہے کہ تم اللہ کے چہیتے ہو تو پھر موت کی تمنا کرو بشرطیکہ تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ لیکن یہ لوگ موت کی تمنا ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ یہ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں، یہ اپنے مظالم کو بھول سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ظالموں کے ایک ایک ظلم کو اچھی…
Read the full tafseer →8 : قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ (آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو) اور تم جرأت نہیں کر رہے۔ کہ تم اس کی تمنا کرلو۔ اس خطرہ کے پیش نظر کہ تم اپنے کفر کے وبال میں پکڑ لیے جائو۔ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیْکُمْ (وہ ایک دن تمہیں آپکڑے گی) بہر صورت۔
نحو : جملہ اِنَّ کی خبر ہے۔ اور اس پر فاء اس لئے آئی ہے کیونکہ الذیؔ شرط کے معنی کو متضمن ہے۔
ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پھرعالم الغیب والشہادۃ کی طرف تم کو لے جایا جائے گا۔ پھر وہ تم کو تمہارے سب کیے کام بتلا دے گا) پھر تم جس سزا کے حقدار ہوگے وہ سزادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8-7…” ولا یتمنونہ ابدا بما قدمت ایدیھم واللہ علیم بالظالمین۔ قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم ثم تردون الی عالم الغیب والشھادۃ فینئکم بما کنتم تعملون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
5۔ 8۔ اوپر گزر چکا ہے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے یہود کے دل میں آنحضرت ﷺ کی یہ عظمت تھی کہ لڑائیوں کے وقت ان کے نام کی برکت سے فتح کی دعا یہ لوگ مانگا کرتے تھے توراۃ میں جو آپ ﷺ کے اوصاف تھے ان سے یہ لوگ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے شام کے ملک کی سکونت چھوڑ کر مدینہ کے اطراف میں یہ لوگ اسی ارادے سے آن کر رہے تھے کہ جب نبی آخر الزمان ﷺ مدینہ کو آئیں گے تو تورات کے حکم کے موافق ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے لیکن تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دکھایا تو ازلی بدبختی کے سبب سے یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے پورے دشمن ہوگئے اور تورات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اس اعلان کے باوجود جب انہوں نے اس کو قبول نہ کیا اور ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقت کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں۔ اس لیے فرمایا (وَلَا يَتَمَنَّوْنَهٗٓ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ۭ ) اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بہ سبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ( وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ ) اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے لہذا ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں مگر انکا موت سے بھاگنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اذان جمعہ سے کیا مرا د ہے ؟
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا نودی لصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع، اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! جب پکارا جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو ) تا آخر آیت۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جمعہ کے روز حسب معمول باجماعت نمازیں ادا کی جاتی ہیں جس طرح اس روز زندگی کے اور دوسرے مشاغل سرانجام دیے جاتے ہیں لیکن آیت میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ان ہی نمازوں میں سے کوئی جمعہ کی نماز ہے۔
تاہم مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت میں اس سے وہ نماز مراد ہے کہ جسے اگر کوئی شخص جمعہ کے روز امام کے ساتھ ادا کرلے تو پھر…
