Explained with ayahs 102–103
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ
جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو۔ اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جو کہے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
سورة الْاَنْعَام 67
یعنی اپنے وہم و گمان سے یہ ٹھہرا لیا کہ کائنات کے انتظام میں اور انسان کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں اللہ کے ساتھ دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہیں، کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی روئیدگی کا، کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی بیماری کی، وغیر ذالک مِن الخرافات۔ اس قسم کے لغو اعتقادات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں ارواح اور شیاطین اور راکشسوں اور دیوتاؤں اور دیویوں کے متعلق پائے جاتے رہے ہیں۔
سورة الْاَنْعَام 68
جہلائے عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اسی طرح دنیا کی دوسری مشرک قوموں نے بھی خدا سے سلسلہ نسب چلایا ہے اور پھر دیوتاؤں اور دیویوں کی ایک پوری نسل اپنے وہم سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
خلاصہ تفسیر
اور وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے آسمان (کی طرف) سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس (ایک ہی پانی) کے ذریعہ سے ہر قسم کے (رنگ برنگ) نباتات کو (زمین سے) نکالا (ایک ہی پانی ایک ہی مٹی سے اتنی مختلف قسم کی نباتات جن کے رنگ و بو، ذائقہ، فوائد بےحد مختلف ہیں، کس قدر عجیب کرشمہ قدرت ہے) پھر ہم نے اس (کونپل) سے (جو اول زمین سے نکلتی ہے، جس کو بعض مقامات میں سوئی یا کھونٹی کہتے ہیں اور رنگ میں زرد ہوتی ہے) سبز شاخ نکالی کہ اس (شاخ) سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں (یہ تو غلوں کی کیفیت ہے، جس کا ذکر اجمالاً فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى میں آچکا اور کھجور کے درختوں سے) یعنی ان کے گچھّے میں سے…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الایہ : فرمایا کہ وہی خدا جس نے تمہیں پیدا کیا ہے وہی تمہارا رب بھی ہے پھر اس کا کیا تک ہے کہ خالق تو اس کو مانو اور رب دوسروں کو بناؤ، وہی خالق ہے تو اسی کی بندگی کرو، اور وہ ہر چیز پر نگران ہے تو امید ہو یا بیم دونوں کو مرجع اسی کو بناؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
11۔ 1 یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے میں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اس طرح وہ اس لائق ہے اس اکیلے کی عبادت کی جائے، عبادت میں کسی اور کو شریک نہ بنایا جائے۔ لیکن لوگوں نے اس ذات واحد کو چھوڑ کر جنوں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے، حالانکہ وہ خود اللہ کے پیدا کردہ ہیں مشرکین عبادت تو بتوں کی یا قبروں میں مدفون اشخاص کی کرتے ہیں لیکن یہاں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک بنایا ہوا ہے، بات دراصل یہ ہے کہ جنات سے مراد شیاطین کے کہنے سے ہی شرک کیا جاتا ہے اس لئے گویا شیطان ہی کی عبادت کی جاتی ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں متعدد
جگہ بیان کیا گیا ہے مثلاً سورة نساء۔ 117…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
39: جنات سے مراد شیطان ہے اور یہ ان لوگوں کے باطل عقیدے کی طرف اشارہ ہے جو یہ کہتے تھے کہ تمام مفید مخلوقات تو اللہ نے پیدا کی ہیں مگر درندے سانپ بچھو اور دوسرے موذی جانور بلکہ تمام بری چیزیں شیطان نے پیدا کی ہیں اور وہی ان کا خالق ہے، ان لوگوں نے بظاہر ان بری چیزوں کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے پرہیز کیا ؛ لیکن اتنا نہ سمجھ سکے کہ شیطان خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہ سب سے بری مخلوق ہے، اگر بری چیزیں شیطان کی پیدا کی ہوئی ہیں خود اس بری مخلوق کو کس نے پیدا کیا اس کے علاوہ جو چیزیں ہمیں بری نظر آتی ہیں ان کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں اور ان کی تخلیق کو برا…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 02 ا۔
