Al-An'aam 6:92

Al-An'aam · from ayah 92

6:92

وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَهَا ؕ— وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَهُمْ عَلٰی صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ ۟وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَلِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ‌ وَهُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And this is a Book which We have sent down, blessed and confirming what was before it, that you may warn the Mother of Cities and those around it. Those who believe in the Hereafter believe in it, and they are maintaining their prayers.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 11 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:92

(اُسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بڑی خیر و برکت والی ہے اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اِس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو جو لو گ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور تاکہ آپ مکہ والوں کو اور آس پاس والوں کو ڈرائیں۔ اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں ایسے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور وه اپنی نماز پر مداومت رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اسی طرح) یہ بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے، پچھلی آسمانی ہدایات کی تصدیق کرنے والی ہے، تاکہ تم اس کے ذریعے بستیوں کے مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو خبردار کرو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اور وہ اپنی نماز کی پوری پوری نگہداشت کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ ہے برکت والی کتاب کہ ہم نے اُتاری تصدیق فرماتی ان کتابوں کی جو آگے تھیں اور اس لیے کہ تم ڈر سناؤ سب بستیوں کے سردار کو اور جو کوئی سارے جہاں میں اس کے گرد ہیں اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ (وہ) کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، بابرکت ہے، جو کتابیں اس سے پہلے تھیں ان کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے۔ اور (یہ) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ آپ (اولاً) سب (انسانی) بستیوں کے مرکز (مکّہ) والوں کو اور (ثانیاً ساری دنیا میں) اس کے ارد گرد والوں کو ڈر سنائیں، اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اس پر وہی ایمان لاتے ہیں اور وہی لوگ اپنی نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے نازل کیا، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے اور تاکہ تو بستیوں کے مرکز اور اس کے ارد گرد لوگوں کو ڈرائے اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کتاب جو ہم نے اتاری ہے بڑی خیر و برکت۔ ب والی ہے۔ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس لیے اتاری ہے کہ آپ اس کے ذریعے اہل مکہ اور آس پاس کے لوگوں کو ڈرائیں اور جو لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کو پابندی سے ادا کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے اتاری بابرکت، تصدیق کرنے والی اپنے سے پہلے کی چیز کی (تاکہ تو خوشخبری دے) اور تاکہ ہوشیار کردے ام القری اور اس کے ارد گرد والوں کو اور جو آخر پر ایمان رکھتے ہیں اس پر ایمان لائیں گے اور ہی اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اسی طرح) یہ ایک عظیم الشان برکتوں بھری کتاب ہے، جسے ہم نے (اب) اتارا ہے، جو تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو کہ اس سے پہلے آچکی ہیں (تاکہ دنیا اس کی برکتوں سے مالا مال ہو) اور تاکہ آپ (اس کے ذریعے) خبراد کریں بستیوں کے مرکز (مکہ مکرمہ کے باشندوں) کو، اور ان سب کو جو اس کے گرد ہیں اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہی کتاب ہے کہ ہم نے اس کو نازل کیا ہے برکت والی ہے تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو اس سے پہلے ہوچکی ہیں تاکہ آپ ڈرائیں ام القری اور اس کے گرد والوں کو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس (کتاب) پر بھی ایمان لے آتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت رکھنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اسی طرح کی) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بڑی بابرکت ہے تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو اس کے سامنے موجود ہے تاکہ آپ ﷺ خبردار کردیں اُمُّ القریٰ (مکہ) اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو اور وہ لوگ جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اس (قرآن) پر بھی ایمان لے آئیں گے اور وہی اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ویسی ہی یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے یہ بابرکت ہے اور اپنے سے پہلے آنے والی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور جو اس لیے نازل کی گئی ہے کہ آپ مکہ والوں اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو آگاہ کردیں، جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری پابندی کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Like that Book) this too is a Book which We have revealed; full of blessing, confirming what was revealed before it so that you might warn the people of the Mother of Cities (Makka) and those around it. Those who believe in the Hereafter believe in it, and are evermindful of their Prayers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is indeed a Blessed Book We have sent down, confirming what was (revealed) before it, so that you may warn the town which is the Mother of All Towns, (i.e. Makkah) and those around it. Those who believe in the Hereafter believe in it, and they take due care of their prayers.

— Muhammad Taqi Usmani

This is indeed a Blessed Book We have sent down, confirming what was (revealed) before it, so that you may warn the town which is the Mother of All Towns, (i.e. Makkah) and those around it. Those who believe in the Hereafter believe in it, and they take due care of their prayers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And this is a blessed Book which We have sent down, confirming what came before it, so that you may warn the Mother of Towns and all those around it. Those who believe in the Hereafter believe in it, and they are constant in guarding their Salah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And this is a blessed Scripture which We have revealed, confirming that which (was revealed) before it, that thou mayst warn the Mother of Villages and those around her. Those who believe in the Hereafter believe herein, and they are careful of their worship.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And this is a Book which We have sent down, blessed and confirming what was before it, that you may warn the Mother of Cities and those around it. Those who believe in the Hereafter believe in it, and they are maintaining their prayers.

