اللہ بےمثال ہے وحدہ لاشریک ہے
زمین و آسمان کا موجد بغیر کسی مثال اور نمونے کے انہیں عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے۔ بدعت کو بھی بدعت اسی لئے کہتے ہیں کہ پہلے اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی، بھلا اس کا صاحب اولاد ہونا کیسے ممکن ہے جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں، اولاد کیلئے تو جہاں باپ کا ہونا ضروری ہے وہیں ماں کا وجود بھی لازمی ہے، اللہ کے مشابہ جبکہ کوئی نہیں ہے اور جوڑا تو ساتھ کا اور جنس کا ہوتا ہے پھر اس کی بیوی کیسے ؟ اور بیوی نہیں تو اولاد کہاں ؟ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور یہ بھی اس کے منافی ہے کہ اس کی اولاد اور زوجہ ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا) 19۔ مریم :88)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
سورة الْاَنْعَام 67
یعنی اپنے وہم و گمان سے یہ ٹھہرا لیا کہ کائنات کے انتظام میں اور انسان کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں اللہ کے ساتھ دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہیں، کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی روئیدگی کا، کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی بیماری کی، وغیر ذالک مِن الخرافات۔ اس قسم کے لغو اعتقادات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں ارواح اور شیاطین اور راکشسوں اور دیوتاؤں اور دیویوں کے متعلق پائے جاتے رہے ہیں۔
سورة الْاَنْعَام 68
جہلائے عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اسی طرح دنیا کی دوسری مشرک قوموں نے بھی خدا سے سلسلہ نسب چلایا ہے اور پھر دیوتاؤں اور دیویوں کی ایک پوری نسل اپنے وہم سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے آسمان (کی طرف) سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس (ایک ہی پانی) کے ذریعہ سے ہر قسم کے (رنگ برنگ) نباتات کو (زمین سے) نکالا (ایک ہی پانی ایک ہی مٹی سے اتنی مختلف قسم کی نباتات جن کے رنگ و بو، ذائقہ، فوائد بےحد مختلف ہیں، کس قدر عجیب کرشمہ قدرت ہے) پھر ہم نے اس (کونپل) سے (جو اول زمین سے نکلتی ہے، جس کو بعض مقامات میں سوئی یا کھونٹی کہتے ہیں اور رنگ میں زرد ہوتی ہے) سبز شاخ نکالی کہ اس (شاخ) سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں (یہ تو غلوں کی کیفیت ہے، جس کا ذکر اجمالاً فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى میں آچکا اور کھجور کے درختوں سے) یعنی ان کے گچھّے میں سے…
Read the full tafseer →بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ بَدِيْعُ کے معنی ہیں عدم سے وجود میں لانے والا، یعنی خدا آسمانوں اور زمین اور تمام کائنات کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ جب کچھ نہ تھا تب خدا تھا، یہ ایک مسلم حقیقت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز خدا کی مخلوق ہے تو کسی مخلوق کو بیٹوں بیٹیوں کا درجہ کس طرح حاصل ہوا، اور وہ خدا کی خدائی میں شریک کس راہ سے ہوئے ؟۔ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ، یعنی خدا کے لیے اولاد ماننا ایک اس سے بھی بڑی حماقت کے لیے راہ کھولتا ہے۔ وہ یہ کہ خدا کے لیے (نعوذ باللہ) بیوی بھی مانی جائے۔ یہ خیریت تھی کہ مشرکین عرب اپنی تمام مشرکانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
11۔ 1 یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے میں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اس طرح وہ اس لائق ہے اس اکیلے کی عبادت کی جائے، عبادت میں کسی اور کو شریک نہ بنایا جائے۔ لیکن لوگوں نے اس ذات واحد کو چھوڑ کر جنوں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے، حالانکہ وہ خود اللہ کے پیدا کردہ ہیں مشرکین عبادت تو بتوں کی یا قبروں میں مدفون اشخاص کی کرتے ہیں لیکن یہاں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک بنایا ہوا ہے، بات دراصل یہ ہے کہ جنات سے مراد شیاطین کے کہنے سے ہی شرک کیا جاتا ہے اس لئے گویا شیطان ہی کی عبادت کی جاتی ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں متعدد