جب یہ بات تسلیم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ ہی خالق ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہی بادشاہ اور مالک ہے ۔ اور جب اللہ ہی خالق اور مالک ہے تو لازما وہی رازق ہے اس لئے کہ جب وہ خالق ہے اور مالک ہے تو رزق اسی کی ذمہ داری ہے اور یہ رزق وہ اپنی مملکت سے دیتا ہے جس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ۔ اللہ کی مملکت میں جو کچھ بھی ہے یا جس چیز سے بھی انسان فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تمام چیز میں اللہ کی مملوکہ ہیں اور جب تخلیق ‘ ملکیت اور رزق اللہ کا ہے تو یہ بات حتما ثابت ہوجاتی ہے کہ رب بھی وہی ہے ۔ لہذا یہ ہر انسان کا فرض ہوگا کہ وہ خصائص ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ…
Read the full tafseer →11 اس کی عبادت اس لئے کرنی چاہیے کہ مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے وہ ذاتی طور پر استحقاق معبود بننے کا رکھتا ہے اور اس لئے بھی کہ تمام مخلوق کی کارسازی اسی کے ہاتھ میں ہے۔
Read the full tafseer →آیت 102 ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ ج
یہ انداز خطاب سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مشرکین مکہ اور اہل عرب اللہ کے منکر نہیں تھے۔ وہ اللہ کو مانتے تو تھے لیکن اللہ کی صفات ‘ اس کی قدرت ‘ اس کی عظمت کے بارے میں ان کا ذہن کچھ محدود تھا۔ اس لیے یہاں یہ انداز اختیار کیا گیا ہے کہ دیکھو جس اللہ کو تم مانتے ہو وہی تو تمہارا رب اور پروردگار ہے۔ وہ اللہ بہت بلند شان والا ہے۔ تم نے اس کی اصل حقیقت کو نہیں پہچانا۔ تم نے اس کو کوئی ایسی شخصیت سمجھ لیا ہے جس کے اوپر کوئی دباؤ ڈال کر بھی اپنی بات منوائی جاسکتی ہے۔ تم فرشتوں کو اس کی بیٹیاں سمجھتے ہو۔ تمہارے خیال میں یہ جس کی سفارش کریں گے اس کو بخش دیا جائے گا۔ اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
104 اس نے زمین و آسمان کو بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی سابقہ نقشہ یا نظیر کے وجود بخشا۔ اس سے مادہ پرستوں کا رد ہوا۔ اور چونکہ اس کی بیوی ہی نہیں لہذا اللہ کا کوئی بیٹا اور بیٹی بھی نہیں ہوسکتے۔ اس سے یہود و نصاریٰ اور مشرکین سب کا رد ہوا۔ یہود عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے اور نصاریٰ سیدنا عیسیٰ کو اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور دوسرے ممالک کے مشرکوں نے تو اس قدر اللہ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے جن کا شمار بھی مشکل ہے۔ انہوں نے تو ایسے دیوی دیوتاؤں کی پوری نسل ہی چلا دی۔ حالانکہ یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں۔
Read the full tafseer →150 ۔ سورشتہ عبدیت اس کے سوا کسی سے بھی جو ڑنا درست نہیں، آیت میں حق تعالیٰ کی ذات وصفات کی یکتائی کا اثبات ہے، وہ اپنی ذات وصفات کی یکتائی کا اثبات ہے، وہ اپنی ذات سے منفرد ہے۔ اور خالق و کارساز بھی ہر شے کا وہی ایک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آیت نمبر 101 تا 110
ترجمہ : وہ آسمانوں اور زمینوں کو سابقہ نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے اس کی بیوی تو ہے نہیں اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے اور وہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے لہٰذا اتنہا اسی کی بندگی کرو وہ ہر شئ کا محافظ ہے آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں یعنی اس کو انہین دیکھ سکتیں، اور عدم رویت سے آخرت میں مومنین کی رویت مستثنیٰ ہے، اللہ تعالیٰ کے قول ” وجودٌ یومئذً ناضِرَۃ الی ربِّھا ناظرۃ “ اور شیخین کی حدیث کی وجہ سے ” کہ تم عنقریب اپنے رب کو…
Read the full tafseer →ذلکم اللہ ربکم لا الہ الا ہو خالق کل شی یہ ہے اللہ تمہارا رب۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے یہ سب پیہم خبریں ہیں یا بعض خبریں اور بعض بدل یا صفت۔
فاعبدوہ لہٰذا اس کی عبادت کرو۔ فاء سببیہ ہے (یعنی سابق کلام عبادت کی علت ہے) مطلب یہ کہ اوصاف مذکورہ کا حامل صرف اللہ ہے لہٰذا وہ ہی معبود ہونے کا مستحق ہے کسی اور کو استحقاق عبادت نہیں۔
وہو علی کل شی وکیل اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔ یعنی ہر چیز کی نگرانی اور نظم کا ذمہ دار ہے مطلب یہ کہ وہ تمہارے سب کاموں کا ذمہ دار اور تمہارے مال کا نگراں ہے پس اپنے سارے کام اسی کے سپرد کرو اور عبادت کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بناؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(101۔ 102) وہ ذات تو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والی ہے، اللہ کے اولاد کہاں ہوسکتی ہے، حالانکہ کہ اس کے کوئی بی بی تو ہے نہیں، تمہارا پروردگار یہ ہے جو ان تمام چیزوں کا خالق ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔
اسی کی توحید بیان کرو، اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک مت ٹھہراؤ وہ تمام مخلوق کا کارساز ہے یا یہ کہ ان کی روزیوں کا کار ساز ہے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۚ۔۔ : یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرو اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے یقین رکھو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ہر چیز کا خالق، حفیظ اور رقیب ہے۔ (ترجمان)
Read the full tafseer →آیت نمبر 102
قولہ تعالیٰ : آیت : ذلکم اللہ ربکم لا الہ الا ھو، ذلکم یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے۔ اور اللہ ربکم بدل ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ آیت : خالق کل شیء یہ مبتدا کی خبر ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ربکم خبر ہو اور خالق دوسری خبر ہو، یا پھر اس کا مبتدا مضمر ہو، یعنی ھو خالق۔ کسائی اور فراء نے اس میں نصب کو جائز قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلوا للہ شرکاء الجن وخلقھم انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنا دیا حالانکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا فرمایا لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت بغیر علم یعنی انہوں نے اللہ کے لئے جھوٹ گھڑے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں بنا لیں۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت یعنی انہوں نے ان کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا دیں۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا یعنی انہوں نے جھوٹ بولا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [ یہ اللہ ] رَبُّكُمْ ۚ [ تم لوگوں کا رب ہے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] هُوَ ۚ [ وہ (ہی ) ] خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [ جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ] فَاعْبُدُوْهُ ۚ [ پس تو لوگ بندگی کرو اس کی ] وَهُوَ [ اور وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] وَّكِيْلٌ [ کارساز ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْہُ ) (یہ اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہر چیز کا پیدا فرمانے والا ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرو) ان صفات جلیلہ سے جو ذات متصف ہو وہی لائق عبادت ہے۔ مخلوق میں نہ شان ربوبیت ہے نہ شان خالقیت ہے پھر وہ کیسے شریک الوہیت ہوسکتے ہیں۔
(وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَّکِیْلٌ) (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان ہے) تمام چیزوں میں جیسے چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ تصرف فرمانے کا اس کو پورا پورا اختیار ہے۔ پھر یہ مخلوق کیسے عبادت کی مستحق ہوسکتی ہے ؟ جو ہر چیز کا خلاق ہے اور ہر چیز میں تصرف فرمانے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
ابطال عقیدہ ابنیت
قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر
(ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم…
Read the full tafseer →109 دلیل اور جواب شکوی کے بعد ثمرہ ذکر فرمایا یعنی جب کارساز اور غیب دان کے صرف اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں تو صرف اسی کو پکارو پہلے چار دلائل عقلیہ کے بعد ان کا ثمرہ ذکر کیا گیا۔ پھر دلیل عقلی کے بعد دوسرا ثمرہ بیان کیا گیا۔ اب یہاں گیارہویں عقلی دلیل کے بعد تیسری بار دلائل کا ثمرہ بیان کیا گیا ہے۔ دلائل کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ ان کے بعد ذہن خود بخود ان نتائج کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کی عقلی دلائل بیان کیے۔ اگر انسان اپنی عقل کو بروئے کار لائے اور غور وفکر کرے تو اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بھی کیا کہ دیکھو انہوں نے اللہ کے لیے شریک بنا رکھے ہیں ، کسی نے جنات کو خدا کا شریک بنا لیا ہے ، کوئی اللہ کی اولاد کا عقیدہ رکھتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کی ذات اس کی طرف منسوب کی جانے والی ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر اللہ نے تو حید ہی کے اثبات میں اپنی بعض صفات کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں نزول بارش اور اس سے پیدا ہونے کی تردید بھی کی جا چکی ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ 0ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْہُ 0ۚ وَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ 102
