Al-An'aam 6:9

Al-An'aam · from ayah 9

6:9

وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ ۟وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَـكًا لَّـجَـعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَـلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ

نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if We had made him an angel, We would have made him [appear as] a man, and We would have covered them with that in which they cover themselves.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:9

اور اگر ہم فرشتے کو اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اتارتے اور اس طرح انہیں اُسی شبہ میں مبتلا کر دیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر ہم اس کو فرشتہ تجویز کرتے تو ہم اس کو آدمی ہی بناتے اور ہمارے اس فعل سے پھر ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب اشکال کر رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر ہم فرشتے ہی کو پیغمبر بناتے، تب بھی اسے کسی مرد ہی (کی شکل میں) بناتے، اور ان کو پھر ہم اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں اب مبتلا ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اسے بھی آدمی ہی (کی صورت) بناتے اور ہم ان پر(تب بھی) وہی شبہ وارد کردیتے جو شبہ (و التباس) وہ (اب) کر رہے ہیں (یعنی اس کی بھی ظاہری صورت دیکھ کر کہتے کہ یہ ہماری مثل بشر ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر ہم اسے فرشتہ بناتے تو یقینا اسے آدمی بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈالتے جو وہ شبہ ڈال رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر ہم کسی فرشتہ کو پیغمبر بناتے تو بھی اسے انسانی شکل میں ہی اتارتے اور ہم انہیں اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر ہم اس کو کوئی فرشتہ بناتے جب بھی آدمی ہی کی شکل میں بناتے تو جو گھپلا وہ پیدا کر رہے ہیں ہم اسی میں ان کو ڈال دیتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر ہم کوئی فرشہ اتارتے بھی تو یقیناً اس کو کسی انسان کی شکل ہی میں اتارتے، اور (اس صورت میں) انکو اس پر بھی یقیناً وہی شبہ ہوتا جس میں یہ اب پڑے ہوئے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ہم اس کو فرشتہ ہی تجویز کرتے تو اسے بھی آدمی ہی بناتے اور ان پر (پھر) وہی اشتباہ ڈالتے جس اشتباہ میں وہ اب (پڑے ہوئے) ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر ہم اس کو فرشتہ بناتے تب بھی آدمی ہی کی شکل میں بناتے اور انہیں ہم اسی شبہ میں ڈال دیتے جس شبہ میں یہ اب مبتلا ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر ہم فرشتے کو انسانی شکل میں اتارتے تو پھر بھی ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں یہ اب مبتلا ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Had We appointed an angel, We would have sent him down in the form of a man - and thus We would have caused them the same doubt which they now entertain.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If We had made him an angel, We would have obviously made him a man, and would have caused them the same confusion they are causing now.

— Muhammad Taqi Usmani

If We had made him an angel, We would have obviously made him a man, and would have caused them the same confusion they are causing now.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And had We appointed him an angel, We indeed would have made him a man, and We would have certainly caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Had we appointed him (Our messenger) an angel, We assuredly had made him (as) a man (that he might speak to men); and (thus) obscured for them (the truth) they (now) obscure.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if We had made him an angel, We would have made him [appear as] a man, and We would have covered them with that in which they cover themselves.

— Saheeh International

Were We to have made him (Our Messenger) an angel, We would have made him resemble a human being and they would have again complained that the matter was as confusing to them as it is to them now.

— Muhammad Sarwar

And if We had made him angel, We would certainly have made him a man, and We would certainly have made confused to them what they make confused.

— Muhammad Habib Shakir

And had We made him an angel, We would still have made him a man, and We would have confounded for them that which they are confounding.

— Abdul Majid Daryabadi

If We had made it an angel, We should have sent him as a man, and We should certainly have caused them confusion in a matter which they have already covered with confusion.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الْاَنْعَام 7 یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ فرشتے کے آنے کی پہلی صورت یہ ہو سکتی تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی اصلی غیبی صورت میں ظاہر ہوتا۔ لیکن اوپر بتادیا گیا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ اب دوسری صورت یہ باقی رہ گئی کہ وہ انسانی صورت میں آئے۔ اس کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ اگر وہ انسانی صورت میں آئے تو اس کے مامور من اللہ ہونے میں بھی تم کو وہی اشتباہ پیش آئے گا جو محمد ﷺ کے مامور من اللہ ہونے میں پیش آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–11