— Saheeh International

We have blessed this Book (the Quran) and revealed it to confirm that which was revealed to the Prophets who lived before you and to warn the people of the mother land (Mecca) and those living around it. Those who believe in the Day of Judgment accept this and are steadfast in their prayers.

— Muhammad Sarwar

And this is a Book We have revealed, blessed, verifying that which is before it, and that you may warn the metropolis and those around her; and those who believe in the hereafter believe in it, and they attend to their prayers constantly.

— Muhammad Habib Shakir

And this is a Book We have sent down, blest, and confirming that which hath been before it. And it is sent that thou mayest warn thereby the mother of towns and those around it. And those who believe in the Hereafter believe in it, and they guard their prayer.

— Abdul Majid Daryabadi

And this is a Book which We have sent down, bringing blessings, and confirming (the revelations) which came before it: that thou mayest warn the mother of cities and all around her. Those who believe in the Hereafter believe in this (Book), and they are constant in guarding their prayers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–92

تمام رسول انسان ہی ہیں اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لئے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لئے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور کی رسالت کے قائیل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا جیسے قرآن ان کا تعجب نقل کرتا ہے آیت (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 92–94

سورة الْاَنْعَام 61 پہلی دلیل اس بات کے ثبوت میں تھی کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہوسکتا ہے اور عملاً ہوا بھی ہے۔ اب یہ دوسری دلیل اس بات کے ثبوت میں ہے کہ یہ کلام محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے یہ خدا ہی کا کلام ہے۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے چار باتیں شہادت کے طور پیش کی گئی ہیں ایک یہ کہ یہ کتاب بڑی خیر و برکت والی ہے، یعنی اس میں انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اصول پیش کیے گئے ہیں۔ عقائد صحیحہ کی تعلیم ہے، بھلائیوں کی ترغیب ہے، اخلاق فاضلہ کی تلقین ہے، پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہدایت ہے، اور پھر یہ جہالت، خودغرضی، تنگ نظری، ظلم، فحش اور دوسری ان برائیوں سے، جن کا انبار تم لوگوں نے کتب مقدسہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 92–94

ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف نازل ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان پر حجت تمام کرنے کے بعد تیسری آیت میں ارشاد فرمایاوَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ، یعنی جس طرح تورات کا خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونا انھیں بھی تسلیم ہے اسی طرح یہ قرآن بھی ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے حق و صدق ہونے کے واسطے ان کے لئے یہ شہادت کافی ہے کہ قرآن ان سب چیزوں کی تصدیق کرتا ہے جو تورات و انجیل میں نازل ہوئی ہیں، اور تورات و انجیل کے بعد اس کے نازل کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ یہ دونوں کتابیں تو بنی اسرائیل کے لئے بھیجی گئی تھیں، ان کے دوسری شاخ بنی اسماعیل جو عرب کہلاتے ہیں اور ام القریٰ یعنی مکہ اور اس کے اردگرد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، اوپر کا جواب تو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ان کے قول کے ظاہری پہلو کو سامنے رکھ کر تھا، اب یہ ان کے ذہن کے اندر چھپے ہوئے خیال کو سامنے رکھ کر جواب دیا جا رہا ہے کہ تورات کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب کیوں نازل فرمائی ؟ اس کے نزول سے کیا کمی پوری ہوئی ؟ اوپر والی آیت میں ضمناً یہ اشارہ ہوچکا ہے کہ تورات پر ناز کرنے والے مدعیوں نے تورات کے ساتھ کیا سلوک کیا لیکن وہ ایک ضمنی جواب تھا۔ اب یہ قرآن کی مستقل حیثیت اور مستقل ضرورت واضح فرمائی گئی ہے کہ یہ کتاب کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو ان کے علم میں پہلی بار آئی ہو۔ یہ تو وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 91–92

91۔ 1 قَدَر کے معنی اندازہ کرنے کے ہیں اور یہ کسی چیز کی اصل حقیقت جاننے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ رسل اور انزال کتب کا انکار کرتے ہیں، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ انھیں اللہ کی صحیح معرفت ہی حاصل نہیں ورنہ وہ ان چیزوں کا انکار نہ کرتے، علاوہ ازیں اسی عدم معرفت الٰہی کی وجہ سے وہ نبوت و رسالت کی معرفت سے بھی قاصر رہے کہ انسان پر اللہ تعالیٰ کا کلام کس طرح نازل ہوسکتا ہے ؟ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ) 10۔ یونس :2) کیا یہ بات لوگوں کے لیے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–94

