Al-An'aam 6:91

Al-An'aam · from ayah 91

6:91

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ ؕ— قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّهُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِیْرًا ۚ— وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَلَاۤ اٰبَآؤُكُمْ ؕ— قُلِ اللّٰهُ ۙ— ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ ۟وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنۡ شَىۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡـكِتٰبَ الَّذِىۡ جَآءَ بِهٖ مُوۡسٰى نُوۡرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ‌ تَجۡعَلُوۡنَهٗ قَرَاطِيۡسَ تُبۡدُوۡنَهَا وَتُخۡفُوۡنَ كَثِيۡرًا‌ ۚ وَعُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَلَاۤ اٰبَآؤُكُمۡ‌ؕ قُلِ اللّٰهُ‌ۙ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِىۡ خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُوۡنَ

اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they did not appraise Allah with true appraisal when they said, "Allah did not reveal to a human being anything." Say, "Who revealed the Scripture that Moses brought as light and guidance to the people? You [Jews] make it into pages, disclosing [some of] it and concealing much. And you were taught that which you knew not - neither you nor your fathers." Say, "Allah [revealed it]." Then leave them in their [empty] discourse, amusing themselves.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 11 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:91

ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے ان سے پوچھو، پھر وہ کتاب جسے موسیٰؑ لایا تھا، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو، اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا؟ بس اتنا کہہ دو کہ اللہ، پھر اُنہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑ دو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان لوگوں نے، اللہ کی جیسی قدر کرنا واجب تھی ویسی قدر نہ کی جب کہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ یہ کہیئے کہ وه کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ ﻻئے تھے جس کی کیفیت یہ ہے کہ وه نور ہے اور لوگوں کے لئے وه ہدایت ہے جس کو تم نے ان متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے جن کو ﻇاہر کرتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو اور تم کو بہت سی ایسی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو تم نہ جانتے تھے اور نہ تمہارے بڑے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ نے نازل فرمایا ہے پھر ان کو ان کے خرافات میں کھیلتے رہنے دیجیئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان (کافر) لوگوں نے جب یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا تو انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی۔ (ان سے) کہو کہ : وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جو موسیٰ لے کر آئے تھے، جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، اور جس کو تم نے متفرق کاغذوں کی شکل میں رکھا ہوا ہے۔ جن (میں سے کچھ) کو تم ظاہر کرتے ہو، اور بہت سے حصے چھپالیتے ہو، اور (جس کے ذریعے) تم کو ان باتوں کی تعلیم دی گئی تھی جو نہ تم جانتے تھے، نہ تمہارے باپ دادا ؟ (اے پیغمبر ! تم خود ہی اس سوال کے جواب میں) اتنا کہہ دو کہ : وہ کتاب اللہ نے نازل کی تھی۔ پھر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ اپنی بےہودہ گفتگو میں مشغول رہ کر دل لگی کرتے رہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی جب بولے ا لله نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا، تم فرماؤ کس نے اُتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے ظاہر کرتے ہو اور بہت سے چھپالیتے ہو اور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے جو نہ تم کو معلوم تھا نہ تمہارے باپ دادا کو، اللہ کہو پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں انہیں کھیلتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہوں نے (یعنی یہود نے) اﷲ کی وہ قدر نہ جانی جیسی قدر جاننا چاہیے تھی، جب انہوں نے یہ کہہ (کر رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر) دیا کہ اﷲ نے کسی آدمی پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ آپ فرما دیجئے: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسٰی ؑ لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی؟ تم نے جس کے الگ الگ کاغذ بنا لئے ہیں تم اسے (لوگوں پر) ظاہر (بھی) کرتے ہو اور (اس میں سے) بہت کچھ چھپاتے (بھی) ہو، اور تمہیں وہ (کچھ) سکھایا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا، آپ فرما دیجئے: (یہ سب) اﷲ (ہی کا کرم ہے) پھر آپ انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیں کہ وہ اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی، جو اس کی قدر کا حق تھا، جب انھوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ کہہ وہ کتاب کس نے اتاری جو موسیٰ لے کر آیا ؟ جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، تم اسے چند ورق بناتے ہو، جنھیں ظاہر کرتے ہو اور بہت سے چھپاتے ہو اور تمہیں وہ علم دیا گیا جو نہ تم نے جانا اور نہ تمہارے باپ دادا نے۔ کہہ اللہ نے، پھر انھیں چھوڑ دے، اپنی (فضول) بحث میں کھیلتے رہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں نے اللہ کو ایسے نہیں پہچانا جیسے اسے پہچاننا چاہئے تھا، کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی بشر پر کبھی کچھ نہیں اتارا۔ آپ ان سے پوچھئے : جو کتاب موسیٰ لائے تھے اسے کس نے اتارا تھا ؟ (وہ کتاب) جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی۔ تم نے اسے ورق ورق بنا رکھا ہے۔ ان میں سے کچھ ورق تو ظاہر کرتے ہو اور زیادہ۔ چھپا جاتے ہو۔ اور اس کتاب سے تمہیں وہ کچھ سکھایا گیا تھا جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباؤ اجداد۔ آپ کہہ دیجئے کہ اسے اللہ ہی نے اتارا تھا پھر انہیں چھوڑیئے کہ وہ اپنی فضول بحثوں میں ہی پڑے کھیلتے رہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی جب کہ یہ کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر بھی کوئی چیز نہیں اتاری۔ ان سے پوچھو، وہ کتاب کس نے اتاری جس کو موسیٰ روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت کی حیثیت سے لے کر آئے، جس کو ورق ورق کر کے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور زیادہ کو چھپاتے ہو، اور تم کو ان باتوں کی تعلیم دی گئی جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا، کہہ دو اللہ ہی نے، پھر ان کو ان کی کج بحثیوں میں چھوڑ دو ، کھیلتے رہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور قدر نہیں کی ان لوگوں نے اللہ (پاک) کی، جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا، جب کہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بھی انسان پر کچھ بھی نہیں اتاراف پوچھو کہ کس نے اتاری وہ کتاب جس کو موسیٰ سے لے آئے تھے ؟ ، ایک عظیم الشان روشنی اور سراسر ہدایت کے طور پر (اپنے زمانے کے) سب لوگوں کیلئے، جس کو تم لوگوں نے اب ورقے ورقے کر رکھا ہے، کچھ کو تم ظاہر کرتے ہو، اور بہت کچھ تم چھپا جاتے ہو، حالانکہ (اس کے ذریعے) تمہیں وہ کچھ سکھایا گیا جو نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا، کہو اللہ ہی ہے (اتارنے والا پھر انھیں چھوڑ دو ، کہ یہ اپنی بیہودگی میں پڑے کھیلتے رہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہوں نے اللہ کو نہیں پہنچانا جو اس کے پہچاننے کا حق تھا جب انہوں نے (یہ) کہہ دیا کہ خدا نے کسی بشر پر کوئی بھی چیز نہیں اتاری۔ آپ کہئے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جسے لے کر موسیٰ ؑ آئے تھے (بجائے خود بھی) نور اور لوگوں کے لئے ہدایت بھی جس کو تم نے (مختلف) اوراق کر رکھا ہے کہ ظاہر کردیتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو اور تم سکھائے گئے وہ جو تم نہیں جانتے تھے نہ تم اور نہ تمہارے باپ دادا آپ کہیے کہ اللہ نے پھر آپ انہیں ان کے مشغلوں میں بیہودگی سے پڑے ہوئے رہنے دیجیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے ہرگز اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کا حق تھا جب انہوں نے کہا کہ نہیں اتاری ہے اللہ نے کسی بھی انسان پر کوئی بھی چیز آپ ﷺ پوچھئے کہ پھر کس نے اتاری تھی وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آئے تھے جو خود نور (روشن) تھی اور لوگوں کے لیے ہدایت بھی تھی ؟ تم نے اسے ورق ورق کردیا ہے اس (کے احکام) میں سے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپا کر رکھتے ہو اور تمہیں سکھائی گئی تھیں (تورات کے ذریعے سے) وہ سب باتیں جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباء و اَجداد کہیے (یہ سب نازل کیا تھا) اللہ نے پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ یہ اپنی کج بحثیوں کے اندر کھیلتے رہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر جیسے جاننی چاہیے تھی نہ جانی، جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے انسان پر (وحی اور کتاب) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا ؟ جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی، اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق پر نقل کر رکھا ہے۔ ان کے کچھ حصہ کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو، تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو کہ اس کتاب کو اللہ نے ہی نازل کیا ہے۔ پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ گفتگو میں کھیلتے رہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They did not form any proper estimate of Allah when they said: 'Allah has not revealed anything to any man.' Ask them: 'The Book which Moses brought as a light and guidance for men and which you keep in bits and scraps, some of which you disclose while the rest you conceal, even though through it you were taught that which neither you nor your forefathers knew -who was it who revealed it?' Say: 'Allah!'- and then leave them to sport with their argumentation.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They did not hold Allah in due esteem when they said, :Allah has not sent down anything to a human being. Say, :Who has sent down the Book brought by Musa as a light and a guidance for people, which you keep in various sheets (some of which) you disclose, and a lot of which you conceal, and (by which) you were taught what you did not know, neither you nor your fathers? Say, :Allah. Then leave them to play with whatever they indulge in.

