Explained with ayahs 91–92
تمام رسول انسان ہی ہیں
اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لئے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لئے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور کی رسالت کے قائیل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا جیسے قرآن ان کا تعجب نقل کرتا ہے آیت (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 59
پچھلے سلسلہ بیان اور بعد کی جوابی تقریر سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ قول یہودیوں کا تھا۔ چونکہ نبی ﷺ کا دعویٰ یہ تھا کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر کتاب نازل ہوئی ہے، اس لیے قدرتی طور پر کفار قریش اور دوسرے مشرکین عرب اس دعوے کی تحقیق کے لیے یہود و نصاریٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان سے پوچھتے تھے کہ تم بھی اہل کتاب ہو، پیغمبروں کو مانتے ہو، بتاؤ کیا واقعی اس شخص پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے ؟ پھر جو کچھ جواب وہ دیتے اسے نبی ﷺ کے سرگرم مخالفین جگہ جگہ بیان کرکے لوگوں کو برگشتہ کرتے پھرتے تھے۔ اسی لیے یہاں یہودیوں کے اس قول کو، جسے مخلافین اسلام نے حجت بنا رکھا تھا، نقل کر کے اس کا…
Read the full tafseer →دوسری آیت ان لوگوں کے جواب میں آئی ہے جنہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی بشر پر کوئی کتاب نازل ہی نہیں فرمائی۔ یہ کتابوں اور رسولوں کا قضیہ سرے سے غلط ہے۔
اس کے کہنے والے اگر مکہ کے بت پرست ہیں جیسا کہ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے فرمایا تو معاملہ ظاہر ہے کہ وہ کسی کتاب اور نبی کے قائل نہ تھے، اور اگر یہود ہیں جیسا کہ دوسرے مفسرین نے اختیار فرمایا اور آیت کا سلسلہ کلام بظاہر اس کی تائید میں ہے تو پھر ان کا ایسا کہنا محض غصہ اور جھنجھلاہٹ کا نتیجہ تھا، جو خود ان کے بھی مذہب کے خلاف تھا، امام بغوی رحمة اللہ علیہ کی ایک روایت میں ہے کہ اسی لئے یہود بھی اس شخص سے ناراض ہوگئے جس نے…
Read the full tafseer →فصل 113: اگلی آیات 91 تا 94: اوپر بیان ہوا کہ قرآن، توحید اور اسلام کی جو دعوت دے رہا ہے یہ تمام انبیا کی مشترک دعوت ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کر رہے ہیں یہ ان کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے۔ اب آگے چند آیتوں میں ان تکذیب کرنے والوں کے رویہ پر تبصرہ فرمایا ہے اور ان کے اقوال کا حوالہ دے کر ان کی لغویت واضح کی ہے۔ ان تکذیب کرنے والوں میں پیش پیش تو قدرتی طور پر رؤسائے مکہ تھے لیکن ابتدا ہی سے یہود نے ان کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تھی اس لیے کہ نبی ﷺ کی دعوت کے فروغ میں اصلی خطرہ وہ اپنے ہی لیے سمجھتے تھے۔ ان لوگوں کے ذہن میں بات تو یہ بسی ہوئی تھی کہ نبوت رسالت ان کے خاندان کا اجارہ ہے، اگر کوئی نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
91۔ 1 قَدَر کے معنی اندازہ کرنے کے ہیں اور یہ کسی چیز کی اصل حقیقت جاننے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ رسل اور انزال کتب کا انکار کرتے ہیں، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ انھیں اللہ کی صحیح معرفت ہی حاصل نہیں ورنہ وہ ان چیزوں کا انکار نہ کرتے، علاوہ ازیں اسی عدم معرفت الٰہی کی وجہ سے وہ نبوت و رسالت کی معرفت سے بھی قاصر رہے کہ انسان پر اللہ تعالیٰ کا کلام کس طرح نازل ہوسکتا ہے ؟ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ) 10۔ یونس :2) کیا یہ بات لوگوں کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
33: یہاں سے بعض یہودیوں کی تردید مقصود ہے، آنحضرت ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مرتبہ ان کے ایک سردار مالک بن صیف نے غصے میں آکر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔
34: یعنی پوری کتاب کو ظاہر کرنے کے بجائے تم نے اسے حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ جو حصے تمہارے مطلب کے مطابق ہوتے ہیں ان کو تو عامل لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتے ہو، مگر جو حصے تمہارے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں، انہیں چھپالیتے ہو۔
