Explained with ayahs 95–97
اس کی حیرت ناک قدرت
دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے جیسے سورة یٰسین میں ارشاد ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ) 36۔ یس :33) مخرج کا عطف فالق پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
سورة الْاَنْعَام 62
یعنی زمین کی تہوں میں بیج کو پھاڑ کر اس سے درخت کی کونپل نکالنے والا۔
سورة الْاَنْعَام 63
زندہ کو مردہ سے نکالنے کا مطلب بےجان مادہ سے زندہ مخلوقات کو پیدا کرنا ہے، اور مردہ کو زندہ سے خارج کرنے کا مطلب جاندار اجسام میں سے بےجان مادوں کو خارج کرنا۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ارشاد ہے فالِقُ الْاِصْبَاح فالق کے معنی پھاڑنے والا اور اصباح کے معنی یہاں وقت صبح کے ہیں، فٰلِقُ الاِصبَاحِ کے معنی ہیں پھاڑنے والا صبح کا، یعنی گہری اندھیری کی چادر کو پھاڑ کر صبح کا نکالنے والا، یہ بھی ان افعال و اعمال میں سے ہے جس میں جن و بشر اور ساری کائنات کی قوتیں ہیچ ہیں، اور ہر آنکھوں والا دیکھ کر یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ رات کے اندھیرے کے بعد صبح کا اجالا پیدا کرنے والا نہ کوئی انسان ہوسکتا ہے نہ فرشتہ، نہ کوئی دوسری مخلوق، بلکہ یہ صرف اس مافوق الادراک ہستی کا کام ہے جو سارے جہان کی پیدا کرنے والی ہے۔
مخلوقات کے آرام کے لئے رات کی قدرتی اور جبری تعیین ایک عظیم نعمت…
Read the full tafseer →فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا، یعنی وہی خدا جس کی شانیں زمین کے اندر دفن ہونے والے دانہ اور گٹھلی کے اندر یوں نمایاں ہوتی ہیں ذرا نگاہ اٹھا کر اس کی شانیں آسمان میں بھی دیکھو۔ وہ جس طرح گٹھلی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے درخت پیدا کردیتا ہے اسی طرح پردہ شب کو چاک کر کے اس کے اندر سے صبح نمودار کردیتا ہے، پھر فرمایا کہ اس نے ش کو تمہارے لیے سکون بخشنے والی اور تمہاری کلفت کو دور کرنے والی بنایا، تم اس میں دن کی ماندگی دور کرتے ہو اور تمہارے قوی اور اعصاب اس میں از سرِ نو میدانِ عمل میں اترنے کے لیے تازہ دم ہوتے ہیں۔ اس سے یہ اشارہ خود بخود نکل آیا کہ وہ رات کے بعد صبح اس لیے…
Read the full tafseer →96۔ 1 اندھیرے اور روشنی کا خالق بھی وہی ہے۔ وہ رات کی تاریکی سے صبح روشن پیدا کرتا ہے جس سے ہر چیز روشن ہوتی ہوجاتی ہے۔
96۔ 2 یعنی رات کو تاریکیوں میں بدل دیتا ہے تاکہ لوگ روشنی کی تمام مصروفیات ترک کر کے آرام کرسکیں۔
96۔ 3 یعنی دونوں کے لئے ایک حساب بھی مقدر ہے جس میں کوئی تغیر و اضطراب نہیں ہوتا، بلکہ دونوں کی اپنی اپنی منزلیں ہیں، جن پر وہ گرمی اور سردی میں رواں رہتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر سردی میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی اور گرمی میں اس سے برعکس دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوجاتی ہیں۔ جس کی تفصیل سورة یونس۔ 5 سورة یٰسین 40 اور سورة اعراف 54 میں بھی بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
35: بےجان سے جاندار کو نکالنے کی مثال یہ ہے کہ انڈے سے مرغی نکل آتی ہے اور جاندار سے بےجان کے نکلنے کی مثال جیسے مرغی سے انڈا
36: اس ترجمے میں دو باتیں قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ بظاہر قرآن کریم میں ”لوگوں !“ کا لفظ نظر نہیں آ رہا، لیکن در حقیقت یہ ذلکم میں جمع مخاطب کی ضمیر کا ترجمہ ہے۔ عربی کے قاعدے سے یہ جمع کی ضمیر مشار الیہ کی جمع نہیں ہوتی، بلکہ مخاطب کی جمع ہوتی ہے۔ دوسرے ”کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لیے جا رہا ہے“ اس ترجمے میں ”توفکون“ کے صیغہ مجہول کی رعایت کی گئی ہے۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ ان کی خواہشات ہیں جو انہیں گمراہ کر رہی ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 96۔
دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے ۔ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح کو نکالتا ہے ۔ وہی ہے جس نے سکون کے لئے رات بنائی ہے ‘ اور وہی ہے جس نے چاند ستاروں کی گردش کے لئے صحیح اوقات مقرر کئے ہیں ۔ ان کی گردش کے لئے ایک مقرر نظام تجویز کیا ہے اور اس نظام کو اس قدر موثر اور کنٹرول میں رکھا ہے جس سے اس کے مکمل قبضے کا ثبوت ملتا ہے اور جس سے اس کے وسیع اور محیط علم کا ثبوت ملتا ہے ۔
رات کی تاریکیوں سے سپیدہ صبح نکالنا ایک ایسا ہی عمل ہے جس طرح گٹھلی اور دانے کو پھاڑ کر اس سے پودا اور درخت نکالا جاتا ہے ۔ ایک حرکت میں صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے ۔ اور دوسری حرکت میں پودے کی سوئی برآمد…
Read the full tafseer →5 یعنی رات کی تاریکی میں سے جو پیلی پھٹ کر صبح صادق نمودار ہوتی ہے اس کا نکالنے والا بھی وہی ہے۔
6 رات دن اور چاند سورج کا جو حکیمانہ نظام اور ان کی رفتار کا جو حساب مقرر فرما دیا اس میں ذرا بھی تخلف یا کم و بیش نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →آیت 96 فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج۔
یہ فلق کی دوسری قسم ہے کہ اللہ ہی رات کی سیاہی کا پردہ چاک کر کے سپیدۂ سحر کو نمودار کرتا ہے۔ بظاہریہ بھی خود بخود زمین کی گردش کے تحت ہوتا نظر آتا ہے ‘ لیکن یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے تصرف اور اس کی تدبیر کے بغیر ہو رہا ہے۔ یہ سب بھی ان ہی قوانین کے تحت ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے زمین ‘ چاند ‘ سورج اور دوسرے اجرام فلکی کے بارے میں بنا دیے ہیں۔ اس سب کچھ کا فاعل حقیقی بھی وہی ہے۔
وَجَعَلَ الَّیْلَ سَکَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ط
یہ التّذکیر بِآ لَاء اللّٰہ کی مثالیں ہیں ‘ جن کے حوالے سے اللہ کی عظمت ‘ اس کی صفات اور اس کی قدرت کو نمایاں کیا جا رہا…
Read the full tafseer →99 اس آیت اور اس سے اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی آیات یا نشانیاں بیان فرمائی ہیں جنہیں اس خالق ومالک اور قادر مطلق کے سوا کوئی بھی وجود میں نہیں لاسکتا اور ان میں ایک غور و فکر کرنے والے انسان کے لیے وجود باری تعالیٰ پر واضح دلائل مل جاتے ہیں اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے مثلاً ایک یہ کہ گردش لیل و نہار کا نظام اس لیے بنایا کہ تم دن کو اپنے کام کاج کرسکو اور رات کو اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے آرام کرسکو۔ کام کاج کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے تو اس نے رات کے ختم ہوتے ہی روشنی کا انتظام فرما دیا اور آرام کرنے کے لیے اندھیرا درکار ہوتا ہے تو اس کا انتظام فرما دیا۔ پھر چاند اور سورج کو…
Read the full tafseer →142 ۔ یہ سارا عظیم الشان کارخانہ حیات، یہ نظام ارضی ونظام فلکی یوں ہی اٹکل پچو نہیں چل رہا ہے اس کے قانون کے مطابق اور اس کے ضابطہ کے ماتحت چل رہا ہے۔ جو (آیت) ” العزیز “۔ ہے۔ ہر غالب پر غالب، ہر قادر پر قادر، جس کی راہ ہر رکاوٹ سے خالی ہے اور جو ساتھ ہی العلیم بھی ہے۔ جس کی ہر جنبش تکوینی وتخلیقی بےانتہا حکمتوں اور مصلحتوں سے لبریز رہتی ہے۔ اور جو ہر علم و حکمت کا مبدا بھی ہے اور منتہی بھی، والعزیز اشارۃ الی کمال قدرتہ والعلیم اشارۃ الی کمال علمہ (کبیر) (آیت) ” فالق الاصباح “۔ وہ پردۂ شب سے صبح کا برآمد کرنے والا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ ذلکم اللہ ربکم فالق الاصباح۔ پچھلی آیت میں ذکر نظام ارضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
