Al-An'aam 6:10

Al-An'aam · from ayah 10

6:10

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ۟۠وَلَـقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by that which they used to ridicule.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:10

اے محمدؐ! تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا ہے۔ پھر جن لوگوں نے ان سے مذاق کیا تھا ان کو اس عذاب نے آ گھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا تھا ان کو اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہا، پھر ان میں سے مسخرہ پن کرنے والوں کو(حق کے) اسی (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، تو ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے مذاق اڑایا تھا، اسی چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ سے پہلے بھی رسولوں سے مذاق کیا جاچکا ہے۔ پھر ان تمسخر کرنے والوں کو اسی عذاب نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (آپ ان کی باتوں سے دل گیر نہ ہوں اے پیغمبر ! کہ) بلاشبہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، آخرکار آگھیرا مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر کیا گیا ہے پھر ان لوگوں کو جو ان (پیغمبروں) کی ہنسی اڑاتے تھے اسی (عذاب) نے آگھیرا جس پر وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) آپ سے پہلے بھی رسولوں کا (اسی طریقے سے) مذاق اڑایا گیا پھر گھیرلیا ان لوگوں میں سے ان کو جو مذاق اڑاتے تھے اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے محمد ﷺ ! آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت ظاہر کردی گئی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And indeed before your time (O Muhammad!) many a Messenger has been scoffed at; but those who mocked at them were encompassed by the Truth they had scoffed at.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Even before you (O Prophet,) many messengers were ridiculed. Those who laughed at them were, then, besieged by what they used to ridicule.

— Muhammad Taqi Usmani

Even before you (O Prophet,) many messengers were ridiculed. Those who laughed at them were, then, besieged by what they used to ridicule.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed Messengers were mocked before you, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Messengers (of Allah) have been derided before thee, but that whereat they scoffed surrounded such of them as did deride.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by that which they used to ridicule.

— Saheeh International

They mocked the Messengers who lived before you (Muhammad), but those who received warnings of punishment and mocked the warnings, all suffered their torments accordingly.

— Muhammad Sarwar

And certainly apostles before you were mocked at, but that which they mocked at encompassed the scoffers among them.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly mocked were the apostles before thee, wherefore that whereat they scoffed beset these who had been mocking.

— Abdul Majid Daryabadi

Mocked were (many) messengers before thee; but their scoffers were hemmed in by the thing that they mocked.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الْاَنْعَام 7 یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ فرشتے کے آنے کی پہلی صورت یہ ہو سکتی تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی اصلی غیبی صورت میں ظاہر ہوتا۔ لیکن اوپر بتادیا گیا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ اب دوسری صورت یہ باقی رہ گئی کہ وہ انسانی صورت میں آئے۔ اس کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ اگر وہ انسانی صورت میں آئے تو اس کے مامور من اللہ ہونے میں بھی تم کو وہی اشتباہ پیش آئے گا جو محمد ﷺ کے مامور من اللہ ہونے میں پیش آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–11

تیسری آیت کے نزول کا بھی ایک واقعہ ہے کہ یہی عبداللہ بن ابی امیہ اور نضر بن حارث اور نوفل بن خالد ایک مرتبہ جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مطالبہ پیش کیا کہ ہم تو آپ ﷺ پر جب ایمان لائیں گے جب کہ آپ ﷺ آسمان سے ایک کتاب لے کر آئیں، اور اس کے ساتھ چار فرشتے آئیں جو اس کی گواہی دیں کہ یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا جواب حق تعالیٰ نے اہک تو یہ دیا کہ یہ غفلت شعار ایسے مطالبات کرکے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں، کیونکہ قانون الٓہی یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی پیغمبر سے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا مانگا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