33: یہاں سے بعض یہودیوں کی تردید مقصود ہے، آنحضرت ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مرتبہ ان کے ایک سردار مالک بن صیف نے غصے میں آکر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔ 34: یعنی پوری کتاب کو ظاہر کرنے کے بجائے تم نے اسے حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ جو حصے تمہارے مطلب کے مطابق ہوتے ہیں ان کو تو عامل لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتے ہو، مگر جو حصے تمہارے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں، انہیں چھپالیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92) (اسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو ۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ “ سنن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اگر خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری تو یہ مبارک کتاب کہاں سے آئی جس کا نام قرآن ہے اور جو تمام پچھلی کتابوں کے مضامین کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اگر یہ آسمانی کتاب نہیں تو بتلاؤ کس کی تصنیف ہے جس کا مثل لانے پر جن و انس قادر نہ ہوں کیا اسے ایک امی کی تصنیف کہہ سکتے ہیں۔ 5 " اُم القریٰ " بستیوں کی اصل اور جڑ کو کہتے ہیں مکہ معظمہ تمام عرب کا دینی اور دنیاوی مرجع تھا اور جغرافیائی حیثیت میں بھی قدیم دنیا کے وسط میں مرکز کی طرف واقع ہے اور جدید دنیا (امریکہ) اس کے نیچے ہے اور روایات حدیثیہ کے موافق پانی سے زمین بنائی گئی تو اول یہی جگہ کھلی تھی۔ ان وجوہ سے مکہ کو " ام القریٰ " فرمایا اور آس پاس سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 92 وَہٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَہَا ط قُریٰ جمع ہے قریہ کی اور اُمُّ القُریٰ کا مطلب ہے بستیوں کی ماں ‘ یعنی کسی علاقے کا سب سے بڑا شہر۔ ہر ملک میں ایک سب سے بڑا اور سب سے اہم شہر ہوتا ہے ‘ اسے دار الخلافہ کہیں یا دار الحکومت۔ وہ بڑا شہر پورے ملک کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ عرب میں اس وقت کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی جس کا کوئی دارالحکومت ہوتا ‘ لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر مکہ مکرمہ کو پورے عرب میں ایک مرکزی شہر کی حیثیت حاصل تھی۔ خانہ کعبہ کی وجہ سے یہ شہر مذہبی مرکز تھا۔ عرب کے تمام قبائل یہاں حج کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

93۔ ب قرآن بابرکت کتاب کیسے ؟ یہ قرآن کریم ہی کے بابرکت ہونے کا نتیجہ تھا کہ اس نے عرب جیسی جاہل قوم کو، جو قبائلی عصبیت کی وجہ سے ہر وقت برسرپیکار اور لڑتی مرتی رہتی تھی۔ ایک مہذب قوم بنا کر چند ہی سالوں میں اس کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ ان کے اخلاق و عادات اس قدر اعلیٰ بن گئے کہ یہی جاہل، وحشی اور اجڈ قوم تمام اقوام عالم کی پیشوا بن گئی۔ بڑی بڑی طاقتوں کو سرنگوں کیا اور دنیا کے ایک کثیر حصہ پر قابض ہو کر ان میں علوم و تہذیب پھیلانے کا سبب بن گئی۔ قرآن کی تعلیم نے انہیں ذلت کی گہرائیوں سے نکال کر عزت کے بلند مقامات پر پہنچا دیا۔ 94 قرآن کریم کے اللہ کا کلام ہونے پر چار دلائل :۔ اس سے پہلی آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

135 ۔ یعنی ساری دنیا کو، (آیت) ” مبرک “۔ پہلی صفت قرآن مجید کی یہ ارشاد ہوئی کہ یہ ایک مبارک کتاب ہے۔ اس سے خلق جتنا چاہے۔ بہ قدر اپنے ظرف وہمت کے استفادہ کرے۔ ای کثیر المنافع والفوائد (کشاف) قال اھل المعانی کتاب مبارک ای کثیر خیرہ دائم برکتہ ومنفعتہ یشر بالثواب والمغفرۃ ویزجرعن القبیح والمعصیۃ (کبیر) فخررازی (رح) اس آیت کے ذیل میں جو اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہیں وہ بجنسہ نقل ہونے کے قابل ہے۔ یقول مصنف ھذا الکتاب محمد بن عمر الرازی وانا قدنقلت انواعا من العلوم النقلیۃ والعقلیۃ فلم یحصل لی بسبب شیء من العلوم من انواع السعادات فی الدین والدنیا مثل ما حصل بسبب خدمۃ ھذا العلم (کبیر) (اس کتاب کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 91–94

