Al-An'aam 6:98

Al-An'aam · from ayah 98

6:98

وَهُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْتَوْدَعٌ ؕ— قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ ۟وَ هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسۡتَقَرٌّ وَّمُسۡتَوۡدَعٌ‌ ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّفۡقَهُوۡنَ

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is He who produced you from one soul and [gave you] a place of dwelling and of storage. We have detailed the signs for a people who understand.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 12 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:98

اور وہی ہے جس نے ایک متنفس سے تم کو پید ا کیا پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ یہ نشانیاں ہم نے واضح کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه ایسا ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا پھر ایک جگہ زیاده رہنے کی ہے اور ایک جگہ چندے، رہنے کی بےشک ہم نےدﻻئل خوب کھول کھول کر بیان کردیئے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر ہر شخص کا ایک مستقر ہے، اور ایک امانت رکھنے کی جگہ ۔ ہم نے ساری نشانیاں ایک ایک کرکے کھول دی ہیں، (مگر) ان لوگوں کے لیے جو سمجھ سے کام لیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے اور کہیں امانت رہنا بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی (اﷲ) ہے جس نے تمہیں ایک جان (یعنی ایک خلیہ) سے پیدا فرمایا ہے پھر (تمہارے لئے) ایک جائے اقامت (ہے) اور ایک جائے امانت (مراد رحمِ مادر اور دنیا ہے یا دنیا اور قبر ہے)۔ بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر ایک ٹھہرنے کی جگہ اور ایک سونپے جانے کی جگہ ہے۔ بیشک ہم نے ان لوگوں کے لیے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں جو سمجھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہی تو ہے جس نے تمہیں ایک جان (آدم) سے پیدا کیا پھر (ہر ایک کے لیے) ایک جائے قرار ہے اور ایک سونپے جانے کی جگہ، یہ نشانیاں ہم نے ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کی ہیں جو سوجھ بوجھ رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے پھر ہر ایک کے لیے ایک مستقر اور ایک مدفن ہے، ہم نے اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے تفصیل سے بیان کردی ہیں جو سمجھیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ وہی ہے جس نے پیدا کیا تم سب کو ایک جان سے، پھر (ہر ایک کے لئے) ایک جائے قرار ہے اور ایک امانت رکھنے کی جگہ بیشک ہم نے کھول کر بیان کردیا اپنی نشانیوں کو ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ وہی تو ہے جس نے تم (انسانوں) کو پیدا کیا ایک ہی شخص سے پھر ایک جگہ زیادہ رہنے کی اور ایک جگہ چندے رہنے کی بیشک ہم نے دلائل خوب کھول کر بیان کردیئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے جس نے تمہیں اٹھایا ایک جان سے پھر تمہارے لیے ایک تو مستقل ٹھکانہ ہے اور ایک کچھ دیر (امانتاً) رکھے جانے کی جگہ ہم نے تو اپنی آیات کو واضح کردیا ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ سے کام لیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جس نے تم کو ایک جان (آدم) سے پیدا کیا، پھر تمہارے لیے ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی، سمجھنے والوں کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is He Who created you out of a single being, and appointed for each of you a time-limit and a resting place. We have indeed spelled out Our signs for those who can understand.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who created you from one person, then, you have a place to dwell and a place to sojourn. We have elaborated the signs for the people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who created you from one person, then, you have a place to dwell and a place to sojourn. We have elaborated the signs for the people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is He Who has created you from a single person, and has given you a place of residing and a place of storage. Indeed, We have explained in detail Our revelations for people who understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He it is Who hath produced you from a single being, and (hath given you) a habitation and a repository. We have detailed Our revelations for a people who have understanding.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is He who produced you from one soul and [gave you] a place of dwelling and of storage. We have detailed the signs for a people who understand.

— Saheeh International

It is He who has created you from a single soul. Some of you are settled (on earth) and some are still in the depository system of (their parents). We have shown the evidence (of Our existence) to the people who understand.

— Muhammad Sarwar

And He it is Who has brought you into being from a single soul, then there is (for you) a resting-place and a depository; indeed We have made plain the communications for a people who understand.