آیت نمبر 95 تا 100
ترجمہ : بیشک بیج کو پھاڑ کر بناتات نکالنے والا اور گٹھلیوں کو چیر کو کھجور کے درخت نکالنے والا اللہ ہی ہے وہ جاندار کو بےجان سے جیسا کہ انسان اور پرندے کو نطفہ اور انڈے سے اور بےجان کو مثلاً نطفہ اور انڈے کو جاندار سے نکالنے والا ہے یہ شق کرنے والا نکالنے والا اللہ ہے تو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو تو تم دلیل کے موجود ہونے کے باوجود کس طرح ایمان سے پھرے جا رہے ہو، وہ (پردہ شب کو چیر کر) صبح کو نکالنے والا ہے (الاصباح) مصدر بمعنی صبح ہے یعنی وہ ستون صبح (صبح کاذب) کو چاک کرنے والا ہے اور ستون صبح تاریکی شب سے نکلنے والی دن کی اس روشنی کو کہتے ہیں جو ابتداء نمودار ہوتی ہے اور…
Read the full tafseer →فالق الاصباح وہی صبح کو نکالنے والا ہے اصباح مصدر (باب افعال) اس کا معنی ہے صبح میں داخل ہونا یہاں مجازاً صبح مراد ہے حال بول کر محل مراد لیا جاتا ہے یعنی وہ ظلمت شب یا دن کی روشنی سے عمود صبح کو چیر کر نکالنے والا ہے یا ظلمت صبح سے عمود صبح کو برآمد کرنے والا ہے ظلمت صبح سے مراد ہے وہ تاریکی جو صبح سے متصل ہوتی ہے۔
وجعل الیل سکنا اور اسی نے رات کو آرام (پانے) کی چیز بنایا ہے۔ انسان اور اکثر حیوان دن بھر کی معاشی جدوجہد سے تھک کر رات کو گہری نیند سے سکون یاب ہوتا ہے یا یوں کہا جائے کہ ایک عارف دن بھر مخلوق کے ساتھ مشغول رہتا ہے جس سے اس کو وحشت ہوتی ہے رات کو تنہائی میں اپنے خالق سے انس گیر…
Read the full tafseer →(96) وہ صبح کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے رات کو تمام مخلوق کے آرام کے لیے بنایا ہے۔
اور سورج اور چاند کو اپنے منازل میں حساب کے ساتھ رکھا ہے یا یہ کہ وہ دونوں آسمان و زمین کے درمیان معلق ہیں، دائروں میں گردش کرتے رہتے ہیں، یہ تدبیر اس ذات کی ہے پھر بھی جو اس پر ایمان نہ لائے وہ اسے سزا دینے پر قادر ہے اور وہ اپنی ٹھہرائی ہوئی چیزوں اور مومن و کافر کو بخوبی جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ۔۔ : وہی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح روشن نکالنے والا ہے، پھر اس نے رات کا اندھیرا طاری کر کے سب کو سکون اور آرام کا موقع فراہم کیا اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا، جس سے وقت، دن، رات، مہینوں اور سالوں کا حساب وجود میں آتا ہے۔ ”الْعَزِيْزِ“ سے مراد کمال قدرت والا اور ”الْعَلِيْمِ“ سے مراد کمال علم والا ہے۔ جس کا علم اور قدرت آسمان و زمین کے ذرّے ذرّے کو محیط ہے۔ عموماً قرآن میں رات دن اور سورج چاند کے پیدا کرنے اور مسخر کرنے کو اسمائے حسنیٰ میں سے ان دو صفاتی ناموں کے ساتھ ختم کیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 96
قولہ تعالیٰ : آیت : فالق الاصباح یہ اللہ تعالیٰ کے اسم کی نعت (اور صفت) ہے، یعنی ذالکم اللہ ربک فالق الاصباح۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ان اللہ فالق الاصباح ( بیشک اللہ تعالیٰ صبح کو نکالنے والا ہے) الصب اور الصباح سے مراد اول النہار ( دن کا پہلا حصہ) ہے، اور اسی طرح الاصباح بھی ہے۔ یعنی وہ ہر دن صبح کو نکالنے والا ہے، مراد فجر ہے۔ اور الاصباح، أصبح کا مصدر ہے۔ اور معنی ہے : وہ تاریکیوں سے روشنی کو پھاڑ کر نکالنے والا اور اسے ظاہر کرنے والا ہے۔ اور ضحاک نے کہا ہے : آیت : فالق الاصباح کا معنی ہے خالق النھار ( دن کو پیدا کرنے والا) یہ معرفہ ہے نحویوں میں سے کسی کے…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح یعنی پیدا کیا رات کو اور دن کو۔
(2) ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح یعنی دن کے وقت سورج کی روشنی ہے اور رات کے وقت چاند کی روشنی ہے۔
