Explained with ayahs 7–11
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ کا عظیم احسان
کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ) 15۔ الحجر :14) یعنی اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اور ایک…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 8
یعنی گزری ہوئی قوموں کے آثار قدیمہ اور ان کے تاریخی افسانے شہادت دیں گے کہ صداقت و حقیقت سے منہ موڑنے اور باطل پرستی پر اصرار کرنے کی بدولت کس طرح یہ قومیں عبرتناک انجام سے دوچار ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
تیسری آیت کے نزول کا بھی ایک واقعہ ہے کہ یہی عبداللہ بن ابی امیہ اور نضر بن حارث اور نوفل بن خالد ایک مرتبہ جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ مطالبہ پیش کیا کہ ہم تو آپ ﷺ پر جب ایمان لائیں گے جب کہ آپ ﷺ آسمان سے ایک کتاب لے کر آئیں، اور اس کے ساتھ چار فرشتے آئیں جو اس کی گواہی دیں کہ یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
اس کا جواب حق تعالیٰ نے اہک تو یہ دیا کہ یہ غفلت شعار ایسے مطالبات کرکے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں، کیونکہ قانون الٓہی یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی پیغمبر سے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا مانگا…
Read the full tafseer →قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ الایہ۔ یہ اشارہ ہے خود ملک عرب کی طرف کہ اگر اس نگاہ سے اپنے ملک کے حالات و آثار کا مشاہدہ کرو تو تمہیں اس میں رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کی تباہی کے بہت سے آثار ملیں گے۔ یہاں صرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے۔ بعد والی سورة میں اس اجمال کی تفصیل آئے گی۔ وہاں قوم نوح، عاد، ثمود، مدین، قوم لوط وغیرہ کی سرگزشتیں سنائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قوموں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کے انذار کا مذاق اڑایا اور اس عذاب کو انہوں نے محض خالی خولی دھمکی سمجھا جس کی رسول نے خبر دی۔ بالآخر وہ نمودار ہوگیا اور مذاق اڑانے والوں کا بیڑا غرق ہوگیا۔
اگلی آیات 12 تا 32 کا مضمون : آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
9۔ 1 یعنی اگر ہم فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجنے کا فیصلہ کرتے تو ظاہر بات ہے کہ وہ فرشتے کی اصل شکل میں تو انھیں نہیں بھیج سکتا تھا، کیونکہ اس طرح انسان اس سے خوف زدہ ہونے اور قریب و مانوس ہونے کی بجائے، دور بھاگتے اس لئے ناگزیر تھا کہ اسے انسانی شکل میں بھیجا جاتا۔ لیکن تمہارے لیڈر پھر یہی اعتراض اور شبہ پیش کرتے کہ یہ تو انسان ہی ہے، جو اس وقت بھی وہ رسول کی بشریت کے حوالے پیش کر رہے ہیں تو پھر فرشتے کے بھیجنے کا کیا فائدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
5: مشرکین عرب شام کے تجارتی سفر کے دوران ثمود اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی بستیوں سے گذرا کرتے تھے جہاں ان قوموں کی تباہی کے آثار انہیں آنکھوں سے نظر آتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دے رہا ہے کہ وہ ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(آیت) ” نمبر 10 تا 11۔
یہ ایک جھلکی ہے ‘ جو ان لوگوں کی روگردانی اور ہٹ دھرمی کے بعد اور ان کی جاہلانہ اور احمقانہ مطالبات کے بعد آتی ہے۔ اور اس کے بعد کہ ان کے اس چیلنج اور ان کے مطالبات کو اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی اور نہایت ہی بربادی کر کے قبول نہ کیا ورنہ وہ ہلاک ہوجاتے ‘ تو اس موقعہ پر اس جھلکی سے دو مقاصد مطلوب ہیں ۔
پہلا مقصد تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جائے اور ان کے دل سے غبار غم چھٹ جائے کوئی روگردانی کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے رویے کی وجہ سے اور مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ بہت ہی پریشان ہوجاتے تھے ۔ اس طرح حضور ﷺ کا دل مطمئن ہوجاتا کہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے…
