Explained with ayahs 98–99
قدرت کی نشانیاں
فرماتا ہے کہ تم سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تن واحد یعنی حضرت آدم سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے لوگو اپنے اس رب سے ڈور جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کی اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا پھر ان دونوں سے مرد و عورت خوب پھیلا دیئے مستقر سے مراد ماں کا پیٹ اور مستودع سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے، حسن بصری فرماتے ہیں جو مرگیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ ابن مسعود کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، واللہ اعلم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
سورة الْاَنْعَام 65
یعنی نسل انسانی کی ابتداء ایک متنفس سے کی۔
سورة الْاَنْعَام 66
یعنی نوع انسانی کی تخلیق اور اس کے اندر مرد و زن کی تفریق اور تناسل کے ذریعہ سے اس کی افزائش، اور رحم مادر میں انسانی بچہ کا نطفہ قرار پا جانے کے بعد سے زمین میں اس کے سونپے جانے تک اس کی زندگی کے مختلف اطوار پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں بیشمار کھلی کھلی نشانیاں آدمی کے سامنے آئیں گی جن سے وہ اس حقیقت کو پہچان سکتا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ مگر ان نشانیوں سے یہ معرفت حاصل کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو سمجھ بوجھ سے کام لیں۔ جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے، جو صرف اپنی خواہشات سے اور انہیں پورا کرنے کی تدبیروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے آسمان (کی طرف) سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس (ایک ہی پانی) کے ذریعہ سے ہر قسم کے (رنگ برنگ) نباتات کو (زمین سے) نکالا (ایک ہی پانی ایک ہی مٹی سے اتنی مختلف قسم کی نباتات جن کے رنگ و بو، ذائقہ، فوائد بےحد مختلف ہیں، کس قدر عجیب کرشمہ قدرت ہے) پھر ہم نے اس (کونپل) سے (جو اول زمین سے نکلتی ہے، جس کو بعض مقامات میں سوئی یا کھونٹی کہتے ہیں اور رنگ میں زرد ہوتی ہے) سبز شاخ نکالی کہ اس (شاخ) سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں (یہ تو غلوں کی کیفیت ہے، جس کا ذکر اجمالاً فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى میں آچکا اور کھجور کے درختوں سے) یعنی ان کے گچھّے میں سے…
Read the full tafseer →اب یہ خدا کی رحمت، ربوبیت، قدرت، حکمت، توحید اور معاد کے ان آثار و دلائل کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جو ہر انسان کو قدم قدم پر نظر آسکتے ہیں بشرطیکہ وہ ماننا چاہے۔ وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ ، لفظ سماء پر ہم دوسری جگہ لکھ چکے ہیں کہ یہ بادلوں کے لیے بھی آتا ہے اور اس فضائے نیلگوں کے لیے بھی جس کو ہم آسمان کہتے ہیں۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جو آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس سے ہر چیز کو روئیدگی بخشتا ہے۔ کلام کا آغاز غائب کے صیغہ سے فرمایا پھر اس کو فَاَخْرَجْنَا بہ، متکلم کے صیغہ میں بدل دیا۔ اس میں رافت، عنایت اور ربوبیت کا اظہار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
99۔ 1 يہاں سے اس کی ایک اور عجیب صنعت (کاریگری) کا بیان ہو رہا ہے یعنی بارش کا پانی جس سے وہ ہر قسم کے درخت پیدا فرماتا ہے۔
99۔ 1 اس سے مراد سبز شاخیں اور کونپلیں ہیں جو زمین میں دبے ہوئے دانے سے اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر ظاہر فرما رہا ہے، پھر وہ پودا یا درخت نشو نما پاتا ہے۔
99۔ 2 یعنی ان سبز شاخوں سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں۔ جس طرح گندم اور چاول کی بالیاں ہوتی ہیں۔ مراد یہ سب غلہ جات مثلاً جو، جوار، باجرہ، مکئی، گندم اور چاول وغیرہ۔
99۔ 3 قنوان قنو کی جمع ہے جیسے صٓنو اور صنوان ہے مراد خوشے ہیں۔ طَلْع، ُ وہ گابھا یا گچھا ہے جو کھجور کی ابتدائی شکل ہے، یہی بڑھ کر خوشہ بنتا ہے…