— Muhammad Taqi Usmani

They did not hold Allah in due esteem when they said, :Allah has not sent down anything to a human being. Say, :Who has sent down the Book brought by Musa as a light and a guidance for people, which you keep in various sheets (some of which) you disclose, and a lot of which you conceal, and (by which) you were taught what you did not know, neither you nor your fathers? Say, :Allah. Then leave them to play with whatever they indulge in.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They did not estimate Allah with an estimation due to Him when they said: "Nothing did Allah send down to any human being (by inspiration)." Say: "Who then sent down the Book which Musa brought, a light and a guidance to mankind which you (the Jews) have made into (separate) papersheets, disclosing (some of it) and concealing much. And you were taught that which neither you nor your fathers knew." Say: "Allah (sent it down)." Then leave them to play in their vain discussions.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they measure not the power of Allah its true measure when they say: Allah hath naught revealed unto a human being. Say (unto the Jews who speak thus): Who revealed the Book which Moses brought, a light and guidance for mankind, which ye have put on parchments which ye show, but ye hide much (thereof), and (by which) ye were taught that which ye knew not yourselves nor (did) your fathers (know it)? Say: Allah. Then leave them to their play of cavilling.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they did not appraise Allah with true appraisal when they said, "Allah did not reveal to a human being anything." Say, "Who revealed the Scripture that Moses brought as light and guidance to the people? You [Jews] make it into pages, disclosing [some of] it and concealing much. And you were taught that which you knew not - neither you nor your fathers." Say, "Allah [revealed it]." Then leave them in their [empty] discourse, amusing themselves.

— Saheeh International

They have no true respect of God when they say, "God has not sent anything to a mortal being." (Muhammad), tell them, "Who revealed the Book containing a light and guidance for the people which Moses brought? You wrote down only some parts of the original on paper and hid much, even after having learnt from it, that which neither you nor your fathers knew." Tell them, "God has (revealed the Quran)," and then leave them alone to pursue their useless investigations.

— Muhammad Sarwar

And they do not assign to Allah the attributes due to Him when they say: Allah has not revealed anything to a mortal. Say: Who revealed the Book which Musa brought, a light and a guidance to men, which you make into scattered writings which you show while you conceal much? And you were taught what you did not know, (neither) you nor your fathers. Say: Allah then leave them sporting in their vain discourses.

— Muhammad Habib Shakir

And they estimated not Allah with an estimation due unto Him when they said: on no human being hath God sent down aught. Say thou: who sent down the Books wherewith Musa came, a light and a guidance unto mankind, which ye have made into separate parchments. Some of it ye disclose and much thereof ye conceal. And ye were taught that which ye knew not: neither ye nor your fathers. Say thou: Allah, and let them alone, sporting in their vain discourse.

