Explained with ayahs 7–11
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان
کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
سورة الْاَنْعَام 4
اشارہ ہے ہجرت اور ان کامیابیوں کی طرف جو ہجرت کے بعد اسلام کو پے در پے حاصل ہونے والی تھیں۔ جس وقت یہ اشارہ فرمایا گیا تھا اس وقت نہ کفار یہ گمان کرسکتے تھے کہ کس قسم کی خبریں انہیں پہنچنے والی ہیں اور نہ مسلمانوں ہی کے ذہن میں اس کا کوئی تصور تھا۔ بلکہ نبی ﷺ خود بھی آئندہ کے امکانات سے بیخبر تھے۔
Read the full tafseer →دوسری آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی، کہ عبداللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک معاندانہ مطالبہ پیش کیا اور کہا کہ میں تو آپ ﷺ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتا جب تک کہ میں یہ واقعہ نہ دیکھ لوں کہ آپ ﷺ آسمان میں چڑھ جائیں، اور وہاں سے ہمارے سامنے ایک کتاب لے کر آئیں، جس میں میرا نام لے کر یہ ہو کہ میں آپ ﷺ کی تصدیق کروں، اور یہ سب کہہ کر یہ بھی کہہ دیا کہ اگر آپ ﷺ یہ سب کچھ کر بھی دکھائیں میں تو جب بھی مسلمان ہوتا نظر نہیں آتا۔
اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ پھر یہی صاحب مسلمان ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اسلام کے غازی بن کر غزوہ طائف میں شہید ہوئے۔
قوم کے ایسے بیجا معاندانہ مطالبات اور استہزاء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7 - 8: خوئے بد را بہانہ بسیار : اوپر آیت 4 میں قرآن سے ان کے اعراض کا جو ذکر فرمایا تو یہ ان کے ان مطالبات و اعراضات کا جواب بھی دے دیا جو وہ اس اعراض کے لیے بطور بہانہ کے پیش کرتے تھے۔ مقصود اس سے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ یہ نہ خیال کرو کہ ان کے اعراض کے لیے فی الواقع کوئی عذر ہے، جو دور ہوجائے تو یہ قرآن کو مان لیں گے۔ نہیں، بات وہیں رہے گی جہاں اب ہے۔ یہ کوئی نہ کوئی نیا بہانہ تراش لیں گے اس لیے کہ نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں معجزے نہیں دکھائے گئے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ اپنی خواہشوں کے خلاف کوئی بات ماننے کے لیے یہ تیار نہیں ہیں۔
لَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ…
Read the full tafseer →7۔ 1 یہ ان کے عناد جحود اور مکابرہ کا اظہار ہے کہ اتنے واضح نوشتہ الہٰی کے باوجود وہ اسے ماننے کے لئے تیار نہ ہونگے اور اسے ایک سحرانہ کرتب قرار دیں گے۔ جیسے قرآن مجید کے دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے۔ ولو فتحنا علیہم بابا من السماء فظلو فیہ یعرجون لقالوا انما سکرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون (الحجر) اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس پر چڑھنے بھی لگ جائیں تب بھی کہیں گے آنکھیں متوالی ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ (وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ) 52:44 اور اگر وہ آسمان سے گرتا ہوا ٹکڑا بھی دیکھ لیں تو کہیں گے کہ تہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
2: کفار سے کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ہٹ دھرمی کا رویہ جاری رکھا تو دنیا میں بھی ان کا انجام برا ہوگا، اور آخرت میں بھی ان کو عذاب کا سامنا کرنا ہوگا، کفار ان باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ آیت ان کو متنبہ کر رہی ہے کہ جس بات کو وہ مذاق اڑا رہے ہیں، عنقریب وہ ایک حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 7۔
یہ لوگ آیات الٰہی کا انکار اس لئے نہیں کرتے کہ ان آیات کی صداقت کی دلیل میں کوئی کمزوری ہے یا اس کے ادراک میں کوئی پیچیدگی ہے یا یہ کہ مختلف دماغ اس کے بارے میں ایک طرح نہیں سوچتے بلکہ وہ ہٹ دھرمی اور مکابرہ کی وجہ سے اور کھلے عناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ۔ انہوں نے دلیل وبرہان پر غور کرنے سے پہلے ہی اس حقیقت کے انکار کی ٹھان لی ہے ۔ اگر نزول قرآن کی صورت یہ ہوتی کہ وہ آسمان سے پرچوں کی شکل میں اترتا اور وہ اپنے ہاتھوں سے اسے چھوتے اور آنکھوں سے دیکھتے اور یہ نہ ہوتا کہ بذریعہ وحی حضور ﷺ پر آتا اور آپ اسے سناتے تو اس صورت میں بھی وہ اس محسوس اور مشاہد حقیقت کے بارے میں یوں…
