Explained with ayahs 84–90
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
سورة الْاَنْعَام 57
یہاں انبیاء (علیہم السلام) کو تین چیزیں عطا کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کتاب یعنی اللہ کا ہدایت نامہ دوسرے حکم یعنی اس ہدایت نامہ کا صحیح فہم، اور اس کے اصولوں کو معاملات زندگی پر منطبق کرنے کی صلاحیت اور مسائل حیات میں فیصلہ کن رائے قائم کرنے کی خداداد قابلیت۔ تیسرے نبوت، یعنی یہ منصب کہ وہ اس ہدایت نامہ کے مطابق خلق اللہ کی رہنمائی کریں۔
سورة الْاَنْعَام 58
مطلب یہ ہے کہ اگر یہ کافر و مشرک لوگ اللہ کی اس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کردیں، ہم نے اہل ایمان کا ایک ایسا گروہ پیدا کردیا ہے جو اس نعمت کی قدر کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اور ہم جو غم نہ کرنے کو اور صبر کرنے کو کہتے ہیں تو وجہ یہ ہے کہ سب انبیاء نے ایسا ہی کیا ہے چنانچہ) یہ حضرات (مذکورین) ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے (اس صبر کی) ہدایت کی تھی سو (اس باب میں) آپ ﷺ بھی انہی کے طریق (صبر) پر چلئے (چونکہ آپ ﷺ کو بھی اس کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ ان میں سے نہ آپ ﷺ کو نہ نفع نہ کوئی ضرر ہے جس کی وجہ سے غم اور بےصبری ہو اور اس مضمون کے اظہار کے واسطے ان سے تبلیغ کے وقت) آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میں تم سے (اس تبلیغ قرآن) پر کچھ معاوضہ نہیں چاہتا (جس کے ملنے سے نفع اور نہ ملنے سے ضرر ہو، بےغرض نصیحت کرتا ہوں) یہ (قرآن) تو صرف تمام جہانوں کے واسطے ایک…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ الایۃ، اقتدہ، میں ‘ ہ ’ وقفہ اور سکتہ کی ہے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی ہدایت سرفراز فرمایا تو تم انہی کے نقش قدم پر چلو اور انہی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ رہے یہ لوگ جو مدعی تو ہیں۔ ابراہیم کے وارث ہونے کے لیلکن پیروی کر رہے ہیں شیطان کی اور تمہاری بات سننے کے لیے تیار نہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، ان سے کہہ دو کہ میں اس پر کوئی معاوضہ تو تم سے مانگ نہیں رہا ہوں کہ تم اس کا بوجھ محسوس کر رہے ہو۔ میں نے اپنے رب سے مفت پایا ہے، مفت بانٹ رہا ہوں۔ اگر قبول کروگے تو تمہارا ہی نفع ہے، رد کردوگے تو خود محروم رہوگے۔ یہ اللہ کے دین کی دعوت ہے، یہ…
Read the full tafseer →90۔ 1 اس سے مراد انبیاء مذکورین ہیں۔ ان کی پیروی کا حکم مسئلہ توحید ميں اور ان احکام و شرائع میں ہے جو منسوخ نہیں ہوئے (فتح القدیر) کیونکہ اصول دین تمام شریعتوں میں ایک ہی رہے ہیں گو شرائع اور مناہج میں کچھ کچھ اختلاف رہا جیسا کہ آیت شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا (الشوری) سے واضح ہے
90۔ 2 یعنی تبلیغی دعوت کا، کیونکہ مجھے اس کا صلہ ہی کافی ہے جو آخرت میں عند اللہ ملے گا۔
90۔ 3 جہان والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ پس یہ قرآن انھیں کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا کرے گا اور ضلالت کی پگڈنڈیوں سے نکال کر ایمان کی صراط مسقیم پر گامزن کردے گا۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
31: مشرکین عرب نبوت و رسالت ہی کے منکر تھے۔ ان کے جواب میں حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد میں جو پیغمبر گذرے ہیں ان کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کو تو عرب کے بت پرست بھی مانتے تھے ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ پیغمبر ہوسکتے ہیں اور ان کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے تو یہ کہنا کیسے درست ہوسکتا ہے کہ نبوت کوئی چیز نہیں ہے، اور آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول بنا کر بھیجنے میں آخر کونسی اشکال کی بات ہے جبکہ آپ کی نبوت کے دلائل روز روشن کی طرح واضح ہوچکے ہیں۔
