Explained with ayahs 102–103
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ
جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو۔ اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جو کہے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
سورة الْاَنْعَام 67
یعنی اپنے وہم و گمان سے یہ ٹھہرا لیا کہ کائنات کے انتظام میں اور انسان کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں اللہ کے ساتھ دوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہیں، کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی روئیدگی کا، کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی بیماری کی، وغیر ذالک مِن الخرافات۔ اس قسم کے لغو اعتقادات دنیا کی تمام مشرک قوموں میں ارواح اور شیاطین اور راکشسوں اور دیوتاؤں اور دیویوں کے متعلق پائے جاتے رہے ہیں۔
سورة الْاَنْعَام 68
جہلائے عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اسی طرح دنیا کی دوسری مشرک قوموں نے بھی خدا سے سلسلہ نسب چلایا ہے اور پھر دیوتاؤں اور دیویوں کی ایک پوری نسل اپنے وہم سے پیدا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اس کے علیم ہونے کی اور اس میں منفرد ہونے کی یہ کیفیت ہے کہ) اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی (دنیا میں تو اس طرح کہ کوئی دیکھ ہی نہیں سکتا، جیسا کہ دلائل شرعیہ سے ثابت ہے، اور آخرت میں اس طرح کہ اہل جنت کو دیکھیں گے جیسا کہ یہ بھی دلائل شرعیہ سے ثابت ہے لیکن احاطہ محال رہے گا اور جس محسوس بالبصر کے ظاہر کا احاطہ احساس بصری سے محال ہو تو اس کی حقیقت باطنی کا کہ ظاہر کے مقابلہ میں بدرجہا خفی تر ہے، احاطہ کرنا عقل سے جو کہ احساس سے بدرجہا زیادہ محتمل خطا ہے بدرجہ اولیٰ محال ہوگا) اور وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب نگاہوں کو (جو کہ اس کے احاطہ سے عاجز تھیں وجوباً) محیط ہوجاتا ہے…
Read the full tafseer →لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ، یعنی اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ خدا نظر تو نہیں آتا تو یہ چیز مایوس ہونے کی نہیں، تمہاری نگاہیں تو بیشک اس کو پکڑنے سے قاصر ہیں لیکن وہ تمہاری نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ جو اسے دیکھنا چاہتا ہے وہ تو اگرچہ اس کو نہیں دیکھ پاتا لیکن وہ ڈھونڈنے والے کو دیکھ لیتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ واعبد ربک کا نک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک (اپنے رب کی بندگی اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ بہرحال تمہیں دیکھ رہا ہے)۔
خدا کے پیکر محسوس تراشنے کی ممانعت : یہ امر یہاں ملحوط رہے کہ شرک و بت پرستی کے محرکات میں سے ایک اہم…
Read the full tafseer →13۔ 1 ابصار بصر نگاہ کی جمع ہے۔ یعنی انسان کی آنکھیں اللہ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اور اگر اس سے مراد روئیت بصری ہو تو اس کا تعلق دنیا سے ہوگا۔ یعنی دنیا کی آنکھ سے کوئی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم یہ صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیدار سے مشرف ہونگے۔ اس لئے مسلمانوں کا ایک فرقہ کا اس آیت سے ثبوت و دلیل کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اللہ کو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا، دنیا میں نہ آخرت میں، صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس نفی کا تعلق صرف دنیا سے ہے۔ اسی لئے حضرت عائشہ بھی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتی ہیں، جس شخص نے بھی یہ دعویٰ کیا…