Read the full tafseer →38: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بعض پھل دیکھنے میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں، اور بعض صورت اور ذائقے میں ایکد وسرے سے مختلف بھی ہوتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ جو پھل دکھنے میں ملتے جلتے نظر آتے ہیں، ان کی خصوصیات ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 99 ۔
قرآن کریم میں جب بھی حیاتیات اور نباتات کا ذکر ہوتا ہے اس دوران پانی کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً فَأَخْرَجْنَا بِہِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْْءٍ “۔ (6 : 99)
” اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ‘ پھر اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائیں ۔ “
ہر چیز کی پیدائش میں پانی کا جو کردار ہے وہ بالکل ظاہر ہے اور اس کے بارے میں ایک پسماندہ اور ترقی یافتہ انسان دونوں یکساں طور پر جانتے ہیں ۔ عالم اور جاہل دونوں جانتے ہیں لیکن قرآن کریم نے ظاہری طور پر عوام کے لئے جو کچھ کہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کی تخلیق میں پانی کا کردار…
Read the full tafseer →1 یعنی آسمان کی طرف سے بادل برسایا جو سبب ہے نباتات کے اگانے کا۔
2 یعنی بسبب بوجھل ہونے کے نیچے کو جھکے۔
3 یعنی صورت شکل ' مقدار ' رنگ بو اور مزے کے اعتبار سے بعضے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور بعضے نہیں۔
4 یعنی ابتداً جب پھل آتا ہے تو کچا ' بدمزہ اور ناقابل انتفاع ہوتا ہے۔ پھر پکنے کے بعد کیسا لذیذ ' خوش ذائقہ اور کار آمد بن جاتا ہے یہ سب خدا کی قدرت کا ظہور ہے۔
5 اس رکوع میں حق تعالیٰ کے جن افعال وصفات اور مظاہر قدرت کا بیان ہوا ' ان سے خدا کے وجود ' وحدانیت اور کامل الصفات ہونے پر استدلال تو واضح ہے لیکن غور کیا جائے تو وحی و نبوت کا مسئلہ بھی بڑی حد تک حل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جب حق…
Read the full tafseer →آیت 99 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ج
فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًاج ۔
کسی بھی فصل یا اناج کا سٹہ دیکھیں تو اس کے دانے نہایت خوبصورتی اور سلیقے سے باہم جڑے ہوئے اور ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اُنْظُرُوْٓا اِلٰی ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَیَنْعِہٖ ط۔
یعنی مختلف درختوں کے پھل لانے اور پھر پھل کے پکنے کے عمل کو ذرا غور سے دیکھا کرو۔ یہاں پر وَیَنْعِہٖکے بعد اِذَا اَیْنَعَ جب وہ پک جائے محذوف مانا جائے گا۔ یعنی اس کے پکنے کو دیکھو کہ کس طرح تدریجاً پکتا ہے۔ پہلے پھل آتا ہے ‘ پھر تدریجاً…
Read the full tafseer →102 یعنی زمین بھی ایک اور اس پر برسنے والا پانی بھی ایک جیسا، لیکن زمین سے پیدا ہونے والی نباتات اور پھلوں کے درختوں میں سے ہر ایک کے پھل پر غور کرو کھجور کے پھل پر اور اس کی ترکیب کو دیکھو، پھر انگور کو دیکھو جس میں بیج تک بھی نہیں ہوتا، انار کو دیکھو کہ اس کے دانے آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔ پھر یہ دیکھو کہ زمین ایک، درخت کی جنس ایک، پانی ایک لیکن ایک کا پھل ناقص ہے اور دوسرے کا عمدہ۔ پھر کسی ایک درخت کے پھل پر، پھل لگنے سے لے کر اس کے پکنے تک کے مراحل پر غور کرو۔ ایک ایک بات سے تمہیں اللہ کی قدرت کے نشانات ملتے جائیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی غور کرنے والا تو ہو ؟ اور اگر کوئی انہیں عام…
Read the full tafseer →145 ۔ پانی ایک ہی ہوتا ہے لیکن نباتات اس سے کیسی رنگا رنگ اور کتنی مختلف قسموں کی پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ سارے قوانین طبعی بس ایک ہی قادر مطلق حکیم مطلق ذات کے مقرر کئے ہوئے ہیں بارش کے یا زراعت کے، کسی دیوی دیوتا کا خیال کرنا ہی حمق ونادانی ہے۔ (آیت) ” من السمآء “۔ کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو آسمان کی سمت سے نازل ہو۔ سماء عربی میں سحاب (بادل) بلکہ ہر اوپر والی چیز کے بھی مرادف ہے۔ المراد من السماء انزال المطر من جانب السماء (کبیر) سمی اللہ تعالیٰ السحاب السماء لان العرب سمی کل ما فوقک سماء (کبیر) الکلام علی تقدیر مضاف ای من جانب السماء (روح) ای کل صنف من النبات (قرطبی) ای کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