— Muhammad Habib Shakir

And it is He who hath produced you from one person, and thenceforth provided for you an abode and a depository. Surely We have expounded the signs unto a people who understand.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who hath produced you from a single person: here is a place of sojourn and a place of departure: We detail Our signs for people who understand.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:98

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 98–99

قدرت کی نشانیاں فرماتا ہے کہ تم سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تن واحد یعنی حضرت آدم سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے لوگو اپنے اس رب سے ڈور جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کی اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا پھر ان دونوں سے مرد و عورت خوب پھیلا دیئے مستقر سے مراد ماں کا پیٹ اور مستودع سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے، حسن بصری فرماتے ہیں جو مرگیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ ابن مسعود کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، واللہ اعلم،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 98–99

سورة الْاَنْعَام 65 یعنی نسل انسانی کی ابتداء ایک متنفس سے کی۔ سورة الْاَنْعَام 66 یعنی نوع انسانی کی تخلیق اور اس کے اندر مرد و زن کی تفریق اور تناسل کے ذریعہ سے اس کی افزائش، اور رحم مادر میں انسانی بچہ کا نطفہ قرار پا جانے کے بعد سے زمین میں اس کے سونپے جانے تک اس کی زندگی کے مختلف اطوار پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں بیشمار کھلی کھلی نشانیاں آدمی کے سامنے آئیں گی جن سے وہ اس حقیقت کو پہچان سکتا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ مگر ان نشانیوں سے یہ معرفت حاصل کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو سمجھ بوجھ سے کام لیں۔ جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے، جو صرف اپنی خواہشات سے اور انہیں پورا کرنے کی تدبیروں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں ارشاد ہے وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْـتَوْدَعٌ مستقر قرار سے بنا ہے اس جگہ کو مستقر کہتے ہیں جو کسی چیز کے لئے جائے قرار ہو، اور مستودع، ودیعت سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز کو کسی کے پاس عارضی طور سے چند روز رکھ دینے کے، تو مستودع اس جگہ کو کہا جائے گا جہاں کوئی چیز عارضی طور پر چند روز رکھی جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات پاک ہے جس نے انسان کو ایک جان یعنی حضرت آدم ؑ سے پیدا فرمایا، پھر اس کے لئے ایک مستقر یعنی مدت تک رہنے کی جگہ بنادی، اور ایک مستودع یعنی چند روزہ رہنے کی جگہ۔ قرآن کریم کے الفاظ تو یہی ہیں، ان کی تعبیر و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

توحید کی دلیل خود انسان کی خلقت میں : خارجی عالم کی نشانیوں کی طر توجہ دلانے کے بعد اب یہ انسان کی خود اس کی خلقت اور اس کے اردگرد جو سامانِ معاش و معیشت فراہم فرمایا ہے، اس کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا اور نسل انسانی کا ایک وسیع گھرانا آباد کردیا۔ یہاں ‘ انشاء ’ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صرف پیدا کرنے کے نہیں ہیں بلکہ اس کے اندر نشوونما بخشنے، پروان چڑھانے اور گروغ دینے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ ایک ہی جان، سے مراد آدم ہیں جن کو تمام آسمانی مذاہب میں نسل انسانی کی اصل کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے۔ اہل عرب بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

98۔ 1 اکثر مفسرین کے نزدیک مُسْتَقَر، سے رحم مادر اور مُسْتِوْدَع، سے صلب پدر مراد ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

