Explained with ayahs 95–97
اس کی حیرت ناک قدرت
دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے جیسے سورة یٰسین میں ارشاد ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ) 36۔ یس :33) مخرج کا عطف فالق پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
سورة الْاَنْعَام 62
یعنی زمین کی تہوں میں بیج کو پھاڑ کر اس سے درخت کی کونپل نکالنے والا۔
سورة الْاَنْعَام 63
زندہ کو مردہ سے نکالنے کا مطلب بےجان مادہ سے زندہ مخلوقات کو پیدا کرنا ہے، اور مردہ کو زندہ سے خارج کرنے کا مطلب جاندار اجسام میں سے بےجان مادوں کو خارج کرنا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ پھاڑنے والا ہے دانہ کو اور گٹھلیوں کو (یعنی زمین میں دبانے کے بعد جو دانہ یا گٹھلی پھوٹتی ہے یہ اللہ ہی کا کام ہے) وہ جاندار (چیز) کو بےجان (چیز) سے نکال لاتا ہے (جیسے نطفہ سے آدمی پیدا ہوتا ہے) اور وہ بےجان (چیز) کو جاندار (چیز) سے نکالنے والا ہے (جیسے آدمی کے بدن سے نطفہ ظاہر ہوتا ہے) اللہ یہ ہے (جس کی ایسی قدرت ہے) سو تم (اس کی عبادت چھوڑ کر) کہاں (غیر اللہ کی عبادت کی طرف) الٹے چلے جا رہے ہو وہ (اللہ تعالیٰ) صبح (صادق) کا (رات میں سے) نکالنے والا ہے (یعنی رات ختم ہوجاتی ہے اور صبح صادق ظاہر ہوتی ہے) اور اس نے رات کو راحت کی چیز بنائی ہے (کہ سب تھکے تھکائے سو…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى۔
ایک ایک ذرہ توحید کا شاہد ہے : ‘ْحَبِّ ’ اور ‘ نوی ’ دانے اور گٹھلی کو کہتے ہیں۔ پہلے چھوٹی چیزوں سے آیات الٰہی کے بیان کا آغاز کیا ہے، پھر کائنات کی بڑی چزوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرمایا کہ ایک چھوٹے سے دانے اور چھوٹی سی گٹھلی پر بھی خدا کے سوا کسی اور کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ ان کو پھاڑ کر ان کے اندر سے انکھوے نکالے، پھر ان کو پودے اور درخت بنا دے۔ یہ خدا ہی کی قددرت اور اس کی حکمت ہے کہ وہ ایک ایک بیج اور ایک ایک گٹھلی کے اندر صلاحیتیں ودیعت فرماتا ہے، پھر ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے زمین، آسمان، ابر، ہوا، گرمی اور سردی، خزاں اور بہار سب…
Read the full tafseer →95۔ 1 یہاں سے اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت اور کاریگری کا بیان شروع ہو رہا ہے، فرمایا :۔ اللہ تعالیٰ دانے (حب) اور گھٹلی کو، جسے کاشتکار زمین کی طے میں دبا دیتا ہے، پھاڑ کر اس سے انواع و اقسام کے درخت پیدا فرماتا ہے۔ زمین ایک ہوتی ہے پانی بھی جس سے کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں، ایک ہی ہوتا ہے۔ لیکن جس جس چیز کے وہ دانے یا گٹھلیاں ہوتی ہیں، اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ مختلف قسم کے غلو اور پھلوں کے درخت ان سے پیدا فرماتا دیتا ہے۔ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی ہے، جو یہ کام کرتا ہو یا کر
سکتا ہو ؟
95۔ 2 یعنی دانے اور گٹھلیوں سے درخت اگا دیتا ہے جس میں زندگی ہوتی ہے اور وہ بڑھتا پھیلتا ہے اور پھل یا غلہ دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
35: بےجان سے جاندار کو نکالنے کی مثال یہ ہے کہ انڈے سے مرغی نکل آتی ہے اور جاندار سے بےجان کے نکلنے کی مثال جیسے مرغی سے انڈا
36: اس ترجمے میں دو باتیں قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ بظاہر قرآن کریم میں ”لوگوں !“ کا لفظ نظر نہیں آ رہا، لیکن در حقیقت یہ ذلکم میں جمع مخاطب کی ضمیر کا ترجمہ ہے۔ عربی کے قاعدے سے یہ جمع کی ضمیر مشار الیہ کی جمع نہیں ہوتی، بلکہ مخاطب کی جمع ہوتی ہے۔ دوسرے ”کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لیے جا رہا ہے“ اس ترجمے میں ”توفکون“ کے صیغہ مجہول کی رعایت کی گئی ہے۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ ان کی خواہشات ہیں جو انہیں گمراہ کر رہی ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 95۔