آیت نمبر 91 تا 94 ترجمہ : یہود نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی یعنی جیسی تعظیم کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی یا جیسی معرفت کا حق تھا ویسا حق ادا نہیں کیا جبکہ نبی ﷺ سے قرآن میں مخاصمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ ان سے پوچھو کہ اس کتاب کو کس نے نازل کیا جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اس کی کیفیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کیلئے نور اور ہدایت تھی، جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے یعنی اس کو اوراق متفرقہ میں لکھ رکھا ہے، (تجعلونَہٗ ) تینوں مقامات میں یاء اور تاء کے ساتھ ہے جن کو تم ظاہر کرتے ہو یعنی ان میں سے جن باتوں کو تم ظاہر کرنا پسند کرتے ہو ظاہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہذا کتاب انزلنہ مبارک مصدق الذی بین یدیہ اور یہ بھی ایک عظیم الشان کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا بڑی برکت والی ہے اپنے سے پہلی کتاب کو سچا بتانے والی ہے۔ یعنی یہ قرآن کثیر المنافع ہے۔ اس سے پہلے جو توریت (اللہ کی کتاب نازل ہوچکی) تھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ مبارک سے مراد کثیر الفوائد اور الذی بین یدیہ سے مراد توریت ہے۔ ولتنذر ام القری ومن حولہا (تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ) اور مکہ والوں کو اور مکہ کے ہر سمت والوں کو ڈراؤ۔ وَلِتُنْزِرَکا عطف فعل محذوف پر ہے جس کے مفہوم کو لفظ مبارک بتارہا ہے یعنی تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ اور تمام انسانوں کو ڈراؤ۔ ام القریٰمکہ۔ من حولہا سے مراد پورب پچھم اور جنوب و شمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) اور یہ قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ہم نے نازل کیا ہے جو مومن کے لیے رحمت ومغفرت کا باعث ہے اور توریت، انجیل، زبور اور تمام کتب سماویہ کو بیان اور توحید اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت میں موافقت کرنے والا ہے تاکہ آپ اس قرآن کریم کے ذریعے خصوصیت کے ساتھ مکہ والوں اور تمام شہر والوں کو ڈرائیں مکہ کو ام القری اس کی عظمت کی بنا پر کہنے لگا جاتا ہے یا یہ کہ تمام زمین اس کے نیچے سے بچھائی گئی ہے، اس لیے اس کو ام القری (تمام شہروں، بستیوں کی ماں) کہتے ہیں۔ اور جو لوگ بعث بعد الموت اور جنت کی نعمتوں پر ایمان رکھتے ہیں وہ ایسے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان لے آتے ہیں، اور پانچوں نمازوں کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي : اس آیت میں مکہ کو ”ام القریٰ“ کہا گیا ہے، جس کا معنی ہے تمام بستیوں کی جڑ یا ان کا مرکز اور ”وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ‘ سے مراد قبائل عرب اور آدم ؑ کی اولاد ہیں، خواہ عرب ہوں یا عجم۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً)”مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔“ [ بخاری، الصلاۃ، باب قول النبی ﷺ : (جعلت لی الأرض۔۔) : 438 ] نیز دیکھیے سورة انعام (9) ، سورة اعراف (158) اور سورة سبا (28)۔ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ : کیونکہ قرآن مجید آخرت کی راہ بتلاتا ہے۔ وَهُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ : کیونکہ نماز تمام عبادتوں کی اصل اور آخرت میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 92 قولہ تعالیٰ آیت : وھذا کتٰب کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ انزلنٰہ یہ صفت ہے مبرٰک یعنی اس میں برکت رکھی گئی ہے اور برکت کا معنی زیادتی اور اضافہ ہے۔ اور غیر قرآن میں حال ہونے کی بنا پر اسے منصوب پڑھنا بھی جائز ہے۔ اور اسی طرح آیت : مصدق الذی بین یدیہ ہے۔ یعنی وہ کتب جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہیں، کیونکہ یہ (قرآن کریم) شرک کی نفی کرنے اور توحید کے اثبات میں ان کی موافقت کرتا ہے۔ آیت : ولتنذر ام القرٰی اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ پہلے گزر چکی ہے۔ اور یہاں مراد اس کے باسی اور رہنے والے ہیں۔ پس اس میں مضاف کو حذف کردیا گیا ہے، یعنی ہم نے قرآن کریم برکت اور ڈرانے کے لیے نازل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھذا کتب انزلنہ مبرک سے مراد یہ قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر نازل فرمایا۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت مصدق الذی بین یدیہ یعنی یہ قرآن مجید ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں۔ (3) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ام القری ومن حولھا سے مراد ہے مکہ اور اس کے ارد گرد کے وہ دیہات جو مشرق سے مغرب کی جانب ہیں۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے عطاء و عمرو بن دینارحمۃ اللہ علیہا دونوں حضرات سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهٰذَا [ اور یہ ] كِتٰبٌ [ ایک کتاب ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ ہم نے اتارا جس کو ] مُبٰرَكٌ [ برکت دی ہوئی ] مُّصَدِّقُ الَّذِيْ [ تصدیق کرنے والی اس کی جو ] بَيْنَ يَدَيْهِ [ اس کے سامنے (یعنی پہلے ) ہے ] وَلِتُنْذِرَ [ اور تاکہ آپ خبردار کریں ] اُمَّ الْقُرٰي [ بستیوں کی ماں (یعنی مکہ والوں ) کو ] وَمَنْ [ اور ان کو جو ] حَوْلَهَا ۭ [ اس کے اردگرد ہیں ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان رکھتے ہیں ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] يُؤْمِنُوْنَ [ وہ ایمان لاتے ہیں ] بِهٖ [ اس پر ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] عَلٰي صَلَاتِهِمْ [ اپنی نماز پر (یعنی کی ) ] يُحَافِظُوْنَ [ حفاظت کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآن مجید مبارک کتاب ہے سابقہ کتب کی تصدیق کرتی ہے یہود نے یہ جو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا اس سے قرآن مجید کا انکار بھی لازم آگیا۔ لہٰذا قرآن مجید کے نازل فرمانے کا متصلاً ہی تذکرہ فرمایا۔ اور قرآن مجید کی دو صفات بیان فرمائیں اول یہ کہ مبارک ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی دوسری کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ صاحب روح المعانی ج 7 ص 221 مبارک کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ای کثیر الفائدۃ و النفع لاشتمالہ علی منافع الدارین و علوم الاوّلین و الاخرین۔ یعنی یہ کتاب بہت زیادہ فائدہ والی ہے اس لیے کہ اس میں دونوں جہان کے منافع ہیں اور اولین اور آخرین کے علوم ہیں۔ قرآن مجید کی دوسری صفت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 91–92