Read the full tafseer →مشرکین اپنی کج بحثی اور عناد کی وجہ سے یہ کہتی تھے کہ اللہ نے تو انسانوں میں سے کسی فرد کو رسول بنا کر بھیجا ہی نہیں ہے ۔ نہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب بھیجی ہے جو اللہ کی وحی پر مبنی ہو حالانکہ مشرکین کے پڑوس ہی میں یہودی اہل کتاب رہتے تھے اور ان مشرکین کے کبھی اس امر کا انکار نہ کیا تھا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ نہ انہوں نے اس بات کا انکار کیا تھا کہ تورات اللہ کی جانب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری ۔ یہ بات وہ عناد اور محض کٹ حجتی کی خاطر کرتے تھے ۔ مقصد صرف یہ تھا کہ اس بہانے وہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا انکار کرسکیں ۔ اسی لئے قرآن مجید یہاں ان پر تنقید کرتا ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ اللہ نے…
Read the full tafseer →1 پچھلے رکوع میں منصب نبوت اور بہت سے انبیاء کا نام بنام تذکرہ تھا اور یہ کہ نبی عربی ﷺ بھی توحید و معرفت کی اسی صراط مستقیم پر چلتے رہنے کے مامور ہیں جس پر انبیائے سابقین کو چلایا گیا تھا۔ پیغمبروں کا ہدایت خلق اللہ کے لئے بھیجنا حق تعالیٰ کی قدیم عادت رہی ہے آیات حاضرہ میں ان جاہلوں اور معاندوں کا رد کیا گیا ہے جو بد فہمی ' جہل و غباوت یا نبی کریم ﷺ کی عداوت کے جوش اور غصہ میں بےقابو ہو کر حق تعالیٰ کی اس صفت کا ہی انکار کرنے لگے کہ وہ کسی انسان کو اپنی وحی و مکالمہ خاص سے مشرف فرمائے۔ گویا انزال کتب و ارسال رسل کے سلسلہ ہی کی سرے سے نفی کردی گئی۔
2 یعنی اگر واقعی خدا نے کسی انسان پر کوئی…
Read the full tafseer →اب اس ردّو قدح کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو مکہ کے لوگ یہودیوں کے سکھانے پڑھانے پر حضور ﷺ سے کر رہے تھے۔ اب تک اس سورة میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ خالص مکہ کے مشرکین کی طرف سے تھی اور انہی کے ساتھ سارا مکالمہ اور مناظرہ تھا۔ لیکن جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ دونوں سورتیں سورۃ الانعام اور سورة الاعراف مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئیں۔ اس وقت تک حضور ﷺ کی رسالت اور نبوت کے دعوے کا چرچا مدینہ منورہ میں بھی پہنچ چکا تھا اور اہل کتاب یہود نے خطرے کو بھانپ کر وہیں بیٹھے بیٹھے آپ ﷺ کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کردی تھیں۔ وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں یہاں تک کہہ بیٹھے تھے کہ ان مسلمانوں سے تو یہ…
Read the full tafseer →93 قرآن کا نزول بشر پر ؟ یہ خطاب یہود کو ہے جنہوں نے رسول دشمنی، بغض وعناد کی بنا پر ایک ایسی حقیقت کا انکار کردیا جو ان کے اپنے ہاں بھی مسلم تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں فرمائی۔ اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے دو طرح سے جواب دیئے ایک یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی پوری معرفت ہی نہیں کیونکہ نہ تو اللہ خود لوگوں سے کلام کرتا ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے انسانوں کے لیے کوئی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اس کی ممکنہ صورت یہی ہے کہ اللہ اپنا کلام فرشتوں کے ذریعہ صرف نبی پر نازل فرمائے۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تو تم تسلیم کرتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے، آدم کی اولاد سے تھے اور ان…
Read the full tafseer →133 ۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ روایات میں آتا ہے کہ کوئی یہودی تاھ اور سیاق قرآنی خود بھی یہی کہہ رہا ہے کہ یہ قول کسی یہودی کی زبان سے نکلا تھا، بہ ظاہر یہ مقولہ یہودی عقائد کے بالکل منافی ہے لیکن جوش مخالفت ایسی چیز ہے کہ اس حالت میں اپنے خلاف عقائد باتیں بھی زبان سے نکل جاتی ہیں۔ غلو کے وقت اپنے مسلک اور اپنے مسلمات کی بھی پروا نہیں رہ جاتی، خوش قسمتی سے بعض روایات بھی اس خیال کی تائید میں موجود ہیں۔ قیل ان صدور ھذا القول کان عن غضب وذھول عن حقیقتہ (روح) یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اب کوئی کتاب نہیں اتاری، نہ یہ کہ کبھی کوئی کتاب نہیں اتاری۔ آیت میں جو اشکال ہے حیرت ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
آیت نمبر 91 تا 94
ترجمہ : یہود نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی یعنی جیسی تعظیم کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی یا جیسی معرفت کا حق تھا ویسا حق ادا نہیں کیا جبکہ نبی ﷺ سے قرآن میں مخاصمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ ان سے پوچھو کہ اس کتاب کو کس نے نازل کیا جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اس کی کیفیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کیلئے نور اور ہدایت تھی، جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے یعنی اس کو اوراق متفرقہ میں لکھ رکھا ہے، (تجعلونَہٗ ) تینوں مقامات میں یاء اور تاء کے ساتھ ہے جن کو تم ظاہر کرتے ہو یعنی ان میں سے جن باتوں کو تم ظاہر کرنا پسند کرتے ہو ظاہر…