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
إله
جعلوه اسما لکل معبود لهم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
ترکیب : الجن جعلوا کا مفعول اول شرکاء مفعول ثانی ‘ للّٰہ شرکاء سے متعلق ہے۔ بغیر علم فاعل خرقوا سے حال ہے۔ بدیع السموات خبر ہے مبتداء محذوف کی ذلکم مبتداء اللّٰہ خبر۔
تفسیر : تمام عالم نباتات سے لے کر فلکیات تک کو خاص اپنا پیدا کیا ہوا ثابت کرکے اور تمام عالم میں اپنا ہی تصرف و قبضہ کرکے ان بیوقوف مشرکوں پر طعن وتشنیع کرتا ہے جنہوں نے جنوں کو یا اور شخصوں کو اس کا شریک بنایا تھا یا اب بھی بناتے ہیں۔
عرب کے بعض فرقے ان چیزوں کو جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں ملائکہ اور ارواح خبیثہ یا خاص جنوں کو (چونکہ یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے ان سب پر لفظ جن کا اطلاق ہوتا ہے) پوجتے اور ان کے نام کی بوقت…
Read the full tafseer →ذٰلِکْمُ اللہ ُ رَبُّکُمْ ج لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ج خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ فَاعْبُدُوْہٗ ج وَھُوَ عَلٰی کُلِ شَیْئٍ وَّکِیْلُٗ ۔ (الانعام : 102)
(وہی اللہ تمہارا رب ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ وہی ہر چیز کا خالق ہے تو اس کی بندگی کرو اور وہی ہر چیز پر نگران ہے)
اللہ ہی تمہارا رب ہے
یہی اللہ جسے تم خالق کائنات جانتے ہو وہی تمہارا رب بھی ہے لیکن تمہیں نجانے یہ کیوں غلطی لگی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا رب بھی ہوسکتا ہے۔ ہر دور کی جاہلیت میں رب ہر اس قوت کو سمجھا گیا ہے جس کے ہاتھ میں وسائل رزق ‘ وسائل معاش اور وسائل اختیار ہوتے ہیں۔ جو تخت و تاج پر متمکن ہوتا ہے اور فوجوں کے بل بوتے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فہم القرآن
ربط کلام : توحید کے دلائل دیتے ہوئے مشرکوں کے عقیدہ کی بےثباتی ثابت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک قرار دیا ہے۔
آیت 95 تا 99 میں نباتات، آفاق، انسان کی پیدائش اور اس کی عارضی اور مستقل قیام گاہ کا حوالہ دے کر۔ غور وفکر کی کی دعوت دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بلا شرکت غیرے ایمان لانے کی تلقین کی گئی ہے۔ لیکن شرک ایسا مہلک مرض ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ماؤف ہوجاتی ہیں جس کی بنا پر کسی شہادت اور دلیل کے بغیر لوگ جنات، ملائکہ، شمس وقمر، نباتات و جمادات یہاں تک کہ اپنے جیسے بلکہ اپنے سے بھی کم تر انسانوں، دیوانوں، مجذوبوں…
Read the full tafseer →ان جامع صفات والا ہی معبود ہے :
آیت 102 : ذٰلِکُمُ یہ اشارہ ما قبل مذکور کی طرف ہے۔ یہ مبتداء ہے اور اس کے مابعد اخبار مترادفہ ہیں۔ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ اور فَاعْبُدُوْہُیہ مضمون جملہ کا مسبب ہے۔ یعنی جس میں یہ تمام صفات جمع ہوں وہی عبادت کے لائق ہے۔ پس تم اس ہی کی عبادت کرو اور اس کے علاوہ اس کی بعض مخلوق کی عبادت مت کرو۔ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌیعنی وہ ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ اشیاء کے ارزاق ٗ ٰاجال کا مالک اور اعمال کا نگہبان ہے۔
Read the full tafseer →(102) ذلکم اللہ ربکم لا الہ الا ھو خالق کل شیء فاعبدوہ) یعنی اس کی اطاعت کرو (وھو علی کل شیء وکیل) اس کی حفاظت اور تدبیر کر کے ۔ (لاتدر کہ الابصار وھو یدرک الابصار) ۔
رویت باری تعالیٰ کا ثبوت اور معتزلہ کی تردید
ان جیسی آیات کے ظاہر سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں۔
اور اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ” رئویت عیانا “ ثابت ہے۔
خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (کلا انھم عن ربھم یومئذ لمعجوبون)
امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(101 ۔ 102) ۔ اللہ تعالیٰ نے پانی قدرت کے ایک اور نمونہ کا یہ ذکر فرمایا کہ جس طرح دنیا میں لوگ کسی چیز کا نمونہ دیکھ کر اس کے موافق کوئی چیز بنالیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اس طرح نہیں پیدا کیا بلکہ اس قادر مطلق نے بغیر کسی نمونے اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان زمین کو نیست سے ہمت کیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر وبن العاض ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ آسمان و زمین کو اس طرح نہیں پیدا کیا بلکہ اس قادر مطلق نے بغیر کسی نمونے اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان زمین کو نیست سے ہمت کیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاض ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
آیت 100
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →197 اللہ کی پہچان اس کی صفات کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہے اللہ رب تم سب کا۔ یعنی جس کی یہ اور یہ صفات بیان ہوئیں۔ اور جب ان میں سے کسی بھی صفت اور شان میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں اور اس کی صفت حاجت روائی و مشکل کشائی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ پاک کی معرفت سے سرشار و سرفراز ہونے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ کائنات کی اس کھلی کتاب میں پھیلی بکھری اس کی قدرت کی عظیم الشان نشانیوں اور اس کے مظاہر اور ان میں جھلکنے والی اس کی صفات میں غور و فکر سے کام لیا جائے کہ وہ معبود برحق وہی ہے جس نے اس حکمتوں بھری کائنات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
کائنات سے اللہ کی پہچان کہ وہ اکیلا ہے
تشریح : پہلے آخرت کا ذکر کردیا گیا ہے اور اب اللہ رب العزت کے تخلیقات کے کرشمے بیان کیے جا رہے ہیں جو اللہ کے واحد، بلندو برتر، حکیم وعلیم ہونے کا ثبوت ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ کے انعامات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح اللہ اپنی قدرت سے اپنا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے مثلاً گٹھلی سے درخت کا بننا، مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کا نکلنا۔ سورج، چاند کا نظام، ستاروں سے راستہ معلوم کرنا، سمندر اور زمین کے بیشمار فائدے، انسان کا سیدنا آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہونا اور پھر انسان کی پرورش کے لیے ہر قسم کی اجناس پھول، پھل کا پیدا کرنا، یہ سب کچھ کیا ہے ؟ یہ ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111:
اسرار و معارف :
وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرو اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے یقین رکھو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ہر چیز کا خالق حفیظ رقیب اور بڑارازق ہے (ترجمان )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
(6:102) وکیل۔ صفت مشبہ۔ وکل سے (ضرب) نگران، نگہبان ۔ کارساز ۔ ضامن ۔ گواہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
لغات القرآن : آیت نمبر 99 تا 102 :
نبات (سرسبزی۔ نباتات) خضرا (سبز چیز) متراکب ( تہہ درتہہ۔ ایک پر ایک چڑھا ہوا) النخل (کھجور) طلع (گچھا۔ گابھا) قنوان (خوشے) دانیۃ ( نیچے جھکے ہوئے) اعناب (عنب) انگور۔ الرمان ( انار) مشتبہ ( ایک دوسرے سے ملتے جلتے) ثمر ( پھل۔ نتیجہ) ینعہ ( اس کا پکنا) ‘ خرقوا (انہوں نے گھڑ رکھے ہیں) بنین ( ابن) ۔ بیٹے ( بنت) (بنت) بیٹیاں ‘ سبحانہ ( اس کی ذات پاک ہے۔ وہ بےعیب ہے) یصفون ( وہ بیان کرتے ہیں) بدیع ( نیا نکالنے والا۔ پیدا کرنے والا) ولد (بیٹا) صاحبۃ (بیوی) ذلکم (یہی۔ ان ہی میں) خالق ( پیدا کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 102 :
مختلف زاویوں سے ان آیات کے مطالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