— Abdul Majid Daryabadi

No just estimate of Allah do they make when they say: "Nothing doth Allah send down to man (by way of revelation)" Say: "Who then sent down the Book which Moses brought?- a light and guidance to man: But ye make it into (separate) sheets for show, while ye conceal much (of its contents): therein were ye taught that which ye knew not- neither ye nor your fathers." Say: "Allah (sent it down)": Then leave them to plunge in vain discourse and trifling.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–92

تمام رسول انسان ہی ہیں اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لئے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لئے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور کی رسالت کے قائیل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا جیسے قرآن ان کا تعجب نقل کرتا ہے آیت (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 59 پچھلے سلسلہ بیان اور بعد کی جوابی تقریر سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ قول یہودیوں کا تھا۔ چونکہ نبی ﷺ کا دعویٰ یہ تھا کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر کتاب نازل ہوئی ہے، اس لیے قدرتی طور پر کفار قریش اور دوسرے مشرکین عرب اس دعوے کی تحقیق کے لیے یہود و نصاریٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان سے پوچھتے تھے کہ تم بھی اہل کتاب ہو، پیغمبروں کو مانتے ہو، بتاؤ کیا واقعی اس شخص پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے ؟ پھر جو کچھ جواب وہ دیتے اسے نبی ﷺ کے سرگرم مخالفین جگہ جگہ بیان کرکے لوگوں کو برگشتہ کرتے پھرتے تھے۔ اسی لیے یہاں یہودیوں کے اس قول کو، جسے مخلافین اسلام نے حجت بنا رکھا تھا، نقل کر کے اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت ان لوگوں کے جواب میں آئی ہے جنہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی بشر پر کوئی کتاب نازل ہی نہیں فرمائی۔ یہ کتابوں اور رسولوں کا قضیہ سرے سے غلط ہے۔ اس کے کہنے والے اگر مکہ کے بت پرست ہیں جیسا کہ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے فرمایا تو معاملہ ظاہر ہے کہ وہ کسی کتاب اور نبی کے قائل نہ تھے، اور اگر یہود ہیں جیسا کہ دوسرے مفسرین نے اختیار فرمایا اور آیت کا سلسلہ کلام بظاہر اس کی تائید میں ہے تو پھر ان کا ایسا کہنا محض غصہ اور جھنجھلاہٹ کا نتیجہ تھا، جو خود ان کے بھی مذہب کے خلاف تھا، امام بغوی رحمة اللہ علیہ کی ایک روایت میں ہے کہ اسی لئے یہود بھی اس شخص سے ناراض ہوگئے جس نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فصل 113: اگلی آیات 91 تا 94: اوپر بیان ہوا کہ قرآن، توحید اور اسلام کی جو دعوت دے رہا ہے یہ تمام انبیا کی مشترک دعوت ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کر رہے ہیں یہ ان کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے۔ اب آگے چند آیتوں میں ان تکذیب کرنے والوں کے رویہ پر تبصرہ فرمایا ہے اور ان کے اقوال کا حوالہ دے کر ان کی لغویت واضح کی ہے۔ ان تکذیب کرنے والوں میں پیش پیش تو قدرتی طور پر رؤسائے مکہ تھے لیکن ابتدا ہی سے یہود نے ان کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تھی اس لیے کہ نبی ﷺ کی دعوت کے فروغ میں اصلی خطرہ وہ اپنے ہی لیے سمجھتے تھے۔ ان لوگوں کے ذہن میں بات تو یہ بسی ہوئی تھی کہ نبوت رسالت ان کے خاندان کا اجارہ ہے، اگر کوئی نبی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 91–92

91۔ 1 قَدَر کے معنی اندازہ کرنے کے ہیں اور یہ کسی چیز کی اصل حقیقت جاننے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ رسل اور انزال کتب کا انکار کرتے ہیں، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ انھیں اللہ کی صحیح معرفت ہی حاصل نہیں ورنہ وہ ان چیزوں کا انکار نہ کرتے، علاوہ ازیں اسی عدم معرفت الٰہی کی وجہ سے وہ نبوت و رسالت کی معرفت سے بھی قاصر رہے کہ انسان پر اللہ تعالیٰ کا کلام کس طرح نازل ہوسکتا ہے ؟ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ) 10۔ یونس :2) کیا یہ بات لوگوں کے لیے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–94

