Explained with ayahs 93–94
مغضوب لوگ
اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں۔ خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں ہو جو اللہ کی سچی وحی سے صف آرائی کا مدعی ہو۔ چناچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے کہ وہ قرآن کی آیتوں کو سن کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں، کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
سورة الْاَنْعَام 61
پہلی دلیل اس بات کے ثبوت میں تھی کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہوسکتا ہے اور عملاً ہوا بھی ہے۔ اب یہ دوسری دلیل اس بات کے ثبوت میں ہے کہ یہ کلام محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے یہ خدا ہی کا کلام ہے۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے چار باتیں شہادت کے طور پیش کی گئی ہیں
ایک یہ کہ یہ کتاب بڑی خیر و برکت والی ہے، یعنی اس میں انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اصول پیش کیے گئے ہیں۔ عقائد صحیحہ کی تعلیم ہے، بھلائیوں کی ترغیب ہے، اخلاق فاضلہ کی تلقین ہے، پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہدایت ہے، اور پھر یہ جہالت، خودغرضی، تنگ نظری، ظلم، فحش اور دوسری ان برائیوں سے، جن کا انبار تم لوگوں نے کتب مقدسہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف نازل ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان پر حجت تمام کرنے کے بعد تیسری آیت میں ارشاد فرمایاوَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ، یعنی جس طرح تورات کا خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونا انھیں بھی تسلیم ہے اسی طرح یہ قرآن بھی ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے حق و صدق ہونے کے واسطے ان کے لئے یہ شہادت کافی ہے کہ قرآن ان سب چیزوں کی تصدیق کرتا ہے جو تورات و انجیل میں نازل ہوئی ہیں، اور تورات و انجیل کے بعد اس کے نازل کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ یہ دونوں کتابیں تو بنی اسرائیل کے لئے بھیجی گئی تھیں، ان کے دوسری شاخ بنی اسماعیل جو عرب کہلاتے ہیں اور ام القریٰ یعنی مکہ اور اس کے اردگرد…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا، اہل کتاب کے مفسدین کے بعد مشرکین مکہ کے لیڈروں کی طرف توجہ فرمائی اور جو ہفوات وہ قرآن کی نسبت بکتے تھے ان کا مختصراً حوالہ دینے کے بعد ان کے انجام کی طرف ان کو توجہ دلائی۔ ان کی باتیں چونکہ بالکل لا یعنی محض ان کے کبر و غرور کا مظاہرہ تھیں اس وجہ سے ان باتوں کے جواب کے بجائے اصل ضرب ان کے کبر و غرور پر لگائی۔ ان کے ذکر کا آغاز ان کے سب سے بڑے ظلم یعنی شرک کے ذکر سے فرمایا۔ شرک کی نسبت ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اس کا ارتکاب کر کے انسان اپنے رب کا بھی سب سے بڑا حق تلف کرتا ہے اور خود اپنے نفس کی بھی سب سے بڑی توہین کرتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →93۔ 1 ظالم سے مراد ہر ظالم ہے اور اس میں کتاب الٰہی کا انکار کرنے والے اور جھوٹے مدعیان نبوت سب سے پہلے شامل ہیں۔ ' فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہونگے، یعنی جان نکالنے کے لئے (آج) سے مراد قبض روح کا دن اور یہی عذاب کے آغاز کا وقت بھی ہے جس کا مبداء قبر ہے۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قبر برحق ہے۔ ورنہ ہاتھ پھیلانے اور جان نکالنے کا حکم دینے کے ساتھ اس بات کے کہنے کے کوئی معنی نہیں کہ آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ خیال رہے قبر سے مراد برزخ کی زندگی ہے۔ یعنی دنیا کی زندگی کے بعد آخرت کی زندگی سے قبل، یہ ایک درمیان کی زندگی ہے جس کا عرصہ انسان کی موت سے قیامت کے وقوع تک ہے۔ یہ برزخی زندگی کہلاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
33: یہاں سے بعض یہودیوں کی تردید مقصود ہے، آنحضرت ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مرتبہ ان کے ایک سردار مالک بن صیف نے غصے میں آکر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔
34: یعنی پوری کتاب کو ظاہر کرنے کے بجائے تم نے اسے حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ جو حصے تمہارے مطلب کے مطابق ہوتے ہیں ان کو تو عامل لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتے ہو، مگر جو حصے تمہارے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں، انہیں چھپالیتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
(آیت) ” نمبر 93 تا 94۔
حضرت قتادہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سین یہ روایت ہے کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب اور اس کی بیوی سجاح بنت حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسود عنسی کے بارے میں بھی ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی ہے ۔ رہی یہ بات کہ (آیت) ” سانزل مثل ما انزل اللہ “۔ (6 : 93) یا جس نے کہا کہ ” میری طرف بھی وحی آئی ہے ۔ “ تو حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد عبداللہ ابن سعد ابن ابی سرح ہیں ۔ یہ ایمان لائے تھے ۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے ۔ جب سورة المومنون کی یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →7 خدا پر بہتان باندھنے سے شائد یہ مراد ہے کہ خدا کی طرف ان باتوں کی نسبت کرے جو اس کی شان رفیع کے لائق نہیں مثلا کسی کو اس کا شریک ٹھرائے یا بیوی بچے تجویز کرے یا یوں کہے (مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ ) 6 ۔ الانعام :91) یعنی اس نے بندوں کی ہدایت کا کوئی سامان نہیں کیا۔ ایسا کہنے والا سخت ظالم ہے اسی طرح جو شخص نبوت و پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کرے یا یہ ڈینگ مارے کہ خدا کے جیسا کلام تو میں لاسکتا ہوں جیسے بعض مشرکین کہتے تھے ( لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ) 8 ۔ الانفال :31) یہ سب باتیں انتہائی ظلم اور دیدہ دلیری کی ہیں جس کی سزا کا تھوڑا سا حال آگے مذکور ہے۔
8 یعنی موت کی…
Read the full tafseer →آیت 93 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْءٌ
کوئی بات خود گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردینا یا یہ کہنا کہ مجھ پر کوئی شے وحی کی گئی ہے یہ دونوں شناعت کے اعتبار سے برابر کے گناہ ہیں۔ تو اے اہل مکہ ! ذرا غورتو کرو کہ محمد ﷺ جنہوں نے تمہارے درمیان ایک عمر بسر کی ہے کیا آپ ﷺ کی سیرت و کردار ‘ آپ ﷺ کی زندگی میں تم کوئی ایسا پہلو دیکھتے ہو کہ آپ ﷺ اتنے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب بھی ہوسکتے ہیں ؟ اور ان دو باتوں کے سا تھ ایک تیسری بات :
وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ ط۔
وہ لوگ اگرچہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس…
Read the full tafseer →95 سب سے زیادہ ظالم کون ہے ؟ :۔ اس آیت میں سب سے بڑے ظالموں کی تین اقسام بیان فرمائیں ایک وہ جس نے کوئی بات تو خود تراشی ہو اور اللہ کے ذمے لگا دے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو شرک و بدعات کی مختلف اقسام کو ایجاد تو خود کرتے ہیں پھر انہیں شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس طرح ان رسوم و بدعات پر مذہبی تقدس کا خول چڑھا دیتے ہیں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اللہ کی آیات کا غلط مطلب نکال کر اور ان کی غلط تاویل کر کے غلط سلط فتوے دیتے ہیں اور اس کے عوض عارضی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جھوٹے نبی جنہوں نے آپ کے بعد اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا کریں گے حالانکہ آپ…
Read the full tafseer →137 ۔ رسول اللہ ﷺ کے معاصرین میں نزول وحی کے طویل عرصہ کے زمانہ میں بعض ایسے بھی بدبخت تھے جنہوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ایسا کلام تو ہم بھی نازل کرسکتے ہیں۔ حدیث وسیر کی کتابوں میں ان کے نام نضر بن حارث اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح منقول ہوئے ہیں۔ والمراد عبداللہ بن ابی سرح الذی کان یکتب الوحی لرسول اللہ ﷺ ثم ارتد ولحق بالمشرکین (قرطبی) عن عکرمۃ ان ہذہ الایۃ نزلت فی النضربن الحارث (قرطبی) یہ عبداللہ بن ابی سرح وہی ہیں جو حضرت عثمان ؓ کے رضاعی بھائی اور رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے، کتابت وحی ہی کے سلسلہ میں مرتد ہو کر مشرکوں سے جاملے، ایک مدت تک مرتد ومباح الدم رہنے کے بعد فتح مکہ کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