تیسری آیت کے نزول کا بھی ایک واقعہ ہے کہ یہی عبداللہ بن ابی امیہ اور نضر بن حارث اور نوفل بن خالد ایک مرتبہ جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مطالبہ پیش کیا کہ ہم تو آپ ﷺ پر جب ایمان لائیں گے جب کہ آپ ﷺ آسمان سے ایک کتاب لے کر آئیں، اور اس کے ساتھ چار فرشتے آئیں جو اس کی گواہی دیں کہ یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا جواب حق تعالیٰ نے اہک تو یہ دیا کہ یہ غفلت شعار ایسے مطالبات کرکے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں، کیونکہ قانون الٓہی یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی پیغمبر سے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا مانگا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرشتوں کو رسول بنا کر نہ بھیجنے کی مصالحت : وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا الایہ، یہ ایک تیسرے مطالبے کا جواب ہے اور یہ بھی قرآن میں دوسری جگہ نقل ہوا ہے۔ مثلاً“ وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولا : اور ہدایت الٰہی کے آجانے کے بعد لوگوں کو ایمان سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ انہوں نے اعتراض کیا کہ کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ”(اسراء :94)۔“ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوْا وَاسْتَغْنَى اللَّهُ : پس وہ بولے کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے، پس انہوں نے انکار کردیا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–11

9۔ 1 یعنی اگر ہم فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجنے کا فیصلہ کرتے تو ظاہر بات ہے کہ وہ فرشتے کی اصل شکل میں تو انھیں نہیں بھیج سکتا تھا، کیونکہ اس طرح انسان اس سے خوف زدہ ہونے اور قریب و مانوس ہونے کی بجائے، دور بھاگتے اس لئے ناگزیر تھا کہ اسے انسانی شکل میں بھیجا جاتا۔ لیکن تمہارے لیڈر پھر یہی اعتراض اور شبہ پیش کرتے کہ یہ تو انسان ہی ہے، جو اس وقت بھی وہ رسول کی بشریت کے حوالے پیش کر رہے ہیں تو پھر فرشتے کے بھیجنے کا کیا فائدہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

4: یعنی اگر کسی فرشتے ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، یا پیغمبر کی تصدیق کے لیے لوگوں کے سامنے بھیجتے تب بھی اس کو انسانی شکل ہی میں بھیجنا پڑتا، کیونکہ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی فرشتے کو دیکھ سکے۔ اس صورت میں پھر یہ کافر لوگ وہی اعتراض دہراتے کہ یہ تو ہم جیسا ہی آدمی ہے اس کو ہم پیغمبر کیسے مان لیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