37: مستقر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص باقاعدہ اپنا ٹھکانا بنالے، اس کے برعکس امانت رکھنے کی جگہ پر قیام عارضی قسم کا ہوتا ہے، اس لئے وہاں رہائش کا باقاعدہ انتظام نہیں کیا جاتا، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے کی گئی ہے، حضرت حسن بصری ؒ سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے کہ مستقر سے مراد دنیا ہے جہاں انسان باقاعدہ اپنی رہائش کا ٹھکانا بنالیتا ہے، اور امانت رکھنے کی جگہ سے مراد قبر ہے جس میں انسان کو مرنے کے بعد عارضی طور سے رکھا جاتا ہے، پھر وہاں سے اسے آخرت میں جنت یا جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، البتہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے ان لفظوں کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ مستقر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 98۔ اب یہ چٹکی براہ راست ہے ‘ اور یہ ٹچ نفس انسانی اور ذات انسانی کو دیا جاتا ہے ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان ایک ہی نفس سے پیدا کئے گئے ہیں کیونکہ مرد اور عورت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی ہیں ۔ لہذا پوری بشریت ایک حقیقت واحدہ ہے مرد و عورت کے درمیان زندگی کا آغاز تناسل کے خلیہ سے شروع ہوتا ہے ۔ مثلا خلیہ جب صلب پدر میں ہوتا ہے تو وہ جائے قرار میں ہوتا ہے ۔ جب وہی خلیہ رحم مادر میں جاتا ہے تو وہ اس کے لئے سپردگی کی جگہ ہے اس کے بعد زندگی بڑھتی ہے اور پھیل جاتی ہے اور مختلف نسلوں اور رنگوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ۔ مختلف گروہوں اور زبانوں میں بٹ جاتی ہے مختلف اقوام وقبائل میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے 9 " مستقر " ٹھہرنے کی جگہ جسے ٹھکانہ کہا۔ اور " مستودع " سپرد کئے جانے اور امانت رکھے جانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ تو لغوی معنی ہوئے۔ آگے دونوں کے مصداق کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے حضرت شاہ صاحب نے موضح القران میں جو کچھ لکھا ہے وہ ہم کو پسند ہے۔ " یعنی اول سپرد ہوتا ہے ماں کے پیٹ میں کہ آہستہ آہستہ دنیا کے اثر پیدا کرے پھر آ کر ٹھہرتا ہے دنیا میں۔ پھر سپرد ہوگا قبر میں کہ آہستہ آہستہ اثر آخرت کے پیدا کرے پھر جا ٹھہرے گا جنت میں یا دوزخ میں "۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 98 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ظاہر ہے کہ تمام نوع انسانی ایک ہی جان سے وجود میں آئی ہے۔ اس سے حضرت آدم علیہ السلام بھی مراد ہوسکتے ہیں اور اگر نظریہ ارتقاء میں کوئی حقیقت تسلیم کرلی جائے تو پھر تحقیق کا یہ سفر امیبا Amoeba تک چلا جاتا ہے کہ اس ایک جان سے مختلف ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے انسان بنا۔ امیبا میں کوئی sex یعنی تذکیر و تانیث کا معاملہ نہیں تھا۔ دوران ارتقاء رفتہ رفتہ sex ظاہر ہوا تو خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا النساء : 1 والا مرحلہ آیا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم نے اپنی کتاب قرآن اور علم جدید میں بہت عمدہ تحقیق کی ہے اور مولانا امین احسن اصلاحی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

101 وجود باری تعالیٰ پر دلائل :۔ سیدنا آدم کو مٹی سے پیدا کر کے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو اس میں عقل، قوت تمیز اور ارادہ و اختیار پیدا کیا جو دوسرے جانداروں اور جانوروں میں نہیں پایا جاتا۔ پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا پھر تناسل و توالد کے ذریعہ لاتعداد مرد اور عورت پیدا کردیئے یہ بھی اللہ ہی کا کارنامہ ہے۔ کوئی انسان یا کوئی دوسری ہستی ایک آدمی بھی نہیں بنا سکتی پھر ان مردوں اور عورتوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار اور ایک سپردگی کا مقام ہے۔ اکثر علماء کے خیال کے مطابق جائے قرار سے مراد روئے زمین پر اس کی زندگی کی مدت ہے اور مستودع سے مراد اس کی قبر ہے یا وہ جگہ جہاں سے مرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

144 ۔ دلائل اپنی توحید اور صنعت اور حکمت کے۔ (آیت) ” انشاکم “۔ خطاب عام نسل انسانی سے ہے۔ (آیت) ” من نفس واحدۃ “۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے۔ یہاں وحدت انسانی کو بہ طور ایک حقیقت کے بیان کیا ہے اور اس مسئلہ کو صاف کردیا کہ سب نوع انسانی کا مورث اعلی ایک ہی ہوا ہے کئی نہیں ہوئے ہیں۔ جیسا کہ بعض ناقصوں فلسفیوں اور بعض باطل مذہب والوں نے خیال کیا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، اس ایک اصل کو مان لینے سے انسانیت جو آج مہذہب وغیر مہذب، کالی اور گوری، صاحب اور نیٹو، برہمن اور شودر، مشرقی اور مغربی اور خدا جانے کتنی اور ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پھر ایک بار بنی آدم کی وحدت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 98–100