Read the full tafseer →7 بعض مشرکین مکہ نے کہا تھا کہ اگر آپ آسمان سے ایک لکھی لکھائی کتاب لے آئیں اور اسکے ساتھ چار فرشتے بھی ہوں جو ہمارے سامنے ہو کر گواہی دیں کہ بیشک یہ کتاب خدا کی بھیجی ہوئی ہے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ جو لوگ بحالت موجودہ قرآن کو جادو اور اسکے لانے والے کو جادوگر بتلاتے ہیں اگر واقعی ہم ان پر کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب بھی آسمان سے اتار دیں جسے یہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کرلیں کہ کوئی تخیل یا نظر بندی نہیں ہے۔ تب بھی یہ ہی کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو ہے جس بدبخت کے حصہ میں ہدایت نہیں ہوتی اس کا شبہ کبھی نہیں مٹتا
Read the full tafseer →آیت 7 وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔
وہ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کا اثر ہوگیا ہے ‘ ہماری نظر بند کردی گئی ہے۔ جس نے نہیں ماننا اس نے صریح معجزات دیکھ کر بھی نہیں ماننا۔ البتہ اگر ہم ایسا معجزہ دکھا دیں گے تو ان کی مہلت ختم ہوجائے گی اور پھر اس کے بعد فوراً عذاب آجائے گا۔ ابھی ہماری رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں مزیدمہلت دی جائے۔ ابھی اس دودھ کو مزید بلویا جانا مقصود ہے کہ شاید اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ اس لیے حسی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا۔
Read the full tafseer →7 کفار کے اعراضات اور ان کے جواب :۔ یہ کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ ہم تو تب ہی ایمان لائیں گے جب ہمارے سامنے محمد ﷺ پر کتاب نازل ہو اور ساتھ چار فرشتے بھی ہوں جو اس بات کی گواہی دیں کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ کافر اس قدر ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں کہ اگر ہم ان کا مطالبہ پورا کر بھی دیں، وہ کتاب کو چھو کر دیکھ بھی لیں کہ یہ محض نظر بندی کا چکر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے تب بھی وہ یہ کہہ دیں گے کہ یہ سب کچھ جادو ہے اور تم جادوگر ہو۔
Read the full tafseer →10 ۔ (تو یہ حالت ان کے شدت ضدوعناد کی ہے ! ) مطلب یہ ہوا کہ ان کو تو قرآن واسلام سے اس قدر ضدو عداوت ہے کہ قرآن مجید بذریعہ وحی قلبی نہیں۔ بلکہ ایک لکھی لکھائی مادی کتاب کی شکل میں آسمان سے اتر آئے اور یہ لوگ اپنی آنکھ سے اسے اترتا ہوا دیکھ بھی لیں، بلکہ اسے ہاتھ سے چھو کر، ٹٹول کر بھی اپنا پورا اطمینان کرلیں جب بھی یہ اس کی تصدیق نہ کریں گے، بلکہ یہی کہنے لگیں گے، کہ یہ تو نظربندی وغیرہ سے ہم کو فریب میں مبتلا کیا جارہا ہے !۔۔ انسان جب قبول حق کا ارادہ ہی نہ کرے بلکہ اس کی مخالفت کو اپنے دل میں اتارلے، تو ہر دلیل اس کے سامنے بےکار وغیر مؤثر ہی رہے گی، سچ فرمایا ہے عارف رومی صاحب مثنوی (رح)…
Read the full tafseer →شان نزول : وَلَوْ نزلنا عَلَیْکَ کتاباً فی قرطاسٍ فلمسُوْہ الخ، مقاتل بن سلیمان اور کلبی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ نضر بن الحارث اور عبد اللہ بن امیہ نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ایک نوشتہ اس مضمون کا ہمارے پاس آئے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور چار فرشتے اس نوشتہ کے ساتھ آکر اس کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے نوشتہ ہے اور اس کا مضمون حق ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اس کا جواب حق تعالیٰ نے ایک تو یہ دیا کہ یہ غفلت شعار ایسے مطالبات کرکے اپنی ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں اس لئے کہ دستور الہیٰ یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی پیغمبر…
Read the full tafseer →ولو نزلنا علیک کتابا فی قرطاس فلمسوہ بایدیہم اور اگر کسی کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر ہم تم پر نازل کردیں جس کو اپنے ہاتھوں سے یہ لوگ چھو رہے ہوں۔