توحید و مشرکین کے بتوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایک اور نمونہ کا ذکر فرمایا کہ جس طرح دنیا میں لوگ کسی چیز کا نمونہ دیکھ کر اس کے موافق کوئی چیز بنا لیا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو اس طرح پیدا نہیں کیا بلکہ بغیر کسی نمونہ اور مثال کے اپنی قدرت سے آسمان و زمین کو نیست سے ہست کیا، اور پانی، عرش، لوح محفوظ، قلم ان چیزوں کی پیدائش سے پہلے ہے۔ اس سلسلہ سے پہلے سوائے اس کی ذات کے اور کچھ نہ تھا، پھر ان نیست سے ہست ہونے والی چیزوں کو نہ اس کی ذات کے ساتھ کچھ مناسبت ہے نہ اس نامناسبتی کے سبب سے کسی کو اس کی بی بی یا اولاد کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ جس نے سب کچھ پیدا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–105
[38] چناچہ یہی ہوا کہ اُمّی کی زبان سے بلند پایہ علوم، معارف و حقائق کو فصیح وبلیغ پیرایہ بیان میں سن کر ظالموں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یقینا یہ مضامین عالی آپ نے کسی نصرانی یا یہودی سے پڑھ کر یاد کر لئے ہیں۔ اور جاہلیت کے انہی لال بجھکڑوں کی نقل بڑے بڑے مستشرقین کر کے قرآن مجید کی اس پیش خبری کی مزید توثیق کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(ف 2) مکہ کے مشرک جنات سے ڈرتے تھے اور انہیں براہ راست متصرف خیال کرتے تھے ، نیز فرشتوں کے متعلق کہتے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں عیسائیوں کا عقیدہ مشہور ہے ، وہ مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ بےعلمی کی باتیں ہیں ، خدا ان باتوں سے بالا وبلند ہے ،
جب اس کے کوئی بیوی ہی موجود نہیں تو بیٹا کیا ہوگا ۔
حل لغات :
خرقوا : مادہ خرق ، یعنی چھیلنا ، یا تراش لینا ، مقصد یہ ہے کہ یہ عقیدہ از خود بنا لیا گیا ہے ، نبوت موجود نہیں ، بنات : لڑکیاں ۔
Read the full tafseer →-102 لوگو ! یہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں وہی ہر چیز کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے لہٰذا تم معبود ان باطلہ کو چھوڑ کر صرف اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کا کار ساز اور ہر چیز پر نگراں اور نگہبان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ف 4۔ غرض خالق بھی وہی علیم بھی وہی۔ وکیل بھی وہی اور یہ سب امور مقتضی ہیں کہ معبود بھی وہی ہو۔
Read the full tafseer →اللہ ہی تمہارا پروردگار ہے اسکی بندہی تم پر لازم ہے :
155: دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر درخت اور پودے کی کو نپلیں نکالنے والا۔ زندہ کو مردہ ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا۔ رات کا پردہ چاک کر کے صبح نمودار کرنے والا۔ سورج اور چاند کو اپنی اپنی گردش پر قائم رکھنے والا۔ ستاروں کے ذریعہ سے تم کو راہ دکھانے والا۔ سارے انسانون کو اکیلی جنس و جان سے نشو ونما دینے والا۔ تمہارے لئے مستقر اور مستودع ٹھکانے مقرر کرنے والا۔ آسمانوں سے پانی برسانے والا۔ پھر اس پانی کے ذریعہ روئیدگی پیدا کرنے والا۔ کھیتوں کو بار آور کرنے والا۔ کھجوروں کے خوشوں کو لٹکانے والا۔ انگوروں کے گچھوں کو میٹھے رس سے بھرنے والا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
Commentary
The contents of this verse present a unique concern for thematic order. It will be noticed that three kinds of universes have been mentioned here: The low, the high and the atmosphere - that is, what generates in what we know as the Biosphere. The description was initiated with the mention of that which is on the lower level because it is closer to us. Then, it was split in two parts. One part of the statement covered vegetation which grows on the land, plants and trees and gardens. The other part featured life forms as beasts, human beings and animals. The first part was given…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
67. Because of man's imaginativeness and superstitious disposition, he has often held other invisible beings to be associated with God in His governance of the universe and in making and marring man's destiny. For example, the deity of rain, and the deity of vegetation, the god of wealth and the god of health, and so on. Such beliefs are found among all the polytheistic nations of the world.
68. The ignorant Arabs considered angels to be the daughters of God. In the same way, other polytheistic nations wove a network of bloodrelationships with God, producing thereby a whole crop of gods and…
Read the full tafseer →