Read the full tafseer →وما قدروا اللہ حق قدرہ اذ قالوا ما انزل اللہ علی بشر من شی اور انہوں نے اللہ (کی ذات وصفات) کا ایسا اندازہ نہیں کیا جیسا کرنا چاہئے تھا۔ حق قدرہمفعول مطلق ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اسی قول کی وجہ سے یہودیوں نے مالک کو اجتہاد کے عہدہ سے معزول کر کے اس کی جگہ ابن اشرف کو مقرر کردیا۔ سدی کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول فخاص بن عازوراء کے حق میں اور فخاص نے ہی یہ بات کہی تھی۔ سورة نساء میں یہ حدیث گزر چکی ہے۔ ابن جریر نے بطریق ابو طلحہ ؓ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا محمد ﷺ : کیا اللہ نے آپ پر کوئی کتاب نازل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ہاں ! بولے خدا کی قسم اللہ نے آسمان سے کوئی کتاب…
Read the full tafseer →(91) ان منکر لوگوں نے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی قدر پہچاننا واجب تھی دیسی قدر نہ پہچانی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام میں سے کسی پر کوئی کتاب نازل نہیں کی، یہ آیت مالک بن صیف یہودی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں کی۔
اے محمد ﷺ آپ مالک سے فرمائیے یہ تو بتا کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ ؑ لائے تھے جو خود بھی نور اور روشنی ہے اور لوگوں کی ہدایت کا سبب ہے جس کو تم نے اپنی اغراض کے تحت مختلف اوراق میں لکھ چھوڑا ہے، ان میں سے بہت سی باتوں کو جن میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت نہیں ہے، ظاہر کرتے ہو اور بہت سی ان باتوں کو جن میں…
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ۔۔ : یہ خطاب یہود کو ہے، جنھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دشمنی اور بغض و عناد کی بنا پر ایسی حقیقت کا انکار کردیا جسے وہ خود بھی مانتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں فرمائی۔ اس آیت میں ان کے اعتراض کا دو طرح سے جواب دیا گیا، ایک یہ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر اور اسے پہچاننے کا جو حق تھا اس کے مطابق انھوں نے اسے پہچانا ہی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ خود لوگوں سے کلام کرتا ہے اور نہ اس کام کے لیے کوئی فرشتہ بھیجتا ہے۔ اس کی ممکن صورت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام فرشتوں کے ذریعے سے صرف نبی پر نازل فرمائے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر۔ 91
قولہ تعالیٰ : آیت : وما قدروا اللہ حق قدرہ یعنی اس حق کے بارے میں جو اس کے لیے واجب (ثابت) ہے اور جو اس کے لیے محال ہے اور جو جائز ہے (یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں واجب، محال اور جائز کی پہچان ہی نہیں کی)
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ اس پر ایمان ہی نہیں لائے کہ وہ ہر زشی پر قدرت رکھتا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح تعظیم نہیں کہ جس طرح اس کی عظمت کا حق تھا۔ اور یہ ان کے اس قول سے ہے : لفلان قدر (فلاں کی قدر اور عظمت ہے) اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب انہوں نے کہا : آیت : ما انزل اللہ علی اللہ علی بشر من شیء تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نسبت اس طرف…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جو ایمان نہیں لاتے اللہ کی اس قدرت کے ساتھ سو جو شخص ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو اس نے اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا۔ اور جو شخص اس کے ساتھ ایمان نہیں لاتا تو وہ ایمان نہیں لایا اللہ کے ساتھ اس کی ذات کو پہچانتے ہوئے (پھر فرمایا) لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ اذقالوا ما انزل اللہ علی بشر من شیء یعنی بنی اسرائیل میں سے یہود نے کہا اے محمد ﷺ کیا اللہ تعالیٰ نے تیرے اوپر کتاب نازل کی ہے فرمایا ہاں تو…
