63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

اے محمد) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (ازراہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحققت تم اسکے پیغمبر ہو۔ لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں

جب آپ کے پاس یہ مدینہ منورہ کے منافقین یعنی عبداللہ بن ابی، معتب بن قشیر، جد بن قیس وغیرہ آتے ہیں۔ تو اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ تو اللہ کو معلوم ہی ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں اس میں ان منافقین کی گواہی کی کوئی حاجت نہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ اپنی قسموں میں جھوٹے ہیں وہ اس چیز کو نہیں جانتے۔ شان نزول : اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ (الخ) امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی منافق کو اپنے ساتھیوں سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو لوگ رسول اکرم کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو اگر اب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو باہر نکال دے گا میں نے اس چیز کا اپنے چچا سے ذکر کیا، میرے چچا نے رسول اکرم سے ذکر کیا، حضور نے مجھے بلایا میں نے آپ سے سارا واقعہ بیان کیا تو رسول اکرم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے پاس قاصد بھیجا ان لوگوں نے اس کے بارے میں جھوٹی قسمیں کھالیں۔ غرض کہ آپ نے میری تکذیب کی اور اس کی تصدیق تو اس بات سے مجھے اس قدر صدمہ ہوا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا میں گھر میں بیٹھ گیا میرے چچا کہنے لگے کہ تو نے بس یہی چاہا تھا کہ حضور تیری تکذیب کریں اور تجھ سے ناراض ہوں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، حضور نے میرے پاس قاصد بھیجا اور مجھے پڑھ کر یہ آیات سنائیں اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیری تصدیق کردی، یہ روایت حضرت زید سے مختلف طریقوں سے مروی ہے اور بعض میں ہے کہ یہ بات غزوہ تبوک میں پیش آئی اور یہ سورت رات کو نازل ہوئی۔
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور انکے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

ان لوگوں نے اپنی قسموں کو اپنی حفاظت کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے کہ خفیہ طور پر لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکتے ہیں ان کا یہ روکنا اور ان کا مکرو خیانت یہ برے کام ہیں۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

اور یہ منافقین کے کام اس وجہ سے ہیں کہ پہلے تو یہ ظاہر میں ایمان لے آئے، پھر خفیہ طور پر کفر پر قائم رہے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے کفر و نفاق کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردی گئی یہ حق و ہدایت کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تم ان (کے تناسب اعضاء) کو دیکھتے ہو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تخریج کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی ہوئی ہیں کہ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر (بلا آئی) یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

اور جب آپ ان منافقین کو دیکھیں تو ان کے قد و قامت خوبصورت اور اچھے معلوم ہوں گے اور اگر یہ قسم کھانے لگیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ ان کی باتوں کو سن لیں اور خیال کرنے لگیں کہ یہ سچے ہیں مگر یہ سچے نہیں ہیں ان کے جسم لکڑیوں کی طرح ہیں یعنی ان کے دلوں میں نور اور بھلائی نہیں جیسا کہ خشک لکڑی میں جان اور تازگی نہیں ہوتی۔ مدینہ مونرہ میں جو بھی شور ہوتا ہے وہ بزدلی کی وجہ سے طور پر ہی خیال کرتے ہیں، آپ ان سے مطمئن نہ ہوجائیے اللہ ان کو غارت کرے کہاں کا جھوٹ بک رہے ہیں یا یہ کہ جھوٹ کی وجہ سے کہاں بہکے جارہے ہیں۔
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو اپنے سرہلا دیتے ہیں اور تم انکو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

اور جب ان سے ان کے خاندان والے ان کے رسوا ہونے کے بعد کہتے ہیں کہ رسول اکرم کے پاس جاؤ اور کفر و نفاق سے توبہ کرو تو وہ اپنے سر جھکا لیتے اور منہ پھیر لیتے ہیں اور آپ ان کو توبہ و استغفار اور آپ کی خدمت میں حاضری سے بےرخی کرتا ہوا دیکھیں گے۔ شان نزول : وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن ابی سے کہا گیا کہ تو رسول اکرم کے پاس جا حضور تیرے لیے استغفار کردیں گے تو وہ اپنا سر مٹکانے لگا تو اس کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayahs 63:6–7

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے خدا انکو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کو پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

یہ منافقین جب تک نفاق پر قائم رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا اور نفاق پر مرنے والوں کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرماتا۔ شان نزول : سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور نیز عروہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت استغفرلھم اولا تستغفرلھم نازل ہوئی تو رسول اکرم نے فرمایا میں ستر مرتبہ سے زائد استغفار کروں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ۔ نیز مجاہد اور قتادہ سے بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ اور عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب سورة برات کی یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اس چیز کے بارے میں اجازت دی گئی ہے سو اللہ کی قسم میں ستر مرتبہ سے زائد استغفار کروں گا ممکن ہے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما دے تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اسکے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

نیز عبداللہ بن ابی منافق ہی نے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا جب ہم اپنے غزوہ سے واپس جائیں گے تو مدینہ سے محمد کو نکال دیں گے مگر ان منافقین پر اللہ ہی کو اور اس کے رسول کو اور مسلمانوں کو غلبہ اور طاقت حاصل ہے مگر منافقین نہ اس چیز کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

مومنو تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

اے ایمان والو مکہ مکرمہ میں تمہارے جو اموال اور اولاد ہے وہ تمہیں ہجرت اور جہاد سے غافل نہ کرنے پائے اور جس نے ان کی وجہ سے غفلت کی وہ سزا کے اعتبار سے گھاٹے میں رہیں گے۔
Ayahs 63:10–11

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ؟

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو خدا اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔

(10۔ 11) اور جو کچھ ہم نے تمہیں مال دیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اس سے پہلے خرچ کرو یا یہ کہ زکوٰۃ دو کہ تم میں سے کسی کی موت آکھڑی اور پھر وہ کہنے لگے کہ دنیا کی موت کی طرح مجھ کو اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں اپنے مال کی خیر خیرات دے لیتا اور اس مال سے حج کر کے میں بھی حاجیوں میں سے ہوجاتا۔ یا ایھا الذین امنوا سے یہاں تک یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو فاصدق کی تفسیر اگر منافقین کے ساتھ کی جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ میں یہی سچا ایمان اختیار کرلیتا اور سچے مومنوں کی طرح اپنے مال کو خیرات کردیتا۔