Explained with ayahs 93–94
مغضوب لوگ
اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں۔ خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں ہو جو اللہ کی سچی وحی سے صف آرائی کا مدعی ہو۔ چناچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے کہ وہ قرآن کی آیتوں کو سن کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں، کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
سورة الْاَنْعَام 61
پہلی دلیل اس بات کے ثبوت میں تھی کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہوسکتا ہے اور عملاً ہوا بھی ہے۔ اب یہ دوسری دلیل اس بات کے ثبوت میں ہے کہ یہ کلام محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے یہ خدا ہی کا کلام ہے۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے چار باتیں شہادت کے طور پیش کی گئی ہیں
ایک یہ کہ یہ کتاب بڑی خیر و برکت والی ہے، یعنی اس میں انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اصول پیش کیے گئے ہیں۔ عقائد صحیحہ کی تعلیم ہے، بھلائیوں کی ترغیب ہے، اخلاق فاضلہ کی تلقین ہے، پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہدایت ہے، اور پھر یہ جہالت، خودغرضی، تنگ نظری، ظلم، فحش اور دوسری ان برائیوں سے، جن کا انبار تم لوگوں نے کتب مقدسہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف نازل ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان پر حجت تمام کرنے کے بعد تیسری آیت میں ارشاد فرمایاوَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ، یعنی جس طرح تورات کا خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونا انھیں بھی تسلیم ہے اسی طرح یہ قرآن بھی ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے حق و صدق ہونے کے واسطے ان کے لئے یہ شہادت کافی ہے کہ قرآن ان سب چیزوں کی تصدیق کرتا ہے جو تورات و انجیل میں نازل ہوئی ہیں، اور تورات و انجیل کے بعد اس کے نازل کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ یہ دونوں کتابیں تو بنی اسرائیل کے لئے بھیجی گئی تھیں، ان کے دوسری شاخ بنی اسماعیل جو عرب کہلاتے ہیں اور ام القریٰ یعنی مکہ اور اس کے اردگرد…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي الایۃ، یہاں غائب کو حاضر کے اسلوب میں کردیا ہے تاکہ وَلَو تَری، میں ان کے جس انجام بد کا حوالہ دیا ہے اس کی ہولناکی نگاہوں کے سامنے آجائے گویا قیامت آگئی اور ان سے خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ دیکھ لو جس طرح تم دنیا میں بےسرو سامان گئے تھے۔ اسی طرح بےسرو سامان آج ہمارے حضور میں حاضر ہوگئے، نہ تمہارے ساتھ وہ مال و متاع اور لاؤ لشکر ہے جس کے بل پر تم اتراتے تھے اور نہ وہ شرکاء و شفعاء ہی ہیں جن کو تم ہمارا ساجھی گمان کیے بیٹھے تھے اور جن سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ ہمارے مقابل میں تمہارے کام آئیں۔ خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان…
Read the full tafseer →94۔ 1 فرادی فرد کی جمع ہے جس طرح سکاری سکران کی اور کسالی کسلان کی جمع ہے۔ مطلب ہے کہ تم علیحدہ علیحدہ ایک ایک کر کے میرے پاس آؤ گے، تمہارے ساتھ نہ مال ہوگا نہ اولاد اور نہ معبود، جن کو تم نے اللہ کا شریک اور اپنا مددگار سمجھ رکھا تھا، یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی فائدہ پہنچانے پر قادر نہ ہوگی۔ اگلے جملوں میں انہی امور کی مزید وضاحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
33: یہاں سے بعض یہودیوں کی تردید مقصود ہے، آنحضرت ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مرتبہ ان کے ایک سردار مالک بن صیف نے غصے میں آکر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔
34: یعنی پوری کتاب کو ظاہر کرنے کے بجائے تم نے اسے حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ جو حصے تمہارے مطلب کے مطابق ہوتے ہیں ان کو تو عامل لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتے ہو، مگر جو حصے تمہارے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں، انہیں چھپالیتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
(آیت) ” نمبر 93 تا 94۔
