Al-An'aam 6:8

Al-An'aam · from ayah 8

6:8

وَقَالُوْا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ ؕ— وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ ۟وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ‌ ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡـنَا مَلَـكًا لَّـقُضِىَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "Why was there not sent down to him an angel?" But if We had sent down an angel, the matter would have been decided; then they would not be reprieved.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:8

کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اور اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہوجاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ : اس (پیغمبر) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو سارا کام ہی تمام ہوجاتا پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جاتی

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا، اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو کام تمام ہوگیا ہوتا پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ (کفّار) کہتے ہیں کہ اس (رسولِ مکرّم) پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا (جسے ہم ظاہراً دیکھ سکتے اور وہ ان کی تصدیق کردیتا)، اور ہم اگر فرشتہ اتار دیتے تو (ان کا) کام ہی تمام ہوچکا ہوتا پھر انہیں (ذرا بھی) مہلت نہ دی جاتی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا ؟ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو ضرور کام تمام کردیا جاتا، پھر انھیں مہلت نہ دی جاتی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر فرشتہ (اپنی اصل شکل میں) کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو سارا قصہ ہی پاک ہوجاتا پھر انہیں کچھ مہلت بھی نہ ملتی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہتے ہیں کہ اس پر علانیہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو بس معاملے کا فیصلہ ہی ہوجاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ ملتی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتارا گیا اس (پیغمبر) پر کوئی فرشتہ، اور اگر ہم (ان فرمائش کے مطابق) کوئی فرشتہ اتار دیتے تو فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا، پھر کوئی مہلت نہ ملتی ان (منکر) لوگوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو قصہ ہی ختم ہوجاتا اور ان کو ذرا مہلت نہ ملتی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اترا ان پر (علانیہ) کوئی فرشتہ ؟ اور اگر ہم نے فرشتہ اتاردیا ہوتا تو پھر فیصلہ ہی چکا دیا جاتا پھر انہیں کوئی مہلت نہ ملتی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور پھر انہیں مہلت بھی نہ دی جاتی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They also say: 'Why has no angel been sent down to this Prophet?' Had We sent down an angel, the matter would surely have long been decided and no respite would have been granted them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :Why is it that an angel has not been sent down to him? Had We sent down an angel, the whole matter would have been closed, and thereafter no further time would have been allowed to them.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :Why is it that an angel has not been sent down to him? Had We sent down an angel, the whole matter would have been closed, and thereafter no further time would have been allowed to them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they say: "Why has not an angel been sent down to him" Had We sent down an angel, the matter would have been judged at once, and no respite would be granted to them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They say: Why hath not an angel been sent down unto him? If We sent down an angel, then the matter would be judged; no further time would be allowed them (for reflection).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "Why was there not sent down to him an angel?" But if We had sent down an angel, the matter would have been decided; then they would not be reprieved.

— Saheeh International

They have said, "Why has not an angel come to him (Muhammad)?" Had We sent an angel to them, the matter would have inevitably been out of their hands, and they would have been given no more time.

— Muhammad Sarwar

And they say: Why has not an angel been sent down to him? And had We sent down an angel, the matter would have certainly been decided and then they would not have been respited.

— Muhammad Habib Shakir

And they say: wherefore hath not an angel been sent down unto him? Were We to send down an angel, the affair would have been decreed and they would not be respited.

— Abdul Majid Daryabadi

They say: "Why is not an angel sent down to him?" If we did send down an angel, the matter would be settled at once, and no respite would be granted them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 5 یعنی جب یہ شخص خدا کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے تو آسمان سے ایک فرشتہ اترنا چاہیے تھا جو لوگوں سے کہتا کہ یہ خدا کا پیغمبر ہے، اس کی بات مانو ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی۔ جاہل معترضین کو اس بات پر تعجب تھا کہ خالق ارض و سماء کسی کو پیغمبر مقرر کرے اور پھر اس طرح اسے بےیارو مددگار، پتھر کھانے اور گالیاں سننے کے لیے چھوڑ دے۔ اتنے بڑے بادشاہ کا سفیر اگر کسی بڑے اسٹاف کے ساتھ نہ آیا تھا تو کم از کم ایک فرشتہ تو اس کی اردلی میں رہنا چاہیے تھا تاکہ وہ اس کی حفاظت کرتا، اس کا رعب بٹھاتا، اس کی ماموریت کا یقین دلاتا اور فوق الفطری طریقے سے اس کے کام انجام دیتا۔ سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–11