(3) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح سے مراد ہے فجر کا روشن ہونا۔
(4) عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح یعنی صبح کو نکالنا ہے۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق…
Read the full tafseer →فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ [ (وہ) صبح کی روشنی کو ظاہر کرنے والا ہے ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] الَّيْلَ [ رات کو ] سَكَنًا [ آرام ] وَّالشَّمْسَ [ اور سورج کو ] وَالْقَمَرَ [ اور چاند کو ] حُسْـبَانًا ۭ [ حساب رکھنے والا ] ذٰلِكَ [ یہ ] تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ [ علیم ، بالادست (ہستی ) کا طے شدہ امر ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ) (اللہ صبح کا پھاڑنے والا ہے) اس کی مشیت اور ارادہ سے رات کی تاریکی چلی جاتی ہے روشنی پھٹتی ہے جس سے صبح نمودار ہوجاتی ہے۔ (وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَکَنًا) (اور اس نے رات کو آرام کی چیز بنایا) دن میں کام کاج کرنے والے محنت کو ٹنے والے تھکے ماندے رات کو آرام کرتے ہیں۔ نیند تو دن کو بھی آجاتی ہے لیکن رات کی نیند میں جو آرام ہے اور تھکن اترنے کا جو فطری انتظام ہے وہ دن کی نیند میں نہیں ہے، دن بھر میں زیادہ سو بھی نہیں سکتے۔ کام کاج اور کارو بار کے تقاضے بعض مرتبہ آنکھ لگنے بھی نہیں دیتے آنکھ لگ بھی گئی تو کارو بار کا ہجوم جو دماغ پر سوار ہوتا ہے وہ بار بار جگا دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
ذکر مظاہرقدرت و عجائب صنعت برائے اثبات الوہیت ووحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ان اللہ فالق الحب والنوی۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون
(ربط) گزشتہ آیات میں اثبات نوبت کا بیان تھا اب اس کے بعد پھر اسی مضمون توحید کی طرف رجوع فرماتے ہیں جو شروع سورت سے چلا آرہا ہے ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اشیاء متضادہ ومختلفہ پر اپنی قدرت کاملہ کے آثار اور اپنی مخلوقات کے عجائب حالات کو بیان کیا تاکہ وجود صانع اور اس کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کی دلیل بنیں اور مشرکین پر یہ امر واضح ہوجائے کہ ان کے تمام معبودان باطلہ اور شرکاء مہملہ ان عجائب قدرت میں سے ایک ادنی سے ادنی چیز کے بھی پیدا کرنے سے عاجز ہیں پس ومستحق…
Read the full tafseer →102 صبح کو چیرنے والا۔ صبح دن کے لیے بمنزلہ تخم (بی ج) ہے جس طرح بیج کو چیر کر اس سے پودا نکالتا ہے اسی طرح صبح سے دن کی روشنی کو نمودار کرتا ہے۔ سَکَنًا۔ ما یسکن الیہ جس چیز سے سکون و اطمینان حاصل کیا جائے رات کو سکنًا فرمایا کیونکہ دن بھر کی تھکاوٹ رات میں آرام و راحت سے تبدیل ہوجاتی ہے۔ حُسْبَاناً مصدر ہے یعنی سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنا دیا ان کی گردش سے موسموں کے اختلاف کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ نیز ان کی حرکت سے وقت کی پیمائش کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات وار شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا۔ پھر دیگر اٹھارہ انبیاء کا ذکر کر کے توحید کے مئلے کی وضاحت فرمائی اس کے ساتھ منصب رسالت اور انبیاء کے فرائض کا ذکر ہوا ‘ منکرین رسالت کا رد ہوا اور تورات کو بطور مثال پیش کیا ۔ پھر آخر میں قرآن حکیم جیسی بابرکت کتاب کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے ج اللہ پر افتراء باندھتا ہے اور جو اپنی طرف وحی آنے کا جھوٹا دعویٰ کرتا یا جو شخص قرآن پاک کی مثل لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسے ظالموں کی موت کے وقت سختیوں کا بھی ذکر ہوا اور ان کے لئے بری جزاء…