وھو الذی انشأکم من نفس واحدۃٍ ، اس آیت میں وحدت انسانی کو بطور ایک حقیقت کے بیان کیا ہے اور اس بات سے بالکل واضح کردیا ہے کہ نوع انسانی کا مورث اعلیٰ ایک ہی ہے اس ایک اصل کو تسلیم کرنے سے جو آج مہذب و غیر مہذب، کالی اور گوری، برہمن اور شودر، مشرقی اور مغربی خدا جانے انسانیت کتنے فرقوں اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، پھر ایک بنی آدمی کی وحدت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →وہو الذی انزل من السمآء مآء اور وہی ہے جس نے آسمان سے (ابر تک اور ابر سے زمین تک) پانی اتارا۔
فاخرجنا بہ نبات کل شی پھر ہم نے پانی سے (ہر قسم کے دانے اور گٹھلی کے اندر سے) ہر طرح کے نباتات کو باہر نکالا ‘ سبحان اللہ ایک ہی قسم کے پانی سے ہر طرح کی سبزی کو سینچا جاتا ہے مگر کھانے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہے۔
فاخرجنا منہ خضرا پھر اس (سبزے یا پانی) سے ہم نے سبز (شاخ) نکالی یعنی تخم سے پھوٹ کر ایک سبزی نکلتی ہے پھر اس سبزی کی جڑ سے سبز شاخیں برآمد ہوتی ہیں پھر
نخرج منہ حبا متراکبا اس سبز شاخ سے ہم تہ بر تہ چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں یعنی بالیں دانوں سے بھری ہوئی پیدا ہوتی ہیں۔
ومن النخل من…
Read the full tafseer →(99) اسی ذات نے بارش برسا کر مختلف قسم کے دانے نکالے اور پھر بارش ہی کے ذریعے زمین سے سبز شاخ نکالی جس سے وہ دانے نکالتی ہے اور وہ ذات کھجور کے گچھوں میں سے خوشے نکالتی ہے جو بوجھ کی وجہ سے نیچے لٹک جاتے ہیں کہ کھڑا اور بیٹھا ہوا ہر ایک اس میں سے توڑ سکتا ہے اور اسی پانی سے انگوروں کے باغ اور زیتوں وانار کے درخت پیدا کیے جو رنگت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں مگر مزے میں مختلف ہوتے ہیں، ہر ایک پھل کے پھلنے اور اس کے پکنے کو دیکھو، ان رنگتوں کے اختلاف میں ایسی قوم کے لیے دلائل توحید ہیں جو اس اللہ کی جانب سے ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ۔۔ : ”قِنْوَان“ یہ ”قِنْوٌ“ کی جمع ہے بمعنی خوشے۔ ”ٌ دَانِيَةٌ ۙ“ یہ ”دَنَا یَدْنُوْ“ سے اسم فاعل ہے، یعنی قریب، مراد نیچے جھکے ہوئے۔ ”مُشْتَبِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۭ“ یعنی پتے ملتے ہیں، مگر پھل مختلف ہیں، یا ایک ہی درخت، مثلاً آم کو لے لیں کہ ان کے پودے ملتے جلتے ہیں، مگر ہر پودے کے پھل کی لذت الگ ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتوں میں سے ایک عظیم قدرت اور نعمت کا ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے سے نرم و نازک انگوری نکالی، جس سے تہ بہ تہ دانوں سے بھرے ہوئے خوشے نکالے اور کھجور کو دیکھو کہ پہلے ایک سوا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 99
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ آیت : وھو الذی انزل من السماء مآء اور وہی ہے جس نے بادل سے بارش نازل فرمائی۔ آیت : فاخرجنا بہ نبات کل شیء یعنی اس کے ذریعے ہم نے اگنے والی چیزوں کی ہر قسم ہم نے نکالی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہر حیوان کا رزق ہم نے نکالا۔ آیت فاخرجنا منہ خضرا اخفش نے کہا ہے : یعنی اخضر ( یعنی پھر ہم نے اس سے سبزہ نکالا) جیسا کہ عرب کہتے ہیں : ارینھا نمرہ ارکھا مطرہ (پھیکھڑے بادل بارش ضرور برساتے ہیں) اور الخضر سے مراد سبزیوں کی ہریالی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اس سے مراد گندم، جو، سفید جو، مکئی، چاول اور عام قسم کے دانے ہیں۔
آیت : نخرج…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان دانیۃ سے مراد ہے قریب ہونا۔