(آیت) ” نمبر 8 تا 9 ۔ یہ تجویز مشرکین کی طرف سے تھی اور ان مشرکین سے پہلے بھی کئی اقوام نے یہ تجویز پیش کی ۔ ہر قوم نے اپنے رسول سے نزول فرشتگان کا مطالبہ کیا ۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے ایسے مطالبے پیش کئے ہیں اور یہاں اس تجویز کو دلائل کے ساتھ رد کردی جاتا ہے ۔ اس تجویز کے بارے میں ‘ مناسب ہے ہم تمام حقائق یہاں پیش کردیں حتی الامکان ۔ اس کے متعلق پہلی حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب اللہ کا انکار نہ کرتے تھے بلکہ وہ اس بارے میں ایک بین دلیل طلب کرتے تھے سے معلوم ہوجائے کہ حضور ﷺ نبی مرسل ہیں اور آپ جو کتب ان کے سامنے پڑھتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے ۔ اس سلسلے میں دوسری تجاویز دیتے تھے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 چونکہ فرشتہ کو اصلی صورت میں بھیجنے کی نفی تو پہلی آیت میں ہوچکی ہے اب دوسرے احتمال کا جواب دیتے ہیں وہ یہ کہ فرشتہ آدمی کی صورت میں بھیجا جائے، کیونکہ اسی صورت میں مجانست صوری کی بناء پر لوگ اس کے نمونہ اور تعلیم سے منتفع ہوسکتے ہیں لیکن اس تقدیر پر منکرین کے شبہات کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ جو شکوک و شبہات رسول کے بشر ہونے پر کرتے تھے وہ ملک کے بصورت بشر آنے پر بھی بدستور کرتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلاً وَّلَلَبَسْنَا عَلَیْہِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ اگر بجائے محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجا جاتا تو اسے بھی ہم نے انسانی شکل میں ہی بھیجنا تھا ‘ کیونکہ بھیجنا جو انسانوں کے لیے تھا۔ اس طرح جو التباس انہیں اس وقت ہو رہا ہے وہ التباس اس وقت بھی ہوجاتا۔ ہاں اگر فرشتوں میں بھیجنا ہوتا تو ضرور کوئی فرشتہ ہی بھیجتے۔ حدیث جبرائیل علیہ السلام کے حوالے سے ہمیں معلوم ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے ‘ پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی پتا نہ چلا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں ‘ وہ انہیں انسان ہی سمجھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 پیغمبر کے فرشتہ ہونے پر اعتراضات :۔ فرشتہ نازل کرنے کی دوسری صورت یہ تھی کہ وہ انسانی شکل میں آتا۔ جیسے جبریل آپ کے پاس دحیہ کلبی کی شکل میں کبھی کبھار آتے تھے۔ یا سیدنا ابراہیم سیدنا لوط اور سیدنا داؤد کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے۔ اور اگر فرشتہ پیغمبر بن کر انسانی شکل میں آتا تو اس پر بھی وہ تمام اعتراضات وارد ہوسکتے تھے جو رسول اللہ پر وارد ہوتے رہے۔ پھر یہ ایک الگ اعتراض پیدا ہوجاتا کہ جو شخص اپنے آپ کو فرشتہ اور پیغمبر کہہ رہا ہے آیا یہ فی الواقع فرشتہ ہے بھی یا نہیں ؟ یا کوئی جادوگر انسان ہے جو ہمیں چکمہ دے رہا ہے گویا ان کا وہ اشتباہ پھر بھی بدستور باقی رہتا جو انہیں اب پڑا ہوا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13 ۔ اور یہ لوگ اس انسان نما فرشتہ کے باب میں وہی اشکالات اور احتمالات اور وہی کج، بحثیاں پیدا کرتے اور وہی کٹھ حجتی نکالتے جو رسول اللہ ﷺ سے متعلق کررہیے ہیں۔ (آیت) ” ولوجعلنہ “۔ اس کو یعنی اس بھیجی ہوئی ہستی کو۔ ای لجعناالرسول ملکا (بحر) الضمیر للنذیر المحدث للناس (روح) (آیت) ” ملکا “۔ فرشتہ یعنی وہ نورانی ہستی جسے انسان نہ اپنے عام ومعروف حواس سے دیکھ سکتا اور نہ اس کے ملکات کے لحاظ سے اس کا اتباع کرسکتا ہے۔ (آیت) ” لجعلنہ رجلا “۔ یعنی اسے بھی شکل وجسم کے لحاظ سے انسان ہی بناتے کہ تم اسے اپنی ان آنکھوں سے دیکھ تو سکتے۔ (آیت) ” للبسنا علیھم “۔ اشتباہ کا اسناد حق تعالیٰ کی جانب محض تکوینی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–10

لَوْ جَعَلْناہ مَلَکًا الخ، یعنی اگر ہم فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے تو ظاہر بات ہے کہ وہ فرشتے کی اصل شکل میں تو آ نہیں سکتا تھا، کیوں کہ انسان اس سے خوف زدہ ہوتے اور قریب و مانوس ہونے کے بجائے دور بھاگتے اسلئے ناگزیر تھا کہ اسے انسانی شکل میں بھیجا جاتا اس میں بھی یہی شبہ ہوتا کہ یہ تو انسان ہی ہیں تو پھر فرشتے کو بھیجنے سے کیا فائدہ ہوتا، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے تھے وہ انسان ہی کے شکل میں آئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو جعلنہ ملکا اور اگر ہم اس (شاہد) کو فرشتے بناتے یا رسول کو فرشتہ بناتے یعنی اگر فرشتہ کو رسول کا ہمراہی (اور شاہد) بناتے یا یہ مطلب کہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے۔ کافروں کی درخواست دونوں طرح کی تھی کبھی تو وہ کہتے لو لا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا اور کبھی کہتے لو شاء ربنا لا نزل ملائکۃ (اس لئے آیت مذکورہ کا دونوں طرح ترجمہ اور مطلب صحیح ہے) لجعلنہ رجلا تو ہم اس کو مرد بناتے یعنی مرد کی شکل دے کر بھیجتے۔ جیسے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے آتے تھے بات یہ ہے کہ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنا عام بشری قوت سے باہر ہے البتہ بعض مخصوص انبیاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–9