جگہ بیان کیا گیا ہے مثلاً سورة نساء۔ 117…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
39: جنات سے مراد شیطان ہے اور یہ ان لوگوں کے باطل عقیدے کی طرف اشارہ ہے جو یہ کہتے تھے کہ تمام مفید مخلوقات تو اللہ نے پیدا کی ہیں مگر درندے سانپ بچھو اور دوسرے موذی جانور بلکہ تمام بری چیزیں شیطان نے پیدا کی ہیں اور وہی ان کا خالق ہے، ان لوگوں نے بظاہر ان بری چیزوں کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے پرہیز کیا ؛ لیکن اتنا نہ سمجھ سکے کہ شیطان خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہ سب سے بری مخلوق ہے، اگر بری چیزیں شیطان کی پیدا کی ہوئی ہیں خود اس بری مخلوق کو کس نے پیدا کیا اس کے علاوہ جو چیزیں ہمیں بری نظر آتی ہیں ان کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں اور ان کی تخلیق کو برا…
Read the full tafseer →(آیت) ” بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنَّی یَکُونُ لَہُ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُن لَّہُ صَاحِبَۃٌ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْْء ٍ وہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(101)
” وہ تو آسمان اور زمین کا موجد ہے ‘ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کی کوئی شریک زندگی ہی نہیں ہے ۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ “
اللہ تو وہ ہے جو اس پوری کائنات کو عدم مطلق سے وجود میں لایا لہذا اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا خلف تجویز کرے ۔ خلف اور پسماندگان تو اس ذات کے لئے ہوتے ہیں جو فانی ہو ۔ اور یا جو کمزور ہو اور اسے امداد کی ضرورت ہو ‘ یا جنہیں دیکھ کر وہ خوش ہوسکے ۔
پھر ان لوگوں کو…
Read the full tafseer →9 جس نے تنہا تمام آسمان و زمین بدوں کسی نمونہ اور توسط آلات وغیرہ کے ایسے انوکھے طرز پر پیدا کردیئے۔ آج اس کو شرکاء کی امداد اور بیٹے پوتے کا سہارا ڈھونڈھنے کی کیا ضرورت ہے۔
10 تعجب ہے کہ جب کسی مخلوق کو تم حقیقۃ خدا کی اولاد قرار دیتے ہو تو ان بچوں کی ماں کسے تجویز کرو گے اور اس ماں کا تعلق خدا کے ساتھ کس قسم کا مانو گے۔ عیسائی حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں لیکن یہ جسارت وہ بھی نہیں کرسکے اور کہ مریم صدیقہ کو ( العیاذ باللہ) خدا کی بیوی قرار دیکر زنا شوی کے قائل ہوجائیں۔ جب ایسا نہیں تو مریم کے بطن سے پیدا ہونے والا خدا کا بیٹا کیونکر بن گیا۔ دنیا کے دوسرے بچوں کو بھی خدا تعالیٰ ماؤں کے…
Read the full tafseer →آیت 101 بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط
یہ لفظ بدیع سورة البقرۃ کی آیت 117 میں بھی آچکا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس کے معنی ہیں عدم محض سے کسی چیز کی تخلیق کرنے والا۔
اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌط وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍج وَہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جب اس کی کوئی شریک حیات ہی نہیں ہے تو اولاد کیسے ہوگی ؟ در اصل کائنات اور اس کے اندر ہرچیز کا تعلق اللہ کے ساتھ صرف یہ ہے کہ وہ ایک خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں۔ اور وہ ایسی علیم اور خبیر ہستی ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی شے اس کی نگاہوں سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