وھو الذی انشأکم من نفس واحدۃٍ ، اس آیت میں وحدت انسانی کو بطور ایک حقیقت کے بیان کیا ہے اور اس بات سے بالکل واضح کردیا ہے کہ نوع انسانی کا مورث اعلیٰ ایک ہی ہے اس ایک اصل کو تسلیم کرنے سے جو آج مہذب و غیر مہذب، کالی اور گوری، برہمن اور شودر، مشرقی اور مغربی خدا جانے انسانیت کتنے فرقوں اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، پھر ایک بنی آدمی کی وحدت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہو الذی انشاکم من نفس واحدۃ اور اللہ وہی ہے جس نے ایک شخص سے تمہاری ابتدائی تخلیق کی۔ یعنی آدم سے۔ فمستقر ومستودع پھر ایک جگہ زیادہ رہنے کی ہے اور ایک جگہ چندے رہنے کی مستقر اسم مفعول ہے یعنی تم میں سے بعض (زمین کے اوپر) ٹھہرائے گئے ہیں یا مصدر میمی یعنی تمہارے لئے (زمین پر) ٹھہراؤ ہے یا اسم ظرف ہے یعنی تمہارے لئے (زمین پر) ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ مستودع بھی یا اسم مفعول ہے یا مصدر یا اسم ظرف۔ ترجمہ کا اختلاف حسب سابق ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا مستقررحم میں ہوتا ہے وقت پیدائش تک اور مستودع قبر میں ہوتا ہے وقت قیامت تک (یعنی مستقر سے مراد رحم اور مستودع سے مراد قبر ہے) سعید بن جبیر نے کہا مستقر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(98) اور اسی ذات نے تمہیں ایک شخص آدم ؑ سے پیدا کیا، اس کے بعد ماؤں کے رحموں میں زیادہ دیر تک اور باپ کی پشت میں کم وقفہ تک یا اس کے برعکس ٹھہرایا، ہم ان دلائل کو کھول کھول کر ان لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جو حکم خداوندی اور توحید خداوندی کو سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔۔ : یعنی اسی نے تمہیں ایک جان آدم ؑ سے پیدا کیا، پھر اس کے لیے ٹھہرنے کی جگہ بنائی اور سونپے جانے کی جگہ بنائی۔ ٹھہرنے کی جگہ ماں کا رحم اور سونپے جانے کی جگہ باپ کی پشت۔ مفسرین کی ایک جماعت سے اس کے برعکس بھی منقول ہے، یعنی ”فَمُسْتَقَرٌّ“ باپ کی پشت اور ”َّمُسْـتَوْدَعٌ ۭ“ ماں کا رحم۔ بعض نے ان سے دنیا اور آخرت یا قبر مراد لی ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ اول ماں کے پیٹ میں سپرد ہوتا ہے، تاکہ آہستہ آہستہ دنیا میں رہنے کی صلاحیت حاصل کرلے، پھر دنیا میں آکر ٹھہرتا ہے، پھر سپرد ہوگا، قبر میں تاکہ آہستہ آہستہ آخرت کا اثر قبول کرسکے، پھر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 98 قولی تعالیٰ آیت : وھو الذی انشاکم من نفس واحدۃ اس میں نفس واحدۃ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ سورت کی ابتدا میں یہ پہلے گزر چکا ہے۔ فمستقر حضرت ابن عباس ؓ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، حضرت ابو عمرو، حضرت عیسیٰ ، اعرج، شیبہ اور نخعی رحمتہ اللہ علیھم نے قاف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے فتحہ کے ساتھ۔ اور یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے، مگر جنہوں نے کسرہ دیا ہے ان کے نزدیک تقدیر عبارت فمنھا مستقر ہے اور جنہوں نے فتحہ دیا ہے ان کے نزدیک لھا مستقر ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : پس اس کے لیے ٹھہرنے کی جگہ ہے، رحم میں اور امانت رکھے جانے کی جگہ ا سزمین میں ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 97–98

(1) امام ابن بای حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھوالذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی ظلمت البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ آدمی رات سے بھٹک جاتا ہے اس حال میں کہ اندھیرے میں ہوتا ہے اور راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور خطیب نے کتاب النجوم میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ سیکھو تم ستاروں سے وہ چیز جو تم کو راستہ دکھا دے تمہاری خشکی میں اور تمہاری تری میں پھر رک جاؤ۔ بلاشبہ اللہ کی قسم ان کو نہیں پیدا کیا گیا۔ مگر آسمان کی زینت کے لئے شیطانوں کو مارنے کے لئے۔ اور نشانیوں کے لئے جس سے آدمی راہ پاتا ہے۔ اور نسب میں سے سیکھو جو تم اس کے ذریعہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہی ہے جس نے ] اَنْشَاَكُمْ [ اٹھایا تم کو ] مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ [ ایک اکیلی جان سے ] فَمُسْتَقَرٌّ [ تو (تمہارے لئے ہے ) ایک ٹھہرنے کی جگہ ] وَّمُسْـتَوْدَعٌ ۭ [ اور ایک بطور امانت رکھے جانے کی جگہ ] قَدْ فَصَّلْنَا [ ہم نے کھول کھول کر بیان کیا ہے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے ] يَّفْقَهُوْنَ [ جو سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَأَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (اور اللہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے انسان کی ابتداء ہوئی اور نسلاً بعد نسل ان کی اولاد بڑھتی ہوئی چلی آئی ہے جس کا سلسلہ تو الد اس طرح سے ہے کہ اول نطفہ باپ کی پشت میں ہوتا ہے پھر ماں کے رحم میں آجاتا ہے پھر وہاں سے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے جیتی جاگتی تصویر باہر آجاتی ہے۔ مُسْتَقَرٌّ سے باپ کی پشت اور مُسْتَوْدَعٌ سے ماں کا رحم مراد ہے باپوں کی پشتیں تو اصل مستقر یعنی ٹھہرنے کی جگہیں ہیں کیونکہ مادہ منویہ وہاں اور کہیں سے نہیں آیا۔ اور ماؤں کے رحموں کو مُسْتَوْدَع فرمایا کیونکہ ان میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 95–99