(8۔ 9) اور یہ عبداللہ بن امیہ اور دیگر کافر یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا جسے ہم دیکھ سکیں اور اس کی باتیں بھی سنیں تو اگر ان کی درخواست کے مطابق ہی معاملہ ہوتا تو ان پر عذاب نازل ہوجاتا اور ان کی روحیں قبض ہوجاتیں اور ان کا خاتمہ ہوجاتا اور پھر ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی اور اگر ہم رسول کسی فرشتہ کو کرکے بھیجتے تب بھی اسے انسانی شکل میں ہی میں بھیجتے تاکہ لوگ ان اس کو دیکھ سکیں تو پھر فرشتوں کے بارے میں بھی ان کے وہی اشکال اور اشتباہ ہوتے جو ان کو رسول اکرم ﷺ اور آپ کی صفت کے بارے میں شک ہو رہا ہے

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا۔۔ : یہ کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے، یعنی ان کے مطالبے کو مانتے ہوئے ہم فرشتہ اتارنا منظور کر بھی لیتے تو وہ بھی انسانی صورت میں آتا، کیونکہ یہ اسے اس کی اصل شکل میں تو دیکھ ہی نہیں سکتے اور جب وہ آدمی کی شکل میں ہوتا تو پھر یہی اعتراض کرتے جو اب کر رہے ہیں۔ اس وقت کے کافر کسی انسان کو نبی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، کیونکہ آپ ﷺ ان کی قوم سے تھے، ان کے سامنے جوان ہوئے اور انھی میں زندگی گزاری۔ اب کچھ لوگ آپ ﷺ کو نبی تو مانتے ہیں، مگر آپ ﷺ کو انسان ماننے کے لیے تیار نہیں۔ گویا ایک ہی عقیدے کی دو شکلیں ہیں اور دونوں باطل ہیں، حالانکہ اللہ نے اپنا احسان جتلایا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

آیت نمبر : 8 تا 10۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقالوا لولاانزل علیہ ملک “۔ یہ بھی انہوں نے تجویز کی۔ لولا بمعنی ھلا ہے، (آیت) ” ولو انزلنا ملکا نقضی الامر “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر وہ فرشتے کو اپنی صورت میں دیکھتے تو مر جاتے کیونکہ وہ اس کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، مجاہد اور عکرمہ نے کہا : تو قیامت قائم ہوجاتی، حسن اور قتادہ نے کہا : وہ عذاب کے ساتھ ہلاک کیے جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری فرمائی ہے کہ جس نے کوئی نشانی طلب کی پھر وہ اس کے لیے ظاہر کردی گئی اور وہ ایمان نہ لایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے فورا ہلاک کردیا (آیت) ” ثم لا ینظرون “۔ یعنی انہیں مہلت نہیں دی جائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا اور ان سے بات اور ان کو (اللہ کا پیغام پہنچایا) آپ کو زمعہ بن اسود بن عبد المطلب نضر بن حارث ابی کلدہ عبدۃ بن عبد یعوث، ابی بن خلف بن وھب اور عاص بن وائل بن ہشام نے کہا اگر تیرے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو تیری طرف سے لوگوں کو بیان کرتا اور وہ تیرے ساتھ دیکھا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو اس طرح نازل فرمایا لفظ آیت وقالوا لولا انزل علیہ ملک (الایہ) (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت وقالوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ [ اور اگر ] جَعَلْنٰهُ [ ہم بناتے اس (رسول ) کو ] مَلَكًا [ ایک فرشتہ ] لَّجَعَلْنٰهُ [ توہم بناتے اس کو ] رَجُلًا [ ایک مرد ] وَّلَـلَبَسْنَا [ اور ہم ضرور مشتبہ کرتے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] مَّا [ اس کو جو ] يَلْبِسُوْنَ [ یہ لوگ شک کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ لَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْھِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ ) اگر ہم اس کو فرشتہ بناتے تو اس کو آدمی ہی بناتے اور ہم ان پر شبہ ڈال دیتے جس شبہ میں وہ اب پڑئے ہوئے ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر ہم فرشتہ کو نبی بنا کر بھیجتے تو آدمی کی صورت میں آتا کیونکہ انسانوں کو اتنی طاقت اور تاب نہیں ہے کہ وہ فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں دیکھ سکیں۔ جب اس کی صورت انسانی صورت ہی ہوتی تو یہ لوگ پھر معاندانہ باتیں کرتے اور کہتے کیا معلوم یہ فرشتہ ہے، جو باتیں اب کہہ رہے ہیں کہ یہ صاحب جو نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں ہمارے جیسے آدمی ہیں فرشتہ کو انسانی صورت میں دیکھ کر ایسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