Read the full tafseer →41: یعنی اس کی ذات اتنی لطیف ہے کہ کوئی نگاہ اس کو نہیں پاسکتی اور وہ اتنا باخبر ہے کہ ہر نگاہ کو پالیتا ہے اور اس کے تمام حالات سے خوب واقف ہے اس جملے کی یہ تفسیر علامہ آلوسی ؒ نے متعدد مفسرین سے نقل کی ہے اور سیاق وسباق کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے یہاں یہ واضح رہے کہ لطافت بھی عام بول چال میں جسم ہی کی صفت ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے ؛ لیکن لطافت کا اعلی ترین درجہ وہ ہے جو جسمیت کے ہر شائبہ سے ماورا ہو، اللہ تعالیٰ کی ذات کو لطیف اس معنی میں کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 103۔
وہ لوگ جو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ اللہ کو دیکھ لیں ‘ وہ ایسے ہی ہیں جس طرح بعض دوسرے لوگ اپنی قبیح فطرت کی وجہ سے وجود باری پر مادی دلیل پیش کرتے ہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ درحقیقت سمجھتے ہی نہیں کہ وہ کہتے کیا ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی نظر ‘ انسان کے حواس ‘ اور انسان کا ذہنی ادراک یہ سب قوتیں اسے صرف اس لئے دی گئی ہیں کہ وہ اس کائنات کے ساتھ تعلق کی نسبت سے اپنے معاملات طے کرسکے اور اس کرہ ارض پر منصب خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرسکے اور اس مخلوق کائنات کے صفحات میں وجود باری پر دلالت کرنے والے آثار کی تلاش کرسکے ۔ رہی ذات باری کی حقیقت تو وہ اس طاقت…
Read the full tafseer →12 حضرت شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آنکھ میں یہ قوت نہیں کہ اس کو دیکھ لے ہاں وہ خود ازراہ لطف کرم اپنے کو دکھانا چاہے تو آنکھوں میں ویسی قوت بھی فرما دے گا۔ مثلا آخرت میں مومنین کو حسب مراتب رویت ہوگی جیسا کہ نصوص کتاب و سنت سے ثابت ہے یا بعض روایات کے موافق نبی کریم ﷺ کو لیلتہ الاسراء میں رویت ہوئی علی اختلاف الاقوال۔ باقی مواضع میں چونکہ کوئی نص موجود نہیں لہذا عام قاعدہ کی بناء پر نفی رویت ہی کا اعتقاد رکھا جائے گا۔ مفسرین سلف میں سے بعض نے ادراک کو احاطہ کے معانی میں لیا ہے یعنی نگاہیں کبھی اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ آخرت میں بھی رویت ہوگی احاطہ نہ ہوگا۔ ہاں اسکی شان یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →آیت 103 لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُز وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۔
وہ اس حد تک لطیف ہے ‘ اس قدر لطیف ہے کہ انسانی نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں۔ چناچہ اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ شب معراج میں کیا رسول اللہ ﷺ نے اللہ کو دیکھا یا نہیں دیکھا ؟ اس میں کچھ اختلاف ہے۔ حضرت علی رض کی رائے یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کو دیکھا تھا ‘ لیکن حضرت عمر اور حضرت عائشہ رض کی رائے ہے کہ نہیں دیکھا تھا۔ اس ضمن میں حضرت عائشہ رض کا قول ہے : نُورٌ اَنّٰی یُرٰی یعنی وہ تو نور ہے اسے دیکھا کیسے جائے گا ؟ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب کوہ طور پر استدعا کی تھی : رَبِّ اَرِنِیْٓ…
Read the full tafseer →105 ان تمام مذکورہ اشیاء کو پیدا کرنے والی ہستی ایسی ہے جسے انسان اپنی ان آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
کیا اس دنیا میں دیدار الہی ممکن ہے ؟ مسروق بن اجدع کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس بیٹھا تھا۔ انہوں نے مجھے (مخاطب کر کے) کہا : ابو عائشہ ؓ (مسروق کی کنیت) تین باتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی اگر کسی نے کہی تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ جس نے کہا کہ محمد ﷺ نے (شب معراج میں) اپنے پروردگار کو دیکھا اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ( لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ…