104 اس نے زمین و آسمان کو بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی سابقہ نقشہ یا نظیر کے وجود بخشا۔ اس سے مادہ پرستوں کا رد ہوا۔ اور چونکہ اس کی بیوی ہی نہیں لہذا اللہ کا کوئی بیٹا اور بیٹی بھی نہیں ہوسکتے۔ اس سے یہود و نصاریٰ اور مشرکین سب کا رد ہوا۔ یہود عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے اور نصاریٰ سیدنا عیسیٰ کو اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور دوسرے ممالک کے مشرکوں نے تو اس قدر اللہ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے جن کا شمار بھی مشکل ہے۔ انہوں نے تو ایسے دیوی دیوتاؤں کی پوری نسل ہی چلا دی۔ حالانکہ یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں۔
Read the full tafseer →149 ۔ ہر شے سے اس کا رشتہ خالقیت اور علیمیت کا ہے۔ وہ چھوٹی بڑی ہر شے کا خالق اور ہر شے کا علم کل رکھتا ہے۔ اس سے کوئی رشتہ دنیوی اور مادی عزیرداریوں پر قیاس کرکے جوڑنا تمام تر اپنی سفاہت کا ثبوت دینا ہے۔ (آیت) ” بدیع السموت والارض “۔ آسمان اور زمین سب اسی کی مخلوق ہیں نہ کوئی آکاش دیوتا ہیں نہ کوئی دھرتی مائی، بدیع یعنی محض ترتیب و ترکیب دے دینے والا نہیں بلکہ عدم محض سے ہست کرنے والا (آیت) ” بدیع “۔ پر حاشیہ سورة بقرہ میں گزر چکا۔ پارہ نمبر 1 آیت نمبر 1 17 ۔ الابداع عبارۃ عن تکوین الشیء من غیر مثال (کبیر) (آیت) ” انی۔۔ صاحبۃ “۔ مشرکین پر حجت قائم کی ہے کہ تم جب خدا کے صاحب اولاد ہونے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آیت نمبر 101 تا 110
ترجمہ : وہ آسمانوں اور زمینوں کو سابقہ نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے اس کی بیوی تو ہے نہیں اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے اور وہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے لہٰذا اتنہا اسی کی بندگی کرو وہ ہر شئ کا محافظ ہے آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں یعنی اس کو انہین دیکھ سکتیں، اور عدم رویت سے آخرت میں مومنین کی رویت مستثنیٰ ہے، اللہ تعالیٰ کے قول ” وجودٌ یومئذً ناضِرَۃ الی ربِّھا ناظرۃ “ اور شیخین کی حدیث کی وجہ سے ” کہ تم عنقریب اپنے رب کو…
Read the full tafseer →بدیع السموات والارض وہ آسمانوں کا اور زمین کا بغیر نمونہ موجد ہے۔
بدیع السموٰت میں صفت کی موصوف کی جانب اضافت ہے یعنی آسمان اور زمین اس کی نادر تخلیق ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔ بعض نے بدیعکو بمعنی مُبِدع کہا ہے یعنی بغیر سابق مثال کے عدم سے وجود میں لانے والا۔
انی یکون لہ ولد ولم تکن لہ صاحبۃ جب اس کی بیوی ہی نہیں تو اس کی اولاد کہاں سے (یا کیسے) ہوسکتی ہے۔
وخلق کل شی وہو بکل شی علیم اور اس نے ہر چیز اندازہ کے ساتھ پیدا کی ہے اور وہ ہی ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
آیت سے بوجوہ ذیل نفی ولدیت ثابت ہو رہی ہے (1) آسمان و زمین اللہ کی بےمثال تخلیق ہے یہ اگرچہ دوسری مخلوق کے ساتھ جنسیت میں شریک ہیں جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(101۔ 102) وہ ذات تو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والی ہے، اللہ کے اولاد کہاں ہوسکتی ہے، حالانکہ کہ اس کے کوئی بی بی تو ہے نہیں، تمہارا پروردگار یہ ہے جو ان تمام چیزوں کا خالق ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔
اسی کی توحید بیان کرو، اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک مت ٹھہراؤ وہ تمام مخلوق کا کارساز ہے یا یہ کہ ان کی روزیوں کا کار ساز ہے۔
Read the full tafseer →بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: بدیع کا معنی ہے کسی چیز کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا، یعنی ان کا پہلے کوئی نمونہ موجود نہ تھا، اس نے ان کو ایجاد فرمایا۔
اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ۔۔ : مشرکین کی تردید کے بعد اب ان کی تردید کی ہے جو اللہ کی اولاد مانتے تھے۔ فرمایا، اللہ کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے، جب کہ اولاد تو وہ ہوتی ہے جو بیوی کے ذریعے سے پیدا ہو اور اگر کسی کو بیوی کے بغیر بنایا جائے تو وہ مخلوق ہوتی ہے نہ کہ اولاد، جیسا کہ آسمان و زمین کی پیدائش یا آدم ؑ کی پیدائش۔ (رازی)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 101