ذکر مظاہرقدرت و عجائب صنعت برائے اثبات الوہیت ووحدانیت قال اللہ تعالیٰ ان اللہ فالق الحب والنوی۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (ربط) گزشتہ آیات میں اثبات نوبت کا بیان تھا اب اس کے بعد پھر اسی مضمون توحید کی طرف رجوع فرماتے ہیں جو شروع سورت سے چلا آرہا ہے ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اشیاء متضادہ ومختلفہ پر اپنی قدرت کاملہ کے آثار اور اپنی مخلوقات کے عجائب حالات کو بیان کیا تاکہ وجود صانع اور اس کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کی دلیل بنیں اور مشرکین پر یہ امر واضح ہوجائے کہ ان کے تمام معبودان باطلہ اور شرکاء مہملہ ان عجائب قدرت میں سے ایک ادنی سے ادنی چیز کے بھی پیدا کرنے سے عاجز ہیں پس ومستحق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

104 یہ اللہ تعالیٰ کا ایک اور احسان ہے کہ اس نے زندگی جیسی نعمت عطا فرمائی اور تمام انسانوں کو ایک جان (آدم علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور ہر ایک کے لیے ایک مستقر اور ایک مستودع بنایا۔ مستقر اور مستودع کی تفسیر میں اقوال مختلف ہیں۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں مستقر (رہنے کی جگہ) سے دنیا مراد ہے اور مستودع سے آخرت۔ فمستقر فی الدنیا و مستودع فی الاخرۃ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 95–98

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات وار شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا۔ پھر دیگر اٹھارہ انبیاء کا ذکر کر کے توحید کے مئلے کی وضاحت فرمائی اس کے ساتھ منصب رسالت اور انبیاء کے فرائض کا ذکر ہوا ‘ منکرین رسالت کا رد ہوا اور تورات کو بطور مثال پیش کیا ۔ پھر آخر میں قرآن حکیم جیسی بابرکت کتاب کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے ج اللہ پر افتراء باندھتا ہے اور جو اپنی طرف وحی آنے کا جھوٹا دعویٰ کرتا یا جو شخص قرآن پاک کی مثل لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسے ظالموں کی موت کے وقت سختیوں کا بھی ذکر ہوا اور ان کے لئے بری جزاء…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْـتَوْدَعٌ۝ 0ۭ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّفْقَہُوْنَ۝ 98 نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ مستقر ٹھہرنے کی جا ظرف کا صیغہ یا ٹھہرنا مصادر اور اسی طرح یستودع سپردگاہ یا سپردگی یہ انسان پر دو عالتین کے بعد دیگر آتی ہیں اور دل مستر عالم ارواح تھا پھر وہاں سے رخصت ہو کر رحم میں آیا اول حالت کے لحاظ سے یہ سپردگی کا مقام ہوا پھر وہاں سے دنیا میں آیا یہ دوسرا ٹھہرنے کا مقام ہوا پھر یہاں سے کوچ کرکے قبر میں پہنچا یہ دوسرا مقام سپرد ہے پھر وہاں سے جنت یا دوزخ ہر دوسرا مقام پر پہلے کے لحاظ سے مستودع ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّوَّ مُسْتَوْدَعٌط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَھُوْنَ ۔ (الانعام : 98) (اور وہی ہے ‘ جس نے تم کو پیدا کیا ‘ ایک ہی جان سے۔ پھر ہر ایک کے لیے ایک مستقر اور ایک مستودع ہے۔ ہم نے اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے تفصیل سے بیان کردی ہیں ‘ جو سمجھیں) اس آیت کریمہ کا ایک ایک لفظ گہرے تدبر اور غور و فکر کا طالب ہے گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ دلائل آفاق اور خارجی دنیا کے تذکرے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر استدلال کیا ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں خود انسان کے وجود اور اس کی نفسی حقیقتوں سے استدلال کیا جا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–98