Read the full tafseer →4 یعنی ملک کی سیر و سیاحت اور تباہ شدہ اقوام کے آثار کا ملاحظہ کرنے کے بعد اگر نظر عبرت سے واقعات ماضیہ کو دیکھو گے تو انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کا جو انجام دنیا میں ہوا وہ صاف نظر آجائے گا۔ اسی سے قیاس کرلو کہ جب تکذیب کرنے والوں کا یہ حشر ہوا تو استہزاء کرنے والوں کا کیا حشر ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 11 قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ r
ٍ تمہارے اس جزیرہ نمائے عرب میں ہی قوم عاد اور قوم ثمود آباد تھیں۔ اور جب تم شام کی طرف سفر کرتے ہو تو وہاں راستے میں قوم مدین کے مسکن بھی ہیں اور قوم لوط کے شہروں کے آثار بھی۔ یہ سب تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو ‘ پھر تم ان کے انجام سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے ؟
Read the full tafseer →11 یعنی ان تباہ شدہ قوموں کے آثار کو نگاہ عبرت سے دیکھو تو حقیقت حال تم پر منکشف ہوجائے گی اور تم اسی نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان تباہ شدہ قوموں میں جو بات قدر مشترک ہے وہ اللہ کی نافرمانی اور اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں کی نافرمانی ہے۔
Read the full tafseer →15 ۔ اس میں تعلیم وترغیب ہے اس کی کہ انسان پچھلی تباہ شدہ قوموں کے حالات سے عبرت ونصیحت حاصل کرے اور بڑی بڑی مہذب وبااقبال سلطنتوں کے آثار اور مٹے ہوئے کھنڈروں سے سبق لے۔۔۔۔ نقطہ نظر صحیح اور توحیدی ہوجائے تو مسلمان طالب علم کے لیے جغرافیہ تاریخ اور اثریات ان سارے علوم کا مطالعہ عبادت بن سکتا ہے۔ ھذا السفر مندوب الیہ اذا کان علی سبیل الاعتبار باثار من خلامن الامم واھل الدیار (قرطبی) (آیت) ” ثم انظروا “۔ امام رازی (رح) کی نکتہ رسی نے یہاں ایک عجیب نکتہ پیدا کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر یہاں فانظروا ہوتا تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ اسی عبرت پذیری کی غرض سے سفر کرو۔ (آیت) ” ثم انظروا “۔ نے سفر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…
Read the full tafseer →قل سیروا فی الارض (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ زمین کی سیر کرو۔ خواہ جسمانی سفر کے ذریعہ سے ہو یا عقل و دانش اور عبرت اندوز سوچ بچار کی سیر ہو۔
ثم انظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین پھر (پیغمبروں کو) جھوٹا قرار دینے والوں کے انجام کی کیفیت دیکھو یعنی دیکھو کہ ان کا انجام کار کیا ہوا اور کفر و تکذیب کے نتیجہ میں ان کی کیسی تباہی و ناکامی ہوئی۔
ایک شبہ
دوسری آیت ہے قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین اور اس آیت میں ہے ثم انظروافاء صرف تعقیب کے لئے آتی ہے (یعنی فاء کے بعد جو مضمون ہوتا ہے وہ فاء سے پہلے والے مضمون کے بعد بغیر کسی توقف کے واقع ہوتا ہے) اور ثُمَّتراخی کے لئے آتا ہے (یعنی ثم…
Read the full tafseer →(11) اے محمد ﷺ آپ ان اہل مکہ کو فرمادیجیے کہ ذرا چل پھر کر دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔
Read the full tafseer →قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : اس سے کفار کو ڈرانا مقصود ہے، یعنی دنیا کے مختلف خطوں میں جو قومیں پائی گئی ہیں، ذرا ان کے حالات اور تاریخ پر غور کرو، تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ جن قوموں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت سے انکار کیا انھیں کیسے عبرت ناک انجام سے دو چار ہونا پڑا، پھر اس سے اندازہ کرلو کہ اب جو تم ہمارے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب کا مذاق اڑا رہے ہو تمہارا انجام کیا ہوسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت نمبر : 11 تا 12۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل سیروا فی الارض “ یعنی اے پیارے محمد ﷺ ان استہزا کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کو کہو کہ زمین میں سفر کرو اور دیکھو اور خبر طلب کرو تاکہ تم جان لو جو عذاب اور عقاب تم سے پہلے کافروں پر اترا ایسا سفر کرنا مستحب ہے جب کہ پہلی امتوں اور اجڑے ہوئے شہروں کے کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کے لیے ہو اور ان کا آخری انجام دیکھنے کے لیے ہو، یہاں مکذبون سے مراد وہیں جنہوں نے حق اور حق والوں کو جھٹلایا نہ کہ وہ جنہوں نے باطل کو جھٹلایا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل لمن مافی السموت والارض “ یہ بھی ان کے خلاف حجت ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ سے پوچھئے : کس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