Read the full tafseer →فَالِقُ الْاِصْبَاحِ 0ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا 0ۭ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 96
فلق
الفَلْقُ : شقّ الشیء وإبانة بعضه عن بعض . يقال : فَلَقْتُهُ فَانْفَلَقَ. قال تعالی: فالِقُ الْإِصْباحِ
[ الأنعام/ 96] ، إِنَّ اللَّهَ فالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوى [ الأنعام/ 95] ، فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] ، وقیل للمطمئنّ من الأرض بين ربوتین : فَلَقٌ ، وقوله : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ [ الفلق/ 1] ، أي : الصّبح، وقیل : الأنهار المذکورة في قوله : أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَراراً وَجَعَلَ خِلالَها أَنْهاراً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
1 ؎ اس میں اور ان آیات میں کہ جہاں انسان کے ساتھ اس کے اعمال و مکاسب کے ساتھ آنے کا ذکر ہے کچھ بھی منافات نہیں کیونکہ مال و جاہ کا چھوڑ آنا اور اعمال کا ساتھ لانا منافی نہیں اور کما کی تشبیہ صرف اس میں ہے۔ 12 منہ
2 ؎ رات میں سے صبح کی پو پھوٹتی ہے۔ اس کے حکم سے۔ 12 منہ
ترکیب : سکنا مفعول ہے جعل کا سکن وہ شے ہے کہ جس کی طرف انسان سکون پکڑے جیسا کہ گھر گویا رات گھر ہے والشمس معطوف ہے سکنا پر حسبانا جمع حسبانۃ اور مصدر بھی ہے فمستقر مصدر یا ظرف اور اسی طرح مستودع اس کی خبر لکم محذوف۔ خبات نبات
پر معطوف ہے مفعول ہے۔ اخرجنا کا قنوان بکسر قاف وضمھا جمع قنو کصنو وصنوان من النخل اس کی خبر مشتبہا حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
سورة الانعام میں باقی مکی سورتوں کی طرح توحید ‘ رسالت اور آخرت کو بنیادی عقائد کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور مختلف اسالیب میں مسلسل اس پر بحث جاری ہے۔ انداز اس کا یہ ہے کہ زیادہ تر زور عقیدہ توحید پر دیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور کبھی اس کے ضمن میں رسالت اور آخرت کو بھی موضوع بنایا جاتا ہے۔ دلائل کا انداز بےحد متنوع ہے ‘ کہیں دلائل آفاق کا ذکر ہے کہیں دلائل انفس کا۔ کہیں عقلی دلائل سے کام لیا جاتا ہے ‘ کہیں فطری اور تاریخی دلائل سے۔ دو رکوع پہلے تاریخی دلائل کے ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی دعوت کی تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے ان کے استدلال کے انداز کو بھی واضح…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آفاق سے توحید کے دلائل۔
اللہ تعالیٰ جس طرح ” فَالِقُ الْحُبِّ وَالنُّوَیٰ “ ہے اسی طرح ” فَالِقُ الْاِصْبَاحِ “ بھی ہے۔ اسی نے رات کو سکون کے لیے بنایا اور شمس وقمر کو حساب کے لیے۔ ماہ وسال کا حساب انہی سے ہوتا ہے۔ البتہ کہیں سورج سے اور کہیں چاند سے، اسلام نے لوگوں کی آسانی کے لیے سورج کا پیچیدہ حساب چھوڑ کر چاند کا حساب اختیار کیا۔ چاند کے طلوع و غروب سے ماہ وسال کا حساب لگانا آسان تر ہے۔ حج، رمضان، عیدین وغیرہ کا حساب چاند پر مبنی ہے۔ صبح کی تاریکی سے روشنی پھوٹنے کو دانے اور گٹھلی کے پھوٹنے کی مانند ٹھہرایا گیا ہے۔ دونوں سے حیات پھوٹتی ہے۔ نور کا پھوٹنا نباتات اور…
Read the full tafseer →مزید دلائل :
آیت 96 : فَالِقُ الْاِصْبَاحِ یہ مصدر ہے جس کا نام الصبح ہے۔ یعنی صبح کے ستون کو رات کی سیاہی میں سے پھاڑ کر نکالنے والا ہے۔ وَجَعَلَ الَّیْلَ کوفی کی قراءت میں ہے کیونکہ اس سے قبل اسم فاعل المضی کے معنی میں ہے جب فالق، فلق کے معنی میں ہے تو جعل کا اس پر عطف کر کے ظاہر کیا کہ ان میں معنوی موافقت ہے۔ سَکَنًا اس میں سکون حاصل کریں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ (یونس : 67) تاکہ مخلوق کام کاج کی مشقت سے غفلت کی نیند کے ذریعہ سکون حاصل کرے۔
