Explained with ayahs 95–97
اس کی حیرت ناک قدرت
دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے جیسے سورة یٰسین میں ارشاد ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ) 36۔ یس :33) مخرج کا عطف فالق پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 64
یعنی اس حقیقت کی نشانیاں کہ خدا صرف ایک ہے، کوئی دوسرا نہ خدائی کی صفات رکھتا ہے، نہ خدائی کے اختیارات میں حصہ دار ہے، اور نہ خدائی کے حقوق میں سے کسی حق کا مستحق ہے۔ مگر ان نشانیوں اور علامتوں سے حقیقت تک پہنچنا جاہلوں کے بس کی بات نہیں، اس دولت سے بہرہ ور صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو علمی طریق پر آثار کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں ارشاد ہےوَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ ، یعنی آفتاب و ماہتاب کے علاوہ دوسرے ستارے بھی اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کے خاص مظاہر ہیں، اور ان کے پیدا کرنے میں ہزاروں حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے بحری اور بری سفروں میں جہاں رات کی تاریکی کے وقت سمتوں کا پتہ لگانا بھی آسان نہیں رہتا، ان ستاروں کے ذریعہ اپنے راستے متعین کرسکتا ہے، تجربہ شاہد ہے کہ آج اس مشینری کے زمانہ میں بھی انسان ستاروں کی ہدایت سے بےنیاز نہیں ہے۔
اس آیت میں بھی انسان کی اس غفلت اور کوتاہ نظری پر تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ ستارے بھی کسی بنانے والے اور چلانے والے کے تابع فرمان چل رہے ہیں، نہ اپنے وجود میں…
Read the full tafseer →سورج اور چاند کے بعد ستاروں کی طرف متوجہ کیا کہ دیکھ لو، یہ خود اپنی خدمت گزاری سے شہادت دے رہے ہیں کہ خالق نے ان کو تمہاری خدت پر مقرر کیا ہے۔ جب تم خشکی اور تری کا سفر کرتے ہو تو سمندروں اور بیابانوں میں یہ روشنی کے میناروں اور برجیوں کی طرح تمہاری کشتیوں اور تمہارے قافلوں کو سمتیں اور راستے بتاتے ہیں۔ اب یہی کیسی بےوقوفی کی بات ہے کہ وہ خود تو اپنے عمل سے بتا رہے ہیں کہ تمہارے خالق نے ان کو تمہاری خدمت میں لگا رکھاے ہے اور تم ان کو خدا کی خدائی میں شریک مان کر ان کے بت کھڑے کر کے ان کی پرستش شروع کردو۔ پھر دیکھو کہ یہ ہیں تو آسمان میں لیکن شمع برداری کی خدمت وہ تم زمین والوں کی انجام دے…
Read the full tafseer →97۔ 1 ستاروں کا یہاں یہ ایک فائدہ اور مقصد بیان کیا گیا ہے، ان کے دو مقصد اور ہیں جو دوسرے مقام پر بیان کئے گئے ہیں۔ آسمانوں کی زینت اور شیطانوں کی مرمت۔ رجو ما للشیطین۔ یعنی شیطان آسمان پر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ان پر شعلہ بن کر گرتے ہی۔ بعض علماء کا قول ہے۔ من اعتقد فی ہذاہ النجوم غیر ثلاث فقد اخطاء وکذب علی اللہ ان تینوں باتوں کے علاوہ ان ستاروں کے بارے میں اگر کوئی شخص کوئی اور عقیدہ رکھتا ہے تو وہ غلطی پر ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ملک میں جو علم نجوم کا چرچا ہے، جس میں ستاروں کے ذریعے سے مستقبل کے حالات اور انسانی زندگی یا کائنات میں ان کے اثرات بتانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
35: بےجان سے جاندار کو نکالنے کی مثال یہ ہے کہ انڈے سے مرغی نکل آتی ہے اور جاندار سے بےجان کے نکلنے کی مثال جیسے مرغی سے انڈا