لقال الذین کفروا ان ہذا الا سحر مبین تب بھی کافر (محض ضد اور عناد سے) کہیں گے کہ یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہے۔ اپنے ہاتھ سے چھونے کے بعد فریب دہی اور فریب خوردگی کی گنجائش نہیں رہتی کیونکہ جن چیزوں کو ہاتھ سے چھو لیا جائے ان کو جادو کی کار فرمائی نہیں کہہ سکتے اور اس کو نظر بندی کہہ کر ساقط الاعتبار قرار دینا ممکن نہیں مگر کافر اس کو بھی جادو ہی کہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے اللہ کے علم ازلی میں پہلے سے موجود ہے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →(7) اگر ہم جبریل امین ؑ کے ذریعے سارا قرآن کریم کا غذ پر لکھا ہوا آپ ﷺ پر نازل کردیتے جیسا کہ عبد اللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا اور پھر یہ اپنے ہاتھوں میں اسے لے کر پڑھ بھی لیتے مگر پھر بھی یہ عبداللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھ اپنی ہٹ دھرمی کے سبب یہی کہتے کہ یہ صریح جادو ہے۔
Read the full tafseer →وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا۔۔ : اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو انبیاء کے معجزات کی کوئی الٹی سیدھی تاویل کر کے انھیں جھٹلا دیتے تھے۔ (رازی) اس آیت میں کفار مکہ کی نبی کریم ﷺ کو جھٹلانے کے لیے پیش کردہ فرمائشوں میں سے ایک فرمائش (بنی اسرائیل : 93) کا جواب ہے کہ ہم اس وقت تک تمہارے آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے جب تک تم ہم پر ایسی کتاب نازل نہیں کرتے جسے ہم خود پڑھیں۔ یہ لوگ اپنی سرکشی اور کفر کی روش میں اس قدر پختہ ہیں کہ اگر ہم ان پر آسمان سے لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے، جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر صاف معلوم کرلیتے کہ یہ کوئی خیالی اور نظر بندی جیسی چیز نہیں، بلکہ حقیقت ہے، تب بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 7۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس “۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اسے محمد ﷺ اگر ہم ان کے سامنے آپ کتاب نازل کرتے جیسا کہ انہوں نے کاغذ پر لکھی ہوئی کلام طلب کی ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس کا مطلب ہے کتاب جو آسمان اور زمین کے درمیان معلق ہوتی، یہ ظاہر کرتا ہے کہ تنزیل کا عمل دو اعتبار سے ہوسکتا ہے ایک یہ کہ نزل علی الکتاب کا معنی ہے کہ فرشتہ اس کے ساتھ اترتا۔ دوسرا یہ کہ اگر ہم کاغذ میں کتاب نازل کرتے جس کو اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کے درمیان روک لیتا۔
(آیت) ” نزلنا مبالغہ فرمایا، کتاب کا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہرنا طویل ہوتا ہے، الکتاب مصدر ہے بمعنی…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم یعنی اگر ہم آسمان سے کوئی صحیفہ نازل فرمائیں اس میں لکھا ہوا ہو اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیں۔ تو یہ بات ان کی تکذیب میں اور زیادہ کردیتی ہے۔
(2) امام عبد الرزاقد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس کہ اس میں قرطاس سے مراد صحیفہ ہے۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فلمسوہ بایدیھم کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ…
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] نَزَّلْنَا [ ہم اتارتے ] عَلَيْكَ [ آپ پر ] كِتٰبًا [ کوئی کتاب ] فِيْ قِرْطَاسٍ [ کسی ورق میں (لکھی ہوئی ) ] فَلَمَسُوْهُ [ پھر وہ چھوتے اس کو ] بِاَيْدِيْهِمْ [ اپنے ہاتھوں سے ] لَقَالَ [ تو ضرور کہتے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْٓا [ کفر کیا ] اِنْ [ نہیں ہے ] هٰذَآ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا جادو ]
ق ر ط س (رباعی ) ۔ قرطاسا ۔ نشانے پر پہنچنا ۔ قرطاس ۔ ج ، قراطیس ۔ اسم ذات ہے ۔ ہر وہ چیز جس پر لکھا جائے ، کاغذ ، ورق ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ اور تجعلونہ ۔ قراطیس [ تم لوگ بناتے ہو اس کے اوراق یعنی میں نقل کر رکھا ہے ] 6:91 ۔
ح ی ق (ض) حیقا ۔…