مزید دلائل ‘ سورج و چاند ذریعہ حساب :
دوسری تفسیر یہ ہے کہ مخلوق کی وحشت سے ہٹ کر حق کے ساتھ انس حاصل کرو۔ وَّالشَّمْسَ…
Read the full tafseer →(96) (فالق الاصباح) وہ ظلمت شب یا دن کی روشنی میں عمود صبح کو چیر کر نکالنے والا ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں دن کو پیدا کرنے والا ہے۔ الاصباح مصدر ہے اقبال کی اور ادبار کی طرح۔ بمعنی رشن کرنا اور اس سے صبح مراد ہے۔ یعنی دن کا ابتدائی ظاہر ہونے والا حصہ۔ مراد یہ ہے کہ وہ صبح کو ظاہر اور واضح کرنے والا ہے۔ (وجعل الیل سکناً ) جس میں مخلوق آرام کرتی ہے اور اہل کوفہ رحمہما اللہ نے وجعل کو ماضی اور (اللیل) کو منصوب پڑھا ہے مصحف کی اتباع کرتے ہوئے اور ابراہیم نخعی (رح) نے (فلق الاصباح) اور (وجعل اللیل سکنا) پڑھا ہے۔ (والشمس والقمر حسباناً ) یعنی سورج اور چاند کو متعین حساب پر مقرر کیا ہے کہ وہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(95 ۔ 97) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور نبوت کا ذکر فرمایا تھا اب اس ڈیڑھ رکوع میں ان عجائبات موجودات دنیا کا ذکر فرمایا ہے جن کے پیدا کرنے میں وہ وحدہ لاشریک منفرد ہے مقصد ان موجودات کے ذکر فرمانے سے یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں دوسخت عیب جو تھے اس کی اصلاح ہوجائے بڑا عیب تو بت پرستی کا تھا اس کی اصلاح موجودات پر غور کرنے سے یوں ہوسکتی ہے کہ دیکھنے میں تو وہ موجودات روز مرہ کی چیزیں معلوم ہوتی ہیں لیکن ہر شے کے پیدا کرنے میں وہ قدرت اور حکمت نہیں حاصل ہوسکتی مثلا علاوہ روایات شرعی کے عقل سے بھی یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ زمین پانی پر پھیلائی گئی ہے کیونکہ جہاں زمین کو کھودا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
آیت 95
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بےپایاں فضل و کرم اور پانی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں، خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ان اللہ فالق الحب و النوی) ” بیشک اللہ پھاڑ نکلتا ہے دانہ اور گٹلھی “ یہاں دانہ ہرق سم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا مثلاً وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور یدگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →184 دلائل سماوی میں غور وفکر کی دعوت : سو زمین کے اندر پائے جانے والے دلائل کے ذکر وبیان کے بعد اب یہاں سے آسمان کے اندر پائے جانے والے دلائل میں غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے۔ سو سورج اور چاند کے یہ عظیم الشان کرے قدرت کے نشان اور انسان کے خادم ہیں۔ نہ کہ معبود کہ دنوں، ہفتوں، مہینوں اور سالوں کے حساب کا دارومدار انہی پر ہے جو ایک طرف اس کی بےنہایت قدرت کا عظیم مظہروثبوت ہے تو دوسری جانب یہ اس کی بےغایت رحمت و عنایت کا ناقابلِ شک و انکار مظہر، کھلا ثبوت اور نہایت واضح نشان بھی ہے۔ سو کس قدر ظالم اور کتنے بےانصاف ہیں وہ لوگ، جو اس ربِّ ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر اور اس کو بھول کر اوروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
قدرت کے کرشمے
تشریح : ان آیات کو پڑھ کر کون شخص ایسا ہے جو اللہ کی ذات سے متعارف نہ ہوجائے، یعنی جو اپنے پیدا کرنے والے واحد اللہ کو پہچان نہ سکے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی نشوونما اور اس کی زندگی گزارنے کے تمام وسیلے، یعنی رہنے کی جگہ زمین، کھانے پینے کے لیے پھل، پھول اور اناج، وقت کا اندازہ کرنے کے لیے دن اور رات کا نکلنا، آرام کرنے کے لیے رات کا پرسکون خاموش اور انتہائی خواب آور ماحول، پھر دن کا طلوع ہونا کہ جس میں ہر چیز روشن اور ظاہر نظر آنے لگتی ہے۔ چرند پرند اور انسان پیٹ پالنے کے لیے رزق کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ نئے نئے کام کرتا ہے اپنی اور پوری نسل انسانی کی سہولت، آرام اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