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا [ اور انہوں نے قدر نہیں کی ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] حَقَّ قَدْرِهٖٓ [ جیسا اس کی قدر کا حق ہے ] اِذْ [ جب ] قَالُوْا [ انہوں نے کہا ] مَآ اَنْزَلَ [ نہیں اتارا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلٰي بَشَرٍ [ کسی بشر پر ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [ کچھ بھی ] قُلْ [ آپ کہئے ] مَنْ [ کس نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] الْكِتٰبَ الَّذِيْ [ اس کتاب کو ] جَاۗءَ بِهٖ [ لائے جس کو ] مُوْسٰي [ موسیٰ ] نُوْرًا [ نور ہوتے ہوئے ] وَّهُدًى [ اور ہدایت ہوئے ] لِّلنَّاسِ [ لوگوں کے لئے ] تَجْعَلُوْنَهٗ [ تم لوگ بناتے ہو اس کے ] قَرَاطِيْسَ [ اوراق (یعنی اوراق میں نقل کرتے ہو)] تُبْدُوْنَهَا [ تم لوگ ظاہر کرتے ہو اس کو ]…
Read the full tafseer →یہودیوں کی ضد اور عناد کا ایک واقعہ
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ لوگوں نے اللہ کو ایسا نہیں پہچانا جیسا کہ پہچاننا چاہئے تھا بہت سے لوگ تو ذات باری تعالیٰ کے منکر ہی رہے اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو مانا ان میں سے بہت سوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنا دیئے اور اللہ کی صفات کمالیہ علم وقدرت وغیرہ کو ماننے کی طرح نہ مانا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے موافق حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور کتابیں نازل فرمائیں بہت سے لوگ ان کے منکر ہوگئے۔ (اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلیٰ بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ ) (جبکہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ بھی نازل نہیں کیا) حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
منکرین نبوت کی تردید اور تہدید۔
قال اللہ تعالی، وماقدرواللہ حق قدرہ۔۔۔ الی۔۔۔ یحافظون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کیا جو منکرین توحید کی تردید پر مشتمل تھا اب آئندہ آیات میں منکرین نبوت کے بعض ھفوات کی تردید فرماتے ہیں مالک بن صفیف یہودی عام اوردیگر بعض علماء یہود نے جوش عداوت میں نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی اور ایک روایت میں ہے کہ یہود نے یہ کہا کہ اللہ آسمان سے اللہ نے کوئی کتاب ہی نازل نہیں کی گویا کہ ان معاندین نے جوش عداوت میں انزال کتب وارسال رسل کے سلسلہ ہی کی سرے سے نفی کردی اور ظاہر ہے کہ انزال کتب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
95 یہ یہود پر شکوی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ ما عظموا اللہ تعالیٰ حق تعظیمہ اور ابو العالیہ فرماتے ہیں۔ ما وصفوہ حق صفتہ اور قدروا کی ضمیر سے جمہور کے نزدیک یہود مراد ہیں اور اذ ظرف۔ قدروا کے متعلق ہے (روح) مَا اَنْزَلَ اللہُ الخ یعنی آج تک اللہ نے کسی بشر پر اپنا کوئی کلام نازل نہیں کیا اس سے ان کا مقصد آنحضرت ﷺ کی رسالت پر طعن کرنا تھا کہ جب آپ بھی بشر ہیں تو اسے معلوم ہوا کہ آپ پر بھی اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔
96 یہ جواب شکویٰ ہے اور یہود کے قول نا معقول کا رد ہے کہ اگر تمہارے قول کے مطابق اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں فرمایا تو بتاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے رد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل کا ذکر کیا اور بطور احسان فرمایا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دلیل سمجھا دی ان کی قوم کے مقابلے میں۔ پھر اللہ نے آپ کی اور آپ کی اولاد کی فضیلت کا تذکرہ کیا۔ بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ سب ہدایت یافتہ لوگ تھے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے اسلاف میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا اور پھر آپ کے آبائو اجداد اور بھائیوں میں سے اللہ کے منتخب بندوں کا ذکر کیا جنہیں ہدایت سے نوازا گیا۔ فرمایا اگر یہ لوگ بھی شرک کے مرتکب ہوتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ شرک ایسا کبیرہ…
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ 0ۭ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِہٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّہُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا 0ۚ وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاۗؤُكُمْ 0ۭ قُلِ اللہُ 0ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِيْ خَوْضِہِمْ يَلْعَبُوْنَ 91
قدر
تَقْدِيرُ اللہ علی وجهين :
أحدهما بالحکم منه أن يكون کذا أو لا يكون کذا، إمّا علی سبیل الوجوب، وإمّا علی سبیل الإمكان . وعلی ذلک قوله : قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] .