حضرت قتادہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سین یہ روایت ہے کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب اور اس کی بیوی سجاح بنت حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسود عنسی کے بارے میں بھی ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی ہے ۔ رہی یہ بات کہ (آیت) ” سانزل مثل ما انزل اللہ “۔ (6 : 93) یا جس نے کہا کہ ” میری طرف بھی وحی آئی ہے ۔ “ تو حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد عبداللہ ابن سعد ابن ابی سرح ہیں ۔ یہ ایمان لائے تھے ۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے ۔ جب سورة المومنون کی یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →2 یعنی نہ سر پہ ٹوپی نہ پاؤں میں جوتی تہی دست چلے آ رہے ہو اور جس سازو سامان پر فخر و ناز تھا اسے ہمراہ نہیں لائے کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہو۔
3 یعنی جن کو تم سمجھتے تھے کہ آڑے وقت میں ہمارا ہاتھ بٹائیں گے اور مصیبت میں ساتھ ہوں گے ' وہ کہاں چلے گئے آج ہم ان کو تمہاری سفارش اور حمایت پر نہیں دیکھتے۔ حمایت و نصرت کے وہ علاقے آج ٹوٹ گئے اور جو لمبے چوڑے دعوے تم کیا کرتے تھے سب رفوچکر ہوئے۔
Read the full tafseer →آیت 94 وَلَقَدْ جِءْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ
یعنی آج اپنے تمام لاؤ لشکر ‘ مال و متاع اور خدم و حشم سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ آج کوئی بھی ‘ کچھ بھی تمہاری مدد کے لیے تمہارے ساتھ نہیں۔ یہی بات سورة مریم میں اس طرح کہی گئی ہے : وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا کہ قیامت کے دن ہر شخص کا محاسبہ انفرادی حیثیت میں ہوگا۔ اور ظاہر ہے اس کے لیے ہر کوئی اکیلا کھڑا ہوگا ‘ نہ کسی کے رشتہ دار ساتھ ہوں گے ‘ نہ ماں باپ ‘ نہ اولاد ‘ نہ بیوی ‘ نہ بیوی کے ساتھ اس کا شوہر ‘ نہ سازو سامان نہ خدم و حشم !
یہاں ایک اور اہم بات نوٹ کیجیے کہ خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ کا…
Read the full tafseer →97 مرنے کے بعد انسان کی بےبسی :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مندرجہ بالا اقسام سے بھی بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار تصرف میں کسی دوسرے کو بھی شریک سمجھا جائے۔ اسے اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے، حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ ہمارے یہ معبود بت یا اولیاء و بزرگ اللہ سے سفارش کر کے ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ موت کے ساتھ ہی انسان کی اللہ کے حضور پیشی ہوجاتی ہے اس پیشی کے وقت نہ اس کا مال و دولت موجود ہوتا ہے نہ رشتہ دار نہ وہ بزرگ جن کے متعلق انہوں نے سستی نجات کا عقیدہ وابستہ کر رکھا تھا کیونکہ موت کے بعد انسان ویسے ہی تن…
Read the full tafseer →140 ۔ یہ سارا مخاطبہ کافروں سے حشر کے دن ہوگا (آیت) ” لقد جئتمونا فرادی “۔ اب تمہارے ساتھ نہ وہ جتھے اور پارٹیاں ہیں نہ بڑے بڑے لاؤ لشکر جن پر تمہیں گھمنڈ رہا کرتا تھا، اور نہ خود تمہارے پاس کوئی لباس یا وردی ہے، خالی خولی اسی طرح آئے ہو، جس طرح دنیا میں پیدا ہوئے تھے، والمعنی جئتمونا واحد واحدا کل واحدمنکم منفردا بلااھل ولا مال ولا ولد ولا نصر ممن کان یصاحبکم فی الدنیاولم ینفعکم ما عبدتم من دون اللہ (قرطبی) ای منفردین عن الاعوان والاوثان التی زعمتم انما شفعاء کم وعن الاموال ولا ولاد وسائر ما اثرتموھا من الدنیا (روح) (آیت) ” وترکتم ما خولنکم ورآء ظھورکم “۔ مال و دولت اور دنیوی علوم وفنون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
آیت نمبر 91 تا 94
ترجمہ : یہود نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی یعنی جیسی تعظیم کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی یا جیسی معرفت کا حق تھا ویسا حق ادا نہیں کیا جبکہ نبی ﷺ سے قرآن میں مخاصمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ ان سے پوچھو کہ اس کتاب کو کس نے نازل کیا جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اس کی کیفیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کیلئے نور اور ہدایت تھی، جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے یعنی اس کو اوراق متفرقہ میں لکھ رکھا ہے، (تجعلونَہٗ ) تینوں مقامات میں یاء اور تاء کے ساتھ ہے جن کو تم ظاہر کرتے ہو یعنی ان میں سے جن باتوں کو تم ظاہر کرنا پسند کرتے ہو ظاہر…