تیسری آیت کے نزول کا بھی ایک واقعہ ہے کہ یہی عبداللہ بن ابی امیہ اور نضر بن حارث اور نوفل بن خالد ایک مرتبہ جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مطالبہ پیش کیا کہ ہم تو آپ ﷺ پر جب ایمان لائیں گے جب کہ آپ ﷺ آسمان سے ایک کتاب لے کر آئیں، اور اس کے ساتھ چار فرشتے آئیں جو اس کی گواہی دیں کہ یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا جواب حق تعالیٰ نے اہک تو یہ دیا کہ یہ غفلت شعار ایسے مطالبات کرکے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں، کیونکہ قانون الٓہی یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی پیغمبر سے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا مانگا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

7 - 8: خوئے بد را بہانہ بسیار : اوپر آیت 4 میں قرآن سے ان کے اعراض کا جو ذکر فرمایا تو یہ ان کے ان مطالبات و اعراضات کا جواب بھی دے دیا جو وہ اس اعراض کے لیے بطور بہانہ کے پیش کرتے تھے۔ مقصود اس سے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ یہ نہ خیال کرو کہ ان کے اعراض کے لیے فی الواقع کوئی عذر ہے، جو دور ہوجائے تو یہ قرآن کو مان لیں گے۔ نہیں، بات وہیں رہے گی جہاں اب ہے۔ یہ کوئی نہ کوئی نیا بہانہ تراش لیں گے اس لیے کہ نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں معجزے نہیں دکھائے گئے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ اپنی خواہشوں کے خلاف کوئی بات ماننے کے لیے یہ تیار نہیں ہیں۔ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے بھی انبیاء و رسل بھیجے وہ انسانوں میں سے ہی تھے اور ہر قوم میں اسی کے ایک فرد کو وحی و رسالت سے نواز دیا جاتا تھا۔ یہ اس لئے کہ اس کے بغیر کوئی رسول فریضہ تبلیغ و دعوت ادا ہی نہیں کرسکتا تھا، مثلاً اگر فرشتوں کو اللہ تعالیٰ رسول بنا کر بھیجتا تو ایک تو وہ انسانی زبان میں گفتگو ہی نہ کر پاتے اور دوسرے وہ انسانی جذبات سے عاری ہونے کی وجہ سے انسان کے مختلف حالات میں مختلف کیفیات و جذبات کے سمجھنے سے بھی قاصر رہتے۔ ایسی صورت میں ہدایت اور رہنمائی کا فریضہ کس طرح انجام دے سکتے تھے۔ ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ کا انسانوں پر ایک بڑا احسان ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یہ دنیا چونکہ انسان کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے، اس لیے انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر اللہ تعالیٰ پر اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان لائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی غیبی حقیقت آنکھوں سے دکھا دی جاتی ہے تو اس کے بعد ایمان لانا معتبر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص موت کے فرشتوں کو دیکھ کر ایمان لائے تو اس کا ایمان قابل قبول نہیں۔ کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر کوئی فرشتہ آنحضرت ﷺ پر وحی لے کر آتا ہے تو وہ اس طرح آئے کہ ہم اسے دیکھ سکیں۔ قرآن کریم نے اس کا پہلا جواب تو یہ دیا ہے کہ اگر فرشتے کو انہوں نے آنکھ سے دیکھ لیا تو پھر مذکورہ بالا اصول…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