یہ وہ معجزہ ہے جس کے راز تک کوئی نہیں پہنچ سکا یہ تو بڑی بات ہوگی کہ کوئی یہ معجزہ کر دیکھائے ۔ کیا معجزہ ؟ یعنی زندگی کی تخلیق اور اس کی نشوونما اور اس کی حرکت ‘ ہر وقت ایک زندہ اور بڑھنے والے درخت سے مردہ بیج نکالتا ہے اور ایک بےجان گٹھلی ایک بڑھنے والے درخت سے نکلتی ہے ۔ پھر اس بیج اور اس گٹھلی کے اندر پوشیدہ زندگی ایک پودے اور ایک درخت کی شکل اختیار کرتی ہے ۔ یہ ایک خفیہ راز ہے جس کی حقیقت کا علم صرف اللہ کی ذات کریم کو ہے ۔ اس زندگی کا اصل مصدر اور منبع کیا ہے ‘ اس بات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ انسان نے جو بھی عملی ترقی کی ہے ‘ جس قدر زندگی کے ظاہری امور کا مطالعہ…
Read the full tafseer →4 یعنی زمین میں دبائے جانے کے بعد گٹھلی اور دانہ کو پھاڑ کر سبز پودہ اگانا یا جاندار کو بےجان اور بےجان کو جاندار سے نکالنا (' مثلا آدمی کو نطفہ سے نطفہ سے آدمی کو پیدا کرنا) اسی خدا کا کام ہے۔ پھر اسے چھوڑ کر تم کدھر بہکے جا رہے ہو ؟ کیا اور کوئی ہستی تمہیں ایسی مل سکتی ہے جو ان کاموں کو انجام دے سکے
Read the full tafseer →آیت 95 اِنَّ اللّٰہَ فٰلِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی ط۔
عالم خلق کے اندر جو امور اور معاملات معمول کے مطابق وقوع پذیر ہو رہے ہیں ‘ یہاں ان کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی زمین میں دبائی گئی ‘ کچھ دیر کے بعد وہ گٹھلی پھٹی اور اس میں سے دو پتے نکلے۔ اسی طرح پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ بظاہر یہ سب کچھ خود بخود ہوتا نظر آرہا ہے ‘ مگر حقیقت میں یہ سب کچھ ان فطری قوانین کے تحت ہو رہا ہے جو اللہ نے اس دنیا میں فزیکل اور کیمیکل تبدیلیوں کے لیے وضع کردیے ہیں۔ اس لیے اس کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا ذکر شیخ عبدالقادر…
Read the full tafseer →97۔ 1 نباتات کی روئیدگی میں اللہ کی قدرتیں :۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک اور قادر مطلق ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ وہ ہر قسم کے غلوں کے دانوں یا بیج کو اور ہر قسم کے پھلوں کی گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے غلہ کے بیج یا پھل کی گٹھلی کو جب زمین میں دبا دیا جاتا ہے پھر جب اس زمین کو سیراب کیا جاتا ہے تو یہ بیج یا گٹھلی پھٹ کردو حصوں میں بٹ جاتی ہے اور دو شاخیں نکلتی ہیں۔ ایک شاخ تو زمین کے اندر جڑ کی صورت میں نیچے کی طرف بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور دوسری شاخ کونپل بن کر زمین کو پھاڑ کر اس سے باہر نکل آتی ہے پھر اسی سے برگ و بار اور پھل پھول نکلنے شروع ہوجاتے ہیں اور اس بات کے باوجود کہ تخم ایک…
Read the full tafseer →141 ۔ مطلب یہ ہوا کہ جمادات، نباتات، حیوانات ہر صفت موجودات کا نظام تکوینی وتخلیقی سارے کا سارا اسی کے ہاتھ میں ہے اور چھوٹی بڑی ہر چیز کا دارومدار اسی پر ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دیوی دیوتا کی طرف متوجہ ہونا، کسی مشرکانہ نظریہ کو یا وہمیہ کو قابل التفات سمجھنا کس درجہ حمق وبے دانشی ہے۔ (آیت) ” ان اللہ فالق الحب والنوی “۔ نباتات کا خدا کوئی اور دیوی دیوتا نہیں جیسا کہ احمق مشرک قوموں نے فرض کرلیا ہے۔ نہ یہ ہے کہ نباتات میں روئیدگی از خود ہوجاتی ہے۔ ہر بیج ہر گٹھلی میں پھٹنے پھوٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا پھر وقت مناسب پر اس صلاحیت کو فعلیت میں لانا یہ سب کام اسی پروردگار عالم کا ہے۔ (آیت) ” یخرج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
آیت نمبر 95 تا 100