ازالہ شبہات منکرین نبوت۔ قال اللہ تعالی، ولونزلنا علیک کتابا فی قرطاس۔۔۔ الی۔۔۔ المکذبین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں اثبات صانع اور توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں معاندین اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار مکہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں اور نبی کی نبوت میں کبھی تو یہ شبہ کرتے کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب کیوں نہیں اتری اور کبھی یہ کہتے کہ فرشتہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر ہمارے سامنے آکر آپ کی صدق کی گواہی کیوں نہیں دیتا اور کبھی یہ کہتے کہ نبی بشری اور انسانی صورت میں کیوں بھیجا گیا فرشتہ کو نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا ان آیات میں اس قسم کے مزخرقات اور مہملات کا رد کیا گیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

10 یہ دوسرا شبہ ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ پیغمبر کے ساتھ ایک فرشتہ بھی آنا چاہئے تھا جو اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا اور اس کے دعوی کے تصدیق کرتا جیسا کہ الفرقان رکوع 1 میں لَوْلَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْراً تو اس کا جواب دیا وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَایُنْظَرُوْنَ یعنی اگر پیغمبر (علیہ السلام) کے ساتھ فرشتہ آتا اور مشرکین اس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتے اور اس کے بعد اگر وہ پیغمبر کا انکار کردیتے تو انہیں فوراً ہلاک کردیا جاتا اور کچھ سوچنے کی انہیں ہرگز مہلت نہ دی جاتی۔ 11 یہ تیسرے شبہ کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ اگر اللہ کو پیغمبر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اعراض کا ذکر کر کے ان کی تردید فرمائی۔ کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے ‘ وہ حق کو جھٹلا دیتے ہیں۔ فرمایا اس کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آجائے گی جب وہ سزا میں مبتلا ہوں گے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے ‘ اور انہیں وعید سنائی ہے۔ مثال کے طور پطر سابقہ قوموں کا حال بھی بیان کیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کے احکام کی نافرمانی کی تو سزا میں مبتلا ہوئے ‘ اگر یہ لوگ بھی احکام الٰہی سے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کریں گے تو پہلی قوموں کی طرح سزا میں مبتلا ہوں گے ۔ آج کے درس میں نزول قرآن کے متعلق مشرکین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا وَّلَـلَبَسْـنَا عَلَيْہِمْ مَّا يَلْبِسُوْنَ۝ 9 رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ لبس لَبِسَ الثّوب : استتر به، وأَلْبَسَهُ غيره، ومنه : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] واللِّبَاسُ واللَّبُوسُ واللَّبْسُ ما يلبس . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–11