Read the full tafseer →اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت کریمہ (وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ الخ) نازل فرمائی یعنی اگر ہم ان پر کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب نازل کردیں پھر وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھولیں تب بھی ایمان لانے والے نہیں۔ کتاب کو دیکھ کر ہاتھ لگا کر بھی منکر ہی رہیں گے اور یوں کہہ دیں گے کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے یہ جو کہہ رہے ہیں کہ کتاب آجائے اور فرشتے آجائیں تو ہم ایمان لے آئیں گے یہ ضد اور عناد ہے ایمان لانا مقصود نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ازالہ شبہات منکرین نبوت۔
قال اللہ تعالی، ولونزلنا علیک کتابا فی قرطاس۔۔۔ الی۔۔۔ المکذبین۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں اثبات صانع اور توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں معاندین اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار مکہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں اور نبی کی نبوت میں کبھی تو یہ شبہ کرتے کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب کیوں نہیں اتری اور کبھی یہ کہتے کہ فرشتہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر ہمارے سامنے آکر آپ کی صدق کی گواہی کیوں نہیں دیتا اور کبھی یہ کہتے کہ نبی بشری اور انسانی صورت میں کیوں بھیجا گیا فرشتہ کو نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا ان آیات میں اس قسم کے مزخرقات اور مہملات کا رد کیا گیا…
Read the full tafseer →9 یہ مشرکین کے ساتھ شبہات میں سے پہلے شبہ کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ جب تک آپ آسمانوں پر جا کر وہاں سے لکھی لکھائی کتاب نہ لے آئیں اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 10 میں ہے وَلَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَء ہٗ تو اس کا جواب دیا کہ اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب ان پر نازل کردیں جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیں لیکن پھر بھی یہ مشرکین اور کفار وہی کچھ کہیں گے جو اب کہتے ہیں کہ یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اعراض کا ذکر کر کے ان کی تردید فرمائی۔ کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے ‘ وہ حق کو جھٹلا دیتے ہیں۔ فرمایا اس کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آجائے گی جب وہ سزا میں مبتلا ہوں گے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے ‘ اور انہیں وعید سنائی ہے۔ مثال کے طور پطر سابقہ قوموں کا حال بھی بیان کیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کے احکام کی نافرمانی کی تو سزا میں مبتلا ہوئے ‘ اگر یہ لوگ بھی احکام الٰہی سے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کریں گے تو پہلی قوموں کی طرح سزا میں مبتلا ہوں گے ۔ آج کے درس میں نزول قرآن کے متعلق مشرکین…
Read the full tafseer →وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِاَيْدِيْہِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ 7
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
نزل
النُّزُولُ…
Read the full tafseer →ترکیب : فی قرطاس ثابت کے متعلق ہو کر صفت ہوئی کتابا کی اور خود کتاب بمعنی مکتوب سے بھی متعلق ہوسکتا ہے ما یلبسون مابمعنی الذی جملہ مفعول للبسنا ما کانوا بہ الخ فاعل حاق۔
تفسیر : ان چاروں باتوں کے بعد ایک پانچویں بات اور بھی قابل اثبات تھی۔ وہ یہ کہ مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار اس شبہ سے کرتے تھے کہ فرشتہ آتا ہوا اس کے پاس کیوں نہیں دکھائی دیتا اور قرآن کا انکار اس بنا پر کرتے تھے کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب ایک بار کیوں نہ نازل ہوگئی۔ یہ بار بار الہام کیسا اور نزول روح القدس کیا ؟ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ اس کی اصل حکمت سے درگذر کرکے بوجہ ان کے افہام کے قاصر ہونے کے صرف ایک عام فہم…
Read the full tafseer →وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسِ فَلَمَسُوْہٗ بِاَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الانعام : 7)
(اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب اتارتے ‘ جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہوتی اور یہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے ‘ جب بھی یہ کفر کرنے والے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے ‘)
عبد اللہ ابن ابی امیہ کا حضور ﷺ سے معجزے کا مطالبہ
حدیث میں آتا ہے کہ عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک معاندانہ مطالبہ پیش کیا اور کہا کہ میں تو آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتا ‘ جب تک کہ میں یہ واقعہ نہ دیکھ لوں کہ آپ آسمان میں چڑھ جائیں اور وہاں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے انتباہ اور پہلی اقوام کے انجام بیان کرنے کے باوجود کفار کے بےجا مطالبات اور ان کا جواب۔
اہل کفر انبیاء ( علیہ السلام) سے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا دعویٰ کسی نبی ﷺ نے نہیں کیا تھا اس کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنے والے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم اس وقت تک تیری تائید نہیں کرسکتے۔ جب تک تختیوں کی شکل میں ہمارے پاس تورات نہ لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تختیوں کی شکل میں آسمان سے تورات نازل فرمائی۔ مطالبہ پورا ہونے کے باوجود بنی اسرائیل کی اکثریت نے تورات پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ یہی حال اہل مکہ کا تھا۔ وہ آپ…
Read the full tafseer →آیت 7: وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا لکھی ہوئی تحریر۔ فِیْ قِرْطَاسٍکاغذ پر۔ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْہِمْیہ ماقبل کی تاکید ہے تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری تو آنکھوں پر جادو کردیا گیا۔ اور بعض اندھے پن کی حجت بازی بنالیں۔ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌحق کے ساتھ محض ضد اور عناد کی وجہ سے اس کے باوجود کہ حق ظاہر ہوچکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
آیت نمبر 7, 6, 5, 4
تفسیر : (وما تاتیھم) یعنی مکہ والوں کے پاس ( من ایۃ من ایت ربھم) جسے چاند کا ٹکڑے ہونا وغیرہ اور عطاء فرماتے ہیں کہ قرآن کی آیات مراد ہیں (الا کانوا عنھا معرضین) یعنی اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔
(فقد کذبوا بالحق) یعنی قرآن کو اور کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ مراد ہیں (لما جاء ھم ط فسوف یاتیھم ام نبوا ما کانوا بہ یستھزء ون) یعنی انکے ستہزاء کی خبر اور اس کا بدلہ یعنی عنقریب اپنے استعزاء کا انجام جان لیں گے جب ان کو عذاب دیا جائے گا۔
(الم یروا کم اھلکنامن قبلھم من قرن)
قرن کی تفسیر
یعنی پہلی امتیں اور قرن لوگوں کی جماعت اس کی جمع قرون آتی ہے اور کہا گیا ہے کہ زمانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(7 ۔ 11) ۔ مقاتل بن سلیمان اور کلبی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ نضر بن حارث اور عبد اللہ بن امیہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ اس مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلا شک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آن کر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف کا نوشتہ ہے اور اس کا مضمون برحق ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان دیکھ نہیں سکتا حضرت داؤد ( علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے آخر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
آیت 7
اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمہارے لئے کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولو نزلنا علیک کتباً فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم) ” اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں، پھر چھولیں اس کو اپنے ہاتھوں سے “ یعنی انہیں یقین آجائے (لقال الذین کفروآء) ” تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔ “ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے (ان ھذا الاسحرمبین) ” یہ تو کھلا جادو ہے۔ “ اس سے بڑھ کر اور…