36: اس ترجمے میں دو باتیں قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ بظاہر قرآن کریم میں ”لوگوں !“ کا لفظ نظر نہیں آ رہا، لیکن در حقیقت یہ ذلکم میں جمع مخاطب کی ضمیر کا ترجمہ ہے۔ عربی کے قاعدے سے یہ جمع کی ضمیر مشار الیہ کی جمع نہیں ہوتی، بلکہ مخاطب کی جمع ہوتی ہے۔ دوسرے ”کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لیے جا رہا ہے“ اس ترجمے میں ”توفکون“ کے صیغہ مجہول کی رعایت کی گئی ہے۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ ان کی خواہشات ہیں جو انہیں گمراہ کر رہی ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 97۔
یہ نظام فلکی کے منظر کا تتمہ ہے جس کے اندر سورج چاند اور ستارے سرگرداں اور یہ پوری کائنات کے منظر کا حصہ ہے جو نہایت ہی وسیع ‘ نہایت ہی حیران کن ہے اور جس کی تمام حرکات و سکنات انسانی زندگی اور اس کے مفادات اور ضروریات کے ساتھ وابستہ ہیں ۔
(آیت) ” لِتَہْتَدُواْ بِہَا فِیْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ “۔ (6 : 97) ‘
” تاکہ تم ان کے ذریعے صحرا اور سمندروں کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرو۔ “
صحراؤں اور سمندروں کی دوریوں میں انسان ہمیشہ ستاروں کے زریعے راستہ معلوم کرتا آیا ہے اور آج بھی وہی نظام ہے ۔ اصول وہی ہیں اگرچہ دور جدید کے اکتشافات کی وجہ سے وسائل بدل گئے ہیں ۔ سمندری…
Read the full tafseer →7 یعنی بلاواسطہ ان سے راستہ معلوم کرو یا بالواسطہ مثلا قطب نما کے ذریعہ سے۔
Read the full tafseer →آیت 97 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَہْتَدُوْا بِہَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط
اندھیری راتوں میں قافلے چلتے تھے تو وہ ستاروں سے سمت متعین کر کے چلتے تھے۔ اسی طرح سمندر میں جہاز رانی کے لیے بھی ستاروں کی مدد سے ہی رخ متعین کیا جاتا تھا۔
Read the full tafseer →10 سورج اور چاند کے علاوہ اللہ نے ستارے بھی پیدا فرمائے ہیں جو تاریک راتوں میں جب چاند بھی غائب ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ روشنی پہنچاتے رہتے ہیں نیز ان کی چال میں بھی چونکہ ایک ترتیب ہے لہذا رات کی تاریکی میں ان کی چال سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے سمت بھی معلوم کی جاسکتی ہے کہ اس وقت ہم کونسی سمت میں سفر کر رہے ہیں اور اس طرح راستہ کا بھی تعین ہوسکتا ہے اور یہ فوائد جیسے خشکی پر حاصل ہوتے ہیں ویسے ہی سمندری سفر میں بھی حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ستاروں کی پیدائش اور ان کی مقررہ چال اور ان سے انسان کے لیے ایسے فوائد کا حصول بھی اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کی…
Read the full tafseer →143 ۔ دلائل اپنی توحید اور قدرت اور حکمت کے (آیت) ” جعل۔۔۔ البحر “۔ یہ ان یہ بتایا ہے کہ ستارے تو خود ہی انسان کے نفع کی غرض سے اس کی خدمت کے لئے بنائے گئے ہیں، الٹے ان کی پرستش میں لگ جانا اور خادموں کو مخدوم سمجھ لینا جہل وحمق کی انتہا ہے۔ (آیت) ’ جعل ھنا بمعنی خلق (قرطبی) (آیت) ” لقوم یعلمون “۔ یعنی ان شواہد و دلائل سے نفع وہی اٹھائیں گے جو علم وخبر رکھتے ہیں۔ خصھم لانہم منتفعون بھا (قرطبی) (آیت) ” یعلمون “۔ میں علم سے مراد یا تو عقل ہے اور یا فکر و استدلال۔ المراد بالعلم ھھنا العقل (کبیر) المراد من قولہ لقوم یعلمون لقوم یتفکرون ویتاملون ویستدلون بالمحسوس علی المعقول وینتقلون من الشاھد الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
آیت نمبر 95 تا 100