32: اس سے صحابہ کرام کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے…
Read the full tafseer →7 تمام انبیاء عقائد ' اصول دین اور مقاصد کلیہ میں متحد ہیں۔ سب کا دستور اساسی ایک ہے ہر نبی کو اس پر چلنے کا حکم ہے آپ بھی اس طریق مستقیم پر چلتے رہنے کے مامور ہیں۔ گویا اس آیت میں متنبہ کردیا کہ اصولی طور پر آپ کا راستہ انبیائے سابقین کے راستے سے جدا نہیں۔ رہا فروع کا اختلاف وہ ہر زمانہ کی مناسبت و استعداد کے اعتبار سے پہلے بھی واقع ہوتا رہا ہے اور اب بھی واقع ہو تو مضائقہ نہیں۔
فائدہ علمائے اصول نے اس آیت کے عموم سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کسی معاملہ میں شرائع سابقہ کا ذکر فرمائیں تو اس امت کے حق میں بھی سند ہے بشرطیکہ شارع نے اس پر کلی یا جزوی طور پر انکار نہ فرمایا ہو۔
8 یعنی…
Read the full tafseer →آیت 90 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰٹہُمُ اقْتَدِہْ ط
یعنی ابھی جن ابنیاء و رسل کا ذکر ہوا ہے ‘ سترہ ناموں کا خوبصورت گلدستہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے ‘ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ تھے۔ اس سلسلے میں حضور ﷺ کو فرمایا جا رہا ہے کہ آپ بھی ان کے طریقے کی پیروی کریں۔ اس آیت سے ایک بہت اہم نکتہ اور اصول یہ سامنے آتا ہے کہ سابق انبیاء کی شریعت کا ذکر کرتے ہوئے جن احکام کی نفی نہ کی گئی ہو ‘ وہ ہمارے لیے بھی قابل اتباع ہیں۔ مثلاً رجم کی سزا قرآن میں مذکور نہیں ہے ‘ یہ سابقہ شریعت کی سزا ہے ‘ جس کو حضور ﷺ نے برقرار رکھا ہے۔ اسی طرح قتل مرتد کی سزا کا ذکر بھی قرآن میں نہیں ہے ‘ یہ…
Read the full tafseer →91 سابقہ شریعتوں کا اتباع کس صورت میں :۔ یعنی تمام انبیاء کا دین یا دستور اساسی ایک ہی رہا ہے۔ جیسے توحید پرستی، شرک سے بےزاری اور اس کے خلاف جہاد، اللہ کی فرمانبرداری اور روز آخرت پر ایمان وغیرہ۔ لہذا جو کچھ ان کا دین تھا، آپ کو بھی وہی دین اختیار کرنا چاہیے، اسی ہدایت کی اتباع کیجئے اور شریعت ہر نبی کو الگ الگ اس کے زمانہ کے احوال، ظروف کے مطابق دی گئی ہے۔ اس آیت سے ایک اور اہم بات کا پتا چلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو حکم کسی بھی نبی کی شریعت میں مذکور ہو اور اللہ تعالیٰ نے یا رسول اللہ نے وہ حکم بیان کرتے وقت اس پر نکیر نہ فرمائی ہو۔ وہ حکم محمدیہ کے لیے بھی واجب الاتباع ہوگا۔ قرآن کریم میں…
Read the full tafseer →132 ۔ (خود انہی کے نفع ومصلحت کے لئے) (آیت) ” اقتدہ “۔ میں ہ ضمیر کی نہ سمجھی جائے کہ اصل امر تو اقتد ہے۔ ہ وقف ووصل کی ہے۔ ھاء السکت وقفا ووصلا (جلالین) الھاء للوقف (بیضاوی) (آیت) ” فبھدھم اقتدہ “۔ ان حضرات کا وہ ھدی (طریق) کیا تھا۔ ان سب نے بھی اپنے اپنے معاصر منکرین کے ہاتھوں سخت مصائب اٹھائے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے تھے، رسول اللہ ﷺ کی تسلیہ قلب کے لئے ارشاد ہورہا ہے کہ آپ ﷺ کی راہ میں یہی سب کچھ پیش آنا ہے سو آپ بھی انہی کی طرح ثابت قدم رہیے۔ (المعنی اصبر کما صبروا (قرطبی) ای اقتدابھم فی تحمل سفاھاتا الجھال فی ھذالباب (کبیر) ھدی کے دوسرے معنی توحید و اصول دین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
وَوَھَبْنَا لہ اسحاق ویعقوب، (الآیۃ) یعنی بڑھاپے میں، جب ابراہیم علیہ والصلوٰۃ والسلام اولاد سے ناامید ہوگئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی جو کہ یعقوب بن اسحاق ہیں لفظ یعقوب میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے بعد بھی ان کی اولاد کا سلسلہ چلے گا، اسلئے کہ یعقوب عقب سے مشتق ہے جس کے معنی میں یہ مفہوم شامل ہے۔