Read the full tafseer →151 ۔ وہ مشرکوں کے دیوتاؤں کی طرح ناقص القوی نہیں، اس کا علم ہر کلیہ وجزئیہ کو محیط ہے۔ (آیت) ” لا۔۔۔ الابصار “۔ یعنی وہ کسی کے بھی حواس ظاہری کی گرفت میں اس دنیا میں نہیں آسکتا۔ درآنحالیکہ اس کی گرفت علمی میں سب ہی ہیں۔ ادراک احاطہ وتحدید کے معنی میں ہے۔ اور آیت سے مقصود حق تعالیٰ کی تنزیہ حدوث سے ہے۔ بین سبحانہ انہ منزہ عن سمات الحدود وھنا لاادراک بمعنی الاحاطۃ والتحدید (قرطبی) قال الزجاج ای لایبلغ کنہ حقیقتہ (قرطبی) قال ابن عباس لاتدر کہ الابصار فی الدنیا ویراہ المومنون فی الاخرۃ (قرطبی) اعلم ان الادراک غیر الرؤیۃ لان الادراک ھو الوقوف علی کنہ الشیء والا حاطۃ بہ (معالم) (آیت) ” لا تدرکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
رؤیت باری کا مسئلہ : لاتدر کہ الابصار، اَبْصار، بصر کی جمع ہے، (نگاہ) انسان کی نظر کی رسائی خدا کی حقیقت اور کنہ تک نہیں ہوسکتی، اس رویت کی نفی سے مراد دنیا میں رویت بصری کی نفی ہے، صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے کہ روز قیامت ایمان والے اللہ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور جنت میں بھی دیدار باری تعالیٰ نصیب ہوا کرے گا، معتزلہ کا عقیدہ اس کے خلاف ہے وہ دیدار باری کے مطلقا منکر ہیں اور اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ اس کا تعلق دنیا سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار دنیا میں بہ چشم سر ممکن نہیں ہے، اسی لئے حضرت عائشہ بھی اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ نبی ﷺ…
Read the full tafseer →لا تدرکہ الابصار اس کو نگاہیں محیط نہیں ہوسکتیں۔ ابن ابی حاتم وغیرہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر جن و بشر اور شیاطین و ملائکہ سب آغاز آفرینش سے آخری لمحۂ حیات تک یک قطار ہو کر (اللہ کا معائنہ کریں تو) کبھی اللہ کا احاطہ نہیں کر پائیں گے۔ فرقۂ معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اللہ کا دیدار محال ہے اہل سنت قائل ہیں کہ دنیا میں اللہ کا دیدار نہیں ہوسکتا ‘ جنت کے اندر مؤمنوں کو نصیب ہوگا۔ آیت سے معتزلہ کا استدلال غلط ہے (1) لا تدرک مضارع کا صیغہ ہے اور صیغۂ مضارع کی حقیقی وضع حال کے لئے ہے) استقبال کے لئے استعمال مجازی ہے یا حال…
Read the full tafseer →(103) اس کو تو کسی کی نگاہ دنیا میں از روئے رؤیت اور آخرت میں بااعتبار کیفیت کے محیط نہیں ہوسکتی اور نگاہوں کی پرواز وہاں تک نہیں ہوسکتی اور وہ دنیا و آخرت میں سب نگاہوں کو محیط ہوجاتا ہے، اس پر مخلوق کی کوئی چیز بھی خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ مخفی نہیں، وہ اپنے افعال میں بڑا باریک بین ہے، اس کا علم اس کی مخلوقات پر نافذ ہے اور اپنی مخلوق اور ان کے اعمال سے بڑا باخبر ہے یہ اس کے وہ کمالات ہیں جو اس کے سوا کسی میں اس طرح نہیں۔
Read the full tafseer →لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ۔۔ : ”اَدْرَکَ یُدْرِکُ“ کا معنی کسی چیز کو پالینا ہے، اس لیے اس کا معنی دیکھنا بھی ہوسکتا ہے اور کسی چیز کی حقیقت کو پالینا بھی۔ ادراک کا معنی اگر آنکھوں سے دیکھنا ہو تو اس کے متعلق ام المومنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”جو تمہیں بیان کرے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے یقیناً جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی : (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ)۔۔ پھر فرمایا : ”لیکن آپ نے جبریل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں دو دفعہ دیکھا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، سورة والنجم : 4855 ] عبداللہ بن مسعود ؓ نے بھی فرمایا (سورة نجم میں مذکور آیات) (فَكَانَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 103
