شیطانی وعدے دھوکہ ہیں
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے تھے جنات کو پوجتے تھے ان پر انکار فرما رہا ہے۔ ان کے کفر و شرک سے اپنی بیزاری کا اعلان فرماتا ہے اگر کوئی کہے کہ جنوں کی عبادت کیسے ہوئی وہ تو بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے تو جواب یہ ہے کہ بت پرستی کے سکھانے والے جنات ہی تھے جیسے خود قرآن کریم میں ہے آیت (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا) 4۔ النسآء :117) یعنی یہ لوگ اللہ کے سوا جنہیں پکار رہے ہیں وہ سب عورتیں ہیں اور یہ سوائے سرکش ملعون شیطان کے اور کسی کو نہیں پکارتے وہ تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
سورة الْاَنْعَام 67
یعنی اپنے وہم و گمان سے یہ ٹھہرا لیا کہ کائنات کے انتظام میں اور انسان کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں اللہ کے ساتھ دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہیں، کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی روئیدگی کا، کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی بیماری کی، وغیر ذالک مِن الخرافات۔ اس قسم کے لغو اعتقادات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں ارواح اور شیاطین اور راکشسوں اور دیوتاؤں اور دیویوں کے متعلق پائے جاتے رہے ہیں۔
سورة الْاَنْعَام 68
جہلائے عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اسی طرح دنیا کی دوسری مشرک قوموں نے بھی خدا سے سلسلہ نسب چلایا ہے اور پھر دیوتاؤں اور دیویوں کی ایک پوری نسل اپنے وہم سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے آسمان (کی طرف) سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس (ایک ہی پانی) کے ذریعہ سے ہر قسم کے (رنگ برنگ) نباتات کو (زمین سے) نکالا (ایک ہی پانی ایک ہی مٹی سے اتنی مختلف قسم کی نباتات جن کے رنگ و بو، ذائقہ، فوائد بےحد مختلف ہیں، کس قدر عجیب کرشمہ قدرت ہے) پھر ہم نے اس (کونپل) سے (جو اول زمین سے نکلتی ہے، جس کو بعض مقامات میں سوئی یا کھونٹی کہتے ہیں اور رنگ میں زرد ہوتی ہے) سبز شاخ نکالی کہ اس (شاخ) سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں (یہ تو غلوں کی کیفیت ہے، جس کا ذکر اجمالاً فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى میں آچکا اور کھجور کے درختوں سے) یعنی ان کے گچھّے میں سے…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ : یعنی کائنات کی ایک ایک چیز تو خدا اور اس کی صفات سے متعلق وہ شہادتیں فراہم کر رہی ہے جو اوپر مذکور ہوئیں لیکن ان لوگوں کی خرد باختگی اور سفاہت کا یہ عالم ہے کہ یہ جنات کو بھی خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں۔
جنات کو خدائی میں شریک بنانے کا عقیدہ : اہل عرب جن چیزوں کو خدا کا شریک مانتے تھے ان میں ملائکہ، جنات، کواکب سب ہی شامل تھے۔ لیکن یہاں سب سے پہلے جنات کا ذکر کرکے قرآن نے شرک کے انتہائی گھنونے پن کو واضح کیا ہے کہ کہاں خدا کی وہ شانیں جو بیان ہوئیں اور کہاں ان بوالفضولوں کی یہ بوالفضولی کہ پیپل تلے کی بھتنی اور شیطان کو بھی خدا کا شریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
99۔ 1 يہاں سے اس کی ایک اور عجیب صنعت (کاریگری) کا بیان ہو رہا ہے یعنی بارش کا پانی جس سے وہ ہر قسم کے درخت پیدا فرماتا ہے۔
99۔ 1 اس سے مراد سبز شاخیں اور کونپلیں ہیں جو زمین میں دبے ہوئے دانے سے اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر ظاہر فرما رہا ہے، پھر وہ پودا یا درخت نشو نما پاتا ہے۔
99۔ 2 یعنی ان سبز شاخوں سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں۔ جس طرح گندم اور چاول کی بالیاں ہوتی ہیں۔ مراد یہ سب غلہ جات مثلاً جو، جوار، باجرہ، مکئی، گندم اور چاول وغیرہ۔
99۔ 3 قنوان قنو کی جمع ہے جیسے صٓنو اور صنوان ہے مراد خوشے ہیں۔ طَلْع، ُ وہ گابھا یا گچھا ہے جو کھجور کی ابتدائی شکل ہے، یہی بڑھ کر خوشہ بنتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