ومن ذریتہٖ ، ذریتہٖ کی ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اسلئے کہ وہی اقرب ہے، یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو، اور بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مرجع قرار دیا ہے اسلئے کہ پوری…
Read the full tafseer →اولئک الذین ہدی اللہ یہ ایسے لوگ تھے جن کو اللہ نے ہدایت کی تھی یعنی توحید ‘ اصول دین اور مامورات و منہیات کی پابندی کی ہدایت کردی تھی۔
فبھداہم اقتدہ پس انہی کے طریقہ پر آپ چلیں۔ یعنی دوسروں کے طریقہ پر نہ چلیں۔ اس میں مشرکوں پر تعریض ہے کہ وہ (پیغمبروں کے راستہ پر چلنے کی بجائے) اپنے گمراہ آباء و اجداد کی پیروی کرتے ہیں۔ طریقۂ انبیاء کی پیروی سے مراد ہے طریقۂ انبیاء کو اختیار کرنا ‘ تقلید مراد نہیں ہے اس امت کے کسی مجتہد کے لئے تقلید زیبا نہیں انبیاء خصوصاً سید الانبیاء کا تو ذکر ہی کیا ہے آپ کے لئے تو تقلید جائز ہی نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ دوسرے انبیاء کی طرح آپ بھی ہدایت کے راستہ پر چلیں اور اس…
Read the full tafseer →(90) ان انبیاء کرام (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اخلاق حسنہ کی ہدایت کی تھی تو ان اخلاق حسنہ یعنی صبر و استقلال قناعت وغیرہ پر آپ بھی چلیے اور اے محمد ﷺ آپ اہل مکہ سے فرما دیجیے کہ میں توحید اور قرآن کریم پر تم سے کسی قسم کی اجرت طلب نہیں کرتا بلکہ قرآن کی طرف بلاتا ہوں یہ قرآن کریم تو جن وانس کے لیے ایک نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِه : یعنی توحید اور عقائد میں ان کی راہ پر قائم رہیے، کیونکہ تمام انبیاء ان باتوں میں متفق ہیں، باقی احکام میں سے بھی جو منسوخ نہیں ہوئے ان کی بھی پیروی کیجیے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جن کاموں میں کوئی نیا حکم نہیں آیا ان میں نبی ﷺ کو پہلے انبیاء کے طریق پر رہنے کا حکم تھا۔ مجاہد ؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے پوچھا : ”کیا سورة ص میں سجدہ ہے ؟“ تو انھوں نے (وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ۭ) سے لے کر (فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ) تک تلاوت کر کے فرمایا : ”ہاں، وہ (داؤد…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 90
قولہ تعالیٰ : آیت : فبھدٰھم اقتدی اقتدا کا معنی ہے : طلب موافقۃ الغیر فی فعلی کسی غیر کے فعل میں اس کی موافقت اور پیروی کرنا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اصبر کما صبروا تم صبر کرو جیسے انہوں نے صبر کیا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ فبھدٰھم اقتدہ کا معنی ہے تم توحید اور احکام شرعیہ میں ان کی پیروی کرو، حالانکہ وہ احکام مختلف ہیں۔ بعض علماء نے اس آیت سے ان انبیاء علیھم السلام کی شرائع کی پیروی اور اتباع واجب ہونے پر استدلال کیا ہے ان امور میں جن میں نص موجود نہیں۔
جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ ربیی کی بہن ام حارثہ نے ایک آدمی کو زخمی کردیا تو ان کا جھگڑا حضور نبی مکرم ﷺ تک…
