64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 64:1–2

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لا متناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسکو دیکھتا ہے۔

(1۔ 2) آسمانوں و زمین میں جتنی مخلوقات اور زندہ چیزیں ہیں سب اسی کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہیں اسی کی ہمیشہ کی سلطنت ہے اور آسمانوں اور زمین دونوں پر یا یہ کہ دنیا و آخرت والوں پر اسی کی حمد و ثنا واجب ہے۔ اور وہ امور دنیا و آخرت میں سے ہر ایک امر پر اور آسمان والوں اور زمین والوں کو آراستہ کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے

اس نے تمہیں آدم سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے سو تم میں سے بعض لوگ ظاہری طور پر کافر ہیں اور بعض مومن یا یہ کہ تم میں سے بعض کافر ہیں جو ایمان قبول کرلیں گے۔ یہ ایمان پر برانگیختہ کرنا ہوا اور بعض مومن ہیں جو کفر اختیار کرلیں گے یہ کفر سے ڈرانا ہوا یا یہ کہ تم میں بعض ظاہری و باطنی طور پر کافر ہیں اور بعض مومن اور بعض تم میں سے ظاہری طور پر مومن اور خفیہ طور پر کافر ہیں جیسا کہ منافق۔ اس نے حق و باطل کے اظہار کے لیے یا یہ کہ زوال و فنا کے لیے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور تمہارا بہ نسبت جانوروں کے عمدہ نقشہ بنایا کہ تمہارے نقشہ کو ہاتھوں، پیروں، کانوں اور آنکھوں اور تمام اعضاء کے ساتھ مضبوط کیا اور پھر سب کو آخرت میں اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے

اور مخلوقات میں سے جو بھی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ سب کو جانتا ہے اور تمہارے سب ان کاموں کو جو کہ تم خفیہ کرتے ہو اور جو کہ تم علانیہ کرتے ہو جانتا ہے اور وہ دلوں میں جو نیکی و برائی ہے اس سے بھی واقف ہے۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے ؟ تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے۔

اے مکہ والو کیا تمہیں بذریعہ کتاب گزشتہ قوموں کی خبر نہیں پہنچی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا، انہوں نے عذاب و ہلاکت کے ذریعے دنیا میں اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لیکر آتے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ؟ تو انہوں نے (انکو) نہ مانا اور منہ پھیرلیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی اور خدا بےپروا (اور) سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

اور یہ عذاب اس وجہ سے ہے کہ ان کے پاس رسول اوامرو نواہی اور معجزات لے کر آئے تو ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہمارے جیسا آدمی ہمیں توحید کی دعوت دے گا سو انہوں نے کتابوں رسولوں اور معجزات کا انکار کیا اور ان پر ایمان لانے سے اعراض کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی پرواہ نہ کی وہ ان کے ایمان سے بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انکا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ کے پھر جو جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے دیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

کفار مکہ یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد زندہ نہیں کیے جائیں گے۔ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم مرنے کے بعد ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور پھر وہ جو کچھ تم نے دنیا میں نیکی و برائی کی ہے تمہیں سب جتلا دے گا یہ دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاو۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

اے اہل مکہ ! رسول اکرم بعث بعد الموت کے متعلق جو کچھ تم سے بیان کرتے ہیں تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کتاب پر بھی جو ہم نے بذریعہ جبریل امین محمد پر نازل کی ہے۔
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن وہ تم کو اکٹھا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکٹھا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو جمع فرمائے گا اسی روز کافر اپنی جان و مال و اولاد اور جنت سے گھاٹے میں رہے گا اور مومن وارث ہوجائے گا یا یہ کہ مومن کافر کو اس کے اہل و عیال کے بارے میں نقصان پہنچائے گا یا یہ کہ کافر اپنی جان کو جنت نہ ملنے سے نقصان پہنچائے گا اور مومن اس کا وارث ہوگا اور مظلوم ظالم کی نیکیاں لے کر اور اپنی برائیاں اس پر ڈال کر ظالم کو نقصان پہنچائے گا اور جو شخص اللہ پر اور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہو اور نیک اعمال کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو توحید کے ذریعے سے معاف کردے گا اور ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے چاروں طرف نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے کہ جنت ہاتھ آئی اور دوزخ سے بچے۔
Ayah 64:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

اور جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ہوگا اور حضور اور قرآن حکیم کی تکذیب کی ہوگی مثلا کفار مکہ یہ دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ دوزخ برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اسکے دل کو ہدایت دیتا ہے اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔

تمہاری جانوں مالوں اور گھروں کو کوئی مصیبت بغیر اللہ کے حکم کے نہیں آتی اور جو یہ سمجھے کہ مصیبت اللہ کی جانب سے ہے تو وہ اپنے قلب کو صبر و رضا کی راہ دکھا دیتا ہے یا یہ کہ جب اس کو کوئی نعمت ملے تو شکر کرے اور جب آزمایا جائے تو صبر کرے اور جب ظلم کیا جائے تو معاف کرے اور جس وقت کوئی پریشانی لاحق ہوئی تو انا للہ پڑھے، تو ایسا شخص اپنے دل کو اللہ کی راہ دکھا دیتا ہے اور تمہیں جو مصیبت وغیرہ پیش آتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے اچھی طرح آگاہ ہے۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور خدا کی اطاعت کرو اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے۔

فرائض میں اللہ تعالیٰ کی، سنن میں رسول کی یا یہ کہ توحید میں اللہ کی اور قبولیت میں رسول کی اطاعت کرو سو اگر تم ان دونوں کی اطاعت سے اعراض کرو گے تو محمد کے ذمہ تو منصب رسالت کو صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے مومنین کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

مومنو ! تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے

اے ایمان والو تمہاری بیبیاں اور اولاد جو کہ مکہ مکرمہ میں ہیں اگر وہ تمہیں جہاد اور ہجرت سے روکیں تو وہ تمہارے دشمن ہیں تم ان سے ہوشیار رہو۔ اور اگر وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے آجائیں تو تم ان کو معاف کردو اور ان پر کوئی گرفت نہ کرو۔ شان نزول : اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ (الخ) امام ترمذی اور حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت ان مکہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مشرف باسلام ہوگئے تھے تو انہوں نے اپنی بیبیوں اور اولاد کو مدینہ آنے کی دعوت دی تو انہوں نے آنے سے انکار کیا جب یہ حضرات حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں کو دیکھا انہوں نے دین میں سمجھ حاصل کرلی ہے تو یہ حضرات سمجھ گئے کہ ان پر گرفت ہوگی تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وان تعفوا و تصفحوا (الخ) اور ابن جریر نے عطاء بن یسار سے روایت کیا ہے کہ سورة تغابن پوری کی پوری مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے سوائے اس آیت کے اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَاَوْلَادِكُمْ (الخ) کے کیونکہ وہ اہل و عیال والے تھے جب وہ جہاد کا ارادہ کرتے تو ان کے گھر والے رونا شروع کردیتے اور ان کے ٹھہرانے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ کس کے سہارے پر آپ ہمیں چھوڑ کر جاتے ہیں تو وہ نرم پڑجاتے، لہذا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اور بقایا آیات مدنی ہے۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔

یہ تمہارے اموال و اولاد جو کہ مکہ مکرمہ میں ہیں تمہارے لیے ایک آزمائش کی چیز ہے جبکہ ہجرت اور جہاد سے تمہیں روکیں اور جو شخص ان چیزوں کے باوجود ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کرے تو اس کے لیے بڑا اجر ہے۔
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو جہاں تک ہو سکے خدا سے ڈرو اور (اسکے احکام کو) سنو اور (اسکے) فرمانبردار ہو اور (اسکی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو شخص طبیعت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

تو جہاں تک ہوسکے اللہ تعالیٰ کی اعت کرو اور اس کے احکام کو سنو اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول جو تمہیں حکم دے اس کو مانو اور اپنے اموال کو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خیرات کرو یہ خیرات کرنا تمہارے لیے مال کے روکنے سے بہتر ہوگا۔ اور جو شخص نفسانی حرص سے محفوظ رہا یا یہ کہ جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی تو ایسے ہی لوگ غصہ اور ناراضگی سے بچنے والے ہیں۔ شان نزول : فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (الخ) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت اتَّقُوا اللّٰهَ حق تقاتہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام پر عمل کرنا شاق ہوگیا، چناچہ وہ نفلوں میں اس قدر کھڑے ہوتے کہ ان کے قدموں پر سوج آجاتی اور چہرے پھٹ جاتے تھے تب مسلمانوں پر تخفیف کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (الخ)
Ayah 64:17

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دو چند دیگا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے۔

اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خلوص کے ساتھ خیرات کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھاتا چلا جائے گا اور اس صدقہ کی وجہ سے تمہارے گناہ معاف کرے گا۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی قدر دان ہے کہ تمہارے صدقات کو قبول فرما کر بڑھاتا ہے یا یہ کہ معمولی سا صدقہ قبول کرکے اجر عظیم عطا فرماتا ہے اور جو شخص اپنے صدقہ پر احسان جتلائے یا صدقہ نہ دے اس کی فوری گرفت نہیں فرماتا۔ اور صدقہ دینے والوں کے دلوں میں جو احسان اور خوف پوشیدہ ہے اور وہ جو صدقات دیتے ہیں وہ ان سب باتوں سے بخوبی واقف ہے اور جو شخص صدقہ دے کر احسان جتلائے یا صدقہ نہ دے اس کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