والثاني :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
ترکیب : حق مفعول مطلق قدر کا مضاف ہے اور دراصل وصف ہے کیونکہ تقدیرہ قدرہ الحق اس لئے یہ بھی منصوب ہے۔ اذ قالوا ظرف ہے ما قدروا کا قراطیس مفعول ثانی ہے تجعلون کا ای فی قراطیس۔ تبدونہا قراطیس کی صفت وعلمتم ایھا الیہود من القرآن جملہ موضع حال میں ہے یا جملہ مستانفہ۔ قل اللّٰہ جواب ہے قل من انزل کا مصدق وصف ہے کتاب کا بغیر تنوین۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان ھو الاذکریٰ للعلمین کہ یہ عالم کے لئے نصیحت ہے جو خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ ایسے موقع پر منکرین نبوت کہہ دیا کرتے ہیں کہ خدا نے کچھ بھی کسی بشر پر نازل نہیں کیا۔ اسے کیا غرض ‘ کیا مطلب ؟ یا عقل کافی ہے وہی نیک و بد کی پہچان کرسکتی ہے۔…
Read the full tafseer →تمہید
سورة الانعام میں باقی مکی سورتوں کی طرح بنیادی انسانی مفاسد کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے اسلام کے تینوں عقائد کو مسلسل بیان کیا جا رہا ہے اور ان میں چونکہ عقیدہ توحید سب سے بنیادی عقیدہ ہے ‘ اس لیے سب سے زیادہ اس کی وضاحت کی جا رہی ہے۔ مشرکینِ مکہ کو چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اپنے نسبی اور دینی تعلق کی بنیاد پر یہ دعویٰ تھا کہ ہم تو انہی کے طریقے پر ہیں اور یہی طریقہ ہدایت کا طریقہ ہے ‘ لہٰذا ہم اس سے کسی طرح دستبردار نہیں ہوسکتے۔ گزشتہ آیات میں ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی دعوت کو پوری تفصیل سے بیان فرمایا گیا اور یہ واضح کیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : توحید سے انحراف، اور نبی ﷺ کی بشریت کا انکار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ناقدری کرنے کے مترادف ہے۔
انسان جب اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار یا اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک بناتا ہے تو پھر وہ بڑے بڑے حقائق ٹھکراتا چلا جاتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت اور آج بھی کفار اور مشرکوں کی یہی حالت ہے کہ وہ نبی ﷺ کی رسالت کا یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ آپ بشر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر اپنی کتاب نازل نہیں کی۔ مکہ کے لوگ اکثر جاہل تھے وہ اپنی جہالت کی بنا پر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو بشر کے بجائے کسی فرشتہ کو نبی بنانا چاہیے تھا۔ ان کے مقابلہ میں یہودی عصبیت میں آکر یہ بات کہتے ہیں…
Read the full tafseer →یہود کا ضد کی وجہ سے تمام وحیوں سے انکار :
آیت 91 : وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْئٍ انہوں نے بعثت رسول اللہ ﷺ کا انکار کر کے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اچھی طرح نہیں پہچانا۔ اسی طرح وحی جیسی رحمت کو نہ جانا۔ حالانکہ یہ تو عظیم ترین رحمت ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء 107) روایات میں ہے کہ یہود کی ایک جماعت جس میں مالک بن صیف بھی تھا۔ پیغمبر ﷺ سے جھگڑنے لگے آپ ﷺ نے مالک کو کہا کہ کیا تورات میں یہ لکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ موٹے عالم کو ناپسند کرتے ہیں۔ تو اس نے کہا ہاں۔ آپ ﷺ نے…
Read the full tafseer →(91) (وما قدرو اللہ حق قدرہ یعنی ان نے اس کی تعظیم کا حق ادا نہیں کیا اور بعض نے کہا کہ انہوں نے اس کا حق وصف بیان نہیں کیا۔ (اذا قالوا اما انزل اللہ لعی بشر من شیئ)
وما قدروا اللہ حق قدرہ کی تفسیر
سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی آیا جس کو مالک بن صیف کہا جاتا تھا اور مکہ میں نبی کریم ﷺ سے جھگڑنے لگا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کو نازل کیا کیا تو توریت میں یہ بات نہیں پاتا کہ اللہ تعالیٰ فربہ عالم کو ناپسند کرتے ہیں اور یہ یہودی بھی موٹا شخص تھا تو وہ غصہ ہوگیا اور کہنے لگا اللہ نے کسی انسان پر کچھ نہیں اتارا۔
سدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