Read the full tafseer →13 عناد وہٹ دھرمی کا نتیجہ ہلاکت و محرومی : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم آپ پر کوئی ایسی لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے جس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ بھی لیتے تو بھی ایسے منکروں نے یہی کہنا تھا کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلم کھلا۔ سو جن کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہو ان سے خیر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ اور ان پر کوئی افسوس کا ہے کو ؟ سو عناد اور ہٹ دھرمی ہلاکتوں کی ہلاکت اور اس کا نتیجہ و انجام ہمیشہ کی محرومی اور ہولناک تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اس ارشاد عالی میں در اصل پیغمبر کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی حق کے لئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ…
Read the full tafseer →انتہائی بیوقوف لوگ
تشریح : یہ آیت ایک خاص واقعہ کی وجہ سے نازل ہوئی۔ مکہ کے رہنے والے عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں ایمان تب لائوں گا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ایک کتاب لے کر آئیں جس سے میرا نام لیکر کہا جائے کہ میں آپ پر ایمان لے آئوں۔ پھر کہنے لگا کہ اگر یہ سب ہوجائے میں تو پھر بھی آپ پر ایمان نہ لائوں گا۔ مگر اتفاق یہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی امیہ اللہ کے فضل سے ایسے مسلمان ہوئے کہ بعد میں شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے۔ یہ تو بعد کی بات ہے لیکن پہلے عبداللہ بن ابی امیہ اور ان جیسے بیشمار لوگ صرف نبی اکرم ﷺ کو صرف تنگ کرنے کے لیے بیشمار فضول قسم کے مطالبات کرتے رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔
اسرار و معارف :
توحید کے عقلی دلائل :
انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…
Read the full tafseer →یعنی یہ لوگ اپنی سرکشی اور کفر کی روش میں اس قدر پختہ ہیں کہ اگر ہم ان پر آسمان سے لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر صاف معلوم کرلی
کہ یہ کوئی خیالی اور نظری چیز نہیں بلکہ حقیقت س تب بھی اسے کھلا جادو قراردیتے پھر اگر یہ بدبخت قرآن کو جادو قرار دیتے ہیں تو کیا تعجب ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں جس کی قسمت میں ہدایت نہیں اس کا شبہ کبھی نہیں مٹتا (کذافی القرطبی)
Read the full tafseer →(6:7) فی قرطاس۔ کاغذ پر لکھی ہوئی صحیفہ کی صورت میں ۔ قرطاس کی جمع قراطیس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 11 :
قرطاس (کاغذ) ‘ لمسوا ( انہوں نے چھو کر دیکھا) ‘ ملک (فرشتہ) ‘ قضی الامر (معاملہ کا فیصلہ کردیا گیا) ‘ لاینظرون (وہ مہلت نہ دئیے جائیں گے) ‘ لبسنا (ہم نے پہنا دیا۔ ڈال دیا) ‘ یلبسون ( وہ شبہ کررہے ہیں) ‘ حاق (گھیرلیا) ‘ سخروا (انہوں نے مذاق کیا) سیروا (چلو پھرو) ‘ انظروا (دیکھو) ‘ عاقبۃ (انجام) ‘ المکذبین (جھٹلانے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 11 :
فرمایا گیا کہ یہ ضدی ‘ ہٹ دھرم قسم کے لوگ کیسے کیسے مطالبات اٹھاتے ہیں۔ ایک مرتبہ عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ لوں کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
مشرکین مکہ کی اللہ تعالیٰ سے گستاخی
شان نزول : مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ ایک مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلاشک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آکر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے نوشتہ ہے، اور اس کا مضمون برحق ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سبب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان نہیں دیکھ سکتا۔ حضرت داود اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جو فرشتے آئے آخر وہ انسان کی صورت میں آئے۔ اس لئے اگر ان کے کہنے کے موافق ان کی آنکھوں کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