‘ حَاقَ یَحِیقُ حِیْقاً بہ ’ کے معنی ہیں احاطہ کرلینا، گھیر لینا اور چھا جانا۔ اوپر آیت 5 میں قریش کو یہ دھمکی جو دی ہے کہ وہ ایک امر حق کا مذاق اڑا رہے ہیں جو شدنی اور اٹل ہے، وہ عنقریب اس عزاب کے آثار دیکھ لیں گے جس کی ہنسی اڑا رہے ہیں۔ اب یہ اس امر واقعی کی ان شہادتوں اور مثالوں کی طرف اشارہ فرمایا جو خود ان کی تاریخ اور ان کے ملک کے آثار میں موجود ہیں کہ تم سے پہلے جو رسول آئے انہوں نے بھی اپنی اپنی قوموں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا تو ان کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ بالآخر اس عذاب نے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور وہ تباہ ہوگئیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–11

9۔ 1 یعنی اگر ہم فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجنے کا فیصلہ کرتے تو ظاہر بات ہے کہ وہ فرشتے کی اصل شکل میں تو انھیں نہیں بھیج سکتا تھا، کیونکہ اس طرح انسان اس سے خوف زدہ ہونے اور قریب و مانوس ہونے کی بجائے، دور بھاگتے اس لئے ناگزیر تھا کہ اسے انسانی شکل میں بھیجا جاتا۔ لیکن تمہارے لیڈر پھر یہی اعتراض اور شبہ پیش کرتے کہ یہ تو انسان ہی ہے، جو اس وقت بھی وہ رسول کی بشریت کے حوالے پیش کر رہے ہیں تو پھر فرشتے کے بھیجنے کا کیا فائدہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

4: یعنی اگر کسی فرشتے ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، یا پیغمبر کی تصدیق کے لیے لوگوں کے سامنے بھیجتے تب بھی اس کو انسانی شکل ہی میں بھیجنا پڑتا، کیونکہ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کسی فرشتے کو دیکھ سکے۔ اس صورت میں پھر یہ کافر لوگ وہی اعتراض دہراتے کہ یہ تو ہم جیسا ہی آدمی ہے اس کو ہم پیغمبر کیسے مان لیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–11

(آیت) ” نمبر 10 تا 11۔ یہ ایک جھلکی ہے ‘ جو ان لوگوں کی روگردانی اور ہٹ دھرمی کے بعد اور ان کی جاہلانہ اور احمقانہ مطالبات کے بعد آتی ہے۔ اور اس کے بعد کہ ان کے اس چیلنج اور ان کے مطالبات کو اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی اور نہایت ہی بربادی کر کے قبول نہ کیا ورنہ وہ ہلاک ہوجاتے ‘ تو اس موقعہ پر اس جھلکی سے دو مقاصد مطلوب ہیں ۔ پہلا مقصد تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جائے اور ان کے دل سے غبار غم چھٹ جائے کوئی روگردانی کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے رویے کی وجہ سے اور مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ بہت ہی پریشان ہوجاتے تھے ۔ اس طرح حضور ﷺ کا دل مطمئن ہوجاتا کہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 معاندین کی فرمائشوں کا جواب دینے کے بعد حضور کی تسلی کی جاتی ہے کہ آپ ان کے استہزاء اور تمسخر سے دل گیر نہ ہوں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں انبیاء سابقین کو بھی ان ہی حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ پھر جو ان کے مکذبین اور دشمنوں کا حشر ہوا سب کے سامنے ہے۔ ان کو بھی خدا اسی طرح سزا دے سکتا ہے جو اگلے مجرموں کو دی گئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں ‘ یہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ آپ ﷺ سے پہلے بھی انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا رہا ہے۔ جیسے سورة الاحقاف آیت 9 میں آپ ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا : قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ یعنی آپ ﷺ انہیں کہہ دیجیے کہ میں کوئی انوکھارسول نہیں ہوں ‘ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں۔ آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ خودفرما رہے ہیں کہ اس سے پہلے بھی انبیاء و رسل علیہ السلام کے ساتھ ان کی قومیں اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سوبرس تک…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 ان اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہٹ دھرم کافروں کا ہمیشہ یہی وطیرہ رہا ہے پہلے رسولوں سے بھی یہی کچھ ہوتا رہا لہذا آپ ان کی پروا نہ کیجئے اور انجام کار انہیں اسی قسم کے عذاب سے ہلاک کیا گیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14 ۔ (تو آپ اپنے زمانہ کے منکرین ومستہزئین کی مخالفت و استہزاء سے مغموم و متفکر کیوں ہوں ؟ یہ لوگ تو خود ہی اپنے کو دنیوی واخروی عذاب کا مستحق بناتے جارہے ہیں) انبیاء قدیم کے ساتھ استہزاء اور اس کی سزا کا ذکر توریت میں بھی جابجا ہے۔ مثلا :۔ ” اور خرقیاہ نے سارے اسرائیل اور یہوداہ کو کہلا بھیجا اور افرائیم اور منسی کے پاس بھی نامے لکھ بھیجے۔ سو قاصد افرائیم اور منسی کے ملک میں زبلون تک شہر بہ شہر گزرتے پھرے لیکن وہ ان پر ہنسے اور انہیں ٹھٹھے میں اڑایا “۔ (2 ۔ تواریخ۔ 30: 1، 10) ” لیکن انہوں نے خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھے میں اڑایا اور اس کی باتوں کو ناچیز جانا اور اس کے بیٹوں سے بدسلوکی کی، یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–10