(آیت) ” نمبر 8 تا 9 ۔ یہ تجویز مشرکین کی طرف سے تھی اور ان مشرکین سے پہلے بھی کئی اقوام نے یہ تجویز پیش کی ۔ ہر قوم نے اپنے رسول سے نزول فرشتگان کا مطالبہ کیا ۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے ایسے مطالبے پیش کئے ہیں اور یہاں اس تجویز کو دلائل کے ساتھ رد کردی جاتا ہے ۔ اس تجویز کے بارے میں ‘ مناسب ہے ہم تمام حقائق یہاں پیش کردیں حتی الامکان ۔ اس کے متعلق پہلی حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب اللہ کا انکار نہ کرتے تھے بلکہ وہ اس بارے میں ایک بین دلیل طلب کرتے تھے سے معلوم ہوجائے کہ حضور ﷺ نبی مرسل ہیں اور آپ جو کتب ان کے سامنے پڑھتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے ۔ اس سلسلے میں دوسری تجاویز دیتے تھے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جو ہمارے روبرو ہو کر ان کے صدق کی گواہی دیتا 1 اگر فرشتہ اپنی اصلی صورت میں آئے تو یہ لوگ ایک منٹ کیلئے بھی اس کا تحمل نہ کرسکیں اس کے رعب وہیبت سے دم نکل جائے۔ یہ صرف انبیاء (علیہم السلام) ہی کا ظرف ہوتا ہے جو اصلی صورت میں فرشتہ کی رویت کا تحمل کرسکتے ہیں نبی کریم ﷺ نے عمر بھر میں دو مرتبہ حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے۔ اور کسی نبی کی نسبت ایک مرتبہ بھی ثابت نہیں۔ دوسرے اگر ان لوگوں کی ایسی عظیم الشان خارق عادت فرمائش پوری کردی جائے اور اس پر بھی نہ مانے جیسا کہ ان کے معاندانہ احوال واطوار سے ظاہر ہے تو سنت اللہ کے موافق پھر قطعا مہلت نہ دی جائے گی اور ایسا عذاب آئے گا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌط وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لاَ یُنْظَرُوْنَ یعنی اس دنیا کی زندگی میں یہ جو ساری آزمائش ہے وہ تو غیب کے پردے ہی کی وجہ سے ہے۔ اگر غیب کا پردہ اٹھ جائے تو پھر امتحان ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد تو پھر نتیجے کا اعلان کرنا ہی باقی رہ جاتا ہے

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یہ کفار کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں کیوں نازل نہیں ہوتا۔ جسے ہم دیکھ سکیں اور ہمیں یقین آجائے۔ اور پیغمبر جو یہ کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتہ نازل ہوتا ہے وہ سچ کہتا ہے ؟ اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر فرشتہ اپنی اصلی شکل میں آتا تو یہ دہشت کے مارے فوراً مرجاتے انہیں ایمان لانے یا انکار کرنے کی مہلت ہی کہاں ملتی۔ فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں دیکھنے کے متحمل انبیاء ہی ہوسکتے ہیں۔ چناچہ آپ نے جبریل فرشتہ کو اس کی اصلی شکل میں دو بار دیکھا تھا۔ آپ نے بتایا کہ اس کے چھ سو پر تھے اور اس کی جسامت سے تمام افق بھر گیا تھا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ باب قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1 1 ۔ بشر محض کا رسول ہونا منکرین کی سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ اوتار مان سکتے تھے، مظہر خدا مان سکتے تھے۔ فرزند خدا مان سکتے تھے، دیویوں، دیوتاؤں کے، خدا کی بیٹیوں کے وجود کے قائل ہوسکتے تھے۔ لیکن بشر کی رسالت کو ان کا دماغ کس طرح قبول کرنے کو تیار نہ تھا، برابر ان کی طرف سے مطالبہ ” مافوق البشریت “ کا خارق عادت “ کا ہوتا رہتا تھا۔ کوئی آسمانی فرشتہ ان پیغمبر کے ساتھ لگا رہے۔ جب جاکر یہ ان کی پیغمبری کے قائل ہوں، حالانکہ قائل جب بھی نہ ہوتے ! (آیت) ” قالوا “۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ مشرکوں ہی کا کوئی گروہ تھا۔ وظاہر الایۃ یقتضی انھا فی کفار العرب (بحر) 12 ۔ یعنی فرشتہ کا نزول دنیا میں اس طرح کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قالوا لَوْلاَ انزلَ عَلَیہ مَلَک، (الآیۃ) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جتنے بھی انبیاء و رسل بھیجے وہ سب انسان ہی تھے، اور یہ اس لئے کیا گیا کہ اس کے بغیر کوئی نبی اور رسول فریضہ تبلیغ و دعوت ادا ہی نہیں کرسکتا تھا، مثلاً فرشتوں کو اگر اللہ تعالیٰ رسول بنا کر بھیجتا ایک تو وہ انسانی زبان میں گفتگو نہ کر پاتے دوسرے وہ انسانی جذبات سے عاری ہونے کی وجہ سے انسان کی مختلف کیفیات و جذبات کے سمجھنے سے بھی قاصر رہتے، ایسی صورت میں وہ ہدایت و رہنمائی کا فریضہ کیسے انجام دے سکتے تھے ؟ انسان پر اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا احسان ہے کہ اس نے انسانوں کو ہی نبی اور رسول بنا کر بھیجا، چناچہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا لو لا انزل علیہ ملک نے کہا کہ محمد ﷺ پر فرشتہ نازل کیوں نہیں کیا گیا یعنی فرشتے کو کیوں نہیں اتارا گیا جو اس کی نبوت کی شہادت دے اور ہم کو بتائیے کہ یہ پیغمبر ہے اس آیت کا مضمون وہی ہے جو آیت لو لا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرًا کا ہے۔ ولو انزلنا ملکا لقضی الامر ثم لا ینظرون اور اگر ہم (اس کے ساتھ) فرشتہ کو (شاہد بنا کر) اتار دیں تو کام ہی تمام کردیا جائے گا اس کے بعد ان کو مہلت نہیں دی جائے گی کام تمام کردینے سے مراد ہے درخواست نزول کرنے والوں کو تباہ کردینا کیونکہ ماضی میں اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ طلب معجزات کرنے والوں کو ظہور معجزات کے بعد ہلاک کردیا گیا مجاہد نے کہا کام تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–9