33: یہاں سے بعض یہودیوں کی تردید مقصود ہے، آنحضرت ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مرتبہ ان کے ایک سردار مالک بن صیف نے غصے میں آکر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔ 34: یعنی پوری کتاب کو ظاہر کرنے کے بجائے تم نے اسے حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ جو حصے تمہارے مطلب کے مطابق ہوتے ہیں ان کو تو عامل لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتے ہو، مگر جو حصے تمہارے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں، انہیں چھپالیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مشرکین اپنی کج بحثی اور عناد کی وجہ سے یہ کہتی تھے کہ اللہ نے تو انسانوں میں سے کسی فرد کو رسول بنا کر بھیجا ہی نہیں ہے ۔ نہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب بھیجی ہے جو اللہ کی وحی پر مبنی ہو حالانکہ مشرکین کے پڑوس ہی میں یہودی اہل کتاب رہتے تھے اور ان مشرکین کے کبھی اس امر کا انکار نہ کیا تھا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ نہ انہوں نے اس بات کا انکار کیا تھا کہ تورات اللہ کی جانب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری ۔ یہ بات وہ عناد اور محض کٹ حجتی کی خاطر کرتے تھے ۔ مقصد صرف یہ تھا کہ اس بہانے وہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا انکار کرسکیں ۔ اسی لئے قرآن مجید یہاں ان پر تنقید کرتا ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 پچھلے رکوع میں منصب نبوت اور بہت سے انبیاء کا نام بنام تذکرہ تھا اور یہ کہ نبی عربی ﷺ بھی توحید و معرفت کی اسی صراط مستقیم پر چلتے رہنے کے مامور ہیں جس پر انبیائے سابقین کو چلایا گیا تھا۔ پیغمبروں کا ہدایت خلق اللہ کے لئے بھیجنا حق تعالیٰ کی قدیم عادت رہی ہے آیات حاضرہ میں ان جاہلوں اور معاندوں کا رد کیا گیا ہے جو بد فہمی ' جہل و غباوت یا نبی کریم ﷺ کی عداوت کے جوش اور غصہ میں بےقابو ہو کر حق تعالیٰ کی اس صفت کا ہی انکار کرنے لگے کہ وہ کسی انسان کو اپنی وحی و مکالمہ خاص سے مشرف فرمائے۔ گویا انزال کتب و ارسال رسل کے سلسلہ ہی کی سرے سے نفی کردی گئی۔ 2 یعنی اگر واقعی خدا نے کسی انسان پر کوئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب اس ردّو قدح کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو مکہ کے لوگ یہودیوں کے سکھانے پڑھانے پر حضور ﷺ سے کر رہے تھے۔ اب تک اس سورة میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ خالص مکہ کے مشرکین کی طرف سے تھی اور انہی کے ساتھ سارا مکالمہ اور مناظرہ تھا۔ لیکن جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ دونوں سورتیں سورۃ الانعام اور سورة الاعراف مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئیں۔ اس وقت تک حضور ﷺ کی رسالت اور نبوت کے دعوے کا چرچا مدینہ منورہ میں بھی پہنچ چکا تھا اور اہل کتاب یہود نے خطرے کو بھانپ کر وہیں بیٹھے بیٹھے آپ ﷺ کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کردی تھیں۔ وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں یہاں تک کہہ بیٹھے تھے کہ ان مسلمانوں سے تو یہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

93 قرآن کا نزول بشر پر ؟ یہ خطاب یہود کو ہے جنہوں نے رسول دشمنی، بغض وعناد کی بنا پر ایک ایسی حقیقت کا انکار کردیا جو ان کے اپنے ہاں بھی مسلم تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں فرمائی۔ اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے دو طرح سے جواب دیئے ایک یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی پوری معرفت ہی نہیں کیونکہ نہ تو اللہ خود لوگوں سے کلام کرتا ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے انسانوں کے لیے کوئی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اس کی ممکنہ صورت یہی ہے کہ اللہ اپنا کلام فرشتوں کے ذریعہ صرف نبی پر نازل فرمائے۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تو تم تسلیم کرتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے، آدم کی اولاد سے تھے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

133 ۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ روایات میں آتا ہے کہ کوئی یہودی تاھ اور سیاق قرآنی خود بھی یہی کہہ رہا ہے کہ یہ قول کسی یہودی کی زبان سے نکلا تھا، بہ ظاہر یہ مقولہ یہودی عقائد کے بالکل منافی ہے لیکن جوش مخالفت ایسی چیز ہے کہ اس حالت میں اپنے خلاف عقائد باتیں بھی زبان سے نکل جاتی ہیں۔ غلو کے وقت اپنے مسلک اور اپنے مسلمات کی بھی پروا نہیں رہ جاتی، خوش قسمتی سے بعض روایات بھی اس خیال کی تائید میں موجود ہیں۔ قیل ان صدور ھذا القول کان عن غضب وذھول عن حقیقتہ (روح) یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اب کوئی کتاب نہیں اتاری، نہ یہ کہ کبھی کوئی کتاب نہیں اتاری۔ آیت میں جو اشکال ہے حیرت ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 91–94