39: جنات سے مراد شیطان ہے اور یہ ان لوگوں کے باطل عقیدے کی طرف اشارہ ہے جو یہ کہتے تھے کہ تمام مفید مخلوقات تو اللہ نے پیدا کی ہیں مگر درندے سانپ بچھو اور دوسرے موذی جانور بلکہ تمام بری چیزیں شیطان نے پیدا کی ہیں اور وہی ان کا خالق ہے، ان لوگوں نے بظاہر ان بری چیزوں کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے پرہیز کیا ؛ لیکن اتنا نہ سمجھ سکے کہ شیطان خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہ سب سے بری مخلوق ہے، اگر بری چیزیں شیطان کی پیدا کی ہوئی ہیں خود اس بری مخلوق کو کس نے پیدا کیا اس کے علاوہ جو چیزیں ہمیں بری نظر آتی ہیں ان کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں اور ان کی تخلیق کو برا…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 100 تا 101۔
عرب کے بعض مشرکین جنوں کی عبادت کرتے تھے ‘ لیکن ان کو علم نہیں تھا کہ جن ہیں کیا ۔ البتہ یہ انہیں ایک وہمی سی مخلوق سمجھتے تھے اور یہ بتوں کے پیچھے کوئی مخلوق تھی ۔ انسان جب ایک بالشت کے برابر بھی عقیدہ توحید سے ہٹ جائے تو وہ اس قدر ہٹتا چلا جاتا ہے کہ راہ حق سے کوسوں دور ہوجاتا ہے لیکن آخر کار انسان دیکھتا ہے کہ نقطہ آغاز کا انحراف اگرچہ تھوڑا سا اور ناقابل لحاظ تھا لیکن آگے جا کر دونوں راہوں کے درمیان بہت بڑی خلیج واقع ہوجاتی ہے ۔ یہ مشرکین مکہ آغاز میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین پر تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا دین وہی دین توحید تھا جسے اس علاقے میں…
Read the full tafseer →6 یا تو " جن " سے مراد یہاں " شیاطین " ہیں چونکہ کفر و شرک کا ارتکاب شیطان کے اغوا سے ہوتا ہے اس لئے اس کے اغواؤ اضلال سے غیر اللہ کی عبادت کرنا گویا اسی کی عبادت ہوئی۔ ابراہیم نے بت پرستی کا رد کرتے ہوئے فرمایا یا ابت " لاَ تَعْبُدُ الشَّیْطٰن " دوسری جگہ ارشاد ہے (اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ) 36 ۔ یس :60) " ملائکہ قیامت میں فرمائیں گے (سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ ) 34 ۔ سبأ :31) " اور یا " جن " سے مراد قوم جن لی جائے جن کے بعض سرداروں سے اہل جاہلیت…
Read the full tafseer →آیت 100 وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ
اللہ تعالیٰ نے جیسے انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے جنات کو بھی پیدا کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور وہ اپنی خداداد طبعی صلاحیتوں کی وجہ سے کائنات میں وسیع پیمانے پر رسائی رکھتے ہیں۔ آج انسان نے اربوں ڈالر خرچ کر کے خلاؤں کے جس سفر کو ممکن بنایا ہے ‘ ایک عام جن کے لیے ایسا سفر معمول کی کارروائی ہوسکتی ہے ‘ مگر ان سارے کمالات کے باوجود یہ جن ہیں تو اللہ ہی کی مخلوق۔ اسی طرح فرشتے اپنی تخلیق اور صلاحیتوں کے لحاظ سے جنات سے بھی بڑھ کر ہیں ‘ مگر پیدا تو انہیں بھی اللہ ہی نے کیا ہے۔ لہٰذا انسان ‘ جنات اور…
Read the full tafseer →103 اللہ کی اولاد کا عقیدہ :۔ اللہ تعالیٰ کی ان سب نشانیوں کے باوجود اور یہ جاننے کے باوجود کہ اللہ کے بغیر کوئی ہستی ان کے پیدا کرنے میں اس کی شریک نہیں۔ ان مشرکوں نے محض اپنے وہم و گمان سے یہ طے کرلیا کہ اتنی وسیع کائنات کا پورا نظام اکیلا اللہ کیسے سنبھال سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس پورے نظام میں اور انسانوں کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں کئی دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہوں۔ کوئی بارش کا دیوتا ہے کوئی روئیدگی کا، کوئی پھلوں میں رس بھرنے کا، کوئی دولت کی دیوی ہے کوئی صحت کی اور کوئی مرض اور بیماریوں کی وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے لغو خیالات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں پائے جاتے ہیں۔ بالعموم تمام…