آیت نمبر 91 تا 94
ترجمہ : یہود نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی یعنی جیسی تعظیم کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی یا جیسی معرفت کا حق تھا ویسا حق ادا نہیں کیا جبکہ نبی ﷺ سے قرآن میں مخاصمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ ان سے پوچھو کہ اس کتاب کو کس نے نازل کیا جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اس کی کیفیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کیلئے نور اور ہدایت تھی، جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے یعنی اس کو اوراق متفرقہ میں لکھ رکھا ہے، (تجعلونَہٗ ) تینوں مقامات میں یاء اور تاء کے ساتھ ہے جن کو تم ظاہر کرتے ہو یعنی ان میں سے جن باتوں کو تم ظاہر کرنا پسند کرتے ہو ظاہر…
Read the full tafseer →ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اور اس شخص سے بڑھ کر بےجا حرکت کرنے والا کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت تراشی کرتا ہے جیسے مالک بن الضیف جو کہتا تھا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نازل نہیں کیا۔ یا جیسے عمرو بن لحی اور اس کے پیرو جو کہتے تھے کہ اللہ نے سائبہ اور حام کو حرام کردیا ہے اور بعض قسم کے اونٹوں پر سوار ہونا اللہ کی طرف سے ناجائز کردیا گیا ہے اور ان جانوروں کے پیٹ کے بچے اگر زندہ برآمد ہوں تو مردوں کے لئے حلال ہیں عورتوں کے لئے حرام اور اگر مردہ برآمد ہوں تو سب کے لئے حلال ہیں۔
او قال اوحی الی ولم یوحر الیہ شی یا کہتا ہے کہ میرے پاس وحی آئی ہے حالانکہ اس کے پاس بالکل وہی نہیں آئی۔
بغوی…
Read the full tafseer →(93) اس شخص سے زیادہ سرکش اور دلیر کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائے، جیسا کہ مالک بن صیف کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی چیز کی بھی وحی نہیں آئی۔
جیسا کہ مسیلمہ کذاب (جھوٹا نبی) اور اسی طرح عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کہتا ہے کہ میں بہت جلد وہی باتیں بیان کروں گا جو رسول اکرم ﷺ بیان کرتے ہیں، محمد ﷺ آپ بدر کے دن ان منافقوں مشرکوں کو دیکھیں جب کہ یہ موت کی سختیوں اور نزع کے عالم میں گرفتار ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھوں کو ان کی ارواح پر مارتے اور کہتے ہوں گے کہ اپنی روحوں کو نکالو، بدر کے دن یا قیامت کے دن…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي۔۔ : اس آیت کریمہ میں تین قسم کے لوگوں کا ذکر کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ ان سے زیادہ اپنے حق میں کون ظالم ہوسکتا ہے، ایک تو وہ لوگ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے غیروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں، یا جو اپنی طرف سے حلال و حرام کے احکام وضع کرتے ہیں، دوسرے وہ لوگ جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پر اللہ کی جانب سے وحی کی جاتی ہے، جیسے اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور قادیانی دجال وغیرہ اور تیسرے وہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ قرآن جیسا کلام پیش کرسکتے ہیں، جیسا کہ قرآن میں ہے کچھ مشرکوں نے کہا تھا : (لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ) [ الأنفال : 31 ]…
Read the full tafseer →آیت نمبر 93
قولہ تعالیٰ آیت : ومن اظلم یہ مبتدا اور خبر ہے، یعنی کوئی اس سے بڑھ کر ظالم نہیں۔ ممن افترٰی اس سے جس نے جھوٹ گھڑا۔ آیت : علی اللہ کذبا او قال اوحی الی پس اس نے گمان کیا کہ وہ نبی ہے۔ ولم یوح الیہ شیء (حالانکہ اس کی طرف کوئی شی وحی نہیں کی گئی)
یہ آیت رحمان الیمامی، اسود عنسی اور مسیلمہ کی بیوی سجاح کے بارے نازل ہوئی، ان تمام نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا اور ہر ایک نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی ہے۔ حضرت قتادہ نے بیان کیا ہے : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مسیلمہ کذاب کے بارے میں نازل فرمائی (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 406) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہی کہا…