لَوْ جَعَلْناہ مَلَکًا الخ، یعنی اگر ہم فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے تو ظاہر بات ہے کہ وہ فرشتے کی اصل شکل میں تو آ نہیں سکتا تھا، کیوں کہ انسان اس سے خوف زدہ ہوتے اور قریب و مانوس ہونے کے بجائے دور بھاگتے اسلئے ناگزیر تھا کہ اسے انسانی شکل میں بھیجا جاتا اس میں بھی یہی شبہ ہوتا کہ یہ تو انسان ہی ہیں تو پھر فرشتے کو بھیجنے سے کیا فائدہ ہوتا، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے تھے وہ انسان ہی کے شکل میں آئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد استہزی برسل من قبلک اور آپ سے پہلے پیغمبروں سے بھی استہزاء کیا گیا ہے۔ جس طرح آپ سے استہزاء کیا جاتا ہے اس لئے آپ اس کی پروا نہ کریں۔ فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستہزون پھر اسی (عذاب) نے ان مذاق بنانے والوں کو گھیر لیا۔ جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ سو ان استہزاء کرنے والوں کو بھی وہی عذاب گھیر لے گا جس سے یہ استہزاء کرتے ہیں۔ ضحاک نے حاقکا ترجمہ کیا ہے گھیر لیا۔ قاموس میں بھی یہی ہے لیکن ربیع بن انس اور عطاء نے علی الترتیب اس کا ترجمہ کیا ہے نزل اور حل یعنی نازل ہوا اور اترا۔ ما کانوا میں مَا موصولہ ہے یا مصدریہ۔ بہرحال اس سے پہلے لفظ عذاب یا وبال محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) اور دیگر انبیاء کرام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے وہی تمسخر کیا ہے جو آپ کی قوم آپ کے ساتھ کررہی ہے، ان کے تمسخر کے انجام میں آخرکار ان کافروں کو عذاب نے آگھیرا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ۔۔ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ کو جھٹلانے اور اللہ کے عذاب کا مذاق اڑانے کا جو معاملہ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہوا، آخر کار اسی عذاب نے کفار کو آگھیرا جس کا مذاق اڑاتے ہوئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی عذاب نہیں آئے گا، یہ محض دھمکی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