Read the full tafseer →(1) امام سعید بن منصوری، بخاری، نسائی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ یعنی رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ ان انبیاء کی ہدایت کی اقتداء کریں اور آپ سورة ص میں سجدہ کرتے تھے۔ اور ابن ابی حاتم کے الفاظ میں صحابہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس سے پوشھا اس سجدہ کے بارے میں جو سورة ص میں ہے تو انہوں نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ تمہارے نبی کو حکم کیا گیا کہ داؤد (علیہ السلام) کی اقتداء کریں۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اٹھارہ انبیاء کا ذکر فرمایا پھر اس بات…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ [ یہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جن کو ] هَدَى [ ہدایت دی ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] فَبِهُدٰىهُمُ [ پس ان کی ہدایت کی ] اقْتَدِهْ ۭ [ آپ پیروی کریں ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ [ میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] اَجْرًا ۭ [ کوئی اجرت ] اِنْ هُوَ [ نہیں ہے یہ ] اِلَّا [ مگر ] ذِكْرٰي [ ایک یاد دہانی ] لِلْعٰلَمِيْنَ [ تمام عالموں کے لئے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدٰیھُمُ اقْتَدِہْ ) یہ وہ حضرات ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی۔ سو آپ ان کی ہدات کا اتباع کریں۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اصول ایمان یعنی توحید اور ایمان بالملائکہ اور ایمان بِکِتٰبِ اللہ ورسلہ اور ایمان بالیوم الآخر میں ان حضرات کی اقتداء کا حکم ہے۔
نیز حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی جو صفات تھیں (عبادت زہد، شکر، تواضع اور تضرع) ان چیزوں میں ان کا اقتداء کرنا مراد ہے۔ ان حضرات نے اپنی قوموں کے انکار اور ایذاء رسانی پر صبر کیا۔ حلم سے کام لیا آپ بھی اس کو اختیار کریں۔ سورة ص کے سجدہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضرات شوافع کے نزدیک سورة ص میں سجدہ تلاوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →94 ھُدیٰ کے بعد ھُمْ عائد محذوف ہے اور اُولئکَ سے مذکور الصدر تمام انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں۔ یعنی یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) صرف ایک اللہ ہی کو متصرف و کارساز مانتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے اس لیے آپ بھی مسئلہ توحید میں ان کے نقش قدم پر چلیں۔ اس سے مراد صرف ایمان و توحید اور اصول دین ہیں تمام احکام وشرائع مراد نہیں کیونکہ شرائع تمام انبیاء (علیہم السلام) کی مختلف رہی ہیں والمراد بھدٰھم طریقتھم فی الایمان باللہ و توحیدہ و اصول الدین دون الشرائع فہی مختلفہ (مدارک ج 2 ص 17) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
ربط آیات
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دلیل کا ذکر ہوچکا ہے جو انہوں نے توحید باری تعالیٰ کے حق میں اپنی قوم کے سامنے پیش کی۔ پھر اللہ نے بطور احسان فرمایا کہ یہ دلیل ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سمجھائی۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد پر کئے گئے احسانات کا ذکر بھی کیا ‘ آپ کو جلیل القدر اور عالی مرتبت بیٹے عطا کئے جن کی نسل سے ہزاروں انبیاء مبعوث ہوئے۔ اولاد کا نجیب ہونا باعث شرف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جدامجد حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیا کہ موجودہ نبی نوع انسان آپ ہی کی اولاد ہے ۔ طوفان نوح میں تمام کافر مشرک ہلاک ہوگئے تھے اور…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ ہَدَى اللہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہْ 0ۭ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْہِ اَجْرًا 0ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ 90ۧ
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–90