آیت نمبر 91 تا 94 ترجمہ : یہود نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی یعنی جیسی تعظیم کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی یا جیسی معرفت کا حق تھا ویسا حق ادا نہیں کیا جبکہ نبی ﷺ سے قرآن میں مخاصمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ ان سے پوچھو کہ اس کتاب کو کس نے نازل کیا جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اس کی کیفیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کیلئے نور اور ہدایت تھی، جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے یعنی اس کو اوراق متفرقہ میں لکھ رکھا ہے، (تجعلونَہٗ ) تینوں مقامات میں یاء اور تاء کے ساتھ ہے جن کو تم ظاہر کرتے ہو یعنی ان میں سے جن باتوں کو تم ظاہر کرنا پسند کرتے ہو ظاہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما قدروا اللہ حق قدرہ اذ قالوا ما انزل اللہ علی بشر من شی اور انہوں نے اللہ (کی ذات وصفات) کا ایسا اندازہ نہیں کیا جیسا کرنا چاہئے تھا۔ حق قدرہمفعول مطلق ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اسی قول کی وجہ سے یہودیوں نے مالک کو اجتہاد کے عہدہ سے معزول کر کے اس کی جگہ ابن اشرف کو مقرر کردیا۔ سدی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول فخاص بن عازوراء کے حق میں اور فخاص نے ہی یہ بات کہی تھی۔ سورة نساء میں یہ حدیث گزر چکی ہے۔ ابن جریر نے بطریق ابو طلحہ ؓ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا محمد ﷺ : کیا اللہ نے آپ پر کوئی کتاب نازل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ہاں ! بولے خدا کی قسم اللہ نے آسمان سے کوئی کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) ان منکر لوگوں نے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی قدر پہچاننا واجب تھی دیسی قدر نہ پہچانی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام میں سے کسی پر کوئی کتاب نازل نہیں کی، یہ آیت مالک بن صیف یہودی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں کی۔ اے محمد ﷺ آپ مالک سے فرمائیے یہ تو بتا کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ ؑ لائے تھے جو خود بھی نور اور روشنی ہے اور لوگوں کی ہدایت کا سبب ہے جس کو تم نے اپنی اغراض کے تحت مختلف اوراق میں لکھ چھوڑا ہے، ان میں سے بہت سی باتوں کو جن میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت نہیں ہے، ظاہر کرتے ہو اور بہت سی ان باتوں کو جن میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ۔۔ : یہ خطاب یہود کو ہے، جنھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دشمنی اور بغض و عناد کی بنا پر ایسی حقیقت کا انکار کردیا جسے وہ خود بھی مانتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں فرمائی۔ اس آیت میں ان کے اعتراض کا دو طرح سے جواب دیا گیا، ایک یہ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر اور اسے پہچاننے کا جو حق تھا اس کے مطابق انھوں نے اسے پہچانا ہی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ خود لوگوں سے کلام کرتا ہے اور نہ اس کام کے لیے کوئی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اس کی ممکن صورت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام فرشتوں کے ذریعے سے صرف نبی پر نازل فرمائے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر۔ 91 قولہ تعالیٰ : آیت : وما قدروا اللہ حق قدرہ یعنی اس حق کے بارے میں جو اس کے لیے واجب (ثابت) ہے اور جو اس کے لیے محال ہے اور جو جائز ہے (یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں واجب، محال اور جائز کی پہچان ہی نہیں کی) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ اس پر ایمان ہی نہیں لائے کہ وہ ہر زشی پر قدرت رکھتا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح تعظیم نہیں کہ جس طرح اس کی عظمت کا حق تھا۔ اور یہ ان کے اس قول سے ہے : لفلان قدر (فلاں کی قدر اور عظمت ہے) اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب انہوں نے کہا : آیت : ما انزل اللہ علی اللہ علی بشر من شیء تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نسبت اس طرف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جو ایمان نہیں لاتے اللہ کی اس قدرت کے ساتھ سو جو شخص ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو اس نے اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا۔ اور جو شخص اس کے ساتھ ایمان نہیں لاتا تو وہ ایمان نہیں لایا اللہ کے ساتھ اس کی ذات کو پہچانتے ہوئے (پھر فرمایا) لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ اذقالوا ما انزل اللہ علی بشر من شیء یعنی بنی اسرائیل میں سے یہود نے کہا اے محمد ﷺ کیا اللہ تعالیٰ نے تیرے اوپر کتاب نازل کی ہے فرمایا ہاں تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا قَدَرُوا [ اور انہوں نے قدر نہیں کی ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] حَقَّ قَدْرِهٖٓ [ جیسا اس کی قدر کا حق ہے ] اِذْ [ جب ] قَالُوْا [ انہوں نے کہا ] مَآ اَنْزَلَ [ نہیں اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلٰي بَشَرٍ [ کسی بشر پر ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [ کچھ بھی ] قُلْ [ آپ کہئے ] مَنْ [ کس نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] الْكِتٰبَ الَّذِيْ [ اس کتاب کو ] جَاۗءَ بِهٖ [ لائے جس کو ] مُوْسٰي [ موسیٰ ] نُوْرًا [ نور ہوتے ہوئے ] وَّهُدًى [ اور ہدایت ہوئے ] لِّلنَّاسِ [ لوگوں کے لئے ] تَجْعَلُوْنَهٗ [ تم لوگ بناتے ہو اس کے ] قَرَاطِيْسَ [ اوراق (یعنی اوراق میں نقل کرتے ہو)] تُبْدُوْنَهَا [ تم لوگ ظاہر کرتے ہو اس کو ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہودیوں کی ضد اور عناد کا ایک واقعہ ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ لوگوں نے اللہ کو ایسا نہیں پہچانا جیسا کہ پہچاننا چاہئے تھا بہت سے لوگ تو ذات باری تعالیٰ کے منکر ہی رہے اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو مانا ان میں سے بہت سوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنا دیئے اور اللہ کی صفات کمالیہ علم وقدرت وغیرہ کو ماننے کی طرح نہ مانا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے موافق حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور کتابیں نازل فرمائیں بہت سے لوگ ان کے منکر ہوگئے۔ (اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلیٰ بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ ) (جبکہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں کیا) حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 91–92

منکرین نبوت کی تردید اور تہدید۔ قال اللہ تعالی، وماقدرواللہ حق قدرہ۔۔۔ الی۔۔۔ یحافظون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کیا جو منکرین توحید کی تردید پر مشتمل تھا اب آئندہ آیات میں منکرین نبوت کے بعض ھفوات کی تردید فرماتے ہیں مالک بن صفیف یہودی عام اوردیگر بعض علماء یہود نے جوش عداوت میں نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی اور ایک روایت میں ہے کہ یہود نے یہ کہا کہ اللہ آسمان سے اللہ نے کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی گویا کہ ان معاندین نے جوش عداوت میں انزال کتب وارسال رسل کے سلسلہ ہی کی سرے سے نفی کردی اور ظاہر ہے کہ انزال کتب کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 91–92

95 یہ یہود پر شکوی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ ما عظموا اللہ تعالیٰ حق تعظیمہ اور ابو العالیہ فرماتے ہیں۔ ما وصفوہ حق صفتہ اور قدروا کی ضمیر سے جمہور کے نزدیک یہود مراد ہیں اور اذ ظرف۔ قدروا کے متعلق ہے (روح) مَا اَنْزَلَ اللہُ الخ یعنی آج تک اللہ نے کسی بشر پر اپنا کوئی کلام نازل نہیں کیا اس سے ان کا مقصد آنحضرت ﷺ کی رسالت پر طعن کرنا تھا کہ جب آپ بھی بشر ہیں تو اسے معلوم ہوا کہ آپ پر بھی اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ 96 یہ جواب شکویٰ ہے اور یہود کے قول نا معقول کا رد ہے کہ اگر تمہارے قول کے مطابق اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں فرمایا تو بتاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جن کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 91–92

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے رد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل کا ذکر کیا اور بطور احسان فرمایا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دلیل سمجھا دی ان کی قوم کے مقابلے میں۔ پھر اللہ نے آپ کی اور آپ کی اولاد کی فضیلت کا تذکرہ کیا۔ بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ سب ہدایت یافتہ لوگ تھے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے اسلاف میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا اور پھر آپ کے آبائو اجداد اور بھائیوں میں سے اللہ کے منتخب بندوں کا ذکر کیا جنہیں ہدایت سے نوازا گیا۔ فرمایا اگر یہ لوگ بھی شرک کے مرتکب ہوتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ شرک ایسا کبیرہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ۝ 0ۭ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِہٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّہُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا۝ 0ۚ وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاۗؤُكُمْ۝ 0ۭ قُلِ اللہُ۝ 0ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِيْ خَوْضِہِمْ يَلْعَبُوْنَ۝ 91 قدر تَقْدِيرُ اللہ علی وجهين : أحدهما بالحکم منه أن يكون کذا أو لا يكون کذا، إمّا علی سبیل الوجوب، وإمّا علی سبیل الإمكان . وعلی ذلک قوله : قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] . والثاني :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 91–92