آیت نمبر : 8 تا 10۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقالوا لولاانزل علیہ ملک “۔ یہ بھی انہوں نے تجویز کی۔ لولا بمعنی ھلا ہے، (آیت) ” ولو انزلنا ملکا نقضی الامر “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر وہ فرشتے کو اپنی صورت میں دیکھتے تو مر جاتے کیونکہ وہ اس کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، مجاہد اور عکرمہ نے کہا : تو قیامت قائم ہوجاتی، حسن اور قتادہ نے کہا : وہ عذاب کے ساتھ ہلاک کیے جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری فرمائی ہے کہ جس نے کوئی نشانی طلب کی پھر وہ اس کے لیے ظاہر کردی گئی اور وہ ایمان نہ لایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے فورا ہلاک کردیا (آیت) ” ثم لا ینظرون “۔ یعنی انہیں مہلت نہیں دی جائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ، امیہ بن خلف، ابو جہل بن ہشام کے پاس سے گزرے تو۔ انہوں نے آپ کو ہٹا دیا اور آپ کے ساتھ مذاق اڑایا۔ اس بات سے آپ غصہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ولقد استھزی برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا منھم ما کانوا بہ یستھزء ون (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فحاق بالذین سخروا منھم سے مراد رسول ہیں جن کو وہ مذاق اڑا رہے تھے۔ لفظ آیت ما کانوا بہ یستھزء ون یعنی انہیں اس چیز نے عذاب میں واقع کیا جس کے ساتھ انہوں نے مذاق کیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ [ اور بیشک مذاق اڑایا گیا ہے ] بِرُسُلٍ [ رسولوں کا ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] فَحَاقَ [ تو گھیرے میں لے لیا ] بِالَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] سَخِرُوْا [ تمسخر کیا ] مِنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ اس نے ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ جو یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

استہزا کرنے والوں کے لئے وعید پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا (وَ لَقَدِ اسْتُھْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ ) (اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا۔ پھر جن لوگوں نے استہزا کیا ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ) اس میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ تکذیب کرنے والے جو کچھ آپ کے ساتھ استہزا کرتے ہیں مذاق بناتے ہیں ہے یہ کوئی نئی چیزیں نہیں ہے آپ سے پہلے جو رسول گذرے ہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے لہٰذا آپ بھی صبر کریں جیسا ان حضرات نے صبر کیا پھر انجام یہ ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–11

ازالہ شبہات منکرین نبوت۔ قال اللہ تعالی، ولونزلنا علیک کتابا فی قرطاس۔۔۔ الی۔۔۔ المکذبین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں اثبات صانع اور توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں معاندین اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار مکہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں اور نبی کی نبوت میں کبھی تو یہ شبہ کرتے کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب کیوں نہیں اتری اور کبھی یہ کہتے کہ فرشتہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر ہمارے سامنے آکر آپ کی صدق کی گواہی کیوں نہیں دیتا اور کبھی یہ کہتے کہ نبی بشری اور انسانی صورت میں کیوں بھیجا گیا فرشتہ کو نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا ان آیات میں اس قسم کے مزخرقات اور مہملات کا رد کیا گیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12: یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ ابو جہل، امیہ بن خلف، ولید بن مغیرہ اور دیگر مشرکین آنحضرت ﷺ سے استہزاء کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ سے پہہلے انبیاء (علیہم السلام) سے بھی ان کی قوم کے سرکش اور معاند لوگ اسی طرح استہزاء اور تمسخر کیا کرتے تھے۔ آخر ان کو ان کی شرارتوں کی سزا مل گئی۔ تسلیۃ لرسول اللہ ﷺ عما یلقاہ من قومہ کالولید ابن المغیرۃ وامیۃ بن خلف وابی جہل واضرابھم (روح ج 7 ص 101) حَاقَ بمعنی نزل یعنی نازل ہوا۔ اور منھم میں من بمعنی باء ہے اور ھُم ضمیر سے رسل اور مؤمنین مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اعراض کا ذکر کر کے ان کی تردید فرمائی۔ کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے ‘ وہ حق کو جھٹلا دیتے ہیں۔ فرمایا اس کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آجائے گی جب وہ سزا میں مبتلا ہوں گے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے ‘ اور انہیں وعید سنائی ہے۔ مثال کے طور پطر سابقہ قوموں کا حال بھی بیان کیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کے احکام کی نافرمانی کی تو سزا میں مبتلا ہوئے ‘ اگر یہ لوگ بھی احکام الٰہی سے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کریں گے تو پہلی قوموں کی طرح سزا میں مبتلا ہوں گے ۔ آج کے درس میں نزول قرآن کے متعلق مشرکین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ 10ۧ اسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ، وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] ، ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] ، إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] ، وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–11