ترجمہ : بیشک بیج کو پھاڑ کر بناتات نکالنے والا اور گٹھلیوں کو چیر کو کھجور کے درخت نکالنے والا اللہ ہی ہے وہ جاندار کو بےجان سے جیسا کہ انسان اور پرندے کو نطفہ اور انڈے سے اور بےجان کو مثلاً نطفہ اور انڈے کو جاندار سے نکالنے والا ہے یہ شق کرنے والا نکالنے والا اللہ ہے تو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو تو تم دلیل کے موجود ہونے کے باوجود کس طرح ایمان سے پھرے جا رہے ہو، وہ (پردہ شب کو چیر کر) صبح کو نکالنے والا ہے (الاصباح) مصدر بمعنی صبح ہے یعنی وہ ستون صبح (صبح کاذب) کو چاک کرنے والا ہے اور ستون صبح تاریکی شب سے نکلنے والی دن کی اس روشنی کو کہتے ہیں جو ابتداء نمودار ہوتی ہے اور…
Read the full tafseer →ان اللہ فالق الحب والنوی بیشک اللہ پھاڑنے والا ہے دانہ کو اور گٹھلیوں کو۔
حسن قتادہ اور سدی کے نزدیک اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ بالی کے اندر سے دانہ اور درخت کھجور کے اندر سے گٹھلی کو برآمد کرتا ہے۔ زجاج نے کہا خشک دانے اور خشک گٹھلی کو چیر کر سبز کونپل نکالنے والا ہے۔ مجاہد نے کہا اس سے وہ شگاف مراد ہے جو گیہوں کے دانے اور کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے (یعنی یہ شگاف اللہ نے پیدا کیا ہے) ضحاک نے کہا خالق سے مراد ہے خالق۔ حَبٌّکا واحد حَبَّۃٌہے اس کا اطلاق اس بیج پر ہوتا ہے جو کھانے کے کام میں آتا ہے جیسے گیہوں ‘ جو ‘ چنا ‘ جوار ‘ چاول وغیرہ یعنی ہر قسم کا غلہ اور نویکا واحد نواۃ ہے اس کا اطلاق ان…
Read the full tafseer →(95) یعنی اللہ تعالیٰ ہر قسم کے دانوں کا پیدا کرنے والا ہے یا یہ کہ ان چیزوں کا خالق ہے جو دانوں اور گٹھلیوں میں ہے وہ گوشت کے لوتھڑے اور جانوروں کو نطفہ سے پیدا کرتا ہے پرندوں کو انڈے سے یا یہ کہ پھلوں اور بالوں کی گٹھلی اور دانہ سے جس کو ان تمام باتوں پر قدرت ہے وہی اللہ ہے اللہ ایسا نہیں کرتے تو پھر تم جھوٹ کیوں بولتے ہو۔
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى ۭ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس سے تعلق رکھنے والی کچھ چیزیں بیان کرنے کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور کمال قدرت و علم کا بیان شروع کیا جو اس سورت کا اصل موضوع ہے۔
”َالنَّوٰى ۭ“ یہ ”نَوَاۃٌ“ کی جمع ہے، اس لیے ترجمہ ”گٹھلیاں“ کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ زمین کے اندر دانے کو پھاڑ کر لہلہاتا ہوا پودا اور گٹھلی کو پھاڑ کر کھجور کا ہرا بھرا درخت نکالتا ہے۔ اس کی کاری گری دیکھیے کہ مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے، نطفے اور انڈے سے جان دار، دانے اور گٹھلی سے زندہ درخت اور کافر سے مسلمان کو پیدا کرتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے، جیسے حیوان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 95
قولہ تعالیٰ آیت : ان اللہ فالق الحب والنوی اللہ تعالیٰ کی صنعت و کاریگری کے عجائب کو شمار کیا گیا ہے جن میں سے ادنی شی سے بھی ان کے الہٰ عاجز ہیں۔ الفلق کا معنی شق کرنا ( پھاڑنا) ہے۔ یعنی وہ مردہ گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور اس سے سبز پتے نکالتا ہے، اور اسی طرح دانہ بھی ہے اور وہ سبز پتوں سے مراہ گٹھلی اور دانے نکالتا ہے۔ اور یہی معنی ہے کہ وہ مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے۔
آیت : یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی حسن اور قتادہ سے یہی منقول ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : فالق کا معنی خالق ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : فلق سے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی پیدا کیا گھٹلی کو اور دانے کو۔
(2) امام عبد الرزاق، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی پھاڑتا ہے دانے کو اور گھٹلی کو سبزے سے۔
(3) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی وہ دو پھٹن جو دانے اور گھٹلی میں پائی جاتی ہے۔
(4) سعید بن منصور، اور ابن منذر نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی وہ پھٹن جو گھٹلی اور دانے میں ہوتی ہے۔