منکرین نبوت کی تردید اور تہدید۔ قال اللہ تعالی، وماقدرواللہ حق قدرہ۔۔۔ الی۔۔۔ یحافظون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کیا جو منکرین توحید کی تردید پر مشتمل تھا اب آئندہ آیات میں منکرین نبوت کے بعض ھفوات کی تردید فرماتے ہیں مالک بن صفیف یہودی عام اوردیگر بعض علماء یہود نے جوش عداوت میں نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی اور ایک روایت میں ہے کہ یہود نے یہ کہا کہ اللہ آسمان سے اللہ نے کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی گویا کہ ان معاندین نے جوش عداوت میں انزال کتب وارسال رسل کے سلسلہ ہی کی سرے سے نفی کردی اور ظاہر ہے کہ انزال کتب کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 91–92

95 یہ یہود پر شکوی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ ما عظموا اللہ تعالیٰ حق تعظیمہ اور ابو العالیہ فرماتے ہیں۔ ما وصفوہ حق صفتہ اور قدروا کی ضمیر سے جمہور کے نزدیک یہود مراد ہیں اور اذ ظرف۔ قدروا کے متعلق ہے (روح) مَا اَنْزَلَ اللہُ الخ یعنی آج تک اللہ نے کسی بشر پر اپنا کوئی کلام نازل نہیں کیا اس سے ان کا مقصد آنحضرت ﷺ کی رسالت پر طعن کرنا تھا کہ جب آپ بھی بشر ہیں تو اسے معلوم ہوا کہ آپ پر بھی اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ 96 یہ جواب شکویٰ ہے اور یہود کے قول نا معقول کا رد ہے کہ اگر تمہارے قول کے مطابق اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں فرمایا تو بتاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جن کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 91–92

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے رد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل کا ذکر کیا اور بطور احسان فرمایا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دلیل سمجھا دی ان کی قوم کے مقابلے میں۔ پھر اللہ نے آپ کی اور آپ کی اولاد کی فضیلت کا تذکرہ کیا۔ بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ سب ہدایت یافتہ لوگ تھے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے اسلاف میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا اور پھر آپ کے آبائو اجداد اور بھائیوں میں سے اللہ کے منتخب بندوں کا ذکر کیا جنہیں ہدایت سے نوازا گیا۔ فرمایا اگر یہ لوگ بھی شرک کے مرتکب ہوتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ شرک ایسا کبیرہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْہِ وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَہَا۝ 0ۭ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ يُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَہُمْ عَلٰي صَلَاتِہِمْ يُحَافِظُوْنَ۝ 92 كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 91–92