(8۔ 9) اور یہ عبداللہ بن امیہ اور دیگر کافر یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا جسے ہم دیکھ سکیں اور اس کی باتیں بھی سنیں تو اگر ان کی درخواست کے مطابق ہی معاملہ ہوتا تو ان پر عذاب نازل ہوجاتا اور ان کی روحیں قبض ہوجاتیں اور ان کا خاتمہ ہوجاتا اور پھر ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی اور اگر ہم رسول کسی فرشتہ کو کرکے بھیجتے تب بھی اسے انسانی شکل میں ہی میں بھیجتے تاکہ لوگ ان اس کو دیکھ سکیں تو پھر فرشتوں کے بارے میں بھی ان کے وہی اشکال اور اشتباہ ہوتے جو ان کو رسول اکرم ﷺ اور آپ کی صفت کے بارے میں شک ہو رہا ہے

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ : یہ نبوت کے منکرین کا ایک اور اعتراض ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی طرف رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ انسان کے بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا، یا فرشتہ اس کے ساتھ ساتھ پھرتا اور کہتا کہ یہ اللہ کا رسول ہے، اس پر ایمان لے آؤ، ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی۔ وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْاَمْرُ۔۔ : یہ پہلا جواب ہے۔ (رازی) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور وہ اسے دکھا دیا جائے، لیکن اس کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو اسے ہلاک کردیا جاتا ہے، اس لیے اگر فرشتے اصل صورت میں نازل ہوتے تو ان کے پاس عذاب لے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

آیت نمبر : 8 تا 10۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقالوا لولاانزل علیہ ملک “۔ یہ بھی انہوں نے تجویز کی۔ لولا بمعنی ھلا ہے، (آیت) ” ولو انزلنا ملکا نقضی الامر “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر وہ فرشتے کو اپنی صورت میں دیکھتے تو مر جاتے کیونکہ وہ اس کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، مجاہد اور عکرمہ نے کہا : تو قیامت قائم ہوجاتی، حسن اور قتادہ نے کہا : وہ عذاب کے ساتھ ہلاک کیے جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری فرمائی ہے کہ جس نے کوئی نشانی طلب کی پھر وہ اس کے لیے ظاہر کردی گئی اور وہ ایمان نہ لایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے فورا ہلاک کردیا (آیت) ” ثم لا ینظرون “۔ یعنی انہیں مہلت نہیں دی جائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا اور ان سے بات اور ان کو (اللہ کا پیغام پہنچایا) آپ کو زمعہ بن اسود بن عبد المطلب نضر بن حارث ابی کلدہ عبدۃ بن عبد یعوث، ابی بن خلف بن وھب اور عاص بن وائل بن ہشام نے کہا اگر تیرے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو تیری طرف سے لوگوں کو بیان کرتا اور وہ تیرے ساتھ دیکھا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو اس طرح نازل فرمایا لفظ آیت وقالوا لولا انزل علیہ ملک (الایہ) (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت وقالوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا [ اور انھوں نے کہا ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] عَلَيْهِ [ ان پر ] مَلَكٌ ۭ [ کوئی فرشتہ ] وَلَوْ [ اور اگر ] اَنْزَلْنَا [ ہم اتارتے ] مَلَكًا [ کوئی فرشتہ ] لَّقُضِيَ [ تو فیصلہ کردیا جاتا ] الْاَمْرُ [ تمام کاموں کا ] ثُمَّ [ پھر ] لَا يُنْظَرُوْنَ [ وہ لوگ مہلت نہ دیئے جاتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکوں کی اس بات کا جواب کہ فرشتوں کو کیوں مبعوث نہیں کیا گیا اس کے بعد مشرکین کے ایک مطالبہ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا (وَ قَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ) (اور انہوں نے کہ کہ کیوں نہ نازل ہوا فرشتہ) مشرکین مکہ یہ بھی مطالبہ کرتے تھے کہ محمد ﷺ کے پاس فرشتہ آتا اور ان کی تصدیق کرتا تو ہم ایمان لے آتے۔ اس کے جواب میں فرمایا۔ (وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ ) (کہ اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے تو فیصلہ ہوجاتا اور پھر انکو ذرا مہلت نہ دی جاتی) کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ جو لوگ اپنی طرف سے کوئی معجزہ تجویز کر کے طلب کرتے ہیں اور پھر وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