(5) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ (ہی ) ] فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى ۭ [ گٹھلی اور دانے پھاڑنے والا ہے ] يُخْرِجُ [ وہ نکالتا ہے ] الْحَيَّ [ زندہ کو ] مِنَ الْمَيِّتِ [ مردہ (میں) سے ] وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ [ اور (وہ) مردہ کو نکالنے والا ہے ] مِنَ الْـحَيِّ ۭ [ زندہ (میں) سے ] ذٰلِكُمُ [ یہ ] اللّٰهُ [ اللہ ہے ] فَاَنّٰى [ پھر کہاں سے ] تُؤْفَكُوْنَ ] [ تم لوگ پھیرے جاتے ]
ل ق : (ض) فلقا ۔ کسی چیز کو پھاڑ کر اس میں سے کسی چیز کو ظاہر کرنا ۔ جیسے رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح کی روشنی ظاہر کرنا ۔ فالق ۔ اسم الفاعل ہے (1) پھاڑنے والا ۔ (2) ظاہر کرنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 95 ۔ فلق کسی چیز کے پھٹنے…
Read the full tafseer →مظاہر قدرت الٰہیہ اور دلائل توحید
اس عالم میں اللہ جل شانہٗ کے جو تصرفات ہیں ان آیات میں ان میں سے بعض تصرفات کا تذکرہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جو بندوں پر نعمتیں ہیں ان میں سے بعض یاد دلائی ہیں۔ ان سب میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں بھی ہیں، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دانوں اور گٹھلیوں کو پھاڑ دیتا ہے ذرا سا دانہ اور چھوٹی سی گٹھلی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ کوئی دانہ تخم بن جائے جس سے کھیتی کے پودے نکل آئیں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ دانہ پھٹ جاتا ہے اس سے پودا نکل آتا ہے۔
اسی طرح جب گٹھلی سے کوئی درخت نکالنا منظور ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ گٹھلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
ذکر مظاہرقدرت و عجائب صنعت برائے اثبات الوہیت ووحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ان اللہ فالق الحب والنوی۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون
(ربط) گزشتہ آیات میں اثبات نوبت کا بیان تھا اب اس کے بعد پھر اسی مضمون توحید کی طرف رجوع فرماتے ہیں جو شروع سورت سے چلا آرہا ہے ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اشیاء متضادہ ومختلفہ پر اپنی قدرت کاملہ کے آثار اور اپنی مخلوقات کے عجائب حالات کو بیان کیا تاکہ وجود صانع اور اس کی کمال قدرت اور کمال علم و حکمت کی دلیل بنیں اور مشرکین پر یہ امر واضح ہوجائے کہ ان کے تمام معبودان باطلہ اور شرکاء مہملہ ان عجائب قدرت میں سے ایک ادنی سے ادنی چیز کے بھی پیدا کرنے سے عاجز ہیں پس ومستحق…
Read the full tafseer →ف 101: یہ توحید پر گیارہویں عقلی دلیل ہے یعنی ہر چیز میں متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔ یہ دلیل یہاں سے لے کر اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ تک ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے بہت سے نشانات عالم علوی اور عالم سفلی سے متعلق بیان فرمائے ہیں۔ الحب، حبۃ کی جمع ہے۔ حبۃ کے منعی دانے کے ہیں۔ النوی، نواۃ (گٹھلی) کی جمع ہے جب دانہ یا گٹھلی کو زمین میں بو دیا جاتا ہے تو دست قدرت ان میں شگاف ڈال دیتا ہے جس میں سے پودا پھوٹ نکلتا ہے۔ وہ حی (جاندار، مومن یا پرندے) سے میت (بےجان، کافر یا انڈے) کو نکالتا ہے اور میت سے حی کو یعنی کافر سے مومن کو پیدا کرتا ہے اور بےجان انڈے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات وار شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا۔ پھر دیگر اٹھارہ انبیاء کا ذکر کر کے توحید کے مئلے کی وضاحت فرمائی اس کے ساتھ منصب رسالت اور انبیاء کے فرائض کا ذکر ہوا ‘ منکرین رسالت کا رد ہوا اور تورات کو بطور مثال پیش کیا ۔ پھر آخر میں قرآن حکیم جیسی بابرکت کتاب کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے ج اللہ پر افتراء باندھتا ہے اور جو اپنی طرف وحی آنے کا جھوٹا دعویٰ کرتا یا جو شخص قرآن پاک کی مثل لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسے ظالموں کی موت کے وقت سختیوں کا بھی ذکر ہوا اور ان کے لئے بری جزاء…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى 0ۭ يُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْـحَيِّ 0ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ 95