[3] یعنی فرشتے کا نزول دنیا میں اس طرح کہ کافر تک کو نظر آجائے۔ دستور الٰہی میں نزول عذاب کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر مہلت کا امکان کہاں ؟ مہلت اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردہ غیب میں پوشیدہ ہے۔ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا اور حقیقت ظاہر ہوگئی، اس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا، اس لئے کہ دنیا کی زندگی امتحان کا زمانہ ہے اور امتحان اس چیز کا ہے کہ حقیقت کو دیکھے بغیر، غور و فکر سے انسان اس کا ادراک کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ مدت امتحان اسی وقت تک ہے جب تک غیب غیب ہے۔ جیسے ہی غیب ظاہر ہوگیا تو اس کے ساتھ مدت امتحان بھی ختم ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 2) مقصد یہ ہے کہ مکہ والوں کا جمود وکفر ناقابل اصلاح ہے ، وہ درحقیقت جان بوجھ کر مخالفت کرتے ہیں ، وہ شخص جو سو رہا ہو ، اسے بیدار کیا جاسکتا ہے ، مگر جو بیدار ہو ، اسے کون اپنی طرف متوجہ کرسکتا ہے ،
ان کی کیفیت یہ ہے کہ قرآن حکیم کو اپنی آنکھوں سے نازل ہوتا دیکھیں ، جب بھی نہ مانیں ، اور صاف کہہ دیں ، اس میں بھی کچھ بھید ہے ۔
بات یہ ہے کہ جب دلوں میں تاریکی ہو اور بصیرت کی آنکھیں بند کرلی جائیں ، تو اس وقت صداقت کی روشنی دلوں تک نہیں پہنچتی ۔
حل لغات :
مدارار : خوب برسنے والا ، مادہ در ۔
انشانا : مادہ انشاء پیدا کرنا ۔
Read the full tafseer →-7 اور اے پیغمبر ! اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کوئی کتاب آپ پر نازل بھی کردیتے پھر یہ اس کتاب کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے اور کوئی گنجائش انکار کی باقی نہ رہتی تب بھی جن لوگوں نے منکرانہ روش اختیار کر رکھی ہے وہ یہی کہتے کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر کھلا ہوا جادو ہے یعنی جادو سے ہم کو کتاب معلوم ہو رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 4۔ مراد ان ہلاک شدہ جماعتوں سے عادوثمود وغیرہ ہیں کہ انواع عذاب سے ہلاک کیے گئے۔
Read the full tafseer →نہ ماننے والوں کو منانے کی کوئی صورت نہیں ہاں ! دفعہ الوقتی دوسری بات ہے :
14: نبی اعظم و آخر ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کو بتایا جارہا ہے کہ نہ ماننے والوں کو منانے کی کوئی ایسی صورت نہیں ہے جس سے ان کے دلوں کو ایمان ویقین کی دولت سے بھر دیا جائے بلکہ یہاں تو جو کچھ ہوتا ہے صرف دفعہ الوقتی کے لئے ہوتا ہے جب چاروں طرف سے گھر گئے اور کوئی راستہ نکلنے کا نہ رہا تو سر نیچا کر کے زمین پر لکیریں کھینچنا شروع کردیں یہ ماننے والوں پر دال نہیں بلکہ نہ ماننے والوں کی دفعہ الوقتی ہے ۔ اسمیں کفار کی ہٹ دھری اور عناد کا بیان ہورہا ہے کہ اگر وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں کہ قرآن کریم کا غذ میں…
Read the full tafseer →The second verse (7) was revealed in the background of a particular event when ` Abdullah ibn Umaiyyah came up with a hostile demand before the Holy Prophet ﷺ by saying: ` I cannot believe in you until such time that I see you climbing all the way to the heavens and bringing a book from there before our eyes, in which it should be written in my name that I should attest to your prophethood.' And, on top of saying all this, he went on to even declare that he would still not be impressed enough by his accomplishing all that for he does not seem to be likely to convert to Islam anyway.
Strange…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4. The allusion is to the Migration (Hijrah) and the numerous victories destined to follow it in quick succession. When this allusion was made, the unbelievers could not have guessed what kind of news they would receive, and even the Muslims could not have imagined those developments. Infact, the Prophet himself (peace be on him) was not fully aware of the posibilities which lay in store.
Read the full tafseer →