قولہ تعالیٰ آیت : بدیع السموٰت والارض یعنی وہ ان دونوں کو بنانے والا ہے، تو پھر کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ اور بدیع مبتدا مضمر کی خبر ہے یعنی ھو بدیع۔ کسائی نے للہ کی صفت ہونے کی بنا پر اس پر کسرہ بھی جائز قرار دیا ہے اور بمعنی بدیعا السموات والارض اس پر نصب بھی جائز قرار دیا ہے۔ اور بصریوں کے نزدیک یہ خطا ہے، کیونکہ یہ ماضی کے معنی کے لیے ہے ( کیونکہ بصریوں کے نزدیک اسم فاعل جب آل کا صلہ نہ ہو تو عمل کے لیے دو شرطیں ہیں یا وہ بمعنی حال ہو یا بمعنی استقبال ہو۔ امام کسائی نے اس کے عمل کو جائز قرار دیا ہے جب یہ ماضی کے لیے بھی ہو)
آیت : انی یکون لہ ولد یعنی کہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلوا للہ شرکاء الجن وخلقھم انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنا دیا حالانکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا فرمایا لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت بغیر علم یعنی انہوں نے اللہ کے لئے جھوٹ گھڑے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں بنا لیں۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت یعنی انہوں نے ان کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا دیں۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا یعنی انہوں نے جھوٹ بولا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت…
Read the full tafseer →بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ (وہ) زمین اور آسمانوں کا ایجاد کرنے والا ہے ] اَنّٰى [ کہاں سے ] يَكُوْنُ [ ہوگی ] لَهٗ [ اس کے لئے ] وَلَدٌ [ کوئی اولاد ] وَّ [ اس حال میں کہ ] لَمْ تَكُنْ [ تھی ہی نہیں ] لَّهٗ [ اس کے لئے ] صَاحِبَةٌ ۭ [ کوئی ساتھی (یعنی بیوی ) ] وَخَلَقَ [ اور اس نے پیدا کیا ] كُلَّ شَيْءٍ ۚ [ ہر چیز کو ] وَهُوَ [ اور وہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
ل ط: (ن) لطفا ۔ لطیف ہونا ۔ یہ ثقیل اور کثیف کی ضد ہے۔ یعنی ہر قسم کے ثقل اور کثافت سے مبرا ہونا ۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے ۔ (1) نرم اور مہربان ہونا ۔ (2) ایسی تدبیر…
Read the full tafseer →مشرکین کے عقائد شرکیہ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی تردید فرماتے ہوئے مزید فرمایا (بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا بےمثال پیدا فرمانے والا ہے اس نے عالم سفلی اور عالم علوی کو پیدا فرمایا۔ آسمان و زمین کا مادہ پیدا فرمایا اور آسمان کو سات طبق بنا دیا اور زمین کو پھیلا دیا۔ ایسے خالق اور بےمثال صانع اور مبدع کو اولاد کی کچھ حاجت نہیں۔ کیونکہ اولاد کی ضرورت مدد کے لیے ہوتی ہے۔ آسمان و زمین کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ سورة سبا میں فرمایا۔
(مَا لَھُمْ فیھِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّ مَالَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیْرٍ ) مزید فرمایا (اَنّٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
ابطال عقیدہ ابنیت
قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر
(ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم…