Read the full tafseer →(1) امام حاکم نے مستدرک میں شرجیل بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء الآیہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو یہ اپنے رضاعی بھائی عثمان کی طرف بھاگ گیا۔ اور اس کے پاس چھپا رہا یہاں تک کہ جب مکہ والوں کو ایطمنان ہوا تو اس نے اپنے لئے پناہ طلب کی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو خلف اعمی (رح) سے روایت کیا کہ ابن ابی سرح نبی ﷺ کے لئے وحی لکھتا تھا۔ مکہ کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا اے ابن ابی سرح تو ابن ابی کبشہ کے لئے قرآن لکھتا ہے ؟ اس نے کہا میں لکھتا ہوں جسے میں چاہتا ہوں۔…
Read the full tafseer →وَمَنْ [ اور کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] اَوْ [ یا ] قَالَ [ اس نے کہا ] اُوْحِيَ [ وحی کی گئی ] اِلَيَّ [ میری طرف ] وَ [ حالانکہ ] لَمْ يُوْحَ [ وحی نہیں کی گئی ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] شَيْءٌ [ کوئی چیز ] وَّمَنْ [ اور (اس سے ) جس نے ] قَالَ [ کہا ] سَاُنْزِلُ [ میں اتاروں گا ] مِثْلَ مَآ [ اس کے جیسا جو ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اللّٰهُ ۭ [ اللہ نے ] وَلَوْ [ اور اگر ] تَرٰٓي [ آپ دیکھتے ] اِذِ [ جب ] الظّٰلِمُوْنَ [ ظالم لوگ ] فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ [ موت کی سختیوں میں ہوں گے ] وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ […
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والوں اور نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا ؟
اس سے پہلی آیت میں بعض یہودیوں کا ذکر تھا جنہوں نے ضد اور عناد کے جوش میں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ اب اس شخص کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے اور اللہ کی طرف یہ بات منسوب کرے کہ اس نے مجھے نبی بنایا یا کسی اور طرح سے اللہ پر افتراء کرے مثلاً یوں کہے کہ اللہ نے اپنے شریک بنا لیے ہیں یا اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔ یا یوں کہے کہ میں بھی ایسا کلام نازل کروں گا جیسا اللہ نے نازل کیا۔ مفسر ابن کثیر ج 2 ص 157 (سَاُنْزِلُ مِثْلَ اَنْزَلَ اللّٰہُ ) کی تفسیر کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
مدعیان نبوت کی تہدید۔
قال اللہ تعالی، ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا۔۔۔ الی۔۔۔ تزعمون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں منکرین نبوت کی تردید تھی اب ان آیات میں مدعیان نبوت کی تہدید ہے منکرین نبوت، مختلف قسم کے تھے بعض نبوت اور نزول کے تو منکر تھے اذقالو ماانزل اللہ علی بشرمن شئی۔ مگر اپنے لیے بھی وحی اور نبوت کے مدعی نہ تھے اور بعض وہ تھے جو خود اپنے لیے نبوت اور وحی کے مدعی تھے جیسے مسیلمہ کذاب وغیرہ مسیلمہ کذاب کچھ تک بندی کرتا اور دعوی یہ کرتا کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور اسی طرح صنعا یمن میں اسود عنسی کو یہ خبط لاحق ہو اور اس نے بھی وحی اور نبوت کا دعوی کیا اور بعض مشرکین جیسے نضر بن ھارث قرآن کریم کی…
Read the full tafseer →98 یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ کَذِباً سے شرک مراد ہے یعنی غیر اللہ کے تحریمات کرنا اور غیرا للہ کی نذر ونیاز وغیرہ مثل عمرو بن لحی واتباعہ القائلین بان اللہ حرم السوائب والحوامی الخ (مظھری ج 3 ص 300) اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ یہ شکوی ہے جیسا کہ مسیملہ کذاب نے نبوت اور نزول وحی کا دعویٰ کیا تھا وَمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ الخ جیسا کہ مشرکین نے کہا تھا۔ لَوْنَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَا۔
99 یہ تخویف اخروی ہے غَمَرَاتِ الْمَوتِ یعنی موت کی شدائد اور سختیاں بَاسِطُوْا اَیْدِیْھِم ہاتھ پھیلانے والے روح قبض کرنے کے لیے یا مارنے کے لیے ای بالعذاب عن ابن عباس ؓ انہم یضربون وجوھھم و ادبارھم۔ وذھب بعضہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
ربط آیات