فہم القرآن ربط کلام : تخلیق انسان سے توحید کی دلیل۔ ” اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا، پھر اس کا ایک ٹھکانا ہے اور ایک سونپے جانے کی جگہ ہے۔ ہم نے گہری سوچ رکھنے والوں کے لیے آیات کو کھول کر بیان کیا ہے۔ “ انسان ایک نطفہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جس کی بنیاد ایک خلیہ ہے جو انسان کی پیدائش کی اصل بنتا ہے مرد کی صلب کے اندر ایک ٹھکانے پر ہوتا ہے، پھر اس کا مستقر عورت کا رحم ہوتا ہے اس کے بعد زندگی نشو و نما اور پھیلاؤ حاصل کرتی ہے۔ جب تک اللہ کے حکم سے روئے زمین پر انسانی حیات موجود رہے گی یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ حیات کو سمجھنے کے لیے فقہ گہرائی پر اترنا، غور و فکر کرنا ضروری ہے۔ جتنی بات انسان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مستقر و مستودع کی تفسیر : آیت 98 : وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وہ آدم ہیں۔ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ۔ قراءت : مکی اور بصری نے مستقر کسرہ قاف سے پڑھا ہے جنہوں نے قاف کو فتح دیا تو ان کے ہاں وہ اسم مفعول وظرف بن گیا۔ جیسا مستودع اسم مفعول و ظرف ہے جنہوں نے کسرہ دیا انہوں نے اسم فاعل بنایا اور مستودع کو اسم مفعول بنایا۔ یعنی تمہارا مستقررحم مادر، مستودع صلب پدر یا مستقر زمین پر رہائش اور مستودع قبر یا بعض تم میں قرار پکڑنے والے ہیں اور بعض امانت رکھے جا چکے۔ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَہُوْنَ پہلے یعملون اور یہاں یفقہون فرمایا کیونکہ وہاں دلالت بالکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(98) (وھو الذی انشاکم من نفس واحدۃ) یعنی آدم (علیہ السلام) سے فمستقر و مستودع پھر ایک تو تمہارا ٹھکانہ ہے اور ایک امانت رکھی جانے کی جگہ ہے) ابن کثیر اور اہل بصرہ نے مستقر کو قاف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم میں سے ٹھکانہ پکڑنے والے ہیں اور تم میں امانت رکھنے والے اور باقی حضرات نے قاف کے فتحہ کے ساتھ۔ مستقر اور مستودع کی تفاسیر مستعقر اور مستودع کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ -1 عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مستقر رحم میں پیدائش کے وقت تک اور مستودع قبر میں بعث تک۔ -2 سعید بن جبیر ؓ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ مستقر مائوں کے رحم میں اور مستودع باپ کی پشت میں یہی کہ جو امانت تیری پیٹ ھ میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 98–99

(98 ۔ 99) ۔ کھیتی باغ سورج چاند تارے اوپر انسان کی ان ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا اور آگے بھی اس قسم کے چیزوں کا ذکر آوے گا۔ ان چیزوں کے ذکر کے بیچ میں یہ انسان کے پیدا کرنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جو غافل لوگ اپنی ضرورت کی چیزوں کی حالت پر غور کر کے ان چیزوں کے پیدا کرنے والے کو نہ پہچان سکے وہ خود اپنی پیدائش کی حالت پر غور کر کے اپنے خالق کو پہچانیں اور شرک سے باز آویں نفس واحد سے مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کیونکہ بنی آدم کی پیدائش کا سلسلہ انہی سے شروع ہو ہے حضرت حوا حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 95–98

آیت 95 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بےپایاں فضل و کرم اور پانی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں، خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ان اللہ فالق الحب و النوی) ” بیشک اللہ پھاڑ نکلتا ہے دانہ اور گٹلھی “ یہاں دانہ ہرق سم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا مثلاً وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور یدگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 90–102

استدلال انبیاء قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 97–98

185 کائنات کی کھلی کتاب میں عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت : یعنی تاکہ تم لوگ ان سے دنیا میں اپنی اپنی منازل مقصودہ تک پہنچنے کا راستہ معلوم کرسکو۔ اور انہی سے اپنی حقیقی آخری اور دائمی منزل تک رسائی کا راستہ بھی معلوم کرسکو کہ جس خدائے ذوالجلال نے ہمارے لئے یہ سب کچھ پیدا فرمایا، خالق اور مالک حقیقی وہی اور صرف وہی ہے۔ اور اس طرح تم لوگ خود پکار اٹھو ۔ { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلا } ۔ " کہ مالک تو نے یہ سب کچھ بےکار نہیں بنایا " اور تم یقین جان لو کہ خود تمہیں اس نے عبث و بےکار نہیں بنایا ۔ { اَ فَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لا تُرْجَعُوْنَ } ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 95–98