شریعت کا جھٹلانے والوں کا انجام
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل سیروا فی الارض ثم انظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین یعنی برا ہے اللہ کی قسم جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کردیا۔ اور ان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کو دوزخ میں ڈال دیا۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سلمان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت کتب علی نفسہ الرحمۃ یعنی کہ میں نے تورات میں پایا دو مہربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا پھر مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے سورتیں پیدا فرمائیں پھر مخلوق کو پیدا…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] سِيْرُوْا [ تم لوگ چلو پھرو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] ثُمَّ انْظُرُوْا [ پھر دیکھو ] كَيْفَ [ کیسا ] كَانَ [ تھا ] عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ [ جھٹلانے والوں کا انجام ]
Read the full tafseer →اس کے بعد مکذبین اور معاندین کو مزید تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا (قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ) کہ زمین میں چلو پھر دیکھو کیسا انجام ہو اجھٹلانے والوں کا، دنیا میں چلیں پھریں دنیاوالوں کے کھنڈروں سے اور ان کی ہلاکت و بربادی کے واقعات سے عبرت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ازالہ شبہات منکرین نبوت۔
قال اللہ تعالی، ولونزلنا علیک کتابا فی قرطاس۔۔۔ الی۔۔۔ المکذبین۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں اثبات صانع اور توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں معاندین اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار مکہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں اور نبی کی نبوت میں کبھی تو یہ شبہ کرتے کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب کیوں نہیں اتری اور کبھی یہ کہتے کہ فرشتہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر ہمارے سامنے آکر آپ کی صدق کی گواہی کیوں نہیں دیتا اور کبھی یہ کہتے کہ نبی بشری اور انسانی صورت میں کیوں بھیجا گیا فرشتہ کو نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا ان آیات میں اس قسم کے مزخرقات اور مہملات کا رد کیا گیا…
Read the full tafseer →13 یہ تخویف دنیوی ہے یعنی آپ ان منکرین اور مستہزئین سے کہیں کہ زمین میں چل پھر کر ان لوگوں کا انجام دیکھو جنہوں نے مبلغین توحید حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اعراض کا ذکر کر کے ان کی تردید فرمائی۔ کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے ‘ وہ حق کو جھٹلا دیتے ہیں۔ فرمایا اس کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آجائے گی جب وہ سزا میں مبتلا ہوں گے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے ‘ اور انہیں وعید سنائی ہے۔ مثال کے طور پطر سابقہ قوموں کا حال بھی بیان کیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کے احکام کی نافرمانی کی تو سزا میں مبتلا ہوئے ‘ اگر یہ لوگ بھی احکام الٰہی سے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کریں گے تو پہلی قوموں کی طرح سزا میں مبتلا ہوں گے ۔ آج کے درس میں نزول قرآن کے متعلق مشرکین…
Read the full tafseer →قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُكَذِّبِيْنَ 11
سار
السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير، فمن الأوّل قوله : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، قُلْ سِيرُوا[ الأنعام/ 11] ، سِيرُوا فِيها لَيالِيَ [ سبأ/ 18] ، ومن الثاني قوله : سارَ بِأَهْلِهِ [ القصص/ 29] ، ولم يجئ في القرآن القسم الثالث، وهو سِرْتُهُ.