ترکیب : تلک مبتداء حجتنا موصوف اتیناھا صفت مجموعہ خبر علی متعلق ہے محذوف سے ای حجۃ علی قومہ درجات بالا ضافۃ والتنوین اول صورت میں یہ مفعول ہے نرفع کا دوسری میں من مفعول ہے اور درجات یا ظرف ہے یا حرف جر محذوف ہے ای الیٰ درجات۔ کلا منصوب ہے ھدینا سے ومن آباء ھم معطوف ہے کلا پر ای و فضلنا کلامن ابائہم او وھدینا کلامن ابائہم۔
تفسیر : فرماتا ہے یہ حجتیں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم نے دی تھیں۔ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے چودہ (14) انبیاء کا ذکر کیا اور ان کے جد امجد نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیا تاکہ یہ معلوم…
Read the full tafseer →اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللہ ُ فَبِھُدٰھُمْ اقْتَدِہْ ط قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا ط اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانعام : 90)
(یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے تو تم بھی انہی کے طریقے کی پیروی کرو ‘ اعلان کردو میں اس پر تم سے کسی صلہ کا طالب نہیں یہ تو بس عالم والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے )
یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ‘ ان کے آبائو اجداد اور ان کی ذریت میں سے جن جن لوگوں کو نبوت و رسالت سے مشرف فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی ہدایت نازل ہوئی۔ باقی لوگوں نے جتنے طریقے نکال رکھے ہیں وہ اللہ کی ہدایت نہیں بلکہ اس سے بغاوت ہے۔ اب یہی اللہ کی ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، نبی اکرم ﷺ کو ابراہیم (علیہ السلام) اور انکے بعد آ نے والے انبیاء کی دعوت کو پھیلانے اور اس پر قائم رہنے کا حکم۔
عظیم الشان اٹھارہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کی پاک باز اولاد کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ سب کے سب مواحد، ہدایت یافتہ اور شرک سے سخت اجتناب کرنے والے تھے اگر وہ شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے تمام اعمال ضائع کردیے جاتے۔ شرک سے بچنے کی ہمت اور توحید کی سمجھ انھیں اس لیے نصیب ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کتاب، حکمت اور نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم کو کتاب و حکمت اور نبوت کی تعلیم سے آگاہ کرے…
Read the full tafseer →تمام انبیاء ( علیہ السلام) کے اصول دین ایک ہیں :
آیت 90 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ یعنی وہ انبیاء جن کا تذکرہ گزرا۔ فَبِہُدٰہُمُ اقْتَدِہْ اقتداء کیلئے انکی ہدایت کو خاص کیا کہ انکے علاوہ کسی کی اقتداء نہ کرو۔ یہ مفعول کو مقدم کرنے کا مطلب ہے اور ہدٰہم سے مراد ان کا طریقہ جو ایمان باللہ اور توحید باری تعالیٰ اور اصول دین کے سلسلہ میں ہے شریعت نہیں کیونکہ شرائع تو مختلف ہیں اقتدہ۔ میں ہ پر وقف ہے وصل میں ساقط ہوجاتی ہے۔ یہاں وقف کو ترجیح دینا بہتر ہے تاکہ مصحف میں ہا قائم رہے۔ البتہ قراء حمزہ ٗ علی وصل میں اس کو حذف کرتے ہیں اور شامی اختلاف کرتے ہیں۔ قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ…
Read the full tafseer →تفسیر :90 (اولئک الذی ھدی اللہ فبھدھم) یعنی ان کی سنت اور سیرت پر۔ اقتدہ میں ھاء وقف کی ہے۔ حمزہ، کسائی اور یعقوب رحمہما اللہ ھاء حالت وصل میں حذف کردیتے ہیں اور باقی حضرات وصل اور وقف دونوں صورتوں میں اس کو ثابت رکھتے ہیں ۔ (قل نا اسئلکم علیہ اجراً ط ان ھو الا ذکریٰ للعلمین)