فلق
الفَلْقُ : شقّ الشیء وإبانة بعضه عن بعض . يقال : فَلَقْتُهُ فَانْفَلَقَ. قال تعالی: فالِقُ الْإِصْباحِ
[ الأنعام/ 96] ، إِنَّ اللَّهَ فالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوى [ الأنعام/ 95] ، فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] ، وقیل للمطمئنّ من الأرض بين ربوتین : فَلَقٌ ، وقوله : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ [ الفلق/ 1] ، أي : الصّبح، وقیل : الأنهار المذکورة في قوله : أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَراراً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ترکیب : کذبا افتری کا مفعول بھی ہوسکتا ہے اور مفعول مطلق بھی اور مفعول لہ بھی۔ اوقال عطف ہے افتری پر ولم یوحی الخ موضع حال میں ہے اذ ظرف ہے تری کا الظالمون مبتداء ظرف خبر۔
تفسیر : جس طرح نبوت اور الہامِ الٰہی کا انکار خدا تعالیٰ کی سخت ناقدری کرنا ہے۔ اسی طرح خدا پر جھوٹ باندھنا یا نبوت اور وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا بھی بڑا ظلم ہے جیسا کہ پیغمبر کے مقابلہ میں یہ کہہ دینا کہ میں بھی جیسا کچھ خدا نے نازل کیا نازل کرسکتا ہوں بڑا ظلم ہے۔ ومن اظلم الی انزل اللّٰہ میں یہی بیان ہے۔ ایسی باتیں بھی نزول قرآن کے وقت لوگوں نے کہیں تھیں۔ چناچہ قتادہ کہتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کچھ تک بندی سے کیا کرتا تھا جس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
سورة الانعام میں باقی مکی سورتوں کی طرح توحید ‘ رسالت اور آخرت کو بنیادی عقائد کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور مختلف اسالیب میں مسلسل اس پر بحث جاری ہے۔ انداز اس کا یہ ہے کہ زیادہ تر زور عقیدہ توحید پر دیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور کبھی اس کے ضمن میں رسالت اور آخرت کو بھی موضوع بنایا جاتا ہے۔ دلائل کا انداز بےحد متنوع ہے ‘ کہیں دلائل آفاق کا ذکر ہے کہیں دلائل انفس کا۔ کہیں عقلی دلائل سے کام لیا جاتا ہے ‘ کہیں فطری اور تاریخی دلائل سے۔ دو رکوع پہلے تاریخی دلائل کے ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی دعوت کی تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے ان کے استدلال کے انداز کو بھی واضح…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ زمین میں پڑے ہوئے دانے کو اگاتا اور نکالتا ہے۔ اسی طرح وہ مردہ انسان کو قبر سے زندہ کرکے نکالے گا۔ اب مسلسل آیات میں نباتات، آفاق اور دیگر حوالوں سے توحید باری تعالیٰ کے دلائل دیے جاتے ہیں۔
زندگی کی پیدائش اور حرکت ایک معجزہ ہے جسے پیدا کرنا ایک طرف، اس کے بھید کو بھی کوئی نہیں پاسکتا۔ زمین میں ہر لحظہ دانوں سے پھوٹ پھوٹ کر تنا ور اور پھلنے پھولنے والے درخت نکلتے ہیں۔ خاموش، ساکن، اور سوکھی گٹھلیوں سے بلند کھجوریں پھوٹتی ہیں۔ جو زندگی دانے اور گٹھلی میں پوشیدہ ہے وہ پودے اور کھجور میں آکرظاہر اور متحرک ہوجاتی ہے۔ اس کا بھید ایک سر بستہ راز ہے جسے صرف…
Read the full tafseer →منکرین بعث کے لئے مشاہداتی دلائل :