ترکیب : حق مفعول مطلق قدر کا مضاف ہے اور دراصل وصف ہے کیونکہ تقدیرہ قدرہ الحق اس لئے یہ بھی منصوب ہے۔ اذ قالوا ظرف ہے ما قدروا کا قراطیس مفعول ثانی ہے تجعلون کا ای فی قراطیس۔ تبدونہا قراطیس کی صفت وعلمتم ایھا الیہود من القرآن جملہ موضع حال میں ہے یا جملہ مستانفہ۔ قل اللّٰہ جواب ہے قل من انزل کا مصدق وصف ہے کتاب کا بغیر تنوین۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان ھو الاذکریٰ للعلمین کہ یہ عالم کے لئے نصیحت ہے جو خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ ایسے موقع پر منکرین نبوت کہہ دیا کرتے ہیں کہ خدا نے کچھ بھی کسی بشر پر نازل نہیں کیا۔ اسے کیا غرض ‘ کیا مطلب ؟ یا عقل کافی ہے وہی نیک و بد کی پہچان کرسکتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے : وَھٰذَا کِتٰبٌاَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌمُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَھَا ط وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَھُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ (الانعام : 92) (اور یہ ایک کتاب ہے ‘ جو ہم نے اتاری بابرکت ‘ تصدیق کرنے والی اپنے سے پہلے کی چیز کی (تا کہ تو خوشخبری دے) اور تاکہ ہوشیار کر دے ام القریٰ اور اس کے ارد گرد والوں کو اور جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہی اس پر ایمان لائیں گے اور وہی اپنی نماز کی حفاظت کریں گے) گزشتہ آیت کی تشریح کے ضمن میں یہ بات گزری ہے کہ یہود نے اہل مکہ سے یہ کہا تھا کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : تورات اور انجیل کے بعد قرآن مجید مبارک کتاب ہے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا آخری سرچشمہ ہے جو پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتی ہے۔ یہودی عصبیت کی بنا پر نبی ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کے نزول کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن تورات سمیت آسمانی کتابوں کی تصدیق اور تائید کرتا ہے اور لوگوں کے لیے باعث برکت ہے۔ قرآن مجید کتب آسمانی کی تائید و تصدیق کرنے کے ساتھ نہایت ہی مبارک کتاب ہے۔ کائنات کے انسانوں کے لیے ہدایت کا منبع، روشنی کا سرچشمہ اور حکمت و دانش کا مہرتاباں ہے اگر یہود ہٹ دھرمی کی بنا پر مسلسل انکار کر رہے ہیں تو اے رسول ان پر صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے آپ اہل مکہ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 92 : وَہٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اپنے پیغمبر ﷺ پر۔ مُبَارَک منافع اور فوائد سے بھرپور۔ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِیعنی کتاب وَلِتُنْذِرَ ابوبکر نے یا سے پڑھا ہے یعنی کتاب۔ اس کا عطف اس پر ہے جس پر کتاب کی صفت دلالت کرتی ہے گویا اس طرح فرمایا انزلناہ لبرکات و تصدیق ما تقدمہ من الکتاب ولا نذار۔ ہم نے اس کو برکات کے ساتھ اتارا اور یہ تصدیق کے لئے اس کتاب کی جو پہلے گزریں اور ڈرانے کے لئے۔ امّ القریٰ کا لقب : اُمَّ الْقُرٰی، مکۃ المکرمہ۔ اس کو ام القری اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ زمین کی ناف ہے اہل قرٰی کے لیے قبلہ ہے۔ اور شان میں سب سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے کہ لوگ اس کا قصد کر کے جاتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (92) وھذا کتب انزلنہ مبرک مصدق الذی بین یدیہ ولتذر) اے محمد ﷺ ابوبکر نے عاصم سے ” لبئذر “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کتاب ڈرائے (ام القریٰ ) مکہ کا نام ام القریٰ اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ زمین مکہ کے نیچے سے بچھائی گئی ہے۔ تو یہ زمین کی اصل ہوئی جیسے ماں اپنی نسل کے لئے اصل ہوتی ہے اور یہاں مراد مکہ والے ہیں (ومن حولھا) یعنی تمام دنیا والے (والذین یومنون بالاخرۃ یومنون بہ) اس کتاب پر (وھم علی صلاتھم) پانچوں نمازوں سے (یخافظون) یعنی مئومن ہمیشہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–92

(91 ۔ 92) ۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین کا بڑا اختلاف ہے بعضے مفسرین کا یہ قول ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں اتری ہے کیونکہ وہ کسی بشر کی نبوت کے اور کسی بشر پر کلام الٰہی کے اترنے کے قائل نہیں تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کو نبی بھیجنا ہوتا تو آسمان سے کوئی فرشتہ آکر ہم کو اللہ کے احکام پہنچا جاتا لیکن اس شان نزول پر امام فخر الدین رازی اور اور مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر یہ آیت مشرکین مکہ کی شان میں نازل ہوتی تو ان کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت بطور الزام کے اس آیت میں کیوں ذکر کی جاتی اس لیے کہ مشرکین مکہ تو حضرت موسیٰ کو اور کسی نبی کو نہیں مانتے اور بعضے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 92–93

آیت 92 (وھذا) ” اور یہ “ یعنی قرآن مجید (کتب انزلنہ مبرک) ” کتاب ہے، اس کو اتارا ہم نے آپ کو طرف، برکت والا “ یعنی برکت اس کا صوف ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ بھلائیوں اور نیکیوں پر مشتمل ہے (مصدق الذی بین یدیہ) ” جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ “ یعنی یہ کتاب، گزشتہ کتابوں کی موافقت کرتی ہے اور ان کی صداقت پر گواہ ہے۔ (ولتنذرام القری ومن حولھا) نیز ہم نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ آپ بستیوں کی ماں، یعنی مکہ مکرمہ کے لوگوں اور اس کے اردگرد دیار عرب بلکہ تمام شہروں کے لوگوں کو ڈرائیں، تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بچیں اور ان امور سے بچیں جو اس کے عذاب کے موجب ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 90–102

استدلال انبیاء قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

166 قرآن حکیم ایک انتہائی مبارک کتاب : سو قرآن حکیم ایک ایسی عظیم الشان اور مبارک کتاب ہے جس کی برکتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ یعنی " کتاب " سے یہاں پر مراد قرآن حکیم ہے جس کی رحمتوں اور برکتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ جس کی سچی اور مبارک و مقدس تعلیمات انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ اور پاکیزہ زندگی سے نوازتی ہیں اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی نعیم مقیم سے سرفراز کرتی ہیں۔ سو یہ ایسی برکتوں بھری کتاب ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے نوازتی اور سرفراز کرتی ہے۔ اور اس سے اعراض اور محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی وہ کتاب عظیم ہے جس کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–94