Read the full tafseer →18 ۔ موت سے کسی کے لیے بھاگنا اور بچنا ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ جس موت سے تم لوگ بھاگتے ہو وہ بہرحال تم کو آکر رہے گی، تم کسی بھی طرح اس سے بھاگ کر جان نہیں چھڑا سکتے، پس موت سے بھاگنے اور بچنے کی لا حاصل کوشش کی بجائے تم لوگ راہ حق و ہدایت کو اپنا لو، اور ان اعمال کو بجا لانے اور ان سچے عقائد و اخلاق کو اپنانے کی فکر و سعی کرو جو موت کے بعد کے ابدی جہاں میں تمہیں کام آسکیں، جن میں سر فہرست اور سب اول حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر صدق دل سے ایمان لانا، اور آپ ﷺ کی پیش فرمودہ تعلیمات مقدسہ کو اپنانا ہے جو کہ حق و صداقت اور دارین کی سعادت و سرخروئٰ سے ہم کنار کرنے والی راہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
یہود کی مذمت
تشریح : یہود کے حالات بڑی وضاحت سے بہت دفعہ بیان کیے جا چکے ہیں۔ یہاں پھر اس لیے ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کے بڑے سخت دشمن تھے اور اب بھی ہیں تو اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ ہدایت کی کتاب تورات ان کو بھی دی گئی تھی مگر انہوں نے یوں کیا کہ جیسے کتاب گدھے پر لا دی گئی ہو۔ جیسے گدھے کو اپنے اوپر لادی گئی کتابوں کا کوئی شعور نہیں ہوتا انہوں نے بھی اپنی دی گئی کتاب سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا اور اب الزام دیتے ہیں دوسروں کو۔ تو ان کو صاف صاف بتا دو کہ ہم مسلمان تو رب قدوس کو مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آخرت میں جزا و سزا ضرور ملے گی اس لیے قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اگر تم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
ذکرالٰہی۔
ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
معجزہ۔
خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 3 مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے قوت دی جاتی ہے کیونکہ نبی ﷺ کے زمانہ میں جمعہ کی صرف یہی اذان ہوتی تھی حضرت عثمان نے اپنے زمانہ خلافت میں جب لوگ زیادہ ہوگئے تو ایک اور اذان کا اضافہ کردیا اور وہ زوراء کے مقام پر دی جاتی تھی۔4 اس آیت کی رو سے ہر بالغ و عاقل مسلمان پر جمع کی نماز با جماعت فرض ہے اور یہی چیز آنحضرت کی سنت سے ثابت ہے۔ نسائی بروایت حضرت حفضہ اور بلاعذر جمعہ کے ترک پر وعید آئی ہے جمعہ کی نماز ہر اس جگہ ہوجاتی ہے جہاں اتنے لوگ جمع ہوجائیں جن سے جماعت ہوجائے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آنحضرت کی مسجد میں جمع شروع ہونے کے بعد سب سے پہلا جمعہ اسلام میں ہوا وہ بحرین کے…
Read the full tafseer →(62:8) قل : ای قل یا محمد ﷺ ۔
تفرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ رفار (باب ضرب) مصدر۔ تم بھاگتے ہو۔ تم فرار ہوتے ہو۔
منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الموت ہے۔ ای من الموت۔
فانہ ملقیکم :زائدہ ہے ملقیکم ان کی خبر ہے۔ ملاقی اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف، کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ۔ تم کو پہنچنے والا۔ تم کو پالینے والا۔ ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ یعنی موت جس سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ ضرور تم کو آ لے گی۔
ثم ترددون الی علم الغیب والشھادۃ : ثم تراخی فی الوقت کے لئے پھر۔ تردون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ رد (باب نصر) مصدر۔ تم پھیرے جاؤ گے ۔ تم لوٹائے جاؤ گے۔ الی نہایت غایت کے لئے۔ کی طرف۔
فینبئکم :تعقیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بےعمل علمائ۔
(ف 1) اوپر گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ کی نبوت سے پہلے یہود کے دل میں نبی ﷺ کی یہ عظمت تھی کہ لڑائیوں کے وقت حضور کے نام کے وسیلہ کے ساتھ فتح کی دعایہ لوگ مانگا کرتے تھے تورات میں جو آپ کے اوصاف تھے ان سے یہ لوگ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے کہ جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ شام کے ملک کی سکونت چھوڑ کر مدینہ کے اطراف میں یہ لوگ اسی ارادہ سے آن کررہے تھے کہ جب نبی آخزالزمان مدینہ کو آئیں گے تو تورات کے حکم کے موافق ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے لیکن تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دکھایا تو ازلی بدبختی کے سبب سے یہ لوگ نبی آخزالزمان کے پورے دشمن ہوگئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[9] یعنی موت کی تمنا نہیں کرتے اور اس کا نام سن کر گھبراتے ہیں، اس لئے نہیں کہ زیادہ دن زندہ رہ کر زیادہ نیکیاں کمائیں بلکہ اس لئے کہ دنیا کی حرص سے ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اور دل میں سمجھتے ہیں کہ جو کرتوت کئے ہیں یہاں سے چھوٹتے ہی ان کی سزا میں پکڑے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