پہلے شرک اور مشرکین کا رد ہوا ‘ اور پھر توحید کے اثبات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا۔ پھر آپ کے ساتھ دوسرے اٹھارہ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر بھی آیا اور توحید کے راستے کو صراط مستقیم بنایا گیا۔ شرک کی قباحت ہی کے ضمن میں فرمایا کہ اللہ کے یہ مقربین بندے بھی شرک میں ملوث ہوتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ پھر اللہ نے ان لوگوں کا بھی رد یا جو کہتے تھے کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی جانے والی کتاب تورات کی مثال پیش کی اور آخر میں قرآن کریم کا ذکر کیا جس اللہ نے تورات نازل کی تھی اس نے قرآن پاک نازل فرمایا ہے جو کہ…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْہِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللہُ 0ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْہِمْ 0ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ 0ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِہٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ 93
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ترکیب : کذبا افتری کا مفعول بھی ہوسکتا ہے اور مفعول مطلق بھی اور مفعول لہ بھی۔ اوقال عطف ہے افتری پر ولم یوحی الخ موضع حال میں ہے اذ ظرف ہے تری کا الظالمون مبتداء ظرف خبر۔
تفسیر : جس طرح نبوت اور الہامِ الٰہی کا انکار خدا تعالیٰ کی سخت ناقدری کرنا ہے۔ اسی طرح خدا پر جھوٹ باندھنا یا نبوت اور وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا بھی بڑا ظلم ہے جیسا کہ پیغمبر کے مقابلہ میں یہ کہہ دینا کہ میں بھی جیسا کچھ خدا نے نازل کیا نازل کرسکتا ہوں بڑا ظلم ہے۔ ومن اظلم الی انزل اللّٰہ میں یہی بیان ہے۔ ایسی باتیں بھی نزول قرآن کے وقت لوگوں نے کہیں تھیں۔ چناچہ قتادہ کہتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کچھ تک بندی سے کیا کرتا تھا جس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْئٌوَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللہ ُ ط وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَراتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوْٓا اَیْدِیْھِمْ ج اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ کُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِہٖ تَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآئَ ظُھُوْرِکُمْ ج وَمَا نَرٰی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی آیات کا انکار کرنا، یا یہ نبوت کا دعویٰ کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا بھی وحی یا کتاب نازل کرسکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔
رسول محترم ﷺ کے مخالف آپ پر صرف یہ الزام ہی نہیں لگاتے تھے کہ آپ پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ بلکہ ان میں ایسے بدبخت بھی تھے جو یہ دعویٰ کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے تھے کہ ہم پر بھی اللہ تعالیٰ وحی نازل کرتا ہے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو یہ لاف زنی کرتے کہ عنقریب ہم بھی ایسی کتاب لانے والے ہیں اس ضمن میں مفسرین نے مسیلمہ کذّاب اور عبداللہ بن ابی سرحہ کا ذکر کیا ہے مسیلمہ کذّاب کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت…
Read the full tafseer →تمام افتراء والے شامل ہیں ‘ مدعیان نبوت ہوں یا اور :
آیت 93 : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا وہ مالک بن صیف یہودی حبر ہے۔ اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْئٌوہ مسیلمہ کذاب ہے۔ وَّمَنْ قَالَیہ موقع جر میں ہے اس کا عطف ممن افترٰی پر ہے یعنی وممّن قال۔ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُیعنی عنقریب میں کہوں اور املاء کروائوں گا یہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ہے جو کاتب وحی تھا نبی اکرم ﷺ نے اس کو لکھوایا ولقد خلقنا الانسان سے خلقًا ٰاخر تک۔ تو اس کی زبان پر فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین کا کلمہ آیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اسی طرح لکھو۔ یہ اسی طرح…
Read the full tafseer →(93) ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً ) اور یہ گمان کرے کہ اللہ نے اس کو نبی بنا کر بھیجا ہے (ائو فال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء )
مسیلمہ کذاب کا قتل
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ مسجع کلام کرتا تھا اور کاہن تھا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور گمان کیا کہ اللہ نے اس کی طرف وحی بھیجی ہے۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف دو قاصد بھیجے تو آپ (علیہ السلام) نے ان دو سے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ نبی ہے ؟ تو ان دونوں نے کہا جی۔ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر قاصد کو قتل نہ کیا جاتا ہوتا تو میں تمہاری گردا اڑا دیتا۔
ھمام بن منبہ سے روایت ہے کہتے ہیں…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو باوجود معجزوں کے دیکھنے اور کلام الٰہی کے اترنے کے آنحضرت کو نبی نہیں مانتے تھے ان کے قریب قریب وہ لوگ ہیں جو بغیر معجزہ اور بغیر شہادت کلام الٰہی کے پانے آپ کو نبی مشہور کرتے تھے جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جن دونوں کے وحشی اور فیروز کے ہاتھ سے مارے جانے کا قصہ اوپر گذر چکا ہے ان دونوں کے قریب قریب عبداللہ بن سرح کا قصہ ہے اس قسم کے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں کہ اللہ کا بیٹا ہے یا اللہ نے سانڈھ یا کان پھٹے جانور حرام کئے ہیں اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے تفسیر ابن 1 ؎ جریر اور تفسیر سدی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
آیت 92
(وھذا) ” اور یہ “ یعنی قرآن مجید (کتب انزلنہ مبرک) ” کتاب ہے، اس کو اتارا ہم نے آپ کو طرف، برکت والا “ یعنی برکت اس کا صوف ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ بھلائیوں اور نیکیوں پر مشتمل ہے (مصدق الذی بین یدیہ) ” جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ “ یعنی یہ کتاب، گزشتہ کتابوں کی موافقت کرتی ہے اور ان کی صداقت پر گواہ ہے۔ (ولتنذرام القری ومن حولھا) نیز ہم نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ آپ بستیوں کی ماں، یعنی مکہ مکرمہ کے لوگوں اور اس کے اردگرد دیار عرب بلکہ تمام شہروں کے لوگوں کو ڈرائیں، تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بچیں اور ان امور سے بچیں جو اس کے عذاب کے موجب ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →169 اللہ پر بہتان باندھنا سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے ؟۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اللہ پر افترا کرنا، بہتان باندھنا سب سے بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اہل کتاب کے مفسدین و اَشرار کے بعد اب یہاں سے مشرکین مکہ کے شرپسندوں اور ان کے لیڈروں اور سرغنوں کی طرف توجہ فرمائی گئی ہے۔ اور جو ہفوات یہ لوگ قرآن کے بارے میں بکتے تھے، ان کا مختصر طور پر حوالہ دینے کے بعد ان کے انجام کی طرف توجہ دلائی گئی۔ ان لوگوں کی باتیں چونکہ بالکل لایعنی اور محض ان کے کبر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
نبی کی صفات، اللہ کی کتاب، انسان کا انجام
تشریح : جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بہترین عقائد، بہترین اعمال اور بہترین اجر وثواب اور اللہ کی طرف سے دیے گئے انعامات کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ اسی طرح ان آیات میں دہرایا جا رہا ہے کہ اہل عرب اور یہود اخلاق و کردار کی بدترین مثال بن چکے تھے جب رسول اللہ ﷺ کو رسالت ملی تو وہ نہ ان کو ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کو ماننے کو تیار تھے تو ایسے ہی لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی تھی جو اخلاق، کردار، نیک اطوار اور نجات کی راہیں بتانے والی اللہ کیطرف سے نازل شدہ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 92 تا 95 ۔
اسرار و معارف :
نبی کی بشریت :
اسلام نے پوری دنیائے کفر کو چیلنج کرتے ہوئے ساری انسانیت کو ایک معبود برحق کے ساتھ ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دی اور اس طرح سب کافر اسلام دشمنی پہ جمع ہوگئے سوائے ان خوش نصیب لوگوں کے جنہیں نور ایمان نصیب ہوا اور ظلمت کفر سے نجات ملی مگر یہودی اسلام دشمنی میں اول روز سے پیش پیش رہے حتی کہ مشرکین مکہ بھی علمائے یہود سے اعتراض سیکھ کر حضور اکرم ﷺ پہ پیش کرتے تھے اور اس غرض سے مدینہ آتے جاتے رہتے کہ اکثر یہودی عالم وہاں رہتے تھے آخر یہودی علما کے سربراہ نے انہیں کہا کہ کسی بشر پر یا کسی انسان پر اللہ کی طرف سے کبھی کوئی…