ترجمہ : بیشک بیج کو پھاڑ کر بناتات نکالنے والا اور گٹھلیوں کو چیر کو کھجور کے درخت نکالنے والا اللہ ہی ہے وہ جاندار کو بےجان سے جیسا کہ انسان اور پرندے کو نطفہ اور انڈے سے اور بےجان کو مثلاً نطفہ اور انڈے کو جاندار سے نکالنے والا ہے یہ شق کرنے والا نکالنے والا اللہ ہے تو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو تو تم دلیل کے موجود ہونے کے باوجود کس طرح ایمان سے پھرے جا رہے ہو، وہ (پردہ شب کو چیر کر) صبح کو نکالنے والا ہے (الاصباح) مصدر بمعنی صبح ہے یعنی وہ ستون صبح (صبح کاذب) کو چاک کرنے والا ہے اور ستون صبح تاریکی شب سے نکلنے والی دن کی اس روشنی کو کہتے ہیں جو ابتداء نمودار ہوتی ہے اور…
Read the full tafseer →وہو الذی جعل لکم النجوم لتہتدوا بہا فی ظلمت والبر والبحر وہی ایسا ہے جس نے ستاروں کو تمہارے لئے بنایا تاکہ ان کے ذریعہ سے تم راستہ معلوم کرسکو خشکی کے اندھیروں میں بھی اور سمندر کی تاریکیوں میں بھی ظلمات بر و بحر میں اضافت ملابست کی وجہ سے ہے مراد ہیں رات کی تاریکیاں جو خشکی اور سمندر میں ہوتی ہیں یا راستوں کی بھول بھلیاں مراد ہیں جن کو بطور استعارہ تاریکیاں کہا گیا ہے۔
قد فصلنا الایت ہم نے کھول کر نشانیاں یعنی خالق حکیم کی توحید کی دلیل بیان کردیں۔
لقوم یعلمون ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں کیونکہ وہی اس بیان سے فائدہ اندوز ہوتے ہیں (اگرچہ بیان ہر ایک کے لئے عام ہے عالم ہو یا جاہل) ۔
Read the full tafseer →(97) اور جب تم خشکی یا تری میں سفر کرو تو اس نے تمہاری آسانی کے لیے تاکہ تم پریشان کن اور تاریک راستہ معلوم کرسکو، ستاروں کو پیدا کیا ہے، ہم نے قرآن اور دلائل توحید مومنین کے لیے بیان کیے ہیں جو اس بات کا کامل یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ۔ : یہ ستاروں کا ایک فائدہ ہے، دوسری آیات میں تاروں کو آسمان کی زینت اور شیطانوں کے لیے سنگ باری (رجوم) کا سامان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة صافات (6، 7) اور سورة ملک (5) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان میں اور کتنے فوائد ہیں، مگر ان کے ذریعے سے غیب معلوم ہونے یا ان کا قدرت کے کارخانے میں کوئی اختیار ہونے کا عقیدہ صاف گمراہی اور شرک ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بار بار علم اور قدرت کا مالک صرف ایک اللہ کو قرار دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 97
قولہ تعالیٰ آیت : وھو الذی جعل لکم النجوم اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت کو بیان فرمایا ہے اور ستاروں میں بہت زیادہ منافع اور فوائد ہیں۔ اس آیت میں ان کے بعض منافع ذکر فرمائے ہیں اور یہ وہ ہیں جن کی معرفت اور پہچان شرعا مستحب ہے۔
اور قرآن کریم میں ہے : آیت : وحفظا من کل شیطٰن مارد (الصافات) ( اور اسے محفوظ کردیا ہے ہر سرکش شیطان ( کی رسائی) سے) آیت : وجعلنھا رجوما للشیطین (الملک : 5) ( اور بنا دیا ہے انہیں شیاطین کو ماربھگانے کا ذریعہ) یہاں جعل بمعنی خلق ہے آیت : قد فصلنا الایٰت یعنی ہم نے مفصل دلائل بیان کردیئے ہیں تاکہ اعتبار میں یہ انتہائی بلیغ ہوجائیں۔ لقوم یعلمون اہل علم کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