(91 ۔ 92) ۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین کا بڑا اختلاف ہے بعضے مفسرین کا یہ قول ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں اتری ہے کیونکہ وہ کسی بشر کی نبوت کے اور کسی بشر پر کلام الٰہی کے اترنے کے قائل نہیں تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کو نبی بھیجنا ہوتا تو آسمان سے کوئی فرشتہ آکر ہم کو اللہ کے احکام پہنچا جاتا لیکن اس شان نزول پر امام فخر الدین رازی اور اور مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر یہ آیت مشرکین مکہ کی شان میں نازل ہوتی تو ان کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت بطور الزام کے اس آیت میں کیوں ذکر کی جاتی اس لیے کہ مشرکین مکہ تو حضرت موسیٰ کو اور کسی نبی کو نہیں مانتے اور بعضے…
Read the full tafseer →آیت 91
اللہ تعالیٰ نے یہود و مشرکین کے نفی رسالت کے قول کو سخت قبیح قرار دیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی۔ جو اس بات کا قائل ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر اور تعظیم نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں عیب جوئی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مہمل چھوڑ دے گا ان کو کوئی حکم دے گا نہ ان کو کسی چیز سے روکے گا اور اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کی نفی کی ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور وہ یہ رسالت ہے۔ اس رسالت کے سوا بندوں کے لئے سعادت، کرامت اور فلاح حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں، تب اس نفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →161 عناد اور ہٹ دھرمی کے اندھے پن کا ایک مظہر و نمونہ : کہ ان لوگوں نے ا اہل کتاب ہونے کے باوجود للہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر۔ اور نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہوئے۔ سو یہ ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک شاخسانہ ہے کہ اس کی بنا پر انسان بعض اوقات بلکہ بسا اوقات اپنے اس اصل دین و ایمان کا بھی منکر ہوجاتا ہے جسکے ماننے کا وہ دعویدار ہوتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی اسکا یہ نمونہ سامنے آتا ہے کہ یہود جو اپنے دین اور اپنی کتاب پر ایمان کے دعویدار تھے وہ جب اس دین حنیف اور قرآن مجید کے انکار پر اتر آئے، اس کے بعد کہ حق پوری طرح ان کے لئے واضح ہوچکا تھا، تو انہوں نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
نبی کی صفات، اللہ کی کتاب، انسان کا انجام
تشریح : جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بہترین عقائد، بہترین اعمال اور بہترین اجر وثواب اور اللہ کی طرف سے دیے گئے انعامات کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ اسی طرح ان آیات میں دہرایا جا رہا ہے کہ اہل عرب اور یہود اخلاق و کردار کی بدترین مثال بن چکے تھے جب رسول اللہ ﷺ کو رسالت ملی تو وہ نہ ان کو ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کو ماننے کو تیار تھے تو ایسے ہی لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی تھی جو اخلاق، کردار، نیک اطوار اور نجات کی راہیں بتانے والی اللہ کیطرف سے نازل شدہ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–91
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 84 ۔ تا۔ 91 ۔
اسرار و معارف :
کمال انبیاء (علیہم السلام) :
ایک بہت بڑے مسئلے کو عام فہم زبان میں ایسے مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کردینا بھی انعامات باری کی بہت بڑی دلیل ہے اللہ کریم اپنے احسانات میں شمار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ قوم کو اس طرح لاجواب کردینے وال ازور خطابت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے عطا فرمایا تھا اور انبیاء کا کمال یہی ہوتا ہے کہ بہ تمشکل بات نہایت آسان الفاظ میں اور دلیل کے ساتھ ارشاد فرما دیتے ہیں ورنہ یوں تو فلاسفہ بڑی بڑی بحثیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں مگر نہ آج تک کسی بات کا حتمی جواب دے سکے اور نہ عام آدمی ان کی بات کو سمجھ سکا یہ فرق اہل اللہ…