رکوع نمبر 16 ۔ آیات نمبر 96 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
کفار و مشرکین کے عقاید باطلہ کے لیے دلائل عقلی پر بحث فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ کارگہ حیات میں جو گرمی حیات ہے ذرا اس پر غور کرو اور یہ دیکھو کہ کونسی ایسی عظیم طاقت ہے جو گٹھلی سے درخت نکال کر کھڑا کردیتی ہے کو ن ہے جو دانے سے ہری بھری کھیتیاں پیدا فرماتا ہے یقیناً اللہ ہی واحد ذات ہے ورنہ مخلوق تو خود پیدا ہوتی ہے جب یہ نہ تھے جنہیں تم اپنا حاجت روا سمجھ رہے ہو تو بھی گٹھلی اور دانہ تو اگتے تھے بلکہ عالم حیوانات میں توالد و تناسل کا نظام خود دعوت فکر دے رہا ہے کہ نطفے یا انڈے سے زندہ بچہ اور زندہ جانور سے نطفہ یا انڈہ مزید جاندار کو پیدا…
Read the full tafseer →ف 12 یا حساب سے بنایا پہلے ترجمہ کے لحاظ سے لوگوں کو دن مہینے اور سنہ معلوم ہوتے ہیں کہ او انہی کے مطابق وہ اپنے تمام کام سرانجام دیتے ہیں دوسرے ترجمہ کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ چاند اور سورج اپنے، مقرر اوقات پر درہ کرتے ہیں حساب سے چلتے ہیں نہ وقت سے پہلے طلوع ہوتے ہیں اور نہ وقت سے پہلے غروب ہوتے ہیں۔ (وحیدی) یعنی رات دن اور چاند سورج کا یہ نظام اس زبر دست خدا کا انتظام ہے جس کا علم آسمان و زمین کے ذرہ ذرہ پر محیط عموما قرآن میں لیل ونہار اور وشمش وقمر کی خلق اور تسخیر کو اسمائے حسنی ٰ میں سے ان دو صفاتی ناموں کے ساتھ ختم کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(6:96) سکنا۔ برائے تسکین۔ آرام۔ راحت۔ برکت ۔ جس سے سکون حاصل ہو۔ سکون سے اسم ہے۔ بسنے کی جگہ۔ آرام و سکون کی جگہ یا وقت۔ محلا للسکون (قرطبی) ۔
حسبانا۔ برائے حساب ۔ شمار۔ حسبان بمعنی حساب و شمار۔ حسب یحسب (نصر) کا مصدر ہے۔
قرآن مجید میں جو یہ آیا ہے ویرسل علیہا حسبانا (18:4) اور بھیج دے اس پر عذاب تو یہاں حسبان کی دو تفسریں کی گئی ہیں۔ (1) ایک آگ یا بھوکا۔ (2) دوسرا عذاب اور حقیقت میں حساب کے مطابق سزا۔
تقدیر۔ اندازہ ۔ مقدار کو مقرر کرنا۔ خواہ کسی نوعیت کے متعلق ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
لغات القرآن : آیت نمبر 95 تا 98 :
فالق (تنہا) الحب ( تم نے چھوڑا) النوی ( ہم نے دیا) ‘ الحی ( زندہ) المیت (مردہ) الاصباح ( صبح) سکن (سکون) ‘ تقدیر ( اندازہ) ‘ النجوم ( نجم) ۔ ستارہ) مستودع ( سپرد کرنے کی جگہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 95 تا 98 :
ان آیات میں اور ان کے بعد آنیوالی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو مٹانے کے لئے انسان کو بصارت اور بصیرت کی دعوت دی ہے۔ وہ معاملات فطرت جو دن رات مستقل طور پر ہوتے رہتے ہیں ‘ عموماً انسان انہیں نظر انداز کرجاتا ہے۔ اگر دیکھتا بھی ہے تو صرف ظاہر کو۔ اگر متاثر ہوتا ہے تو ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ وہ نہیں دیکھتا کہ ان مظاہر فطرت کے پیچھے حقیقی خالق ومالک کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص مشک نے ایک روز کہا کہ مجھ کو کیا پرواہ ہے، لات و منات خدا کے روبرو میری سفارش کو کافی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ بت پرستوں کے بت جن کو وہ اپنے حمایتی خیال کرتے ہیں، اور مالداروں کا مال اور اولادوالوں کی اولاد جس کے پیچھے لوگ اپنی عمر صرف کرتے ہیں، یہ سب یہیں دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ اللہ کے پاس ہر انسان ویسا ہی اکیلا جانے والا ہے جس طرح اکیلا دنیا میں آیا تھا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا سے کچھ ساتھ لے جانے کی چیز ہے تو وہ نیک عمل ہے۔