Read the full tafseer →اس آیت کے متعلق علماء اہل اصول کے دو مذہب ہیں ایک مذہب تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو انبیائے ساقی کی شریعت کے موافق عمل کرنیکا حکم ہے۔ جب تک کہ اس شریعت سابقہ کی منسوخی کا حکم شریعت محمدی میں نہ آجاوے اس مذہب کو ابن حاجب نے اختیار کیا ہے دوسرا مذہب یہ ہے کہ شریعت محمدی میں جب تک پچھلی کسی شریعت کے موافق حکم نہ آوے تو آنحضرت کو پچھلی شریعت کے موافق عمل کرنا ضروری نہیں ہے اور اس پچھلے مذہب کو عملاء اصول نے زیادہ واضح ٹھہرایا ہے اور اسی مذہب کی تائید قرآن شریف سے نکلتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین محمدی کی نسبت فرمایا ہے لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ یعنی ” دین محمدی کو اللہ تعالیٰ نے سب دینوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
آیت 84
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیم کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی، اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیم کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقب اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب) ” اور ہم نے عطا کئے اسے اسحاق اور یعقوب “ یعقوب یعنی اسحاق کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
استدلال انبیاء
قول باری ہے ( اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، اے محمد ﷺ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید باری پر استدلال کرنے کے لیے ان انبیاء کرام کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا جن کا یہاں ذکر ہوا ہے ۔ جیسا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے استدلال کے متعلق پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ اس آیت کے عموم سے انبیا نے سابقین کی شریعتوں کی پیروی کے لزوم پر استدلال کیا گیا ہے کہ آیت نے صرف توحید پر استدلال کے لیے سابقہ شریعتوں کی پیروی کی تخصیص نہیں کی بلکہ تمام باتوں میں ان کی پیروی لازم کردی ہے۔ ہم نے اصول فقہ میں اس مسئلے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
Read the full tafseer →159 سلامتی و نجات کی راہ اہل حق کی پیروی و اتباع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم انہی حضرات کی ہدایت کی پییروی کرو کہ سلامتی کی راہ یہی ہے کہ اہل حق کی پیروی کی جائے۔ پس تم اس راہ حق و صواب پر پکے رہو اور انہی کی طرح صبر و ثبات اور استقلال اور استقامت سے کام لو کہ کامیابی کی راہ بہرحال یہی ہے کہ اہل حق اور اصحاب صدق و صفا کی پیروی و اتباع کی جائے۔ جن میں سرفہرست حضرات انبیائے کرام کی وہ قدسی صفت ہستیاں ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے کہ وہ براہ راست حق تعالیٰ کی حفاظت میں اور ہر خطا و قصور سے معصوم ہوتے ہیں۔ پھر وہ تمام حضرات جو ان کی سچی پیروی اور اتباع کرتے ہیں۔ اور وہ خواہشات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
نبی کی صفات، اللہ کی کتاب، انسان کا انجام
تشریح : جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بہترین عقائد، بہترین اعمال اور بہترین اجر وثواب اور اللہ کی طرف سے دیے گئے انعامات کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ اسی طرح ان آیات میں دہرایا جا رہا ہے کہ اہل عرب اور یہود اخلاق و کردار کی بدترین مثال بن چکے تھے جب رسول اللہ ﷺ کو رسالت ملی تو وہ نہ ان کو ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کو ماننے کو تیار تھے تو ایسے ہی لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی تھی جو اخلاق، کردار، نیک اطوار اور نجات کی راہیں بتانے والی اللہ کیطرف سے نازل شدہ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–91
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 84 ۔ تا۔ 91 ۔
اسرار و معارف :
کمال انبیاء (علیہم السلام) :