قولہ تعالیٰ آیت : لا تدرکہ الابصار اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ حدوث کی علامات سے منزہ اور پاک ہے، اور انہیں میں سے ایک ادراک ہے اس کا معنی احاطہ کرنا اور حدود قائم کرنا ہے، جیسا کہ تمام مخلوقات کا احاطہ کیا جاسکتا ہے، اوسر رؤیت ثابت ہے۔ زجاج نے کہا ہے : اس کی حقیقت کی کنہہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : ادرکت کذا و کذا ( میں نے فلاں فلاں کی حقیقت کو پہچان لیا) کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ سے قیامت کے دن رؤیت کے بارے میں صحیح احادیث ثابت ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : آیت : لا تدرکہ الابصار نظریں دنیا میں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور آخرت میں…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم، عقیلی، ابن عدی، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت لا تدرکہ الابصار کے بارے میں فرمایا کہ انسان جن شیاطین اور فرشتے جب سے پیدا کئے گئے ہیں ان کے فنا کئے جانے تک ان کی ایک ہی صف بنا دی جائے تو وہ کبھی اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکیں ذہبی نے کہا یہ حدیث منکر ہے۔
(2) امام ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم نے اور اس کی تصحیح بھی کی ہے ابن مردویہ اور لالکائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا عکرمہ ؓ نے کہا میں نے ان سے کہا کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ؟ لفظ آیت لا…
Read the full tafseer →لَا تُدْرِكُهُ [ نہیں پاتیں اس کو ] الْاَبْصَارُ ۡ [ آنکھیں ] وَهُوَ [ اور وہ ] يُدْرِكُ [ پالیتا ہے ] الْاَبْصَارَ ۚ [ آنکھوں کو ] وَهُوَ [ اور وہ ] اللَّطِيْفُ [ باریک بین ] الْخَبِيْرُ [ باخبر ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَ ھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَ ھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ) (آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرتیں وہ سب نگاہوں کو محیط ہے اور وہ لطیف ہے باخبر ہے) اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کی ایک خاص صفت بیان فرمائی اور وہ یہ کہ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا احاطہ فرماتا ہے اس صفت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں دنیا میں اس کو نہیں دیکھا جاسکتا اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیدار الٰہی کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے (لَنْ تَرَانِیْ ) فرما دیا۔ (کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکو گے) وہ نگاہوں کو بھی دیکھتا ہے اور نگاہیں جس چیز کو دیکھتی ہیں وہ ان کو بھی دیکھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
ابطال عقیدہ ابنیت
قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر
(ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم…
Read the full tafseer →110 یعنی دنیا میں انسانی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتیں۔ دنیا میں اس کی ذات محض اپنی صفات سے معلوم ہوتی ہے جو دلائل کے ضمن میں بیان ہوچکی ہیں۔ وَھُوَ اللَّطِیْفُ یہ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ سے متعلق ہے اَلْخَبِیْڑُ یہ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ سے متعلق ہے بطریق لف و نشر مرتب (وَھُوَ اللَّطِیْفُ ) ای العالم بدقائق الامور و مشکلاتہا (الخبیر) العلیم بظواھر الاشیاء و خفیا تھا وھو من قبیل اللف و النشر (مدارک ج 2 ص 21) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کی عقلی دلائل بیان کیے۔ اگر انسان اپنی عقل کو بروئے کار لائے اور غور وفکر کرے تو اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بھی کیا کہ دیکھو انہوں نے اللہ کے لیے شریک بنا رکھے ہیں ، کسی نے جنات کو خدا کا شریک بنا لیا ہے ، کوئی اللہ کی اولاد کا عقیدہ رکھتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کی ذات اس کی طرف منسوب کی جانے والی ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر اللہ نے تو حید ہی کے اثبات میں اپنی بعض صفات کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں نزول بارش اور اس سے پیدا ہونے کی تردید بھی کی جا چکی ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان…