انسان کی پیدائش اور عجائبات قدرت
ان آیتوں میں ان عجائبات، موجودات دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
[35] یعنی آدم (علیہ السلام) سے۔
[36] یعنی رحم مادر۔
[37] یعنی قبر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(ف 2) اصل سہارا وہ ہے جس کے اختیارات وسیع ہیں جو انگوریوں کو پیدا کرنے والا جو موت کو زندگی میں تبدیل کرسکتا ہے ، اور زندگی کو موت میں جو رات کی تاریکی سے صبح کو ہویدا کرتا ہے ، اور رات کو آرام دہ بناتا ہے ، جس نے سورج اور چاند کے لئے ایک خاص نظام مقرر کر رکھا ہے ، اسے عزیز وعلیم کو چھوڑ کر تم کہاں بھاگ رہے ہو ۔
حل لغات :
فالق : مادہ فلق پھاڑنا ، چیرنا ۔
حسبانا : بمعنی باقاعدہ حساب سے ۔
Read the full tafseer →-96 وہ رات کی تاریکی میں سے صبح و صادق کو پھاڑ نکالنے والا اور صبح کو نمودار کرنے والا ہے اور اسی نے رات کو سکون اور موجب آرام و راحت بنایا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو معیار حساب بنایا اور سورج و چاند کی گردش کو حساب سے رکھا یہ ان دونوں کا ذریعہ حساب بنایا ان دونوں کو حساب سے رکھنا اور چلانا اس اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ایک نظام اور ضابطہ ہے جو کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ف 4۔ یعنی ان کی رفتار منضبط ہے جس سے اوقات کے انضباط میں سہولت ہو۔
Read the full tafseer →وہی رات کا پردہ چاک کر کے دن کو نمودار کرتا ہے :
149: فرمایا اچھا تم بتاؤ کہ یہ رات کے گہرے اندھیرے کی چادر کو پھاڑ کر صبح کو نکالنے والا کون ہے ؟ وہ اللہ ہی تو ہے جو دانے گٹھلی کو پھاڑ کر طرح طرح کے نباتات پیدا کرنے والا ہے۔ یہ بھی ان افعال و اعمال میں سے ہے جس میں جن بشر اور ساری کا ئنات کی قوتیں ہیچ ہیں اور ہر آنکھوں والا دیکھ کر یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ رات کی اندھری کے بعد صبح کا اجالا پیدا کرنے والا نہ کوئی انسان ہو سکتا ہے ، نہ فرشتہ اور نہ ہی کوئی دوسری مخلوق بلکہ یہ اس مافوق الادراک ہستی کا کام ہے جو سارے جہانوں کو پیدا کرنے والی ہے۔ فرمایا وہ ذات ” جس نے رات کو راحت اور سکون کا…
Read the full tafseer →Said in the second verse (96) is: فَالِقُ الْإِصْبَاحِ (He is) the One who causes the dawn to break.' The word: فَالِقُ (Faliq) means one who splits, and the word: الْإِصْبَاحِ (al-Isbah) here means the time of morning. Thus, the expression: فَالِقُ الْإِصْبَاحِ (Faliq al-labah) means one who splits the morning, that is, one who tears the dark layer of darkness apart and brings the morning out. This too is one of those functions of such magnitude that would render the combined powers of all Jinns and human beings and all others to nothing. It does not take much to realize the truth of it.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
62. The one who causes the seed-grain to split open under the surface of the earth and then makes it grow and appear on the surface as a plant is no other than God.
63. To 'bring forth the living from the dead' means creating living beings out of dead matter. Likewise, 'to bring out the dead from the living' means to remove the lifeless elements from a living organism.
Read the full tafseer →