Read the full tafseer →ولقد جئتمونا فرادی (مرنے کے بعد اور قیامت کے دن حساب کتاب اور جزا و سزا کے لئے) تم اکیلے ہمارے پاس آ وگئے یعنی نہ مال نہ اولاد نہ دوست احباب اور مددگار اور نہ وہ دنیوی چیزیں جن کو تم نے اپنے لئے چھانٹ رکھا تھا۔ یا اکیلے آنے سے یہ مراد ہے کہ وہ بت جن کو اپنے خیال میں تم نے اپنا سفارشی سمجھ رکھا تھا وہ تمہارے ساتھ نہ ہوں گے۔ فرادیفرد کی جمع ہے آخری الف تانیث کا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے ملائکہ کے اس قول کی خبر دی ہے جو مرنے کے وقت یا قیامت کے دن فرشتے کافروں سے کہیں گے۔ کلام کی رفتار بتارہی ہے کہ مرنے کے وقت فرشتے یہ کلام کریں گے کیونکہ اس کلام کا عطف الیوم تجزون پر ہے۔
کما خلقنکم اول مرۃ (ایسے…
Read the full tafseer →(94) بغیر مال واولاد کے خالی ہاتھ آگئے، جیسا کہ دنیا میں بغیر مال و اولاد کے تمہیں پیدا کیا تھا اور جو ہم نے تمہیں دیا تھا، اسے دنیا ہی میں پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے بتوں کو نہیں دیکھ رہے جن کو تم سفارشی اور ہمارے شریک جانتے تھے، حقیقتا تمہاری دوستی اور محبت کا خاتمہ ہوگیا اور تمہارے وہ معبود جن کی تم پوجا کیا کرتے تھے اور ان کے سفارشی ہونے کا دعوی کرتے تھے وہ سب تم سے گئے گزرے۔
شان نزول : (آیت) ”ولقد جئتمونا“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نضر بن حارث نے کہا کہ عنقریب لات وعزی سفارش کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فمرائی کہ تم ہمارے پاس تنہا تنہا آؤ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي۔۔ : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ آج تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے ہو کر آئے ہو اور جو مال و اولاد تمہارے پاس تھا وہیں چھوڑ آئے ہو اور ہم تمہارے ساتھ وہ سفارشی بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم کہتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس بات کا حق دار ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں یہ بھی حق رکھتے ہیں۔ لاؤ دکھاؤ۔ یہ ڈانٹنے کے لیے کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 94
قولہ تعالیٰ آیت : ولقد جئتمونا فرادٰی یہ حشر سے عبارت ہے اور فرادی حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے اور یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ اس میں الف تانیث کا ہے۔ ابو حیوہ نے فرادا تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بنی تمیم کی لغت ہے، اور وہ محل رفع میں فراد نہیں کہتے۔ احمد بن یحییٰ نے فراد بغیر تنوین کے بیان کیا ہے، انہوں نے کہا : یہ ثلاث اور رباع کی مثل ہے۔ اور فرادی، فردان کی جمع ہے جیسا کہ سکاری، سکران کی جمع ہے اور کسالی، کسلان کی جمع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا واحد فرد ہے۔
اس میں را جمزوم ہے اور فرد را کے کسرہ کے ساتھ۔ اور فرد را کے فتحہ کے ساتھ اور فرید ہے۔ اور معنی یہ ہے : تم…
Read the full tafseer →میدان محشر میں حاضری کی کیفیت
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نضر بن حارث نے کہا عنقریب میرے لئے لات اور عزی سفارش کریں گے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ولقد جئتمونا فرادی ساری آیت۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی لفظ آیت ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اور عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہائے افسوس کہ بلاشبہ مردوں اور عورتوں کو اکھٹا اٹھایا جائے گا۔ ان کا بعض بعض کی شرمگاہ کو دیکھے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان میں سے ہر ایک آدمی کے لئے ایک حال ہوگا جو اسے بےنیاز کردے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا [ اور بیشک تم لوگ آگئے ہو ہمارے پاس ] فُرَادٰي [ اکیلے اکیلے ] كَمَا [ جیسے کہ ] خَلَقْنٰكُمْ [ ہم نے پیدا کیا تم کو ] اَوَّلَ مَرَّةٍ [ پہلی مرتبہ ] وَّتَرَكْتُمْ [ اور تم لوگ چھوڑ آئے ] مَّا [ اس کو جو ] خَوَّلْنٰكُمْ [ ہم نے عطا کیا تم کو ] وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ [ اپنی پیٹھوں کے پیچھے ] وَمَا نَرٰي [ اور ہم نہیں دیکھتے ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ ] شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ [ تمہارے ان سفارشیوں کو جن کو ] زَعَمْتُمْ [ تم جتاتے تھے ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ لوگ ] فِيْكُمْ [ تم میں ] شُرَكٰۗؤُا ۭ [ ساجھے دار ہیں ] لَقَدْ تَّقَطَّعَ [ یقینا کٹ چکے ہیں (سارے ناطے )] بَيْنَكُمْ…