والرابع قوله : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] ، هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
3 ؎ کس لئے کہ فرشتہ کو اس کی صورت اصلی پر دیکھنے کی ان میں صلاحیت نہیں کیونکہ وہ نور مجرد ہے اور یہ آنکھیں عالم ناسوت دیکھنے کو بنائی گئی ہیں۔ پھر جب وہ آدمی بن کر آتا تو وہی شبہات اس کے حق میں پیدا ہوتے کہ اس کے فرشتہ ہونے کی کیا دلیل ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →تمہید
گزشتہ رکوع میں پروردگار عالم نے توحید ‘ رسالت اور آخرت جیسے اساسی عقائد کو بیان فرمایا اور ان کی تفہیم اور اثبات کے لیے ایسے دلائل فراہم کیے ‘ جن کے بعد ان عقائد کا انکار کرنا کم از کم ایک صاحب عقل و دانش اور تعصب سے خالی آدمی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ پھر اس ضمن میں مشرکینِ مکہ نے توحید ‘ آخرت اور ذات رسالت مآب ﷺ کے حوالے سے اعتراضات کے ساتھ ساتھ ‘ بعض عجیب و غریب مطالبات بھی کیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب بھی عطا فرمایا۔ لیکن اس تمام اتمام حجت اور افہام و تفہیم کے بعد بھی ‘ جب مشرکینِ مکہ نے اپنا رویہ نہ بدلا ‘ بلکہ بجائے ایمان لانے کے تمسخر اور استہزاء میں اور بڑھتے چلے گئے اور وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق اور اس کا انجام۔
اہل کفر انبیاء کرام (علیہ السلام) سے صرف اوٹ پٹانگ مطالبات ہی نہیں کیا کرتے تھے بلکہ انھیں ہر طرح زچ اور پریشان کرنے کے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے تھے۔ ان ہتھکنڈوں اور کٹ حجتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کی شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی نبوت کو مذاق اور ان کے کام کو کھیل تماشا سمجھتے تھے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ان سے کہنے لگی کہ کیا تو ہمارے پاس کوئی حق اور سچ کی بات لایا ہے یا کہ محض کھیل تماشا کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کے دلائل دیتے ہوئے…
Read the full tafseer →نکتہ : فا اور ثم لانے کا فرق :
آیت 11: قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (آپ فرما دیجئے کہ چلو زمین میں پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا) فانظروا اور ثم انظروا میں فرق یہ ہے کہ فانظروا میں نظر کو سیر کا مسبب قرار دیا گیا۔ گویا اس طرح کہا گیا سیروا لاجل النظر ولا تسیروا سیرا لغافلین کہ تم عبرت کی خاطر سیر کرو۔ اور چلو پھرو۔ اور غافل لوگوں کی طرح مت چلو۔ سیر وا فی الارض ثم انظروا کا معنی یہ ہے۔ کہ زمین میں تجارت وغیرہ کی غرض سے بھی سیر و سفر مباح ہے۔ اور ہلاک شدہ لوگوں کے آثار پر غور و فکر واجب ہے۔ اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے ثم لایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
آیت نمبر 11, 10, 9, 8
تفسیر : (وقالوا لولاانزل علیہ) محمد ﷺ پر (ملک ط ولوانزلنا ملکا لقضی الامر) یعنی عذاب واجب ہوجائے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کفار کے معاملہ میں طریقہ رہا ہے کہ جب وہ کسی نشانی کا مطالبہ کریں اور وہا تاری جائے اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب کے ذریعے ان کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے ( ثم لاینظرون) یعنی نہ ان کو کوئی مدت میعاد دی جائے گی اور نہ ہی مہلت دیئے جائیں گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر ہم فرشتہ اتارتے پھر وہ ایمان نہ لاتے تو ان پر جلدی عذاب آجاتا اور آنکھ جھپکنے کی مہلت نہ دی جاتی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ” لقضی الامر “ یعنی قیامت قائم ہوجاتی اور ضحاک (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(7 ۔ 11) ۔ مقاتل بن سلیمان اور کلبی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ نضر بن حارث اور عبد اللہ بن امیہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ اس مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلا شک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آن کر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف کا نوشتہ ہے اور اس کا مضمون برحق ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان دیکھ نہیں سکتا حضرت داؤد ( علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس جو فرشتے آئے آخر وہ…