ترکیب : حق مفعول مطلق قدر کا مضاف ہے اور دراصل وصف ہے کیونکہ تقدیرہ قدرہ الحق اس لئے یہ بھی منصوب ہے۔ اذ قالوا ظرف ہے ما قدروا کا قراطیس مفعول ثانی ہے تجعلون کا ای فی قراطیس۔ تبدونہا قراطیس کی صفت وعلمتم ایھا الیہود من القرآن جملہ موضع حال میں ہے یا جملہ مستانفہ۔ قل اللّٰہ جواب ہے قل من انزل کا مصدق وصف ہے کتاب کا بغیر تنوین۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان ھو الاذکریٰ للعلمین کہ یہ عالم کے لئے نصیحت ہے جو خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ ایسے موقع پر منکرین نبوت کہہ دیا کرتے ہیں کہ خدا نے کچھ بھی کسی بشر پر نازل نہیں کیا۔ اسے کیا غرض ‘ کیا مطلب ؟ یا عقل کافی ہے وہی نیک و بد کی پہچان کرسکتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تمہید سورة الانعام میں باقی مکی سورتوں کی طرح بنیادی انسانی مفاسد کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے اسلام کے تینوں عقائد کو مسلسل بیان کیا جا رہا ہے اور ان میں چونکہ عقیدہ توحید سب سے بنیادی عقیدہ ہے ‘ اس لیے سب سے زیادہ اس کی وضاحت کی جا رہی ہے۔ مشرکینِ مکہ کو چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اپنے نسبی اور دینی تعلق کی بنیاد پر یہ دعویٰ تھا کہ ہم تو انہی کے طریقے پر ہیں اور یہی طریقہ ہدایت کا طریقہ ہے ‘ لہٰذا ہم اس سے کسی طرح دستبردار نہیں ہوسکتے۔ گزشتہ آیات میں ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی دعوت کو پوری تفصیل سے بیان فرمایا گیا اور یہ واضح کیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : توحید سے انحراف، اور نبی ﷺ کی بشریت کا انکار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ناقدری کرنے کے مترادف ہے۔ انسان جب اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار یا اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک بناتا ہے تو پھر وہ بڑے بڑے حقائق ٹھکراتا چلا جاتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت اور آج بھی کفار اور مشرکوں کی یہی حالت ہے کہ وہ نبی ﷺ کی رسالت کا یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ آپ بشر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر اپنی کتاب نازل نہیں کی۔ مکہ کے لوگ اکثر جاہل تھے وہ اپنی جہالت کی بنا پر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو بشر کے بجائے کسی فرشتہ کو نبی بنانا چاہیے تھا۔ ان کے مقابلہ میں یہودی عصبیت میں آکر یہ بات کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہود کا ضد کی وجہ سے تمام وحیوں سے انکار : آیت 91 : وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْئٍ انہوں نے بعثت رسول اللہ ﷺ کا انکار کر کے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اچھی طرح نہیں پہچانا۔ اسی طرح وحی جیسی رحمت کو نہ جانا۔ حالانکہ یہ تو عظیم ترین رحمت ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء 107) روایات میں ہے کہ یہود کی ایک جماعت جس میں مالک بن صیف بھی تھا۔ پیغمبر ﷺ سے جھگڑنے لگے آپ ﷺ نے مالک کو کہا کہ کیا تورات میں یہ لکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ موٹے عالم کو ناپسند کرتے ہیں۔ تو اس نے کہا ہاں۔ آپ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(91) (وما قدرو اللہ حق قدرہ یعنی ان نے اس کی تعظیم کا حق ادا نہیں کیا اور بعض نے کہا کہ انہوں نے اس کا حق وصف بیان نہیں کیا۔ (اذا قالوا اما انزل اللہ لعی بشر من شیئ) وما قدروا اللہ حق قدرہ کی تفسیر سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی آیا جس کو مالک بن صیف کہا جاتا تھا اور مکہ میں نبی کریم ﷺ سے جھگڑنے لگا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کو نازل کیا کیا تو توریت میں یہ بات نہیں پاتا کہ اللہ تعالیٰ فربہ عالم کو ناپسند کرتے ہیں اور یہ یہودی بھی موٹا شخص تھا تو وہ غصہ ہوگیا اور کہنے لگا اللہ نے کسی انسان پر کچھ نہیں اتارا۔ سدی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–92

(91 ۔ 92) ۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین کا بڑا اختلاف ہے بعضے مفسرین کا یہ قول ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں اتری ہے کیونکہ وہ کسی بشر کی نبوت کے اور کسی بشر پر کلام الٰہی کے اترنے کے قائل نہیں تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کو نبی بھیجنا ہوتا تو آسمان سے کوئی فرشتہ آکر ہم کو اللہ کے احکام پہنچا جاتا لیکن اس شان نزول پر امام فخر الدین رازی اور اور مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر یہ آیت مشرکین مکہ کی شان میں نازل ہوتی تو ان کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت بطور الزام کے اس آیت میں کیوں ذکر کی جاتی اس لیے کہ مشرکین مکہ تو حضرت موسیٰ کو اور کسی نبی کو نہیں مانتے اور بعضے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 91 اللہ تعالیٰ نے یہود و مشرکین کے نفی رسالت کے قول کو سخت قبیح قرار دیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی۔ جو اس بات کا قائل ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر اور تعظیم نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں عیب جوئی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مہمل چھوڑ دے گا ان کو کوئی حکم دے گا نہ ان کو کسی چیز سے روکے گا اور اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کی نفی کی ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور وہ یہ رسالت ہے۔ اس رسالت کے سوا بندوں کے لئے سعادت، کرامت اور فلاح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں، تب اس نفی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 90–102