Read the full tafseer →148 ۔ یہ کن لوگوں کا ذکر ہے ؟ مشرکین عرب تو یقیناً مراد ہیں، باقی دوسری جاہلی قومیں بھی مراد ہوسکتی ہیں جو بھی انہی عقائد کی ہوں (آیت) ” الجن “۔ جنات وہ ناری مخلوق ہیں۔ جو خاکی مخلوق انسان سے قبل اس پردۂ گیتی پر وجود میں آچکے تھے۔ عموما وعادۃ یہ انسان کے لئے گیر مرئی رہتے ہیں۔ ابلیس انہی کی صفت کا مخلوق ہے۔ (آیت) ” وجعلوا اللہ شرکآء الجن “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ وجعلو اللہ الجن شرکاء معناہ جعلوا الجن شرکاء للہ (کبیر) (آیت) ” خلقھم “۔ حالانکہ اسی اللہ نے ان مشرکوں کو پیدا کیا ہے۔ نہ کہ جنات نے۔ ابن مسعود کی قرأت وھو خلقھم نے اسے اور صاف کردیا ہے۔ والمعنی وقد علموا ان اللہ خالقھم دون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
وھو الذی انشأکم من نفس واحدۃٍ ، اس آیت میں وحدت انسانی کو بطور ایک حقیقت کے بیان کیا ہے اور اس بات سے بالکل واضح کردیا ہے کہ نوع انسانی کا مورث اعلیٰ ایک ہی ہے اس ایک اصل کو تسلیم کرنے سے جو آج مہذب و غیر مہذب، کالی اور گوری، برہمن اور شودر، مشرقی اور مغربی خدا جانے انسانیت کتنے فرقوں اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، پھر ایک بنی آدمی کی وحدت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →وجعلوا اللہ شرکآء الجن اور (باوجود دلائل توحید قائم ہونے کے کفار مکہ نے) جنات کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔ آیات توحید کا ذکر تقاضا کر رہا تھا کہ مشرکوں کو سرزنش کی جائے اس لئے مشرکوں کی مذمت کی۔ الجن سے مراد ہیں ملائکہ کیونکہ فرشتے نظروں سے مخفی ہیں اور مرتبۂ ربوبیت سے قاصر ہیں ملائکہ کو شریک بنانے کا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے ملائکہ کی پوجا کی اور ان کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا یا شیاطین مراد ہیں شیاطین کے بہکانے سے مشرکوں نے بتوں کی پوجا کی اور شیطانوں کا کہا مانا یہ ہی شیاطین کو شریک خدا بنانے کا مطلب ہے یا شیاطین کو شریک بنانے کا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے شیاطین کی پوجا کی کیونکہ شیاطین کبھی…
Read the full tafseer →(100) گمراہ لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں کہ العیاذ باللہ اللہ تعالیٰ اور ابلیس لعین دونوں خدائی میں شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ انسانوں جانوروں اور چوپایوں کا خالق ہے اور شیطان سانپ بچھو اور درندوں کو پیدا کرتا ہے یہی چیز آتش پرست کہتے ہیں۔
حالانکہ ان سب کو خود اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور ان کو توحید کا حکم دیا ہے اور ان مشرکین میں سے یہود ونصاری اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور مشرکین عرب فرشتوں اور بتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں، حالانکہ اس کے لیے نہ ان کے پاس کچھ صحیح علم ہے اور نہ کوئی دلیل ہے، اس کی ذات شریک اور ولد سے پاک اور بیٹوں اور بیٹیوں سے منزہ ہے۔
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کے لیے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں میں سے پانچ دلائل بیان فرمائے، اب بتایا کہ بعض لوگ پھر بھی اللہ کے لیے جنوں کو شریک بناتے ہیں، حالانکہ انھیں بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے، پھر مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہرانا سرا سر جہالت نہیں تو کیا ہے ؟ (رازی)
عرب میں بعض فرقے ایسے بھی تھے جو جنات اور خبیث شیطانوں کی عبادت کرتے تھے اور مصیبت کے وقت ان کے نام کی دہائی دیتے اور کائنات میں ان کا تصرف مانتے تھے۔ ان سب کی اس آیت میں تردید فرمائی کہ بےسمجھے انھوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا اور اس کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 100