(1) امام ابن بای حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھوالذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی ظلمت البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ آدمی رات سے بھٹک جاتا ہے اس حال میں کہ اندھیرے میں ہوتا ہے اور راستے سے ہٹ جاتا ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور خطیب نے کتاب النجوم میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ سیکھو تم ستاروں سے وہ چیز جو تم کو راستہ دکھا دے تمہاری خشکی میں اور تمہاری تری میں پھر رک جاؤ۔ بلاشبہ اللہ کی قسم ان کو نہیں پیدا کیا گیا۔ مگر آسمان کی زینت کے لئے شیطانوں کو مارنے کے لئے۔ اور نشانیوں کے لئے جس سے آدمی راہ پاتا ہے۔ اور نسب میں سے سیکھو جو تم اس کے ذریعہ اپنے…
Read the full tafseer →وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] جَعَلَ [ بنائے ] لَكُمُ [ تمہارے لئے ] النُّجُوْمَ [ ستارے ] لِتَهْتَدُوْا [ تاکہ تم لوگ راہ پاؤ] بِهَا [ ان سے ] فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ [ سمندر اور زمین کے اندھیروں میں ] قَدْ فَصَّلْنَا [ ہم نے کھول کھول کر بیان کیا ہے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایک ایسے گروہ کے لئے ] يَّعْلَمُوْنَ [ جو علم رکھتے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا
(وَ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَھْتَدُوْا بِھَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) (اور اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو پیدا فرمایا تاکہ تم ان کے ذریعہ راہ پاؤ خشکی کی تاریکیوں میں اور سمندر کی تاریکیوں میں) رات کو جب سفر میں ہوتے ہو اور راستہ بھول جاتے ہو۔ یا سمندر میں ہو اور راستہ بھول جاؤ تو ستاروں کی طرف دیکھ کر پتہ چلا لیتے ہو کہ مشرق کدھر ہے اور مغرب کدھر ہے پھر اپنے اسی علم کی روشنی میں آگے بڑھتے ہو اور صحیح راستہ پا کر منزل مقصود کو پہنچ جاتے ہو۔
(قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) (بےشک ہم نے نشانیاں بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
ذکر مظاہرقدرت و عجائب صنعت برائے اثبات الوہیت ووحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ان اللہ فالق الحب والنوی۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون
(ربط) گزشتہ آیات میں اثبات نوبت کا بیان تھا اب اس کے بعد پھر اسی مضمون توحید کی طرف رجوع فرماتے ہیں جو شروع سورت سے چلا آرہا ہے ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اشیاء متضادہ ومختلفہ پر اپنی قدرت کاملہ کے آثار اور اپنی مخلوقات کے عجائب حالات کو بیان کیا تاکہ وجود صانع اور اس کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کی دلیل بنیں اور مشرکین پر یہ امر واضح ہوجائے کہ ان کے تمام معبودان باطلہ اور شرکاء مہملہ ان عجائب قدرت میں سے ایک ادنی سے ادنی چیز کے بھی پیدا کرنے سے عاجز ہیں پس ومستحق…
Read the full tafseer →103 رات کے اندھیروں میں، جنگلوں اور سمندروں میں سفر کرنے والے مسافر اگر راہ سے بھٹک جائیں تو مختلف ستاروں کے ذریعے وہ اپنی منزل مقصود کی صحیح سمت معلوم کر کے صحیح وسالم اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے یہ امور عالم علوی یا نظام شمسی سے تعلق رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات وار شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا۔ پھر دیگر اٹھارہ انبیاء کا ذکر کر کے توحید کے مئلے کی وضاحت فرمائی اس کے ساتھ منصب رسالت اور انبیاء کے فرائض کا ذکر ہوا ‘ منکرین رسالت کا رد ہوا اور تورات کو بطور مثال پیش کیا ۔ پھر آخر میں قرآن حکیم جیسی بابرکت کتاب کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے ج اللہ پر افتراء باندھتا ہے اور جو اپنی طرف وحی آنے کا جھوٹا دعویٰ کرتا یا جو شخص قرآن پاک کی مثل لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسے ظالموں کی موت کے وقت سختیوں کا بھی ذکر ہوا اور ان کے لئے بری جزاء…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَہْتَدُوْا بِہَا فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ 0ۭ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ 97