نماز جمعہ
1: اسلام میں اجتماعیت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اس کی عبادات میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ موجود ہے ۔ کہ وہ نوع انسانی کے لئے کیونکر زیادہ سے زیادہ تعاون اور تناصر کے جذبات کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ نماز ہی کو دیکھئے ۔ کہ علاوہ روحانی فوائد کے اس کا بین فائدہ یہ ہے ۔ کہ مسلمان پانچ وقت باقاعدہ اپنے محلہ کی مسجد میں جمع ہوتے ہیں ۔ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں ۔ گویا صرف محلے کے لوگوں کے لئے دن اور رات میں پانچ وقت ضروری ہے ۔ کہ ایک جگہ جمع ہوں ۔ اور اپنی فلاح و بہبود کے متعلق سوچیں ۔ اور غور کریں ۔ جمعہ نماز پنجگانہ کی زیادہ کامل صورت ہے ۔ اس کے…
Read the full tafseer →(8) اے پیغمبر آپ ان سے فرمادیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ یقینا تم کو پہنچ کر رہے گی اور وہ موت تم سے ملنے اور ملاقات کرنے والی ہے پھر تم اس کی طرف لوٹائے جائو گے جو ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے پھر جو جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تم کو ان سب سے آگاہ کردے گا اور تمہارے کرتوت تم کو جتادے گا۔
یعنی جس موت سے ڈرتے اور گھبراتے ہو اور بھاگتے ہو اس سے چھٹکارا نہیں وہ ایک نہ ایک دن تم سے ملاقات کرنے والی اور تم کو دبوچ لینے والی ہے پھر تم جانتے ہو کہ تم اس اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائو گے جو کھلی اور چھپی سب چیزوں کو جاننے والا ہے پس جو عمل بھی تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہارے روبرو رکھ دیئے جائیں…
Read the full tafseer →ف 1۔ سبب نزول آیات آئندہ کا یہ ہے کہ ایک بار آپ جمعہ کا خطبہ پڑھے تھے کہ مدینہ میں ایک قافلہ غلہ لیکر آیا اور اس کے ساتھ اعلان کے لئے دف بجتا تھا، بہت سے آدمی خطبہ چھوڑ کر غلہ خریدنے چلے گئے اور بارہ آدمی رہ گئے اس پر یہ آیت آئی۔
Read the full tafseer →ایمان والو ! جب تم کو صلوٰۃ جمعہ کی صدا دی جائے تو خریدو فروخت چھوڑ کر حاضر ہو جائو
9 ؎ شاید آپ حیران ہوں گے کہ پیچھے بات تو یہود کی چلی آرہی تھی اور اچانک یہ نماز جمعہ کا حکم کیسے سنا دیا گیا اور اس حکم کا یہ موقع پر محل کیسے بن گیا اور گزشتہ آیات کے ساتھ اس آیت اور اس کے حکم کا کیا ربط قائم ہوگا ۔ جان لینا چاہئے کہ قرآن کریم کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہے کہ وہ جب کسی قوم یا فرد کے کمزور پہلو کو اجاگر کرتا ہے تو عموماً نام نہیں لیتا اور یہ بھی کہ وہ ایسے معاملات میں براہ راست بہت کم مخاطب کر کے بات کرتا ہے بلکہ بات کا اندازہ ایسا اختیار کرتا ہے کہ کچھ نہ کہنے کے باوجود سب کچھ کہہ دیتا…
Read the full tafseer →قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ (Say, “ Indeed, the death from which you [ try to ] run away has to visit you,…62:8). In other words, the Jews’ running away from longing for death despite their aforesaid claim is tantamount to running away from death itself. The Holy Prophet ﷺ is instructed in the verse to tell them that the death from which they are fleeing would inevitably catch up with them. If that would not happen instantly, it would certainly happen sometime later. Thus it is impossible for anyone to avoid or avert death in any way.
Laws…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
13 In other words, their Right from death is not without a reason. Whatever they may say, their consciences arc fully aware of how they arc behaving towards AIIah and His Religion and what consequences can he expected of the misdeeds they arc committing in the world. That is why-they were afraid to appear at the Court of God.
Read the full tafseer →