Read the full tafseer →قیامت کے دن ہر ایک علیحدہ علیحدہ آئے گا :
اس کے بعد فرمایا (وَ لَقَدْ جِءْتُمُوْنَا فُرَادٰی) اس میں قیامت کے دن کی حاضری کی حالت بتائی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (کہ تم ہمارے پاس تنہا آئے ہو) اور ہر ایک اپنے قبیلے سے اور احباب و اصحاب سے اور ہر جماعت سے علیحدہ ہو کر بالکل تنہا حاضر ہوگا۔ سورة مریم میں فرمایا (لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا وَ کُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا) (بےشک اس نے سب کو شمار کر رکھا ہے اور ہر ایک اس کے پاس تنہا آئے گا) دنیا میں جو اپنے قبیلوں، جماعتوں لشکروں اور قوموں اور برادریوں پر بھروسہ کر کے زندگیاں گزارتے ہیں اور کفر و شرک و معاصی پر آپس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
مدعیان نبوت کی تہدید۔
قال اللہ تعالی، ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا۔۔۔ الی۔۔۔ تزعمون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں منکرین نبوت کی تردید تھی اب ان آیات میں مدعیان نبوت کی تہدید ہے منکرین نبوت، مختلف قسم کے تھے بعض نبوت اور نزول کے تو منکر تھے اذقالو ماانزل اللہ علی بشرمن شئی۔ مگر اپنے لیے بھی وحی اور نبوت کے مدعی نہ تھے اور بعض وہ تھے جو خود اپنے لیے نبوت اور وحی کے مدعی تھے جیسے مسیلمہ کذاب وغیرہ مسیلمہ کذاب کچھ تک بندی کرتا اور دعوی یہ کرتا کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور اسی طرح صنعا یمن میں اسود عنسی کو یہ خبط لاحق ہو اور اس نے بھی وحی اور نبوت کا دعوی کیا اور بعض مشرکین جیسے نضر بن ھارث قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →100 فُرٰادٰی۔ فرد یا فرید کی جمع ہے اور یہ ضمیر خطاب سے حال ہے۔ مَا خَوَّ لْنٰکُمْ ای ما اعطینکم یعنی ہم نے جو تمہیں مال و دولت دی تھی شُفَعَاءَکُمْ وہ نیک پیر اور اولیاء اللہ جن کو مشرکین خدا کے یہاں سفارشی سمجھ کر ان کی عبادت کرتے اور ان کی نذریں نیازیں دیتے تھے۔ یہ مشرکین سے کہا جائے گا کہ آج تم سب تنہا اور اکیلے میدان حشر میں آئے ہو آج تمہارے ساتھ نہ وہ مال و دولت ہے۔ نہ انصار واعوان جن پر تم مغرور تھے اور نہ آج تمہارے وہ سفارشی تمہارے ساتھ ہیں جن کو تم اللہ کی عبادت، ربوبیت اور پکار میں شریک کیا کرتے تھے۔ اور جن کے بارے میں تمہیں یقین تھا کہ وہ ہر آڑے وقت میں تمہارے کام آئیں گے۔ آج وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
ربط آیات
پہلے شرک اور مشرکین کا رد ہوا ‘ اور پھر توحید کے اثبات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا۔ پھر آپ کے ساتھ دوسرے اٹھارہ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر بھی آیا اور توحید کے راستے کو صراط مستقیم بنایا گیا۔ شرک کی قباحت ہی کے ضمن میں فرمایا کہ اللہ کے یہ مقربین بندے بھی شرک میں ملوث ہوتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ پھر اللہ نے ان لوگوں کا بھی رد یا جو کہتے تھے کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی جانے والی کتاب تورات کی مثال پیش کی اور آخر میں قرآن کریم کا ذکر کیا جس اللہ نے تورات نازل کی تھی اس نے قرآن پاک نازل فرمایا ہے جو کہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَـمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِكُمْ 0ۚ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰۗؤُا 0ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ 94ۧ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90]
وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة .
نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ترکیب : کذبا افتری کا مفعول بھی ہوسکتا ہے اور مفعول مطلق بھی اور مفعول لہ بھی۔ اوقال عطف ہے افتری پر ولم یوحی الخ موضع حال میں ہے اذ ظرف ہے تری کا الظالمون مبتداء ظرف خبر۔
تفسیر : جس طرح نبوت اور الہامِ الٰہی کا انکار خدا تعالیٰ کی سخت ناقدری کرنا ہے۔ اسی طرح خدا پر جھوٹ باندھنا یا نبوت اور وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا بھی بڑا ظلم ہے جیسا کہ پیغمبر کے مقابلہ میں یہ کہہ دینا کہ میں بھی جیسا کچھ خدا نے نازل کیا نازل کرسکتا ہوں بڑا ظلم ہے۔ ومن اظلم الی انزل اللّٰہ میں یہی بیان ہے۔ ایسی باتیں بھی نزول قرآن کے وقت لوگوں نے کہیں تھیں۔ چناچہ قتادہ کہتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کچھ تک بندی سے کیا کرتا تھا جس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْئٌوَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللہ ُ ط وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَراتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوْٓا اَیْدِیْھِمْ ج اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ کُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِہٖ تَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآئَ ظُھُوْرِکُمْ ج وَمَا نَرٰی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیا میں کفار اپنی اجتماعی قوت اور مالی وسائل کی بنا پر قرآن مجید اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن موت کے بعد سب کو اکیلے، اکیلے رب کے حضور پیش ہونا ہوگا۔ جس کے لیے موت کے بعد اٹھنے اور محشر کے میدان میں حاضری کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے احکام سے انحراف اور موت کے بعد اٹھنے کا جو لوگ انکار کرتے ہیں ان کو خبردار کیا گیا ہے۔ کہ اس وقت کا تصور کرو۔ جب اللہ تعالیٰ ایک، ایک کو اپنی بارگاہ میں اس طرح کھڑا کریں گے جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ جس دولت پر تم اتراتے ہو، جو اقتدار اور اختیار تمہارے تکبر کا باعث بنا ہے جن پیروں فقیروں اور باطل…
Read the full tafseer →آیت 94 : وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا حساب اور جزاء کے لئے فُرَادٰیاکیلے بغیر مال ومعاون کے۔ یہ فَرِیْدٌ کی جمع ہے۔ جیسے اسیرٌ جمع اسارٰی۔ کَمَا خَلَقْنٰکُمْ یہ جئتمونا کے مصدر کی صفت ہے یعنی اس طرح کی آمد جیسے ہم نے تمہیں پیدا کیا۔ اَوَّلَ مَرَّۃٍاس ہیٔت کے مطابق جس پر پہلے پیدا ہوئے۔ وَّتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ ۔ ہم نے تمہیں مالک بنایا۔ وَرَآئَ ظُہُوْرِکُمْتم اس میں سے ایک ذرہ اٹھائے ہوئے نہیں ہو۔ وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓؤُا تمہارے غلام بنانے میں۔ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْزجاج نے بینکم پڑھا وصل ٗ ملاقات ٗ بینکا لفظ وصل و ہجر…
Read the full tafseer →تفسیر (84) (ولقد جنتمونا فرادی ) اللہ تعالیٰ خبر دے رہے ہیں کہ قیامت کے دن کفار کو کہیں گے تم اکیلے آئے ہو نہ تمہارے پاس مال ہے اور نہ بیوی اور نا اولاد اور نہ خادم فرادی فردان کی جمع ہے جیسے سرکاری سکران اور کسالی کسلان کی اعرج نے اس کو ” فردی “ پڑھا ہے بغیر الف کے ” سکری “ کی طرح (کما خلقنکم اول مرۃ) ننگے بدن، ننگے پائوں، لاغر کمزور (اوترکتم ماخولنکم) اور چھوڑ آئے اپنے پیچھے مال، اولاد، خادم (ورآء ظھورکم) دنیا میں (وما نری معکم شفعآء کم الذین زعتم انھم فیکم شرکوآئ) کیونکہ مشرکین کا گمان تھا کہ وہ بتوں کی عبادت اس وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے شریک ہیں اور اس کے پاس ان کے سفارشی ہوں گے۔ (لقد…