استدلال انبیاء قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

161 عناد اور ہٹ دھرمی کے اندھے پن کا ایک مظہر و نمونہ : کہ ان لوگوں نے ا اہل کتاب ہونے کے باوجود للہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر۔ اور نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہوئے۔ سو یہ ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک شاخسانہ ہے کہ اس کی بنا پر انسان بعض اوقات بلکہ بسا اوقات اپنے اس اصل دین و ایمان کا بھی منکر ہوجاتا ہے جسکے ماننے کا وہ دعویدار ہوتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی اسکا یہ نمونہ سامنے آتا ہے کہ یہود جو اپنے دین اور اپنی کتاب پر ایمان کے دعویدار تھے وہ جب اس دین حنیف اور قرآن مجید کے انکار پر اتر آئے، اس کے بعد کہ حق پوری طرح ان کے لئے واضح ہوچکا تھا، تو انہوں نے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–94

نبی کی صفات، اللہ کی کتاب، انسان کا انجام تشریح : جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بہترین عقائد، بہترین اعمال اور بہترین اجر وثواب اور اللہ کی طرف سے دیے گئے انعامات کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ اسی طرح ان آیات میں دہرایا جا رہا ہے کہ اہل عرب اور یہود اخلاق و کردار کی بدترین مثال بن چکے تھے جب رسول اللہ ﷺ کو رسالت ملی تو وہ نہ ان کو ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کو ماننے کو تیار تھے تو ایسے ہی لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی تھی جو اخلاق، کردار، نیک اطوار اور نجات کی راہیں بتانے والی اللہ کیطرف سے نازل شدہ کتاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 84–91

رکوع نمبر 10 ۔ آیات 84 ۔ تا۔ 91 ۔ اسرار و معارف : کمال انبیاء (علیہم السلام) : ایک بہت بڑے مسئلے کو عام فہم زبان میں ایسے مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کردینا بھی انعامات باری کی بہت بڑی دلیل ہے اللہ کریم اپنے احسانات میں شمار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ قوم کو اس طرح لاجواب کردینے وال ازور خطابت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے عطا فرمایا تھا اور انبیاء کا کمال یہی ہوتا ہے کہ بہ تمشکل بات نہایت آسان الفاظ میں اور دلیل کے ساتھ ارشاد فرما دیتے ہیں ورنہ یوں تو فلاسفہ بڑی بڑی بحثیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں مگر نہ آج تک کسی بات کا حتمی جواب دے سکے اور نہ عام آدمی ان کی بات کو سمجھ سکا یہ فرق اہل اللہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 حضرت ابن عباس اور بعض دیگر تابیعن نے کہا ہے کہ اس سے قریش مراد ہیں جو کہ رسالت کے منکر تھے۔ (ابن کثیر) بعض نے گزشتہ سلسلئہ کلام اور بعد کی جوابی تقریر کو قرینیہ بناکرلکھا ہے کہ یہ علمائے یہود کا دعویٰ تھا جسے کفار قریش دلیل بناکر ﷺ کی نبوت سے انکار کیا کرتے تھے یہودی پڑھے لکھے تھے اور ان کے پاس گزشتہ انبیا کا علم بھی تھا اس لیے کفار قریش نبی ﷺ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے اکثر ان کی طرف رجوع کیا کرتے تھے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے ہی موقع پر انہوں نے یہ بات کفار قریش سے بطور جواب کہی اور ضد اروہٹ دھرمی میں اندھے ہوکریہ بھی بھول گئے کہ اس کی زد کا براہ راست ان سے خطاب کر کے جواب دیا ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:91) ما قدروا۔ ماضی منفی معروف۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ انہوں نے تعظیم نہیں کی۔ انہوں نے نہیں پہچانا۔ تجعلونہ قراطیس۔ جن کو تم نے متفرق اور مختلف کاغذوں میں لکھ رکھا ہے (تاکہ اپنے مطلب کے اوراق مختلف مواقع پر پیش کئے جاسکیں جیسا کہ ان کے اپنے مفاد میں مناسب ہو) ۔ قراطیس۔ القرطاس ہر وہ چیز جس پر لکھا جائے۔ کاغذ وغیرہ۔ قل اللہ۔ جواب ہے قل من انزل الکتاب الذی جاء بہ موسیٰ کا۔ قل اللہ کو اگر جملہ اسمیہ لیا جائے تو تقدیر ہوگی قل ھو اللہ۔ اور جملہ فعلیہ کے اعتبار سے اس کی تقدیر ہوگی۔ قل انزلہ اللہ۔ خوضہم۔ ان کی بیہودہ گوئی۔ باتیں بنانا۔ گھسنا۔ خاض یخوض کا مصدر ہے خوض کے معنی پانی میں گھسنے کے ہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 91–92

لغات القرآن : آیت نمبر 91 : 92 : ماقدرو (انہوں نے قدر نہ کی) حق قدرہ (جیسا کہ اس کی قدر کرنے حق تھا) بشر (انسان) قراطیس (قرطاس) ۔ پرزے پرزے۔ (علمتم (تمہیں سکھایا گیا) خوض (بےہودہ مشغلہ) یلعبون (وہ کھیلتے ہیں) ام القری (بستیوں کی ماں (شہر مکہ مکرمہ) حول (اردگرد۔ آس پاس) یحافظون (وہ حفاظت کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 91 تا 92 : جیسا کہ آج کل بھی بہت سے مستشرقین ‘ خودساختہ محققین اور عاقلین یہ کہتے ہوئے نہیں جھجکتے کہ قرآن خود نبی ﷺ کی تصنیف ہے (نعوذ باللہ) اسی طرح ان دنوں بھی کسی یہودی نے اٹھ کر پکار دیا کہ اللہ کسی بشر پر اپنا کلام نازل نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ قرآن خود نبی ﷺ کی تصنیف ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 91–92