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
نجم
أصل النَّجْم : الكوكب الطالع، وجمعه :
نُجُومٌ ، ونَجَمَ : طَلَعَ ، نُجُوماً ونَجْماً ، فصار النَّجْمُ مرّة اسما، ومرّة مصدرا، فَالنُّجُوم مرّة اسما کالقلُوب والجُيُوب، ومرّة مصدرا کالطُّلوع والغروب، ومنه شُبِّهَ به طلوعُ النّبات، والرّأي، فقیل : نَجَمَ النَّبْت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
1 ؎ اس میں اور ان آیات میں کہ جہاں انسان کے ساتھ اس کے اعمال و مکاسب کے ساتھ آنے کا ذکر ہے کچھ بھی منافات نہیں کیونکہ مال و جاہ کا چھوڑ آنا اور اعمال کا ساتھ لانا منافی نہیں اور کما کی تشبیہ صرف اس میں ہے۔ 12 منہ
2 ؎ رات میں سے صبح کی پو پھوٹتی ہے۔ اس کے حکم سے۔ 12 منہ
ترکیب : سکنا مفعول ہے جعل کا سکن وہ شے ہے کہ جس کی طرف انسان سکون پکڑے جیسا کہ گھر گویا رات گھر ہے والشمس معطوف ہے سکنا پر حسبانا جمع حسبانۃ اور مصدر بھی ہے فمستقر مصدر یا ظرف اور اسی طرح مستودع اس کی خبر لکم محذوف۔ خبات نبات
پر معطوف ہے مفعول ہے۔ اخرجنا کا قنوان بکسر قاف وضمھا جمع قنو کصنو وصنوان من النخل اس کی خبر مشتبہا حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
سورة الانعام میں باقی مکی سورتوں کی طرح توحید ‘ رسالت اور آخرت کو بنیادی عقائد کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور مختلف اسالیب میں مسلسل اس پر بحث جاری ہے۔ انداز اس کا یہ ہے کہ زیادہ تر زور عقیدہ توحید پر دیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور کبھی اس کے ضمن میں رسالت اور آخرت کو بھی موضوع بنایا جاتا ہے۔ دلائل کا انداز بےحد متنوع ہے ‘ کہیں دلائل آفاق کا ذکر ہے کہیں دلائل انفس کا۔ کہیں عقلی دلائل سے کام لیا جاتا ہے ‘ کہیں فطری اور تاریخی دلائل سے۔ دو رکوع پہلے تاریخی دلائل کے ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی دعوت کی تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے ان کے استدلال کے انداز کو بھی واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فہم القرآن
ربط کلام : تخلیق انسان سے توحید کی دلیل۔
” اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا، پھر اس کا ایک ٹھکانا ہے اور ایک سونپے جانے کی جگہ ہے۔ ہم نے گہری سوچ رکھنے والوں کے لیے آیات کو کھول کر بیان کیا ہے۔ “
انسان ایک نطفہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جس کی بنیاد ایک خلیہ ہے جو انسان کی پیدائش کی اصل بنتا ہے مرد کی صلب کے اندر ایک ٹھکانے پر ہوتا ہے، پھر اس کا مستقر عورت کا رحم ہوتا ہے اس کے بعد زندگی نشو و نما اور پھیلاؤ حاصل کرتی ہے۔ جب تک اللہ کے حکم سے روئے زمین پر انسانی حیات موجود رہے گی یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ حیات کو سمجھنے کے لیے فقہ گہرائی پر اترنا، غور و فکر کرنا ضروری ہے۔ جتنی بات انسان…
Read the full tafseer →رات کے اندھیرے اور سمندر کے اندھیروں میں ملابست ہے :