3 ؎ کس لئے کہ فرشتہ کو اس کی صورت اصلی پر دیکھنے کی ان میں صلاحیت نہیں کیونکہ وہ نور مجرد ہے اور یہ آنکھیں عالم ناسوت دیکھنے کو بنائی گئی ہیں۔ پھر جب وہ آدمی بن کر آتا تو وہی شبہات اس کے حق میں پیدا ہوتے کہ اس کے فرشتہ ہونے کی کیا دلیل ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْھِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ ۔ (الانعام : 9) (اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے ‘ کسی فرشتہ کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا اور ان کو اسی شبہ میں ڈالتے ‘ جس میں اب پڑ رہے ہیں) کیا پیغمبر انسان نہیں ہوتے ؟ مشرکینِ مکہ کے اس مطالبے کا ایک پس منظر ہے۔ وہ یہ ہے کہ باقی بہت سی قوموں کی طرح ان کا انسان کے بارے میں یہ تصور تھا کہ وہ فرشتوں کے مقابلے میں ایک کم تر درجہ کی مخلوق ہے اور اللہ کا نمائندہ اور اس کا پیغمبر چونکہ اللہ سے قریبی تعلق رکھنے کا دعویٰ رکھتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کی طرف سے پیغام وصول کرتا ہوں اور انسانوں تک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا دوسرا مطالبہ : سورۂ یونس آیت 2 میں بیان ہوا ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے انبیاء کو کیوں مبعوث کیا ہے ؟ سورة الفرقان کی آیت 7 میں کفار کے اس تعجب کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک فرشتہ نازل کرتا جو ہر مقام پر اس کی تائید کرتا۔ یہاں بھی کفار کے اسی مطالبہ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ جس کے دو جواب دیے گئے ہیں کہ اگر ہم اپنے رسول کی تائید میں فرشتہ نازل کرتے اور اسکے مقابلہ میں لوگ انکار کرتے تو ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرشتہ لباس انسانی میں اسی اشکال کا باعث ہے : آیت 9: وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا اگر ہم رسول کو فرشتہ کی صورت میں بھیجیں جیسا کہ ان کے خیالات میں ہے کیونکہ وہ کبھی کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ پر فرشتہ کیوں نہیں اترا اور کبھی کہتے یہ تو تم جیسا انسان ہے۔ (نبوت اس کو نہیں دی گئی) اگر اللہ چاہتا تو فرشتہ ضرور اتارتا۔ لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلاً اس کو ضرور صورت انسانی میں بھیجتے۔ جیسا کہ جبرئیل رسول اللہ ﷺ کے پاس عمومی حالات میں دحیہ کلبی ؓ کی صورت میں آتے۔ کیونکہ وہ فرشتوں کو ان کی اصلی شکل میں دیکھ کر زندہ نہیں رہ سکتے۔ وَّلَلَبَسْنَا عَلَیْہِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَان پر ہم خلط ملط کردیتے۔ اور اس کے معاملے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 8–11

آیت نمبر 11, 10, 9, 8 تفسیر : (وقالوا لولاانزل علیہ) محمد ﷺ پر (ملک ط ولوانزلنا ملکا لقضی الامر) یعنی عذاب واجب ہوجائے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کفار کے معاملہ میں طریقہ رہا ہے کہ جب وہ کسی نشانی کا مطالبہ کریں اور وہا تاری جائے اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب کے ذریعے ان کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے ( ثم لاینظرون) یعنی نہ ان کو کوئی مدت میعاد دی جائے گی اور نہ ہی مہلت دیئے جائیں گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر ہم فرشتہ اتارتے پھر وہ ایمان نہ لاتے تو ان پر جلدی عذاب آجاتا اور آنکھ جھپکنے کی مہلت نہ دی جاتی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” لقضی الامر “ یعنی قیامت قائم ہوجاتی اور ضحاک (رح)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–11

(7 ۔ 11) ۔ مقاتل بن سلیمان اور کلبی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ نضر بن حارث اور عبد اللہ بن امیہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ اس مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلا شک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آن کر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف کا نوشتہ ہے اور اس کا مضمون برحق ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان دیکھ نہیں سکتا حضرت داؤد ( علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے آخر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–10

آیت 7 اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمہارے لئے کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولو نزلنا علیک کتباً فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم) ” اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں، پھر چھولیں اس کو اپنے ہاتھوں سے “ یعنی انہیں یقین آجائے (لقال الذین کفروآء) ” تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔ “ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے (ان ھذا الاسحرمبین) ” یہ تو کھلا جادو ہے۔ “ اس سے بڑھ کر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

15 فرمائشوں پر فرشتوں کو اتارنے کا فائدہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار بھی دیتے تو یقینا وہ کسی انسان ہی کی شکل میں ہوتا۔ کیونکہ فرشتے کو اپنی اصل شکل میں دیکھنا کسی عام انسان کے بس میں نہیں۔ کیونکہ فرشتے کی اصل حقیقت جو کہ نور مجرد ہے اس کو اپنی ان ناسوتی آنکھوں سے دیکھنا عام انسان کے بس میں نہیں۔ اور یہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ ہی کا ظرف اور انہی کا مقام ہوسکتا ہے کہ وہ ان نوری وجودوں کو دیکھ سکیں اور اس رؤیت کو سہار سکیں۔ (جامع البیان، ابن کثیر اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ تو پھر یہ لوگ فرشتوں کو اپنی ان ناسوتی آنکھوں سے کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔ سو ایسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–11