توحید و نبوت کا ذکر اور انسان کا انجام شان نزول : یہ آیت یود اور مشرکین مکہ کے حق میں اتری ہے، کیونکہ وہ کسی بشر کی نبوت کے اور کسی بشر پر کلام الہی کے اترنے کے قائل نہیں تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کو نبی بھیجنا ہوتا تو آسمان سے کوئی فرشتہ آکر ہم کو اللہ کے احکام پہنچاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں دونوں فرقوں کو قائل کیا گیا ہے۔ مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا کہ جن یہود کے بھروسہ پر تمہارا انکار نبوت کے قبول کرنے میں بڑھا ہے وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی کہتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے پھر تم کیسے کہتے ہو کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ اور مالک بن سیف یہودی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–92

[31] ام القریٰ کے لفظی معنی ہیں دیہات کی ماں یعنی بستیوں کا مرکز۔ مراد اس سے مکہ مکرمہ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ [32] یعنی تمام دنیا والوں کو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–92

ما قدرو اللہ حق قدرہ : (ف 3) سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے سب کو اسی نے خلعت حیات سے نوازا ہے ، اسی نے زندہ رکھا اور زندگی کے لوازمات پورے کئے وہی سنتا ہے ، وہی جانتا ہے ۔ دکھ ، درد اور تکلیف ومصیبت میں اسی کی کارسازی بروئے کار آتی ہے ، وہ نہ چاہے تو دنیا میں پتہ نہ ہل سکے ، یہ سب اس کے انعامات ہیں ، مگر انسان ہے کہ اسے نہیں پہچانتا ۔ حق قدرہ : سے یہ مقصود نہیں ہے کہ اللہ کی معرفت کی کوئی حد ہے کس کے بس میں ہے کہ وہ باندازہ نعمت اس کا شکریہ ادا کرسکے ؟ ایک ایک سانس جو ہم لیتے ہیں ہزار در ہزار نعمتوں کو مرہون منت ہے پھر انسان کے لئے یہ کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی تعریف و ستائش سے کما حقہ عہدہ برآہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-91 اور منکرین یہود نے اللہ تعالیٰ کو اس قدر نہ پہنچاتا جس قدر اس کو پہچانتا واجب تھا اور اس کے پہچاننے کا حق تھا جبکہ انہوں نے بےساختہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کتاب کی قسم میں سے کوئی چیز نازل نہیں کی اور اس نے کوئی کتاب نہیں اتاری آپ ان سے دریافت کیجیے کہ وہ کتاب کس نے نازل فرمائی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) تھے یعنی توریت جو نور کی طرح روشن اور واضح تھی اور لوگوں کے ذریعہ ہدایت تھی اور جس کا حال یہ ہے کہ تم نے اس کو علیحدہ علیحدہ اوراق میں لکھ رکھا ہے جو تمہارے مطلب کا مضمون ہوتا ہے اور جو احکام تمہارے موافق ہوتے ہیں ان کو تم ظاہر کرتے ہو اور ہر ایک کو دکھاتے پھرتے ہو اور بہت سے مضامین جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–93

ف 2۔ یہ کہنا ناقدر شناسی اس لیے ہے کہ اس سے مسئلہ نبوت کا انکار لازم آتا ہے اور نبوت کا منکر اللہ کی تکذیب کرتا ہے اور تصدیق حق واجب ہے پس اس میں قدرشناسی واجب اخلال ہوا۔ 3۔ تجعلونہ قراطیس سے ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر مضمون کے اوراق جدا کر رکھے تھے اور بعض کا ایسا کرلینا تعجب نہیں اور اگر قراطیس سے مراد فی القراطیس مجازا لیا جائے تو معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ اپنے ذہن میں تورات کے مختلف حصے تجویز کر رکھے تھے جن میں بعض مضامین کو مثل نعت محمد ﷺ اس طرح چھپاتے تھے کہ اس کی اور اور تاویلیں کردیتے تھے۔ 1۔ مطلب یہ کہ جس تورات کی یہ حالت ہے کہ اس کو اولا تو تم مانتے ہو دوسرے بوجہ نور وہدی ہونے کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان لوگوں نے اللہ کو کیا پہچانا جنہوں نے بشر پر کتاب الٰہی کے نزول کا انکار کیا : 138: ” مَا قَدَرُوا “ انہوں نے نہیں پہچانا (خازن) انہوں نے شناخت نہیں کیا (راغب) انہوں نے کیا اندازہ لگایا ؟ مطلب سب کا ایک ہی ہے کہ ” ان لوگوں نے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی انہوں نے اللہ کو کیا پہچانا۔ “ یا انہوں نے غلط اندازہ لگایا یا کوئی پتہ کی بات نہ کہی ، بےسوچے سمجھے کہہ دیا جو کہہ دیا۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ اس میں بہت کچھ اختلاف کیا گیا کیوں ؟ اس لئے کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کہنے والے قریش مکہ تھے کیونکہ وہ مخاطبین اول تھے اور سورت چونکہ مکی ہے یہ جواب تو صحیح معلوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The second verse (91) has been revealed in answer to those who had the audacity to say that Allah Ta` ala has just not revealed any book to any human being. According to them, this whole proposition of books and messengers was all wrong. If, those who said that are the idolaters of Makkah, as mentioned by Ibn Kathir, then, the matter is obvious, for they did not believe in any book and prophet. And if they were Jews, as held by other commentators - and the contextual elements of the verse obviously support this view - then, their saying so was an outcome of their anger and irritation,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

59. In the light of the foregoing discussion and commentary, it is quite evident that this statement comes from the Jews. Since the Prophet (peace be on him) had asserted that he was a Prophet and that a Book had been revealed to him, the unbelieving Quraysh and other polytheists of Arabia naturally used to approach the Jews and the Christians - who believed in the Prophets and in the Scriptures - and tried to solicit a candid answer from them as to whether God's words had indeed been revealed to Muhammad (peace be on him). Whatever answer they gave was then disseminated on all sides by the…

Read the full tafseer →