ازالہ شبہات منکرین نبوت۔ قال اللہ تعالی، ولونزلنا علیک کتابا فی قرطاس۔۔۔ الی۔۔۔ المکذبین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں اثبات صانع اور توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں معاندین اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار مکہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں اور نبی کی نبوت میں کبھی تو یہ شبہ کرتے کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب کیوں نہیں اتری اور کبھی یہ کہتے کہ فرشتہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر ہمارے سامنے آکر آپ کی صدق کی گواہی کیوں نہیں دیتا اور کبھی یہ کہتے کہ نبی بشری اور انسانی صورت میں کیوں بھیجا گیا فرشتہ کو نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا ان آیات میں اس قسم کے مزخرقات اور مہملات کا رد کیا گیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

10 یہ دوسرا شبہ ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ پیغمبر کے ساتھ ایک فرشتہ بھی آنا چاہئے تھا جو اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا اور اس کے دعوی کے تصدیق کرتا جیسا کہ الفرقان رکوع 1 میں لَوْلَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْراً تو اس کا جواب دیا وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَایُنْظَرُوْنَ یعنی اگر پیغمبر (علیہ السلام) کے ساتھ فرشتہ آتا اور مشرکین اس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتے اور اس کے بعد اگر وہ پیغمبر کا انکار کردیتے تو انہیں فوراً ہلاک کردیا جاتا اور کچھ سوچنے کی انہیں ہرگز مہلت نہ دی جاتی۔ 11 یہ تیسرے شبہ کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ اگر اللہ کو پیغمبر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اعراض کا ذکر کر کے ان کی تردید فرمائی۔ کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے ‘ وہ حق کو جھٹلا دیتے ہیں۔ فرمایا اس کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آجائے گی جب وہ سزا میں مبتلا ہوں گے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے ‘ اور انہیں وعید سنائی ہے۔ مثال کے طور پطر سابقہ قوموں کا حال بھی بیان کیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کے احکام کی نافرمانی کی تو سزا میں مبتلا ہوئے ‘ اگر یہ لوگ بھی احکام الٰہی سے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کریں گے تو پہلی قوموں کی طرح سزا میں مبتلا ہوں گے ۔ آج کے درس میں نزول قرآن کے متعلق مشرکین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْہِ مَلَكٌ۝ 0ۭ وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُوْنَ۝ 8 «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ یعنی عیانًا فرشتہ آکر تصدیق کرتا تو ہم مانتے۔ جواب دیتا ہے اگر فرشتہ آتا تو فیصلہ ہی ہوجاتا کس لئے کہ فرشتہ آنے کے بعد انکار کرنا اور یہ فرشتہ میں بھی شبہ کرتے عادت اللہ کے موافق ہلاکی کا باعث ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ قَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌط وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ ۔ (الانعام : 8) (کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انھیں کوئی مہلت نہ دی جاتی) مشرکین مکہ کا دوسرا مطالبہ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے واقعی اپنا پیغمبر بھیجا ہے تو پھر یہ عجیب بات ہے کہ خداوندکائنات کا پیغمبر اور وہ دنیا میں اس طرح آئے کہ نہ ساتھ کوئی ہٹو بچو کہنے والا ہو ‘ نہ کوئی اس کی حفاظت کرنے والا ‘ نہ کوئی اس کی خدمت بجا لانے والا ‘ جس کا جو جی چاہے اسے کہہ ڈالے تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا دوسرا مطالبہ : سورۂ یونس آیت 2 میں بیان ہوا ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے انبیاء کو کیوں مبعوث کیا ہے ؟ سورة الفرقان کی آیت 7 میں کفار کے اس تعجب کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک فرشتہ نازل کرتا جو ہر مقام پر اس کی تائید کرتا۔ یہاں بھی کفار کے اسی مطالبہ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ جس کے دو جواب دیے گئے ہیں کہ اگر ہم اپنے رسول کی تائید میں فرشتہ نازل کرتے اور اسکے مقابلہ میں لوگ انکار کرتے تو ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عدم مہلت زیادہ شدید ہے : آیت 8: وَقَالُوْا لَوْلَآٓ کیوں نہ۔ اُنْزِلَ عَلَیْہِنبی اکرم ﷺ پرمَلَکٌ (فرشتہ) جو ہم سے کلام کرے کہ یہ نبی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ (تو ان کی حالت کا معاملہ نبٹا دیا جاتا۔ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَپھر اسکے اترنے کے بعد پلک جھپک کیلئے انکو مہلت نہ دی جاتی کیونکہ جب وہ فرشتہ اصل شکل میں دیکھ پائیں گے تو ان کی روحیں خوف نظارہ سے نکل جائیں گی۔ یہاں ثم کا معنی یہ ہے کہ اس کے بعد کہ انہوں نے دو باتوں کو واضح کردیا۔ معاملہ کا فیصلہ اور عدم مہلت۔ آیت میں عدم مہلت کو فیصلہ سے زیادہ شدید قراردیا گیا۔ کیونکہ کسی مصیبت کا اچانک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 8–11