3 ؎ کس لئے کہ فرشتہ کو اس کی صورت اصلی پر دیکھنے کی ان میں صلاحیت نہیں کیونکہ وہ نور مجرد ہے اور یہ آنکھیں عالم ناسوت دیکھنے کو بنائی گئی ہیں۔ پھر جب وہ آدمی بن کر آتا تو وہی شبہات اس کے حق میں پیدا ہوتے کہ اس کے فرشتہ ہونے کی کیا دلیل ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدِ اسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آن گھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے) (الانعام : 10) جیسے کہ اس سے پہلے تذکرہ ہوچکا ہے کہ اس سورة کی بیشتر آیات کا نزول مکی زندگی کے آخری دور میں ہوا اور یہ وہ زمانہ ہے ‘ جس میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر مظالم کی انتہاء ہوگئی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اہل مکہ نے دعوت حق کی طرف سے کان بالکل بند کرلیے ہیں اور اسلامی تحریک جیسے ایک بند گلی میں داخل ہوگئی ہے ‘ جس کا بظاہر کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–11

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق اور اس کا انجام۔ اہل کفر انبیاء کرام (علیہ السلام) سے صرف اوٹ پٹانگ مطالبات ہی نہیں کیا کرتے تھے بلکہ انھیں ہر طرح زچ اور پریشان کرنے کے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے تھے۔ ان ہتھکنڈوں اور کٹ حجتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کی شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی نبوت کو مذاق اور ان کے کام کو کھیل تماشا سمجھتے تھے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ان سے کہنے لگی کہ کیا تو ہمارے پاس کوئی حق اور سچ کی بات لایا ہے یا کہ محض کھیل تماشا کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کے دلائل دیتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تسلیہ برائے رسول اللہ ﷺ : آیت 10: وَلَقَدِ اسْتُہْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ پس ان کو گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق کرتے تھے۔ حالانکہ وہ برحق ہے اس لیے ان کو اس کے ساتھ استہزاء کے نتیجے میں ہلاک کردیا گیا۔ مِنْہُمْ یہ سخروا کے متعلق ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْہُمْ 1 (التوبہ : 79) اور ہم کی ضمیر رسل کی طرف جا رہی ہے۔ قراءت : لقد کا دال ابو عمرو ٗ حفص کے نزدیک مکسور ہے۔ کیونکہ دو ساکن جمع ہیں۔ اور دوسرے قراء نے دال کا ضمہ استہزیٔ کی تاؔ کے ضمہ کی اتباع میں پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 8–11

آیت نمبر 11, 10, 9, 8 تفسیر : (وقالوا لولاانزل علیہ) محمد ﷺ پر (ملک ط ولوانزلنا ملکا لقضی الامر) یعنی عذاب واجب ہوجائے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کفار کے معاملہ میں طریقہ رہا ہے کہ جب وہ کسی نشانی کا مطالبہ کریں اور وہا تاری جائے اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب کے ذریعے ان کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے ( ثم لاینظرون) یعنی نہ ان کو کوئی مدت میعاد دی جائے گی اور نہ ہی مہلت دیئے جائیں گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر ہم فرشتہ اتارتے پھر وہ ایمان نہ لاتے تو ان پر جلدی عذاب آجاتا اور آنکھ جھپکنے کی مہلت نہ دی جاتی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” لقضی الامر “ یعنی قیامت قائم ہوجاتی اور ضحاک (رح)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–11

(7 ۔ 11) ۔ مقاتل بن سلیمان اور کلبی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ نضر بن حارث اور عبد اللہ بن امیہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ اس مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلا شک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آن کر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف کا نوشتہ ہے اور اس کا مضمون برحق ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان دیکھ نہیں سکتا حضرت داؤد ( علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے آخر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–10