(2) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان دانیۃ سے مراد ہے چھوٹی کھجوریں آپس میں ملی ہوئی جن کے خوشے زمین کے ساتھ ہوتے ہیں۔
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان سے مراد ہے کھجوروں کے بڑے گچھے اور لفظ آیت دانیۃ سے مراد ہے لفظ آیت منصوبۃ یعنی لگایا گیا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان دانیۃ سے مراد ہے وہ خوشہ جو گابھے سے لٹک رہا…
Read the full tafseer →وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہی ہے جس نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءً ۚ [ کچھ پانی ] فَاَخْرَجْنَا [ پھر ہم نے نکالا ] بِهٖ [ اس سے ] نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا اگنا ] فَاَخْرَجْنَا [ پھر ہم نے نکالا ] مِنْهُ [ اس میں سے ] خَضِرًا [ کچھ سبزی ] نُّخْرِجُ [ (پھر ) ہم نکالتے ہیں ] مِنْهُ [ اس میں سے ] حَبًّا مُّتَرَاكِبًا ۚ [ ایک پر ایک چڑھنے والے دانوں کو ] وَمِنَ النَّخْلِ [ اور کجھور سے، ] مِنْ طَلْعِهَا [ اس کی کونپل میں ] قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ ۙ [ کچھ نزدیک ایک ہونے والے گچھے ہیں ] وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ [ اور (ہم نکالتے ہیں ) انگور کے باغات کو ]…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ) (اور اللہ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی نازل فرمایا) (فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا) پھر ہم نے نکالا اس کے ذریعہ ہر چیز کے پودوں کو پھر ہم نے نکالا ان سے ہرے بھرے درختوں کو (نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا) ہم اس سے دانے نکالتے ہیں جو ایک دوسرے پر چڑھے ہوتے ہیں۔ (وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِھَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ) اور کھجور کے درختوں سے یعنی اس کے گپھوں سے خوشے نکالے جو قریب قریب ہیں۔ (وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ ) (اور ہم نے انگوروں کے باغیچے نکالے) (وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
ذکر مظاہرقدرت و عجائب صنعت برائے اثبات الوہیت ووحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ان اللہ فالق الحب والنوی۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون
(ربط) گزشتہ آیات میں اثبات نوبت کا بیان تھا اب اس کے بعد پھر اسی مضمون توحید کی طرف رجوع فرماتے ہیں جو شروع سورت سے چلا آرہا ہے ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اشیاء متضادہ ومختلفہ پر اپنی قدرت کاملہ کے آثار اور اپنی مخلوقات کے عجائب حالات کو بیان کیا تاکہ وجود صانع اور اس کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کی دلیل بنیں اور مشرکین پر یہ امر واضح ہوجائے کہ ان کے تمام معبودان باطلہ اور شرکاء مہملہ ان عجائب قدرت میں سے ایک ادنی سے ادنی چیز کے بھی پیدا کرنے سے عاجز ہیں پس ومستحق…
Read the full tafseer →105 آسمان سے بارش بھی وہی برساتا ہے۔ بارش سے تمام کھیت سر سبز و شاداب ہوجاتے ہیں اناج کثرت سے پیدا ہوتا ہے، کھجور کے درخت پھل سے لد جاتے ہیں، انگور، زیتون اور انار کے باغات بھی لہلہانے لگتے ہیں۔ جن کا پھل شکل و صورت ایک جیسا ہونے باوجود ان کا رنگ، ذائقہ اور حجم مختلف ہوتا ہے اِنَّ فِیْ ذٰلک الخ ان مذکورہ امور میں ایمان والوں کو اللہ کی توحید پر بڑے بڑے دلائل نظر آتے ہیں یہ تمام چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ کی قدرت اور اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے لہذا وہی متصرف ورکارساز ہے اور کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