قولی تعالیٰ : آیت : وجعلوا للہ شرکآء الجن یہ ان کی جہالت کی دوسری نوع کا ذکر ہے، یعنی ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے جنات میں سے شرکاء کا اعتقاد رکھ لیے ہے ( یعنی انہوں نے جنوں کو اللہ تعالیٰ بنا لیا ہے) ۔ نحاس نے کہا ہے : ترکیب کلام میں الجن مفعول اول ہے اور شرکاء مفعول ثانی ہے، جیسا کہ ان ارشادات میں ہے : آیت : وجعلکم ملوکا (المائدہ : 20) آیت : وجعلت لہ مالا ممدودا (المدثر) اور قرآن کریم میں اس کی کثیر مثالیں ہیں۔ اور تقدیر کلام اس طرح ہے آیت : وجعلوہ للہ الجن شرکاء اور یہ بھی جائز ہے کہ الجن شرکا سے بدل ہو اور مفعول ثانی للہ ہو۔ اور کسائی نے الجن پر رفع بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلوا للہ شرکاء الجن وخلقھم انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنا دیا حالانکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا فرمایا لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت بغیر علم یعنی انہوں نے اللہ کے لئے جھوٹ گھڑے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں بنا لیں۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت یعنی انہوں نے ان کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا دیں۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا یعنی انہوں نے جھوٹ بولا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا [ اور انہوں نے بنایا ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ] شُرَكَاۗءَ [ ساجھی ] الْجِنَّ [ جنوں کو ] وَ [ حالانکہ ] خَلَقَهُمْ [ اس نے پیدا کیا ان کو ] وَخَرَقُوْا [ اور انہوں نے گھڑے ] لَهٗ [ اس کے لئے ] بَنِيْنَ [ کچھ بیٹے ] وَبَنٰتٍۢ [ اور کچھ بیٹیاں ] بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ [ کسی علم کے بغیر ] سُبْحٰنَهٗ [ اس کی پاکیزگی ہے ] وَتَعٰلٰى [ اور وہ بلند ہے ] عَمَّا [ اس سے جو ] يَصِفُوْنَ [ یہ لوگ بتاتے ہیں ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، وہ معبود برحق ہے، اولاد ہونا اس کے لیے عیب ہے
اوپر اللہ تعالیٰ شانہ ٗکی الوہیت اور خالقیت پر دلائل قائم کیے ہیں اب ان آیات میں مشرکین کی بد اعتقادی کی تردید فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں نے جنات کو یعنی شیاطین کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے جنات کے اور شیاطین کے توجہ دلانے سے بتوں کی عبادت کرنے لگے اور شیاطین کی ایسی اطاعت کرنے لگے جیسی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جاتی ہے نیز شیاطین مشرکین کے پاس بری بری صورتوں میں آتے ہیں اور ان کو خواب اور بیداری میں ڈراتے ہیں لہٰذا وہ ان کے شر اور ضرر کے بچنے کے خیال سے ان کی تصویریں اور مجسمے بنا لیتے ہیں اور…
Read the full tafseer →ابطال شرک وتشنیع اہل شرک
قال اللہ تعالیٰ وجعلوا للہ شرکاء الجن۔۔۔ الی۔۔۔ سبحانہ وتعالی عما یصفون
امام رازی فرماتے ہیں کہ گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ جل شانہ نے توحید اور الوہیت اور کمال قدرت کی پانچ دلیلیں ذکر فرمائیں اب آئندہ آیات میں ان لوگوں کی تردید اور تہدید فرماتے ہیں جنہوں نے خدا کے لیے شریک اور سہیم ٹھہرائے اور خدا کے شریک ٹھہرانے والے تین گروہ ہیں ایک گروہ بت پرستوں کا ہے جن کا شروع سورت سے لے کر برابر رد ہوتا چلا آیا اور دوسرا گروہ کواکب پرستوں کا ہے جن کا حضرت ابراہیم کے قصہ میں رد ہوچکا ہے اور مشرکین کا تیسرا گروہ مجوس کا ہے جو عالم کے لیے دو خدا کے قائل ہیں ایک خیر کا خالق اور ایک…
Read the full tafseer →106:۔ یہ زجر اور شکوی ہے شرکاء مبدل منہ ہے اور الجن اس سے بدل ہے برائے اظہار حقارت۔ یعنی ان جنوں کو انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھا ہے وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنَاتٍ اور انہوں نے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لی ہیں وہ انبیاء اور اولیاء کو اللہ کے بیٹے اور فرشتوں کو اس کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا خیال تھا کہ جس طرح اولاد باپ کو بہت محبوب ہوتی ہے اور وہ ان کی ہر بات مان لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام، اولیاء کرام اور ملائکہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارے ہیں اس لیے اسے ان کی ہر بات ماننی پڑتی ہے۔ یہود و نصاریٰ نے اللہ کے لیے بیٹے تجویز کیے تھے ور مشرکین مکہ نے بیٹیاں۔ اما الذین اثبتوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