آیت 7 اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمہارے لئے کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولو نزلنا علیک کتباً فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم) ” اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں، پھر چھولیں اس کو اپنے ہاتھوں سے “ یعنی انہیں یقین آجائے (لقال الذین کفروآء) ” تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔ “ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے (ان ھذا الاسحرمبین) ” یہ تو کھلا جادو ہے۔ “ اس سے بڑھ کر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

15 فرمائشوں پر فرشتوں کو اتارنے کا فائدہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار بھی دیتے تو یقینا وہ کسی انسان ہی کی شکل میں ہوتا۔ کیونکہ فرشتے کو اپنی اصل شکل میں دیکھنا کسی عام انسان کے بس میں نہیں۔ کیونکہ فرشتے کی اصل حقیقت جو کہ نور مجرد ہے اس کو اپنی ان ناسوتی آنکھوں سے دیکھنا عام انسان کے بس میں نہیں۔ اور یہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ ہی کا ظرف اور انہی کا مقام ہوسکتا ہے کہ وہ ان نوری وجودوں کو دیکھ سکیں اور اس رؤیت کو سہار سکیں۔ (جامع البیان، ابن کثیر اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ تو پھر یہ لوگ فرشتوں کو اپنی ان ناسوتی آنکھوں سے کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔ سو ایسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–11

تشریح : جیسا کہ بیان ہوچکا کہ فرشتہ بھیجنے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اصل شکل میں فرشتہ نازل ہو یا عذاب کی صورت میں فرشتہ نازل ہو یا پھر انسانی شکل میں فرشتہ بھیجا جائے۔ اگر انسانی شکل میں فرشتہ بھیجا گیا تو یہ لوگ اس کے ساتھ بھی یہی فضول باتیں کریں گے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ کفار لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں آپ گھبرائیں نہیں ان کا تو ہمیشہ سے یہی کام ہے۔ آپ سے پہلے بھی جو پیغمبر اور رسول بھیجے گئے ان سب کے ساتھ ان کی امتوں کے گمراہ لوگوں نے اسی طرح ہنسی مذاق، نکتہ چینی اور غلط قسم کی فرمائشوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ اصل میں یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : توحید کے عقلی دلائل : انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعن خرکار انہیں اسی عذاب نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ کوئی عذاب نہیں آسکتا یہ محض دھمکی ہے اس سے آنحضرت ﷺ کی تسلی دی ہے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 10–11

(6:10) استھزی۔ ب اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ (رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تھا اور ان کا مذاق اڑایا گیا تھا) ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حاق۔ حاق یحیق (ضرب) اس نے گھیر لیا۔ وہ الٹ پڑا۔ وہ نازل ہوا۔ حیق مادہ۔ سخروا ۔ سخر انہوں نے ٹھٹھا کیا۔ مذاق کیا۔ انہوں نے ہنسی کی۔ فحاق ۔۔ یستھزء ون۔ حاق فعل ما کانوا بہ یستھزء ون فاعل۔ الذین سخروا منہم۔ مفعول۔ جس حقیقت کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان مذاق اڑانے والوں کو (سزا دینے کے لئے آگھیرا ۔ نیز ملاحظہ ہو (21:41)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–11

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 11 : قرطاس (کاغذ) ‘ لمسوا ( انہوں نے چھو کر دیکھا) ‘ ملک (فرشتہ) ‘ قضی الامر (معاملہ کا فیصلہ کردیا گیا) ‘ لاینظرون (وہ مہلت نہ دئیے جائیں گے) ‘ لبسنا (ہم نے پہنا دیا۔ ڈال دیا) ‘ یلبسون ( وہ شبہ کررہے ہیں) ‘ حاق (گھیرلیا) ‘ سخروا (انہوں نے مذاق کیا) سیروا (چلو پھرو) ‘ انظروا (دیکھو) ‘ عاقبۃ (انجام) ‘ المکذبین (جھٹلانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 11 : فرمایا گیا کہ یہ ضدی ‘ ہٹ دھرم قسم کے لوگ کیسے کیسے مطالبات اٹھاتے ہیں۔ ایک مرتبہ عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ لوں کہ آپ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–11