Read the full tafseer →تفسیر ابن جریر میں عکرمہ سے روایت ہے کہ نضربن عارث ایک شخص مشرک نے ایک روز کہا کہ مجھ کو کیا پروا ہے لات و منات خدا کے کے روبرو میری شفاعت کو کافی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل 2 ؎ فرمائی حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ بت پرستوں کے بت جن کو وہ اپنے حمایتی خیال کرتے ہیں اور مالداروں کا مال اولاد والوں کی اولاد جس کے پیچھے لوگ اپنی عمر صرف کرتے ہیں یہ سب یہیں دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں اللہ کے پاس ہر انسان ویسا ہی اکیلا جانے والا ہے جس طرح اکیلا دنیا میں آیا تھا صحیح بخاری و مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا قبر تک ہر انسان کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اولاد مال اور عمل۔…
Read the full tafseer →آیت 94
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور مجرم کوئی اور نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی بات یا حکم منسوب کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کو سب سے بڑا ظلم اس لئے کہا گیا ہے، کیونکہ یہ بہتان پر مبنی ہے۔ اس میں ادیان، ان کے اصول و فروع میں تغیر و تبدل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سب سے بڑی برائی ہے۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے، اسی افترا میں شامل ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی عظمت و غلبہ کے سامنے جسارت کا ارتکاب کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →176 اللہ کی بارگاہ میں تنہا حاضری کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ایسے لوگوں سے کہا جائے گا کہ تم لوگ آگئے ہمارے پاس اکیلے اکیلے جس طرح کہ ہم نے تم کو پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ۔ سو اس روز ایسے منکروں سے جن کو اپنی پارٹی، جتھے اور قوم قبیلے وغیرہ پر بڑا زغم و گھمنڈ اور ناز تھا ان سے ان کی تذلیل و تحقیر کے لیے اس طرح کہا جائے گا کہ تم لوگ ہمارے حضور حاضر ہو گے یکہ وتنہا، اکیلے اکیلے۔ اور تمہاری ان پارٹیوں اور جتھوں میں سے کوئی بھی آج تمہارے ساتھ نہیں آیا جن کی بناء پر تم لوگوں نے اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھ رکھا تھا۔ اور اس وجہ سے تم حق کو سننے ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
نبی کی صفات، اللہ کی کتاب، انسان کا انجام
تشریح : جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بہترین عقائد، بہترین اعمال اور بہترین اجر وثواب اور اللہ کی طرف سے دیے گئے انعامات کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ اسی طرح ان آیات میں دہرایا جا رہا ہے کہ اہل عرب اور یہود اخلاق و کردار کی بدترین مثال بن چکے تھے جب رسول اللہ ﷺ کو رسالت ملی تو وہ نہ ان کو ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کو ماننے کو تیار تھے تو ایسے ہی لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی تھی جو اخلاق، کردار، نیک اطوار اور نجات کی راہیں بتانے والی اللہ کیطرف سے نازل شدہ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 92 تا 95 ۔
اسرار و معارف :
نبی کی بشریت :
اسلام نے پوری دنیائے کفر کو چیلنج کرتے ہوئے ساری انسانیت کو ایک معبود برحق کے ساتھ ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دی اور اس طرح سب کافر اسلام دشمنی پہ جمع ہوگئے سوائے ان خوش نصیب لوگوں کے جنہیں نور ایمان نصیب ہوا اور ظلمت کفر سے نجات ملی مگر یہودی اسلام دشمنی میں اول روز سے پیش پیش رہے حتی کہ مشرکین مکہ بھی علمائے یہود سے اعتراض سیکھ کر حضور اکرم ﷺ پہ پیش کرتے تھے اور اس غرض سے مدینہ آتے جاتے رہتے کہ اکثر یہودی عالم وہاں رہتے تھے آخر یہودی علما کے سربراہ نے انہیں کہا کہ کسی بشر پر یا کسی انسان پر اللہ کی طرف سے کبھی کوئی…