آیت نمبر 11, 10, 9, 8 تفسیر : (وقالوا لولاانزل علیہ) محمد ﷺ پر (ملک ط ولوانزلنا ملکا لقضی الامر) یعنی عذاب واجب ہوجائے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کفار کے معاملہ میں طریقہ رہا ہے کہ جب وہ کسی نشانی کا مطالبہ کریں اور وہا تاری جائے اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب کے ذریعے ان کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے ( ثم لاینظرون) یعنی نہ ان کو کوئی مدت میعاد دی جائے گی اور نہ ہی مہلت دیئے جائیں گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر ہم فرشتہ اتارتے پھر وہ ایمان نہ لاتے تو ان پر جلدی عذاب آجاتا اور آنکھ جھپکنے کی مہلت نہ دی جاتی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” لقضی الامر “ یعنی قیامت قائم ہوجاتی اور ضحاک (رح)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–11

(7 ۔ 11) ۔ مقاتل بن سلیمان اور کلبی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ نضر بن حارث اور عبد اللہ بن امیہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ اس مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلا شک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آن کر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف کا نوشتہ ہے اور اس کا مضمون برحق ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان دیکھ نہیں سکتا حضرت داؤد ( علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے آخر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–10

آیت 7 اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمہارے لئے کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولو نزلنا علیک کتباً فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم) ” اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں، پھر چھولیں اس کو اپنے ہاتھوں سے “ یعنی انہیں یقین آجائے (لقال الذین کفروآء) ” تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔ “ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے (ان ھذا الاسحرمبین) ” یہ تو کھلا جادو ہے۔ “ اس سے بڑھ کر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 فرمائشی معجزوں کے بارے میں قانون و دستور خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتارا گیا اس پیغمبر پر کوئی فرشتہ اور اگر ہم ان کی فرمائش کے مطابق کوئی فرشتہ اتار دیتے تو فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا اور پھر ایسے منکر لوگوں کو کوئی مہلت نہ ملتی کہ اللہ پاک کا قانون اور دستور یہی ہے کہ فرمائشی معجزے کے انکار کے بعد مہلت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ حقائقِ غیبیہ کے اس طرح مکشوف اور واضح ہوجانے کے بعد نہ ماننے والوں کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہ جاتا۔ سو فرمائشی معجزوں کا پورا نہ ہونا خود ان لوگوں کے لئے بہتر ہے مگر لوگوں کی اکثریت ایسی ہے کہ اس حقیقت کو سمجھتی نہیں۔ اس لیے وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