مشرکین مکہ کی اللہ تعالیٰ سے گستاخی شان نزول : مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ ایک مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلاشک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آکر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے نوشتہ ہے، اور اس کا مضمون برحق ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سبب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان نہیں دیکھ سکتا۔ حضرت داود اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جو فرشتے آئے آخر وہ انسان کی صورت میں آئے۔ اس لئے اگر ان کے کہنے کے موافق ان کی آنکھوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–12

[5] آپ ہی سوال پوچھنے اور آپ ہی جواب دینے کا مطلب ہے کہ تمہارے سوال کا اور کچھ جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ منکرین بھی چاروناچار یہی کہیں گے۔ [6] اس لئے وہ نافرمانوں کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ انہیں توبہ وانابت کا موقع دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–11

(ف 1) ان دو آیتوں میں مکہ والوں کے ایک مخصوص شبہ کا جواب ہے ، مکہ والے یہ کہتے تھے کہ ایک انسان ہمارے لئے کیسے راہنما ہو سکتا ہے ، گویا ان کی نخوت انہیں ایک انسان کو نبی ماننے سے ابا کرتی تھی ، ان کا خیال یہ تھا کہ منصب نبوت کسی فرشتہ کو ملنا چاہئے تھا ، قرآن حکیم نے اس اعتراض کے وہ جواب دیئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر فرشتہ پیغمبر قرار پاتا ، تو حجت تمام ہو چکتی ، اور تمہارے لئے انکار وتاویل کی قطعی گنجائش نہ رہتی ، اس صورت میں تمہاری ہلاکت یقینی تھی ، پھر اگر فرشتہ ہوتا ، جب بھی انسانی قالب میں ظاہر ہوتا ، اور تمہار اعتراض بدستور قائم رہتا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-10 اور اے پیغمبر ! بلا شبہ آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاقاڑایا جا چکا ہے اور ان کی بھی ہنسیاڑائی گئی ہے پھر ان ہنسی اڑانے والوں کا یہ انجام ہوا کہ جس عذاب کا وہ مذاق اور ہنسی اڑاتے تھے اسی عذاب نے ان کو گھیر لیا یعنی پیغمبروں کی جن باتوں کا مذاق اڑاتے تھے انہی باتوں نے ایک دن عذاب الٰہی بن کر آگھیرا اور سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–17

ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کی ہنسی بھی اڑائی گئی غور کرو کہ ہنسی اڑانے والوں کا انجام کیا ہوا ؟ : 17: یہ گویا نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ استہزاء و تمسخر اور ایذاء رسانی کا معاملہ جو آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کے ساتھ کر رہی ہے کچھ آپ ﷺ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں آپ ﷺ سے پہلے بھی سب رسولوں کو ایسے دل دوز اور ہمت شکن واقعات سے سابقہ پڑا ہے مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور انجام یہ ہوا کہ استہزاء اور تمسخر کرنے والی قوم کو اس عذاب نے آپکڑا جس کا تمسخر کیا کرتے تھے۔ دیکھو نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام سنایا لیکن قوم کی اکثریت نے اس کو قبول نہ کیا بلکہ الٹا نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–11

The third verse (8) was also revealed because of an event which concerns this very ` Abdullah ibn Abi Umaiyyah who, accompanied by Nadr ibn al-Harith and Nawfal ibn Khalid ؓ ، came to the Holy Prophet ﷺ . This time their demand was: ` We shall believe in you only when you go and bring a book from the heavens and let four angels come along with it to testify that the book was from none but Allah and that you are the Messenger of Allah.' One answer Allah gave to them was that by making such demands, these heedless people were inviting their own destruction, because the Divine law is that,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

7. This is the second point in response to the unbelievers' objection. One possible form in which the angel could have appeared is in its true, non-terrestrial form. It has already been pointed out that the time for this has not arrived. Alternatively, angels could have come down in human form. But this would have left the unbelievers facing the same difficulty as they faced with regard to whether the Prophet Muhammad (peace be on him) had been designated by God or not.

Read the full tafseer →