Read the full tafseer →ف 1 قرآن کی منزل من اللہ ہونے کو بیان کرنے کے بعد اب نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے حق میں وعید فرمائی اور اس وعید میں تین باتیں بیان فرمائی ہیں (رازی) آنحضرت ﷺ تو صادق اور امین تھے پھر آپ غلط طور پر نبوت کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں۔
اس قسم کا غلط دعوی اگر کوئی شخص کرسکتا ہے تو وہی جو پر لے درجے کا جھوٹا ہے مکار ہو اور اس کا اللہ وآخرت پر ذرہ بھر ایمان نہ ہو جیسے مسیلمہ کذاب اسود عنی سجاح اور دوسرے سارے جھوٹے مدعیان نبوت2 یہ تیسری چیز ہے جیسے اس زمانے میں بعض کفار قریش نضر بن حارث) نے کہا تھا لو نشا لقلنا مثل ھذا سورت انفال 31) اسی طرح مسیلمہ کذاب نے بھی معارضہ کا دعوی کیا تھا مگر قرآن کے…
Read the full tafseer →(6:93) افتری۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ اشتراء (افتعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔
من قال۔ ای من اظلم ممن قال۔ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو کہے۔ ولو تری۔ کاش تو دیکھے۔ کاش تو دیکھ سکے۔
غمرات۔ غمرۃ کی جمع۔ موت کی سختیاں۔ جو سارے اعضاء پر چھا جائیں۔ غمرۃ وہ کثیر پانی جس کی تہ نظر نہ آئے۔ بطور تشبیہ اس سے مراد جہالت۔ غفلت لی جاتی ہے۔ جو قوی پر غالب آجائے۔
باسطوا۔ اصل میں باسطون تھا۔ ایدیہم کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے ن ساقط ہوگیا۔ کھولنے والے۔ بڑھانے والے
یعنی کاش تو ان ظالمین کو اس حالت میں دیکھ سکے جب موت کی سختیاں ان پر غالب ہوں گی۔ اور فرشتے (ان کی جان نکالنے کے لئے) ہاپنے ہاتھ ان…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 93 :
اوحی (وحی کی گئی) سانزل (بہت جلد اتاروں گا) ‘ غمرات الموت ( غمرۃ ض موت کی سختیاں) باسطوا (کھولنے والے۔ پھیلانے والے) اخرجوا (نکالو) تجزون ( تم بدلہ دیئے جائو گے) الھون ( ذلت) تستکبرون (تم تکبر کرتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 93 :
کفر جب شدید ہوجائے تو کتنی شکلیں اختیار کرسکتا ہے (1) یہ کہنا کہ اللہ اپنا کلام بشر پر نازل نہیں کرتا خواہ وہ نبی ہو (2) یہ دعویٰ کرنا کہ میں نبی ہوں جبکہ وہ نبی نہ ہو (3) یہ دعویٰ کرنا کہ میں بھی قرآن جیسی کتاب تصنیف کرسکتا ہوں۔ پہلی قسم پر تو بحث ہوچکی۔ رہی دوسری اور تیسری قم۔ تو قرآن کی یہ آیت خبردار کررہی ہے کہ ایسے شدید کفار بھی دور نہیں۔…
Read the full tafseer →اس آیت میں ان کا ذکر ہے جو بغیر معجزہ اور بغیر شہادت کلام الہی کے اپنے آپ کو نبی مشہور کرتے تھے، جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جو دونوں وحشی اور فیروز کے ہاتھ ماے گئے، ان دونوں کے قریب قریب عبد اللہ بن سرح کا قصہ ہے۔ اس قسم کے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں۔ اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا :'' جو شخص میرے ذمہ کوئی جھوٹی بات لگادے تو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے ''۔
ان آیتوں میں موت کے وقت کی شدت اور سختی کا ذکر ہے۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ علم الہی میں جو لوگ لائق عذاب کے ہیں، ان کی قبض روح کے وقت بڑے ہیبت ناک صورت فرشتے آتے ہیں، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
[33] یعنی جاندار درخت کو بےجان دانے اور گٹھلی سے اور انسان و حیوان کو نطفے سے اور پرندے کو انڈے سے۔
[34] یعنی جاندار درخت سے بےجان دانے اور گٹھلی کو اور انسان و حیوان سے نطفے کو اور پرندے سے انڈے کو۔
Read the full tafseer →تین قسم کے ظالم :
(ف 1) وہ شخص جو اللہ کے دین کی طرف غلط باتیں منسوب کرتا ہے بدعات وسیئات کو دین کے نام سے پھیلاتا ہے اور رسوم وعوائد کو دین سمجھتا ہے ، ظالم ہے مفتری ہے ۔