آیت 97 : وَہُوَ الَّذِیْْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ ان کو پیدا کیا۔ لِتَہْتَدُوْا بِہَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِیعنی خشکی و سمندر میں اور رات کے اندھیروں میں ظلمات کی اضافت بروبحر کی طرف ملا بست کی وجہ سے کی گئی ہے یا مشتبہ راستوں کو ظلمات سے تشبیہ دی قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَہم نے علم والوں کے لیے توحید پر دلالت کرنے والے دلائل واضح کردیئے۔
Read the full tafseer →(97) (وھو الذی جعل لکم النجوم) یعنی ان کو تمہارے لئے پیدا کیا (لتھتدوا بھا فی ظلمت البر والبحر) اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو کئی فوائد کے لئے پیدا کیا۔ ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سمندر ی سفر کرنے والے اور بیابان میں سفر کرنے والے رات کو اپنی منزل کا تعین ان کے ذریعے کرتے ہیں اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ آسمان کی خوبصورتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح اور تیسرا فائدہ یہ ہے کہ شیطان کو بھگانے کے کام آتے ہیں۔ (کمال قال اللہ تعالیٰ وجعلنا ھا رجوماً للشیاطین)…(قد فصلنا الایت لقوم یعلمون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(95 ۔ 97) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور نبوت کا ذکر فرمایا تھا اب اس ڈیڑھ رکوع میں ان عجائبات موجودات دنیا کا ذکر فرمایا ہے جن کے پیدا کرنے میں وہ وحدہ لاشریک منفرد ہے مقصد ان موجودات کے ذکر فرمانے سے یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں دوسخت عیب جو تھے اس کی اصلاح ہوجائے بڑا عیب تو بت پرستی کا تھا اس کی اصلاح موجودات پر غور کرنے سے یوں ہوسکتی ہے کہ دیکھنے میں تو وہ موجودات روز مرہ کی چیزیں معلوم ہوتی ہیں لیکن ہر شے کے پیدا کرنے میں وہ قدرت اور حکمت نہیں حاصل ہوسکتی مثلا علاوہ روایات شرعی کے عقل سے بھی یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ زمین پانی پر پھیلائی گئی ہے کیونکہ جہاں زمین کو کھودا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
آیت 95
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بےپایاں فضل و کرم اور پانی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں، خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ان اللہ فالق الحب و النوی) ” بیشک اللہ پھاڑ نکلتا ہے دانہ اور گٹلھی “ یہاں دانہ ہرق سم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا مثلاً وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور یدگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
185 کائنات کی کھلی کتاب میں عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت : یعنی تاکہ تم لوگ ان سے دنیا میں اپنی اپنی منازل مقصودہ تک پہنچنے کا راستہ معلوم کرسکو۔ اور انہی سے اپنی حقیقی آخری اور دائمی منزل تک رسائی کا راستہ بھی معلوم کرسکو کہ جس خدائے ذوالجلال نے ہمارے لئے یہ سب کچھ پیدا فرمایا، خالق اور مالک حقیقی وہی اور صرف وہی ہے۔ اور اس طرح تم لوگ خود پکار اٹھو ۔ { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلا } ۔ " کہ مالک تو نے یہ سب کچھ بےکار نہیں بنایا " اور تم یقین جان لو کہ خود تمہیں اس نے عبث و بےکار نہیں بنایا ۔ { اَ فَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لا تُرْجَعُوْنَ } ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
قدرت کے کرشمے