Read the full tafseer →108 یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے نفی ولد پر چار دلیلیں ذکر فرمائی ہیں یہ پہلی دلیل ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے علم علوی اور عالم سفلی کو عجیب و غریب نظام کے ساتھ پیدا فرمایا ہے وہ فاعل علی الاطلاق ہے۔ اسے کسی ولد یا نائب کی ضرورت نہیں۔ دوسری دلیل اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ الخ یعنی اللہ تعالیٰ کے بیٹا کس طرح ہوسکتا ہے حالانکہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ مطلب یہ کہ تم اللہ کی طرف صاحبہ کی نسبت تو نہیں کرتے ہو لیکن ولد کی نسبت کیوں کرتے ہو حالانکہ ولد صاحبہ (بیوی) کے بغیر نہیں ہوسکتا یعنی اگرچہ تم حقیقی ولد کی نسبت نہیں کرتے ہو لیکن ولد کی طرح نائب تو کہتے ہو جو سراسر غلط ہے۔ تیسری دلیل وَ خَلَقَ کُلَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کی عقلی دلائل بیان کیے۔ اگر انسان اپنی عقل کو بروئے کار لائے اور غور وفکر کرے تو اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بھی کیا کہ دیکھو انہوں نے اللہ کے لیے شریک بنا رکھے ہیں ، کسی نے جنات کو خدا کا شریک بنا لیا ہے ، کوئی اللہ کی اولاد کا عقیدہ رکھتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کی ذات اس کی طرف منسوب کی جانے والی ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر اللہ نے تو حید ہی کے اثبات میں اپنی بعض صفات کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں نزول بارش اور اس سے پیدا ہونے کی تردید بھی کی جا چکی ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان…
Read the full tafseer →بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0ۭ اَنّٰى يَكُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ 0ۭ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ 0ۚ وَہُوَبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 101
بدع
الإِبْدَاع : إنشاء صنعة بلا احتذاء واقتداء، ومنه قيل : ركيّة بَدِيع أي : جدیدة الحفروإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فهو إيجاد الشیء بغیر آلة ولا مادّة ولا زمان ولا مکان، ولیس ذلک إلا لله والبدیع يقال للمُبْدِعِ نحو قوله تعالی: بَدِيعُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ البقرة/ 117] ، ويقال للمبدع نحو : ركيّة بدیع، وکذلک البِدْعُ يقال لهما جمیعا بمعنی الفاعل والمفعول، وقوله تعالی: قُلْ ما كُنْتُ بِدْعاً مِنَ الرُّسُلِ [ الأحقاف/ 9] قيل : معناه :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
ترکیب : الجن جعلوا کا مفعول اول شرکاء مفعول ثانی ‘ للّٰہ شرکاء سے متعلق ہے۔ بغیر علم فاعل خرقوا سے حال ہے۔ بدیع السموات خبر ہے مبتداء محذوف کی ذلکم مبتداء اللّٰہ خبر۔
تفسیر : تمام عالم نباتات سے لے کر فلکیات تک کو خاص اپنا پیدا کیا ہوا ثابت کرکے اور تمام عالم میں اپنا ہی تصرف و قبضہ کرکے ان بیوقوف مشرکوں پر طعن وتشنیع کرتا ہے جنہوں نے جنوں کو یا اور شخصوں کو اس کا شریک بنایا تھا یا اب بھی بناتے ہیں۔
عرب کے بعض فرقے ان چیزوں کو جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں ملائکہ اور ارواح خبیثہ یا خاص جنوں کو (چونکہ یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے ان سب پر لفظ جن کا اطلاق ہوتا ہے) پوجتے اور ان کے نام کی بوقت…
Read the full tafseer →تمہید
گزشتہ رکوع میں اللہ کے خالق کائنات ہونے اور اس کی وحدانیت پر دلائل آفاق اور دلائل انفس ہم نے پڑھے جن کی روشنی میں اللہ کو اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لا شریک ثابت کیا گیا اور اس قدر آسان انداز میں یہ دلائل دیئے گئے کہ معمولی عقل کا آدمی بھی اللہ کی وحدانیت میں شک وشبہ کا شکار نہیں ہوسکتا۔ بایں ہمہ ! مشرکین عرب کی کوتاہ فکری اور خست نظر کا عالم یہ تھا کہ اتنے واضح اور مضبوط دلائل سن کر بھی انھوں نے اللہ کی مخلوقات میں سے ایک غیر مرئی مخلوق جس کی طرف کوئی بہت قابل تعریف اعمال بھی منسوب نہیں کیے جاتے کو اللہ کا شریک بنا ڈالا اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیوں کے قائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فہم القرآن
ربط کلام : توحید کے دلائل دیتے ہوئے مشرکوں کے عقیدہ کی بےثباتی ثابت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک قرار دیا ہے۔