گذشتہ کئی دورس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرک کی تردید بیان ہو رہی ہے آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کے ساتھ مربوط ہیں عقلی دلائل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودے اور درخت پیدا کرنے کا ذکر فرمایا پھر رات کی تاریکی سے دن کی روشنی کی طرف توجہ دلائی ، سورج ، چاند اور ستاروں کو ایک خاص حساب سے مقرر کرنے کا بیان کی اور فرمایہ کہ ان تمام اشیاء میں اہل عقل و خرد کے لیے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں موجود ہیں ۔ اللہ نے ایک نفس سے تمام بنی نو نسن کی پیدائش کا ذکر بھی کیا کہ دیکھو معبود حقیقی وہی ذات ہے جس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے مطابق کائنات کا پورا نظام چل رہا ہے ،…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا لِلہِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِيْنَ وَبَنٰتٍؚبِغَيْرِ عِلْمٍ 0ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوْنَ 100ۧ
شرك ( شريك)
الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی:
وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» . وروي أنّ اللہ تعالیٰ قال لنبيّه عليه السلام :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
ترکیب : الجن جعلوا کا مفعول اول شرکاء مفعول ثانی ‘ للّٰہ شرکاء سے متعلق ہے۔ بغیر علم فاعل خرقوا سے حال ہے۔ بدیع السموات خبر ہے مبتداء محذوف کی ذلکم مبتداء اللّٰہ خبر۔
تفسیر : تمام عالم نباتات سے لے کر فلکیات تک کو خاص اپنا پیدا کیا ہوا ثابت کرکے اور تمام عالم میں اپنا ہی تصرف و قبضہ کرکے ان بیوقوف مشرکوں پر طعن وتشنیع کرتا ہے جنہوں نے جنوں کو یا اور شخصوں کو اس کا شریک بنایا تھا یا اب بھی بناتے ہیں۔
عرب کے بعض فرقے ان چیزوں کو جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں ملائکہ اور ارواح خبیثہ یا خاص جنوں کو (چونکہ یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے ان سب پر لفظ جن کا اطلاق ہوتا ہے) پوجتے اور ان کے نام کی بوقت…
Read the full tafseer →چناچہ ارشاد فرمایا گیا :
وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ الْجِنَّ وَ خَلَقَھُمْ وَ خَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍم بِغَیْرِ عِلْمٍ ط سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ (الانعام : 100)
(اور انھوں نے ‘ جنوں میں سے خدا کے شریک ٹھہرائے۔ حالانکہ خدا ہی نے ان کو پیدا کیا اور اس کے لیے بےسند بیٹے اور بیٹیاں تراشیں۔ وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے ‘ جو یہ بیان کرتے ہیں )
مشرکین عرب بہت سی قوتوں کو اور بہت سی شخصیات کو اللہ کا شریک بنا کر پوجتے تھے اور اپنی مشکلات میں ان سے مدد مانگتے تھے۔ انہی میں سے جنات بھی تھے جن کے بارے میں ان کا خیال یہ تھا کہ مختلف علاقوں میں یا مختلف جگہوں میں ان جنات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
قرآن مجید میں انسانی زندگی، پھل، پھول، نباتات اور درخت وغیرہ کے اگانے کے سلسلے میں پانی کا ذکر کئی مرتبہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سبب حیات قرار دیا ہے۔ زمین کی زینت، مردہ زمین کی زندگی، پودوں اور سبزی ترکاری کی شادابی، ان کی پیدائش اور قیام، پھر ان کا رنگ برنگے پھل پھول پیدا کرنا، غلے، میوے، چارہ، بیشمار نفع آور اشیاء کا پیدا ہونا، پکنا اور انسان کے کھانے کے قابل ہونا، ان کی خوبصورتی اور زینت ان تمام چیزوں کو وجود باری تعالیٰ پر دلیل توحید الوہیت اور ربوبیت قرار دیا گیا ہے۔ ” اور وہ وہی خدا ہے جس نے اوپر سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ ہر چیز کی…