Read the full tafseer →آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اسے صبر کی تلقین کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کو تہدید و وعید سناتے ہوئے کہتا ہے : (ولقد ساتھ زی برسل من قبلک) ” اور تحقیق استہزا کیا گیا رسولوں سے، آپ سے پہلے جب وہ واضح دلائل کے ساتھ اپنی امتوں کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا انہوں نے ان کے ساتھ اور ان کی تعلیمات کے ساتھ استہزا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کفر اور تکذیب کے باعث ہلاک کردیا اور عذاب میں سے ان کو پورا پورا حصہ دیا۔ (فحاق بالذین سخروا منھم ما کانوا بہ یستھزء ون ) ” پس گھیر لیا ان کو جو ان میں سے استہزا کرنے والے تھے، اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزا کرتے تھے۔ “ پس اے…
Read the full tafseer →17 تکذیبِ حق کا آخری نتیجہ ہولناک تباہی : سو اس بارے دعوت غور وفکر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ سو دیکھو کہ کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا کہ تکذیبِ حق کے سنگین جرم کی پاداش میں یہ لوگ کس طرح تباہ و برباد ہوئے۔ معلوم ہوا کہ سیر و سیاحت کا اصل مقصد عبرت پکڑنا اور سبق لینا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کل کی سیر و سیاحت سے یہی مقصودی عنصر غائب اور عنقا ہے۔ ہڑپہ، ٹیکسلا اور موہنجوڈا رو وغیرہ وغیرہ جیسے آثار قدیمہ کی حفاظت کے لئے لاکھوں کروڑوں کے خرچے تو بہرحال کئے جاتے ہیں لیکن عبرت پذیری کا یہی اصل عنصر اور بڑا مقصد مفقود اور عنقا ہے ۔ اِلّا مَا شَا ئََ اللّٰہُ ۔ بلکہ اس کے برعکس وہاں پر مزید غفلت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
تشریح : جیسا کہ بیان ہوچکا کہ فرشتہ بھیجنے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اصل شکل میں فرشتہ نازل ہو یا عذاب کی صورت میں فرشتہ نازل ہو یا پھر انسانی شکل میں فرشتہ بھیجا جائے۔ اگر انسانی شکل میں فرشتہ بھیجا گیا تو یہ لوگ اس کے ساتھ بھی یہی فضول باتیں کریں گے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ کفار لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں آپ گھبرائیں نہیں ان کا تو ہمیشہ سے یہی کام ہے۔ آپ سے پہلے بھی جو پیغمبر اور رسول بھیجے گئے ان سب کے ساتھ ان کی امتوں کے گمراہ لوگوں نے اسی طرح ہنسی مذاق، نکتہ چینی اور غلط قسم کی فرمائشوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ اصل میں یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔
اسرار و معارف :
ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…
Read the full tafseer →ف 10 اس سے ان لوگوں کو تحذیر کی ہے (رازی) یعنی دنیا کے مختلف خطوں میں جو قومیں پائی گئی ہیں ذرا ان کے حالات اور تاریخ پر غور تو کرو تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ جب قوموں نے اللہ کے رسولوں کی جھٹلایا اور ان کی اطاعت سے انکار کیا انہیں کیسے عبرت ناک انجام سے دو چارہونا پڑا پھر اس سے اندازہ کرلو کہ اب جو تم ہمارے آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب کا مذاق اڑا رہے ہو تمہارا انجام کیا ہوسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(6:10) استھزی۔ ب اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ (رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تھا اور ان کا مذاق اڑایا گیا تھا) ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حاق۔ حاق یحیق (ضرب) اس نے گھیر لیا۔ وہ الٹ پڑا۔ وہ نازل ہوا۔ حیق مادہ۔
سخروا ۔ سخر انہوں نے ٹھٹھا کیا۔ مذاق کیا۔ انہوں نے ہنسی کی۔ فحاق ۔۔ یستھزء ون۔ حاق فعل
ما کانوا بہ یستھزء ون فاعل۔ الذین سخروا منہم۔ مفعول۔
جس حقیقت کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان مذاق اڑانے والوں کو (سزا دینے کے لئے آگھیرا ۔ نیز ملاحظہ ہو (21:41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 11 :
قرطاس (کاغذ) ‘ لمسوا ( انہوں نے چھو کر دیکھا) ‘ ملک (فرشتہ) ‘ قضی الامر (معاملہ کا فیصلہ کردیا گیا) ‘ لاینظرون (وہ مہلت نہ دئیے جائیں گے) ‘ لبسنا (ہم نے پہنا دیا۔ ڈال دیا) ‘ یلبسون ( وہ شبہ کررہے ہیں) ‘ حاق (گھیرلیا) ‘ سخروا (انہوں نے مذاق کیا) سیروا (چلو پھرو) ‘ انظروا (دیکھو) ‘ عاقبۃ (انجام) ‘ المکذبین (جھٹلانے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 11 :