قدرت کے کرشمے تشریح : ان آیات کو پڑھ کر کون شخص ایسا ہے جو اللہ کی ذات سے متعارف نہ ہوجائے، یعنی جو اپنے پیدا کرنے والے واحد اللہ کو پہچان نہ سکے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی نشوونما اور اس کی زندگی گزارنے کے تمام وسیلے، یعنی رہنے کی جگہ زمین، کھانے پینے کے لیے پھل، پھول اور اناج، وقت کا اندازہ کرنے کے لیے دن اور رات کا نکلنا، آرام کرنے کے لیے رات کا پرسکون خاموش اور انتہائی خواب آور ماحول، پھر دن کا طلوع ہونا کہ جس میں ہر چیز روشن اور ظاہر نظر آنے لگتی ہے۔ چرند پرند اور انسان پیٹ پالنے کے لیے رزق کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ نئے نئے کام کرتا ہے اپنی اور پوری نسل انسانی کی سہولت، آرام اور سکون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 96–101

رکوع نمبر 16 ۔ آیات نمبر 96 تا 100 ۔ اسرار و معارف : کفار و مشرکین کے عقاید باطلہ کے لیے دلائل عقلی پر بحث فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ کارگہ حیات میں جو گرمی حیات ہے ذرا اس پر غور کرو اور یہ دیکھو کہ کونسی ایسی عظیم طاقت ہے جو گٹھلی سے درخت نکال کر کھڑا کردیتی ہے کو ن ہے جو دانے سے ہری بھری کھیتیاں پیدا فرماتا ہے یقیناً اللہ ہی واحد ذات ہے ورنہ مخلوق تو خود پیدا ہوتی ہے جب یہ نہ تھے جنہیں تم اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو تو بھی گٹھلی اور دانہ تو اگتے تھے بلکہ عالم حیوانات میں توالد و تناسل کا نظام خود دعوت فکر دے رہا ہے کہ نطفے یا انڈے سے زندہ بچہ اور زندہ جانور سے نطفہ یا انڈہ مزید جاندار کو پیدا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ٹھہر ن کی جگہ یعنی ماں کا رحم اور ایک سونپے جانے کی یعنی باپ کی پشت حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور مفسرین کی ایک جماعت سے اس کے برعکس بھی منقول ہے یعنی مستقر باپ کی پشت) اور مستودع (ماں کا رحکم) بعض نے ان سے دنیا اور آخرت ی اقبر بھی مراد لی ہے مگر حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں پہلا قول زیادہ واضح ہے شاہ صاحب لکھتے ہیں اول ماں کے پیٹ میں سپرد ہوتا ہے تاکہ آہستہ آہستہ دنیا میں رہنے کی صلاحیت پیدا کرے پھر دنیا میں آکر ٹھہر تا ہے پھر سپرد ہوگی قبر میں تاکہ آہستہ آہستہ آخرت کا اثر قبول کرسکے پھر جا ٹھہرے گا جنت یا دوزخ میں ( مو ضح) 3 اوپر دلائل آفاقی بیان فرمائے ہیں اور اس آیت میں دلائل نفسی کی طرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:98) مستقر۔ ظرف مکان۔ بروزن اسم مفعول استقرار مصدر۔ قرار گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ مستودع۔ ظرف مکان۔ بروزن اسم مفعول استبداع (استفعال) مصدر۔ امانت رکھنے کی جگہ۔ حفاظت کی جگہ۔ رحم مادر۔ مستقر اور مستودع کے متعلق علماء کے متعدد اقوال ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مستقر سے مراد شکم مادر اور مستودع سے مراد باپ کی پیٹھ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ مستقر سے مراد زمین ہے جہاں انسان دنیوی زندگی بسر کرتا ہے اور مستودع سے مراد قبر ہے۔ جہاں مرنے کے بعد حشر تک کا درمیانی عرصہ گزارنا ہوتا ہے۔ اور بعض کے مطابق مستقر سے مراد دنیوی زندگی (ظرف زمان) اور مستودع روانگی کا وقت (ظرف زمان) وداع سے رخصت ہونا۔ اس کی تقدیر ہے۔ فلکم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 95–98