وہ شخص جو مدعی نبوت ہے الہام ووحی کو اپنی ذات سے منسوب کرتا ہے ، اپنی رسالت کا اعلان کرتا ہے ، اور براہ راست اللہ سے استفادہ معارف کا دعویدار ہے ، حالانکہ خدا نے اسے منصب نبوت پر فائز نہیں کیا ، اسے پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا ، اور الہام ووحی سے قطعا محروم ہے ظالم ہے ، اور اللہ کی جانب غلط باتوں کو منسوب کرتا ہے اسی طرح وہ بھی ظالم اور مفتری علی اللہ ہے ، جو خدا پیغام کو ٹھکراتا ہے ، اس پر عمل پیر نہیں ہوتا ، اور کہتا ہے میں…
Read the full tafseer →-93 اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم اور ناانصاف ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے اور جھوٹی تہمتیں لگائیں اور جھوٹی باتیں اس کی طرف منسوب کرے یا یوں کہے کہ میری جانب وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی جانب کچھ بھی وحی نہیں کی گئی یعنی خد کی طرف سے اس پر کوئی وحی نہیں آئی اور وہ وحی کا مدعی ہے اور اسیر طح اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کلام نازل کیا ہے میں بھی اسی جیسا کلا بنا سکتا ہوں اور لاسکتا ہوں اور اے پیغمبر ! ﷺ آپ اگر ان ظالموں اور نا انصافوں کو اس وقت دیکھتے تو بہت ہولناک اور خطرناک حالت میں دیکھتے جبکہ یہ ظالم موت کی سختیوں اور تکلیفوں میں پڑے ہونگے اور موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
ف 2۔ یہ کہنا ناقدر شناسی اس لیے ہے کہ اس سے مسئلہ نبوت کا انکار لازم آتا ہے اور نبوت کا منکر اللہ کی تکذیب کرتا ہے اور تصدیق حق واجب ہے پس اس میں قدرشناسی واجب اخلال ہوا۔
3۔ تجعلونہ قراطیس سے ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر مضمون کے اوراق جدا کر رکھے تھے اور بعض کا ایسا کرلینا تعجب نہیں اور اگر قراطیس سے مراد فی القراطیس مجازا لیا جائے تو معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ اپنے ذہن میں تورات کے مختلف حصے تجویز کر رکھے تھے جن میں بعض مضامین کو مثل نعت محمد ﷺ اس طرح چھپاتے تھے کہ اس کی اور اور تاویلیں کردیتے تھے۔
1۔ مطلب یہ کہ جس تورات کی یہ حالت ہے کہ اس کو اولا تو تم مانتے ہو دوسرے بوجہ نور وہدی ہونے کے…
Read the full tafseer →اللہ پر جھوٹ باندھنا اور رسول نہ ہو کر رسالت کا دعویٰ کرنا بہت بڑا ظلم ہے :
144: ” جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے “ مکہ والوں کو یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ آج جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اللہ کا رسول ہونے کا مدعی ہے اس کے متعلق ذاتی رائے کیا ہے ؟ یہی کہ وہ تم سب میں سے زیادہ سچا اور سب سے بڑھ کر دیانت دار ہے۔ پھر غور کرو کہ جو شخص کسی انسان کے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنے کے لئے تیار نہیں وہ اللہ پر جھوٹ باندھ سکتا ہے ؟ جب اس نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو اس کی سچائی بذاتہ اس بات پر دال ہے کہ وہ فی الواقعہ اللہ کا رسول ہے کیونکہ ابھی تک رسالت کے ختم کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
After having concluded the argument concerning Books revealed by Allah Ta` ala against deniers, it was said in the third verse (92): وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا (And this is a blessed Book We have sent down confirming what has been before it, so that you may warn the town which is the mother of all towns, and those around it), that is, as it is that they too accept that the Torah was sent down by Allah Ta` ala, so it is that We have sent down this Qur'an too, and sufficient for them is the proof of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
61. The point argued above was that God's word can be, and in the past has been, revealed to human beings. The next point is that the message of Muhammad (peace be on him) is indeed the revealed word of God. In order to establish this, four things are adduced as evidence: First, that this Book is overflowing with God's grace and beneficence. In other words, it contains the best possible principles for the well-being and salvation of mankind. It lays down the true doctrines of belief. It urges man to righteous conduct and inspires him to moral excellence. It contains guidance as to how one may…
Read the full tafseer →