تشریح : ان آیات کو پڑھ کر کون شخص ایسا ہے جو اللہ کی ذات سے متعارف نہ ہوجائے، یعنی جو اپنے پیدا کرنے والے واحد اللہ کو پہچان نہ سکے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی نشوونما اور اس کی زندگی گزارنے کے تمام وسیلے، یعنی رہنے کی جگہ زمین، کھانے پینے کے لیے پھل، پھول اور اناج، وقت کا اندازہ کرنے کے لیے دن اور رات کا نکلنا، آرام کرنے کے لیے رات کا پرسکون خاموش اور انتہائی خواب آور ماحول، پھر دن کا طلوع ہونا کہ جس میں ہر چیز روشن اور ظاہر نظر آنے لگتی ہے۔ چرند پرند اور انسان پیٹ پالنے کے لیے رزق کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ نئے نئے کام کرتا ہے اپنی اور پوری نسل انسانی کی سہولت، آرام اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
رکوع نمبر 16 ۔ آیات نمبر 96 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
کفار و مشرکین کے عقاید باطلہ کے لیے دلائل عقلی پر بحث فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ کارگہ حیات میں جو گرمی حیات ہے ذرا اس پر غور کرو اور یہ دیکھو کہ کونسی ایسی عظیم طاقت ہے جو گٹھلی سے درخت نکال کر کھڑا کردیتی ہے کو ن ہے جو دانے سے ہری بھری کھیتیاں پیدا فرماتا ہے یقیناً اللہ ہی واحد ذات ہے ورنہ مخلوق تو خود پیدا ہوتی ہے جب یہ نہ تھے جنہیں تم اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو تو بھی گٹھلی اور دانہ تو اگتے تھے بلکہ عالم حیوانات میں توالد و تناسل کا نظام خود دعوت فکر دے رہا ہے کہ نطفے یا انڈے سے زندہ بچہ اور زندہ جانور سے نطفہ یا انڈہ مزید جاندار کو پیدا…
Read the full tafseer →ف 1 یہ تاروں کا ایک فائدہ ہے دوسری آیت میں تاروں کو آسمان کے لے زینت اور شیطان کے لیے سنگساری (رجوم) کا سامان فرمایا ہے (دیکھئے سورت الصافات آیت 16 سورت ملک بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص ان تین فائدوں کے علاوہ کواکب کے متعلق اور کسی قسم کا عقیدہ رکھتا ہے وہ غلطی پر ہے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان بابدھتا ہے۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(6:97) لقوم یعلمون۔ اہل دانش و اہل علم کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
لغات القرآن : آیت نمبر 95 تا 98 :
فالق (تنہا) الحب ( تم نے چھوڑا) النوی ( ہم نے دیا) ‘ الحی ( زندہ) المیت (مردہ) الاصباح ( صبح) سکن (سکون) ‘ تقدیر ( اندازہ) ‘ النجوم ( نجم) ۔ ستارہ) مستودع ( سپرد کرنے کی جگہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 95 تا 98 :
ان آیات میں اور ان کے بعد آنیوالی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو مٹانے کے لئے انسان کو بصارت اور بصیرت کی دعوت دی ہے۔ وہ معاملات فطرت جو دن رات مستقل طور پر ہوتے رہتے ہیں ‘ عموماً انسان انہیں نظر انداز کرجاتا ہے۔ اگر دیکھتا بھی ہے تو صرف ظاہر کو۔ اگر متاثر ہوتا ہے تو ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ وہ نہیں دیکھتا کہ ان مظاہر فطرت کے پیچھے حقیقی خالق ومالک کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص مشک نے ایک روز کہا کہ مجھ کو کیا پرواہ ہے، لات و منات خدا کے روبرو میری سفارش کو کافی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ بت پرستوں کے بت جن کو وہ اپنے حمایتی خیال کرتے ہیں، اور مالداروں کا مال اور اولادوالوں کی اولاد جس کے پیچھے لوگ اپنی عمر صرف کرتے ہیں، یہ سب یہیں دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ اللہ کے پاس ہر انسان ویسا ہی اکیلا جانے والا ہے جس طرح اکیلا دنیا میں آیا تھا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا سے کچھ ساتھ لے جانے کی چیز ہے تو وہ نیک عمل ہے۔