Read the full tafseer →لَا تُدْرِكُہُ الْاَبْصَارُ 0ۡوَہُوَيُدْرِكُ الْاَبْصَارَ 0ۚ وَہُوَاللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ 103
درك
الدَّرْكُ کالدّرج، لکن الدّرج يقال اعتبارا بالصّعود، والدّرک اعتبارا بالحدور، ولهذا قيل : درجات الجنّة، ودَرَكَات النار، ولتصوّر الحدور في النار سمّيت هاوية، وقال تعالی: إِنَّ الْمُنافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [ النساء/ 145] ، والدّرك أقصی قعر البحر . ويقال للحبل الذي يوصل به حبل آخر ليدرک الماء دَرَكٌ ، ولما يلحق الإنسان من تبعة دَرَكٌ کالدّرک في البیع قال تعالی: لا تخافُ دَرَكاً وَلا تَخْشى [ طه/ 77] ، أي :
تبعة . وأَدْرَكَ : بلغ أقصی الشیء، وأَدْرَكَ الصّبيّ : بلغ غاية…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
ترکیب : الجن جعلوا کا مفعول اول شرکاء مفعول ثانی ‘ للّٰہ شرکاء سے متعلق ہے۔ بغیر علم فاعل خرقوا سے حال ہے۔ بدیع السموات خبر ہے مبتداء محذوف کی ذلکم مبتداء اللّٰہ خبر۔
تفسیر : تمام عالم نباتات سے لے کر فلکیات تک کو خاص اپنا پیدا کیا ہوا ثابت کرکے اور تمام عالم میں اپنا ہی تصرف و قبضہ کرکے ان بیوقوف مشرکوں پر طعن وتشنیع کرتا ہے جنہوں نے جنوں کو یا اور شخصوں کو اس کا شریک بنایا تھا یا اب بھی بناتے ہیں۔
عرب کے بعض فرقے ان چیزوں کو جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں ملائکہ اور ارواح خبیثہ یا خاص جنوں کو (چونکہ یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے ان سب پر لفظ جن کا اطلاق ہوتا ہے) پوجتے اور ان کے نام کی بوقت…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ ز وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ ج وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۔ (الانعام : 103)
(اس کو نگاہیں نہیں پاتیں لیکن وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ بڑا باریک بین اور بڑا باخبر ہے )
نگاہیں اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکتیں
ادراک کے دو معنی ہوتے ہیں ایک ہے دیکھنا ‘ دوسرا ہے احاطہ کرلینا۔ یعنی انسانی نگاہیں اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں کیونکہ انسانی نگاہوں میں وہ قوت نہیں جو اس کی ذات کا ادراک کرسکیں اور اس کے جمال اور جلال کا تحمل کرسکیں۔ ایک مخلوق اپنے خالق کے دیدارکا تحمل کر بھی کیسے سکتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جسے اللہ سے محبت نصیب ہوجاتی ہے وہ ہر محبت کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
فہم القرآن
ربط کلام : توحید کے بین اور ٹھوس دلائل دینے کے بعد وضاحت فرمائی گئی ہے کہ تم اپنے خالق کو بصیرت کی آنکھوں اور اس کی قدرت کے نشانات کے حوالے سے دیکھ سکتے ہو لیکن ظاہری آنکھ سے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔
اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت رکھنا مومن کے ایمان کی معراج ہے۔ جنت میں سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی زیارت اور خوشنودی ہوگی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے حجاب میں ہم کلامی کرتے ہوئے فرط محبت میں آکر مطالبہ کیا تھا۔ اے رب کریم میرا دل تیری زیارت کے لیے تڑپ رہا ہے اس لیے میری درخواست ہے کہ مجھے اپنی زیارت کے شرف سے سرفراز فرمائیں۔ اس کے جواب میں ارشاد ہوا۔ اے موسیٰ تو…
Read the full tafseer →معتزلہ کے بیجا استدلال اور اس کا جواب اور یہ کہ رئویت برحق ہے :