Read the full tafseer →کفار کی حماقت کہ جنات کو اللہ جل شانہٗ کا شریک بنایا حالانکہ وہ شرکت سے منز ّہ ہے :
آیت 100 : وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ الْجِنَّ اگر تم للّٰہ شرکاء کو جعل کے دو مفعول قرار دو تو الجن شرکاء سے بدل ہے۔ ورنہ شرکاء الجن دونوں مفعول ہیں۔ دوسرے کو پہلے سے مقدم کیا اور تقدیم کا فائدہ یہ ہے۔ یہ بات بعید تر ہے کہ کسی فرشتہ یا جن یا کسی اور کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جنات کی اتباع ان کاموں میں کی جن کو انہوں نے مزین کر کے ان کے سامنے پیش کیا۔ نتیجتاً ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا ڈالا۔ وَخَلَقَہُمْحالانکہ اس نے جنات کو پیدا کیا۔ پس مخلوق اپنے خالق کی شریک وسہیم کیونکر…
Read the full tafseer →تفسیر :-100 (وجعلو اللہ شرکآء الجن) یعنی کافر اللہ کا شریک جنون کو بناتے ہیں (وخلقھم) یعنی جنون کو پیدا کیا ہے۔
زنا دقہ کی تردید
کلبی (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت زندیق لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ تخلیق میں ابلیس کو شریک بناتے تھے اور کہتے تھے اللہ نور اور لوگوں اور چوپایوں کا خالق ہے اور ابلیس تاریکی ، درندوں، سانپوں، بچھوئوں کا خالق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول (وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا) کی طرح ہے اور ابلیس جنوب میں سے ہے۔ (وخرقوا) راء کی شد کے ساتھ تکثیر کے معنی کی بناء پر اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی انہوں نے گھڑ لیا (وخرقوا لہ بنین وبنت بغیر علم) جیسے یہود نے کہا…
Read the full tafseer →دنیا میں بت پرستی جس طرح شیطان کے بہکانے سے پھیلی ہے اس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ بت پرستی کا شرک شیطان نے ان بت پرست لوگوں کی نظروں میں اچھا کر کے دکھایا جس سے یہ لوگ شیطان کا کہنا مان کر بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگے جس کے سبب سے گویا وراصل انہوں نے اس بانی شرک شیطان کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اسواسطے فرمایا کہ ان لوگوں نے جن یعنی شیطان کو اللہ کی عبادت میں شریک قرار دیا پھر فرمایا دوسرا شرک ان اہل مکہ کا یہ ہے کہ اللہ کے فررشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور اہل کتاب کا یہ شرک ہے کہ یہود نے عزیر کو اور نصاریٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا لیکن جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
آیت 100
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
194 خالق سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب دلائل قدرت کے باوجود ان لوگوں نے اللہ کا شریک بنادیا جنوں کو حالانکہ اسی وحدہ لا شریک نے پیدا فرمایا ان سب کو۔ سو جب ان سب کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس کے سوا کسی کو بھی اسکا شریک وسہیم جاننا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کائنات کی تو ایک ایک چیز حضرت خالق ۔ جَلَّ مَجْدہٗ ۔ کی وحدانیت ویکتائی کی شہادت فراہم کر رہی ہے لیکن ان لوگوں کی خردباختگی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
کائنات سے اللہ کی پہچان کہ وہ اکیلا ہے
تشریح : پہلے آخرت کا ذکر کردیا گیا ہے اور اب اللہ رب العزت کے تخلیقات کے کرشمے بیان کیے جا رہے ہیں جو اللہ کے واحد، بلندو برتر، حکیم وعلیم ہونے کا ثبوت ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ کے انعامات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح اللہ اپنی قدرت سے اپنا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے مثلاً گٹھلی سے درخت کا بننا، مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کا نکلنا۔ سورج، چاند کا نظام، ستاروں سے راستہ معلوم کرنا، سمندر اور زمین کے بیشمار فائدے، انسان کا سیدنا آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہونا اور پھر انسان کی پرورش کے لیے ہر قسم کی اجناس پھول، پھل کا پیدا کرنا، یہ سب کچھ کیا ہے ؟ یہ ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