Read the full tafseer →ف 7 اس میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ نہ لائے اور انہ وہ تمہارے کسی کام آیا۔ (وحیدی)8 اور کہتے تھے کہ جس طرح اللہ اس بات کا حقدار ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں یہ بھی حق رکھتے ہیں یہ بات ان سے تقریع اور توبیخ کے طور پر کہی جائے گی ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(6:94) جئتمونا۔ تم ہمارے پاس آپہنچے۔ اس میں واؤ اشباع کا اور نا ضمیر جمع متکلم ہے۔
فرادی۔ فرد۔ کی جمع۔ اکیلے اکیلے۔ ایک ایک۔
خولنکم۔ ہم نے تم کو عطا کیا۔ ہم نے تم کو دیا۔ تخویل (تفعیل) سے جس کے معنی ایسی چیزوں کے عطا کرنے کے ہیں جن کی نگہداشت کی ضرورت پڑے۔ جیسے عربی میں کہتے ہیں فلان خال مال او خائل مال۔ یعنی فلاں مال کی خوب نگہداشت کرنے والا ہے (آیۃ ہذا میں : جو مال و متاع ہم نے تم کو دیا تھا تم سب پیچھے چھوڑ آئے) ماضی جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔
فیکم۔ ای امورکم۔ تمہارے معاملات میں۔ شرکاء یعنی شرکاء للہ۔
یعنی جن کو تم یہ سمجھتے تھے کہ تمہاری فلاح و بہبود اور نفع و نقصان میں اللہ…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 94 :
فردی (تنہا) ترکتم) تم نے چھوڑا ‘ خولنا (ہم نے دیا) ‘ ورآء ( پیچھے) ظھور ( ظھر) ۔ پیٹھ ‘ شفعآء (شفیع) سفارشی ‘ زعمتم (تم نے گھمنڈ کیا) ‘ تزعمون ( تم دعویٰ کرتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 94 :
یہ قیامت کے مناظر میں سے ایک ہے جب مشرکین اللہ کے سامنے پیش ہوں گے اللہ فرمائے گا کہ آج تم اکیلے تن تنہا آئے ہو بالکل جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ نہ آج تمہارا زرق برق لباس ہے ۔ نہ وہ عمارتیں سواریاں حشم و خدم ‘ نہ وہ دولت نہ وہ شوکت جن کے بل بوتے پر تمہاری گردن اکڑی رہا کرتی تھی۔ اور تم ہماری آیات پر بحث و تکرار کا طوفان اٹھا دیا کرتے تھے۔ آج تم خالی ہاتھ ہو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص مشک نے ایک روز کہا کہ مجھ کو کیا پرواہ ہے، لات و منات خدا کے روبرو میری سفارش کو کافی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ بت پرستوں کے بت جن کو وہ اپنے حمایتی خیال کرتے ہیں، اور مالداروں کا مال اور اولادوالوں کی اولاد جس کے پیچھے لوگ اپنی عمر صرف کرتے ہیں، یہ سب یہیں دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں۔ اللہ کے پاس ہر انسان ویسا ہی اکیلا جانے والا ہے جس طرح اکیلا دنیا میں آیا تھا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا سے کچھ ساتھ لے جانے کی چیز ہے تو وہ نیک عمل ہے۔
انسان کی پیدائش اور عجائبات قدرت
ان آیتوں میں ان عجائبات، موجودات دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
[33] یعنی جاندار درخت کو بےجان دانے اور گٹھلی سے اور انسان و حیوان کو نطفے سے اور پرندے کو انڈے سے۔
[34] یعنی جاندار درخت سے بےجان دانے اور گٹھلی کو اور انسان و حیوان سے نطفے کو اور پرندے سے انڈے کو۔
Read the full tafseer →عبرتناک انجام :
(ف 1) وہ لو جو دنیا میں اللہ کو بھول جاتے ہیں اور دنیا کی دلفریبیاں انہیں غفلت و انکار پر مجبور کردیتی ہیں اور وہ جو مقدس سہاروں کے بل پر زندہ ہیں جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد ہمارے شرکاء اور معبود ہمیں خدا کے عذاب سے بچائیں گے ، انہیں اس عبرتناک انجام پر غور کرنا چاہئے کہ وہ تنہا خدا کے حضور میں جائیں گے ، جاہ وحشم کے تمام سامان یہیں رہ جائیں گے ، آسائش وتکلفات ان کا ساتھ نہیں دیں گے ، اور وہ معبود اور سفارشی جن پر ان کا بہت دعوی ہے صاف مکرجائیں گے ، کوئی رشتہ ارادت اور تعلق نیاز مندی باقی نہیں رہے گا (آیت) ” لقد تقطع بینکم “ کا منظر ہوگا ، شیوخ بدعت اور پیران بدکردار…