آیت 103 : لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں یا ان کی آنکھیں جن کا تذکرہ پہلے ہوا جنات و ملائکہ معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ دیدار محال ہے مگر ان کا یہ استدلال محض باطل ہے۔ کیونکہ نفی ادراک کی ہے رؤیت کی نہیں۔ ادراک کا معنی کسی چیز کی حقیقت پالینا۔ اور اس کو ہر طرف سے گھیر لینا۔ اور کامل طور پر کسی چیز کی تہ تک پہنچ جانا۔ اور جس کی حدود و جہات محال ہوں تو اس کا ادراک محال ہے نہ کہ رؤیت۔ پس ادراک رؤیت کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسا احاطہ بمقابلہ علم پس رؤیت بھی اس طرح ہے۔ کیونکہ وہ بھی علم کا…
Read the full tafseer →(103) (لاتدر کہ الابصار) ادراک کا معنی ہوتا ہے شے کی حقیقت پر مطلع ہونا اور اس کی حقیقت کا احاطہ کرنا اور رئویت کا معنی ہوتا ہے دیکھنا، مشاہدہ کرنا اور کبھی دیھکنا بغیر ادراک کے بھی ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بیان کیا (فلما تر ای الجمعان قال اصحاب موسیٰ انا لمدرکون) پس جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم پکڑے گئے) کہا ہرگز نہیں۔ (تخاف درکا ولا تخشی تو نہ خوف کر پکڑے جانے کا اور نہ ڈر) تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ادراک کی نفی کی ہے اور رئویت کو ثابت کیا ہے تو یہ بات ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندے بغیر…
Read the full tafseer →جن آیات متشابہت میں اہل سنت خارجی معتزلی اور مرجیہ فرقوں میں بڑی بحث ہے ان آیتوں میں کی یہ ایک آیت بھی ہے وہ فرقے س بات کے قائل ہیں کہ آخرت میں بھی خدا کا دیدار کسی کو نہیں ہوسکتا لیکن اہل سنت نے آیتوں اور حدیثوں سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اہل جنت میں ضرور خدا کا دیدار ہوگا ہاں دنیا کی آنکھوں سے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا آخرت کی بنائی آخرت کی قوت سب دنیا سے نرالی ہے اب رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ نے بھی دنیا کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یا نہیں اکثر سلف کا یہ قول ہے کہ آنحضرت نے اللہ تعالیٰ کو دنیا میں دو دفعہ فقط خواب میں دیکھا ہے زیادہ تفصیل اس کی سورة نجم میں آوے گی جس کا حاصل یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
آیت 100
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
رئویت باری تعالیٰ
قول باری ہے ( لا تدرکہ الابصارو ھو یدرک الابصار۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے) کہا جاتا ہے کہ ادراک کے اصل معنی لحقو یعنی پالینے اور جا لینے کے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً آپ کہتے ہیں ” ادرک زمان المنصور “ یا ” ادرک ابا حنیفۃ “ ( اس نے خلیفہ منصور کا زمانہ پایا تھا یا اس اس نے امام ابوحنیفہ کو پایا تھا) نیز ” ادرک الطعام “ یا ” ادرک الزرع و الثمرۃ “ ( طعام پک کر تیار ہونے کے مرحلے کو پہنچ گیا یا فصل پک گئی پھل پک گئے) اسی طرح کہا جاتا ہے ” ادرک الغلام “ ( لڑکا بالغ ہوگیا) یعنی بالغ مردوں کی حالت کو پہنچ گیا۔ آنکھوں کا کسی چیز کو ادراک کرلینے کے معنی ہیں کہ…
Read the full tafseer →199 نگاہیں اس وحدہ لاشریک کا احاطہ نہیں کرسکتیں : کہ یہ مخلوق اور محدود ہیں جبکہ وہ خالق اور لامحدود ہے۔ پس اس کے ادراک کی یہ نفی احاطہ کے اعتبار سے ہے۔ نیز یہ نفی دنیاوی زندگی کے اعتبار سے ہے ورنہ آخرت میں اس کی دیدو زیارت نہ صرف یہ کہ ممکن ہے اور اہل ایمان کو نصیب ہوگی بلکہ یہ جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہوگی ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا وَشَرَّفْنَا بِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ اور یہ مسئلہ نصوص کتاب و سنت سے ثابت ہے ۔ والتفصیل فی المطولات ۔ نیز اس ارشاد عالی سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ نگاہوں کا احاطہ و ادراک بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