تشریح : جیسا کہ بیان ہوچکا کہ فرشتہ بھیجنے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اصل شکل میں فرشتہ نازل ہو یا عذاب کی صورت میں فرشتہ نازل ہو یا پھر انسانی شکل میں فرشتہ بھیجا جائے۔ اگر انسانی شکل میں فرشتہ بھیجا گیا تو یہ لوگ اس کے ساتھ بھی یہی فضول باتیں کریں گے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ کفار لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں آپ گھبرائیں نہیں ان کا تو ہمیشہ سے یہی کام ہے۔ آپ سے پہلے بھی جو پیغمبر اور رسول بھیجے گئے ان سب کے ساتھ ان کی امتوں کے گمراہ لوگوں نے اسی طرح ہنسی مذاق، نکتہ چینی اور غلط قسم کی فرمائشوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ اصل میں یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : توحید کے عقلی دلائل : انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یہ ان کفار کے اعترا کا دوسرا جواب ہے یعنی اگر ان کے مطالبہ کو مانتے ہوئے ہم فرشتہ اتارنا منظو بھی کرلیتے تو وہ بھی انسانی صورت میں ہی آتا کیونکہ اس کی اصلی شکل میں تو یہ اسے دیکھ ہی نہیں سکتے اور جب وہ آدمی کی شکل میں آتا ہے تو یہ پھر یہی شبہ پیش کرتے جو اب پیش کررہے ہیں (رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:9) لوجعلناہ۔ اگر ہم بناتے کسی فرشتہ کو نبی ہ ضمیر واحد مذکر نبی (محذوف) کے لئے ہے۔ لجعلناہ رجلا۔ تو ہم اس کو ضرور انسان کی شکل میں بناتے۔ اس میں ہ ضمیر ملکا کی طرف راجع ہے۔ انسانی شکل میں بنانے کی ضرورت اس واسطے کہ فرشتوں کی اصلی صورت غیر مرتی ہے جیسے مادی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ للبسنا علیہم۔ لبس علیہ (ضرب) کسی پر معاملہ کو مشتبہ یا مخلوط کردینا۔ ہم ان کے لئے حقیقت کو مشکوک کردیتے۔ (یا خود ہی پھر بات مشکوک ہوجاتی کیونکہ جب فرشتہ انسان کی شکل میں آتا ایک مزید شک یہ پیدا ہوجاتا کہ یہ حقیقۃً فرشتہ ہے یا پھر انسان ہی ہے) مایلبسون۔ ای مایلبسون علی انفسھم۔ جس شک میں انہوں نے خود اپنے آپ کو ڈال…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–11

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 11 : قرطاس (کاغذ) ‘ لمسوا ( انہوں نے چھو کر دیکھا) ‘ ملک (فرشتہ) ‘ قضی الامر (معاملہ کا فیصلہ کردیا گیا) ‘ لاینظرون (وہ مہلت نہ دئیے جائیں گے) ‘ لبسنا (ہم نے پہنا دیا۔ ڈال دیا) ‘ یلبسون ( وہ شبہ کررہے ہیں) ‘ حاق (گھیرلیا) ‘ سخروا (انہوں نے مذاق کیا) سیروا (چلو پھرو) ‘ انظروا (دیکھو) ‘ عاقبۃ (انجام) ‘ المکذبین (جھٹلانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 11 : فرمایا گیا کہ یہ ضدی ‘ ہٹ دھرم قسم کے لوگ کیسے کیسے مطالبات اٹھاتے ہیں۔ ایک مرتبہ عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ لوں کہ آپ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–11