ایک بہت بڑے مسئلے کو عام فہم زبان میں ایسے مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کردینا بھی انعامات باری کی بہت بڑی دلیل ہے اللہ کریم اپنے احسانات میں شمار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ قوم کو اس طرح لاجواب کردینے وال ازور خطابت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے عطا فرمایا تھا اور انبیاء کا کمال یہی ہوتا ہے کہ بہ تمشکل بات نہایت آسان الفاظ میں اور دلیل کے ساتھ ارشاد فرما دیتے ہیں ورنہ یوں تو فلاسفہ بڑی بڑی بحثیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں مگر نہ آج تک کسی بات کا حتمی جواب دے سکے اور نہ عام آدمی ان کی بات کو سمجھ سکا یہ فرق اہل اللہ…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی توحید اور اصول عقائد میں ان کی راہ پر قائم رہیے کیونکہ تمام انبیا باتوں میں متفق ہیں یا مطلب یہ ہے کہ ان کی طرح آپ بھی دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کریں (وحیدی) اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے جن امور میں کوئی نیاحکم نہیں آیا ان میں نبی ﷺ کو پہلے انبیا ہی رہنے کا حکم تھا، بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس لیے نبی ﷺ نے سورة ص میں سجدہ فرمایا کیونکہ جس مقام پر یہ سجدہ ہے وہاں حضرت داود کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔ ( شوکانی)
5 اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ ثقلین ( جن وانس) کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے۔ (وحیدی )
Read the full tafseer →(6:90) اولئک سے مراد وہ اٹھارہ انبیاء ہیں جو اوپر مذکور ہیں۔
اقتدہ۔ تو اس کی پیروی کر۔ تو اس کی اقتدا کر۔ اقتداء کا معنی ہے کسی کے کام کے موافق کوئی کام کرنا۔
علامہ قطب الدین الکشاف کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :۔ ” کہ یہاں اقتداء سے مقصود صرف اخلاق فاضلہ اور صفات کمال ہیں ان جلیل القدر انبیاء کی پیروی کرنا ہے “۔ ہ ضمیر واحد مذکر فبھذا ہم میں ھدی کی طرف راجع ہے۔
اولئک الذین (آیۃ 89) سے لے کر اقتدہ (آیۃ 90) تک ترجمہ یوں ہوگا۔
یہ تھے انبیاء جنہیں ہم نے کتاب و حکمت اور نبوت عطا کی۔ پس اگر یہ لوگ (اہل مکہ) ان (کتاب و حکمت۔ نبوت یا آیات قرآنی) سے انکار کرتے ہیں۔ تو ہم نے مقرر کردیا ہے ایک ایسی قوم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 90 :
وکلنا (ہم نے سپرد کردیا) ‘ اقتدہ ( تو اس کی پیروی کر) لا اسئل ( میں سوال نہیں کرتا۔ میں نہیں مانگتا) ‘ اجر ( اجرت بدلہ۔ معاوضہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 89 تا 90 :
یہاں انبیاء (علیہ السلام) کو جو نعمتیں عطا کی گئی تھیں ان میں کتاب ‘ حکم اور نبوت کا نام ‘ خاص طور پر لیا گیا ہے۔ کتاب یعنی اللہ تعالیٰ کا ہدایت نامہ ‘ لکھا لکھایا ‘ تاکہ نسلاً بعد نسل تلاوت اور تعمیل ہوتی رہے۔ دوسرے حکم یعنی اس ہدایت نامہ کا صحیح فہم اور اس صحیح فہم کو انفرادی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر عمل درآمد کرنے اور کرانے کی صلاحیت تفصیلات میں قوت فیصلہ ‘ تیسرے نبوت یعنی اللہ کی طرف سے منصب…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہ نسبت اور انبیاء کے قرآن ایک ایسا بڑا معجزہ دیا گیا ہے، جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت کی تعداد اور انبیاء کی امتوں سے زیادہ ہوگی، قرآن کی نصیحت کے مفید ہونے اور قیامت تک اس نصیحت کے اثر کے باقہ رہنے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
[31] ام القریٰ کے لفظی معنی ہیں دیہات کی ماں یعنی بستیوں کا مرکز۔ مراد اس سے مکہ مکرمہ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ ہے۔
[32] یعنی تمام دنیا والوں کو۔