Read the full tafseer →ف 6 حضرت ابن عباس اور بعض دیگر تابیعن نے کہا ہے کہ اس سے قریش مراد ہیں جو کہ رسالت کے منکر تھے۔ (ابن کثیر) بعض نے گزشتہ سلسلئہ کلام اور بعد کی جوابی تقریر کو قرینیہ بناکرلکھا ہے کہ یہ علمائے یہود کا دعویٰ تھا جسے کفار قریش دلیل بناکر ﷺ کی نبوت سے انکار کیا کرتے تھے یہودی پڑھے لکھے تھے اور ان کے پاس گزشتہ انبیا کا علم بھی تھا اس لیے کفار قریش نبی ﷺ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے اکثر ان کی طرف رجوع کیا کرتے تھے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے ہی موقع پر انہوں نے یہ بات کفار قریش سے بطور جواب کہی اور ضد اروہٹ دھرمی میں اندھے ہوکریہ بھی بھول گئے کہ اس کی زد کا براہ راست ان سے خطاب کر کے جواب دیا ہے…
Read the full tafseer →(9:91) ما قدروا۔ ماضی منفی معروف۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ انہوں نے تعظیم نہیں کی۔ انہوں نے نہیں پہچانا۔
تجعلونہ قراطیس۔ جن کو تم نے متفرق اور مختلف کاغذوں میں لکھ رکھا ہے (تاکہ اپنے مطلب کے اوراق مختلف مواقع پر پیش کئے جاسکیں جیسا کہ ان کے اپنے مفاد میں مناسب ہو) ۔
قراطیس۔ القرطاس ہر وہ چیز جس پر لکھا جائے۔ کاغذ وغیرہ۔
قل اللہ۔ جواب ہے قل من انزل الکتاب الذی جاء بہ موسیٰ کا۔ قل اللہ کو اگر جملہ اسمیہ لیا جائے تو تقدیر ہوگی قل ھو اللہ۔ اور جملہ فعلیہ کے اعتبار سے اس کی تقدیر ہوگی۔ قل انزلہ اللہ۔
خوضہم۔ ان کی بیہودہ گوئی۔ باتیں بنانا۔ گھسنا۔ خاض یخوض کا مصدر ہے خوض کے معنی پانی میں گھسنے کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
لغات القرآن : آیت نمبر 91 : 92 :
ماقدرو (انہوں نے قدر نہ کی) حق قدرہ (جیسا کہ اس کی قدر کرنے حق تھا) بشر (انسان) قراطیس (قرطاس) ۔ پرزے پرزے۔ (علمتم (تمہیں سکھایا گیا) خوض (بےہودہ مشغلہ) یلعبون (وہ کھیلتے ہیں) ام القری (بستیوں کی ماں (شہر مکہ مکرمہ) حول (اردگرد۔ آس پاس) یحافظون (وہ حفاظت کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 91 تا 92 :
جیسا کہ آج کل بھی بہت سے مستشرقین ‘ خودساختہ محققین اور عاقلین یہ کہتے ہوئے نہیں جھجکتے کہ قرآن خود نبی ﷺ کی تصنیف ہے (نعوذ باللہ) اسی طرح ان دنوں بھی کسی یہودی نے اٹھ کر پکار دیا کہ اللہ کسی بشر پر اپنا کلام نازل نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ قرآن خود نبی ﷺ کی تصنیف ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
توحید و نبوت کا ذکر اور انسان کا انجام
شان نزول : یہ آیت یود اور مشرکین مکہ کے حق میں اتری ہے، کیونکہ وہ کسی بشر کی نبوت کے اور کسی بشر پر کلام الہی کے اترنے کے قائل نہیں تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کو نبی بھیجنا ہوتا تو آسمان سے کوئی فرشتہ آکر ہم کو اللہ کے احکام پہنچاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں دونوں فرقوں کو قائل کیا گیا ہے۔ مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا کہ جن یہود کے بھروسہ پر تمہارا انکار نبوت کے قبول کرنے میں بڑھا ہے وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی کہتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے پھر تم کیسے کہتے ہو کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ اور مالک بن سیف یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
[31] ام القریٰ کے لفظی معنی ہیں دیہات کی ماں یعنی بستیوں کا مرکز۔ مراد اس سے مکہ مکرمہ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ ہے۔
[32] یعنی تمام دنیا والوں کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
ما قدرو اللہ حق قدرہ :
(ف 3) سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے سب کو اسی نے خلعت حیات سے نوازا ہے ، اسی نے زندہ رکھا اور زندگی کے لوازمات پورے کئے وہی سنتا ہے ، وہی جانتا ہے ۔
دکھ ، درد اور تکلیف ومصیبت میں اسی کی کارسازی بروئے کار آتی ہے ، وہ نہ چاہے تو دنیا میں پتہ نہ ہل سکے ، یہ سب اس کے انعامات ہیں ، مگر انسان ہے کہ اسے نہیں پہچانتا ۔
حق قدرہ :