کائنات سے اللہ کی پہچان کہ وہ اکیلا ہے
تشریح : پہلے آخرت کا ذکر کردیا گیا ہے اور اب اللہ رب العزت کے تخلیقات کے کرشمے بیان کیے جا رہے ہیں جو اللہ کے واحد، بلندو برتر، حکیم وعلیم ہونے کا ثبوت ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ کے انعامات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح اللہ اپنی قدرت سے اپنا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے مثلاً گٹھلی سے درخت کا بننا، مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کا نکلنا۔ سورج، چاند کا نظام، ستاروں سے راستہ معلوم کرنا، سمندر اور زمین کے بیشمار فائدے، انسان کا سیدنا آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہونا اور پھر انسان کی پرورش کے لیے ہر قسم کی اجناس پھول، پھل کا پیدا کرنا، یہ سب کچھ کیا ہے ؟ یہ ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111:
اسرار و معارف :
وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ف 1 یعنی آنکھ میں یہ قوت نہیں ہے کہ اس کو دیکھ لے مگر جو وہ آپ کو دکھادے اس واسطے کے لطیف ہے (مو ضح) متعدد احادیث میں ہے کہ قیامت کے دن مومنین کو اللہ تعالیٰ کو دیدار نصیب ہوگا، چناچہ یہ اہل سنت و حدیث کا متفقہ عقیدہ ہے بعض سلف نے لکھا ہے کہ ادراک کے معنی کسی چیز کی حقیقت کو پالینے کے ہیں اور رو یت کے معنی آنکھ سے دیکھنے کے پس ادراک اخص ہے اور رویت اعم اور اعم کے نفی سے اخص کی نفی لاز م نہیں آتی مطلب یہ ہے کہ آیت میں ادراک کی نفی ہے لہذا دنیا رویت ہوسکتی ہے جیسا کہ آخرت میں ہوگی حضرت عائشہ ؓ آنحضرت کے لیے رویت کی نفی کرتی تھیں اور ان کے استدلال کی بنیاد بھی اسی آیت پر تھی جو قرب الی الصواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
(6:102) وکیل۔ صفت مشبہ۔ وکل سے (ضرب) نگران، نگہبان ۔ کارساز ۔ ضامن ۔ گواہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
لغات القرآن : آیت نمبر 103 تا 104 :
لاتدرک ( نہیں پاسکتی) الابصار (آنکھیں) یدرک ( وہ پالیتا ہے) ‘ بصائر ( بصیرۃ) نشانیاں ‘ عمی ( جو اندھا بن گیا) حفیظ ( نگراں۔ نگہبان۔ دیکھ بھال کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 103 تا 104 :
تمام مخلوق کی نگاہیں مل کر ‘ تمام خوردبین اور دور بین مل کر بھی اگر کوشش کریں تب بھی وہ نظر نہیں آسکتا۔ ” اے برترازگمان و قیاس و خیال و وہم “۔ تمام آنکھوں کی مجموعی طاقتوں سے بھی وہ اتنا عظیم ہے ‘ یا اتنا مخفی ہے ‘ یا اتنا غیر مرئی ہے ‘ یا اتنا غیر محسوس ہے ‘ یا اتنا نزدیک یا دور ہے ‘ یا اتنا بلند ہے یا اتنا عمیق ہے کہ اس کو آنکھیں پا نہیں سکتیں۔ آنکھیں صرف ٹھوس یا سیال یا…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخرت میں نیک لوگ اللہ تعالیٰ کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح اب دنیا میں سورج اور چاند کو دیکھتے ہیں۔ ہاں دنیا کی آنکھوں سے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔ آخرت کی بینائی آخرت کی قوت سب دنیا سے نرالی ہے سوائے آنحضرت ﷺ کے کہ انہوں نے دنیا کی آنکھوں سے دیکھا، جس کی تفصیل سورة نجم میں آوے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–105
[38] چناچہ یہی ہوا کہ اُمّی کی زبان سے بلند پایہ علوم، معارف و حقائق کو فصیح وبلیغ پیرایہ بیان میں سن کر ظالموں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یقینا یہ مضامین عالی آپ نے کسی نصرانی یا یہودی سے پڑھ کر یاد کر لئے ہیں۔ اور جاہلیت کے انہی لال بجھکڑوں کی نقل بڑے بڑے مستشرقین کر کے قرآن مجید کی اس پیش خبری کی مزید توثیق کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →لا تدرکہ الابصار :