گذشتہ کئی دورس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرک کی تردید بیان ہو رہی ہے آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کے ساتھ مربوط ہیں عقلی دلائل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودے اور درخت پیدا کرنے کا ذکر فرمایا پھر رات کی تاریکی سے دن کی روشنی کی طرف توجہ دلائی ، سورج ، چاند اور ستاروں کو ایک خاص حساب سے مقرر کرنے کا بیان کی اور فرمایہ کہ ان تمام اشیاء میں اہل عقل و خرد کے لیے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں موجود ہیں ۔ اللہ نے ایک نفس سے تمام بنی نو نسن کی پیدائش کا ذکر بھی کیا کہ دیکھو معبود حقیقی وہی ذات ہے جس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے مطابق کائنات کا پورا نظام چل رہا ہے ،…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً 0ۚ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا 0ۚ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِيَۃٌ وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِہًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِہٍ 0ۭ اُنْظُرُوْٓا اِلٰى ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَــرَ وَيَنْعِہٖ 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكُمْ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 99
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ…
Read the full tafseer →2 ؎ یہ دلیل نبابات سے متعلق ہے دوم قسم احوال علویات سے پانچویں جو السمار کے حالات سے اور لطف یہ کہ سب میں انعام علی العباد ہے اور بھی ان دلائل خمسہ میں بلحاظ تقدیم و تاخیر اسرار ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً ج فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْئٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ج وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِھَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِھًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِہٍ ط اُنْظُرُوْٓا اِلٰی ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَ یَنْعِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 99)
(اور وہی ہے ‘ جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس سے ہر چیز کے انکھوے نکالے۔ پھر ہم نے اس سے سرسبز شاخیں اگائیں ‘ جس سے ہم تہہ بہ تہہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
قرآن مجید میں انسانی زندگی، پھل، پھول، نباتات اور درخت وغیرہ کے اگانے کے سلسلے میں پانی کا ذکر کئی مرتبہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سبب حیات قرار دیا ہے۔ زمین کی زینت، مردہ زمین کی زندگی، پودوں اور سبزی ترکاری کی شادابی، ان کی پیدائش اور قیام، پھر ان کا رنگ برنگے پھل پھول پیدا کرنا، غلے، میوے، چارہ، بیشمار نفع آور اشیاء کا پیدا ہونا، پکنا اور انسان کے کھانے کے قابل ہونا، ان کی خوبصورتی اور زینت ان تمام چیزوں کو وجود باری تعالیٰ پر دلیل توحید الوہیت اور ربوبیت قرار دیا گیا ہے۔ ” اور وہ وہی خدا ہے جس نے اوپر سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ ہر چیز کی…
Read the full tafseer →آسمان سے پانی ایک ہی اتارا اور اس سے نباتات بیشمار اُگائیں :
آیت 99 : وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً بادلوں سے بارش فَاَخْرَجْنَا بِہٖپانی کے ذریعہ نَبَاتَ کُلِّ شَیْئٍبڑھنے والی نبات میں سے ہر قسم اگی۔ مراد سبب ہے اور وہ پانی ہے۔ جو کہ ایک ہے مگر اگنے والی اشیاء بیشمار قسم کی ہیں۔ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ نباتات سے خَضِرًا، ترو تازہ سبزہ ٗ محاورہ میں اخضر اور خضر کہا جاتا ہے اور اصل میں اس کو کہتے ہیں جو دانے سے نکلنے والی نبات سے پھوٹ کر نکلے ٗ نُّخْرِجُ مِنْہُیعنی سبزے سے حَبًّا مُّتَرَاکِبًاوہ سٹہ ہے جس کے دانے پے درپے جڑے ہوئے ہیں۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِھَا قِنْوَانٌیہ…