آیت 95 : اِنَّ اللّٰہَ فٰلِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی نبات اور درخت یعنی اس نے سٹے سے دانے کو اور گٹھلی سے کھجور کو پھاڑ نکالا۔ اَلْفَلَقُ مجاہد کہتے ہیں اس سے وہ شگاف مراد ہے جو گٹھلی اور دانے میں پائے جاتے ہیں۔ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِبڑھنے والی ترو تازہ نبات خشک دانے سے وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ خشک دانہ ترو تازہ نبات میں سے یا انسان نطفہ سے اور نطفہ انسان سے۔ یا مومن سے کافر اور کافر سے مومن۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف اس مخلوق سے دلیل پیش کی جو ان کے مشاہدہ میں تھی۔ کیونکہ وہ بعث بعد الموت کے منکر تھے۔ پس ان کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ وہ…
Read the full tafseer →تفسیر (95) (ان اللہ فالق الحب والنوی) خلق کا معنی پڑھانا۔ (الفلق) پھاڑنا۔ حسن، قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ دانہ سے خوشہ کو اور گٹھلی سے پودا کو پھاڑ کر نکالتا ہے۔ ” حب حبۃ “ کی جمع ہے جس چیز کی بھی گٹھلی نہ ہو اس کو ” حب “ کہا جاسکتا ہے جیسے گندم، جو، چاول وغیرہ۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں خشک دانہ اور خشک گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور اسی سے سبز پتے نکالتا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” نویٰ نواۃ “ کی جمع ہے ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کا دانہ نہ ہو جیسے کھجور، شفتا لو وغیرہ۔ یعنی دو سوراخ جوان دونوں میں ہیں یعنی پودوں سے پھاڑتا ہے اور پودوں کو ان سے نکالتا ہے اور گٹھلی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(95 ۔ 97) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور نبوت کا ذکر فرمایا تھا اب اس ڈیڑھ رکوع میں ان عجائبات موجودات دنیا کا ذکر فرمایا ہے جن کے پیدا کرنے میں وہ وحدہ لاشریک منفرد ہے مقصد ان موجودات کے ذکر فرمانے سے یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں دوسخت عیب جو تھے اس کی اصلاح ہوجائے بڑا عیب تو بت پرستی کا تھا اس کی اصلاح موجودات پر غور کرنے سے یوں ہوسکتی ہے کہ دیکھنے میں تو وہ موجودات روز مرہ کی چیزیں معلوم ہوتی ہیں لیکن ہر شے کے پیدا کرنے میں وہ قدرت اور حکمت نہیں حاصل ہوسکتی مثلا علاوہ روایات شرعی کے عقل سے بھی یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ زمین پانی پر پھیلائی گئی ہے کیونکہ جہاں زمین کو کھودا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
آیت 95
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بےپایاں فضل و کرم اور پانی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں، خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ان اللہ فالق الحب و النوی) ” بیشک اللہ پھاڑ نکلتا ہے دانہ اور گٹلھی “ یہاں دانہ ہرق سم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا مثلاً وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور یدگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →180 ایک ایک دانہ توحید خداوندی کا گواہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی ہے پھاڑ نکالنے والا دانے اور گٹھلی کو۔ سو زمین کے نیچے سے اس طرح دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر اس سے پودا نکالنا یہ اسی وحدہ لاشریک کی کارستانی ہے۔ اس سے اس کی بےپایاں قدرت کا بھی پتہ چلتا ہے اور بےانتہا رحمت و عنایت کا بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب اس کی اس قدرت و عنایت میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو یہ اسی وحدہ لاشریک کی قدرت اور اسی کی حکمت ہے کہ وہ ایک ایک بیج اور ایک ایک گٹھلی کے اندر اس طرح اگنے اور پھوٹ نکلنے کی صلاحیتیں ودیعت فرماتا ہے۔ اور پھر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
قدرت کے کرشمے