عجیب فرمائش تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں کفار کی فضول باتوں کا ذکر کیا گیا ہے تو انہیں میں سے ایک بات انہوں نے یہ کی کہ اگر اللہ کا پیغام ایک فرشتہ لے کر آتا ہے تو ہمیں بھی فرشتہ دکھایا جائے۔ تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ یوں دیتے ہیں کہ فرشتہ اگر ان کو ظاہر صورت میں دکھا دیا جاتا تو پھر ان کو کسی طرح کی مہلت نہ ملتی اور یہ تباہ و برباد ہوچکے ہوتے کیونکہ فرشتہ کو انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔ سیدنا محمد ﷺ نے جب سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) کو پہلی دفعہ دیکھا تو ہیبت زدہ ہوگئے کیونکہ یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ وہ تو رسول تھے تو برداشت کر گئے عام انسان تو فرشتہ کو دیکھ کر خوف سے مر ہی جائے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : توحید کے عقلی دلائل : انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 نبوت کے منکرین کا یہ تیسرا شبہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی طرف کوئی رسول ہی بھیجنا تھا تو وہ انسان کی بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا یا فرشتہ آپ کے ساتھ ساتھ پھرتا اور کہتا ہے کہ اللہ کا پیغمبر ہے اس پر ایمان لے آو ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی، (ابن کثیر، کبیر)7 یہ پہلا جواب ہے (رازی) کیونکہ سنت الہیہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور وہ اسے دکھا دیا جائے لیکن اس کے بھی وہ ایمان نہ لائے تو اسے ہلاک کردیا جاتا ہے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:8) لقضی الامر۔ پھر تو فیصلہ ہی ہوگیا ہوتا۔ پھر تو سارا قصہ ہی ختم ہوگیا ہوتا۔ (ان کی) ہلاکت کا فیصلہ ہوگیا ہوتا۔ لاینظرون۔ مضارع منفی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ لو انزلنا سے لا ینظرون تک۔ اگر ہم فرشتہ اتارتے تو بات ختم ہی ہوگئی ہوتی۔ قصہ ہی ختم ہوگیا ہوتا۔ پھر ان کو مہلت نہ دی جاتی قضی الامر۔ کے مختلف معانی کے پیش نظر اس فقرے کے مختلف معانی مفسرین نے لئے ہیں۔ (1) اگر فرشتہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اتارا جاتا تو فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھ کر معترضین یا تو ہلاک ہوگئے ہوتے یا مخبوط الحواس ہوجاتے۔ لیکن ان دونوں صورتوں میں پھر ان کو مہلت دینے کی ضرورت ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–11

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 11 : قرطاس (کاغذ) ‘ لمسوا ( انہوں نے چھو کر دیکھا) ‘ ملک (فرشتہ) ‘ قضی الامر (معاملہ کا فیصلہ کردیا گیا) ‘ لاینظرون (وہ مہلت نہ دئیے جائیں گے) ‘ لبسنا (ہم نے پہنا دیا۔ ڈال دیا) ‘ یلبسون ( وہ شبہ کررہے ہیں) ‘ حاق (گھیرلیا) ‘ سخروا (انہوں نے مذاق کیا) سیروا (چلو پھرو) ‘ انظروا (دیکھو) ‘ عاقبۃ (انجام) ‘ المکذبین (جھٹلانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 11 : فرمایا گیا کہ یہ ضدی ‘ ہٹ دھرم قسم کے لوگ کیسے کیسے مطالبات اٹھاتے ہیں۔ ایک مرتبہ عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ لوں کہ آپ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–11

مشرکین مکہ کی اللہ تعالیٰ سے گستاخی شان نزول : مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ ایک مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلاشک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آکر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے نوشتہ ہے، اور اس کا مضمون برحق ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سبب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان نہیں دیکھ سکتا۔ حضرت داود اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جو فرشتے آئے آخر وہ انسان کی صورت میں آئے۔ اس لئے اگر ان کے کہنے کے موافق ان کی آنکھوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–8