آیت 95 تا 99 میں نباتات، آفاق، انسان کی پیدائش اور اس کی عارضی اور مستقل قیام گاہ کا حوالہ دے کر۔ غور وفکر کی کی دعوت دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بلا شرکت غیرے ایمان لانے کی تلقین کی گئی ہے۔ لیکن شرک ایسا مہلک مرض ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ماؤف ہوجاتی ہیں جس کی بنا پر کسی شہادت اور دلیل کے بغیر لوگ جنات، ملائکہ، شمس وقمر، نباتات و جمادات یہاں تک کہ اپنے جیسے بلکہ اپنے سے بھی کم تر انسانوں، دیوانوں، مجذوبوں…
Read the full tafseer →اجسام کو بلا نمو نہ وجود دینے والا :
آیت 101 : بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کہا جاتا ہے بدع الشیٔ فہو بدیع۔ یہ اضافت صفت مشبہ الی فاعلہا کی قسم سے ہے یعنی وہ اپنے آسمانوں و زمین کو نوایجاد کرنے والا ہے دوسرا معنی بدیع بمعنی مبدع یعنی اس کا نو ایجاد کرنے والا ہے۔ : مبتداء محذوف کی خبر ہے یا مبتداء ہے اور اس کی خبرانی یکون لہ ولد ہے یا تعالیٰ کا فاعل ہے۔ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌیہ مبتدأ کی خبر ہے۔ وَلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌیعنی کہاں سے اس کے ہاں بیٹا ہوگا۔ ولد تو بیوی سے ہوتا ہے حالانکہ اس کی تو بیوی ہی نہیں۔ یعنی ولادت اجسام کی صفات سے ہے اور اجسام کو بلانمونہ ایجاد کرنے والا جسم…
Read the full tafseer →101 (بدیع السموت والارض) ان دونوں کو بغیر کسی مثال کے پیدا کیا۔ (اتی یکون لہ ولد) اور وہ کیسے اس کے لئے اولاد کو منتخب کرتے ہیں۔ (ولم تکن لہ صاحبۃ) حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔ (وخلق کل شیء و ھو بکل شیء علیم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(101 ۔ 102) ۔ اللہ تعالیٰ نے پانی قدرت کے ایک اور نمونہ کا یہ ذکر فرمایا کہ جس طرح دنیا میں لوگ کسی چیز کا نمونہ دیکھ کر اس کے موافق کوئی چیز بنالیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اس طرح نہیں پیدا کیا بلکہ اس قادر مطلق نے بغیر کسی نمونے اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان زمین کو نیست سے ہمت کیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاض ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ آسمان و زمین کو اس طرح نہیں پیدا کیا بلکہ اس قادر مطلق نے بغیر کسی نمونے اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان زمین کو نیست سے ہمت کیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاض ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
آیت 100
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
194 خالق سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب دلائل قدرت کے باوجود ان لوگوں نے اللہ کا شریک بنادیا جنوں کو حالانکہ اسی وحدہ لا شریک نے پیدا فرمایا ان سب کو۔ سو جب ان سب کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس کے سوا کسی کو بھی اسکا شریک وسہیم جاننا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کائنات کی تو ایک ایک چیز حضرت خالق ۔ جَلَّ مَجْدہٗ ۔ کی وحدانیت ویکتائی کی شہادت فراہم کر رہی ہے لیکن ان لوگوں کی خردباختگی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
کائنات سے اللہ کی پہچان کہ وہ اکیلا ہے
تشریح : پہلے آخرت کا ذکر کردیا گیا ہے اور اب اللہ رب العزت کے تخلیقات کے کرشمے بیان کیے جا رہے ہیں جو اللہ کے واحد، بلندو برتر، حکیم وعلیم ہونے کا ثبوت ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ کے انعامات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح اللہ اپنی قدرت سے اپنا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے مثلاً گٹھلی سے درخت کا بننا، مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کا نکلنا۔ سورج، چاند کا نظام، ستاروں سے راستہ معلوم کرنا، سمندر اور زمین کے بیشمار فائدے، انسان کا سیدنا آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہونا اور پھر انسان کی پرورش کے لیے ہر قسم کی اجناس پھول، پھل کا پیدا کرنا، یہ سب کچھ کیا ہے ؟ یہ ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