تشریح : ان آیات کو پڑھ کر کون شخص ایسا ہے جو اللہ کی ذات سے متعارف نہ ہوجائے، یعنی جو اپنے پیدا کرنے والے واحد اللہ کو پہچان نہ سکے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی نشوونما اور اس کی زندگی گزارنے کے تمام وسیلے، یعنی رہنے کی جگہ زمین، کھانے پینے کے لیے پھل، پھول اور اناج، وقت کا اندازہ کرنے کے لیے دن اور رات کا نکلنا، آرام کرنے کے لیے رات کا پرسکون خاموش اور انتہائی خواب آور ماحول، پھر دن کا طلوع ہونا کہ جس میں ہر چیز روشن اور ظاہر نظر آنے لگتی ہے۔ چرند پرند اور انسان پیٹ پالنے کے لیے رزق کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ نئے نئے کام کرتا ہے اپنی اور پوری نسل انسانی کی سہولت، آرام اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 92 تا 95 ۔
اسرار و معارف :
نبی کی بشریت :
اسلام نے پوری دنیائے کفر کو چیلنج کرتے ہوئے ساری انسانیت کو ایک معبود برحق کے ساتھ ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دی اور اس طرح سب کافر اسلام دشمنی پہ جمع ہوگئے سوائے ان خوش نصیب لوگوں کے جنہیں نور ایمان نصیب ہوا اور ظلمت کفر سے نجات ملی مگر یہودی اسلام دشمنی میں اول روز سے پیش پیش رہے حتی کہ مشرکین مکہ بھی علمائے یہود سے اعتراض سیکھ کر حضور اکرم ﷺ پہ پیش کرتے تھے اور اس غرض سے مدینہ آتے جاتے رہتے کہ اکثر یہودی عالم وہاں رہتے تھے آخر یہودی علما کے سربراہ نے انہیں کہا کہ کسی بشر پر یا کسی انسان پر اللہ کی طرف سے کبھی کوئی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی جب وہ پھٹتے ہیں تو ان سے ہرے بھرے کھیت اور درخت اگتے ہیں۔ (کذافی الوحیدی) توحید ونبوت اور اس کی بعض تفریعات پر بحث کے بعد اب دوبارہ سانع حکیم کے وجود کا اثبات اور اس کے کمال علم وقدرت کا بیان شرع کیا ہے جو اس سورت کا اصل موضوع ہے۔ (رازی)10 جیسے جاندار کو نطفہ سے اور نطفہ ی افضلہ کو جاندار سے سرسبز لہلہاتی کھیتی کو خشک دانے سے اور خشک دانے کو سرسبز لہلہلاتی کھیتی سے پیدا کرتا ہے۔11 سچے خدائے پاک وبر تر کو چھوڑکر اور روں کو اپنا معبود بناتے ہو۔
Read the full tafseer →(6:95) فالق۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ فلق مصدر۔ پھاڑنے والا۔ بیج اور گٹھلی کو پھاڑ کر سبزہ نکالنے والا۔ (فالق الحب والنوی) تاریکی کو پھاڑ کر صبح کرنے والا۔ فالق الاصباح۔
الحب۔ دانہ۔ غلہ۔ گندم۔ اناج۔ اس کی جمع حبوب ہے۔ عام (دوائی وغیرہ کی گولیوں کو) بھی حب کہتے ہیں۔
النوی۔ النواۃ۔ اس کی واحد۔ کھجور کی گٹھلیاں۔
تؤفکون تم پلٹائے جاتے ہو۔ تم پھیرے جاتے ہو۔ افک سے جس کے معنی کسی شے کے اپنے اصل رض سے پھرنے کے ہیں
یہاں اعتقاد میں حق سے باطل کی طرف ۔ قول میں راستی سے دروغ بیانی کی طرف اور فعل میں نکوکاری سے بدکاری کی طرف پھیرا جانا مراد ہے۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔
ذلکم اللہ فانی تؤفکون۔ یہ ہے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
لغات القرآن : آیت نمبر 95 تا 98 :
فالق (تنہا) الحب ( تم نے چھوڑا) النوی ( ہم نے دیا) ‘ الحی ( زندہ) المیت (مردہ) الاصباح ( صبح) سکن (سکون) ‘ تقدیر ( اندازہ) ‘ النجوم ( نجم) ۔ ستارہ) مستودع ( سپرد کرنے کی جگہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 95 تا 98 :
ان آیات میں اور ان کے بعد آنیوالی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو مٹانے کے لئے انسان کو بصارت اور بصیرت کی دعوت دی ہے۔ وہ معاملات فطرت جو دن رات مستقل طور پر ہوتے رہتے ہیں ‘ عموماً انسان انہیں نظر انداز کرجاتا ہے۔ اگر دیکھتا بھی ہے تو صرف ظاہر کو۔ اگر متاثر ہوتا ہے تو ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ وہ نہیں دیکھتا کہ ان مظاہر فطرت کے پیچھے حقیقی خالق ومالک کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص مشک نے ایک روز کہا کہ مجھ کو کیا پرواہ ہے، لات و منات خدا کے روبرو میری سفارش کو کافی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ بت پرستوں کے بت جن کو وہ اپنے حمایتی خیال کرتے ہیں، اور مالداروں کا مال اور اولادوالوں کی اولاد جس کے پیچھے لوگ اپنی عمر صرف کرتے ہیں، یہ سب یہیں دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ اللہ کے پاس ہر انسان ویسا ہی اکیلا جانے والا ہے جس طرح اکیلا دنیا میں آیا تھا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا سے کچھ ساتھ لے جانے کی چیز ہے تو وہ نیک عمل ہے۔