Read the full tafseer →تفسیر :-(99) (وھو الذی انزل من السمآء مآء فاخر جنابہ) پانی سے (نبات کل شیء فاخرجنا منہ) پانی سے اور بعض نے کہا نبات سے (خضراً سبز کھیتی) یعنی سرسبز جیسے العور اور الاعور ہے یعنی جو ترو تازہ اور سرسبز ان میں سے جو اگتا ہے جو اور گندم وغیرہ سے۔ (نخرج منہ حبا مترا کباً ) یعنی آپس میں ملے ہوئے جیسے گندم، جو اور چاول وغیرہ کی خوشوں میں دانے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ (ومن النحل من طلعھا قنوان) طلع کا معنی کھجور کا ابتدائی پھل۔ قنوان قنو کی جمع ہے بمعنی ٹہتی سے صنو اور صنوان کی مثل ان دونوں کی کلام میں کوئی نظیر نہیں ہے۔ (دانیۃ) کھانے والے کے قریب کہ کھڑا بیٹھا ہر شخص ان کو لے سکے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
(98 ۔ 99) ۔ کھیتی باغ سورج چاند تارے اوپر انسان کی ان ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا اور آگے بھی اس قسم کے چیزوں کا ذکر آوے گا۔ ان چیزوں کے ذکر کے بیچ میں یہ انسان کے پیدا کرنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جو غافل لوگ اپنی ضرورت کی چیزوں کی حالت پر غور کر کے ان چیزوں کے پیدا کرنے والے کو نہ پہچان سکے وہ خود اپنی پیدائش کی حالت پر غور کر کے اپنے خالق کو پہچانیں اور شرک سے باز آویں نفس واحد سے مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کیونکہ بنی آدم کی پیدائش کا سلسلہ انہی سے شروع ہو ہے حضرت حوا حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور…
Read the full tafseer →آیت 99
اس آیت کریمہ میں مذکور نعمت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، انسان اور دیگر مخلوق جس کے سخت محتاج ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ضرورت اور حاجت کے وقت پے در پے پانی برسایا، اس پانی کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی جسے انسان اور حیوانات کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخلوق اس نباتات کو کھاتی ہے، اس کے عطا کردہ رزق سے انبساط محسوس کرتی ہے، لوگ اس کے احسان پر خوش ہوتے ہیں اور ان سے قحط اور خشک سالی دور ہوجاتی ہے۔ پس دل خوش ہوجاتے ہیں اور چہرے نکھر جاتے ہیں، بندوں کو اللہ رحمان و رحیم کی بےپایاں رحمت نصیب ہوتی ہے جس سے وہ متمتع ہوتے ہیں، اس سے اپنی غذا حاصل کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →189 قدرت کے بعض اہم دلائل کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ [ قادر مطلق ] وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا [ ایک نہایت ہی پر حکمت نظام کی تحت ] پھر اس کے ذریعے ہم نے نکالی ہر قسم کی پیداوار۔ پھر اس سے ہم نے نکالی کھیتی جس سے ہم نکالتے ہیں طرح طرح کے غلے، تہ بہ تہ چڑھے ہوتے ہیں جن کے دانے اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھلوں کے گچھے بھی جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں اور انگوروں کے قسما قسم کے باغ بھی اور زیتوں اور انار بھی۔ سو یہ سب کچھ ایک طرف اس کی عظیم قدرت کا مظہر ہے اور دوسری طرف اس کی بےپایاں رحمت کا۔ تو جس نے تمہاری جسمانی ضروریات کا اس طرح حیرت انگیز طور پر انتظام فرمایا ہے کس…
Read the full tafseer →پھل اور خوراک سب اللہ نے پیدا کی ہیں
تشریح : اللہ تعالیٰ کی پہچان اس کی تخلیقات سے ہوتی ہے اسی لیے تو حکماء کہتے ہیں کہ علم و عرفان (اللہ کو جاننا) ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں جیسا کہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آسمان سے مینہ برستا ہے۔ کیسے برستا ہے ؟ ہم اکثر دیکھتے ہیں۔ بارش ہوتی ہے لیکن ایک تحقیق کرنے والا شخص اس کی تہہ تک جاتا ہے۔ بادل کیسے بنتے ہیں ؟ کیسے سفر کرتے ہیں ؟ بارش کس طرح قطرہ قطرہ زمین پر گرتی ہے ؟ یکدم دھڑام سے پانی کیوں نہیں گر پڑتا ؟ زمین کو اور انسان کو اس بارش کے کیا کیا فائدے ہوتے ہیں ؟ یہ سب بہت سے علوم کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ پھر نباتات جس میں ہر اگنے والی چیز آجاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
رکوع نمبر 16 ۔ آیات نمبر 96 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