رکوع نمبر 16 ۔ آیات نمبر 96 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
کفار و مشرکین کے عقاید باطلہ کے لیے دلائل عقلی پر بحث فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ کارگہ حیات میں جو گرمی حیات ہے ذرا اس پر غور کرو اور یہ دیکھو کہ کونسی ایسی عظیم طاقت ہے جو گٹھلی سے درخت نکال کر کھڑا کردیتی ہے کو ن ہے جو دانے سے ہری بھری کھیتیاں پیدا فرماتا ہے یقیناً اللہ ہی واحد ذات ہے ورنہ مخلوق تو خود پیدا ہوتی ہے جب یہ نہ تھے جنہیں تم اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو تو بھی گٹھلی اور دانہ تو اگتے تھے بلکہ عالم حیوانات میں توالد و تناسل کا نظام خود دعوت فکر دے رہا ہے کہ نطفے یا انڈے سے زندہ بچہ اور زندہ جانور سے نطفہ یا انڈہ مزید جاندار کو پیدا…
Read the full tafseer →ف 7 اوپر کی آیات میں جب اپنی الوہیت کے ثبوت میں علم علوی اور عالم سفلی سے براہین خمسہ ذکر فرمادیں تو اب بتایا کہ بعض فرقے ایسے بھی تھے جو اور واح خبیثہ اور جنات کی پرستش کرتے اور مصیبت کے وقت ان کے نام کی رہائی دیتے اور کائنات میں ان لا تصرف مانتے تھے ان سب کی اس آیت میں تردید فرمائی کہ بےسمجھ انہوں نے جنوں کو اللہ تعال کا شریک ٹھہرا لیا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیں چناچہ مشرکین عرب ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹاں کہا کرتے تھے، فرمایا اللہ تعالیٰ ان گھڑی ہوئی باتوں سے پاک ہے بعض سلف نے فرمایا کہ یہ آیت ان بےدینیوں مجوسیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کو انسانوں، جانوروں چوپایوں…
Read the full tafseer →(6:100) وخلقھم۔ واؤ حالیہ ہے۔ خلق میں فاعل اللہ ہے۔ ہم ضمیر الجن کی طرف راجع ہے حالانکہ اللہ نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔
خرقوالہ۔ انہوں نے تراشا۔ خرق سے ۔ ماضی جمع مذکر غائب۔
الخرق (ضرب) کسی چیز کو بلا سوچے سمجھے بھاڑنے کے لئے بھاڑ ڈالنا۔ قرآن میں ہے کہ : اخرقھا لتغرق اہلہا (15:17) کیا تو نے اس کو اس لئے پھاڑا ہے کہ مسافروں کو غرق کر دے۔ خرق۔ خلق کی ضد ہے۔ جس کے معنی اندازہ کے مطابق خوش اسلوبی سے کسی چیز کو بنانے کے ہیں اور خرق کے معنی کسی چیز کو بےقاعدگی سے پھاڑ ڈالنے کے ہیں۔ آیۃ ہذا میں : اور بےسمجھے (جھوٹ ، بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا گھڑی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 102 :
نبات (سرسبزی۔ نباتات) خضرا (سبز چیز) متراکب ( تہہ درتہہ۔ ایک پر ایک چڑھا ہوا) النخل (کھجور) طلع (گچھا۔ گابھا) قنوان (خوشے) دانیۃ ( نیچے جھکے ہوئے) اعناب (عنب) انگور۔ الرمان ( انار) مشتبہ ( ایک دوسرے سے ملتے جلتے) ثمر ( پھل۔ نتیجہ) ینعہ ( اس کا پکنا) ‘ خرقوا (انہوں نے گھڑ رکھے ہیں) بنین ( ابن) ۔ بیٹے ( بنت) (بنت) بیٹیاں ‘ سبحانہ ( اس کی ذات پاک ہے۔ وہ بےعیب ہے) یصفون ( وہ بیان کرتے ہیں) بدیع ( نیا نکالنے والا۔ پیدا کرنے والا) ولد (بیٹا) صاحبۃ (بیوی) ذلکم (یہی۔ ان ہی میں) خالق ( پیدا کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 102 :
مختلف زاویوں سے ان آیات کے مطالب…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے بت پرستی کا شرک جن یعنی شیطان کو اللہ کی عبادت میں شریک کیا، پھر اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے۔ اور اہل کتاب کا یہ شرک ہے کہ یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو الل کا بیٹا قرار دیا جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ ناسمجھی سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی شان ایسی باتوں پاک ار بالاتر ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی برد باری سے اس گستاخی کی سزا میں جلدی نہیں فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–105