سے یہ مقصود نہیں ہے کہ اللہ کی معرفت کی کوئی حد ہے کس کے بس میں ہے کہ وہ باندازہ نعمت اس کا شکریہ ادا کرسکے ؟ ایک ایک سانس جو ہم لیتے ہیں ہزار در ہزار نعمتوں کو مرہون منت ہے پھر انسان کے لئے یہ کیونکہ ممکن ہے کہ اس کی تعریف و ستائش سے کما حقہ عہدہ برآہو…
Read the full tafseer →-91 اور منکرین یہود نے اللہ تعالیٰ کو اس قدر نہ پہنچاتا جس قدر اس کو پہچانتا واجب تھا اور اس کے پہچاننے کا حق تھا جبکہ انہوں نے بےساختہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کتاب کی قسم میں سے کوئی چیز نازل نہیں کی اور اس نے کوئی کتاب نہیں اتاری آپ ان سے دریافت کیجیے کہ وہ کتاب کس نے نازل فرمائی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) تھے یعنی توریت جو نور کی طرح روشن اور واضح تھی اور لوگوں کے ذریعہ ہدایت تھی اور جس کا حال یہ ہے کہ تم نے اس کو علیحدہ علیحدہ اوراق میں لکھ رکھا ہے جو تمہارے مطلب کا مضمون ہوتا ہے اور جو احکام تمہارے موافق ہوتے ہیں ان کو تم ظاہر کرتے ہو اور ہر ایک کو دکھاتے پھرتے ہو اور بہت سے مضامین جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
ف 2۔ یہ کہنا ناقدر شناسی اس لیے ہے کہ اس سے مسئلہ نبوت کا انکار لازم آتا ہے اور نبوت کا منکر اللہ کی تکذیب کرتا ہے اور تصدیق حق واجب ہے پس اس میں قدرشناسی واجب اخلال ہوا۔
3۔ تجعلونہ قراطیس سے ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر مضمون کے اوراق جدا کر رکھے تھے اور بعض کا ایسا کرلینا تعجب نہیں اور اگر قراطیس سے مراد فی القراطیس مجازا لیا جائے تو معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ اپنے ذہن میں تورات کے مختلف حصے تجویز کر رکھے تھے جن میں بعض مضامین کو مثل نعت محمد ﷺ اس طرح چھپاتے تھے کہ اس کی اور اور تاویلیں کردیتے تھے۔
1۔ مطلب یہ کہ جس تورات کی یہ حالت ہے کہ اس کو اولا تو تم مانتے ہو دوسرے بوجہ نور وہدی ہونے کے…
Read the full tafseer →ان لوگوں نے اللہ کو کیا پہچانا جنہوں نے بشر پر کتاب الٰہی کے نزول کا انکار کیا :
138: ” مَا قَدَرُوا “ انہوں نے نہیں پہچانا (خازن) انہوں نے شناخت نہیں کیا (راغب) انہوں نے کیا اندازہ لگایا ؟ مطلب سب کا ایک ہی ہے کہ ” ان لوگوں نے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی انہوں نے اللہ کو کیا پہچانا۔ “ یا انہوں نے غلط اندازہ لگایا یا کوئی پتہ کی بات نہ کہی ، بےسوچے سمجھے کہہ دیا جو کہہ دیا۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ اس میں بہت کچھ اختلاف کیا گیا کیوں ؟ اس لئے کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کہنے والے قریش مکہ تھے کیونکہ وہ مخاطبین اول تھے اور سورت چونکہ مکی ہے یہ جواب تو صحیح معلوم…
Read the full tafseer →The second verse (91) has been revealed in answer to those who had the audacity to say that Allah Ta` ala has just not revealed any book to any human being. According to them, this whole proposition of books and messengers was all wrong.
If, those who said that are the idolaters of Makkah, as mentioned by Ibn Kathir, then, the matter is obvious, for they did not believe in any book and prophet. And if they were Jews, as held by other commentators - and the contextual elements of the verse obviously support this view - then, their saying so was an outcome of their anger and irritation,…
Read the full tafseer →59. In the light of the foregoing discussion and commentary, it is quite evident that this statement comes from the Jews. Since the Prophet (peace be on him) had asserted that he was a Prophet and that a Book had been revealed to him, the unbelieving Quraysh and other polytheists of Arabia naturally used to approach the Jews and the Christians - who believed in the Prophets and in the Scriptures - and tried to solicit a candid answer from them as to whether God's words had indeed been revealed to Muhammad (peace be on him). Whatever answer they gave was then disseminated on all sides by the…
Read the full tafseer →