رکوع نمبر 16 ۔ آیات نمبر 96 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
کفار و مشرکین کے عقاید باطلہ کے لیے دلائل عقلی پر بحث فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ کارگہ حیات میں جو گرمی حیات ہے ذرا اس پر غور کرو اور یہ دیکھو کہ کونسی ایسی عظیم طاقت ہے جو گٹھلی سے درخت نکال کر کھڑا کردیتی ہے کو ن ہے جو دانے سے ہری بھری کھیتیاں پیدا فرماتا ہے یقیناً اللہ ہی واحد ذات ہے ورنہ مخلوق تو خود پیدا ہوتی ہے جب یہ نہ تھے جنہیں تم اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو تو بھی گٹھلی اور دانہ تو اگتے تھے بلکہ عالم حیوانات میں توالد و تناسل کا نظام خود دعوت فکر دے رہا ہے کہ نطفے یا انڈے سے زندہ بچہ اور زندہ جانور سے نطفہ یا انڈہ مزید جاندار کو پیدا…
Read the full tafseer →ف 9 یعن ان کا پہلے کوئی نمونہ موجود نہ تھا اس نے ان کو ایجاد فرمایا مشرکین کی تردید کے بعد ان کی تردید کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اولاد مانتے تھے۔ (رازی)10 اور بیٹا وہی ہوتا ہے جو بیوی کو ذریعے پیدا ہو اور اگر کسی کو بیوی کے بغیر بنایا جائے تو وہ مخلوق ہوتا ہے نہ بیٹا جیسا کہ آسمان زمین کی پیدائش یا آدم ( علیہ السلام) کی خلق (رازی )
Read the full tafseer →(6:101) بدیع۔ الابداع۔ کسی کی تقلید اور اقتداء کے بغیر کسی چیز کو ایجاد کرنا۔ اسی سے نئے کھودے ہوئے کنویں کو وکیۃ بدیع کہتے ہیں۔ جب ابداع کا لفظ اللہ عزوجل کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں بغیر آلہ۔ بغیر مادہ اور بغیر زمان و مکان کے کسی شے کو ایجاد کرنا اور یہ معنی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے مختص ہیں۔ بدیع بمعنی مبدع یعنی اس چیز کا پیدا کرنے والا جس کی سابق میں کوئی مثال نہ ہو اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
انی۔ کس طرح، کیونکر، کیسے، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا (2:259) اللہ تعالیٰ ان بستیوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 102 :
نبات (سرسبزی۔ نباتات) خضرا (سبز چیز) متراکب ( تہہ درتہہ۔ ایک پر ایک چڑھا ہوا) النخل (کھجور) طلع (گچھا۔ گابھا) قنوان (خوشے) دانیۃ ( نیچے جھکے ہوئے) اعناب (عنب) انگور۔ الرمان ( انار) مشتبہ ( ایک دوسرے سے ملتے جلتے) ثمر ( پھل۔ نتیجہ) ینعہ ( اس کا پکنا) ‘ خرقوا (انہوں نے گھڑ رکھے ہیں) بنین ( ابن) ۔ بیٹے ( بنت) (بنت) بیٹیاں ‘ سبحانہ ( اس کی ذات پاک ہے۔ وہ بےعیب ہے) یصفون ( وہ بیان کرتے ہیں) بدیع ( نیا نکالنے والا۔ پیدا کرنے والا) ولد (بیٹا) صاحبۃ (بیوی) ذلکم (یہی۔ ان ہی میں) خالق ( پیدا کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 102 :
مختلف زاویوں سے ان آیات کے مطالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
توحید و مشرکین کے بتوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایک اور نمونہ کا ذکر فرمایا کہ جس طرح دنیا میں لوگ کسی چیز کا نمونہ دیکھ کر اس کے موافق کوئی چیز بنا لیا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اس طرح پیدا نہیں کیا بلکہ بغیر کسی نمونہ اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان و زمین کو نیست سے ہست کیا، اور پانی، عرش، لوح محفوظ، قلم ان چیزوں کی پیدائش سے پہلے ہے۔ اس سلسلہ سے پہلے سوائے اس کی ذات کے اور کچھ نہ تھا، پھر ان نیست سے ہست ہونے والی چیزوں کو نہ اس کی ذات کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس نامناسبتی کے سبب سے کسی کو اس کی بی بی یا اولاد کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ جس نے سب کچھ پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–105