[3] یعنی فرشتے کا نزول دنیا میں اس طرح کہ کافر تک کو نظر آجائے۔ دستور الٰہی میں نزول عذاب کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر مہلت کا امکان کہاں ؟ مہلت اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردہ غیب میں پوشیدہ ہے۔ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا اور حقیقت ظاہر ہوگئی، اس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا، اس لئے کہ دنیا کی زندگی امتحان کا زمانہ ہے اور امتحان اس چیز کا ہے کہ حقیقت کو دیکھے بغیر، غور و فکر سے انسان اس کا ادراک کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ مدت امتحان اسی وقت تک ہے جب تک غیب غیب ہے۔ جیسے ہی غیب ظاہر ہوگیا تو اس کے ساتھ مدت امتحان بھی ختم ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–8

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ مکہ والوں کا جمود وکفر ناقابل اصلاح ہے ، وہ درحقیقت جان بوجھ کر مخالفت کرتے ہیں ، وہ شخص جو سو رہا ہو ، اسے بیدار کیا جاسکتا ہے ، مگر جو بیدار ہو ، اسے کون اپنی طرف متوجہ کرسکتا ہے ، ان کی کیفیت یہ ہے کہ قرآن حکیم کو اپنی آنکھوں سے نازل ہوتا دیکھیں ، جب بھی نہ مانیں ، اور صاف کہہ دیں ، اس میں بھی کچھ بھید ہے ۔ بات یہ ہے کہ جب دلوں میں تاریکی ہو اور بصیرت کی آنکھیں بند کرلی جائیں ، تو اس وقت صداقت کی روشنی دلوں تک نہیں پہنچتی ۔ حل لغات : مدارار : خوب برسنے والا ، مادہ در ۔ انشانا : مادہ انشاء پیدا کرنا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-8 اور یہ منکرین حق یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر کی مدد کے لئے کوء فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اور اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا یعنی جس کو ہم بھی دیکھتے اور اگر ہم کوئی فرشتہ نازل کردیتے یعنی فرشتہ تو اب بھی آتا ہے مگر اس طرح کا فرشتہ جس کو یہ بھی دیکھتے اور وہ ان سے گفتگو کرتا تو پھر سب قصہ ہی ختم ہوجاتا اور پھر ان کو بالکل ڈھیل نہ دی جاتی کیونکہ یہ اپنی ہٹ دھرمی کے باعث جب بھی ایمان نہ لاتے اور منہ مانگا نشان دیکھنے کے بعد ایمان نہ لانا عذاب کا موجب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 4۔ مراد ان ہلاک شدہ جماعتوں سے عادوثمود وغیرہ ہیں کہ انواع عذاب سے ہلاک کیے گئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفار مکہ کی طرف سے مطالبہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں ہوتا : 15: کون پوچھے کہ رسول کیسے رسول ہوگیا اگر اس پر کوئی فرشتہ نازل نہیں ہوا ؟ اس فرشتہ سے مراد وحی لانے والا فرشتہ نہیں بلکہ ان کے زعم باطل میں یہ تھا کہ جو اللہ کا رسول بن کر آئے اللہ اس کے ساتھ فرشتے نازل کرتا ہے جو اس کے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور جو اس کو رسول نہ مانے اس کی ہلاکت کا باعث ہوتے ہیں اور اس کو تہس نہس کردیتے ہیں اس طرح پہلے انہوں نے خود ہی ایک نظریہ گھڑا اور پھر خود ہی اس کو رسول ہونے کا معیار مان لیا اور لگے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کٹ حتیاں کرنے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” پھر یہ لوگ کس بات کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–11

The third verse (8) was also revealed because of an event which concerns this very ` Abdullah ibn Abi Umaiyyah who, accompanied by Nadr ibn al-Harith and Nawfal ibn Khalid ؓ ، came to the Holy Prophet ﷺ . This time their demand was: ` We shall believe in you only when you go and bring a book from the heavens and let four angels come along with it to testify that the book was from none but Allah and that you are the Messenger of Allah.' One answer Allah gave to them was that by making such demands, these heedless people were inviting their own destruction, because the Divine law is that,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5. The unbelievers were saying that if Muhammed (peace be on him) had indeed been endowed with prophethood, an angel should have been sent down from heaven to announce that he was the Messenger of God, and that that people would be punished if they did not follow his directives. It was atonishing to these ignorant objectors that the Creator of the heavens and the earth should appoint someone as His Messenger and then leave him without protection against the physical hurts and insults that were flung at him. They would have expected the envoy of a Sovereign as great as the Creator of the…

Read the full tafseer →