انسان کی پیدائش اور عجائبات قدرت
ان آیتوں میں ان عجائبات، موجودات دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
[35] یعنی آدم (علیہ السلام) سے۔
[36] یعنی رحم مادر۔
[37] یعنی قبر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(ف 2) اصل سہارا وہ ہے جس کے اختیارات وسیع ہیں جو انگوریوں کو پیدا کرنے والا جو موت کو زندگی میں تبدیل کرسکتا ہے ، اور زندگی کو موت میں جو رات کی تاریکی سے صبح کو ہویدا کرتا ہے ، اور رات کو آرام دہ بناتا ہے ، جس نے سورج اور چاند کے لئے ایک خاص نظام مقرر کر رکھا ہے ، اسے عزیز وعلیم کو چھوڑ کر تم کہاں بھاگ رہے ہو ۔
حل لغات :
فالق : مادہ فلق پھاڑنا ، چیرنا ۔
حسبانا : بمعنی باقاعدہ حساب سے ۔
Read the full tafseer →-97 اور اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس ذات ہے جس نے تمہارے نفع کے لئے تاروں کو بنایا اور پیدا کیا تاکہ تم خشکی او تری کی ان تاریکیوں میں جو رات کو پیش آتی ہیں ان تاروں کی وجہ سے رائو پائو اور راستہ معلوم کرسکو بلاشبہ ہم اپنے دلائل کو ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ف 4۔ یعنی ان کی رفتار منضبط ہے جس سے اوقات کے انضباط میں سہولت ہو۔
Read the full tafseer →وہی ہے جو ستاروں کا بنانے والا اور اندھیری راتوں میں ان سے راہ دکھانے والا ہے :
150: آفتاب و ماہتاب کے علاوہ دوسرے ستارے بھی اللہ کی قدرت کاملہ کے خاص مظاہر ہیں اور ان کو بنانے اور باقاعدہ منزلوں پر گردش کرنے میں ہزاروں حکمتیں ہیں جن میں سے ایک حکمت خاص یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے بحری اور بری سفروں میں جہاں رات کی تاریکی کے وقت سمتوں کا پتہ لگانا نہایت مشکل ہوتا ہے ان ستاروں کے ذریعے اپنے راستے متعین کرسکتا ہے اور آج اس ترقی کے زمانہ میں بھی انسان ستاروں کی ہدایت سے بےنیاز نہیں ہے اور اس جگہ اس کا ذکر کر کے بتانا یہ مقصود ہے کہ اس کارخانہ ہستی کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہے۔…
Read the full tafseer →In the third verse (97), it was said: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (And He is the one who made for you the stars, so that you may be guided by them in 'darknesses' of the land and the sea). In other words, it is being said here that there are other stars too, besides the sun and the moon, which are no less unique a manifestation of the perfect power of Almighty Allah. Out of many considerations of Divine wisdom, one immediate benefit they provide for human beings travelling on high seas or open lands is that they can chart…
Read the full tafseer →64. By 'signs' are meant all that support the proposition that there is only one God, that is, no one has either the attributes of God or any share in His authority or can rightfully claim any of the rights which belong exclusively to Him. But the ignorant cannot benefit from these signs, which are scattered all around, in order to arrive at an understanding of the Truth. Only those who observe the phenomena of the universe in a careful and systematic manner, and do so with a correct perspective, can truly benefit from these signs.
Read the full tafseer →