لغات القرآن : آیت نمبر 95 تا 98 : فالق (تنہا) الحب ( تم نے چھوڑا) النوی ( ہم نے دیا) ‘ الحی ( زندہ) المیت (مردہ) الاصباح ( صبح) سکن (سکون) ‘ تقدیر ( اندازہ) ‘ النجوم ( نجم) ۔ ستارہ) مستودع ( سپرد کرنے کی جگہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 95 تا 98 : ان آیات میں اور ان کے بعد آنیوالی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو مٹانے کے لئے انسان کو بصارت اور بصیرت کی دعوت دی ہے۔ وہ معاملات فطرت جو دن رات مستقل طور پر ہوتے رہتے ہیں ‘ عموماً انسان انہیں نظر انداز کرجاتا ہے۔ اگر دیکھتا بھی ہے تو صرف ظاہر کو۔ اگر متاثر ہوتا ہے تو ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ وہ نہیں دیکھتا کہ ان مظاہر فطرت کے پیچھے حقیقی خالق ومالک کون…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 98–99

پیدائش کا سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا ہے۔ حضرت حوا حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئیں، ان سے تمام نسل قائم ہوئی جس سے ساری زمین بھر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی تمام روئے زمین کی مٹی کو ملا کرلی ہے، اس واسطے ان کی اولاد کے رنگ اور مزاج مختلف ہیں۔ ماں کے رحم مین بچہ کا پتلا چار مہینے میں بن کر تیار ہوجاتا ہے تو روح پھونک دی جاتی ہے، وقت مقررہ پر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب آخر آیت میں فرمایا کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ان لوگوں کو مفید ہیں جو ان قدرت کی نشانیوں سے صاحب قدرت کے پہچاننے میں سمجھ دوڑاتے ہیں۔ مینہ برسنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) خدا کی صفات کے سلسلہ میں یہ بھی بتایا ہے کہ تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا گیا ہے یعنی تم میں باہمی کوئی امیتاز نہیں سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو ، اور احترام کے مستحق ۔ نیز یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان تمام آیات پر غور کرنا علقمندی اور دانائی ہے ۔ حل لغات : مستقر : مقام استقرار ۔ مستودع : مقام وداع ، عاقبت اور دنیا سے تعبیر ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-98 اور وہی ہے جس نے تم کو ایک شخص یعنی آدم سے پیدا کیا پھر تم کو کسی جگہ ٹھہرائو ہے اور کسی مقام پر سپرد ہونا ہے باپ کی پشت میں استقرار اور ماں کے رحم میں استیداع یا زمین کے اوپر ٹھہرائو اور قبر میں سپردگی بلاشبہ ہم نے اپنے دلائل کو ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے جو صحیح سمجھ رکھتے ہیں اور سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 96–98

ف 4۔ یعنی ان کی رفتار منضبط ہے جس سے اوقات کے انضباط میں سہولت ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہی ہے جس نے تم کو اکیلی جان سے نشو ونما دی اس میں بھی کتنی ہی نشانیاں ہیں : 151: ” پھر دیکھو وہی ہے جس نے تمہیں اکیلی جان سے نشو ونما دی۔ “ آیت کے اس حصہ کا مطلب ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة النساء کی آیت کی اول بڑی تفصیل سے بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ” تمہارے لئے قرار پانے کی جگہ ہے اور سپردگی کا مقام ہے۔ “ اس میں ایک جگہ کو قرار پانے کی جگہ کہا گیا اور دوسری کو سپردگی کا مقام بیان کیا گیا اس لئے جان لینا چاہئے کہ انسان کے لئے مستقر کیا ہے ؟ اور مستودع کیا ؟ مستقر وہ جو کسی چیز کے لئے جائے قرار ہو اور مستودع ودیعت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو کسی کے پاس عارضی طور سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the fourth verse (98), it was said: وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ‌ وَمُسْتَوْدَعٌ(And He is the One who created you from one person, then, you have a place to dwell, and a place to sojourn). The word فَمُسْتَقَرّ :(mustaqarr) used in the text is from: قَرَار (qarar). So, mustaqarr denotes a place of qarar, of rest and peace, for someone or something. As for the word: مُستوَدَع (mustawda' ) in the text, it is a derivation from wadifah which means to keep something with someone temporarily for a few days. So, "mustawda"' will denote a place where something is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–99

65. This means that God caused the human race to originate from one human being. 66. If one were to observe carefully the creation of the human species, its division into male and female, the proliferation of the human race by procreation, the passing of life through its several stages in the womb of the mother from conception to childbirth, one would perceive innumerable signs to help one grasp the truth mentioned above. But only those who make proper use of their intellect can be led by means of these signs to an understanding of Reality. Those who live like animals, who are concerned…

Read the full tafseer →