فرمایا گیا کہ یہ ضدی ‘ ہٹ دھرم قسم کے لوگ کیسے کیسے مطالبات اٹھاتے ہیں۔ ایک مرتبہ عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ لوں کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
مشرکین مکہ کی اللہ تعالیٰ سے گستاخی
شان نزول : مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز کہا کہ ہم اس صورت میں ایمان لاسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لکھا ہوا ایک کاغذ ایک مضمون کا ہمارے پاس آوے کہ بلاشک آپ رسول برحق ہیں اور چار فرشتے اس کاغذ کے ساتھ آکر اس کاغذ کی تصدیق کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے نوشتہ ہے، اور اس کا مضمون برحق ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جسم نوری ہونے کے سبب سے اصل فرشتوں کو تو کوئی انسان نہیں دیکھ سکتا۔ حضرت داود اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جو فرشتے آئے آخر وہ انسان کی صورت میں آئے۔ اس لئے اگر ان کے کہنے کے موافق ان کی آنکھوں کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
[5] آپ ہی سوال پوچھنے اور آپ ہی جواب دینے کا مطلب ہے کہ تمہارے سوال کا اور کچھ جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ منکرین بھی چاروناچار یہی کہیں گے۔
[6] اس لئے وہ نافرمانوں کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ انہیں توبہ وانابت کا موقع دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) ان دو آیتوں میں مکہ والوں کے ایک مخصوص شبہ کا جواب ہے ، مکہ والے یہ کہتے تھے کہ ایک انسان ہمارے لئے کیسے راہنما ہو سکتا ہے ، گویا ان کی نخوت انہیں ایک انسان کو نبی ماننے سے ابا کرتی تھی ، ان کا خیال یہ تھا کہ منصب نبوت کسی فرشتہ کو ملنا چاہئے تھا ،
قرآن حکیم نے اس اعتراض کے وہ جواب دیئے ہیں ایک تو یہ کہ اگر فرشتہ پیغمبر قرار پاتا ، تو حجت تمام ہو چکتی ، اور تمہارے لئے انکار وتاویل کی قطعی گنجائش نہ رہتی ، اس صورت میں تمہاری ہلاکت یقینی تھی ،
پھر اگر فرشتہ ہوتا ، جب بھی انسانی قالب میں ظاہر ہوتا ، اور تمہار اعتراض بدستور قائم رہتا ۔
Read the full tafseer →-11 آپ ان سے فرمائیے کہ تم لوگ بطور سیاحت ذرا زمین پر چلو پھر و پھر خود ہی دیکھ لو کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب کرنے والوں اور دین حق کے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخالفین کو حکم کہ گذشتہ امتوں کا حال پڑھ سن لو :
18: ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو زمین میں پھرو اور دیکھو جھٹلانے والوں کو کیسا انجام پیش آچکا ہے۔ ‘ ‘ اس چھوٹی سی آیت میں آخرت کی وہ زبردست دلیلیں بھی ہیں اور نصیحت بھی۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم ومکذب بنے بغیر نہیں رہ سکی ہیں۔ وہ ہمیشہ غیر ذمہ دار بن کر رہیں ۔ انہوں نے ظلم وستم ڈھائے۔ وہ فسق وفجور میں غرق ہوگئیں اور اخلاق کی تباہی نے آخر کار ان کو برباد کر کے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ ، جس پر زمین میں ہر طرف تباہ شدہ قوموں کے آثار شہادت دے رہے ہیں صاف ظاہر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
The third verse (8) was also revealed because of an event which concerns this very ` Abdullah ibn Abi Umaiyyah who, accompanied by Nadr ibn al-Harith and Nawfal ibn Khalid ؓ ، came to the Holy Prophet ﷺ . This time their demand was: ` We shall believe in you only when you go and bring a book from the heavens and let four angels come along with it to testify that the book was from none but Allah and that you are the Messenger of Allah.'
One answer Allah gave to them was that by making such demands, these heedless people were inviting their own destruction, because the Divine law is that,…
Read the full tafseer →8. The archaeological remains and historical records of the ancient nations testify to how they met their tragic ends through turning away from truth and honesty and stubbornly persisting in their devotion to falsehood.
Read the full tafseer →