[38] چناچہ یہی ہوا کہ اُمّی کی زبان سے بلند پایہ علوم، معارف و حقائق کو فصیح وبلیغ پیرایہ بیان میں سن کر ظالموں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یقینا یہ مضامین عالی آپ نے کسی نصرانی یا یہودی سے پڑھ کر یاد کر لئے ہیں۔ اور جاہلیت کے انہی لال بجھکڑوں کی نقل بڑے بڑے مستشرقین کر کے قرآن مجید کی اس پیش خبری کی مزید توثیق کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ ایماندار لوگ اللہ کی نعمتوں کو نگاہ میں رکھتے ہیں اور اس کے احسانات کو بھولتے نہیں وہ گردوپیش کے حالات کو جب دیکھتے ہیں تو ہر بات میں انہیں اللہ کی قدرتیں نظر آتی ہیں لہذا شرک میں مبتلا نہیں ہوتے کائنات کا ذرہ ذرہ انہیں دعوت توحید دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔
Read the full tafseer →-100 اور ان مشرکین نے جنات اور شیاطین کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھیرا رکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان جنات و شیاطین کو بھی پیدا کیا ہے یعنی جب سب کا خالق وہی ہے تو مخلوق کو خلاق کا شریک ٹھیرانا انتہائی بےوقوفی کی بات ہے اور ان مشرکین نے بلا جانے بوجھے اور بغیر سوچے سمجھے اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ رکھی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اس کی شان میں بیان کرتے ہیں یعنی یہ مشرک اس پر جو عیب لگاتے ہیں اس کی ذات ان تمام عیوب سے پاک اور بہت بلند ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
ف 3۔ جیسے نصاری حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور بعض یہود عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔
Read the full tafseer →تعجب ہے کہ لوگوں نے سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے :
153: مشرکین عرب کے معبودوں میں دیوتا کم تھے اور دیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور اس طرح وہ فرشتوں کو بھی خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ روایات میں آیا ہے کہ قریش اور اس طرح کے دوسرے قبیلے مثلاً جہینہ ، بنی سلمہ ، خزاعہ اور بنی ملیح کا عقیدہ یہ تھا کہ ملا ئ کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اس کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل ؟ مطلق نہیں اور واہیات عقیدوں پر دلیل ہو بھی کیا سکتی ہے ؟ جس طرح عقیدے گھڑ لئے جاتے ہیں اسی طرح ان کی دلیلیں بھی اور سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہمارے آباء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
Commentary
The contents of this verse present a unique concern for thematic order. It will be noticed that three kinds of universes have been mentioned here: The low, the high and the atmosphere - that is, what generates in what we know as the Biosphere. The description was initiated with the mention of that which is on the lower level because it is closer to us. Then, it was split in two parts. One part of the statement covered vegetation which grows on the land, plants and trees and gardens. The other part featured life forms as beasts, human beings and animals. The first part was given…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
67. Because of man's imaginativeness and superstitious disposition, he has often held other invisible beings to be associated with God in His governance of the universe and in making and marring man's destiny. For example, the deity of rain, and the deity of vegetation, the god of wealth and the god of health, and so on. Such beliefs are found among all the polytheistic nations of the world.
68. The ignorant Arabs considered angels to be the daughters of God. In the same way, other polytheistic nations wove a network of bloodrelationships with God, producing thereby a whole crop of gods and…
Read the full tafseer →