نبی کی صفات، اللہ کی کتاب، انسان کا انجام تشریح : جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بہترین عقائد، بہترین اعمال اور بہترین اجر وثواب اور اللہ کی طرف سے دیے گئے انعامات کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ اسی طرح ان آیات میں دہرایا جا رہا ہے کہ اہل عرب اور یہود اخلاق و کردار کی بدترین مثال بن چکے تھے جب رسول اللہ ﷺ کو رسالت ملی تو وہ نہ ان کو ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کو ماننے کو تیار تھے تو ایسے ہی لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی تھی جو اخلاق، کردار، نیک اطوار اور نجات کی راہیں بتانے والی اللہ کیطرف سے نازل شدہ کتاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 92–95

رکوع نمبر 11 ۔ آیات 92 تا 95 ۔ اسرار و معارف : نبی کی بشریت : اسلام نے پوری دنیائے کفر کو چیلنج کرتے ہوئے ساری انسانیت کو ایک معبود برحق کے ساتھ ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دی اور اس طرح سب کافر اسلام دشمنی پہ جمع ہوگئے سوائے ان خوش نصیب لوگوں کے جنہیں نور ایمان نصیب ہوا اور ظلمت کفر سے نجات ملی مگر یہودی اسلام دشمنی میں اول روز سے پیش پیش رہے حتی کہ مشرکین مکہ بھی علمائے یہود سے اعتراض سیکھ کر حضور اکرم ﷺ پہ پیش کرتے تھے اور اس غرض سے مدینہ آتے جاتے رہتے کہ اکثر یہودی عالم وہاں رہتے تھے آخر یہودی علما کے سربراہ نے انہیں کہا کہ کسی بشر پر یا کسی انسان پر اللہ کی طرف سے کبھی کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 کیونکہ دنیا اور آخرت کی سعادت تہذیب اخلاقی اور تزکیہ نفس میں ہے اور ان دونوں کا بیان قرآن میں جس جامعیت کے ساتھ ملتا ہے کسی دوسری کتاب میں نہیں پایا جاتا ہے (رازی)12 اس آیت میں مکہ معظمہ کو ام القری فرمایا گیا ہے جس کی معنی ہیں تمام بستیوں کی جڑیا ان کا مرجع (کذافی الموضح) اور من حولھا سے مراد قبائل عرب ارسارے طوائف بنی آدم ہیں کیا عرب اور کیا عجم حدیث میں ہے وبعثٹ الی الناس عامتہ کی میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ ( دیکھئے آیت 19 نیز اعراف، 158)13 کیونکہ قرآن مجید آخرت ہی کو درست کرنے کی راہ بتلارہا ہے (وحیدی)14 کیونکہ تمام تمام عبادتوں کی اصل اور آخرت میں کامیابی کی کنجی ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:92) لتنذر۔ کہ ڈرائے تو۔ تو ڈرائے گا۔ تو ڈراتا ہے۔ انذار۔ سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ ام القری مکہ معظمہ۔ بستیوں کی اصل اور جڑ۔ بستیوں کی ماں۔ من حولہا۔ جو اس کے اردگرد ہے۔ یعنی تمام اہل مشرق و مغرب

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 91–92

لغات القرآن : آیت نمبر 91 : 92 : ماقدرو (انہوں نے قدر نہ کی) حق قدرہ (جیسا کہ اس کی قدر کرنے حق تھا) بشر (انسان) قراطیس (قرطاس) ۔ پرزے پرزے۔ (علمتم (تمہیں سکھایا گیا) خوض (بےہودہ مشغلہ) یلعبون (وہ کھیلتے ہیں) ام القری (بستیوں کی ماں (شہر مکہ مکرمہ) حول (اردگرد۔ آس پاس) یحافظون (وہ حفاظت کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 91 تا 92 : جیسا کہ آج کل بھی بہت سے مستشرقین ‘ خودساختہ محققین اور عاقلین یہ کہتے ہوئے نہیں جھجکتے کہ قرآن خود نبی ﷺ کی تصنیف ہے (نعوذ باللہ) اسی طرح ان دنوں بھی کسی یہودی نے اٹھ کر پکار دیا کہ اللہ کسی بشر پر اپنا کلام نازل نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ قرآن خود نبی ﷺ کی تصنیف ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 91–92

توحید و نبوت کا ذکر اور انسان کا انجام شان نزول : یہ آیت یود اور مشرکین مکہ کے حق میں اتری ہے، کیونکہ وہ کسی بشر کی نبوت کے اور کسی بشر پر کلام الہی کے اترنے کے قائل نہیں تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کو نبی بھیجنا ہوتا تو آسمان سے کوئی فرشتہ آکر ہم کو اللہ کے احکام پہنچاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں دونوں فرقوں کو قائل کیا گیا ہے۔ مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا کہ جن یہود کے بھروسہ پر تمہارا انکار نبوت کے قبول کرنے میں بڑھا ہے وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی کہتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے پھر تم کیسے کہتے ہو کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ اور مالک بن سیف یہودی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–92