مشرکین مکہ کی اللہ تعالیٰ سے گستاخی شان نزول : مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ ایک مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلاشک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آکر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے نوشتہ ہے، اور اس کا مضمون برحق ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سبب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان نہیں دیکھ سکتا۔ حضرت داود اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جو فرشتے آئے آخر وہ انسان کی صورت میں آئے۔ اس لئے اگر ان کے کہنے کے موافق ان کی آنکھوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یعنی اگر فرشتہ شکل انسان میں ظاہر ہوتا تو اس کے مامور من اللہ ہونے میں تم کو وہی اشتباہ ہوتا جو محمد ﷺ کے مامور من اللہ ہونے میں اب ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–11

(ف 1) ان دو آیتوں میں مکہ والوں کے ایک مخصوص شبہ کا جواب ہے ، مکہ والے یہ کہتے تھے کہ ایک انسان ہمارے لئے کیسے راہنما ہو سکتا ہے ، گویا ان کی نخوت انہیں ایک انسان کو نبی ماننے سے ابا کرتی تھی ، ان کا خیال یہ تھا کہ منصب نبوت کسی فرشتہ کو ملنا چاہئے تھا ، قرآن حکیم نے اس اعتراض کے وہ جواب دیئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر فرشتہ پیغمبر قرار پاتا ، تو حجت تمام ہو چکتی ، اور تمہارے لئے انکار وتاویل کی قطعی گنجائش نہ رہتی ، اس صورت میں تمہاری ہلاکت یقینی تھی ، پھر اگر فرشتہ ہوتا ، جب بھی انسانی قالب میں ظاہر ہوتا ، اور تمہار اعتراض بدستور قائم رہتا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-9 اور اگر ہم بجائے بشر کے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے تو ہم اس کو بہرحال آدمی ہی کی شکل و صورت دے کر بھیجتے کیونکہ فرشتے کو اصلی حالت میں دیکھنا تو ان کی طاقت سے باہر ہوتا اور جب ہم اس کو آدمی کی شکل دیتے تو ہمارے ایسا کرنے سے یہ پھر انہی شبہات میں مبتلا ہوجاتے جن میں وہ اب مبتلا ہیں اور جن شبہات میں اب پھنسے ہوئے ہیں وہی اشکال ان کو اس وقت بھی درپیش ہوتا یعنی فرشتہ کو اس کی اصل صورت میں دیکھ نہ سکتے لا محالہ اس کو انسان کی صورت شکل دے کر بھیجتے تو پھر یہی کہتے کہ ہمارے سمجھانے کو بشر کیوں آیا فرشتہ کیوں نہیں آیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–17

ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر ہم کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے تو کیا پھر وہ اس کو رسول مان لیتے ؟ : 16: فرشتہ کیا ہے ؟ قدرت الٰہی کا ایک نشان اور طاقت جس کو ” ملک “ کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے ۔ کیا وہ نظر آنے والی چیز ہے ؟ قوت کا اپنا کوئی وجود جس سے وہ نظر آئے ممکن نہیں بلکہ اس کو دیکھنے کے لئے کوئی وجود عطا کرنا پڑتا ہے۔ وہ خیالی ہو یا مثالی یا اس کا جو نام بھی رکھ لیں ۔ فرمایا ” اگر ہم کسی فرشتے کو پیغمبر کردیتے تو اسے بھی انسان ہی بناتے۔ “ یعنی وہ کسی انسان ہی کی شکل میں نظر آتا کیوں ؟ اس لئے کہ اس کو انسانوں کی طرف بھیجا جانا تھا اور پھر انسانوں میں سے خاص کر مرد کی صفت سے اس کا تعلق ہوتا تو اس کا نتیجہ کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–11

The third verse (8) was also revealed because of an event which concerns this very ` Abdullah ibn Abi Umaiyyah who, accompanied by Nadr ibn al-Harith and Nawfal ibn Khalid ؓ ، came to the Holy Prophet ﷺ . This time their demand was: ` We shall believe in you only when you go and bring a book from the heavens and let four angels come along with it to testify that the book was from none but Allah and that you are the Messenger of Allah.' One answer Allah gave to them was that by making such demands, these heedless people were inviting their own destruction, because the Divine law is that,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

7. This is the second point in response to the unbelievers' objection. One possible form in which the angel could have appeared is in its true, non-terrestrial form. It has already been pointed out that the time for this has not arrived. Alternatively, angels could have come down in human form. But this would have left the unbelievers facing the same difficulty as they faced with regard to whether the Prophet Muhammad (peace be on him) had been designated by God or not.

Read the full tafseer →