Read the full tafseer →(ف 2) مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ میں اور انبیاء گزشتہ میں قطعا امتیاز موجود نہیں ۔ سب کی راہ ایک ہے منزل مقصود ایک ہے ، طریق تگ و دو ایک ہے ، سب ایک خدا کی طرف بلاتے ہیں ، سب شرک کی تردید کرتے ہیں ، سب توحید کی تلقین کرتے ہیں ، اور سب مخلص ہیں ، سوا اللہ کے اور کسی سے ضروری نہیں چاہتے ۔
Read the full tafseer →-90 یہ تمام انبیاء وہ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنی رہنمائی سے بہرہ مند کیا تھا اے پیغمبر ! آپ بھی ان ہی کی ہادیانہ روش پر چلئے اور جس طرح یہ لوگ دین حق کی تبلیغ پر کسی مال و جاہ کے طالب نہیں ہوتے تھے آپ بھی ان منکرین سے کہہ دیجیے کہ میں اس قرآن کریم کی تبلیغ پر تم سے کچھ اجرت اور مزدوری طلب نہیں کرتا یہ قرآن کریم تو جملہ اقوام عالم کے لئے صرف ایک پندو نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر توحید کا مضمون مقصودا مذکور تھا گوضمنا مسئلہ رسالت کی بھی تائید تھی آگے مسئلہ رسالت کا مقصودا ذکر ہے اور سبب اس کے نزول کا یہ ہوا تھا کہ ایک یہودی جس کا نام مالک بن الصیف تھا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور کچھ مذہبی گفتگو ہونے لگی تو جوش میں آکر اس قدر مبالغہ کیا کہ کہنے لگا کسی بشر پر اللہ نے کوئی کتاب نازل نہیں کی اور ایک روایت میں ہے کہ یہود نے کہا کہ واللہ آسمان سے کوئی کتاب اللہ نے نازل نہیں کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی آپ ﷺ بھی ان کی ہدایت کی اقتداء کریں :
137: ” اقْتَدِهْ 1ؕ“ کا مادہ ق د و ہے۔ اقتداء پیروی کو کہتے ہیں۔ یعنی جو آپ ﷺ سے پہلے کے نبی و رسول کرتے آئے ہیں آپ ﷺ بھی ویسا ہی کریں۔ گذشتہ حضرات کا طریقہ کیا تھا جس پر چلنے کا حکم نبی اعظم و آخر ﷺ کو مل رہا ہے ؟ اس طریقہ کا بیان پیچھے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا اور ایک رسول کے واقعات کا بیان فرما کر ، دوسروں کا صرف ذکر کرنے کا مطلب ہی یہ تھا کہ یہ سب کے سب اپنے اپنے وقتوں میں وہی کچھ کرتے رہے ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا اور اے ہمارے رسول ! محمد رسول اللہ ﷺ آپ کو بھی وہ…
Read the full tafseer →Commentary
It will be recalled that mentioned in previous verses were great rewards and ranks bestowed on Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . Through these, the purpose was to show to the whole progeny of Sayyidna Adam (علیہ السلام) generally and to the people of Makkah and Arabia particularly, in a practically demonstrated form, that a person who takes total obedience to Allah Ta` ala as the sole purpose of his or her life and sacrifices everything held dear in the way of Allah - as was done by Sayyidna Ibrahim Khalilullah, may Allah bless him - then, in order are the best of returns for that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
57. Here the Prophets are mentioned as having been endowed with three things: first, the revealed guidance embodied in the Book; second, hukm, i.e. the correct understanding of the revealed guidance, the ability to apply its principles to the practical affairs of life, the God-given capacity to arrive at right opinions regarding human problems; and third, prophethood, the office by virtue of which they are enabled to lead human beings in the light of the guidance vouchsafed to them.
58. God does not care if the unbelievers and polytheists choose to reject the guidance which has come down from…
Read the full tafseer →