کفار و مشرکین کے عقاید باطلہ کے لیے دلائل عقلی پر بحث فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ کارگہ حیات میں جو گرمی حیات ہے ذرا اس پر غور کرو اور یہ دیکھو کہ کونسی ایسی عظیم طاقت ہے جو گٹھلی سے درخت نکال کر کھڑا کردیتی ہے کو ن ہے جو دانے سے ہری بھری کھیتیاں پیدا فرماتا ہے یقیناً اللہ ہی واحد ذات ہے ورنہ مخلوق تو خود پیدا ہوتی ہے جب یہ نہ تھے جنہیں تم اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو تو بھی گٹھلی اور دانہ تو اگتے تھے بلکہ عالم حیوانات میں توالد و تناسل کا نظام خود دعوت فکر دے رہا ہے کہ نطفے یا انڈے سے زندہ بچہ اور زندہ جانور سے نطفہ یا انڈہ مزید جاندار کو پیدا…
Read the full tafseer →ف 5 یا ایک کے پتے دوسروں کے پتوں سے ملتے ہیں مگر پھل نہیں ملتے۔ (وحیدی)6 یہ محل استدلال کہے اور یہاں پر اس آیت سے مقصد استدلال کپورا ہوجاتا ہے (رازی) ایک پھل کی پہلے کونپل نکلتی ہے پھر وہ کچا پھل بنتا ہے پھر اس کا رنگ بدلتا جاتا ہے اور وہ برا بھی ہوتا جاتا ہے (وحیدی )
Read the full tafseer →(6:99) نبات۔ گھاس۔ سبزی۔ زمین کی پیداوار۔ روئیدگی۔ زمین سے پیدا کرنا۔ زمین سے اگنے والی ہر چیز۔
منہ۔ میں ضمیر نبات کی طرف راجع ہے۔ یعنی نباتات سے ہم سرسبز کونپلیں نکالتے ہیں۔
خضرا۔ سبزہ۔ سبز۔ خضر سے جس کے معنی سبز اور ہرا ہونے کے ہیں صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
متراکبا۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ تراکب (تفاعل) مصدر۔ تہ برتہ۔ ایک پر ایک سوار۔ رکب اور رکوب کے معنی کسی جانور پر سوار ہونا۔ اناج کی بالی کے دانے باہم متصل ہوتے ہیں۔ ایک دانہ دوسرے سے وابستہ ہوتا ہے۔ کوئی اوپر ہوتا ہے کوئی نیچے۔ اس لئے اس کو تراکب کہا گیا ہے۔ گویا تہ برتہ ہونے کے سبب ایک دانہ دوسرے پر سوار ہوتا ہے۔ مکی کا سٹہ۔ اور انار کے دانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 102 :
نبات (سرسبزی۔ نباتات) خضرا (سبز چیز) متراکب ( تہہ درتہہ۔ ایک پر ایک چڑھا ہوا) النخل (کھجور) طلع (گچھا۔ گابھا) قنوان (خوشے) دانیۃ ( نیچے جھکے ہوئے) اعناب (عنب) انگور۔ الرمان ( انار) مشتبہ ( ایک دوسرے سے ملتے جلتے) ثمر ( پھل۔ نتیجہ) ینعہ ( اس کا پکنا) ‘ خرقوا (انہوں نے گھڑ رکھے ہیں) بنین ( ابن) ۔ بیٹے ( بنت) (بنت) بیٹیاں ‘ سبحانہ ( اس کی ذات پاک ہے۔ وہ بےعیب ہے) یصفون ( وہ بیان کرتے ہیں) بدیع ( نیا نکالنے والا۔ پیدا کرنے والا) ولد (بیٹا) صاحبۃ (بیوی) ذلکم (یہی۔ ان ہی میں) خالق ( پیدا کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 102 :
مختلف زاویوں سے ان آیات کے مطالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
پیدائش کا سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا ہے۔ حضرت حوا حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئیں، ان سے تمام نسل قائم ہوئی جس سے ساری زمین بھر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی تمام روئے زمین کی مٹی کو ملا کرلی ہے، اس واسطے ان کی اولاد کے رنگ اور مزاج مختلف ہیں۔ ماں کے رحم مین بچہ کا پتلا چار مہینے میں بن کر تیار ہوجاتا ہے تو روح پھونک دی جاتی ہے، وقت مقررہ پر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب آخر آیت میں فرمایا کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ان لوگوں کو مفید ہیں جو ان قدرت کی نشانیوں سے صاحب قدرت کے پہچاننے میں سمجھ دوڑاتے ہیں۔ مینہ برسنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–105
[38] چناچہ یہی ہوا کہ اُمّی کی زبان سے بلند پایہ علوم، معارف و حقائق کو فصیح وبلیغ پیرایہ بیان میں سن کر ظالموں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یقینا یہ مضامین عالی آپ نے کسی نصرانی یا یہودی سے پڑھ کر یاد کر لئے ہیں۔ اور جاہلیت کے انہی لال بجھکڑوں کی نقل بڑے بڑے مستشرقین کر کے قرآن مجید کی اس پیش خبری کی مزید توثیق کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ ایماندار لوگ اللہ کی نعمتوں کو نگاہ میں رکھتے ہیں اور اس کے احسانات کو بھولتے نہیں وہ گردوپیش کے حالات کو جب دیکھتے ہیں تو ہر بات میں انہیں اللہ کی قدرتیں نظر آتی ہیں لہذا شرک میں مبتلا نہیں ہوتے کائنات کا ذرہ ذرہ انہیں دعوت توحید دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔
Read the full tafseer →-99 اور اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس ذات ہے جس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر ہم نے اس پانی سے ہر طرح کی روئیدگی اور اگنے والی چیزوں کو نکالا پھر جو چیز ابتداء میں نکلتی ہے یعنی سوئی یا کھونٹی یا کوئے اس ابتدائی روئیدگی سے ہم نے سبز اور ہری شاخ نکالی کہ اس سبز رنگ کی شاخ سے ہم ایسے دانے نکالتے ہیں جو اوپر تلے گتھے ہوئے ہوتے ہیں یعنی وہ زرد رنگ کی سوئی جو ابتداء میں اگتی ہے وہی بڑھ کر سبز رنگ کو ٹہنی ہوجاتی ہے اور اس میں گیہوں یا جو وغیرہ کے دانے پیدا ہوجاتے ہیں جو خوب گتھے ہوئے ہوتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے ہم ایسے خوشے اور گچھے نکالتے ہیں جو مارے بوجھ کے نیچے کو لٹکے اور جھکے پڑتے ہیں اور…
Read the full tafseer →ف 1۔ ان مضامین میں ایک عجیب ترتیب مرعی ہے وہ یہ کہ یہاں تین قسم کی کائنات مذکور ہے سفلیات، علویات، کائنات جو۔ اور شروع کیا سفلیات سے کہ وہ ہم سے اقرب ہیں اور پھر اس کے حصے کیے ایک بیان نباتات دوم بیان النفس پھر کائنات جو کو ذکر کیا صبح ولیل پھر علویات کا ذکر کیا شمس وقمر ونجوم۔ پھر چونکہ سفلیات کا زیادہ مشاہدہ ہوتا ہے اس کو مکرر لاکر اس پر ختم فرمایا مگر پہلے وہ اجمالا مذکور تھے اب تفصیل سے مذکور کیے گئے لیکن تفصیل کی ترتیب میں اجمال کی ترتیب کا عکس کردیا گیا کہ بیان النفس کو مقدم کیا اور بیان نباتات کو موخر۔
2۔ اوپر دلائل توحید کا ذکر تھا آگے تصریحا توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے۔
Read the full tafseer →ربوبیت کے مختلف دلائل بیان کر کے ” رب کریم “ کا تعارف کرایا جارہا ہے :
152: ” آسمان سے پانی برسانے والا کون ہے ؟ “ ایسا کیوں ہے کہ پہلے سورج کی شعاعیں سمندر سے ڈول بھر بھر کر فضا میں پانی کی چادریں بچھا دیں پھر ہواؤں کے جھونکے انہیں حرکت میں لائیں اور پانی کی بوندیں بنا کر ایک خاص وقت اور خاص محل میں بر سادیں ؟ پھر یہ کیوں ہے کہ جب کبھی پانی برسے تو ایک خاص ترتیب اور مقدار ہی سے برسے اور اس طرح برسے کہ زمین کی بالائی سطح پر اس کی ایک خاص مقدار بہنے لگے اور اندرونی حصوں تک ایک خاص مقدار میں نمی پہنچے ، کیوں ایسا ہوا کہ پہلے پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کے تودے جمیں ، پھر موسم کی تبدیلی سے پگھلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
Commentary
The contents of this verse present a unique concern for thematic order. It will be noticed that three kinds of universes have been mentioned here: The low, the high and the atmosphere - that is, what generates in what we know as the Biosphere. The description was initiated with the mention of that which is on the lower level because it is closer to us. Then, it was split in two parts. One part of the statement covered vegetation which grows on the land, plants and trees and gardens. The other part featured life forms as beasts, human beings and animals. The first part was given…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
65. This means that God caused the human race to originate from one human being.
66. If one were to observe carefully the creation of the human species, its division into male and female, the proliferation of the human race by procreation, the passing of life through its several stages in the womb of the mother from conception to childbirth, one would perceive innumerable signs to help one grasp the truth mentioned above. But only those who make proper use of their intellect can be led by means of these signs to an understanding of Reality. Those who live like animals, who are concerned…
Read the full tafseer →