(ف 1) اسلام نے جو اللہ تعالیٰ کا تخیل پیش کیا ہے وہ نہایت بلند ہے ، اس میں تحیم اور تشکل کو قطعا دخل نہیں ، وہ کہتا ہے آنکھیں جن کی پہنچ ادیات میں سے سب سے زیادہ وسیع ہے اور ہمہ گیر ہے ، اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتیں ، ان میں وہ روشنی اور بینائی ہرگز موجود نہیں ہے ، جس سے رب السموت کا احاطہ کیا جاسکے ، مگر بایں عظمت وعلو ، وہ ہمارے حالات سے پوری طرح آگاہ ہے ، وہ باوجود مادیات سے الگ اور متعال ہونے کے ہماری باریک سے باریک حاجات کو بھی جانتا ہے ، اس لئے کہ لطیف ہے اس آیت سے قیامت میں عدم رؤیت کا ثبوت نہیں ملتا ، قرآن حکیم میں نص موجود ہے ، (آیت) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا…
Read the full tafseer →-103 مخلوق کی نگاہیں اس کی کنہ کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور مخلوق کی آنکھیں اس کا ادراک کرنے سے عاجز ہیں اور وہ سب کی نگاہوں کی کنہ اور ان کی حقیت کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کے علم نے سب کو گھیر رکھا ہے وہ بڑا باریک ہیں اور بڑا باخبر ہے ینی حضرت حق تعالیٰ کی مقدس ذات کی کنہ کا علم کسی آنکھ کو میسر نہیں آسکتا اور اس کا علم سب کی آنکھوں اور نگاہوں سے باخبر ہے اور اس کے علم ازلی نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ف 4۔ غرض خالق بھی وہی علیم بھی وہی۔ وکیل بھی وہی اور یہ سب امور مقتضی ہیں کہ معبود بھی وہی ہو۔
Read the full tafseer →اس کو نظریں نہیں گھیر سکتیں اور وہ ساری نظروں کو گھیرے ہوئے ہے :
156: یہ نگاہیں اس کی ذات کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ الادراک بمعنی الا حاطۃ والتحدید (قرطبی) ادراک کے معنی کسی چیز کو گھیر لینا ، اس کا احاطہ کرلینے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ احاطہ صرف اس چیز ہی کا کیا جاسکتا ہے جو محدود ہو اور کسی خاص سمت میں پائی جاتی ہو اور ذات الٰہ نہ محدود ہے اور نہ کسی خاص جہت میں موجود ہے اس لئے اس کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں۔ ذات الٰہ کے علاوہ دنیا کی ہرچیز خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو اس کا کوئی گوشہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط سے باہر نہیں ہو سکتا۔ اس چھوٹی سی آیت میں اللہ تعالیٰ کی دو مخصوص صفتوں کا بیان پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
Commentary
The contents of this verse present a unique concern for thematic order. It will be noticed that three kinds of universes have been mentioned here: The low, the high and the atmosphere - that is, what generates in what we know as the Biosphere. The description was initiated with the mention of that which is on the lower level because it is closer to us. Then, it was split in two parts. One part of the statement covered vegetation which grows on the land, plants and trees and gardens. The other part featured life forms as beasts, human beings and animals. The first part was given…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
67. Because of man's imaginativeness and superstitious disposition, he has often held other invisible beings to be associated with God in His governance of the universe and in making and marring man's destiny. For example, the deity of rain, and the deity of vegetation, the god of wealth and the god of health, and so on. Such beliefs are found among all the polytheistic nations of the world.
68. The ignorant Arabs considered angels to be the daughters of God. In the same way, other polytheistic nations wove a network of bloodrelationships with God, producing thereby a whole crop of gods and…
Read the full tafseer →