انسان کی پیدائش اور عجائبات قدرت
ان آیتوں میں ان عجائبات، موجودات دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
[33] یعنی جاندار درخت کو بےجان دانے اور گٹھلی سے اور انسان و حیوان کو نطفے سے اور پرندے کو انڈے سے۔
[34] یعنی جاندار درخت سے بےجان دانے اور گٹھلی کو اور انسان و حیوان سے نطفے کو اور پرندے سے انڈے کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–97
(ف 2) اصل سہارا وہ ہے جس کے اختیارات وسیع ہیں جو انگوریوں کو پیدا کرنے والا جو موت کو زندگی میں تبدیل کرسکتا ہے ، اور زندگی کو موت میں جو رات کی تاریکی سے صبح کو ہویدا کرتا ہے ، اور رات کو آرام دہ بناتا ہے ، جس نے سورج اور چاند کے لئے ایک خاص نظام مقرر کر رکھا ہے ، اسے عزیز وعلیم کو چھوڑ کر تم کہاں بھاگ رہے ہو ۔
حل لغات :
فالق : مادہ فلق پھاڑنا ، چیرنا ۔
حسبانا : بمعنی باقاعدہ حساب سے ۔
Read the full tafseer →-95 بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے یعنی بیج ہر قسم کے اور ہر قسم کی گٹھلیاں جب زمین میں دبا دی جائیں تو ان کو شگاف دیکر اگانا یہ اسی کا کام ہے وہی جان دار کو بےجان سے نکالنا ہے اور بےجان کو جاندار سے نکالنے والا ہے یعنی انڈے سے مرغی اور مرغی سے انڈا یا نطفہ سے انسان اور انسان سے نطفہ یہی تو اللہ تعالیٰ ہے جو عبادت کا حقیقی مستحق ہے پھر تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو یعنی غیروں کی عبادت کے لئے
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی زمین میں دبانے کے بعد جو دانہ یا گٹھلی پھوٹتی ہے تو یہ اللہ ہی کا کام ہے۔
Read the full tafseer →دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا وہی ہے :
148: زر نظر آیت 94 سے آیت 108 تک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل بیان کئے گئے ہیں اور سب سے پہلے ربوبیت عالم اور زندگی و موت سے استدلال کیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے سب سے زیادہ نمایاں حقیقت نظام ربوبیت کی یکسانیت اور ہم آہنگی ہے یعنی ہر وجود کی پرورش کا سروسامان جس طرح اور جس اسلوب پر کیا گیا ہے وہ ہر گوشے میں ایک ہی ہے اور ایک ہی اصل وقاعدہ رکھتا ہے۔ پتھر کا ایک ٹکٹا تمہیں گلاب کے سر سبز و شاداب اور عطر بیز پھول سے کتنا ہی مختلف دکھائی دے لیکن دونوں کی پرورش کا اصول واحوال پر نظر ڈالو گے تو صاف آجائے گا…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the previous verses was how obstinate and unmindful of consequences the disbelievers and polytheists were. Since such evils are caused when people remain unaware of Allah and His unmatched knowledge and power, the present four verses provide the antidote. Here, Allah Ta’ ala cites some samples of His Knowledge and Power, and of blessings and favours bestowed on human beings, a little reflection in which would make every sensible person admit that feats of such magnitude cannot be accomplished by any power other than that of Almighty Allah.
In the first verse (95), it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
62. The one who causes the seed-grain to split open under the surface of the earth and then makes it grow and appear on the surface as a plant is no other than God.
63. To 'bring forth the living from the dead' means creating living beings out of dead matter. Likewise, 'to bring out the dead from the living' means to remove the lifeless elements from a living organism.
Read the full tafseer →