[38] چناچہ یہی ہوا کہ اُمّی کی زبان سے بلند پایہ علوم، معارف و حقائق کو فصیح وبلیغ پیرایہ بیان میں سن کر ظالموں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یقینا یہ مضامین عالی آپ نے کسی نصرانی یا یہودی سے پڑھ کر یاد کر لئے ہیں۔ اور جاہلیت کے انہی لال بجھکڑوں کی نقل بڑے بڑے مستشرقین کر کے قرآن مجید کی اس پیش خبری کی مزید توثیق کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(ف 2) مکہ کے مشرک جنات سے ڈرتے تھے اور انہیں براہ راست متصرف خیال کرتے تھے ، نیز فرشتوں کے متعلق کہتے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں عیسائیوں کا عقیدہ مشہور ہے ، وہ مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ بےعلمی کی باتیں ہیں ، خدا ان باتوں سے بالا وبلند ہے ،
جب اس کے کوئی بیوی ہی موجود نہیں تو بیٹا کیا ہوگا ۔
حل لغات :
خرقوا : مادہ خرق ، یعنی چھیلنا ، یا تراش لینا ، مقصد یہ ہے کہ یہ عقیدہ از خود بنا لیا گیا ہے ، نبوت موجود نہیں ، بنات : لڑکیاں ۔
Read the full tafseer →-101 وہی آسمانوں اور زمین کا موجد اور ان کا ایجاد کرنے والا ہے اس کے لئے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے حالانکہ اس کی کوئی بیوی اور زوجہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
ف 3۔ جیسے نصاری حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور بعض یہود عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔
Read the full tafseer →وہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ، اس کی اولاد کیسے ممکن ہے جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں :
154: بدیع وہ ہے جو بغیر کسی نمونہ اور بغیر کسی میٹریل کے کسی چیز کو پیدا کر دے اس لئے وہ صرف اور صرف اللہ ہی ہے اور اللہ کے سوا کوئی بدیع نہیں ہو سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جو ادنیٰ واعلیٰ کے لحاظ سے بھی کسی انسان یا کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ ہرچیز کا وہ خود خالق ہے اور کوئی چیز بھی اس کی خالق نہیں۔ خالق و مخلوق کے ساتھ ایک اور صرف ایک رشتہ ہے اور وہ ہے بندگی کا رشتہ۔ فرزندی اور قرابت کوئی رشتہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان نہیں ہو سکتا۔ اس نے محض اپنی قدرت سے ہرچیز کو پیدا کردیا اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
Commentary
The contents of this verse present a unique concern for thematic order. It will be noticed that three kinds of universes have been mentioned here: The low, the high and the atmosphere - that is, what generates in what we know as the Biosphere. The description was initiated with the mention of that which is on the lower level because it is closer to us. Then, it was split in two parts. One part of the statement covered vegetation which grows on the land, plants and trees and gardens. The other part featured life forms as beasts, human beings and animals. The first part was given…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
67. Because of man's imaginativeness and superstitious disposition, he has often held other invisible beings to be associated with God in His governance of the universe and in making and marring man's destiny. For example, the deity of rain, and the deity of vegetation, the god of wealth and the god of health, and so on. Such beliefs are found among all the polytheistic nations of the world.
68. The ignorant Arabs considered angels to be the daughters of God. In the same way, other polytheistic nations wove a network of bloodrelationships with God, producing thereby a whole crop of gods and…
Read the full tafseer →