[31] ام القریٰ کے لفظی معنی ہیں دیہات کی ماں یعنی بستیوں کا مرکز۔ مراد اس سے مکہ مکرمہ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ [32] یعنی تمام دنیا والوں کو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–92

ما قدرو اللہ حق قدرہ : (ف 3) سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے سب کو اسی نے خلعت حیات سے نوازا ہے ، اسی نے زندہ رکھا اور زندگی کے لوازمات پورے کئے وہی سنتا ہے ، وہی جانتا ہے ۔ دکھ ، درد اور تکلیف ومصیبت میں اسی کی کارسازی بروئے کار آتی ہے ، وہ نہ چاہے تو دنیا میں پتہ نہ ہل سکے ، یہ سب اس کے انعامات ہیں ، مگر انسان ہے کہ اسے نہیں پہچانتا ۔ حق قدرہ : سے یہ مقصود نہیں ہے کہ اللہ کی معرفت کی کوئی حد ہے کس کے بس میں ہے کہ وہ باندازہ نعمت اس کا شکریہ ادا کرسکے ؟ ایک ایک سانس جو ہم لیتے ہیں ہزار در ہزار نعمتوں کو مرہون منت ہے پھر انسان کے لئے یہ کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی تعریف و ستائش سے کما حقہ عہدہ برآہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-92 اور جب یہود کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا اور یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر کتابیں نازل کرتا رہا ہے تو یہ قرآن بھی ایک کتاب ہے جس کو ہم نے ہی اتارا ہے یہ کتاب بڑی بابرکت ہے اور اپنے سے پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرنے والی ہے اور یہ کتاب اس لئے نازل فرمائی ہے تاکہ اے پیغمبر ! ﷺ آپ مکہ والوں کو اور اس کے چاروں طرف بسنے والوں کو ڈرا دیں اور جو لوگ آخرت کو مانتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو قرآن کریم پر ایمان لے ہی آتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت اور نگہداشت کرتے ہیں اور اپنی نمازوں سے پوری طرح باخبر رہتے ہیں یعنی آسمانی کتابوں کی اس طرح تصدیق کرتی ہے کہ ان کو سچا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–93

ف 2۔ یہ کہنا ناقدر شناسی اس لیے ہے کہ اس سے مسئلہ نبوت کا انکار لازم آتا ہے اور نبوت کا منکر اللہ کی تکذیب کرتا ہے اور تصدیق حق واجب ہے پس اس میں قدرشناسی واجب اخلال ہوا۔ 3۔ تجعلونہ قراطیس سے ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر مضمون کے اوراق جدا کر رکھے تھے اور بعض کا ایسا کرلینا تعجب نہیں اور اگر قراطیس سے مراد فی القراطیس مجازا لیا جائے تو معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ اپنے ذہن میں تورات کے مختلف حصے تجویز کر رکھے تھے جن میں بعض مضامین کو مثل نعت محمد ﷺ اس طرح چھپاتے تھے کہ اس کی اور اور تاویلیں کردیتے تھے۔ 1۔ مطلب یہ کہ جس تورات کی یہ حالت ہے کہ اس کو اولا تو تم مانتے ہو دوسرے بوجہ نور وہدی ہونے کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ یہ قرآن کریم مکہ اور حوالئی مکہ کو سنائیں تاکہ وہ متنبہ ہوجائیں : 142: قرآن کریم کیا ہے ؟ کتاب اللہ جس کو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس میں نازل کیا ہے جو ایسی بابرکت کتاب ہے کہ اس نے اپنے سے پہلے آنے والی کتابوں کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح اس نے سب کو ملانے کی کوشش کی ہے متفرق کرنے کی نہیں۔ تورات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو کیوں نازل کیا ؟ اس کے نزول سے کیا کمی پوری ہوئی ؟ یہی کہ جو باتیں اہل کتاب نے چھپا دی تھیں ان کو ظاہر کردیا جائے اور جو باتیں وہ اور ان کے آباؤاجداد ایک مدت ہوئی کہ سمجھ نہ سکے تھے ان کو اس نے بڑے واضح طریقہ سے سمجھا دیا اسلئے حق تو یہ تھا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–94

After having concluded the argument concerning Books revealed by Allah Ta` ala against deniers, it was said in the third verse (92): وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَ‌كٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ‌ أُمَّ الْقُرَ‌ىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا (And this is a blessed Book We have sent down confirming what has been before it, so that you may warn the town which is the mother of all towns, and those around it), that is, as it is that they too accept that the Torah was sent down by Allah Ta` ala, so it is that We have sent down this Qur'an too, and sufficient for them is the proof of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–94

61. The point argued above was that God's word can be, and in the past has been, revealed to human beings. The next point is that the message of Muhammad (peace be on him) is indeed the revealed word of God. In order to establish this, four things are adduced as evidence: First, that this Book is overflowing with God's grace and beneficence. In other words, it contains the best possible principles for the well-being and salvation of mankind. It lays down the true doctrines of belief. It urges man to righteous conduct and inspires him to moral excellence. It contains guidance as to how one may…

Read the full tafseer →