Read the full tafseer →-94 یہ ہولناک منظر تو مرتے وقت ہوگا اور قیامت میں جب ہمارے سامنے پیش ہوں گے تو ہم کہیں گے جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح تم آخر کار تن تنہا ہمارے حضور آ حاضر ہوئے یعنی جس طرح ماں کے پیٹ سے ننگے غیر مختون اور امراض سے پاک صاف پیدا ہوئے تھے اسی طرح ہماری پیشی میں حاضر ہوگئے اور جو ساز و سامان ہم نے تم کو دیا تھا جس پر تم فخر و غرور کا اظہار کیا کرتے تھے وہ سب تم اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ آج تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق یہ سمجھتے اور خیال کرتے تھے کہ وہ تمہاری پرورش اور استحقاق عبادت نیز تمہارے دیگر معاملات میں ہمارے شریک ہیں یعنی وہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ اوپر مسئلہ رسالت کی تحقیق مع اس کے متعلقات کے تھی اور اس سے اوپر مسئلہ توحید مذکور تھا آگے پھر توحید کی طرف عود ہے اور اس کے ساتھ چونکہ استدلال میں اپنی نعمتوں کا ذکر ہے اپنے منعم ہونے کا بھی بیان ہے تاکہ شرک کا قبح طبعی بھی ظاہر ہوجائے۔
Read the full tafseer →تم کو اس طرح اکیلا اکیلا اللہ کے سامنے لاکھڑا کیا گیا جس طرح تم پہلے روز پیدا ہوئے تھے :
147: یعنی تم کو تمہارے رب کے سامنے اس طرح اکیلا پیش کیا جائے گا جس طرح تم پہلے روز پیدا ہوئے تھے اور اس طرح وہ مایوسی کے عالم میں ہر طرف نظر دوڑائیں گے کہ شاید عمر بھر جن کی سیوا کرتے رہے تھے ان میں سے کوئی ایک ہی مدد کو آئے اور ہمیں اللہ کے عذاب سے چھڑا لے یا کم از کم ہماری سزا ہی کچھ کم کرادیں مگر کسی طرف بھی کوئی مددگار ان کو نظر نہ آئے گا اور قرآن کریم میں دوسری جگہ یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر کہیں وہ نظر آئیں گے بھی تو وہ بجائے خود اس واقعہ کا انکار کریں گے کہ مشرکین انہیں حاجت روائی اور مشکل کشائی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
After having concluded the argument concerning Books revealed by Allah Ta` ala against deniers, it was said in the third verse (92): وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا (And this is a blessed Book We have sent down confirming what has been before it, so that you may warn the town which is the mother of all towns, and those around it), that is, as it is that they too accept that the Torah was sent down by Allah Ta` ala, so it is that We have sent down this Qur'an too, and sufficient for them is the proof of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
61. The point argued above was that God's word can be, and in the past has been, revealed to human beings. The next point is that the message of Muhammad (peace be on him) is indeed the revealed word of God. In order to establish this, four things are adduced as evidence: First, that this Book is overflowing with God's grace and beneficence. In other words, it contains the best possible principles for the well-being and salvation of mankind. It lays down the true doctrines of belief. It urges man to righteous conduct and inspires him to moral excellence. It contains guidance as to how one may…
Read the full tafseer →